Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 277

سورة البقرة

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمۡ اَجۡرُہُمۡ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ ۚ وَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۲۷۷﴾

Indeed, those who believe and do righteous deeds and establish prayer and give zakah will have their reward with their Lord, and there will be no fear concerning them, nor will they grieve.

بیشک جو لوگ ایمان کے ساتھ ( سنت کے مطابق ) نیک کام کرتے ہیں نمازوں کو قائم رکھتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب تعالٰی کے پاس ہے ان پر نہ تو کوئی خوف ہے ، نہ اداسی اور غم ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Truly, those who believe, and do deeds of righteousness, and perform the Salah and give Zakah, they will have their reward with their Lord. On them shall be no fear, nor shall they grieve.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٩٧] یہ آیت درمیان میں اس لئے آئی ہے کہ سود خور کے مقابلہ میں متقی لوگوں کا حال بیان کردیا جائے جیسا کہ قرآن کریم میں جابجا یہی دستور آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ جہاں اہل دوزخ کا ذکر آیا تو ساتھ اہل جنت کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ اس کے بعد سود کے مضمون کا تسلسل جاری رکھا گیا ہے۔ اس مقام پر بھی مومنوں کی دو انتہائی اہم صفات کا ذکر فرمایا۔ ایک اقامت صلٰوۃ کا جو بدنی عبادات میں سے سب سے اہم ہے۔ دوسرے ایتائے زکوٰۃ کا جو مالی عبادات میں سے سب سے اہم بھی ہے اور سود کی عین ضد بھی۔ اسلام کے معاشی نظام کو اگر انتہائی مختصر الفاظ میں بیان کیا جائے تو اس کے دو ہی اجزاء ہیں۔ ایک سلبی دوسرا ایجابی۔ سلبی پہلو نظام سود کا استیصال ہے اور ایجابی پہلو نظام زکوٰۃ کی ترویج۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۔۔ : اللہ تعالیٰ کفر و ایمان دونوں کا ساتھ ساتھ ذکر فرماتا ہے، تاکہ دونوں پہلو سامنے رہیں۔ ربا کی آیتوں کے درمیان ایمان والوں کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایمان، عمل صالح، نماز اور زکوٰۃ سودی کاروبار سے بچنے کا اہم ذریعہ ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third verse (277) mentions the great reward of peace and comfort that awaits the truly believing and practising Muslims, who are steadfast in Salah نماز and زکاۃ Zakah. Since, in the verse previous to this, the punishment of Hell and the disgrace the consumers of ربا riba will be facing was mentioned, so in accordance with the general style of the noble Qur&an, the merit - in آخرۃ Akhirah - of the believing-practising Muslims, those steadfast in Salah نماز and زکاۃ Zakah, was mentioned alongside.

تیسری آیت میں مؤمنین صالحین جو نماز و زکوٰۃ کے پابند ہیں ان کے اجر عظیم اور آخرت کی راحت کا ذکر ہے، چونکہ اس سے پہلی آیت میں سود خوروں کے لئے عذاب جہنم اور ان کی ذلت و خواری کا ذکر آیا تھا۔ قرآن کریم کے عام اسلوب کے مطابق اس کے ساتھ ہی ایمان وعمل کے پابند نماز و زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے ثواب اور درجات آخرت کا ذکر کردیا گیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝ ٠ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۝ ٢٧٧ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] الاقامتہ ( افعال ) فی المکان کے معنی کسی جگہ پر ٹھہرنے اور قیام کرنے کے ہیں اوراقامتہ الشیی ( کسی چیز کی اقامت ) کے معنی اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے ہوتے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] کہو کہ اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ اور انجیل ۔۔۔۔۔ کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے یعنی جب تک کہ علم وعمل سے ان کے پورے حقوق ادا نہ کرو ۔ اسی طرح فرمایا : ۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] اور اگر وہ توراۃ اور انجیل کو ۔۔۔۔۔ قائم کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے یا نماز یوں کی تعریف کی گئی ہے ۔ وہاں اقامتہ کا صیغۃ استعمال کیا گیا ہے ۔ جس میں اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ نماز سے مقصود محض اس کی ظاہری ہیبت کا ادا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اسے جملہ شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے اسی بنا پر کئی ایک مقام پر اقیموالصلوۃ اور المتقین الصلوۃ کہا ہے صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی زكا أصل الزَّكَاةِ : النّموّ الحاصل عن بركة اللہ تعالی، ويعتبر ذلک بالأمور الدّنيويّة والأخرويّة . يقال : زَكَا الزّرع يَزْكُو : إذا حصل منه نموّ وبرکة . وقوله : أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] ، إشارة إلى ما يكون حلالا لا يستوخم عقباه، ومنه الزَّكاةُ : لما يخرج الإنسان من حقّ اللہ تعالیٰ إلى الفقراء، وتسمیته بذلک لما يكون فيها من رجاء البرکة، أو لتزکية النّفس، أي : تنمیتها بالخیرات والبرکات، أو لهما جمیعا، فإنّ الخیرین موجودان فيها . وقرن اللہ تعالیٰ الزَّكَاةَ بالصّلاة في القرآن بقوله : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] ( زک و ) الزکاۃ : اس کے اصل معنی اس نمو ( افزونی ) کے ہیں جو برکت الہیہ سے حاصل ہو اس کا تعلق دنیاوی چیزوں سے بھی ہے اور اخروی امور کے ساتھ بھی چناچہ کہا جاتا ہے زکا الزرع یزکو کھیتی کا بڑھنا اور پھلنا پھولنا اور آیت : ۔ أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] کس کا کھانا زیادہ صاف ستھرا ہے ۔ میں ازکیٰ سے ایسا کھانا مراد ہے جو حلال اور خوش انجام ہو اور اسی سے زکوۃ کا لفظ مشتق ہے یعنی وہ حصہ جو مال سے حق الہیٰ کے طور پر نکال کر فقراء کو دیا جاتا ہے اور اسے زکوۃ یا تو اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس میں برکت کی امید ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ اس سے نفس پاکیزہ ہوتا ہے یعنی خیرات و برکات کے ذریعہ اس میں نمو ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے تسمیہ میں ان ہر دو کا لحاظ کیا گیا ہو ۔ کیونکہ یہ دونوں خوبیاں زکوۃ میں موجود ہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نما ز کے ساتھ ساتھ زکوۃٰ کا بھی حکم دیا ہے چناچہ فرمایا : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] نماز قائم کرو اور زکوۃ ٰ ادا کرتے رہو ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٧٧) جو حضرات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں اور سود کے حرام ہونے پر ایمان لائے اور ان پر جو اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں، ان کو خوبی کے ساتھ ادا کرتے اور سود کو قطعی طور پر چھوڑتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو پورے اہتمام کے کے ساتھ ادا کرتے اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیتے ہیں تو ان کو اس کا ثواب جنت میں ملے گا اور جب موت کو ذبح اور دوزخ کو بھر دیا جائے گا، ایسے سخت وقت میں ان پر کوئی خوف و ہراس نہیں ہوگا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٧٧ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ ج) نیک عمل میں ظاہر بات ہے جو شے حرام ہے اس کا چھوڑ دینا بھی لازم ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

322. In this section God brings into sharp relief two contrasting characters. One is selfish, Mammon-worshipping, a kind of Shylock. He is totally preoccupied with making and accumulating money in total disregard of his obligations to God and his fellow-beings. He counts the money he has saved and is so consumed by the desire to see it multiply that he spends much time estimating how much it will grow in the weeks, months and years to come. The other character is a God-worshipping, generous and compassionate person, ever conscious of the claims of both God and man, ready to spend whatever he earns by the sweat of his brow on himself as well as on other human beings, and devotes a good part of it to philanthropic purposes. The first character is strongly denounced by God. No healthy society can exist on the basis of such men, and in the Hereafter, too, they are destined to meet grief and affliction, torment and misery. The latter, by contrast, is a character highly extolled by God, a character which will serve as the basis of a sound and healthy society in this world and will lead man to salvation in the Next.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :322 اس رکوع میں اللہ تعالیٰ بار بار دو قسم کے کرداروں کو بالمقابل پیش کر رہا ہے ۔ ایک کردار خود غرض ، زر پرست ، شائیلاک قسم کے انسان کا ہے ، جو خدا اور خلق دونوں کے حقوق سے بےپروا ہو کر روپیہ گننے اور گن گن کر سنبھالنے اور ہفتوں اور مہینوں کے حساب سے اس کو بڑھانے اور اس کی بڑھوتری کا حساب لگانے میں منہمک ہو ۔ دوسرا کردار ایک خدا پرست ، فیاض اور ہمدرد انسان کا کردار ہے ، جو خدا اور خلق خدا دونوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو ، اپنی قوت بازو سے کما کر خود کھائے اور دوسرے بندگان خدا کو کھلائے اور دل کھول کر نیک کاموں میں خرچ کرے ۔ پہلی قسم کا کردار خدا کو سخت ناپسند ہے ۔ دنیا میں اس کردار پر کوئی صالح سوسائیٹی نہیں بن سکتی ، اور آخرت میں ایسے کردار کے لیے غم و اندوہ اور کلفت و مصیبت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ بخلاف اس کے اللہ کو دوسری قسم کا کردار پسند ہے ، اسی سے دنیا میں صالح سوسائیٹی بنتی ہے اور وہی آخرت میں انسان کے لیے موجب فلاح ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:277) الذین امنوا ۔ اسم وعملوا الصلحت۔ اس کا عطف سابقہ پر ہے۔ اسی طرح واقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ معطوف ہیں اور ان کا عطف بھی جملہ الذین امنوا پر ہے۔ لہم اجرھم ۔۔ یحزنون۔ اپنے اسم کی خبر ہے۔ لا یحزنون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ حزن (باب سمع) مصدر نہ وہ غمگین ہوں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ اوپر کی آیت میں سود خواروں کا قول انما البیع مثل الربوا ان کے کفر پر دلالت کرتا تھا۔ اس کے مقابل میں اس آیت میں آمنو لایا گیا اور وہاں ان کی بدعملی سود کی مذکور تھی جس سے ان لوگوں کا راغب الی الدنیا ہونا بھی مفہوم تھا یہاں ان کی خوش عملی اجمالا عملو الصالحات سے تفصیلا راغب الی اللہ ہونا اقامو الصلوة سے اور بجائے مال سود حاصل کرنے کے اور بالعکس مال کا خرچ کرنا اتوالزکوة سے مذکور ہے اور ظاہر ہے کہ ان مقابلوں کی رعایت سے کلام میں کس قدر حسن و خوبی آگئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید اپنے اسلوب کے مطابق احکامات جاری کرتے ہوئے نصیحت بھی کرتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونے کے لیے ذہن ازخود آمادہ ہوجائے۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب ہے کہ جب قانون اور ضابطے بیان کرتا ہے تو اس دوران لوگوں کے اخلاق میں نکھار پیدا کرنے اور ایمان کو جلا بخشنے کے لیے نماز، آخرت، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور جزا ‘ سزا میں سے کسی ایک کی طرف توجہ دلاتا ہے تاکہ دین کے احکام لوگوں کے ذہن میں محض ضابطے اور قانون کے طور پر نہیں بلکہ عبادت، قیامت میں پیشی کا تصور، خوف خدا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طور پر سامنے رہیں۔ سماجی تعلقات ہوں یا کاروباری معاملات، امتناعی احکامات ہوں یا ترغیبی ارشادات ان کے دوران اسی فلسفہ کے تحت یہ اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی سود کی حرمت اور قباحت واضح کرنے کے دوران فکر آخرت، نماز اور زکوٰۃ کا حکم دے کر یہ تصور دیا گیا ہے کہ جس طرح تم خدا کا حکم سمجھ کر نماز میں اس کے سامنے سرفگندہ ہوتے ہو اور نماز کا صلہ اللہ کے پاس تمہارے لیے موجود ہے اور تمہیں مستقبل میں کوئی خوف وخطر نہیں ہوگا۔ اسی طرح ہی سود اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر چھوڑدو اور اس اللہ کے سامنے جھک جاؤ اس کا تمہیں اجر ملے گا۔ لہٰذا سود لینے اور لوگوں کا مال کھانے کی بجائے صدقہ اور زکوٰۃ دینے والے بن جاؤ۔ مسائل ١۔ ایماندار، نیکو کار، نمازی، اور زکوٰۃ دینے والے کو نہ خوف ہوگا نہ غم۔ تفسیر بالقرآن خوف سے بےنیاز حضرات : ١۔ اولیاء اللہ خوف اور غم سے پاک ہوں گے۔ (یونس : ٦٢) ٢۔ استقامت دکھلانے والے خوفزدہ و غمگین نہ ہوں گے۔ (الاحقاف : ١٣) ٣۔ جنتی لوگوں کو خوف وغم نہ ہوگا۔ (الاعراف : ٤٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

نظامِ ربا کے صفحہ بالمقابل کا بنیادی عنصر زکوٰۃ ہے اور زکوٰۃ کی ماہیت یہ ہے کہ وہ ایک قسم کا خرچ اور انفاق ہے ، جس کا کوئی عوض اس جہاں میں نہیں ہے نہ اس خرچ کے نتیجے میں کچھ واپس ہوتا ہے اور سیاق کلام میں زکوٰۃ کے ذکر سے مقصد یہ ہے کہ یہاں مومنین کی اس اہم صفت کو بیان کردیا جائے نیز اسلامی معاشرہ کی اس اہم صفت کو بیان کردیا جائے اور یہ بتایاجائے کہ سودی معاشرہ کے مقابلے میں اس ایمانی معاشرہ میں اطمینان قلب ، امن وامان ، اللہ کی رضامندی اور برکات الٰہی کے کیا کیا نظارے ہیں اور کس قدر پر کیف منظر ہے اس معاشرہ کا ۔ زکوٰۃ دراصل ایک ایسے معاشرے کا اصل الاصول ہے جو باہم تضامن اور باہم کفالت پر مبنی ہوتا ہے اور اس معاشرے کے کسی بھی شعبے اور کسی بھی پہلو میں سودی اقتصادیات کانہ وجود ہوتا ہے اور نہ وہ اقتصادیات سے کوئی ضمانت طلب کرتا ہے ۔ امت اسلامیہ کے احساس اور خود ہمارے احساسات میں زکوٰۃ کی اصل صورت پریشان اور گم ہوگئی ہے ۔ امت مسلمہ کی بدبخت نسلوں نے صدیاں گزرگئیں کہ اسلام کے اقتصادی نظام کو عملاً چلتا ہوا نہیں دیکھا ہے۔ اس نے اسلامی نظام زندگی کا عملی مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ خالص ایمانی تصور حیات ، خالص نظریاتی تربیت اور نظریاتی اخلاق کی اساس پر قائم ہوا ہو اور وہ انسانیت کو اور انسانی نفسیات کو ایک خاص نہج پر ڈھال رہا ہو اور خود یہ نظام اس طرح ہو کہ اس میں اس کے صحیح تصورات زندہ ہوں ، پاک اخلاق نظام رائج ہو اور اونچی اقدار حیات قائم ہوں اور اس میں اسلام کے اقتصادی نظام کا مرکزی نکتہ زکوٰۃ ہو جبکہ اس کے مقابلے میں تمام دوسرے نظام عملاً ربا کی اساس پر قائم ہوں اور پھر امت دیکھے کہ انسانی زندگی نشو ونما پارہی ہو اور اقتصادی نظام انفرادی سعی وجدوجہد پر قائم ہو اور اگر باہم تعاون کی کوئی اجتماعی شکل ہو تو وہ ربا سے پاک ہو ۔ زکوٰۃ کی اصل شکل و صورت ہمارے دور کی بدبخت اور ہدایت سے محروم نسلوں کے دل و دماغ میں مشتبہ ہوگئی ہے ، اس لئے کہ ان نسلوں نے انسانیت کی وہ بلندو برتر خوبصورت تصویر دیکھی ہی نہیں جو نظام زکوٰۃ کے نتیجے میں سامنے آتی ہے۔ موجودہ نسلیں جدید مادی نظام کے اندر پیدا ہوئیں اور اسی کے سائے میں پروان چڑھیں اور یہ جدید نظام خالص سودی تصور پر قائم ہے ۔ ان نسلوں نے صرف بخل اور کنجوسی ، حرص و لالچ اور انفرادیت اور خود غرضی ہی دیکھی ہے جو دورجدید میں ہر کسی کے دلوں پر حکمران ہے ۔ اس دور میں دولت محتاجوں اور غریبوں تک صرف قابل نفرت سودی نظام ہی کے ذریعے پہنچ رہی ہے ۔ لوگ بغیر کسی اجتماعی کفالتی نظام کے زندگی بسر کررہے ہیں ۔ صرف اس صورت میں انہیں تحفظ ملتا ہے جب وہ خود سرمایہ رکھتے ہوں یا انہوں نے اپنی دولت کا ایک معتدبہ حصہ خرچ کرکے موجودہ سودی نظام کے تحت اپنے آپ کو انشور کرالیا ہو ۔ آج صنعت اور تجارت کو صرف اس صورت میں سرمایہ دستیاب ہوتا ہے۔ جب وہ اسے سودی نظام کے واسطہ سے لیں ، اس لئے جدید نسلوں کے دل و دماغ پر یہ بات چھاگئی ہے کہ ماسوائے سودی نظام اقتصادیات کے اور کوئی اقتصادی نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور یہ کہ صرف اسی نظام کے تحت زندگی بسر ہوسکتی ہے۔ جدید دور کے انسانوں کے ذہن سے زکوٰۃ کا حقیقی تصور یوں مٹ گیا ہے کہ وہ اسے صرف ایک انفرادی احسان اور نیکی سمجھنے لگے ہیں اور یہ کہ اس کی اساس پر کوئی اجتماعی نظام استوار نہیں ہوسکتا لیکن یہ لوگ حاصلات زکوٰۃ کے عظیم حجم کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اڑھائی فیصد زکوٰۃ اصل سرمایہ اور منافع دونوں پر واجب ہے اور وہ لوگ بڑی خوشی سے یہ شرح ادا کرتے ہیں جن کی تربیت اسلام نے کی ہوئی ہوتی ہے اور اپنے مخصوص انداز میں کی ہوئی ہوتی ہے۔ وعظ و ارشاد کے ذریعہ ، قانون سازی کے ذریعہ اور ایک ایسے نظام زندگی کے ذریعے جس کا تصور ان کے دل و دماغ پر چھایا ہوتا ہے اور اس شرح زکوٰ ۃ کو ایک اسلامی حکومت بطور ایک لازمی حق کے وصول کرتی ہے ، یوں نہیں کہ کوئی چیز بطور خیرات یہ حق ادا کرے اور اس عظیم فنڈ سے ان تمام لوگوں کی کفالت ہوتی ہے ، جن کے لیے اپنے ذاتی وسائل ناکافی ہوجائیں اور حالت یہ ہوتی ہے کہ کہ معاشرے کا ہر فرد یہ ضمانت پالیتا ہے کہ اس کی زندگی اور اس کی اولاد کی زندگی محفوظ ہے اور ہر حالت میں محفوظ ہے ۔ اس فنڈ میں سے ان لوگوں کے قرضے بھی ادا کئے جاتے ہیں جو قرضوں کے بوجھ تلے دب جائیں چاہے یہ تجارتی قرضے ہوں یا غیر تجارتی ہوں۔ اسلام میں اہمیت اس بات کو حاصل نہیں ہے کہ کسی نظام کی ظاہری شکل و صورت کیسی ہے ۔ اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ کسی نظام کی روح کیسی ہے ۔ اسلام اپنی تربیت اور ہدایت ، اپنے قانونی نظام اور ضابطہ بندی اور اپنے پورے نظام کے ذریعہ جس قسم کی سوسائٹی وجود میں لانا چاہتا ہے ۔ وہ سوسائٹی اسکے نظام کی شکل و صورت ، اس کے اجزاء اور اداروں اور اس کی حکمت عملی کے ساتھ مکمل طور پر متناسب اور متناسق ہوتی ہے ۔ وہ سوسائٹی اس کے قانون کا تکملہ ہوتی ہے ۔ اس سوسائٹی کے افراد کے ضمیر کی گہرائیوں میں سے ایک اجتماعی کفالتی نظام وجود میں آتا ہے ۔ اس کے تمام ادارے اور حکمت عملیاں ایک اجتماعی کفالت وجود میں لاتی ہیں ۔ اس نظام میں فرد اور ادارہ باہم معاون اور باہم کفیل ہوتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ان لوگوں کے فہم وادراک سے بہت بلند ہے جو جدید مادی نظام زندگی میں پروان چڑھے ہیں لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہم مسلمان بخوبی جانتے ہیں ۔ اور ہمارا ذوق ایمانی اس کی مٹھاس محسوس کرتا ہے ۔ جبکہ جدید دور کے باسی اپنی بدبختی اور بد ذوقی کی وجہ سے یہ مٹھاس نہیں محسوس کرتے ۔ جدید دور کا انسان اس محرومی اور بدبختی میں اس لئے مبتلا ہے کہ اس کی باگ دوڑ اس جدید مادی نظام کے ہاتھ میں ہے ۔ خدا کرے یہ اسی طرح محروم ہوں اور یہ اس خیر سے دور ہی رہیں جس کی خوشخبری اللہ ان الفاظ میں دیتے ہیں ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ............... ” جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ، ان کا اجر بیشک ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقعہ نہیں “ ایسے لوگ جو ان آسمانی ہدایات سے محروم ہیں ۔ وہ قلبی اطمینان اور سکون سے بھی محروم رہیں گے ۔ جبکہ اجر وثواب سے تو وہ محروم ہیں ہی۔ اس لئے کہ وہ اپنی جہالت ، اپنی جاہلیت ، اپنی ضلالت اور اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تو وہ محروم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے پختہ عہد کرتا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کو ایمان اور عمل صالح پر استوار کریں گے ۔ باہم اقتصادی تعاون کرکے اپنی معیشت کو درست کریں گے ۔ ان کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔ وہ امن میں رہیں گے ، وہ کسی خوف و خطرے سے دوچار نہ ہوں گے ۔ وہ خوش قسمت ہیں ۔ محروم نہیں ہیں ۔ اس لئے وہ ہر قسم کے اندیشوں سے محفوظ ہوں گے لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ............... ” ان کا اجر بیشک ان کے رب کے پاس ہے ، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ “ ایسے حالات میں جبکہ ایک سودی نظام اقتصادیات والی سوسائٹی اللہ کے قہر وغضب کی مستحق قرار پاتی ہے ۔ اس کے افراد مخبوط الحواس اور گم کردہ راہ ہوتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں وہ روحانی خوف اور رنج والم کا شکار ہوتے ہیں ۔ انسانی تاریخ میں انسانیت نے صحیح اسلامی معاشرہ میں یہ نظام امن و سکون بچشم سر دیکھا ہے ۔ اور وہ رنج والم اور خوف وبے اطمینانی کی عام فضاء وہ جدید سودی معاشرہ میں بھی دیکھ رہی ہے ۔ اے کاش کہ ہم ہر حساس دل کو پکڑ کر جھنجھوڑ سکتے ۔ تو اسے خوب جھنجھوڑتے اور وہ خواب غفلت سے بیدار ہوکر اس حقیقت کو پالیتا ۔ اے کاش ! کہ اگر ممکن ہوتا تو ہم سوتی آنکھ کو جگاتے ۔ اسے کھولتے اور وہ اس عظیم حقیقت کو پالیتی ۔ افسوس کے ہمارے پاس وہ قوت نہیں ہے ۔ اگر ہوتی تو ہم ایسا کر گزرتے ........ ہم صرف حقیقت کی طرف اشارہ ہی کرسکتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ اللہ اس گم کردہ راہ اور بدنصیب انسانیت کو اس طرف متوجہ کردیں ۔ اور دل تو اللہ تعالیٰ کی دوانگلیوں کے درمیان ہیں وہ جدہر چاہے پھیردے ۔ اور ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہی میں ہے جسے چاہے عطاکرے ۔ ان حالات میں امن وفراوانی ، جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ایک اسلامی سوسائٹی کے ساتھ کررہا ہے ۔ جو اپنی زندگی سے ربا کو نکال دیتی ہے ۔ یوں وہ گویا کفر اور معصیت کو اپنی زندگی سے نکال پھینکتی ہے ۔ اور اپنی زندگی کو ایمان ، عمل صالح اور اللہ کی بندگی اور نظام زکوٰۃ پر قائم کرتی ہے ۔ غرض ایسے حالات میں امن وفراوانی میں اللہ تعالیٰ اپنی جانب لوگوں کو پکارتے ہیں ۔ جو ایمان لے آئے ہیں اور یہ پکار دراصل آخری وارننگ ہے ۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو نجس اور مفلس سودی اقتصادی نظام سے پاک کردیں اور اگر وہ اس کام کے لئے تیار نہیں ہیں تو یہ گویا ان کی جانب سے اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ بغیر کسی نرمی کے ، بغیر مہلت کے اور بغیر کسی تاخیری حربے کے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مومنوں، نمازیوں اور زکوٰۃ دینے والوں کا اجر وثواب ابھی سود کے بارے میں بعض احکام کا بیان باقی ہے۔ درمیان میں اہل ایمان کی فضیلت اور ان کا اجر وثواب بیان فرما دیا، اور ان کے بعض اعمال خاصہ کا تذکرہ فرمایا یعنی نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور فرمایا کہ بروز قیامت ان لوگوں پر کوئی خوف نہ ہوگا اور رنجیدہ نہ ہوں گے بر خلاف سود لینے والوں کے کہ وہ وہاں دیوانوں کی طرح کھڑے ہوں گے مخبوط الحواس ہوں گے۔ اموال دنیا میں چھوڑ چکے ہوں گے اور وہاں ان اموال کے حاصل کرنے اور خرچ کرنے کی وجہ سے عذاب میں ڈالے جائیں گے۔ اول تو مال حرام والے نیک کاموں میں پیسے خرچ کرتے ہی نہیں اور اگر خرچ کر بھی دیں تو آخرت میں ان کا کچھ اجر نہیں نمازوں اور زکوٰۃ اور صدقات والے وہاں آرام اور چین سے ہوں گے کوئی خوف ان کو لاحق نہ ہوگا اور سود خوروں کا برا حال ہوگا، جیسا کہ پہلی آیت میں مذکور ہوا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

542 اس آیت کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ البتہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ بجا لائے یعنی اوامرا کو بجا لائے اور نواہی سے باز رہے اور خاص طور پر نماز کے پابند رہے اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے تو ایسے لوگوں کا اجر ان کے رب کے پاس محفوظ ہے اور ایسے لوگوں کو ان کا ثواب ان کے رب کے ہاں ملے گا اور ان لوگوں کو نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ یہ لوگ کبھی غمگین ہوں گے۔ ( تیسیر) اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافرانہ اقوال و افعال کی مذمت فرمائی تھی اور کافروں کے انجام کا ذکر کیا تھا۔ زیر بحث آیت میں اس کے مقابلہ میں اہل ایمان کے اقوال و افعال کا ذکر فرمایا ہے جیسا کہ قرآن مقدس کا طریقہ اور داب سے اوپر کی آیت میں کافروں کا قول انما البیع مثل الربوا کا ذکر تھا یہاں اس کے مقابلہ میں ان الذین امنوا فرمایا وہاں سود کھانے کا ذکر تھا ۔ یہاں عملوالصالحات اور آتا الزکوٰۃ فرمایا اور اعمال صالح کے ساتھ نمازکا ذکر بھی فرمایا۔ کیونکہ نماز کو تمام اعمال میں ایک خصوصیت حاصل ہے اور نماز کو حرام سے بچانے اور حلال پر آمادہ کرنے میں بڑا دخل ہے۔ اوپر کی آیتوں میں سود کو گھٹانے کا ذکر کیا تھا یہاں مسلمانوں کے اجرکا اعلان فرمایا اور اس اجر کو اپنے پاس فرمایا اور ظاہر ہے کہ جس اجر وثواب کا اللہ تعالیٰ ضامن اور امین ہو اس کا کیا ٹھکانہ ہوگا ۔ اوپر کی آیت میں دخول جہنم اور اس میں ہمیشہ رہنے کا ذکر تھا اس آیت میں ہر قسم کے خوف سے بےخوف رہنے اور ہر غم سے بےغم ہونے کا ذکر ہے یعنی نہ کوئی خطرہ پیش آئے گا اور کسی مقصود و مطلوب کے فوت ہونے کا رنج و غم ہوگا ۔ بہر حال جس ترتیب سے کفار کی مذمت فرمائی تھی اسی ترتیب سے اہل ایمان کے لئے بشارت کا اظہار فرمایا ۔ اوپر کی آیت میں آئندہ سود لینے کی ممانعت فرمائی تھی ۔ آگے کی آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ پچھلا چڑھا ہوا کبھی نہ لو۔ ( تسہیل)