Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 78

سورة البقرة

وَ مِنۡہُمۡ اُمِّیُّوۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ الۡکِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَظُنُّوۡنَ ﴿۷۸﴾ النصف

And among them are unlettered ones who do not know the Scripture except in wishful thinking, but they are only assuming.

ان میں سے بعض ان پڑھ ایسے بھی ہیں جو کتاب کے صرف ظاہری الفاظ کو ہی جانتے ہیں صرف گمان اور اٹکل ہی پر ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Meaning of Ummi Allah said, وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ ... And there are among them Ummyyun people, meaning, among the People of the Book, as Mujahid stated. Abu Al-Aliyah, Ar-Rabi, Qatadah, Ibrahim An-Nakhai and others said, Ummyyun, is plural for Ummi, that is, a person who does not write. This meaning is clarified by Allah's statement, ... لااَ يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ ... Who know not the Book, meaning, are they not aware of what is in it. Ummi was one of the descriptions of the Prophet because he was unlettered. For instance, Allah said, وَمَا كُنتَ تَتْلُو مِن قَبْلِهِ مِن كِتَـبٍ وَلاَ تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ إِذاً لاَّرْتَـبَ الْمُبْطِلُونَ Neither did you (O Muhammad) read any book before it (this Qur'an) nor did you write any book (whatsoever) with your right hand. In that case, indeed, the followers of falsehood might have doubted. (29:48) Also, the Prophet said, إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسِبُ الشَّهْرُ هكَذَا وَهكَذَا وَهكَذَا We are an Ummi nation, neither writing nor calculating. The (lunar) month is like this, this and this (i.e. thirty or twenty-nine days). This Hadith stated that Muslims do not need to rely on books, or calculations to decide the timings of their acts of worship. Allah also said, هُوَ الَّذِى بَعَثَ فِى الاُمِّيِّينَ رَسُولاً مِّنْهُمْ He it is Who sent among the Ummiyyin ones a Messenger (Muhammad) from among themselves. (62:2) The Explanation of Amani Allah's statement, ... إِلاَّ أَمَانِيَّ ... But they trust upon Amani, Ad-Dahhak said that Ibn Abbas said that the Ayah means, "It is just a false statement that they utter with their tongues." It was also said that; Amani means `wishes and hopes'. Mujahid commented, "Allah described the Ummiyyin as not understanding any of the Book that Allah sent down to Musa, yet they create lies and falsehood." Therefore, the word Amani mentioned here refers to lying and falsehood. Allah's statement, ... وَإِنْ هُمْ إِلاَّ يَظُنُّونَ And they but guess, means, Mujahid said that Allah's statement means, "They lie." Qatadah, Abu Al-Aliyah and Ar-Rabi said that it means, "They have evil false ideas about Allah." Woe unto Those Criminals among the Jews Allah said,

امی کا مفہوم اور ویل کے معنی امی کے معنی وہ شخص جو اچھی طرح لکھنا نہ جانتا ہو امیون اس کی جمع ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں میں ایک صفت امی بھی آئی ہے اس لئے کہ آپ بھی لکھنا نہیں جانتے تھے ۔ قرآن کہتا ہے آیت ( وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ) 29 ۔ العنکبوت:48 ) یعنی تو اے نبی اس سے پہلے نہ تو پڑھ سکتا نہ لکھ سکتا تھا اگر ایسا ہوتا تو شاید ان باطل پرستوں کے شبہ کی گنجائش ہو جاتی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم امی اور ان پڑھ لوگ ہیں نہ لکھنا جانیں نہ حساب ، مہینہ کبھی اتنا ہوتا ہے اور کبھی اتنا پہلی بار تو آپ نے دونوں ہاتھوں کی کل انگلیاں تین بار نیچے کی طرف جھکائیں یعنی تیس دن کا دوبار اور تیسری مرتبہ میں انگوٹھے کا حلقہ بنا لیا یعنی انتیس دن کا مطلب یہ ہے کہ ہماری عبادتیں اور ان کے وقت حساب کتاب پر موقوف نہیں قرآن کریم نے اور جگہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان پڑھوں میں ایک رسول انہی میں سے بھیجا امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اس لفظ میں بےپڑھے آدمی کو ماں کی طرف منسوب کیا گیا حضرت عبداللہ بن عباس سے ایک روایت ہے کہ یہاں پر امی نہیں کہا گیا ہے جنہوں نے نہ تو کسی رسول کی تصدیق کی تھی نہ کسی کتاب کو مانا تھا اور اپنی لکھی ہوئی کتابوں کو اوروں سے کتاب اللہ کی طرح منوانا چاہتے تھے لیکن اول تو یہ قول محاورات عرب کے خلاف ہے دوسرے اس قول کی سند ٹھیک نہیں ۔ امانی کے معنی باتیں اور اقوال ہیں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کذب آرزو جھوٹ کے معنی بھی کئے گئے ہیں تلاوت اور ظاہری الفاظ کے معنی بھی مروی ہیں جیسے قرآن مجید میں اور جگہ سے آیت ( الا اذا تمنی ) یہاں تلاوت کے معنی صاف ہیں شعراء کے شعروں میں بھی یہ لفظ تلاوت کے معنی میں ہے اور وہ صرف گمان ہی پر ہیں یعنی حقیقت کو نہیں جانتے اور اس پر ناحق کا گمان کرتے ہیں اور اوٹ پٹانگ باتیں بناتے ہیں ۔ پھر یہودیوں کی ایک دوسری قسم کا بیان ہو رہا ہے جو پڑھے لکھے لوگ تھے اور گمراہی کی طرف دوسروں کو بلاتے تھے اور اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے اور مریدوں کا مال ہڑپ کرتے تھے ۔ ویل کے معنی ہلاکت اور بربادی کے ہیں اور جہنم کے گڑھے کا نام بھی ہے جس کی آگ اتنی تیز ہے کہ اگر اس میں پہاڑ ڈالے جائیں تو دھول ہو جائیں ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کی ایک وادی کا نام ویل ہے جس میں کافر ڈالے جائیں گے چالیس سال کے بعد تلے میں پہنچیں گے اتنی گہرائی ہے لیکن سند کے اعتبار سے یہ حدیث غریب بھی ہے منکر بھی ہے اور ضعیف بھی ہے اور ایک غریب حدیث میں ہے کہ جہنم کے ایک پہاڑ کا نام ویل ہے یہودیوں نے توراۃ کی تحریف کر دی اس میں کمی یا زیادتی کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نکال ڈالا اس لئے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور توراۃ اٹھا لی گئی اور اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ ان کے ہاتھوں کے لکھے اور ان کی کمائی برباد اور ہلاک ہو ویل کے معنی سخت عذاب برائی ، ہلاکت ، افسوس ، درد ، دکھ ، رنج و ملال وغیرہ کے بھی آتے ہیں ۔ ویل ، ویح ، ویش ، ویہ ، ویک ، ویب سب ایک ہی معنی میں ہیں گو بعض نے ان الفاظ کے جدا جدا معنی بھی کئے ہیں لفظ ویل نکرہ ہے اور نکرہ مبتدا نہیں بن سکتا لیکن چونکہ یہ معنی میں بد دعا کے ہے اس لئے اسے مبتدا بنا دیاگ یا ہے بعض لوگوں نے اسے نصب دینا بھی جائز سمجھا ہے لیکن ویلا کی قرأت نہیں یہاں یہودیوں کے علماء کی بھی مذمت ہو رہی ہے کہ وہ اپنی باتوں کو اللہ تعالیٰ کا کلام کہتے تھے اور اپنے والوں کو خوش کر کے دنیا کماتے تھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تم اہل کتاب سے کچھ بھی کیوں پوچھو؟ اللہ تعالیٰ کی تازہ کتاب تمہارے ہاتھوں میں ہے اہل کتاب نے تو کتاب اللہ میں تحریف کی اپنی ہاتھ کی لکھی ہوئی باتوں کو اللہ عزوجل کی طرف منسوب کر دیا اس کی تشہیر کی پھر تمہیں اپنی محفوظ کتاب کو چھوڑ کر ان کی تبدیل کردہ کتاب کی کیا ضرورت؟ افسوس کہ وہ تم سے نہ پوچھیں اور تم ان سے دریافت کرتے پھرو تھوڑے مول سے مراد ساری دنیا مل جائے تو بھی آخرت کے مقابلہ میں کمتر ہے اور جنت کے مقابلہ میں بیحد حقیر چیز ہے پھر فرمایا کہ ان کے اس فعل کی وجہ سے کہ وہ اپنی باتوں کو اللہ رب العزت کی باتوں کی طرح لوگوں سے منواتے ہیں اور اس پر دنیا کماتے ہیں ہلاکت اور بربادی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

78۔ 1 یہ ان کے اہل علم کی باتیں تھیں رہے ان کے ان پڑھ لوگ، وہ کتاب (تورات) سے بیخبر ہیں لیکن وہ آرزوئیں ضرور رکھتے ہیں اور گمانوں پر ان کا گزارہ ہے جس میں انہیں ان کے علماء نے مبتلا کیا ہوا ہے مثلا ہم تو اللہ کے چہتے ہیں۔ ہم جہنم میں اگر گئے بھی تو صرف چند دن کے لئے اور ہمیں ہمارے بزرگ بخشوا لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ جیسے آج کے جاہل مسلمانوں کو بھی علماء سوء و مشائخ سوء نے ایسے ہی حسین جالوں اور پرفریب وعدوں پر پھنسا رکھا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٢] ان پڑھ یہود کے مذموم عقائد :۔ یہ ان کے عوام کا حال تھا جو تورات کو پڑھ بھی نہیں سکتے تھے۔ نہ انہیں یہ معلوم تھا کہ وہ کون سے اصول و احکام ہیں جن پر نجات اخروی کا مدار ہے وہ بس اپنی جھوٹی توقعات میں مگن ہیں جو یہ تھیں کہ ہم لوگ چونکہ انبیاء کی اولاد اور اللہ کے چہیتے ہیں۔ لہذا ہم دوزخ میں نہیں جائیں گے دوزخ میں جانے کے لیے دوسری مخلوق تھوڑی ہے ؟ ہمیں اگر عذاب ہوا بھی تو بس چند دن کے لیے جتنے دن بچھڑے کی پوجا کی گئی تھی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْھُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ۝ ٧٨ أُمِّيُّ هو الذي لا يكتب ولا يقرأ من کتاب، وعليه حمل : هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ [ الجمعة/ 2] قال قطرب : الأُمِّيَّة : الغفلة والجهالة، فالأميّ منه، وذلک هو قلة المعرفة، ومنه قوله تعالی: وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] أي : إلا أن يتلی عليهم . قال الفرّاء : هم العرب الذین لم يكن لهم کتاب، والنَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوباً عِنْدَهُمْ فِي التَّوْراةِ وَالْإِنْجِيلِ [ الأعراف/ 157] قيل : منسوب إلى الأمّة الذین لم يکتبوا، لکونه علی عادتهم کقولک : عامّي، لکونه علی عادة العامّة، وقیل : سمي بذلک لأنه لم يكن يكتب ولا يقرأ من کتاب، وذلک فضیلة له لاستغنائه بحفظه، واعتماده علی ضمان اللہ منه بقوله : سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى [ الأعلی/ 6] . وقیل : سمّي بذلک لنسبته إلى أمّ القری. الامی ۔ وہ ہے جو نہ لکھ سکتا ہو ، اور نہ ہ کتاب میں سے پڑھ سکتا ہو چناچہ آیت کریمہ ؛۔ { هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ } ( سورة الجمعة 2) وہی تو ہے جس نے ان پڑھو میں انہی میں سے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو پیغمبر بناکر بھیجا ۔ میں امیین سے یہی مراد ہے قطرب نے کہا ہے کہ امییہ بمعنی غفلت جہالت کے ہے اور اسی سے امی ہے کیونکہ اسے بھی معرفت نہیں ہوتی چناچہ فرمایا ؛۔ { وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ } ( سورة البقرة 78) اور بعض ان میں سے ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سواخدا کی کتاب سے ) واقف نہیں ہیں ۔ یہاں الا امانی کے معنی الا ان یتلیٰ علیھم کے ہیں یعنی مگر یہ کو انہین پڑھ کر سنا یا جائے ۔ فراء نے کہا ہے کہ امیون سے مراد ہیں جو اہل کتاب نہ تھے اور آیت کریمہ ؛ { الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا } ( سورة الأَعراف 157) اور ہو جو ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) رسول ( اللہ ) نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جن ( کے اوصاف ) کو وہ اپنے ہاں توراۃ اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ امی اس امت یعنی قوم کی طرف منسوب ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو جس طرح کہ عامی اسے کہتے ہیں جو عوام جیسی صفات رکھتا ہو ۔ بعض نے کہا ہے کہ آنحضرت کو امی کہنا اس بنا پر ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ لکھنا جانتے تھے اور نہ ہی کوئی کتاب پڑھتے تھے ۔ بلکہ وحی الہی کے بارے میں اپنے حافظہ اور خدا کی اس ضمانت پر کہ { سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى } ( سورة الأَعلی 6) ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے ۔ اعتماد کرتے تھے یہ صفت آپ کے لئے باعث فضیلت تھی ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ ام القریٰ یعنی مکہ کی طرف نسبت ہے لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو تَّمَنِّي : تقدیر شيء في النّفس وتصویره فيها، وذلک قد يكون عن تخمین وظنّ ، ويكون عن رويّة وبناء علی أصل، لکن لمّا کان أكثره عن تخمین صار الکذب له أملك، فأكثر التّمنّي تصوّر ما لا حقیقة له . قال تعالی: أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] ، فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] ، وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] والأُمْنِيَّةُ : الصّورة الحاصلة في النّفس من تمنّي الشیء، ولمّا کان الکذب تصوّر ما لا حقیقة له وإيراده باللفظ صار التّمنّي کالمبدإ للکذب، فصحّ أن يعبّر عن الکذب بالتّمنّي، وعلی ذلک ما روي عن عثمان رضي اللہ عنه :( ما تغنّيت ولا تَمَنَّيْتُ منذ أسلمت) «1» ، وقوله تعالی: وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] قال مجاهد : معناه : إلّا کذبا «2» ، وقال غيره إلّا تلاوة مجرّدة عن المعرفة . من حيث إنّ التّلاوة بلا معرفة المعنی تجري عند صاحبها مجری أمنيّة تمنیتها علی التّخمین، وقوله : وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] أي : في تلاوته، فقد تقدم أنّ التّمنّي كما يكون عن تخمین وظنّ فقد يكون عن رويّة وبناء علی أصل، ولمّا کان النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم کثيرا ما کان يبادر إلى ما نزل به الرّوح الأمين علی قلبه حتی قيل له : لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] ، ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] سمّى تلاوته علی ذلک تمنّيا، ونبّه أنّ للشیطان تسلّطا علی مثله في أمنيّته، وذلک من حيث بيّن أنّ «العجلة من الشّيطان» «3» . وَمَنَّيْتَني كذا : جعلت لي أُمْنِيَّةً بما شبّهت لي، قال تعالیٰ مخبرا عنه : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] . ۔ التمنی کے معنی دل میں کسی خیال کے باندھے اور اس کی تصویرکھنیچ لینے کے ہیں پھر کبھی یہ تقدیر محض ظن وتخمین پر مبنی بر حقیقت مگر عام طور پر تمنی کی بنا چونکہ ظن وتحمین پر ہی ہوتی ہے اس لئے ا س پر جھوٹ کا رنگ غالب ہوتا ہے ۔ کیونکہ اکثر طور پر تمنی کا لفظ دل میں غلط آرزو میں قائم کرلینے پر بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لِلْإِنْسانِ ما تَمَنَّى [ النجم/ 24] کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ۔ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ [ البقرة/ 94] تو موت کی آرزو تو کرو ۔ وَلا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً [ الجمعة/ 7] اور یہ ہر گز نہیں کریں گے ۔ الامنیۃ کسی چیز کی تمنا سے جو صورت ذہن میں حاصل ہوتی ہے اسے امنیۃ کہا جاتا ہے ۔ اور کزب چونکہ کسی وغیرہ واقعی چیز کا تصور کر کے اسے لفظوں میں بیان کردینے کو کہتے ہیں تو گویا تمنی جھوت کا مبدء ہے مہذا جھوٹ کو تمنی سے تعبیر کر نا بھی صحیح ہے اسی معنی میں حضرت عثمان (رض) کا قول ہے ۔ ماتغنیت ولا منذ اسلمت کہ میں جب سے مسلمان ہوا ہوں نہ راگ گایا ہے اور نہ جھوٹ بولا ہے اور امنیۃ کی جمع امانی آتی ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتابَ إِلَّا أَمانِيَّ [ البقرة/ 78] اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا ( خدا کی ) کتاب سے واقف نہیں ہیں ۔ مجاہد نے الا امانی کے معنی الا کذبا یعنی جھوٹ کئے ہیں اور دوسروں نے امانی سے بےسوچے سمجھے تلاوت کرنا مراد لیا ہے کیونکہ اس قسم کی تلاوت بھی اس منیۃ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ہے جس کی بنا تخمینہ پر ہوتی ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما أَرْسَلْنا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلا نَبِيٍّ إِلَّا إِذا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطانُ فِي أُمْنِيَّتِهِ [ الحج/ 52] اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اس کا یہ حال تھا کہ ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آروزو میں ( وسوسہ ) ڈال دیتا تھا ۔ میں امنیۃ کے معنی تلاوت کے ہیں اور پہلے بیان ہوچکا ہے کہ تمنی ظن وتخمین سے بھی ہوتی ہے ۔ اور مبنی بر حقیقت بھی ۔ اور چونکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر روح الامین جو وحی لے کر اترتے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی تلاوت کے لئے مبا ورت کرتے تھے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آیت لا تَعْجَلْ بِالْقُرْآنِ [ طه/ 114] اور ولا تُحَرِّكْ بِهِ لِسانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ [ القیامة/ 16] کے ذریعہ منع فرما دیا گیا ۔ الغرض اس وجہ سے آپ کی تلاوت کو تمنی سے موسوم کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ ایسی تلاوت میں شیطان کا دخل غالب ہوجاتا ہے اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی فرمایا ہے ان العا جلۃ من الشیطان کہ جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے منیتی کذا کے معنی فریب وہی سے جھوٹی امید دلانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن نے شیطان کے قول کی حکایت کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا ۔ اور امید دلاتا رہوں گا ۔ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٨ (وَمِنْہُمْ اُمِّیُّوْنَ ) “ ّ ” اُمی “ کا لفظ قرآن مجید میں اصلاً تو مشرکین عرب کے لیے آتا ہے۔ اس لیے کہ ان کے اندر پڑھنے لکھنے کا رواج ہی نہیں تھا۔ کوئی آسمانی کتاب بھی ان کے پاس نہیں تھی۔ لیکن یہاں یہود کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان میں سے بھی ایک طبقہ ان پڑھ لوگوں پر مشتمل ہے۔ جیسے آج مسلمانوں کا حال ہے کہ اکثر و بیشتر جاہل ہیں ‘ ان میں سے بعض اگرچہ پی ایچ ڈی ہوں گے ‘ لیکن انہیں قرآن کی ” ا ‘ ب ‘ ت “ نہیں آتی ‘ دین کے ” مبادی “ تک سے ناواقف ہیں۔ چناچہ آج پڑھے لکھے مسلمانوں کی بھی عظیم اکثریت ” پڑھے لکھے جاہلوں “ پر مشتمل ہے۔ جبکہ ہماری اکثریت ویسے ہی بغیر پڑھی لکھی ہے۔ تو اب انہیں دین کا کیا پتا ؟ وہ تو سارا اعتماد کریں گے علماء پر ! کوئی بریلوی ہے تو بریلوی علماء پر اعتماد کرے گا ‘ کوئی دیوبندی ہے تو دیوبندی علماء پر اعتماد کرے گا ‘ کوئی اہل حدیث ہے تو اہل حدیث علماء پر اعتماد کرے گا۔ اب امیوں کا سہارا کیا ہوتا ہے ؟ّ (لاَ یَعْلَمُوْنَ الْکِتٰبَ الاَّ اَمَانِیَّ ) “ ایسے لوگ کتاب سے تو واقف نہیں ہوتے ‘ بس اپنی کچھ خواہشات اور آرزوؤں پر تکیہ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان خواہشات کا ذکر آگے آجائے گا۔ یہود کو یہ زعم تھا کہ ہم تو اسرائیلی ہیں ‘ ہم اللہ کے محبوب ہیں اور اس کے بیٹوں کی مانند چہیتے ہیں ‘ ہماری تو شفاعت ہو ہی جائے گی۔ ہمیں تو جہنم میں داخل کیا بھی گیا تو تھوڑے سے عرصے کے لیے کیا جائے گا ‘ پھر ہمیں نکال لیا جائے گا۔ یہ ان کی ” اَمَانِیّ “ ہیں۔ ” اُمْنِیَّۃٌ“ کہتے ہیں بےبنیاد خواہش کو ‘ اَمَانِیّاس کی جمع ہے۔ اس کی صحیح تعبیر کے لیے انگریزی کا لفظ wishful thinkings ہے۔ یہ اپنی ان بےبنیاد خواہشات اور جھوٹی آرزوؤں کے سہارے جی رہے ہیں ‘ کتاب کا علم ان کے پاس ہے ہی نہیں۔ (وَاِنْ ہُمْ الاَّ یَظُنُّوْنَ ) “ ان کے پاس محض وہم و گمان اور ان کے اپنے من گھڑت خیالات ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

89. This was the state of the Jewish masses. They were ignorant of the Scriptures, unaware of the principles of faith as enunciated by God in His Book, unaware of the rules of conduct that He had laid down, and of the teachings which are of fundamental importance for man's salvation. Because they lacked this knowledge, they fabricated a whole religion out of their desires and fancies, living in a paradise built on false hopes and illusions.

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :89 یہ ان کے عوام کا حال تھا ۔ علم کتاب سے کورے تھے ۔ کچھ نہ جانتے تھے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں دین کے کیا اصول بتائے ہیں ، اخلاق اور شرع کے کیا قواعد سکھائے ہیں اور انسان کی فلاح و خُسران کا مدار کن چیزوں پر رکھا ہے ۔ اس علم کے بغیر وہ اپنے مفروضات اور اپنی خواہشات کے مطابق گھڑی ہوئی باتوں کو دین سمجھے بیٹھے تھے اور جھُوٹی توقّعات پر جی رہے تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(7879): ان آیتوں میں یہود کے ان پڑھ اور علماء دونوں کا فرقوں کا حال ہے۔ ان پڑھ فرقہ تو یہ کہ انہوں نے اپنے گروہ کے علماء سے جو کچھ گھڑی گھڑائی باتیں سن لی ہییں وہی ان کا دین و ایمان ہے سو ان باتوں کے ان کو کچھ معلوم نہیں کہ تورات کیا ہے اور اس میں کیا احکام الٰہی ہیں۔ دوسرافرقہ ان کے علماء کا ہے جنہوں نے اپنی طرف سے اپنے ہاتھوں سے کچھ جھوٹ مصنوعی باتیں جعل سازی سے کتاب الٰہی میں لکھ دی ہیں اور ان باتوں کو اللہ تعالیٰ کا حکم بتاتے ہیں اور جاہل لوگوں کو بہکا کر اس ذریعہ سے کچھ کما کھاتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ جھوٹ اور یہ لقمہ حرام ایک دن ان کو خرابی میں ڈال دے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 بنی اسرائیل کے عناد اور سرکشی کو بیان کرنے کے بعد اب ان کے مختلف فرقوں کا بیان ہو رہا ہے اس آیت میں عوام کی حالت بیان کی ہے۔ (کبیر) امی وہ ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو اور امانی جمع ہے امنیتہ کی جس کے معنی آرزوؤں یا من گھڑت روایات کے ہیں یعنی یہود میں ایک طبقہ جو انپڑھ اور عوام کا ہے جنہیں الکتاب یعنی توریت کا تو کچھ علم نہیں ہے مگر وہ اپنے سینوں میں بعض بےبنیاد قسم کی آرزوئیں پائے ہوئے ہیں۔ مثلا یہ کہ ان بزرگوں کو وجہ سے اللہ انہیں ضرور بخش دے گا یا یہ کہ جنت میں یہود کے سوا کوئی نہیں جائے گا وغیرہ قسم کی خرافات کا عقیدہ باندھے ہوئے ہیں یہ ان کی غلط آرزوئیں ہیں من گھڑت قصے ہیں جو انہوں نے سن رکھے ہیں اور یہ نری بکواس کرتے ہیں ( ترجمان )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کے علماء کی دیکھا دیکھی ان کا ان پڑھ طبقہ یعنی عوام الناس بھی بےبنیاداُمیدیں لگائے ہوئے ہے۔ یاد رہے کہ مذہبی پیشواؤں اور سیاسی راہنماؤں کے منفی اور مثبت اثرات عوام پر ضرور اثر انداز ہوا کرتے ہیں۔ علمائے یہود نے حسب ونسب، مصنوعی تقدُّس اور مذہب کا نام لے کر خود ساختہ رسومات کو عوام کے ذہن پر اس طرح مسلط کردیا تھا جس سے عوام سمجھنے لگے کہ فقط بزرگوں کا احترام ‘ علماء کی خدمت اور مذہبی رسومات ہی اصل دین ہے۔ حالانکہ ان تصورات کی کوئی بنیاد نہیں تھی کہ جس اساس پر وہ اپنے آپ کو جنت کا ٹکٹ ہولڈر سمجھتے اور یہ امید لگابیٹھے تھے کہ بخشش کے لیے بزرگوں سے محبت اور ان کے دامن کے ساتھ وابستہ ہونا ہی کافی ہے۔ یہاں ان کے بےبنیاد نظریات کی نفی کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ دین صرف جذبات اور خوش کن تصورات کا نام نہیں ہے۔ اس کے لیے تو باطل نظریات کو چھوڑنا ‘ بےبنیاد تصورات سے نجات پانا اور جان و مال کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ ( عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِيْ قِرَادٍ (رض) أَنَّ النَّبِيَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تَوَضَّأَ یَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُہٗ یَتَمَسَّحُوْنَ بِوَضُوْءِہٖ فَقَالَ لَھُمُ النَّبِيُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَمَاحَمَلَکُمْ عَلٰی ھٰذَا قَالُوْا حُبُّ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَقَال النَّبِيُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ سَرَّہٗ أَنْ یُّحِبَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ أَوْ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ فَلْیَصْدُقْ حَدِیْثَہٗ إِذَا حَدَّثَ وَلْیُؤَدِّ أَمَانَتَہٗ إِذَا اءْتُمِنَ وَلْیُحْسِنْ جَوَارَ مَنْ جَاوَرَہٗ ) (بیھقی فی شعب الإیمان۔ ١٥٣٣) ” حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن وضو کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب آپ کے وضو کے پانی کو اپنے جسموں پر ملنے لگے۔ نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے استفسار فرمایا تم اس طرح کیوں کررہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی، اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی بنا پر۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہو کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں تو اسے چاہیے کہ جب بات کرے تو سچ بولے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو امانت کا حق ادا کرے اور اپنے ہمسائیوں سے اچھا برتاؤ کرے۔ “ مسائل ١۔ بےبنیاد خواہشات نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اب ان دونوں گروہوں میں سے ہم کس سے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ مشرف بایمان ہوگا۔ حق کی آواز پر لبیک کہے گا اور ہدایت پر قائم ہوجائے گا ۔ اور اپنے آپ کو نازل شدہ کتاب کی ان نصوص کی تحریف سے بچالے گا جو ان کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں ۔ غرض ایسے لوگوں سے کوئی امید نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے ۔ مسلمانوں کی بات مان کردیں گے ۔ ان کی قسمت میں تو تباہی اور بربادی لکھی ہوئی ہے اور یہ تباہی اور بربادی جو ان کی نوشتہ تقدیر ہے اس لئے ان کے لئے مقرر کی ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آیات لکھیں اور پھر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرڈالا ۔ یہ تباہی اور بربادی خود ان کے ہاتھ کی کمائی ہے ۔ کیونکہ انہی ہاتھوں سے انہوں ان آیات کو تراشا اور اللہ کی طرف منسوب کیا۔ ان کی خواہشات اور باطل آرزوؤں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ جس قدر بدکاری اور احکام کی جتنی خلاف ورزی بھی کریں بہرحال وہ نجات پانے والوں میں سے ہوں گے۔ وہ جہنم کی آگ میں چند دن رہیں گے اور اس کے بعد جنت کی طرف جانکلیں گے ، ظاہر ہے کہ ان یہ تمنا ان کے نظام عدالت ، اس کی سنت دائمہ اور جزا وسزا کے صحیح تصور کے سراسرخلاف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان کی اس آرزو کی بنیاد کیا ہے ۔ وہ کس وثیقہ کی بنیاد پر اس وقت کا تعین کرتے ہیں ، گویا اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان کوئی باقاعدہ معاہدہ ہوگیا ہے ۔ اور اس کے اند ران کی تعذیب کی معیاد متعین ہوچکی ہے ۔ یہ خیال جاہل لوگوں کی بےبنیاد آرزو اور خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے اور دوسری جانب سے یہ تصور ان کے فریب کار علماء کے کذب وافتراء کا پلندہ ہے ۔ یہ ایسی آرزوئیں ہیں جن کا سہارا وہ تمام لوگ لیا کرتے ہیں جو صحیح عقیدہ اور نظریہ حیات چھوڑ چکے ہیں ، اس پر ایک عرصہ گزرچکا ہوتا ہے اور اپنے حقیقی دین کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہا ہوتا۔ وہ اپنے دین کے صرف نام اور چند ظاہری رسومات کے سوا اور کچھ نہیں جانتے ۔ اور دین کی حقیقت اور اس کے اصل موضوع سے بیخبر ہوجاتے ہیں لیکن چونکہ وہ اپنے آپ کو اس دنیا کی طرف منسوب کرتے ہیں ، اس لئے سمجھتے ہیں کہ بس یہ زبانی نسبت ہی ان کی نجات کے لئے کافی ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کی جھوٹی آرزوئیں اس آیت میں یہودی جاہل ان پڑھ عوام کا تذکرہ فرمایا ہے یہ لوگ نہ توریت شریف پڑھ سکتے تھے نہ اور کسی طرح کا علم رکھتے تھے البتہ جھوٹی آرزوؤں میں الجھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ہمیں جنت میں ضرور جانا ہے اگر عذاب بھی ہوا تو تھوڑے سے دن دوزخ میں رہیں گے اور ہم انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور مقرب ہیں اس کی اولاد ہیں اور نبوت صرف ہمارے ہی اندر رہ سکتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ اور بہت سی جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا تھے خیالات کی دنیا میں پڑے ہوئے تھے اور اپنی نجات اور اللہ کے ہاں محبوب ہونے کے خیالی پلاؤ پکا رکھے تھے۔ ان کے خیال میں نہ اللہ کے نبی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھٹلانے سے ان کے محبوب عنداللہ ہونے میں فرق آتا تھا اور نہ سود کھانے سے ان کی دینداری کو بٹہ لگتا تھا نہ کسی طرح کے کسی بھی برے عمل سے ان کو آخرت کا فکر لاحق ہوتا تھا۔ اپنے بارے میں جو جھوٹی آرزوئیں لیے بیٹھے تھے اور جو خوش کن گمانوں کی دنیا بسائے ہوئے تھے اسی میں مست تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

152 یہ تیسرا گروہ ہے جاہل اور کندہ ناتراش مریدوں اور عقیدتمندوں کا کہ جو غلط سلط باتیں اپنے علمائ اور فقرائ سے سن لیں بس انہیں کو دین سمجھ لیا۔ یہ خود تو تورات پڑھ نہیں سکتے تھے اس لیے سنی سنائی باتوں پر ایمان رکھتے تھے۔ یہ خود تو تورات پڑھ نہیں سکتے تھے اس لیے سنی سنائی باتوں پر ایمان رکھتے تھے۔ اِلَّآ اَمَانِىَّ ۔ من گھڑت قصوں، جھوٹی آرزوؤں اور تمناؤں کے بغیر جو انہوں نے اپنے غلط کار اور محرف علمائ سے سن رکھی تھیں اور وہ کچھ نہیں جانتے الا اکاذیب اخذوھا تقلیدا من شیاطینھم المحرفین (روح ص 301 ج 1) اکاذیب مختلقۃ سمعوھا من علمائہم فنقلوھا علی التقلید (بحر ص 275 ج 1) وہ آرزئیں اور تمنائیں کیا تھیں وہ بھی سن لیجئے علمائ یہود نے عوام کو بتا رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان سے گناہوں کا مواخذہ نہیں کرے گا۔ اور ہمارے آبائ و اجداد یعنی انبیائ (علیہم السلام) انہیں بخشوا لیں گے۔ اور جنت ہمارے اور ہمارے مریدین ہی کے لیے ہے۔ اور اگر ہم میں سے کوئی دوزخ میں گیا بھی تو شند ہی دنوں کے لیے جائے گا۔ جس طرح آج کل بناوٹی پیروں نے اپنے مریدوں کو یہی کچھ سکھا رکھا ہے۔ چناچہ ان کے مریدین علانیہ کہتے ہیں۔ ہمیں نماز روزے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے اپنا ہاتھ کامل پیر کے ہاتھ میں دے رکھا ہے وہ ہمارا ہاتھ پکڑ کر ہمیں پل صراط سے پار کردیں گے۔ اور اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے اور یہ بیچارے نمازی تو دیکھتے ہی رہ جائیں گے۔ وامانیہم ان اللہ یعفو عنھم ویرحمھم ولا یؤاخذھم بخطایاھم وان ابائھم الانبیائ یشفعون لھم (بحر ص 275 ج 1، روح ص 2301 ج 1) وان الجنۃ لا یدخلھا الا من کان ھودا وان النار لا تمسہم الا ایاما معدودۃ (روح ص 302 ج 1) وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ ۔ مگر یہ سب ان کے اوہام باطلہ اور ظنون فاسدہ ہیں۔ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi