Allah says,
بَلَى مَن كَسَبَ سَيِّيَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيـيَتُهُ فَأُوْلَـيِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
Yes! Whosoever earns evil and his sin has surrounded him, they are dwellers of the Fire (i.e. Hell); they will dwell therein forever.
Allah says, the matter is not as you have wished and hoped it to be. Rather, whoever does an evil deed and abides purposefully in his error, coming on the Day of Resurrection with no good deeds, only evil deeds, then he will be among the people of the Fire.
Also, Abu Hurayrah, Abu Wa'il, Ata, and Al-Hasan said that,
وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيـيَتُهُ
(And his sin has surrounded him) means,
"His Shirk (polytheism) has surrounded him."
Also, Al-Amash reported from Abu Razin that Ar-Rabi bin Khuthaym said,
وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيـيَتُهُ
(And his sin has surrounded him),
"Whoever dies before repenting from his wrongs."
As-Suddi and Abu Razin said similarly.
Abu Al-Aliyah, Mujahid, Al-Hasan, Qatadah and Ar-Rabi bin Anas said that,
it refers to major sins.
All of these statements carry similar meanings, and Allah knows best.
When Small Sins gather, They bring about Destruction
Here we should mention the Hadith that Imam Ahmad recorded, in which Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah said,
إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتّى يُهْلِكْنَه
Beware of the belittled sins, because they gather on a person until they destroy him.
He then said that the Messenger of Allah gave them an example,
كَمَثَلٍ قَوْمٍ نَزَلُوا بِأَرْضِ فَلَةٍ فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ فَيَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ حَتّى جَمَعُوا سَوَادًا وَأَجَّجُوا نَارًا فَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا
This is the example of people who set up camp on a flat land, and then their servants came. One of them collected some wood and another man collected some wood until they collected a great deal. They then started a fire and cooked what they put on it.
Allah says,
جہنمی کون؟
مطلب یہ ہے کہ جس کے اعمال سراسر بد ہیں جو نیکیوں سے خالی ہے وہ جہنمی ہے اور جو شخص اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور سنت کے مطابق عمل کرے وہ جنتی ہے ۔ جیسے ایک جگہ فرمایا آیت ( لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ ) 4 ۔ النسآء:123 ) یعنی نہ تو تمہارے منصوبے چل سکیں گے اور نہ اہل کتاب کے ہر برائی کرنے والا اپنی برائی کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر بھلائی کرنے والا ثواب پائے گا اپنی نیکو کاری کا اجر پائے گا مگر برے کا کوئی مددگار نہ ہو گا ۔ کسی مرد کا ، عورت کا ، بھلے آدمی کا کوئی عمل برباد نہ ہو گا ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں برائی سے مطلب کفر ہے اور ایک روایت میں ہے کہ مراد شرک ہے ابو وائل ابو العالیہ ، مجاہد ، عکرمہ ، حسن ، قتادہ ، ربیع بن انس وغیرہ سے یہی مروی ہے ۔ سدی کہتے ہیں مراد کبیرہ گناہ ہیں جو تہ بہ تہ ہو کر دل کو گندہ کر دیں حضرت ابو ہریرہ وغیرہ فرماتے ہیں مراد شرک ہے جس کے دل پر بھی قابض ہو جائے ربیع بن خثیم کا قول ہے جو گناہوں پر ہی مرے اور توبہ نصیب نہ ہو مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہوں کو حقیر نہ سمجھا کرو وہ جمع ہو کر انسان کی ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں دیکھتے نہیں ہو کہ اگر کئی آدمی ایک ایک لکڑی لے کر آئیں تو انبار لگ جاتا ہے پھر اگر اس میں آگ لگائی جائے تو بڑی بڑی چیزوں کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے پھر ایمانداروں کا حال بیان فرمایا کہ جو تم ایسے عمل نہیں کرتے بلکہ تمہارے کفر کے مقابلہ میں ان کا ایمان پختہ ہے تمہاری بد اعمالیوں کے مقابلہ میں ان کے پاکیزہ اعمال مستحکم ہیں انہیں ابدی راحتیں اور ہمیشہ کی مسکن جنتیں ملیں گی اور اللہ کے عذاب و ثواب دونوں لازوال ہیں ۔