Surat ul Baqara

Surah: 2

Verse: 81

سورة البقرة

بَلٰی مَنۡ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّ اَحَاطَتۡ بِہٖ خَطِیۡٓئَتُہٗ فَاُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۱﴾

Yes, whoever earns evil and his sin has encompassed him - those are the companions of the Fire; they will abide therein eternally.

یقیناً جس نے بھی بُرے کام کئے اور اس کی نافرمانیوں نے اسے گھیر لیا وہ ہمیشہ کے لئے جہنمی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says, بَلَى مَن كَسَبَ سَيِّيَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيـيَتُهُ فَأُوْلَـيِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ Yes! Whosoever earns evil and his sin has surrounded him, they are dwellers of the Fire (i.e. Hell); they will dwell therein forever. Allah says, the matter is not as you have wished and hoped it to be. Rather, whoever does an evil deed and abides purposefully in his error, coming on the Day of Resurrection with no good deeds, only evil deeds, then he will be among the people of the Fire. Also, Abu Hurayrah, Abu Wa'il, Ata, and Al-Hasan said that, وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيـيَتُهُ (And his sin has surrounded him) means, "His Shirk (polytheism) has surrounded him." Also, Al-Amash reported from Abu Razin that Ar-Rabi bin Khuthaym said, وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيـيَتُهُ (And his sin has surrounded him), "Whoever dies before repenting from his wrongs." As-Suddi and Abu Razin said similarly. Abu Al-Aliyah, Mujahid, Al-Hasan, Qatadah and Ar-Rabi bin Anas said that, it refers to major sins. All of these statements carry similar meanings, and Allah knows best. When Small Sins gather, They bring about Destruction Here we should mention the Hadith that Imam Ahmad recorded, in which Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah said, إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتّى يُهْلِكْنَه Beware of the belittled sins, because they gather on a person until they destroy him. He then said that the Messenger of Allah gave them an example, كَمَثَلٍ قَوْمٍ نَزَلُوا بِأَرْضِ فَلَةٍ فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ فَيَجِيءُ بِالْعُودِ وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ حَتّى جَمَعُوا سَوَادًا وَأَجَّجُوا نَارًا فَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا This is the example of people who set up camp on a flat land, and then their servants came. One of them collected some wood and another man collected some wood until they collected a great deal. They then started a fire and cooked what they put on it. Allah says,

جہنمی کون؟ مطلب یہ ہے کہ جس کے اعمال سراسر بد ہیں جو نیکیوں سے خالی ہے وہ جہنمی ہے اور جو شخص اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور سنت کے مطابق عمل کرے وہ جنتی ہے ۔ جیسے ایک جگہ فرمایا آیت ( لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ ) 4 ۔ النسآء:123 ) یعنی نہ تو تمہارے منصوبے چل سکیں گے اور نہ اہل کتاب کے ہر برائی کرنے والا اپنی برائی کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر بھلائی کرنے والا ثواب پائے گا اپنی نیکو کاری کا اجر پائے گا مگر برے کا کوئی مددگار نہ ہو گا ۔ کسی مرد کا ، عورت کا ، بھلے آدمی کا کوئی عمل برباد نہ ہو گا ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں برائی سے مطلب کفر ہے اور ایک روایت میں ہے کہ مراد شرک ہے ابو وائل ابو العالیہ ، مجاہد ، عکرمہ ، حسن ، قتادہ ، ربیع بن انس وغیرہ سے یہی مروی ہے ۔ سدی کہتے ہیں مراد کبیرہ گناہ ہیں جو تہ بہ تہ ہو کر دل کو گندہ کر دیں حضرت ابو ہریرہ وغیرہ فرماتے ہیں مراد شرک ہے جس کے دل پر بھی قابض ہو جائے ربیع بن خثیم کا قول ہے جو گناہوں پر ہی مرے اور توبہ نصیب نہ ہو مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گناہوں کو حقیر نہ سمجھا کرو وہ جمع ہو کر انسان کی ہلاکت کا سبب بن جاتے ہیں دیکھتے نہیں ہو کہ اگر کئی آدمی ایک ایک لکڑی لے کر آئیں تو انبار لگ جاتا ہے پھر اگر اس میں آگ لگائی جائے تو بڑی بڑی چیزوں کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے پھر ایمانداروں کا حال بیان فرمایا کہ جو تم ایسے عمل نہیں کرتے بلکہ تمہارے کفر کے مقابلہ میں ان کا ایمان پختہ ہے تمہاری بد اعمالیوں کے مقابلہ میں ان کے پاکیزہ اعمال مستحکم ہیں انہیں ابدی راحتیں اور ہمیشہ کی مسکن جنتیں ملیں گی اور اللہ کے عذاب و ثواب دونوں لازوال ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

سَيِّئَةً : تنوین تنکیر کے لیے نہیں، بلکہ تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” بڑی برائی “ کیا گیا ہے، مراد اس سے کفر و شرک ہے۔ اس سے ملتا جلتا وہ واقعہ ہے کہ جب یہ آیت اتری : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ) [ الأنعام : ٨٢ ] تو صحابہ کرام (رض) نے : (بِظُلْمٍ ) کی تنوین کو تنکیر کے لیے سمجھ کر کہا : ” ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے ایمان میں کسی ظلم کی آمیزش نہیں کی ؟ “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” آیت میں ظلم سے یہ مراد نہیں ہے، کیا تم نے لقمان کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انھوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی : (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ ) [ لقمان : ١٣ ] ” بیشک شرک یقیناً بہت بڑا ظلم ہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب ( لا تشرک باللہ ۔۔ ) : ٤٧٧٦ ] تفصیل سورة انعام (٨٢) میں دیکھیں۔ اسی طرح یہاں بھی (سَيِّئَةً ) سے مراد کفر و شرک ہے۔ ابن عباس (رض) نے بھی اس سے مراد ایسا کفر لیا ہے جو ہر نیکی کو ختم کر دے۔ [ ابن أبی حاتم بسند حسن : ١؍٢١٤، ح : ٨١٢ ] ان آیات میں یہود کے اس نظریہ کی تردید ہے کہ ہم ہر حال میں آخر کار جنت میں جائیں گے، خواہ نبی آخر الزمان پر ایمان نہ لائیں۔ چناچہ بتایا گیا کہ جس نے بڑی برائی کا ارتکاب کیا، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور اسے اس کے گناہوں نے گھیر لیا کہ اس کی کوئی نیکی باقی نہ رہی تو یہ ابدی جہنمی ہے۔ مراد اس سے یہود اور دوسرے کفار ہیں، کیوں کہ کفر ہی ایسا گناہ ہے جو تمام نیکیوں کو برباد کردیتا ہے۔ آیت : (وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاۗءً مَّنْثُوْرًا) [ الفرقان : ٢٣ ] ” اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہوگا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنادیں گے۔ “ اس آیت سے گناہ گار مومن مراد نہیں۔ اہل السنہ و الجماعہ کا اتفاق ہے کہ آگ میں ہمیشہ کفار و مشرکین ہی رہیں گے، کیونکہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ گناہ گار کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، وہ چاہے گا تو اپنے فضل و کرم سے ان کے گناہ معاف فرما دے گا اور چاہے گا تو شفاعت سے یا اپنی خاص رحمت سے جہنم سے نکال دے گا۔ اس لیے اس آیت میں ” سَيِّئَةً “ اور ” خَطِيْۗــــَٔــتُهٗ “ سے مراد کفر و شرک ہی ہے۔ خصوصاً اس لیے بھی کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا، آیت : (بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً ) ”(یہود کو خطاب ہے) کہ جس نے تمہارے اعمال جیسے عمل کیے اور تمہاری طرح کفر کیا، حتیٰ کہ اس کے کفر نے اس کی تمام نیکیوں کو گھیر لیا۔ [ ابن أبی حاتم بسند حسن : ١؍٢١٣، ح : ٨٢١ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Having refuted the claim of the Jews as baseless, the Holy Qur&an lays down the divine law in this regard. Those who commit evil deeds knowingly and deliberately so that evil takes hold of them completely, leaving no trace of goodness - such men shall go to the Hell, and live there forever, without any intermission or release. But those who believe in Allah and the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - whose Shari` ah has now abrogated all the earlier Shari&ahs and who do good deeds in conformity with the Islamic Shari&ah, - it is these men who shall go to Paradise, and will live there forever. Let us explain how evil can take hold of a man so completely that no trace of goodness is left. This kind of thing happens only to infidels (Kafirs کفار), and not to Muslims, even when they are sinners. For, no good deed on the part of an infidel is acceptable to Allah on account of his infidelity; even the good deeds he has done before his apostasy and infidelity are lost, and rendered null and void. That is why on the Day of Judgment, infidels will have to show nothing but evil, in punishment of which they shall live in Hell for ever. On the contrary, men of faith will, to begin with, have the greatest and highest good deed to their credit - namely, faith (&Iman ایمان) itself. Then, their secondary good deeds too are recorded in their account. So, they cannot be devoid of all goodness, and evil cannot be said to have taken hold of them completely. In short, the infidel, according to this divine law, must always live in Hell. Since Sayyidna Musa (علیہ السلام) (Moses) was not the last proph¬et, but was followed by two other prophets, Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) (Jesus) and Sayyidna Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the Jews turned into infidels by denying these two prophets. So, in accordance with this law, they too will be assigned to Hell for ever like other infidels, and their claim that they would be released from Hell after few days can now be seen to be totally false and baseless.

خلاصہ تفسیر : خلود فی النار کا ضابطہ : (بجز چند روز کے تم کو آتش دوزخ) کیوں نہیں (لگے گی بلکہ ابد الآباد تک اس میں رہنا ضرور ہے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ کہ) جو شخص قصد ابری باتیں کرتا رہے اور اس کو اس کی خطا (و قصور اس طرح) احاطہ کرلے (کہ کہیں نیکی کا اثر تک نہ رہے) سو ایسے لوگ اہل دوزخ ہوتے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے اور جو لوگ (اللہ و رسول پر) ایمان لاویں اور نیک کام کریں ایسے لوگ اہل بہشت ہوتے ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ فائدہ : خطاؤں کے احاطہ کے جو معنی اور ذکر کئے گئے ہیں اس قسم کا احاطہ اس معنی کے ساتھ کفار کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ کفر کی وجہ سے کوئی بھی عمل صالح مقبول نہیں ہوتا بلکہ کفر کے قبل اگر کچھ نیک اعمال کئے بھی ہوں تو وہ بھی ضائع اور ضبط ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے کفار میں سر تا پا بدی ہی بدی ہوگی جس کی جزا ابدی جہنم ہوگی بخلاف اہل ایمان کے کہ اول تو ان کا ایمان خود بہت بڑا عمل صالح ہے دوسرے اعمال فرعیہ بھی ان کے نامہ اعمال میں درج ہوتے ہیں اس لئے وہ نیکی کے اثر سے خالی نہیں پس احاطہ مذکور ان کی حالت پر صادق نہیں آتا، خلاصہ یہ ہوا کہ جب اس ضابطہ کی رو سے کافر کا ابدی جہنمی ہونا ثابت ہوگیا تو چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خاتم الانبیاء نہیں ہیں آپ کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نبی ہیں تو یہود ان کا انکار کرکے کافروں میں شامل ہوگئے اس لئے اس ضابطہ کی رو سے وہ بھی خالد فی النار ہوں گے تو ان کا دعویٰ مذکور دلیل قطعی سے باطل ٹھرا،

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِيْۗــــــــَٔــتُہٗ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ ٨١ كسب ( عمل رزق) الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی: أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] روي أنه قيل للنّبي صلّى اللہ عليه وسلم «4» : أيّ الکسب أطيب ؟ فقال عليه الصلاة والسلام، «عمل الرجل بيده» ، وقال : «إنّ أطيب ما يأكل الرجل من کسبه وإنّ ولده من كَسْبِهِ» «1» ، وقال تعالی: لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] وقد ورد في القرآن في فعل الصالحات والسيئات، فممّا استعمل في الصالحات قوله : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] ، وقوله : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] «2» . وممّا يستعمل في السّيّئات : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] ، أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] ( ک س ب ) الکسب ۔ اصل میں جلب نفع یا خوش نصیبی حاصل کرنے کے لئے کسی چیز کا قصد کرنے کو کسب کہتے ہیں جیسے کسب مال وغیرہ ایسے کام کے قصد پر بولا جاتا ہ جسے انسان اس خیال پر کرے کہ اس سے نفع حاصل ہوگا لیکن الٹا اس کو نقصان اٹھا نا پڑے ۔ پس الکسب ایسا کام کرنے کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی ذا ت اور اس کے ساتھ دوسروں کے فائدہ کے لئے کرے اسی لئے یہ کبھی دو مفعولوں کو طرف متعدی ہوتا ہے جیسے کسبت فلانا کذا میں نے فلاں کو اتنا کچھ حاصل کرکے دیا ۔ مگر الاکتساب ایسا کام کرنے کو کت ہے ہیں جس میں انسان صرف اپنے مفاد کو پیش نظر رکھے لہذا ہر اکتساب لازم نہیں ہے ۔ اور یہ خبز و اختبرزو شوٰ ی واشتویٰ ، وطبخ و طبخ کی طرف ہے ۔ اور آیت کریمہ : أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267] جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کھاتے ہو ۔۔۔۔ اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرو ۔ کے متعلق آنحضرت سے سوال کیا گیا ای الکسب اطیب کہ کونسا کسب زیادہ پاکیزہ ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عمل الرجل بیدہ کہ انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیز فرمایا : ان طیب مایکل الرجل من کسبہ وان ولدہ من کسبہ سب سے زیادہ پاکیزہ رزق وہ ہی جو انسان اپنے ہاتھ سے کماکر کھا اور اسکی اولاد اس کے کسب سے ہے : قرآن میں ہے : لا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِمَّا كَسَبُوا[ البقرة/ 264] اسی طرح ( یہ ریا کار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اور قرآن میں نیک وبددونوں قسم کے اعمال کے متعلق یہ فعل استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ اعمال صالحہ کے متعلق فرمایا : أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمانِها خَيْراً [ الأنعام/ 158] یا اپنے ایمان کی حالت میں نیک عمل نہیں کئ ہونگے اور آیت کریمہ : وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنا آتِنا فِي الدُّنْيا حَسَنَةً إلى قوله : مِمَّا كَسَبُوا [ البقرة/ 201- 202] کے بعد فرمایا : انکے کاموں کا ( حصہ ) اور اعمال بدکے متعلق فرمایا : أَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِما كَسَبَتْ [ الأنعام/ 70] تاکہ ( قیامت کے دن کوئی شخص اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے ۔ أُولئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِما كَسَبُوا[ الأنعام/ 70] یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ۔ سَّيِّئَةُ : الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] سَّيِّئَةُ : اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :، ، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81] جو برے کام کرے حيط الحائط : الجدار الذي يَحُوط بالمکان، والإحاطة تقال علی وجهين : أحدهما : في الأجسام نحو : أَحَطْتُ بمکان کذا، أو تستعمل في الحفظ نحو : إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] ، والثاني : في العلم نحو قوله : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] ( ح و ط ) الحائط ۔ دیوار جو کسی چیز کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو اور احاطۃ ( افعال ) کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) اجسام کے متعلق جیسے ۔ احطت بمکان کذا یہ کبھی بمعنی حفاظت کے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] سن رکھو کہ وہ ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ یعنی وہ ہر جانب سے ان کی حفاظت کرتا ہے ۔ (2) دوم احاطہ بالعلم ہے جیسے فرمایا :۔ أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ [ الكهف/ 34] ، أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ [ الكهف/ 9] ، وَأَصْحابِ مَدْيَنَ [ الحج/ 44] ، أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 217] ، مِنْ أَصْحابِ السَّعِيرِ [ فاطر/ 6] ، وأما قوله : وَما جَعَلْنا أَصْحابَ النَّارِ إِلَّا مَلائِكَةً [ المدثر/ 31] أي : الموکّلين بها لا المعذّبين بها كما تقدّم . وقد يضاف الصَّاحِبُ إلى مسوسه نحو : صاحب الجیش، وإلى سائسه نحو : صاحب الأمير . والْمُصَاحَبَةُ والِاصْطِحَابُ أبلغ من الاجتماع، لأجل أنّ المصاحبة تقتضي طول لبثه، فكلّ اصْطِحَابٍ اجتماع، ولیس کلّ اجتماع اصطحابا، وقوله : وَلا تَكُنْ كَصاحِبِ الْحُوتِ [ القلم/ 48] ، وقوله : ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [ سبأ/ 46] ، وقد سمّي النبيّ عليه السلام صاحبهم تنبيها أنّكم صحبتموه، وجرّبتموه وعرفتموه ظاهره وباطنه، ولم تجدوا به خبلا وجنّة، وکذلک قوله : وَما صاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ [ التکوير/ 22] . والْإِصحَابُ للشیء : الانقیاد له . وأصله أن يصير له صاحبا، ويقال : أَصْحَبَ فلان : إذا كَبُرَ ابنه فصار صاحبه، وأَصْحَبَ فلان فلانا : جعل صاحبا له . قال : وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ [ الأنبیاء/ 43] ، أي : لا يكون لهم من جهتنا ما يَصْحَبُهُمْ من سكينة وروح وترفیق، ونحو ذلک ممّا يصحبه أولیاء ه، وأديم مصحب : أُصْحِبَ الشّعر الذي عليه ولم يُجَزَّ عنه . ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ [ الكهف/ 34] تو اس کادوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا ۔ أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ [ الكهف/ 9] کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ۔ وَأَصْحابِ مَدْيَنَ [ الحج/ 44] اور مدین کے رہنے والے بھی ۔ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] وہ جنت کے مالک ہوں گے ( اور ) ہمیشہ اس میں ( عیش کرتے ) رہیں گے ۔ وَلا تَكُنْ كَصاحِبِ الْحُوتِ [ القلم/ 48] اور مچھلی ) کا لقمہ ہونے والے ( یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ ہونا ۔ اور آیت : ۔ مِنْ أَصْحابِ السَّعِيرِ [ فاطر/ 6]( تاکہ وہ ) دوزخ والوں میں ہوں ۔ اور آیت کریمہ : وَما جَعَلْنا أَصْحابَ النَّارِ إِلَّا مَلائِكَةً [ المدثر/ 31] اور ہم نے دوزخ کے دروغہ فرشتے بنائے ہیں ۔ میں اصحاب النار سے دوزخی مراد نہیں ہیں بلکہ دوزخ کے داردغے مراد ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔ پھر صاحب کا لفظ کبھی ان کی طرف مضاف ہو تو ہے جو کسی کے زیر نگرانی ہوتے ہیں جیسے صاحب الجیش ( فوج کا حاکم اور کبھی حاکم کی طرف جیسے صاحب الاسیر ( بادشاہ کا وزیر ) المصاحبۃ والا صطحاب میں بنسبت لفظ الاجتماع کے مبالغہ پایا جاتا ہے کیونکہ مصاحبۃ کا لفظ عرصہ دراز تک ساتھ رہنے کو مقتضی ہے اور لفظ اجتماع میں یہ شرط نہیں ہے لہذا اصطحاب کے موقعہ پر اجتماع کا لفظ تو بول سکتے ہیں مگر اجتماع کی جگہ پر ہر مقام میں اصطحاب کا لفظ نہین بول سکتے اور آیت کریمہ : ۔ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [ سبأ/ 46] تمہارے رفیق کو سودا نہیں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صاحبکم کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ تم نے ان کے ساتھ زندگی بسر کی ہے ان کا تجربہ کرچکے ہو اور ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہوچکے ہو پھر بتاؤ کہ ان میں کوئی دماغی خلل یا دیوانگی پائی جاتی ہے یہی معنی آیت وما صاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ [ التکوير/ 22] کے ہیں ۔ الا صحاب للشئی کے معنی ہیں وہ فرمانبردار ہوگیا اصل میں اس کے معنی کسی کا مصاحب بن کر اس کے ساتھ رہنے کے ہیں ۔ چناچہ اصحب فلان اس وقت بولتے ہیں جب کسی کا بیٹا بڑا ہو کر اس کے ساتھ رہنے لگے ۔ اور اصحب فلان فلانا کے معنی ہیں وہ اس کا ساتھی بنادیا گیا قرآن میں ہے : ۔ وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ [ الأنبیاء/ 43] اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے ۔ یعنی ہماری طرف سے ان پر سکینت تسلی کشائش وغیرہ کی صورت میں کسی قسم کا ساتھ نہیں دیا جائے گا جیسا کہ اس قسم کی چیزوں سے اولیاء اللہ کی مدد کی جاتی ہے ۔ ادیم مصحب : کچا چمڑہ جس سے بال نہ اتارے گئے ہوں ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام چیزیں اپنی اپنی اصلی حالت پر قائم رہیں گی اور ان میں تغیر پیدا نہیں ہوگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] یہی صاحب جنت میں ہمشہ اسمیں رہیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے : بلی من کسب سیئۃ و احاطت بہ خطیئتہ فاولئک اصحب النار، ھم فیھا خلدون (جو بھی باری کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑا رہے گا وہ دوزخی ہے اور وہ دوزخ ہی میں ہمیشہ رہے گا) اس آیت سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ دوزخ کا استحقاق دو شرطوں کی بنا پر ہوتا ہے۔ اول یہ کہ اس بدی کی بنا پر جو وہ کمات ا ہے اور دوم یہ کہ اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑے رہنے کی بنا پر۔ اگر ان میں سے کسی ایک شرط کا وجود ہو تو وہ دوزخ کا مستحق نہیں ہوگا۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص طلاق یا عتاق یا کسی اور سلسلے میں دو شرطوں پر عقدیمین کرے تو ان میں سے کسی ایک شرط کے وجود کی صورت میں وہ حانث قرار نہیں پائے گا۔ جب تک دوسری شرط بھی نہ پائی جائے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨١) ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا جو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے یا اس کے شرک نے اسے ہلاک کرڈالا ہو اور وہ اسی حالت پر مرا ہے تو ایسے لوگ جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے وہاں ان کو موت بھی نہیں آئے گی اور نہ وہ اس سے کبھی باہر نکالے جائیں گے،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨١ (بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّءَۃً ) ‘ لیکن اس سے مراد کبیرہ گناہ ہے ‘ صغیرہ نہیں۔ سَیِّءَۃً کی تنکیر ” تفخیم “ کا فائدہ بھی دے رہی ہے۔ (وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِٓیْءَتُہٗ ) “ مثلاً ایک شخص سود خوری سے باز نہیں آرہا ‘ باقی وہ نماز کا بھی پابند ہے اورّ تہجد کا بھی التزام کر رہا ہے تو اس ایک گناہ کی برائی اس کے گرد اس طرح چھا جائے گی کہ پھر اس کی یہ ساری نیکیاں ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ ہمارے مفسرین نے لکھا ہے کہ گناہ کے احاطہ کرلینے سے مراد یہ ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کرلیں کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو ‘ حتیٰ کہ دل سے ایمان و تصدیق رخصت ہوجائے۔ علماء کے ہاں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ ” اَلْمَعَاصِیْ بَرِیْدُ الْکُفْرِ “ یعنی گناہ تو کفر کی ڈاک ہوتے ہیں۔ گناہ پر مداومت کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ دل سے ایمان رخصت ہوجاتا ہے۔ ایک شخص اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے ‘ لیکن اندر سے ایمان ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ جس طرح کسی دروازے کی چوکھٹ کو دیمک چاٹ جاتی ہے اور اوپر لکڑی کا ایک باریک پرت (veneer) چھوڑ جاتی ہے۔ (فَاُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ج) ( ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ )

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

57: بدی کے گھیرے میں لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی ایسے گناہ ارتکاب کریں جس کے بعد کوئی نیک عمل آخرت میں کار آمد نہ ہو، اور وہ گناہ کفر اور شرک ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(81 ۔ 82): حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان آیتوں میں گناہ کے معنی شرک کے لئے ہیں ١۔ اور آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ جو شخص یہود کی طرح کے شرک اور کفر اور گناہوں میں ہمیشہ مبتلا رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا۔ تو وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ یہ تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں کے موافق ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ جو مومن گنہگار بغیر توبہ کے مرجائے گا وہ اخیر کو جنت میں جائے گا۔ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(2:81) بلی۔ ہاں حرف ایجاب ہے اور کلام مخاطف کی نفی اور اس کے ابطال کے واسطے استعمال ہوتا ہے (تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو 3:76) من کسب سیئۃ ۔۔ خلدون۔ من موصولہ ہے۔ کسب سیئۃ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف علیہ واحاطت بہ خطیئتہ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف اور معطوف علیہ ومعطوف مل کر صلہ (من موصولہ کا) صلہ اور موصول مل کر مبتدا ۔ متضمن بمعنی شرط۔ فؔ جزائیہ۔ اولئک ، مبتداء اصحب النار مضاف مضاف الیہ مل کر خبر اول۔ ھم فیہا خالدون۔ ہم مبتدا فیہا متعلق خالدون۔ جو خبر ہے مبتداء کی ۔ جملہ اسمیہ خبر یہ ہو کر خبر ثانی ہے مبتداء اولئک کی۔ یہ مبتداء اپنی دونوں خبروں کے ساتھ مل کر جملہ اسمیہ ہوکر خبر ہے مبتداء متذکرہ بالا کی۔ اب مبتداء اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوکر معطوف علیہ ہے اپنے معطوف (آیۃ 82) کا نقشہ یوں ہوگا۔ من موصولہ کسب سیئۃ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف علیہ دونوں مل کر صلہ موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر واحاطت بہ خطیئۃ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف اپنے موصول کا مبتداء (2) ف۔ حرف جزاء اولئک مبتداء اصحب النار خبر اول مبتداء خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوکر معطوف علیہ اپنے معطوف (آیۃ 82) کا ھم مبتداء فیہا متعلق خلدون جملہ اسمیہ ہوکر خبر ثانی مبتداء اپنی دونوں خبروں کے ساتھ مل کر خالدون خبر مبتداء اولئک کی جملہ اسمیہ ہوکر خبر مبتدا ( ) کی کسب کے معنی لغت میں نفع حاصل کرنے کے ہیں۔ سیئۃ (گناہ) کے ساتھ اس کا تعلق بطور استہزاء کے ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد بار ایسا استعمال آیا ہے مثلاً بشر المنافقین بان لہم عذابا الیما۔ (4:138) اے پیغمر ! بشارت سنا دو منافقوں کو کہ ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے۔ واحاطت بہ خطیئتہ۔ اور اس کے گناہ نے اس کا احاطہ کرلیا ہو۔ یعنی وہ اپنے گناہوں میں گھر گیا ہو اور اسے توبہ نصیب نہ ہوئی ہو۔ فاولئک ۔ پس وہی لوگ۔ خلدون۔ اسم فاعل جمع مذکر خلود (باب نصر) مصدر۔ ہمیشہ رہنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اس آیت میں سیئہ اور خطیعتہ سے مراد بعض مفسرین نے شرک، بعض نے گناہ کبیرہ اور بعض نے ایسے صغائر مراد لیے ہیں جو کبا ئر کا موجب بن سکتے ہیں ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تمام اقوال تقریبا ہم معنی ہیں اور حدیث میں ہے : کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچتے رہوں اس لیے کہ یہ جمع ہو کر انسان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں ان آیات میں یہود کے نظریہ کی تردید کی ہے کہ آخرت میں فلاح ونجات اور عذاب تمہاری خواہش کے مطابق نہیں ہوگا بلکہ اعمال سیئہ اور حسنہ کے مطابق فیصلہ ہوگا واحاطت بہ خطیئتہ کے معنی یہ ہیں کہ جس کے پاس قیامت کے دن کوئی نیکی بھی نہ ہوگی لہذا اس سے مراد کافر یا مشرک ہیں ورنہ گنہگار مومن جنہوں نے شرک نہ کیا ہوگا آخر سزا پاچکنے کے بعد شفاعت کی بنا پر عذاب سے نکال لیے جائیں گی جیسا کہ متعدد احادیث سے ثابت ہے اکثر صحابہ وتابعین اور اہلسنت والجماعہ کا یہی مسلک ہے۔ (قرطبی۔ رازی) عمل صالح کے لیے دیکھئے آیت 25 ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : من گھڑت تصورات اور بد اعمالیاں آدمی کو جہنم میں لے جائیں گی جبکہ جنت کے وارث تو صاحب ایمان اور صالح اعمال کرنے والے لوگ ہی ہوں گے۔ اہل کتاب اور ہر فرد کو یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ بلند بانگ دعوے، دل کش نعرے، حسب ونسب کے امتیازات اور بزرگوں کے ساتھ نسبت اس شخص کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتے جو ایمان سے عاری اور تادم مرگ شرک و بدعت میں ملوث رہا ہو اسے ہر حال میں جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جانا ہے اور ان میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اس کے برعکس کوئی شخص اعلیٰ حسب و نسب اور بڑے بڑے امتیازات و القابات سے محروم ‘ مگر صاحب ایمان و کردار ہو۔ ایسے لوگ جہاں کہیں کے رہنے والے اور جو بھی ہوں اگر ان کا دامن ایمان کی نعمت اور کردار کی دولت سے مالا مال ہے تو وہ جنت میں ضرور جائیں گے اور وہاں انہیں حیات جاوِداں حاصل ہوگی۔ یاد رہے کہ یہاں زندگی بھر گناہوں میں گھرے ہوئے سے مراد کفر و شرک اور بدعات میں ملوّث ہونے والا شخص ہے۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِّنْ کِبْرٍ وَّلَا یَدْخُلُ النَّارََ مَنْ کَانَ فِيْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ إِیْمَانٍ ) (رواہ الترمذی : کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الکبر) ” حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ “ مسائل ١۔ کفرو شرک اور کبیرہ گناہ کا مرتکب اگر توبہ کے بغیر مرجائے تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ ٢۔ ایمان خالص اور عمل صالح اپنانے والے لوگ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ اس مخصوص اصول جزاء وسزا اور اس ذہنی مفہوم کو قرآن نے جس معجزانہ اور فنکارانہ انداز میں بیان کیا ہے اور جس طرح اس کی تصویر کھینچ کر رکھ دی ہے ، ہم قدرے توقف کرکے اس پر غور کریں اور اللہ کے اٹل حکم اور ابدی اصول کے اسباب و اسرار معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ ” ہاں جو بھی بدی کمائے اور خطاکاری کے چکر میں پڑا رہے گا گویا بدی ایک قسم کی کمائی ہے ۔ یہاں معنی مطلوب صرف غلطی کا ارتکاب ہے لیکن جن الفاظ سے اس کی تعبیر کی گئی ہے وہ معروف نفسیاتی حالت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ جو لوگ مصیبت میں مبتلاہوتے ہیں ، وہ اس کے عادی ہوجاتے ہیں اور اس کے ارتکاب میں انہیں مزا آتا ہے ۔ اور وہ اس سے لذات اندوز ہوتے ہیں ۔ اور اسے اپنی کمائی سمجھنے لگتے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ اسے مکروہ اور ناپسندیدہ سمجھتے تو اس کا ارتکاب نہ کرتے ۔ نیز اگر وہ سمجھتے کہ یہ ایک قسم کا خسارہ ہے تو وہ اس جوش و خروش سے اس کا ارتکاب نہ کرتے نیز وہ اس برائی کو اپنے اوپر اس طرح غالب نہ کرتے کہ ان کی پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے اور وہ پوری طرح اس کے چکر میں پھنس جائیں کیونکہ یہ لوگ اگر اسے ناپسند کرتے اور اس کے اندر جو خسارہ تھا ، اسے محسوس کرتے تو اس کے سائے سے بھی دور بھاگتے۔ اگرچہ طبعًا وہ اس کے ارتکاب کی طرف مائل ہوتے ۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور اس گناہ کے دائرہ اثر سے نکل کر کسی اور کے دامن میں پناہ لیتے ، اس صورت میں یہ برائی انہیں گھیر نہ سکتی اور نہ ہی ان پر چھاسکتی تھی اور ان کے لئے توبہ اور تلافی مافات کے دروازے بند نہ ہوجاتے وَاَحَاطَت بِہٖ خَطِئَتُہُ اور اس کی خطاکاری نے اسے گھیر لیا۔ “ یہ ایک ایسی تعبیر ہے جو اس کیفیت اور معنی کو مجسم شکل میں پیش کرتی ہے ۔ قرآن کریم کی فنی خوبیوں اور خصوصیات میں سے یہ ایک اہم خصوصیت ہے نیز قرآن کریم کی مخصوص طرز تعبیر کی اہم نشانی ہے ۔ اس طرز تعبیر کا انسان کے ذہن پر ایک خاص اثر پڑتا ہے ، جو خالص مفہومات ومعانی کا نہیں پڑتا۔ وہ معنوی تعبیریں جو متحرک شکل میں نہ ہوں ایسا اثر پیدا نہیں کرسکتیں ۔ معصیت پر اصرار کی معنوی کیفیت کی اس سے اور مستحسن تعبیر کیا ممکن ہے کہ معصیت کا مرتکب خود معصیت کے دائرے میں قید ہو ، اس کے حدود کے اندر ہی زندگی بسر کررہا ہو ، وہ اس مصیبت ہی کا ہوکررہ گیا ہو ، اس کے بغیر اس کے لئے زندگی کا ایک سانس لینا بھی ممکن نہ رہا ہو۔ اور جب انسان کسی معصیت کے چکر میں اس طرح پڑجاتا ہے وہ ہر طرف سے محصور ہوجاتا ہے اور اس کے لئے توبہ کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ کا یہ عادلانہ اور اٹل فیصلہ صادر ہوتا ہے فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” ایسے لوگ دوزخی ہیں اور وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے ۔ “

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اصحاب الجنتہ کون ہیں اور اصحاب النار کون ہیں ؟ ان دو آیتوں میں جنتی اور دوزخی ہونے کا ضابطہ بتایا ہے اور ساتھ ہی ایک دوسرے طریقہ سے یہودیوں کے اس دعوے کی تردید بھی ہے جو اوپر کی آیت میں مذکور تھا۔ پہلی آیت میں یوں فرمایا کہ تمہارے پاس اپنے دعوے کی کوئی دلیل نہیں اور اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کوئی سند نہیں ہے، اور ان دو آیتوں میں جو ضابطہ جنت اور دوزخ کے داخلے کا ذکر فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ تم لوگ ضابطہ کے مطابق ان لوگوں کے زمرہ میں آتے ہو جن کو ہمیشہ دائمی عذاب ہوگا۔ ارشاد فرمایا کہ تم یہ جو کہتے ہو کہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہیں گے صرف چند دن عذاب ہوگا تمہاری بات غلط ہے۔ تم ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے ہو۔ ضابطہ یہ ہے کہ جو شخص برائی کرے اور اس کی برائی ہر طرف سے اس کو گھیر لے کہ وہ کفر اختیار کرے جو سب سے بڑی برائی ہے تو وہ دوزخ والا ہے اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ تم لوگ خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہو لہٰذا ضابطہ کے مطابق ہمیشہ دوزخ میں رہو گے اور اہل جنت وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے جنہوں نے اللہ کے سب نبیوں کو مانا خاتم النبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم کو مانا اور اعمال صالحہ انجام دئیے۔ یہ حضرات ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

156 بلیٰ حرف استدراک ہے ماقبل کی نفی اور مابعد کا اثبات کرتا ہے۔ وبلی وبل حرفا استدراک ومعناہھی نفی الخبر الماضی و اثبات الخبر المستقبل (معالم ص 66 ج 1) یہ بھی یہودیوں کے غلط دعو وں اور ان کی جھوٹی آرزوؤں کی تردید ہے۔ یعنی جیسا تم نے سمجھ رکھا ہے اور دل میں کئی امیدیں اور آرزوئیں پال رکھی ہیں ایسا نہیں بلکہ ہر بد کردار کو خواہ وہ کوئی ہو اس کے بد اعمال کی ضرور سزا ملے گی۔ یقول اللہ تعالیٰ لیس الامر کما تمنیتم ولا کما تشتھون بل الامر من عمل سیئۃ واحاطت بہ خطیئتہ۔۔۔ فہذا من اھل النار (ابن کثیر ص 119 ج 1) اور سیئہ سے یہاں کفر وشرک مراد ہے۔ وذھب کثیر من السلف الی انھا ھھنا الکفر (روح ص 306 ج 1) سیئۃ شرکا عن ابن عباس و مجاھد وغیرھما (رض) (مدارک ص 46 ج 1) اور ممکن ہے کہ سیئہ سے مراد مطلق معصیت ہو جو سب کو شامل ہو۔ واحاطت بہ خطیئتہ اور گناہوں نے اسے گھیر لیا ہو یہانتک کہ اس پر نیکی کی تمام راہیں بند کردی ہوں اور اس پر گناہوں کا اس قدر غلبہ ہو کہ اس کے پلے کوئی نیکی نہ ہو یہ ان تک کہ ایمان بھی مفقود ہو۔ لہذا اس صورت میں یہ آیت مومنین کو شامل نہ ہوگی۔ بلکہ صرف مشرکین اور کفار ہی سے متعلق ہوگی لہذا معتزلہ اور خوارج کا اس آیت سے استدلال کہ مومن عاصی مخلد فی النار ہوگا باطل ہوگیا۔ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ اور خلود سے یہاں دوام مراد ہے۔157 کفار ومشرکین کی وعید کے بعد یہاں مومنین صالحین کے لیے خلود فی الجنۃ کی خوشخبری بیان کی ہے اور یہاں بھی خلود سے مراد دوام ہے۔ امام سید محمود آلوسی (رح) تعالیٰ نے یہاں دو لطیف نکتے بیان فرمائے ہیں۔ اول یہ کہ عمل کا عطف ایمان پر اس بات کی دلیل ہے کہ عمل ایمان کی حقیقت سے خارج ہے اور اس کا جزو نہیں کیونکہ جزو کا عطف کل پر نہیں ہوسکتا۔ دوم یہ کہ اصحاب نار کی وعید بیان کرتے وقت حرف فا استعمال کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا مابعد ما قبل پر مرتب اور اس کا نتیجہ ہے لیکن اصحب جنت کو خلود فی الجنۃ کی خوشخبری سناتے ہوئے صرف فا استعمال نہیں فرمایا تو اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل نار کا خلود فی النار ان کے اعمال سیئہ کا نتیجہ ہے اور اہل جنت کا خلود فی الجنہ محض اللہ کی مہربانی اور اس کے لطف وکرم سے ہے (روح ص 307 ج 1) یہاں تک نوع ثانی ختم ہوئی۔ نوع ثالث اس میں نزول قرآن کے وقت موجود بنی اسرائیل کی خباثتیں اور شرارتیں بیان کی گئی ہیں یعنی ضد وعناد اور عدوان وعصیان کوئی تمہارے اسلاف ہی میں منحصر تھا تم بھی انہیں کے نقش قدم پر چل رہے ہو۔ یعنی جو احکام تورات میں تم تمام بنی اسرائیل کو دئیے گئے تھے اور جو عہود تم سے لیے گئے تھے تمہارے اسلاف نے ان احکام کو ٹھکرایا اور ان عہود کو توڑا اب تم بھی اللہ تعالیٰ کے ان احکام سے سرتابی کر رہے ہو اور اس کے عہود مواثیق کو پاش پاش کر رہے ہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi