Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 7

سورة الأنبياء

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا قَبۡلَکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ فَسۡئَلُوۡۤا اَہۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۷﴾

And We sent not before you, [O Muhammad], except men to whom We revealed [the message], so ask the people of the message if you do not know.

تجھ سے پہلے بھی جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے پس تم اہل کتاب سے پوچھ لو اگر خود تمہیں علم نہ ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Messengers are no more than Human Beings Here Allah refutes those who denied that human Messengers could be sent: وَمَا أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِي إِلَيْهِمْ ... And We sent not before you but men to whom We revealed. meaning, all the Messengers who came before you were men, human beings. There were no angels among them. This is like the Ayat: وَمَأ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلاَّ رِجَالاً نُّوحِى إِلَيْهِمْ مِّنْ أَهْلِ الْقُرَى And We sent not before you any but men unto whom We revealed, from among the people of townships. (12:109) قُلْ مَا كُنتُ بِدْعاً مِّنَ الرُّسُلِ Say: "I am not a new thing among the Messengers... (46:9) Allah tells us that the previous nations denied that and said: أَبَشَرٌ يَهْدُونَنَا "Shall mere men guide us!" (64:6) So Allah says here: ... فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ So ask the people of the Reminder if you do not know. meaning, ask the people of knowledge among the nations such as the Jews and Christians and other groups: `were the Messengers who came to you human beings or angels!' Indeed they were human beings. This is a part of the perfect blessing of Allah towards His creation: He sent to them Messengers from among themselves so that they could receive the Message from them and learn from them.

مشرکین مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کے منکر تھے چونکہ مشرکین اس کے منکر تھے کہ انسانوں میں سے کوئی انسان اللہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہو ، اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے اس عقیدے کی تردید کرتا ہے فرماتا ہے تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب انسان ہی تھے ایک بھی فرشتہ نہ تھا جیسے دوسری آیت میں ہے ( وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Ċ۝ ) 21- الأنبياء:7 ) یعنی تجھ سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے اور ان کی طرف وحی نازل فرمائی سب شہروں کے رہنے والے انسان ہی تھے ۔ اور آیت میں ہے ( قُلْ مَا كُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَآ اَدْرِيْ مَا يُفْعَلُ بِيْ وَلَا بِكُمْ Ḍ۝ ) 46- الأحقاف:9 ) یعنی کہہ دے کہ میں کوئی نیا اور انوکھا اور سب سے پہلا رسول تو ہوں ہی نہیں ۔ ان کافروں سے پہلے کے کفار نے بھی نبیوں کے نہ ماننے کا یہی حیلہ اٹھایا تھا جسے قرآن نے بیان فرمایا کہ انہوں نے کہا تھا آیت ( البشریہدوننا ) کیا ایک انسان ہمارا رہبر ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ اچھا تم اہل علم سے یعنی یہودیوں اور نصرانیوں سے اور دوسرے گروہ سے پوچھ لو کہ ان کے پاس انسان ہی رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یا فرشتے ؟ یہ بھی اللہ کا احسان ہے کہ انسانوں کے پاس انہی جیسے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے تاکہ لوگ ان کے پاس بیٹھ اٹھ سکیں ، ان کی تعلیم حاصل کر سکیں اور ان کی باتیں سن سمجھ سکیں ۔ کیا وہ اگلے پیغمبر سب کے سب ایسے جسم کے نہ تھے جو کھانے پینے کی حاجت نہ رکھتے ہوں ۔ بلکہ وہ کھانے پینے کے محتاج تھے جیسے فرمان ہے آیت ( وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّآ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۭ اَتَصْبِرُوْنَ ۚ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا 20؀ۧ ) 25- الفرقان:20 ) یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے وہ سب کھانا کھایاکرتے تھے اور بازاروں میں آمد ورفت بھی کرتے تھے یعنی وہ سب انسان تھے انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے اور کام کاج بیوپار تجارت کے لئے بازاروں میں بھی آنا جانا رکھتے تھے ۔ پس یہ بات ان کی پیغمبری کے منافی نہیں ۔ جیسے مشرکین کا قول تھا آیت ( وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ ۭ لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا Ċ۝ ) 25- الفرقان:7 ) ، یعنی یہ رسول کیسا ہے ؟ جو کھاتا پیتا ہے اور بازاروں میں آتا جاتا ہے اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا کہ وہ بھی اس کے ساتھ اس کے دین کی تبلیغ کرتا اچھا یہ نہیں تو اسے کسی خزانے کا مالک کیوں نہیں کردیا جاتا یا اسے کوئی باغ ہی دے دیا جاتا جس سے یہ با فراغت کھاپی لیتا ۔ الخ ۔ اسی طرح اگلے پیغمبر بھی دنیا میں نہ رہے آئے اور گئے جیسے فرمان ہے آیت ( وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ 34؀ ) 21- الأنبياء:34 ) یعنی تجھ سے پہلے بھی ہم نے کسی انسان کو دوام نہیں بخشا ۔ ان کے پاس البتہ وحی الٰہی آتی رہی فرشتہ اللہ کے حکم احکام پہنچا دیا کرتے تھا ۔ پھر رب کا جو وعدہ ان سے تھا وہ سچا ہو کر رہا یعنی ان کے مخالفین بوجہ اپنے ظلم کے تباہ ہوگئے اور وہ نجات پاگئے ۔ ان کے تابعدار بھی کامیاب ہوئے اور حد سے گزر جانے والوں کو یعنی نبیوں کے جھٹلانے والوں کو اللہ نے ہلاک کردیا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 یعنی تمام نبی مرد انسان تھے، نہ کوئی غیر انسان کبھی نبی آیا اور نہ غیر مرد، گویا نبوت انسانوں کے ساتھ اور انسانوں میں بھی مردوں کے ساتھ ہی خاص رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی عورت نبی نہیں بنی۔ اس لئے نبوت بھی ان کے فرائض میں سے ہے جو عورت کو طبعی اور فطری دائرہ عمل سے خارج ہے۔ 7۔ 2 اَ ھْلَ الذِّکْرِ (اہل علم) سے مراد اہل کتاب ہیں، جو سابقہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے تھے، ان سے پوچھ لو کہ پچھلے انبیاء جو ہو گزرے ہیں، وہ انسان تھے یا غیر انسان ؟ وہ تمہیں بتلائیں گے کہ تمام انبیاء انسان ہی تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا ۔۔ : یہ ” هَلْ ھٰذَآ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ “ (یہ تم جیسے ایک بشر کے سوا ہے کیا) کا جواب ہے، یعنی وہ تمام رسول جو آپ سے پہلے آئے، جن کے رسول ہونے کو یہ بھی مانتے ہیں، مثلاً ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق (علیہ السلام) وغیرہم، وہ سب بشر تھے، جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ تو یہ لوگ آپ کو بشر ہونے کی وجہ سے رسول کیوں نہیں مانتے ؟ دیکھیے سورة انعام (٩١) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ( کَانَ بَشَرًا مِّنَ الْبَشَرِ یَفْلِيْ ثَوْبَہُ وَ یَحْلِبُ شَاتَہُ وَیَخْدِمُ نَفْسَہُ ) [ مسند أحمد : ٦؍٢٥٦، ح : ٢٦٢٤٨۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ : ٦٧١ ] ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسانوں میں سے ایک انسان تھے، اپنا کپڑا خود ٹٹول لیا کرتے تھے اور اپنی بکری کا دودھ خود دوہ لیتے تھے اور اپنا کام خود کرلیتے تھے۔ “ زمین میں اگر فرشتے رہا کرتے تو رسول بھی فرشتہ آتا، اب انسان بستے ہیں تو ان کے لیے نمونہ اور ان کی رہنمائی کرنے والا انسان ہی ہوسکتا ہے۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٩٤، ٩٥) ۔ فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ ۔۔ : اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نحل (٤٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ‌ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (So, ask the people (having the knowledge) of the message, if you do not know. - 21:7) In this verse, scholars of Injil Evangele) and Torah are referred to as أَهْلَ الذِّكْرِ‌ (people of the message), who had accepted the Holy Prophet&s prophethood. Therefore, what it actually means is that if you are not aware whether the prophets of the past were angels or ordinary men then you should find out from the scholars of Injil and Torah as they know perfectly well that all prophets were human beings. It is, therefore, quite possible that here the term اَھلَ :(people of the message) refers to all Jews and Christians (even though they have not believed in the Holy prophethood of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)). Ruling: Qurtubi has said in his exegesis that this verse has made it clear that ignorant persons who are not acquainted with the rules of Shari&ah must seek knowledge from scholars and then follow them accordingly.

فَسْــَٔـلُوْٓا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ، اہل الذکر سے مراد اس جگہ علماء تورات و انجیل ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں پچھلے انبیاء کا حال معلوم نہیں کہ وہ انسان تھے یا فرشتے تو علماء تورات و انجیل سے معلوم کرلو کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ سب انبیاء سابقین انسان ہی کی نوع سے تھے اس لئے اگر یہاں اہل الذکر سے مطلق اہل کتاب یہود و نصاری ہی مراد ہوں تو بعید نہیں کیونکہ اس معاملے کے سبھی شاہد ہیں۔ خلاصہ تفسیر میں اسی احتمال کو اختیار کر کے تشریح کی گئی ہے۔ مسئلہ : تفسیر قرطبی میں ہے کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جاہل آدمی جس کو احکام شریعت معلوم نہ ہوں اس پر عالم کی تقلید واجب ہے کہ عالم سے دریافت کر کے اس کے مطابق عمل کرے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْہِمْ فَسْــَٔـلُوْٓا اَہْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝ ٧ رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله : فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] ، أي : الکتب المتقدّمة . ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧) اور ہم نے آپ سے قبل صرف آدمیوں ہی کو پیغمبر بنایا ہے جیسا کہ آپ کو بنایا ہے جن کے پاس ہم فرشتوں کو بھیجا کرتے تھے جیسا کہ آپ کے پاس بھیجتے ہیں اگر تمہیں یہ معلوم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے صرف آدمیوں ہی کو پیغمبر بنایا ہے تو توریت وانجیل کے ماننے والوں سے پوچھ لو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧ (وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ الاَّ رِجَالاً نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ فَسْءَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ) ” آیت کے پہلے حصے میں خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے ‘ مگر بعد میں خطاب کا رخ ان لوگوں کی طرف ہوگیا ہے جو کہتے تھے کہ یہ تو ہماری طرح کے انسان ہیں ‘ ہم ان کی بات کیسے مان لیں ؟ ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ یہ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بھی بہت سے رسول آئے ‘ وہ سب بھی انسان ہی تھے۔ وہ انسانوں ہی کی طرح پیدا ہوئے (سوائے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے) ۔ وہ انسانوں ہی کی طرح کھاتے پیتے اور دوسری ضروریات زندگی پوری کرتے تھے۔ یہ بات اگر تمہاری سمجھ سے بالا تر ہے تو تمہارے ارد گرد اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ موجود ہیں۔ تم لوگ ان سے پوچھ لو کہ پہلے رسول انسان تھے یا وہ کسی مافوق الفطرت مخلوق سے تعلق رکھتے تھے ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9. This is the answer to their objection: This man is no more than a human being like yourselves, and therefore, cannot be a Messenger of God. They have been told that the former Prophets, too, whom you also recognize as Prophets, were human beings and were blessed with revelations from Allah. 10. That is, you may have it testified by the Jews, who are the enemies of Islam like you, and are teaching you the ways to oppose it, that all the Messengers including Prophet Moses (peace be upon him) were human beings.

سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :9 یہ جواب ہے ان کے اس قول کا کہ یہ شخص تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کو اس بات کی دلیل قرار دیتے تھے کہ آپ نبی نہیں ہو سکتے ۔ جواب دیا گیا کہ پہلے زمانے کے جن لوگوں کو تم خود مانتے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے تھے ، وہ سب بھی بشر ہی تھے اور بشر ہوتے ہوئے ہی خدا کی وحی سے سرفراز ہوئے تھے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم ، یٰسین ، حاشیہ 11 ) ۔ سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :10 یعنی یہ یہودی ، جو آج اسلام کی دشمنی میں تمہارے ہم نوا ہیں اور تم کو مخالفت کے داؤ پیچ سکھایا کرتے ہیں ، ان ہی سے پوچھ لو کہ موسیٰ اور دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کون تھے ۔ انسان ہی تھے یا کوئی اور مخلوق ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: نصیحت کا علم رکھنے والوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ یعنی اگر تمہیں خعد پچھلے پیغمبروں کا علم نہیں ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو، وہ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ تمام انبیائے کرام انسانوں ہی میں سے آئے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:7) رجالا۔ رجل کی جمع ہے۔ مرد ۔ انسان۔ اھل الذکر۔ اہل علم۔ اس سے مراد یا تو اہل کتاب ہیں یعنی علماء یہود و نصاری کہ تورات اور انجیل کی تعلیمات کی روشنی میں وہ انبیاء کی بشریت سے منکر نہ تھے۔ یا یہاں ذکر سے مراد القرآن ہے اور اہل الذکر سے مراد قرآن کو ماننے والے مومن علمائ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یعنی تمام پیغمبر طبعی تقاضوں میں دوسرے انسانوں ک طرح ہی تھے ان کے جسم ایسے نہیں تھے کہ ان کو کھانے پینے کی ضرورت نہ ہو اور پھر وہ عام آدمیوں کی طرح ایک عمر پا کر گزر گئے۔ اس میں ان لوگوں کی صاف تردید ہے جو انبیا کی موت کی نفی کرتے ہیں۔ (شوکانی)12 یعنی تائید و نصرت کا وعدہ

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بشر ہونے کا ایک اور جواب۔ قرآن مجید نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور انبیاء (علیہ السلام) کے حوالے سے کئی مقامات پر اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ آپ اور پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے۔ اور سب کے سب کھانے، پینے والے انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم ایسے نہیں بنائے تھے جو کھانے پینے کی حاجت سے بےنیاز ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ رہنے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس دنیا سے انتقال کر گئے۔ کہ اگر ان لوگوں کو اس بات پر پھر بھی یقین نہیں آتا تو انھیں چاہیے کہ اہل ذکر سے پوچھ لیں کہ جتنے پیغمبر بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے مبعوث کیے گئے ہیں وہ سب کے سب انسان تھے۔ اہل ذکر سے مراد اہل علم ہیں جو شریعت کا علم رکھنے والے ہیں اور بخل و خیانت سے کام نہیں لیتے۔ اہل الذّکر کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسے علماء سے مسئلہ دریافت کیا جائے۔ جن کی دین کے بارے میں یادداشت اچھی ہو اور ” اللہ “ کے خوف سے سچی بات بتلانے والے ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان کہ میں ایک بشر ہوں : (عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ صَلَّی النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِبْرَاہِیمُ لاَ أَدْرِی زَادَ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قیلَ لَہُ یَا رَسُول اللَّہِ ، أَحَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْءٌ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوا صَلَّیْتَ کَذَا وَکَذَا فَثَنَی رِجْلَیْہِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ، وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ قَالَ إِنَّہُ لَوْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃِ شَیْءٌ لَنَبَّأْتُکُمْ بِہِ ، وَلَکِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ ، أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِیتُ فَذَکِّرُونِی، وَإِذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلْیَتَحَرَّی الصَّوَابَ ، فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ ثُمَّ یُسَلِّمْ ، ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ) [ بخاری : باب التوجہ نحوالقبلۃ ] ” حضرت علقمہ سیدنا عبداللہ (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی تو نماز میں کچھ کمی بیشی ہوگئی جب سلام پھیرا تو لوگوں نے عرض کیا ” یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے متعلق کوئی نیا حکم آیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں ؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی رکعت پڑھی ہیں یہ سن کر آپ واپس ہوئے پھرے قبلہ کی طرف چہرہ کیا۔ سہو کے دوسجدے کیے پھر سلام پھیرا پھر ہماری طرف چہرہ کر کے فرمایا : اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم آتا تو میں ضرور تمہیں بتادیتا۔ لیکن بات یہ ہے کہ میں بھی تمہاری طرح آدمی ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک پڑجائے تو یقین کے مطابق اپنی نماز پوری کرے پھر سلام پھیرے اور بھول کے دو سجدے کرلے۔ “ ” سیدنا رافع بن خدیج (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو اس وقت لوگ کھجور کی پیوندکاری کرتے تھے آپ نے فرمایا : یہ کیا کرتے ہو ؟ صحابہ کرام (رض) نے جواب دیا ہمارا یہی طریقہ ہے آپ نے فرمایا : اگر تم یہ کام نہ کرو تو شاید بہتر ہو۔ لوگوں نے پیوند کرنا چھوڑ دیا تو کھجوریں پھل کم لائیں۔ صحابہ (رض) نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی تو آپ نے فرمایا : میں بھی ایک بشر ہی ہوں جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کسی بات کا حکم دوں تو اس پر عمل کرو۔ جب میں کوئی بات اپنی رائے سے کہوں تو میں بھی آخر آدمی ہوں۔[ مسلم، کتاب الفضائل، باب وجوب امتثال ] مسائل ١۔ تمام کے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) انسان تھے۔ ٢۔ آدمی کو معلوم نہ ہو تو اسے اہل علم سے پوچھ لینا چاہیے۔ ٣۔ تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) کھانے پینے والے انسان تھے۔ ٤۔ کسی نبی کو بھی ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ تھی۔ تفسیر بالقرآن تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) بشر تھے : ١۔ تمام رسولوں کو ان کی قوم کے پاس انہی کی زبان میں بھیجا گیا۔ (ابراہیم : ٤) ٢۔ انبیاء اقرار کرتے تھے کہ ہم بشر ہیں۔ (ابراہیم : ١١) ٣۔ اللہ نے جتنے بھی رسول بھیجے وہ آدمی تھے۔ (یوسف : ١٠٩) ٤۔ اللہ نے آپ سے پہلے جتنے بھی نبی بھیجے وہ بشرہی تھے۔ (النحل : ٤٣) ٥۔ رسول اللہ کا اعتراف کہ میں تمہاری طرح بشرہوں۔ (الکہف : ١١٠) ٦۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے کہا نہیں ہے یہ مگر تمہارے جیسا بشر اور یہ تم پر فضیلت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ (المومنون : ٢٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما کانوا خلدین (١٢ : ٨) (١٢ : ٧ : ٨) ” اور اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ سداجینے والے تھے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضایہی تھا کہ رسول انسان ہوں ‘ وہ اللہ سے وحی اخذ کریں اور لوگوں تک اسے پہنچائیں۔ اس سے قبل جس قدر رسول گزرے وہ جسم و جان رکھتے تھے اور جسم و جان رکھنے کے بعد وہ کھانا بھی کھاتے تھے ‘ کیونکہ کھانا جسم کا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ کھانا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ اہل کتاب عربوں کے مقابلے میں علوم انبیاء سے زیادہ علم رکھتے تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام رسول بشر تھے۔ انسانوں کی طرح زندہ رہتے تھے۔ تاکہ ان کی عملی زندگی شریعت کی صورت اختیار کرلے۔ ان کا عملی مڈل لوگوں کے لیے اعلیٰ زندگی کا ماڈل ہو ‘ کیونکہ جو دعوت زندہ ہو اور زندگی کی عملی شکل میں ماڈل اور نمونہ ہو وہی موثر بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ دعوت عملاً مجسم شکل میں قائم ہے اور اس کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔ اگر رسول غیر بشر ہوتے نہ کھاتے پیتے ‘ نہ بازاروں میں پھرتے ‘ عورتوں کے ساتھ ان کی معاشرت نہ ہوتی ‘ ان کے دلوں میں انسانی جذبات و میلانات نہ ہوتے تو ان کے اور لوگوں کے درمیان گہرا تعلق قائم نہ ہو سکتا۔ نہ وہ ان میلانات کو سمجھ سکتے جو انسان رکھتے ہیں اور نہ انسان ان کو اچھی طرح سمجھ سکتے اور نہ ان کی پیروی کرتے کیونکہ ان کی زندگی میں انسانوں کی پیروی کے لیے کوئی ماڈل ہی نہ ہوتا۔ اگر داعی جن لوگوں کو دعوت دیتا ہے ان کے رحجانات کو نہیں سمجھتا ‘ ان کے شعور ‘ جذبات اور خواہشات کو نہیں سمجھتا ‘ اور لوگوں کے اندر نہیں جاتا ان سے دور دور رہتا ہے ‘ وہ لوگوں کے ساتھ نہیں چلتا اور لوگ اس کے ساتھ نہیں چلتے وہ لوگوں کے سامنے جس قدر چلا چلا کر تقریریں کے تو لوگ اس کی تقریروں سے ہر گز متاثر نہ ہوں گے کیونکہ ان کے درمیان احساس و شعور کے فاصلے ہیں۔ ہر وہ داعی جس کا عمل اس کی بات کی تصدیق نہ کرے ‘ اس کے الفاظ لوگوں کے کانوں سے ٹکراکر واپس ہوں گے۔ دلوں کے اندر نہ اتر سکیں گے اگر چہ اس کے الفاظ زور دار ہوں اور اس کا کلام بلیغ ہو ‘ وہ سادہ بات جس کی پشت پر عمل ہوتا ہے جس سے کہنے والا خود متاثر ہوتا ہے ‘ وہی مفید ہو سکتی ہے اور لوگوں کے اندر حرکت پیدا کرسکتی ہے۔ جو لوگ یہ تجویز کرتے تھے کہ رسول کو ایک فرشتہ ہونا چاہیے ‘ جس طرح آج کل کے بعض لوگ رسول کو انسانی خواص سے عاری قرار دیتے ہیں ‘ یہ لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں کہ فرشتے اپنی تخلیقی ساخت اور اپنی فطرت کے اعتبار سے انسانوں جیسی زندگی گزارہی نہیں سکتے کیونکہ وہ جسم اور اس کے تقاضوں کے مطابق انسان کے احساس و شعور کو سمجھنے کے اہل نہیں ہیں۔ لہٰذا اس اعتبار سے ان کے لیے انسانوں جیسی زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ہے۔ رسول کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان انسانی احساسات اور تقاضوں کو سمجھتا ہو اور اپنی عملی زندگی میں ان احساسات اور ان تقاضوں پر عمل بھی کرتا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لیے عملی دستور حیات بن سکے۔ یہ باتیں تو اپنی جگہ پر ہیں لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر رسول فرشتہ ہو تو اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے جنس بشری کو جو عظیم اعزاز دیا ‘ بشریت اس سے محروم ہوجاتی۔ یہ نہ ہوتا کہ انسانوں میں سے ایک انسان عالم بالا سے رابطہ قائم کرے یا اللہ سے ہمکلام ہو۔ بہرحال رسولوں کے انتخاب میں یہ اللہ کی سنت ہے کہ رسول بشر ہو اور یہ بھی سنت ہے کہ اللہ ان کو نجات دے اور مسرفین اور مکذبین کو ہلاک کردے۔ ثم صدقنھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المسرفین (١٢ : ٩) ” پھر دیکھ لو کہ آخر کار ان کے ساتھ ہم نے اپنے وعدے پورے کیے اور انہیں جس کسی کو ہم نے چاہا ‘ بچا لیا اور مسرفین کو ہلاک کردیا “۔ تو رسولوں کے انتخاب کے لیے جو سنت ہے ‘ اسی طرح مکذبین کے لیے بھی یہ سنت ہے اور اللہ نے ان کو اور ان کے ساتھ فی الحقیقت ایمان لانے والوں کو بھی ہلاک کردیا۔ ایسے ایمان لانے والے جن کا عمل ان کے ایمان کی تصدیق نہ کرتا ہو۔ اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرتا ہے جو حد سے گزرتے ہیں۔ مشرکین جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی مسلمانوں کو ایڈادیتے تھے اور ان کی تکذیب کرنے میں حد سے گزر گئے تھے ‘ ان کو اللہ اس سنت سے ڈراتا ہے اور ان کو سمجھا تا ہے کہ یہ ان پر اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ اللہ نے کوئی مادی خارق عادت معجزہ نہیں بھیجا جس کو اگر یہ جھٹلا دیتے جس طرح اقوام سابقہ نے جھٹلایا تھا تو یہ بھی ہلاک کردیئے جاتے۔ اس خارق عادت معجزے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے تمہیں قرآن کا معجزہ دیا ہے اور یہ کتاب تمہارے لیے باعث عزو شرف ہے کہ یہ تمہاری زبان میں ہے ‘ تمہاری زندگی کو استوار کرتی ہے اور یہ تمہاری تعمیر و تربیت اس طرح کرتی ہے کہ تمہیں وہ ایک قابل ذکر امت بنا دے۔ یہ کتاب لوگوں کے سامنے کھلی پڑی ہے ‘ چاہیے کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے ذریعہ انسانیت کے ارتقاء کی سیڑھی پر چڑھتے چلے جائیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ یہ مشرکین کے پہلے سوال کا جواب ہے جو ” ھَلْ ھٰذَا اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ الخ “ میں مذکور ہوچکا ہے۔ فیہ رد علیھم فی قولھم ھل ھذا الا بشر مثلکم (قرطبی ج 11 ص 171) ۔ یعنی ہم نے انسانوں کی طرف جتنے بھی رسول بھیجے ہیں وہ انسان اور بشر ہی تھے۔ ان میں کوئی ایک بھی فرشتہ نہیں تھا اگر تم خود نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے علم وفضل پر تمہیں اعتماد ہے اہل الذکر سے اہل کتاب (یہود و نصاری) کے علماء مراد ہیں مشرکین کو اہل کتاب کی طرف اس لیے مراجعت کا حکم دیا کہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اکثر ان سے مراجعت کیا کرتے تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

7 اور اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے بھی صرف آدمیوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا ہے جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے ۔ مگر تم کو معلوم نہیں ہے تو اہل ذکر یعنی اہل کتاب سے پوچھو لو۔ یہ شاید اس بات کا جواب ہے کہ رسول بشر نہیں ہونا چاہئے بلکہ فرشتہ ہونا چاہئے ارشاد فرمایا کہ آج تک جتنے رسول آئے سب مرد ہی آئے اور مردوں ہی پر ہم وحی نازل کرتے رہے یہ ایک ایسی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ سب جانتے ہیں اگر تم کو اتنی بات بھی نہیں معلوم تو تم اتنا بھی نہیں جانتیت و یہود و نصاریٰ جو تمہارے نزدیک بھی مسلم ہیں ان اہل کتاب سے دریافت کرلو کہ پہلے رسول بھی آدمی ہوا کرتے تھے یا فرشتے ہوتے تھے۔