86. “Cured his wife”: We cured his wife of sterility. As “You are the best of the Inheritors”, I shall have no grief even if You do not give me any child. (For further details, please see (Surah Aal-Imran, Ayats 37-41) and (Surah Maryam, Ayats 2-14) and the E.Ns thereof).
87. It will be worthwhile to reiterate the reasons why the stories of the Prophets have been cited in this Surah.
(1) The story of Prophet Zacharias has been cited to impress on the minds that all the Prophets were human beings and servants of Allah and had no tinge of Godhead in them. They had no power to bestow children upon others because they themselves had to pray to Allah for children for themselves.
(2) The story of Prophet Jonah has been cited to show that even a great Prophet like him did not go unnoticed when he committed an error in regard to Allah’s message. But when he repented, Allah, by His grace, delivered him alive from the belly of the fish.
(3) The mention of Prophet Job has been made to show that even Prophets were put to hard trials and afflictions and even they had to beg Allah to restore them to health, not to speak of curing others of diseases.
Along with these, the other important thing which is meant to be impressed is that all the Prophets believed in the doctrine of Tauhid. That is why they begged and prayed to One Allah alone to fulfill their needs and requirements. Though they met with trials, Allah helped them and granted their prayers in supernatural and miraculous ways.
سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :86
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، آل عمران آیات 37 تا 41 مع حواشی ۔ جلد سوم ، مریم ، آیات 2 تا 15 مع حواشی ۔ بیوی کو درست کر دینے سے مراد ان کا بانجھ پن دور کر دینا اور سن رسیدگی کے باوجود حمل کے قابل بنا دینا ہے ۔ بہترین وارث تو تو ہی ہے ، یعنی تو اولاد نہ بھی دے تو غم نہیں ، تیری ذات پاک وارث ہونے کے لیے کافی ہے ۔
سورة الْاَنْبِیَآء حاشیہ نمبر :87
اس سیاق و سباق میں انبیاء کا ذکر جس مقصد کے لیے کیا گیا ہے اسے پھر ذہن میں تازہ کر لیجیے حضرت زکریا کے واقعے کا ذکر کرنے سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود کہ یہ سارے نبی محض بندے اور انسان تھے ، الوہیت کا ان میں شائبہ تک نہ تھا ۔ دوسروں کو اولاد بخشنے والے نہ تھے بلکہ خود اللہ کے آگے اولاد کے لیے ہاتھ پھیلانے والے تھے ۔ حضرت یونس کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ ایک نبی اولو العزم ہونے کے باوجود جب ان سے قصور سرزد ہوا تو انہیں پکڑ لیا گیا ۔ اور جب وہ اپنے رب کے آگے جھک گئے تو ان پر فضل بھی ایسا کیا گیا کہ مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکال لائے گئے ۔ حضرت ایوب کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ نبی کا مبتلائے مصیبت ہونا کوئی نرالی بات نہیں ہے ، اور نبی بھی جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو خدا ہی کے آگے شفا کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے ۔ وہ دوسروں کو شفا دینے والا نہیں ، خدا سے شفا مانگنے والا ہوتا ہے ۔ پھر ان سب باتوں کے ساتھ ایک طرف یہ حقیقت بھی ذہن نشین کرنی مقصود ہے کہ یہ سارے انبیاء توحید کے قائل تھے ، اور اپنی حاجات ایک خدا کے سوا کسی کے سامنے نہ لے جاتے تھے ، اور دوسری طرف یہ بھی جتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ غیر معمولی طور پر اپنے نبیوں کی مدد کرتا رہا ہے ، آغاز میں خواہ کیسی ہی آزمائشوں سے ان کو سابقہ پیش آیا ہو مگر آخر کار ان کی دعائیں معجزانہ شان کے ساتھ پوری ہوئی ہیں ۔