Surat ul Anbiya

Surah: 21

Verse: 92

سورة الأنبياء

اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ ۖوَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۹۲﴾

Indeed this, your religion, is one religion, and I am your Lord, so worship Me.

یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Mankind is One Ummah Allah says: إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً ... Truly, this, your Ummah is one, Ibn Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said, "Your religion is one religion." Al-Hasan Al-Basri said: "In this Ayah, Allah explains to them what they should avoid and what they should do." Then He said: إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً ... Truly, this, your Ummah is one religion, "Meaning, your path is one path. Certainly this is your Shariah (Divine Law) which I have clearly explained you." So Allah says: ... وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ and I am your Lord, therefore worship Me. This is like the Ayah: يأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ الطَّيِّبَـتِ وَاعْمَلُواْ صَـلِحاً O (you) Messengers! Eat of the Tayyibat (good things) and do righteous deeds.) Until His saying, وَأَنَاْ رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ (And I am your Lord, so have Taqwa of Me). (23:51-52) The Messenger of Allah said: نَحْنُ مَعَاشِرَ الاَْنْبِيَاءِ أَوْلاَدُ عَلَّتٍ دِينُنَا وَاحِد We Prophets are brothers from different mothers and our religion is one. What is meant here is that they all worshipped Allah Alone with no partner or associate, although the Laws of each Messenger may have differed, as Allah says: لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَـجاً To each among you, We have prescribed a Law and a clear way. (5:48)

تمام شریعتوں کی روح توحید فرمان ہے کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے ۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں ۔ ہذہ اسم ہے ان کا اور امتکم خبر ہے اور امتہ واحدۃ حال ہے ۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے ۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت ( يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 51۝ۭ ) 23- المؤمنون:51 ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت اگرچہ احکامات شرع مختلف ہیں جیسے فرمان قرآن ہے آیت ( لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48؀ۙ ) 5- المآئدہ:48 ) ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے ۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے ۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا ۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا 30؀ۚ ) 18- الكهف:30 ) نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضا ئع نہیں کرتے ۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

92۔ 1 امۃ سے مراد یہاں دین یا ملت یعنی تمہارا دین یا ملت ایک ہی ہے اور وہ دین ہے دین توحید، جس کی دعوت تمام انبیاء نے دی اور ملت، ملت اسلام ہے جو تمام انبیاء کی ملت رہی۔ جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' ہم انبیاء کی جماعت اولاد علات ہیں، (جن کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوں) ہمارا دین ایک ہی ہے ' (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٣] اس مقام پر امت کا لفظ دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ نیز اس آیت میں تمام بنی نوع انسان یکساں مخاطب ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء کے دین کے اصول ہمیشہ ایک ہی رہے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ ہر چیز کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہذا وہی عبادت کا مستحق ہے۔ اور اسی کو توحید کہتے ہیں۔ پھر اسی توحید کا لازمی نتیجہ یہ بھی تھا کہ اس توحید کو ماننے والوں اور صرف اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اچھا بدلہ دیا جائے اور اس کے خلاف کرنے والوں یعنی مشرکوں کو سخت سزا دی جائے۔ گویا روز آخرت اور جزا و سزا پر ایمان رکھنا بھی اسی عقیدہ توحید کے تسلیم کرنے کا تقاضا ہے۔ نماز اور زکوٰۃ اور روزہ وغیرہ عبادت ہی کی اہم شکلیں ہیں۔ اور اللہ کی عبادت توقع اور خوف کے ساتھ کرنا چاہئے۔ اولاد اور رزق وغیرہ اللہ ہی سے طلب کرنا چاہئے۔ اور مشکل کے وقت صرف اللہ ہی کو پکارنا چاہئے، اسی سے فریاد کرنا چاہئے۔ انبیاء خود بھی کوئی بااختیار ہستیاں نہیں ہوتیں۔ بلکہ وہ بھی ہر معاملہ میں اللہ ہی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ وغیرہ وغیرہ یہ اصول دین سب انبیاء میں مشترک رہے ہیں۔ وہیں جزئیات تو ان جزئیات میں اس دور کے تقاضا کے مطابق اختلاف بھی واقع ہوتا رہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۔۔ : بہت سے مفسرین نے یہاں امت سے مراد دین لیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کا قول نقل فرمایا : (اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ ) [ الزخرف : ٢٢ ] ” بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک امت (یعنی ایک دین) پر چلتے پایا۔ “ یعنی تمہارا دین اور ملت ایک ہی ہے اور وہ ہے دین توحید، اور ” ہٰذِهٖ “ سے مراد اس سے پہلے مذکور انبیاء، نوح، ابراہیم، اسحاق، یعقوب، لوط، داؤد، سلیمان، ایوب، اسماعیل، ادریس، ذوالکفل، یونس، زکریا، مسیح ابن مریم ہیں کہ سب کا ایک ہی دین تھا اور سب توحید پر قائم تھے۔ کسی اور کو معبود، مشکل کشا، شفا دینے والا، بگڑی بنانے والا یا اولاد عطا کرنے والا نہیں سمجھتے تھے، یہ سب لوگ ایک ہی دین پر تھے کہ میں تمہارا رب ہوں، سو میری ہی عبادت کرو۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلْأَنْبِیَاءُ إِخْوَۃٌ لِعَلاَّتٍ أُمَّھَاتُھُمْ شَتّٰی وَدِیْنُھُمْ وَاحِدٌ ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب ( واذکر في الکتاب مریم۔۔ ) : ٣٤٤٣۔ مسلم : ١٤٥؍٢٣٦٥ ] ” ہم انبیاء کی جماعت علاتی بھائی ہیں، جن کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔ “ امت کا معنی جماعت بھی ہے، مگر ایسی جماعت جس کے لوگوں کے درمیان انھیں اکٹھا رکھنے والی کوئی چیز ہو، جیسا کہ فرمایا : (وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ ) [ آل عمران : ١٠٤ ] ” اور لازم ہے کہ تمہاری صورت میں ایک جماعت ہو جو نیکی کی طرف دعوت دیں۔ “ یعنی یہ تمام انبیاء ایک ہی جماعت تھے جن کا رب ایک اور دین ایک تھا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary So far the Surah deals with the stories of the prophets and several basic as well as minor principles relevant to those stories. The basic beliefs such as Oneness of God, prophethood and the day of Resurrection are common to all prophets and are the foundation of their invitation to the people to follow the True Faith.

خلاصہ تفسیر ربط آیات : یہاں تک انبیاء (علیہم السلام) کے قصص اور واقعات اور ان کے ضمن میں بہت سے اصولی اور فروعی مسائل کا بیان تھا۔ اصول مثلاً توحید و رسالت اور عقیدہ آخرت، سب انبیاء (علیہم السلام) میں اصول مشترک ہیں جو ان کی دعوت کی بنیاد ہے جیسا کہ واقعات مذکورہ میں ان حضرات کی سب کوششوں کا محور توحید حق سبحانہ و تعالیٰ کا مضمون تھا۔ اگلی آیات میں بطور نتیجہ قصص توحید کا اثبات اور شرک کی مذمت کا بیان ہے۔ اے لوگو (اوپر جو انبیاء (علیہم السلام) کا طریقہ و عقیدہ توحید کا معلوم ہوچکا ہے) یہ تمہارا طریقہ ہے (جس پر تم کو رہنا واجب ہے) کہ وہ ایک ہی طریقہ ہے ( جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کو اختلاف نہیں ہوا) اور (حاصل اس طریقہ کا یہ ہے کہ) میں تمہارا رب ہوں تو تم میری عبادت کیا کرو اور (لوگوں کو چاہئے تھا کہ جب یہ ثابت ہوچکا کہ تمام انبیاء اور تمام آسمانی کتابیں اور شریعتیں اسی طریقہ کی داعی ہیں تو وہ بھی اسی طریقہ پر رہتے مگر ایسا نہ کیا بلکہ) ان لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف پیدا کرلیا (مگر اس کی سزا دیکھیں گے کیونکہ) سب ہمارے پاس آنے والے ہیں (اور آنے کے بعد ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا) تو جو شخص نیک کام کرتا ہوگا اور وہ ایمان والا بھی ہوگا تو اس کی محنت اکارت جانے والی نہیں اور ہم اس کو لکھ لیتے ہیں (جس میں بھول اور خطا کا امکان نہیں رہتا اس لکھے ہوئے کے مطابق اس کو ثواب ملے گا) اور (ہم نے جو یہ کہا ہے کہ سب کے سب ہمارے پاس آنے والے ہیں اس میں منکرین یہ شبہ کرتے ہیں کہ دنیا کی اتنی عمر گزر چکی ہے اب تک تو ایسا ہوا نہیں کہ مردے زندہ ہوئے ہوں ان کا حساب ہوا ہو، ان کا یہ شبہ اس لئے غلط ہے کہ اللہ کی طرف لوٹنے کے لئے ایک دن قیامت کا مقرر ہے اس سے پہلے کوئی نہیں لوٹتا۔ یہی وجہ ہے کہ) ہم جن بستیوں کو (عذاب یا موت سے) فنا کرچکے ہیں ان کے لئے یہ بات (بامتناع شرعی) ناممکن ہے کہ وہ (دنیا میں حساب کتاب کے لئے) پھر لوٹ کر آویں (مگر یہ نہ لوٹنا دائمی نہیں بلکہ وقت موعود یعنی قیامت تک ہے) یہاں تک کہ جب (وہ وقت موعود آپہنچے گا جس کا ابتدائی سامان یہ ہوگا کہ) یاجوج ماجوج (جن کا اب سد ذوالقرنین کے ذریعہ راستہ رکا ہوا ہے وہ) کھول دیئے جاویں گے اور وہ (انتہائی کثرت کے سبب) ہر بلندی (ٹیلہ اور پہاڑ) سے نکلتے (معلوم) ہوں گے اور (اللہ کی طرف لوٹنے کا سچا وعدہ) نزدیک آپہنچا ہوگا تو بس پھر یکایک یہ حالت ہوجائے گی کہ منکروں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ جاویں گی (اور وہ یوں کہتے نظر آویں گے) ہائے ہماری کم بختی ہم اس سے غفلت میں تھے (پھر کچھ سوچ کر کہیں گے کہ اس کو غفلت تو جب کہا جاسکتا کہ کسی نے ہمیں آگاہ نہ کیا ہوتا) بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) ہم ہی قصور وار تھے (حاصل یہ ہوا کہ جو لوگ قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کے منکر تھے وہ بھی اس وقت اس کے قائل ہوجاویں گے، آگے مشرکین کے لئے وعید ہے) بلاشبہ تم اور جس کو تم خدا کے سوا پوج رہے ہو سب جہنم میں جھونکے جاؤ گے (اور) تم سب اس میں داخل ہوگے (اس میں وہ انبیاء اور فرشتے داخل نہیں ہو سکتے جن کو دنیا میں بعض مشرکین نے خدا اور معبود بنا لیا تھا کیونکہ ان میں ایک مانع شرعی موجود ہے کہ وہ اس کے مستحق نہیں اور نہ ان کا اس میں کوئی قصور ہے آگے آیت میں اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ سے بھی اس شبہ کو دفع کیا گیا ہے اور یہ بات سمجھنے کی ہے کہ) اگر (یہ تمہارے معبود) واقعی معبود ہوتے، تو اس (جہنم) میں کیوں جاتے اور (جانا بھی ایسا کہ چند روزہ نہیں بلکہ) سب (عابدین اور معبودین) اس میں ہمیشہ کو رہیں گے (اور) ان کا اس میں شور و غل ہوگا اور وہاں (اپنے شور و غل میں) کسی کی کوئی بات سنیں گے بھی نہیں (یہ تو دوزخیوں کا حال ہوا اور) جن کے لئے ہماری طرف سے بھلائی مقدر ہوچکی ہے (اور اس کا ظہور ان کے اعمال و افعال میں ہوا) وہ لوگ اس (دوزخ) سے (اس قدر) دور رکھے جاویں گے کہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے (کیونکہ یہ لوگ جنت میں ہوں گے اور جنت دوزخ میں بڑا بعد ہے) اور وہ لوگ اپنی جی چاہی چیزوں میں ہمیشہ رہیں گے (اور) ان کو بڑی گھبراہٹ (یعنی قیامت میں زندہ ہونے اور محشر کے ہولناک مناظر دیکھنے کی حالت) غم میں نہ ڈالے گی اور (قبر سے نکلتے ہی) فرشتے ان کا استقبال کریں گے (اور کہیں گے) یہ ہے تمہارا وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (یہ اکرام کا معاملہ اور بشارت ان کے لئے زیادہ خوشی و مسرت کا سبب ہوجائے گا اور اگر کسی روایت سے یہ ثابت ہوجائے کہ قیامت کے ہول اور خوف سے کوئی مستثنیٰ نہیں سب کو پیش آئے گا تو چونکہ نیک بندوں کیلئے اس کا زمانہ بہت قلیل ہوگا اس لئے وہ کالعدم ہے اور وہ دن (بھی) یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم (نفحہ اولیٰ کے بعد) آسمانوں کو اس طرح لپیٹ دیں گے جس طرح لکھے ہوئے مضامین کا کاغذ لپیٹ دیا جاتا ہے (پھر لپیٹنے کے بعد خواہ معدوم محض کردیا جائے یا نفحہ ثانیہ تک اسی حالت پر رہے دونوں باتیں ممکن ہیں اور) ہم نے جس طرح اول بار پیدا کرنے کے وقت (ہر چیز کی) ابتداء کی تھی اسی طرح (آسانی سے) اس کو دوبارہ پیدا کردیں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے ہم ضرور (اس کو پورا) کریں گے اور (اوپر جو نیک بندوں سے ثواب و نعمت کا وعدہ ہوا ہے وہ بہت قدیم اور موکد وعدہ ہے چناچہ ہم (سب آسمانی) کتابوں میں لوح محفوظ (میں لکھنے) کے بعد لکھ چکے ہیں کہ اس زمین (جنت) کے مالک میرے نیک بندے ہوں گے (قدامت اس وعدہ کی تو اس سے ظاہر ہے کہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور تاکید اس بات سے کہ کوئی آسمانی کتاب اس سے خالی نہیں)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً۝ ٠ۡۖ وَاَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ۝ ٩٢ الأُمّة : كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38] الامۃ ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ رشتہ اور تعلق اختیاری اس کی جمع امم آتی ہے اور آیت کریمہ :۔ { وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ } ( سورة الأَنعام 38) اور زمین پر جو چلنے پھر نے والے ( حیوان ) دو پروں سے اڑنے والے پرند ہیں وہ بھی تمہاری طرح جماعتیں ہیں رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩٢) کہ بغیر باپ کے لڑا پیدا ہوا اور مردوں میں سے بغیر کسی کے ہاتھ لگائے اور قریب آئے حضرت مریم (علیہ السلام) کے ولادت باسعادت ہوئی اے لوگو یہ ہے تمہارا پسندیدہ طریقہ اور وہ ایک ہی طریقہ ہے اور حاصل یہ کہ میں تمہارا رب حقیقی وحدہ لاشریک ہوں، میری ہی اطاعت کیا کرو،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٢ (اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃًز) ” اُمت ابراہیم ‘ ( علیہ السلام) امت اسماعیل ‘ ( علیہ السلام) امت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ امت عیسیٰ (علیہ السلام) ٰ ‘ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے تمام انبیاء کی امتیں بنیادی طور پر ایک ہی دین کی پیروکار تھیں اور یوں تمام انبیاء اور ان کے پیروکار گویا ایک ہی امت کے افراد تھے۔ اس مضمون کو سورة البقرۃ ‘ آیت ٢١٣ میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : ( کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف) یعنی شروع میں تمام انسان ایک ہی امت تھے اور ایک ہی دین کے ماننے والے تھے۔ پھر لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفادات کے مطابق صراط مستقیم میں سے پگڈنڈیاں نکال لیں ‘ مختلف گروہوں نے نئے نئے راستے بنا لیے اور ان غلط راستوں پر وہ اتنی دور چلے گئے کہ اصل دین مسخ ہو کر رہ گیا اور اب ان مختلف گروہوں کے نظریات کی یہ مغائرت اس حد تک بڑھ چکی ہے ع ” کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی ! “ یعنی آج بہت سے مذاہب کی اصلی شکل کو پہچاننا بھی ممکن نہیں رہا۔ ان کے بگڑے ہوئے عقائد کو دیکھ کریقین نہیں آتا کہ کبھی ان کا تعلق بھی دین حق سے تھا۔ بہر حال حقیقت یہی ہے کہ تمام انبیا ورسل ( علیہ السلام) کا تعلق ایک ہی امت سے تھا۔ وہ سب ایک ہی اللہ کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے ‘ البتہ مختلف انبیاء کی شریعتوں کے تفصیلی احکامات میں باہم فرق پایا جاتا رہا ہے۔ یہ مضمون مزید وضاحت کے تحت سورة الشوریٰ میں آئے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٩٢۔ ٩٤:۔ امت کے معنی ایسی جماعت کے ہیں ‘ جس کے سب آدمی ایک ہی مقصد پر جمے ہوئے ہوں ‘ اس مطلب کے ادا کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے یہاں امت کے معنی دین کے لیے ہیں ‘ حاصل ان معنوں کا یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے احکام کی پابندی اصل دین ہے ‘ اس مقصد کے پھیلانے میں سارے انبیاء ایک ہیں ‘ ضرورت وقتیہ کے لحاظ سے فقط حلال و حرام کے احکام بدلتے رہے ہیں جس کی ہر ایک نبی کی شریعت کہتے ہیں لیکن اصل دین کی ہر ایک شریعت میں تاکید ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) کی روایت ١ ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اصل دین کے حساب سے سب انبیاء اس طرح سے ایک ہیں جس طرح ایک باپ کی اولاد میں بھائی ایک ہوتے ہیں ‘ ہاں حلال و حرام کے احکام ہر شریعت کے اس طرح الگ الگ ہیں جس طرح ایک باپ کی اولاد کے دو بھائیوں کی ماں جدا ہوا کرتی ہے ‘ اس حدیث سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے اوپر کے قول کا مطلب اچھی طرح سجھ میں آجاتا ہے ‘ آگے فرمایا اصل دین میں اگرچہ سب انبیاء ایک ہیں لیکن جن لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے گئے انہوں نے انبیاء کی نصیحت کو نہیں مانا اور ایک دین کے بہت سے دین ٹھہرائے مثلا کوئی بت پرست ہے ‘ کوئی ستارہ وآتش پرست ‘ پھر فرمایا ‘ ایک دن یہ سب اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوں گے اور ایماندار کے نیک عمل کی جزا رائیگاں نہ جائے گی کیونکہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ اجر جن نیکیوں کا ہے وہ سب نیکیاں دفتر الٰہی میں صبح وشام لکھی جاتی ہیں ‘ اسی طرح بد لوگ اپنی بدی کی سزا سے کسی طرح بچ نہ سکیں گے کہ ان نیک لوگوں کے سب برے عملوں کا اعمال نامہ بھی دفتر الٰہی میں موجود ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت سے حدیث قدسی کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک اور بعضی نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ ہے اور بدی کی سزا میں کچھ زیادتی نہ ہوگی آیتوں میں اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونے کا اور نیکی کے اکارت نہ جانے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ (١ ؎ مشکوٰۃ ص ٥٠٩ باب بدء الخلق وذکر الانبیآئ۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(21:92) امۃ۔ امت۔ جماعت۔ مدت۔ طریقہ۔ دین۔ ہر وہ جماعت جس میں کسی قسم کا کوئی رابطہ اشتراک موجود ہوا سے امت کہتے ہیں خواہ یہ اتحاد مذہبی وحدت کی بناء پر ہو۔ یا جغرافیائی اور عصری وحدت کی بنا پر اور خواہ اس رابطہ میں امت کے اپنے اختیار کو دخل ہو یا نہ ہو امت کے مجازی معنی طریقہ ودین کے ہیں۔ عرب والے بولتے ہیں فلان لا امۃ لہ یعنی فلاں کا کوئی طریقہ یا دین نہیں۔ یہاں اس آیت میں مراد دین ہی ہے۔ ان ھذہ امتکم تحقیق یہی تمہارا دین (دین توحید) ہے یعنی تمام متذکرہ بالا انبیاء کا یہی عقیدہ توحید رہا ہے۔ امۃ واحدۃ نصب بوجہ امتکم سے حال کی وجہ سے ہے۔ یہاں خطاب کس سے ہو رہا ہے اس کے متعلق دو اقوال ہیں۔ ایک جماعت کا خیال ہے کہ خطاب مسلمانوں سے ہے اور ھذہ سے مراد امت مسلمہ ہے۔ دوسرے گروہ کی رائے ہے کہ خطاب عام ہے ساری نسل انسانی کے لئے اور طریقہ سے مراد طریق انبیاء مذکور ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 ۔ جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کا اختلاف نہیں ہے سو اسی کو اختیار کرنا اور اسی پر قائم رہنا تمہیں واجب ہے۔ مراد ہے مذہب توحید یعنی اسلام… یہاں ” امۃ “ کے معنی دین یا مذہب کے ہیں جیسا کہ سورة زخف (آیت 22) میں ہے۔ ” انا وجدنا اباونا علیٰ امۃ “ کہ ہم نے اپنے آبا و اجداد کو ایک امت (یعنی دین) پر چلتے پایا۔ (قرطبی، شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سولہ انبیاء کرام کا ایک ہی عقیدہ اور ایک جیسا کردار ہونے کی بنا پر انہیں ایک ہی امت کے افراد قرار دیا گیا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظیم اور طویل ترین جدوجہد، حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اقتدار و اختیار، حضرت ایوب (علیہ السلام) کا صبر اور عبادت گزاری، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت ادریس اور حضرت ذالکفل (علیہ السلام) کا حوصلہ اور ان کی سیرت طیبہ، حضرت یونس (علیہ السلام) کی آزمائش اور اپنے رب کے حضور آہ و زاریاں، حضرت زکریا (علیہ السلام) کی اپنے رب سے اپنے وارث کے لیے دعائیں، حضرت مریم [ کی پاکدامنی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد تمام انسانوں کو یہ سبق یاد کروایا ہے کہ اے لوگو ! یہ انبیاء اور صالحین کی جماعت تھی جو ایک ہی رب کے سامنے سرافگندہ ہونے والے تھے۔ ان سب کا ایک ہی رب اور ایک ہی دین تھا۔ تمہارے لیے بھی ایک ہی دین ہے میں ہی تمہارا رب ہوں لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ قرآن مجید کے ارشاد سے واضح ہو رہا ہے کہ تمام انبیاء عقیدہ توحید پر متحد تھے اور وہ ایک رب کی عبادت کی دعوت دینے والے تھے۔ ان کے بعد ان کی امتیں شرک میں مبتلا ہوئیں، لوگ فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہوتے چلے گئے حالانکہ سب نے اپنے رب کے پاس جانا ہے اور وہ ان کے اختلافات کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ فرمائے گا۔ فہم القرآن کے کئی مقامات پر عرض کیا ہے کہ ہر آیت بالخصوص ہر خطاب کے آخری الفاظ اس آیت اور خطاب کا خلاصہ ہوتے ہیں اسی اصول کے تحت یہاں اشارہ فرمایا ہے کہ دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والوں بالآخر تم نے ہمارے ہی پاس آنا ہے۔ اس فرمان سے ثابت ہوا کہ عقیدہ توحید وحدت اور اتحاد کی ضمانت ہے۔ شرک انتشار اور خلفشار کا باعث ہے۔ عبادت کا جامع تصّور : (قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ۔ لَا شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ ) [ الانعام : ١٦٢-١٦٣] فرما دیجیے کہ بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔ “ دین ایک ہے اور فطرت کے مطابق ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین اس کو یہودی ‘ عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح چارپائے اپنے بچے کو تام الخلقت جنم دیتے ہیں کیا تم ان میں سے کسی بچے کو کان کٹا پاتے ہو ؟ پھر آپ نے آیت تلاوت کی۔” اللہ کی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہے یہ بالکل سیدھا اور درست دین ہے۔ “ [ رواہ البخاری : باب إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِیُّ فَمَاتَ ہَلْ یُصَلَّی عَلَیْہِ وَہَلْ یُعْرَضُ عَلَی الصَّبِیِّ الإِسْلاَمُ ] تمام انبیاء خاندان نبوت کے افراد اور گلدستۂ رسالت کے پھول ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے کہ انبیاء رشتہ نبوت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں لیکن ان کی مائیں مختلف ہیں۔ [ رواہ البخاری : کتاب أحادیث الانبیاء ] مسائل ١۔ شرک سے پہلے لوگ توحید کے عقیدہ پر ہونے کی وجہ سے متحد تھے۔ ٢۔ شرک کی وجہ سے لوگ گروہ در گروہ بنتے چلے گئے۔ ٣۔ تمام لوگوں کا ایک ہی رب ہے سب کو اسی کی عبادت کرنا چاہیے۔ ٤۔ تمام لوگوں نے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن عقیدہ توحید اتحاد کی علامت، شرک انتشار کا سبب ہے : ١۔ تمام لوگ ایک ہی امت تھے انہوں نے جاننے کے باوجود آپس میں اختلاف کیا اگر اللہ کا کلمہ سبقت نہ لے چکا ہوتا تو ان کے درمیان اب تک فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ (یونس : ١٩) ٢۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور ایمان کے بعد شرک میں مبتلا نہیں ہوئے ان کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ ( الانعام : ٨٣) ٣۔ بلاشبہ یہ امت ایک ہی ہے اور میں تمہارا رب ہوں مجھ ہی سے ڈرو۔ (المؤمنون : ٢٣) ٤۔ اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں تقسیم نہہو جاؤ۔ (آل عمران : ١٠٣) ٥۔ جس نے طاغوت کے ساتھ کفر کیا اور اللہ پے ایمان لایا اس نے ایسے مضبوط کڑے کو تھام لیا جو ٹوٹ نہیں سکتا۔ (البقرۃ : ٢٥٦) ٦۔ اے اہل کتاب آؤ کلمہ توحید پر متحد ہوجائیں۔ ( آل عمران : ٦٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان……فاعبدون (٩٢) انبیاء کا گروہ ایک ہی امت اور ایک ہی جماعت ہے۔ اس کا نظریہ بھی ایک ہے اور وہ سب ایک ہی نظام زندگی کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں۔ ان سب کا رخ اللہ ہی کی طرف ہے۔ زمین پر وہ ایک امت ہیں اور آسمانوں پر ان سب کا خدا ایک ہے۔ ان سب کا شعار صرف یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ اس طرح اس سورة کے ساتھ سبق کا یہ آخری تبصرہ بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے یہ کہ تمام پیغمبر کلمہ توحید کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں اور اس پوری کائنات کا نظام اس پر شاہد عادل ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تمام حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین واحد ہے متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا اور آخر میں فرمایا کہ ان حضرات کا جو دین تھا یہی تمہارا دین ہے۔ یہی دین اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے منظور فرمایا ہے۔ یہ دن توحید ہے۔ تم سب اسی دین کو اختیار کرو۔ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) سب توحید کی دعوت لے کر آئے اور اسی کی دعوت دی۔ اصول دین یعنی توحید و رسالت اور معاد میں ان حضرات میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں لوگوں میں عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب تر ہوں۔ دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ تمام انبیاء آپس میں بھائی ہیں۔ جیسے آپس میں باپ شریک بھائی ہوتے ہیں اور مائیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین ایک ہی ہے اور میرے اور عیسیٰ بن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔ (رواہ البخاری کمافی المشکوٰۃ ص ٥٠٩) یعنی احکام فرعیہ میں گو اختلاف تھا لیکن اصولی اعتبار سے سب کا دین ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور الوہیت ربوبیت اور خالقیت اور مالکیت کے ماننے اور تسلیم کرنے کی سب نبیوں نے دعوت دی۔ سارے انسانوں پر فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ اسی لیے آیت کے ختم پر فرمایا (وَّ اَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ ) (اور میں تمہارا رب ہوں سو تم میری عبادت کرو) (وَ تَقَطَّعُوْٓا اَمْرَھُمْ بَیْنَھُمْ ) یعنی اس کی بجائے کہ لوگ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت پر چلتے اور توحید کو اختیار کرتے لوگوں نے آپس میں اپنے دین کے ٹکڑے کرلیے۔ طرح طرح کے عقیدے تراشے اور مختلف قسم کی جماعتیں بنا لیں۔ ان جماعتوں میں صرف وہ جماعت حق پر ہے جو حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے دین پر تھی اور اب خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین پر ہے۔ اس ایک جماعت کے علاوہ جتنی جماعتیں تھیں یا اب ہیں وہ سب گمراہ ہیں اور کافر ہیں (کُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ ) (سب ہماری طرف لوٹنے والے ہیں) ہر ایک اپنے اپنے عقیدہ اور عمل کی جزا پائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

64:۔ ” اِنَّ ھٰذِهٖ اُمَّتُکُمْ الخ “ یہ تمام مذکورہ دلائل نقلیہ سے متعلق ہے یعنی ان تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ایک ہی تھا اور وہ سارے کے سارے توحید پر متفق تھے اور سب کا یہی مسلک تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور اس کے سوا حاجات میں غائبانہ پکار کے لائق بھی کوئی نہیں۔ ” اُمَّةً “ یہاں ملت اور دین کے معنوں میں مستعمل ہے اور مراد ملت اسلام اور ملت توحید ہے جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ملت ہے۔ الامۃ الملۃ وھذہ الاشارۃ الی ملۃ الاسلام وھی ملۃ جمیع الانبیاء (مدرک ج 3 ص 68) ۔ خطاب للناس قاطبۃ والاشارۃ الی ملۃ التوحید والاسلام (روح ج 17 ص 89) ۔ لما ذکر الانبیاء قال ھؤلاء کلھم مجتمعون علی التوحید فالامۃ بمعنی الدین الذی ھو الاسلام قالہ ابن عباس و مجاھد وغیرھما (قرطبی) ۔ 65:۔ ” وَ اَنَا رَبُّکُمْ الخ “ حضرت شیخ فرماتے ہیں۔ واؤ تفسیریہ ہے اور جملہ ماقبل کی تفسیر ہے یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ملت واحدہ یہ ہے کہ میں تم سب کا رب اور کارساز ہوں لہذا تم سب صرف میری عبادت کرو اور صرف مجھے ہی پکارو ای لادین سوی دینی ولا رب غیری فاعبدونی ووحدونی (خازن ج 4 ص 260) ای انا الھکم الہ واحد (فاعبدونی) خاصۃ (روح ج 17 ص 90) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(92) لوگو ! یہ ان حضرات مذکورہ کا طریقہ اور دین تمہارا طریقہ اور دین ہے دراسخالی کہ وہ ایک ہی طریقہ اور ایک ہی دین ہے اور وہ یہ کہ میں تمہارا پروردگار ہوں پس میری ہی عبادت کیا کرو۔ یعنی حق تعالیٰ عام خطاب فرماتا ہے کہ انبیائے مذکورہ کا توحید الٰہی کے بارے میں جو طریقہ تھا وہی تمہاری ملت اور طریقہ ہے جو حقیقت میں اصولی اعتبار سے ایک ہی ہے اور تم کو بھی وہی دین اور طریقہ اختیارکرنا چاہئے اور اس دین اور ملت کا ماحصل یہ ہے کہ تمہارا پروردگار میں ہی ہوں۔ لہٰذا عبادت بھی صرف میری ہی کرو۔ ظاہر ہے کہ توحید میں تمام انبیاء (علیہم السلام) کا ایک ہی طریقہ ہے۔ البتہ فروغ میں زمانے کی ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق ہے لیکن اتنی بات میں کہ پروردگار یکتا ہے اور صرف اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ سب پیغمبروں کا مسلک ایک ہی ہے۔