Mankind is One Ummah
Allah says:
إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
...
Truly, this, your Ummah is one,
Ibn Abbas, Mujahid, Sa`id bin Jubayr, Qatadah and Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said,
"Your religion is one religion."
Al-Hasan Al-Basri said:
"In this Ayah, Allah explains to them what they should avoid and what they should do."
Then He said:
إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً
...
Truly, this, your Ummah is one religion,
"Meaning, your path is one path. Certainly this is your Shariah (Divine Law) which I have clearly explained you."
So Allah says:
...
وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ
and I am your Lord, therefore worship Me.
This is like the Ayah:
يأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُواْ مِنَ الطَّيِّبَـتِ وَاعْمَلُواْ صَـلِحاً
O (you) Messengers! Eat of the Tayyibat (good things) and do righteous deeds.) Until His saying,
وَأَنَاْ رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ
(And I am your Lord, so have Taqwa of Me). (23:51-52)
The Messenger of Allah said:
نَحْنُ مَعَاشِرَ الاَْنْبِيَاءِ أَوْلاَدُ عَلَّتٍ دِينُنَا وَاحِد
We Prophets are brothers from different mothers and our religion is one.
What is meant here is that they all worshipped Allah Alone with no partner or associate, although the Laws of each Messenger may have differed, as Allah says:
لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَـجاً
To each among you, We have prescribed a Law and a clear way. (5:48)
تمام شریعتوں کی روح توحید
فرمان ہے کہ تم سب کا دین ایک ہی ہے ۔ اوامر ونواہی کے احکام تم سب میں یکساں ہیں ۔ ہذہ اسم ہے ان کا اور امتکم خبر ہے اور امتہ واحدۃ حال ہے ۔ یعنی یہ شریعت جو بیان ہوئی تم سب کی متفق علیہ شریعت ہے ۔ جس کا اصلی مقصود توحید الٰہی ہے جیسے آیت ( يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ۭ اِنِّىْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ 51ۭ ) 23- المؤمنون:51 ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم انبیاء کی جماعت اگرچہ احکامات شرع مختلف ہیں جیسے فرمان قرآن ہے آیت ( لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا 48ۙ ) 5- المآئدہ:48 ) ہر ایک کی راہ اور طریقہ ہے ۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا بعض اپنوں نبیوں پر ایمان لائے اور بعض نہ لائے ۔ قیامت کے دن سب کا لوٹنا ہماری طرف ہے ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا نیکوں کو نیک بدلہ اور بروں کو بری سزا ۔ جس کے دل میں ایمان ہو اور جس کے اعمال نیک ہوں اس کے اعمال اکارت نہ ہوں گے ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا 30ۚ ) 18- الكهف:30 ) نیک کام کرنے والوں کا اجر ہم ضا ئع نہیں کرتے ۔ ایسے اعمال کی قدردانی کرتے ہیں ایک ذرے کے برابر ہم ظلم روا نہیں رکھتے تمام اعمال لکھ لیتے ہیں کوئی چیز چھوڑتے نہیں ۔