Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 22

سورة الحج

کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَا مِنۡ غَمٍّ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا ٭ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿٪۲۲﴾  9

Every time they want to get out of Hellfire from anguish, they will be returned to it, and [it will be said], "Taste the punishment of the Burning Fire!"

یہ جب بھی وہاں کے غم سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے وہیں لوٹا دیئے جائیں گے اور ( کہا جائے گا ) جلنے کا عذاب چکھو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا ... Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein, Al-A`mash reported from Abu Zibiyan that Salman said, "The fire of Hell is black and dark; its flames and coals do not glow or shine." Then he recited: كُلَّمَا أَرَادُوا أَن يَخْرُجُوا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ أُعِيدُوا فِيهَا Every time they seek to get away therefrom, from anguish, they will be driven back therein, ... وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ "Taste the torment of burning!" This is like the Ayah: وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُواْ عَذَابَ النَّارِ الَّذِي كُنتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ and it will be said to them: "Taste you the torment of the Fire which you used to deny." (32:20) The meaning is that they will be humiliated by words and actions.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 اس میں جہنمیوں کے عذاب کی کچھ تفصیل بیان کی گئی ہے جو انھیں وہاں بھگتنا ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْهَا ۔۔ : اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ آگ کی لپٹ کے ساتھ اوپر آئیں گے اور چاہیں گے کہ جہنم کی شدید گھٹن سے نکل جائیں تو آگ کی لپٹ کے نیچے جانے کے ساتھ وہ بھی دوبارہ نیچے چلے جائیں گے۔ یہ مطلب اس لیے ہے کہ جہنمی تو زنجیروں میں جکڑے اور پروئے ہوئے ہوں گے، وہ خود کس طرح نکلنے کا ارادہ کرسکتے ہیں ؟ فرمایا : (وَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِ ) [ إبراھیم : ٤٩ ] ” اور تو مجرموں کو اس دن زنجیروں میں ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے دیکھے گا۔ “ اور فرمایا : (ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُ ) [ الحاقۃ : ٣٢ ] ” پھر ایک زنجیر میں، جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے، پس اس (کافر) کو داخل کر دو ۔ “ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ : یعنی ان سے یہ کہا جائے گا کہ جلنے کے عذاب کا مزا چکھو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْہَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْہَا۝ ٠ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ۝ ٢٢ۧ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ غم الغَمُّ : ستر الشیء، ومنه : الغَمَامُ لکونه ساترا لضوء الشمس . قال تعالی: يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] . والغَمَّى مثله، ومنه : غُمَّ الهلالُ ، ويوم غَمٌّ ، ولیلة غَمَّةٌ وغُمَّى، قال : ليلة غمّى طامس هلالها وغُمَّةُ الأمر . قال : ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] ، أي : كربة . يقال : غَمٌ وغُمَّةٌ. أي : كرب وکربة، والغَمَامَةُ : خرقة تشدّ علی أنف النّاقة وعینها، وناصية غَمَّاءُ : تستر الوجه . ( غ م م ) الغم ( ن ) کے بنیادی معنی کسی چیز کو چھپا لینے کی ہیں اسی سے الغمیٰ ہے جس کے معنی غبار اور تاریکی کے ہیں ۔ نیز الغمیٰ جنگ کی شدت الغمام کہتے ہیں کیونکہ وہ سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ [ البقرة/ 210] کہ خدا کا عذاب بادلوں کے سائبانوں میں آنازل ہوا ۔ اسی سے غم الھلال ( چاند ابر کے نیچے آگیا اور دیکھا نہ جاسکا ۔ ویوم غم ( سخت گرم دن ولیلۃ غمۃ وغمی ٰ ( تاریک اور سخت گرم رات ) وغیرہ ہا محاورات ہیں کسی شاعر نے کہا ہے ( جز ) ( 329) لیلۃ غمی ٰ طامس ھلالھا تاریک رات جس کا چاند بےنور ہو ۔ اور غمۃ الامر کے معنی کسی معاملہ کا پیچدہ اور مشتبہ ہونا ہیں ، قرآن پاک میں ہے : ۔ ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً [يونس/ 71] پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے ۔ یعنی پھر وہ معاملہ تمہارے لئے قلق و اضطراب کا موجب نہ ہو اور غم وغمۃ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی حزن وکرب جیسے کرب وکربۃ اور غمامۃ اس چیتھڑے کو کہتے ہیں جو اونٹنی کی ناک اور آنکھوں پر باندھ دیا جاتا ہے تاکہ کسی چیز کو دیکھ یاسونگھ نہ سکے ) اور ناصیۃ غماء پیشانی کے لمبے بال جو چہرے کو چھالیں ۔ عود الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] ( ع و د ) العود ( ن) کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] اے پروردگار ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ( ایسے کام ) کریں تو ظالم ہوں گے ۔ حرق يقال : أَحْرَقَ كذا فاحترق، والحریق : النّار، وقال تعالی: وَذُوقُوا عَذابَ الْحَرِيقِ [ الحج/ 22] ، وقال تعالی: فَأَصابَها إِعْصارٌ فِيهِ نارٌ فَاحْتَرَقَتْ [ البقرة/ 266] ، وقالُوا : حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ [ الأنبیاء/ 68] ، لَنُحَرِّقَنَّهُ [ طه/ 97] ، و ( لنحرقنّه) «3» ، قرئا معا، فَحَرْقُ الشیء : إيقاع حرارة في الشیء من غير لهيب، کحرق الثوب بالدّق «4» ، وحَرَقَ الشیء : إذا برده بالمبرد، وعنه استعیر : حرق الناب، وقولهم : يحرق عليّ الأرّم «5» ، وحرق الشعر : إذا انتشر، وماء حُرَاق : يحرق بملوحته، والإحراق : إيقاع نار ذات لهيب في الشیء، ومنه استعیر : أحرقني بلومه : إذا بالغ في أذيّته بلوم . ( ح ر ق ) احرق کذا ۔ کسی چیز کو جلانا ) احترق ( جلنا ) الحریق ( آگ) قرآن میں ہے :۔ وَذُوقُوا عَذابَ الْحَرِيقِ [ الحج/ 22] کہ عذاب ( آتش ) سوزاں کے مزے چکھتے رہو ۔ فَأَصابَها إِعْصارٌ فِيهِ نارٌ فَاحْتَرَقَتْ [ البقرة/ 266] تو ( ناگہاں ) اس باغ پر آگ کا بھرا ہوا بگولا چلے اور وہ جل ( کر راکھ کا ڈھیرہو ) جائے ۔ وقالُوا : حَرِّقُوهُ وَانْصُرُوا آلِهَتَكُمْ [ الأنبیاء/ 68] ( تب ) وہ کہنے لگے ۔۔۔۔ تو اس کو جلادو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو ۔ لَنُحَرِّقَنَّهُ [ طه/ 97] ہم اسے جلا دیں گے ۔ ایک قرآت میں لنحرقنہ ہے ۔ پس حرق الشئ کے معنی کسی چیز میں بغیر اشتعال کے جلن پیدا کرنے کے ہیں جیسے دھوبی کے پٹخنے سے کپڑے کا پھٹ جانا ۔ حرق ( ن ) الشئی ریتی سے رگڑنا اسی سے حرق الناب کا محاورہ ہے جس کے معنی دانت پیسنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ یحرق علی الارم یعنی وہ مجھ پر دانت پیستا ہے ۔ حرق الشعر ۔ بالوں کا منتشر ہونا ۔ ماء حراق بہت کھاری پانی جو کھا ری پن سے جلا ڈالے ۔ الاحراق کسی چیز کو جلانا اسی سے استعارۃ جب کہ بہت زیادہ ملامت کرکے اذیت پہنچائے تو کہا جاتا ہے ۔ احرقبی بلومہ یعنی اس نے مجھے ملامت سے جلا ڈالا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢) وہ لوگ جس وقت دوزخ کے عذاب سے گھبرا کر باہر نکلنا چاہیں گے تو پھر اسی دوزخ میں دھکیل دیے جائیں گے اور گرز مارے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا یہ سخت ترین جلنے کا عذاب جھیلتے رہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ) ” اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انکار کی پاداش میں اب یہ عذاب ہمیشہ کے لیے تمہارا مقدر ہے۔ اب تم نے اسی میں رہنا ہے۔ منکرین کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب دوسرے گروہ یعنی اہل ایمان کا ذکر کیا جارہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:22) منہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نار ہے۔ بعض کے نزدیک یہ ضمیر ثیاب کے لئے ہے لیکن صاحب روح المعانی نے اسے رکیک (کمزور) کہا ہے۔ غم۔ رنج۔ اندہ۔ حزن۔ کرب۔ غم کے بنیادی معنی کسی چیز کو چھپا لینے کے ہیں۔ اسی سے الغمی ہے۔ جس کے معنی غبار اور تاریکی کے ہیں۔ اسی لئے بادل کو الغمام کہتے ہیں کہ وہ سورج کی روشنی کو چھپا لیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام (2:210) کہ خدا ان کے پاس بادل کے سائبانوں میں آجائے۔ اور غمۃ الامر۔ بمعنی کسی معاملہ کا پیچیدہ اور مشتبہ ہونا ہے جیسے قرآن مجید میں آیا ہے ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ (10:71) پھر تمہارا معاملہ تم پر مشتبہ نہ رہے۔ یعنی تمہارے لئے قلق اور اضطراب کا موجب نہ ہو۔ من غم۔ منھا سے بدل اشتمال ہے یا یخرجوا کا مفعول لہ بمعنی من اجل ۔ اعیدوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ اعادۃ مصدر۔ وہ لوٹا دئیے گئے۔ یہاں ماضی بمعنی مضارع مستقبل ہے۔ وہ لوٹا دئیے جائیں گے۔ وذوقوا۔ وائو کے بعد قیل لہم محذوف ہے۔ سورة السجدہ میں ہے کلما ارادوا ان یخرجوا منھا اعیدوا فیھا وقیل لہم ذوقوا عذاب النار الذی کنتم بہ تکذبون۔ (32:20) ۔ ذوقوا۔ فعل امر۔ جمع مذکر حاضر۔ ذوق مصدر سے۔ تم چکھو۔ عذاب الحریق۔ مضاف مضاف الیہ۔ حریق حرق سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور فاعل ومفعول (جلانے والا۔ جلا ہوا) دونوں کے معنی دیتا ہے۔ یہاں بمعنی آگ کے آیا ہے۔ (22:20) یحلون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب تحلیۃ (تفعیل) مصدر وہ زیور پہنائے جائیں گے۔ حلیۃ بمعنی زیور۔ جیسے او من ینشؤا فی الحلیۃ (43:18) کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے۔ اساور۔ سوار کی جمع۔ کنگن۔ پونچیاں۔ لؤلؤا۔ لؤ لؤ مفرد لالی جمع۔ موتی۔ فیھا ای فی الجنۃ۔ حریر ریشم۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(22) جب بھی یہ معذبین آگ دوزخ سے اس کی تکلیف اور اس کی گھٹن سے گھبرا کر نکلنے کا ارادہ کریں گے تو اسی پر دھیل دیئے جائیں گے اور اسی میں پھر لوٹا دیئے جائیں گے… اور کہاجائے گا کہ عذاب سوزاں اور جلنے کے عذاب کا ہمیشہ کے لئے مزا چکھتے رہو۔ دونوں فریق نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف اور جھگڑا کیا۔ یہ جھگڑا اعتقاد میں بھی ہے اور عمل میں بھی پھر جو لوگ دین حق کے منکر ہیں ان کی سزا یہ ہوگی کہ ان کو چاروں طرف سے آگ کے عذاب نے اس طرح گھیر رکھا ہوگا جس طرح لباس اور کپڑے بدن سے لپٹے رہتے ہیں نیز گرم اور کھولتا ہوا پانی سروں پر ڈالا جائے گا جس سے تمام جسم گل جائے گا۔ پیٹوں میں جو کچھ ہے یعنی آنتیں وغیرہ پگھل جائیں گی اور کھالیں گل جائیں گی باہر نکلنے کو بھاگیں گے تو عذاب کے فرشتے لوہے کے گرز مارکر الٹا دھکیل دیں گے اور ان کو کہا جائے گا اس عذاب سوزاں اور عذاب سوختنی کا ہمیشہ مزہ چکھتے رہو۔ محرق کی بجائے حریق فرمایا۔ بطور مبالغہ یعنی یہ عذاب دائمی ہوگا اب آگے اس فریق کا ذکر ہے جو اہل ایمان ہے۔