The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
اَلضَّامِرُ: اس چھریرے گھوڑے کو کہتے ہیں جس کا دبلاپن لاغری کی وجہ سے نہ ہو بلکہ اس ریاضت کی وجہ سے ہو جو سدھانے کے لیے اس سے کرائی جاتی ہے۔ قرآن پاک میں ہے: (عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ) (۲۲:۲۷) دبلی سواریوں پر۔ ضَمَرَ ضُمُوْرًا وَاضْطَمَرَ فَھُوَ مُضْطَمِرٌ کے معنی لاغر ہوجانا کے ہیں۔ اور ضَمَّرْتُہٗ کے معنی لاغر کردینا کے۔ اَلْمِضْمَار: گھوڑدوڑ کا میدان جہاں گھوڑوں کو دوڑانے کی مشق کرائی جاتی ہے۔ اَلضَّمِیْرُ: وہ بات جو تمہارے دل میں ہو اور اس پر اطلاع پانا دشوار ہو اسی وجہ سے کبھی ضمیر کا لفظ قوت حافظہ پر بھی بولا جاتا ہے۔