Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 33

سورة الحج

لَکُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ثُمَّ مَحِلُّہَاۤ اِلَی الۡبَیۡتِ الۡعَتِیۡقِ ﴿۳۳﴾٪  11

For you the animals marked for sacrifice are benefits for a specified term; then their place of sacrifice is at the ancient House.

ان میں تمہارے لئے ایک مقررہ وقت تک فائدہ ہے پھر ان کے حلال ہونے کی جگہ خانہ کعبہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ ... In them are benefits for you, meaning, in the Budn (sacrificial camels) you find benefits such as their milk their wool and hair, and their use for riding. لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى ... In them are benefits for you for an appointed term, Miqsam reported that Ibn Abbas said: "Until you decide to offer them as a sacrifice." It was recorded in the Two Sahihs from Anas that; the Messenger of Allah saw a man driving his sacrificial camel and said, ارْكَبْهَا (Ride it). The man said, "It is a sacrificial camel." He said, ارْكَبْهَا وَيْحَك Ride it, woe to you! (the second or third time). According to a report recorded by Muslim from Jabir, the Messenger of Allah said: ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِيْتَ إِلَيْهَا Ride it gently according to your needs. ... ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ and afterwards they are brought for sacrifice to the `Atiq House. meaning, they are eventually brought to the `Atiq House -- which is the Ka`bah -- as Allah says: هَدْياً بَـلِغَ الْكَعْبَةِ an offering, brought to the Ka`bah. (5:95) وَالْهَدْىَ مَعْكُوفاً أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ and detained the Hady, from reaching their place of sacrifice. (48:25)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 وہ فائدہ، سواری، دودھ، مذید نسل اور اون وغیرہ کا حصول ہے۔ وقت مقرر مراد (ذبح کرنا) ہے یعنی ذبح نہ ہونے تک تمہیں ان سے مذکورہ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کے جانور سے، جب تک وہ ذبح نہ ہوجائے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ صحیح حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ایک آدمی ایک قربانی کا جانور اپنے ساتھ ہانکے لے جا رہا تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا اس پر سوار ہوجا، اس نے کہا یہ حج کی قربانی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اس پر سوار ہوجا۔ (صحیح بخاری) 33۔ 2 حلال ہونے سے مراد جہاں ان کا ذبح کرنا حلال ہوتا ہے۔ یعنی یہ جانور، مناسک حج کی ادائیگی کے بعد، بیت اللہ اور حرم مکی میں پہنچتے ہیں اور وہاں اللہ کے نام پر ذبح کر دئیے جاتے ہیں، پس مذکورہ فوائد کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے ہی حرم کے لئے قربانی دی جاتی ہے، تو حرم میں پہنچتے ہی ذبح کردیئے جاتے ہیں اور فقراء مکہ میں ان کا گوشت تقسیم کردیا جاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥١] یہ مقررہ وقت وہ وقت ہے جب قربانی کا جانور حرم کی حدود میں یا مذبح میں پہنچ جائے۔ اس سے ان قربانی کے جانوروں سے یہی کئی طرح کے فائدے اٹھائے جاسکتے ہیں۔ مثلاً بوقت ضرورت ان پر سوار ہونا، ان کا دودھ دوہنا، ان کی اون حاصل کرنا ان سے نسل چلانا وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ اسی سورة کی آیت نمبر ٢٩ کے تحت درج شدہ حدیث نمبر ١٧ سے واضح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قربانی کا جانور ہانکنے والے ایک شخص کو اس پر سوار ہوجانے کا تاکید سے حکم دیا تھا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قربانی کے جانوروں سے فائدہ حاصل کرنا تعظیم کے منافی نہیں بلکہ تعظیم کا تعلق دل سے ہے۔ دل میں ان اشیاء کی محبت اور قدر ضرور ہونی چاہئے۔ نیز قربانی کے جانوروں سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرنا مشرکوں کا کام تھا کہ جس جانور کو کسی بت کے نام منسوب کرتے تو اس سے کچھ فائدہ حاصل کرنے کو گناہ سمجھتے تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت فرما دی۔ بعض مفسرین نے مقررہ وقت سے مراد یہ لی ہے کہ جب تک جانور کو اللہ کے نام منسوب نہ کردیا جائے یا ہدیٰ نہ بنادیا جائے۔ یہ مراد اس لئے درست نہیں کہ اللہ کے نام منسوب کرنے سے تو فوائد حاصل نہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر اس آیت میں اجازت کس چیز کی دی جارہی ہے نیز محولہ بالا حدیث بھی اس اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى : فائدوں سے مراد ان کی سواری کرنا، ان کا دودھ پینا، ان سے نسل اور اون حاصل کرنا ہے، اسی طرح ان کے گوبر وغیرہ کو ایندھن یا کھاد کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ مشرکین جس طرح قربانی کا گوشت نہیں کھاتے تھے اسی طرح قربانی کے جانوروں سے اون، دودھ یا سواری وغیرہ کا فائدہ اٹھانا بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانوروں سے اس وقت تک فائدہ اٹھانا جائز ہے جب تک انھیں قربانی کے لیے نامزد نہ کیا جائے، اس کے بعد سواری یا دودھ یا اون کا فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ” شعائر اللہ “ سے فائدہ اٹھانا بطور احسان ذکر فرمایا ہے اور ظاہر ہے کہ قربانی کے لیے نامزد ہونے کے بعد ہی جانور ” شعائر اللہ “ میں شامل ہوتے ہیں۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے : ( أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَأَی رَجُلاً یَسُوْقُ بَدَنَۃً فَقَالَ ارْکَبْھَا فَقَالَ إِنَّھَا بَدَنَۃٌ فَقَالَ ارْکَبْھَا قَالَ إِنَّھَا بَدَنَۃٌ قَالَ ارْکَبْھَا وَیْلَکَ ) [ بخاري، الحج، باب رکوب البدن : ١٦٨٩۔ مسلم، : ١٣٢٣ ] ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو ایک بدنہ (قربانی کے لیے مکہ جانے والا اونٹ) ہانک کرلے جاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ” اس پر سوار ہوجاؤ۔ “ اس نے کہا : ” یہ بدنہ ہے۔ “ فرمایا : ” اس پر سوار ہوجاؤ۔ “ اس نے کہا : ” یہ بدنہ ہے۔ “ فرمایا : ” اس پر سوار ہوجاؤ، افسوس ہو تم پر۔ “ جابر (رض) کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اِرْکَبْھَا بالْمَعْرُوْفِ إِذَا أُلْجِءْتَ إِلَیْھَا حَتّٰی تَجِدَ ظَھْرًا ) [ مسلم، الحج، باب جواز رکوب البدنۃ ۔۔ : ١٣٢٤ ] ” اس پر اس طرح سوار ہوجاؤ کہ اسے تکلیف نہ دو ، جب تمہیں اس کی ضرورت پڑجائے، یہاں تک کہ تمہیں کوئی اور سواری مل جائے۔ “ ابن کثیر نے شعبہ عن زہیر بن ابی ثابت الاعمی عن مغیرہ بن حذف کی سند سے علی (رض) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو بدنہ ہانک کرلے جاتے ہوئے دیکھا، جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، فرمایا : ” اس کا دودھ صرف اتنا پیو جو اس کے بچے سے زائد ہو اور جب یوم النحرہو تو اسے اور اس کے بچے کو ذبح کر دو ۔ “ یہ علی (رض) کا قول ہے اور تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا، مجھے مغیرہ بن حذف کے حالات نہیں ملے اور متن میں بچے کو ذبح کرنے کی بات غریب (انوکھی) ہے۔ ثُمَّ مَحِلُّهَآ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ : ” مَحِلُّهَآ “ اترنے کی جگہ۔ حلال ہونے کی جگہ سے مراد یہ ہے کہ جہاں آخر قربانی کے جانوروں کو پہنچنا ہے اور نحر یا ذبح ہونا ہے وہ بیت عتیق (کعبہ) ہے۔ دوسری جگہ فرمایا : ( هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ ) [ المائدۃ : ٩٥ ] یعنی قربانی کا ایسا جانور جو کعبہ تک پہنچنے والا ہو۔ ان دونوں آیتوں میں کعبہ سے مراد حرم کعبہ ہے، کیونکہ عین کعبہ میں تو قربانی نہیں کی جاتی، قربانی تو اس کے باہر کی جاتی ہے، چناچہ پورے مکہ یا منیٰ میں جہاں بھی قربانی کی جائے درست ہے۔ جابر بن عبداللہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( کُلُّ عَرَفَۃَ مَوْقِفٌ وَکُلٌّ مِنًی مَنْحَرٌ وَکُلُّ الْمُزْدَلِفَۃِ مَوْقِفٌ وَکُلُّ فِجَاجِ مَکَّۃَ طَرِیْقٌ وَ مَنْحَرٌ ) [ أبوداوٗد، المناسک، باب الصلاۃ بجمع : ١٩٣٧ ] ” عرفہ پورا وقوف کی جگہ ہے، منیٰ پورا نحر کی جگہ ہے اور مزدلفہ پورا وقوف کی جگہ ہے اور مکہ کی تمام سڑکیں راستہ ہیں اور نحر کی جگہ ہیں۔ “ ہمارے استاذ محمد عبدہ (رض) لکھتے ہیں، اور ہوسکتا ہے کہ ” مَحِلُّهَآ “ میں ” ھَا “ ضمیر سے مراد سارے شعائر ہوں، تو مطلب یہ ہوگا کہ آخر ان تمام مناسک کا خاتمہ بیت اللہ کے طواف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ معنی زیادہ مناسب ہے، ورنہ خصوصیت کے ساتھ ” بیت عتیق “ کہنے کا فائدہ واضح نہیں رہے گا۔ (قرطبی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى (And for you there are benefits in them upto a specified time - 22:33). It means that it is lawful for the Muslims to use the quadruped animals for their benefit (such as using their milk, riding them or using them for transport of goods) unless the animals have been made ھَدِی (Hady) by reserving them for sacrifice to be offered within the precincts of haram. When a person takes along with him an animal for the specific purpose of sacrificing it within haram, the animal is described as hady, and no benefit may be derived from it, except in extreme emergency. A person leading a camel after it has been nominated as hady may lawfully ride it only if he is unable to walk and no other mount is available. ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ (Then their place of sacrifice is by the Ancient House - 22:33) Here الْبَيْتِ الْعَتِيقِ includes the entire precincts of haram, as was the case in the previous verse where the word Al-Masjid Al-Haram was used for the entire area of haram, and mahill (place) means the place of slaughtering the animals of hady. Thus the entire haram is declared as the slaughtering place of the animals of hady. The meaning of the verse is that the hady (animals nominated for sacrifice during Hajj) may be slaughtered within, and not outside the area of haram which includes Mina and all other places of Makkah. (Ruh ul Ma ani)

لَكُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى، یعنی چوپائے جانوروں سے دودھ، سواری، باربرداری ہر قسم کے منافع حاصل کرنا تمہارے لئے اس وقت تک تو حلال ہے جب تک ان کو حرم مکہ میں ذبح کرنے کے لئے نامزد کر کے ہدی نہ بنا لیا ہو۔ ہدی اسی جانور کو کہتے ہیں جو حج یا عمرہ کرنے والا اپنے ساتھ کوئی جانور لے جائے کہ اس کو حرم شریف میں ذبح کیا جائے گا۔ جب اس کو ہدی حرم کے لئے نامزد اور مقرر کردیا تو پھر اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا بغیر کسی خاص مجبوری کے جائز نہیں جیسے اونٹ کو ہدی بنا کر ساتھ لیا اور خود پیدل چل رہا ہے سواری کے لئے کوئی دوسرا جانور موجود نہیں اور پیدل چلنا اس کے لئے مشکل ہوجائے تو مجبوری اور ضرورت کی بناء پر اس وقت سوار ہونے کی اجازت ہے۔ ثُمَّ مَحِلُّهَآ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ ، یہاں بیت عتیق سے مراد پورا حرم شریف ہے جو درحقیقت بیت اللہ ہی کا حریم خاص ہے جیسے سابقہ آیت میں مسجد حرام کے لفظ سے پورا حرم مراد لیا گیا، یہاں بیت عتیق کے لفظ سے بھی پورا حرم مراد ہے اور محلھا میں محل کے معنے موضع حلول اجل کے ہیں مراد اس سے موضع ذبح ہے یعنی ہدی کے جانوروں کے ذبح کرنے کا مقام بیت عتیق کے پاس ہے اور مراد پورا حرم ہے کہ وہ بیت عتیق ہی کے حکم میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدی کا ذبح کرنا حرم کے اندر ضروری ہے حرم سے باہر جائز نہیں۔ اور پھر حرم عام ہے خواہ منحر منیٰ ہو یا مکہ مکرمہ کی کوئی اور جگہ ہو (روح المعانی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَكُمْ فِيْہَا مَنَافِعُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّہَآ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ۝ ٣٣ۧ نفع النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] ( ن ف ع ) النفع ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3] اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں ۔ أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ عتق العَتِيقُ : المتقدّم في الزمان، أو المکان، أو الرّتبة، ولذلک قيل للقدیم : عَتِيقٌ ، وللکريم عَتِيقٌ ، ولمن خلا عن الرّقّ : عَتِيقٌ. قال تعالی: وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ [ الحج/ 29] ، قيل : وصفه بذلک لأنه لم يزل مُعْتَقاً أن تسومه الجبابرة صغارا «4» . والعَاتِقَانِ : ما بين المنکبين، وذلک لکونه مرتفعا عن سائر الجسد، والعَاتِقُ : الجارية التي عُتِقَتْ عن الزّوج، لأنّ المتزوّجة مملوکة . وعَتَقَ الفرسُ : تقدّم بسبقه، وعَتَقَ منّي يمينٌ: تقدّمت، قال الشاعر : 309- عليّ أليّة عَتُقَتْ قدیما ... فلیس لها وإن طلبت مرام ( ع ت ق ) العتیق کے معنی المتقدم یعنی پیش روکے ہیں خواہ اس کا تقدم زبان کے اعتبار سے ہو خواہ مکان یارتبہ کے اعتبار سے اس لحاظ سے العتیق کے معنی کہنہ نجیب اور آزاد شدہ غلام بھی آجاتے ہیں ۔ لہذا آیت کریمہ : ۔ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ [ الحج/ 29] اور خانہ قدیم ( یعنی بیت اللہ ) کا طواف کریں ۔ میں خانہ کعبہ کو العتیق کہنے کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ جبابرۃ کے پنجہ ستم سے ہمیشہ آزاد رہا ہے اور جابر سے جابر بادشاہ بھی اس کے مرتبہ کو پست نہیں کرسکا العاتقان دونوں طرف سے کندھوں اور گردن کے درمیانی حصے کو کہتے ہیں کیونکہ بدن کا یہ حصہ بھی باقی جسم سے بلند ہوتا ہے عاتق اس عورت کو بھی کہا جاتا ہے جو حبالہ نکاح سے آزاد ہو کیونکہ شادی شدہ عورت ایک طرح سے خاوند کی ملک میں ہوتی ہے عتق الفرس گھوڑے کا دوڑ میں آگے بڑھ جانا عتق منی یمین ۔ قسم کا واجب ہونا شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 301 ) علی الیہ عتقت قدیما ولیس لھا وان طلیت مرام مجھ پر عرصہ قدیم سے قسم واجب ہوچکی ہے اور اسے پورا کرنے سے چارہ کار نہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قربانی کے اونٹ کی سواری کا بیان قول باری ہے (لکم فیھا منافع الی اجل مسمی تمہیں ایک وقت مقرر تک ان (ہدی کے جانوروں) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے) حضرت ابن عباس، ابن عمر مجاہد اور قتادہ کا قول ہے ۔ تمہیں ان جانوروں کے دودھ ا ن کی اون اور ان کی سواری سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے یہاں تک کہ انہیں قربانی کے لئے مقرر کردیا جائے۔ پھر ان کے قربان کرنے کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔ “ محمد بن کعب القرظی سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ۔ عطاء کا قول ہے کہ ان سے فائدہ اٹھایا جاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ ان کی قربانی کردی جائے۔ عروہ بن الزبیر کا بھی یہی قول ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس اور آپ کے ہم مسلک حضرات اس پر متفق ہیں کہ قول باری (الی اجل مسمی ) سے مراد یہ ہے کہ ان جانوروں کو قربانی کے لئے مقرر کرلیا جائے۔” اجل مسمی کا ان حضرات کے نزدیک یہی مفوہم ہے۔ اس کے بعد ان کی سواری کو ان حضرات نے پسند کیا ہے۔ عطاء بن ابی رباح اور ان کے ہم مسلک حضرت ا کہنا ہے کہ بدنہ یعنی قربانی کے لئے متعین ہونے کے بعد ان کی سواری ہوسکتی ہے۔ عروہ بن الزبیر کا قول ہے کہ اس پر سواری کرے گا لیکن اسے گرانبار نہیں بنائے گا۔ اس کے بچے سے جو دودھ بچے گا اسے دودھ لے گا۔ اس سلسلے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی روایات منقول ہیں جن سے وہ حضرات استدلال کرتے ہیں جو ایسے جانوروں کی سواری کی اباحت کے قائل ہیں۔ حضرت ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بدنہ یعنی قربانی کا اونٹ ہنکا کرلے جاتے ہوئے دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” بھلے آدمی ! اس پر سوار ہو جائو۔ “ اس نے جواب دیا۔” یہ بدنہ ہے۔ “ آپ نے پھر فرمایا ” بھلے آدمی ! اس پر سوار ہو جائو۔ “ شعبہ نے قتادہ سے، انہوںں نے حضرت انس سے اور انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ روایت اس پر محمول ہے کہ آپ نے ضرورت کی بنا پر اس پر سوار ہونے کی اباحت کردی تھی۔ آپ کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ اس شخص کو اس کی سواری کی ضرورت ہے۔ یہ بات دوسری بہت سی روایات میں بیان کردی گئی ہے۔ ان میں سے ایک روایت وہ ہے جس کے راوی اسماعیل بن جعفر ہیں، انہوں نے حمید سے اور انہوںں نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گذر ایک شخص پر ہوا جو اپنے ساتھ بدنہ لئے جا رہا تھا لیکن خود پیدل چل رہا تھا، اس پر تھکن کے آثار واضح تھے آپ نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا۔ اس نے جواب میں عرض کیا کہ یہ بدنہ ہے۔ لیکن آپ نے پھر فرمایا ” اس پر سوار ہو جائو۔ “ حضرت جابر سے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا :” میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تمہیں اس پر سوار ہونے کی مجبوری پیش آ جائے تو اس وقت تک معروف طریقے سے اس کی سواری کرو جب تک تمہیں کوئی اور سواری نہ مل جائے۔ “ ابن جریج نے ابوالزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر سے ان کا قول نقل کیا ہے کہ ” میں نے ہدی کی سواری کے بارے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تمہیں اس کی ضرورت پیش آ جائے تو دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار رہو۔ “ ان روایات میں یہ بیان کردیا گیا کہ قربانی کے جانور پر سوار ہونے کی اباحت بشرط ضرورت ہے۔ وہ اس کے منافع کا مالک نہیں ہوتا اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ وہ اسے سواری کی خاطر کرائے پردے نہیں سکتا۔ اس کے لئے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر وہ اس کے منافع کا مالک ہوتا تو اسے کرائے پر دینے کے لئے عقد اجارہ کا بھی مالک ہوتا جس طرح وہ اپنی دوسری تمام مملوکہ اشیاء کے منافع کا مالک ہوتا ہے۔ ہدی کے قربان ہونے کی جگہ کا بیان قول باری ہے (واحلت لکم الانعام الا مایتلی علیکم) تاقول باری (لکم فیھا منافع الی اجل مسمی ثم محلھا الی البیت العتیق ) یہ بات تو واضح ہے کہ آیت میں مراد وہ جانور ہیں جو بطور ہدی یا بدنہ متعین ہوجائیں یا وہ جانور مراد ہیں جنہیں اپنے ذمہ عائد شدہ واجب کی ادائیگی کے لئے ہدی بنایا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ ایسے جانور جن کے یہ اوصاف ہوں ان کے قربان ہونے کی جگہ قدیم گھر کے پاس ہے۔ بیت سے یہاں سارا حرم مراد ہے کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ قربانی کے جانور نہ تو بیت اللہ کے پاس اور نہ ہی مسجد حرام کے اندر ذبح کئے جاتے ہیں، جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ سارا حرم مراد ہے اور بیت اللہ کے ذکر سے پورے حرم کی تعبیر مراد ہے۔ اس لئے کہ پورے حرم کی حرمت کا تعلق بیت اللہ کے وجود کے ساتھ ہے۔ اسامہ بن زید نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (عرفۃ کلھا موقف، وضی کلھا منحروکل فجاج مکۃ طریق و منحر، سارا عرفات جائے وقوف ہے، سارا منی بائے ذبح ہے۔ مکہ کے تمام درے (پہاڑی راستے) جائے ذبح اور راہیں ہیں۔ آیت کا عموم اس امر کا مقتضی ہے کہ تمام ہدایا یعنی قربانی کے جانوروں کی قربانی کی جگہ حرم ہو اور حرم سے باہر ذبح کی صورت میں اس کی ادائیگی نہ ہو۔ اس لئے کہ آیت نے ان ہدایا کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا ہے۔ احصار کی بنا پر بھیجے جانے والے قربانی کے جانور کے متعلق اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اس کے قربان ہونے کی جگہ بھی حرم ہے۔ اس لئے کہ قول باری ہے (ولا تحلقوا رئو وسکم حتی یبلغ الھدی محلہ اور تم اپنے سر نہ مونڈو جب تک ہدی اپنے قربان ہونے کی جگہ پر نہ پہنچ جائے) اس آیت میں قربان ہونے کی جگہ مجمل تھی یکن جب یہ ارشاد ہوا (ثم محلھا الی البیت الغیق) تو پہلی آیت کے اجمال کی اس آیت میں تفصیل بیان ہوگئی ۔ اس سے یہ بات واجب ہوگئی کہ احصار کی بناء پر بھیجے جانے والے جانور کی قربانی بھی حرم میں ہو۔ ان تمام ہدایا کے متعلق فقہاء کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے جن کا وجوب احرام کی وجہ سے ہتا ہے۔ مثلاً شکار کرنے کا جرمانہ، سر کی تکلیف پر لازم ہونے والا فدیہ اور دم تمتع وغیرہ، سب کے نزدیک ان ہدایا کے قربان ہونے کی جگہ حرم ہے۔ اس لئے احصار کی بنا پر بھیجے جانے والے ہدی کا حکم بھی یہی ہونا چاہیے اس لئے کہ اس کے وجوب کا تعلق بھی احرام کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے اسے بھی حرم کے اندر ہی قربان ہونا چاہیے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٣) تمہیں ان جانوروں سے ان پر سواری کر کے اور ان کے دودھ سے فوائد حاصل کرنا جائز ہے جب تک کہ شرعی قاعدے سے تم ان کو قربانی کے لئے وقف نہ کردو اور پھر اس کے حلال ہونے کا موقع بیت عتیق کے قریب ہیں یعنی کل حرم کہ حج کی قربانی منی میں ذبح کی جائے گی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ (لَکُمْ فِیْہَا مَنَافِعُ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی) ” یعنی قربانی کے جانوروں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے۔ مثلاً ان پر سواری کی جاسکتی ہے ‘ ان کی اون وغیرہ کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے ‘ دودھ پیا جاسکتا ہے اور اس طرح کے دوسرے فوائد بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ (ثُمَّ مَحِلُّہَآ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ) ” یعنی پھر قربانی کے دن ان جانوروں کو لے جا کر بیت اللہ میں پیش کرنا ہے۔ اصل ” مَنْحَر “ (قربان گاہ) تو بیت اللہ ہی ہے ‘ مگر اسے منیٰ تک وسعت دے دی گئی ہے۔ پرانے زمانے میں قربان گاہ مروہ کی پہاڑی کے پاس ہوا کرتی تھی اور منیٰ کے جس علاقے میں آج کل قربانی کی جاتی ہے وہ بھی دراصل اسی وادی میں شامل ہے جو مروہ سے شروع ہوتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

62. This is to remove the misunderstanding about getting any benefit from the animals dedicated for sacrifice as they were also included in the symbols of Allah. This was necessitated because the Arabs believed that it was unlawful to get any benefit from them. One could neither ride on them nor carry any load on them nor consume their milk, after they had been dedicated for sacrifice during Hajj. In this verse that misunderstanding has been removed. Abu Hurairah and Anas have reported that the Prophet (peace be upon him) saw a man walking in a miserable condition on foot leading his camel by the nosestring. When the Prophet (peace be upon him) asked him to ride on it, he replied that it was his sacrificial offering. The Prophet (peace be upon him) again urged him to ride on his camel. There is a divergence of opinion in regard to the interpretation “of an appointed term”. Some commentators, particularly Ibn Abbas, Qatadah, Mujahid, Dahhak and Ata are of the view that it refers to the time of the dedication of the animals for sacrifice. Obviously this is not the correct view, because in that case the permission to get benefit from them becomes meaningless. There are other commentators including Urwah bin Zubair and Ala bin Abi Rabah, who are of the view that “appointed term” means the time of sacrifice and one can get benefit from them up till then. One may ride on them, drink their milk, take their young ones for use and shear their hair, wool, etc. Imam Shafai has adopted this view. The Hanafites are of the opinion that one can get benefit from them, if need be, though it is preferable not to do so. 63. It does not mean that the sacrifice is to be made in the precincts of the Ancient House of the Kaah. The Quran uses the House of Allah or Masjid-i-Haram for the whole of the Inviolable Place of Makkah and not for that particular building. (Surah Al-Maidah, Ayat 95).

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :62 پہلی آیت میں شعائر اللہ کے احترام کا عام حکم دینے اور اسے دل کے تقویٰ کی علامت ٹھہرانے کے بعد یہ فقرہ ایک غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ شعائر اللہ میں ہدی کے جانور بھی داخل ہیں ، جیسا کہ اہل عرب مانتے تھے اور قرآن خود بھی آگے چل کر کہتا ہے کہ وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰھَا لَکُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللہِ ، اور ان بدی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم کا جو حکم اوپر دیا گیا ہے کیا اس کا تقاضا یہ ہے کہ بدی کے جانوروں کو بیت اللہ کی طرف جب لے جانے لگیں تو ان کو کسی طرح بھی استعمال نہ کیا جائے ؟ ان پر سواری کرنا ، یا سامان لادنا ، یا ان کے دودھ پینا تعظیم شعائر اللہ کے خلاف تو نہیں ہے ؟ عرب کے لوگوں کا یہی خیال تھا ۔ چنانچہ وہ ان جانوروں کو بالکل کوتَل لے جاتے تھے ۔ راستے میں ان سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا ان کے نزدیک گناہ تھا ۔ اسی غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ قربانی کی جگہ پہنچنے تک تم ان جانوروں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو ، ایسا کرنا تعظیم شعائر اللہ کے خلاف نہیں ہے ۔ یہی بات ان احادیث سے معلوم ہوتی ہے جو اس مسئلے میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت اَنَس سے مروی ہیں ۔ ان میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک شخص اونٹ کی مہار تھامے پیدل چلا جارہا ہے اور سخت تکلیف میں ہے ۔ آپ نے فرمایا اس پر سوار ہو جا ۔ اس نے عرض کیا یہ ہَدی کا اونٹ ہے ۔ آپ نے فرمایا ارے سوار ہو جا ۔ مفسرین میں سے ابن عباس ، قتادہ ، مجاہد ، ضحاک اور عطاء خراسانی اس طرف گئے ہیں کہ اس آیت میں ایک وقت مقرر تک سے مراد جب تک کہ جانور کو قربانی کے لیے نامزد اور ہدی سے موسوم نہ کر دیا جائے ہے ۔ اس تفسیر کی رو سے آدمی ان جانوروں سے صرف اس وقت تک فائدہ اٹھا سکتا ہے جب تک کہ وہ اسے ہدی کے نام سے موسوم نہ کر دے ۔ اور جونہی کہ وہ اسے ہدی بنا کر بیت اللہ لے جانے کی نیت کر لے ، پھر اسے کوئی فائدہ اٹھانے کا حق نہیں رہتا ۔ لیکن یہ تفسیر کسی طرح صحیح نہیں معلوم ہوتی ۔ اول تو اس صورت میں استعمال اور استفادے کی اجازت دینا ہی بے معنی ہے ۔ کیونکہ ہدی کے سوا دوسرے جانوروں سے استفادہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی شک پیدا ہی کب ہوا تھا کہ اسے اجازت کی تصریح سے رفع کرنے کی ضرورت پیش آتی ۔ پھر آیت صریح طور پر کہہ رہی ہے کہ اجازت ان جانوروں کے استعمال کی دی جا رہی ہے جن پر شعائر اللہ کا اطلاق ہو ، اور ظاہر ہے کہ یہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ انہیں ہدی قرار دے دیا جائے ۔ دوسرے مفسرین ، مثلاً عُروہ بن زبیر اور عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ وقت مقرر سے مراد قربانی کا وقت ہے ۔ قربانی سے پہلے ہدی کے جانوروں کو سواری کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں ، ان کے دودھ بھی پی سکتے ہیں اور ان کا اون ، صوف ، بال وغیرہ بھی اتار سکتے ہیں ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے ۔ حنیفہ اگرچہ پہلی تفسیر کے قائل ہیں ، لیکن وہ اس میں اتنی گنجائش نکال دیتے ہیں کہ بشرط ضرورت استفادہ جائز ہے ۔ سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :63 جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ھَدْیاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ ( المائدہ ۔ آیت 95 ) اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ کعبہ پر ، یا مسجد حرام میں قربانی کی جائے ، بلکہ حرم کے حدود میں قربانی کرنا مراد ہے ۔ یہ ایک اور دلیل ہے اس امر کی کہ قرآن کعبہ ، یا بیت اللہ ، یا مسجد حرام بول کر بالعموم حرم مکہ مراد لیتا ہے نہ کہ صرف وہ عمارت ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

20: یعنی جب تک تم نے ان جانوروں کو حج کی قربانی کے لئے خاص نہ کرلیا ہو، اُس وقت تک تم اُن سے ہر طرح کے فوائد حاصل کرسکتے ہو، اُن پر سواری کرنا بھی جائز ہے، اُن کا دودھ پینا بھی، اُن کے جسم سے اُون حاصل کرنا بھی، لیکن جب انہیں حج کے لئے خاص کرلیا گیا تو پھر ان میں سے کوئی کام جائز نہیں رہتا۔ اس کے بعد تو انہیں بیت اللہ کے آس پاس یعنی حدودِ حرم میں ذبح کر کے حلال کرنا ہی واجب ہے، اور حج کے لئے خاص کرنے کی مختلف علامتیں ہیں جن کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:33) فیھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع کیا ہے اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) اس کا مرجع بھیمۃ الانعام (آیہ 28) ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان جانوروں سے تم فائدہ اٹھا سکتے ہو ان کا دودھ پی سکتے ہو، ان پر سواری کرسکتے ہو، ان سے بچے لے سکتے ہو، ان کا گوشت کھا سکتے ہو۔ ان کی اون اور کھال سے نفع اٹھا سکتے ہو لیکن الی اجل مسمی ایک مقررہ وقت تک ۔ یعنی جب تم ان کو حرم شریف میں قربانی دینے کے لئے مقرر کردو تو پھر تم ان سے یہ منافع حاصل نہیں کرسکتے۔ لا یجوز رکوبھا ولا الحمل علیھا ولا شرط لبنھا الابضرورۃ (امام ابوحنیفہ) یعنی قربانی کے جانوروں پر سوار ہونا۔ بوجھ لادنا۔ اور ان کا دودھ پینا ۔ بجز اشد ضرورت کے جائز نہیں۔ (2) اس کا مرجع شعائر اللہ۔ اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ شعائر اللہ (آیت 32) سے مراد البدن والھدایا۔ قربانی اور بدی کے جانور ہیں۔ اور منافع سے مراد الرکوب عند الحاجۃ وشرب البانھا عند الضرورۃ ہے اور الی اجل مسمی سے مراد الی تنحر ان کے نحر ہوجانے تک ہے۔ (3) تیسری صورت یہ کہ شعائر اللہ سے مراد جملہ مناسک حج ومشاہد مکہ ہیں اور الی اجل مسمی سے مراد محلھا الی البیت یعنی تمہارے لئے ان مناسک کی ادائیگی کے دوران ثواب واجر ہے ایام حج کے ختم ہونے تک۔ جب بیت اللہ شریف میں طواف زیارت کے بعد تم احرام کھولتے ہو۔ ثم۔ پھر ۔ اس کے بعد (یعنی پہلی چیز کا دوسری چیز سے متاخر ہونا) عام طور پر الترا کی فی الرتبۃ کے لئے بھی بولا جاتا ہے ایسے موقع پر اس کے معنی ہوتے ہیں اس سے بھی بڑھ کر۔ چناچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں :۔ فعار ثم عار ثم عار شقاء المرء من اکل الطعام شرم کی بات ہے بہت ہی شرم کی بات ہے۔ بہت ہی شرم کی بات ہے کہ آدمی کھانا کھا کر بیمار ہوجائے (بہ ترتیب سعودی) محلھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ محل ظرف مکان۔ یا اسم ظرف زمان۔ قربانی کے جانور کی حلال ہونے کی جگہ۔ قربان گاہ ۔ ذبح کرنے کا مقام۔ حدود حرم۔ اس صورت میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع البدن والھدیا (قربانی کے جانور) ہوں گے۔ الخازن لکھتے ہیں :۔ محلھا ای محل الناس من احرامہم یعنی لوگوں کے احرام کھولنے کا موقع۔ الی۔ بمعنی عند۔ نزدیک۔ الی البیت العتیق سے مراد کل حرم ہے یعنی ذبح کی جگہ حدود حرم کے اندر ہے۔ ثم محلھا الی البیت العتیق۔ پھر ان کو ذبح کرنے کا مقام یا وقت بیت العتیق کے قریب ہے۔ اور یہ (ان بھیمۃ الانعام سے) فوائد کا نقطہ عرج ہے الی اجل مسمی تک ان کے دنیوی فوائد تھے۔ یعنی ان پر سواری کرنا۔ ان کا گوشت کھانا۔ ان کا دودھ پینا ان کی اون وغیرہ سے منافع حاصل کرنا۔ اور اب قربان گاہ پر آکر ان کے منافع کی انتہا ہے۔ ان کو قربان کر کے منافع دینی یعنی ثواب اخروی حاصل ہوتا ہے اور یہ دنیوی منافع سے عظیم تر ہے ۔ علامہ عبد اللہ یوسف علی نے ثم کا ترجمہ آخر کار۔ آخر میں۔ کیا ہے۔ یعنی البدن اور الھدایا کی تعظیم ومنفعت بیان کرنے کے بعد اب آخر کار ان کو قربان گاہ لا کر ذبح کر کے تکمیل مناسک کرتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ فائدوں سے مراد ان کی سواری کرنا، ان کا دودھ پینا اور ان کی نسل اور اون وغیرہ کو استعمال میں لانا ہے۔ معین میعاد سے مراد ان کی قربانی کا وقت ہے۔ (فتح القدیر) 2 ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ھدیا بالغ الکعبۃ۔ یعنی قربانی کا ایسا جانور جو کعبہ تک پہنچنے والا ہو۔ (مائدہ : ان دونوں آیتوں میں کعبہ سے مراد حدود حرم ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ” محلھا “ میں ” ھا “ ضمیر سے مرادسارے شعائر ہوں تو مطلب یہ ہوگا کہ آخر ان تمام مناسک کا خاتمہ بیت اللہ کے طواف کے ساتھ ہونا چاہیے۔ یہ یعنی زیادہ انسب ہیں ورنہ خصوصیت کے ساتھ ” بیت عتیق “ کہنے کا فائدہ واضح نہیں رہے گا۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ مراد کل حرم ہے، یعنی حرم سے باہر ذبح نہ کریں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دل کے تقویٰ کا تقاضا ہے کہ شعاء اللہ کا احترام کیا جائے۔ شعائر اللہ کا وہی احترام کرے گا جو اپنے ” اللہ “ کے سامنے قلباً اور عملاً عاجزی کرنے والا ہوگا۔ اللہ کے حضور انسان جب کسی جانور کی قربانی پیش کرتا ہے تو اس میں نیت رضائے الٰہی کے حصول کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ دین اسلام کی خوبیوں میں ایک خوبی یہ ہے کہ اس کے ہر کام میں آخرت کے اجر کے ساتھ دنیا کا فائدہ پایا جاتا ہے۔ پہلی امتوں میں یہ اصول تھا کہ قربانی پیش کرنے والا اس کا گوشت نہیں کھا سکتا تھا۔ لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ اس نے نہ صرف ہمیں قربانی کا گوشت کھانے کی اجازت عنایت فرمائی ہے بلکہ ہم قربانی کے جانور کی اون چمڑی اور ہڈیوں سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اسی طرح دیگر چوپاؤں میں ہمارے لیے فوائد رکھے گئے ہیں۔ جہاں تک قربانی کے واجب ہونے کا تعلق ہے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لیے قربانی کرنا لازم قرار دیا اور انھیں ہدایت کی تھی کہ قربانی صرف اللہ کے نام پر ہونی چاہیے اسے ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لینا فرض ہے۔ کیونکہ اسی نے تمہیں چوپائے عطا فرمائے ہیں لہٰذا وہ اکیلا ہی عبادت کے لائق ہے۔ یہاں عبادت سے پہلی مراد نذونیاز ہے جو صرف اور صرف ’ ’ اللہ “ ہی کے لیے ہونی چاہیے۔ لہٰذا ہر حال میں اپنے رب کے تابع فرماں رہو۔ جو لوگ اپنے رب کے حضور دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ مطیع ہوں گے انھیں خوشخبری کا پیغام دیا جاتا ہے۔ قربانی کی تاریخ : جب سے حضرت آدم (علیہ السلام) دنیا میں تشریف لائے اسی وقت سے لے کر ” اللہ “ کی راہ میں اس کی رضا کے لیے قربانی کرنا مشروع ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں واقعہ بیان ہوا ہے : (وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَأَ ابْنَیْ اٰدَمَ بالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِ ھِمَاوَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخِرْ قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ لَءِنْ م بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَآ أَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِأَقْتُلَکَ اِنِّیْ اَخَاف اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ) [ المائدۃ : ٢٧، ٢٨] ” آپ ان کو آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا واقعہ سنائیں۔ جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قربانی قبول نہیں کی گئی۔ جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اس نے دوسرے بھائی کو کہا کہ میں تجھے قتل کردوں گا۔ پہلے نے جواب دیا اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ “ قربانی کی فضیلت : (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَا عَمِلَ ابْنُ اٰدَمَ مِنْ عَمَلٍ یَوْمَ النَّحْرِ اَحَبَّ اِلٰی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ اِہْرَاق الدَّمِ وَاِنَّہٗ لَیَاْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاَشْعَارِھَا وَاَظْلَافِھَا وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ الْاَرْضَ فَطِیْبُوْبِھَا نَفْسًا) [ رواہ ابن ماجۃ : ابواب الاضاحی، باب ثواب الاضحیۃ ] ” ام المؤ منین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کو خون بہانے سے زیادہ پسند کوئی عمل نہیں۔ قربانی کا جانور اپنے سینگوں ‘ کھروں اور بالوں سمیت حاضر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ اس لیے قربانی دل کی خوشی کے ساتھ کیا کرو۔ “ قربانی کا اجر : (عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَاھٰذِہٖ الْاَضَاحِیْ قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ قَالُوْا فَمَالَنَا فِیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا فَالصُّوْفُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِّنَ الصُّوْفِ حَسَنَۃٌ) [ رواہ ابن ماجۃ : ابواب الاضاحی ‘ باب ثواب الاضحیۃ ] ” زید بن ارقم کا بیان ہے کہ اصحاب رسول نے آپ سے سوال کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قربانی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ صحابہ (رض) نے عرض کی کہ ہمیں اس میں کیا ملے گا ؟ ارشاد ہوا قربانی کے بالوں کے برابر ثواب ملے گا۔ رفقائے رسول (رض) پھر عرض کرتے ہیں اللہ کے نبی بھیڑ کی اون کے برابر بھی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! بھیڑ کی اون کے ایک ایک بال کے برابر نیکیاں ملیں گی۔ “ (عَنْ جُنْدُبِ ابْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْبَجَلِی (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلٰوۃِ فَلْےَذْبَحْ مَکَانَھَا اُخْرٰی وَمَنْ لَّمْ ےَذْبَحْ حَتّٰی صَلَّےْنَا فَلْےَذْبَحْ عَلَی اسْمِ اللّٰہِ ) [ رواہ البخاری : باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلیذبح علی اسم اللہ ] ” حضرت جندب بن عبداللہ البجلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے نماز عید سے پہلے جانور ذبح کیا اسے اور قربانی کرنا پڑے گی جو نمازعید کے بعد قربانی کرے اسے اللہ کے نام پر قربانی ذبح کرنی چاہیے۔ “ (حج کرنے والا قربانی کے اونٹ پر سواری کرسکتا ہے۔ البتہ جب قربانی کا وقت آئے تو اسے قربانی کرنا ہوگا۔ ) مسائل ١۔ قربانی کرنے میں دینی اور دنیاوی فوائد ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لے قربانی مقرر کی ہے۔ ٣۔ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا (بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ ) لازم ہے۔ ٤۔ اللہ ایک ہی معبود حقیقی ہے اسی کا مطیع ہونا چاہیے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرنے والوں کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔ تفسیر بالقرآن قربانی کے مسائل : ١۔ قربانی (ذوالحجہ) کے چند مخصوص دنوں میں کرنی چاہیے۔ (الحج : ٢٨) ٢۔ قربانی اللہ کے نام پر ذبح کرنی چاہیے۔ (الحج : ٣٤) ٣۔ اونٹ کو گھٹنا باندھ کر کھڑے کھڑے قربانی کرنا چاہیے۔ (الحج : ٣٦) ٤۔ قربانی کا گوشت خود بھی کھانا چاہیے اور فقیروں اور قناعت کرنے والوں کو بھی دینا چاہیے۔ ( الحج : ٣٦) ٥۔ گوشت اور خون کی بنیاد پر قربانی قبول نہیں ہوتی قربانی تقویٰ کی بنیاد پر قبول ہوتی ہے۔ (الحج : ٣٧) ٦۔ قربانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ (الصّٰفٰت : ١٠٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(لَکُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی) (ان جانوروں میں تمہارے لیے ایک وقت مقرر تک منافع ہیں) یعنی جن جانوروں کو حج یا عمرہ میں ذبح کرنے کے لیے متعین فرما دیا تو اب ان سے نفع حاصل نہ کیا جائے اس سے پہلے ان کا دودھ پینے اور اس پر سواری کرنا اور ان کا اون کاٹ کر کام میں لانا جائز تھا جب اس کے لیے جہت تقرب معین کردی کہ وہ حج یا عمرہ میں ذبح کیے جائیں گے تو اب اس سے نفع حاصل نہ کیا جائے۔ زمانہ قدیم میں ھدی کے جانور ساتھ لے جایا کرتے تھے اور انہیں مکہ مکرمہ میں یا منیٰ میں ذبح کیا کرتے تھے حج تمتع والا شخص جو جانور ساتھ لے جاتا تھا کتب فقہ میں اسے متمتع سائق الھدی کے عنوان سے ذکر کیا ہے اور اس کا حکم بعض امور میں متمتع غیر سائق الھدی سے مختلف ہے۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر بڑی تعداد میں ہدی کے جانور پہلے سے ایک صحابہ (ناحیہ اسلمی (رض) کی نگرانی میں بھیج دیئے تھے اور بہت سے جانور حضرت علی (رض) یمن سے لے کر آئے تھے یہ سو اونٹ ہوگئے تھے جنہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور حضرت علی (رض) نے منیٰ میں نحر فرمایا، تمتع اور قرآن والے پر اگرچہ ایک ہی دم واجب ہے لیکن جتنے بھی زیادہ جانور اللہ کی راہ میں ذبح کردیئے جائیں افضل ہے، حج افراد والے پر حج کی قربانی واجب نہیں لیکن اس کے لیے بھی مستحب ہے کہ قربانی کرے، صرف عمرہ کیا جائے تو اس میں قربانی واجب نہیں لیکن جتنے بھی زیادہ جانور اللہ کی راہ میں ذبح کردیے جائیں افضل ہے اس کے باوجود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرۃ الحدیبیہ کے موقع پر ہدی کے جانور لے گئے تھے جنہیں احصار ہوجانے پر وہیں ذبح فرما دیا۔ جب کسی جانور کو ہدی کے لیے متعین کردیا تو اب نہ اس کا دودھ نکالے نہ اون کاٹے اور نہ اس پر سواری کرے، ہاں اگر مجبوری ہوجائے کہ سواری کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا تو دوسری سواری ملنے تک اس پر سوار ہوسکتا ہے، ہدی کے جانور کے تھنوں میں اگر دودھ آجائے تو تھنوں پر ٹھنڈا پانی چھڑک دے تاکہ اوپر دودھ اترنا بند ہوجائے اور جس جانور کو ہدی کے لیے متعین کردیا ذبح کے بعد اس کی جھول اور باگ سب کو صدقہ کر دے اور گوشت کاٹنے والے کی اجرت بھی اس میں سے نہ دے بلکہ اپنے پاس سے ادا کرے یہی حکم عام قربانی کے جانور کا ہے۔ (ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ) (پھر ان جانوروں کے ذبح کرنے کی جگہ البیت العتیق کے نزدیک ہے) البیت العتیق سے پورا حرم مراد ہے، حرم میں جس جگہ بھی حج یا عمرہ سے متعلق جانور ذبح کر دے اس کی ادائیگی ہوجائے گی خارج حرم ان جانوروں کا ذبح کرنا درست نہیں ہے، دم احصار کے بارے میں (وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ ) فرمایا ہے اور احرام میں شکار کرنے پر جو جانور شکار کے عوض ذبح کیا جائے اس کے بارے میں (ھَدْیًام بالِغَ الْکَعْبَۃِ ) فرمایا ہے اور یہاں بھی عام ھدایا کی بارے میں (ثُمَّ مَحِلُّھَآ اِلَی الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ ) فرمایا ہے۔ مسئلہ : اگر ہدی نفلی ہو اور وہ راستہ میں ہلاک ہونے لگے تو اسے وہیں ذبح کر دے اور اسے نشان لگا کر فقراء کے لیے چھوڑ دے نہ خود کھائے نہ کوئی دوسرا صاحب نصاب کھائے اور نشانی کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی چپل لے اور اسے خون میں بھر کر جانور کی گردن پر مار دے تاکہ خون پھیل جائے اور جم جائے اور لوگ یہ سمجھ لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے اور اگر ہدی کا وہ جانور راستہ میں ہلاک ہونے لگے جو واجب تھا یا اس میں عیب پیدا ہوجائے جو ادائیگی واجب سے مانع ہو تو دوسرا جانور اس کے قائم مقام کر دے اور اس پہلے والے جانور کا جو چاہے کرے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45:۔ ” ثُمَّ مَحَلُّھَا الخ “ محل مصدر میمی ہے بمعنی وجوب یا ظرف زمان یعنی وقت ذبح۔ البیت العتیق سے بیت اللہ شریف مراد ہے یعنی بیت اللہ کے ہدایا کو بیت اللہ کے پاس منی وغیرہ میں لے جا کر اللہ کے نام پر ذبح کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ موجود ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(33) تمہارے لئے ان چوپایوں سے ایک مقررہ وقت تک فائدہ حاصل کرنے کی اجازت ہے پھر جب تم نے ان کو قربانی کے لئے نام زد کردیا تو ان کو قدیم گھر کے پاس پہنچ کر حلال ہونا ہے۔ یعنی ان چوپایوں سے تمہارے مختلف منافع ہیں۔ دودھ پینا، بار برداری کا کام لینا وغیرہ۔ لیکن جب ان کو ہدی بنالو ہدی ہونے کے بعد پھر ان کو حرم لے جاکر اللہ کے نام پر ذبح کردینا ہے۔ بیت عتیق خانہ کعبہ کو کہتے ہیں یہ نام یا تو قدامت کی وجہ سے ہے یا ظالم اور جابر حکمرانوں سے اس کو بچانے اور آزاد رکھنے کی وجہ سے ہے یہاں مراد پورا حرم ہے ہدی بنانے سے پہلے ہر قسم کے فوائد حاصل کرنے جانور سے جائز ہیں لیکن ہدی مقرر کرنے کے بعد سوائے کسی اشد ضرورت کے اس کی کوئی چیز حاصل نہیں کرسکتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مواشی میں ان کا حق ہے کہ کام لے لیجئے۔ پھر کعبہ کے پاس لے جاکر چڑھا دیجئے مگر یہ بات دشوار ہے تو جہاں بسم اللہ الہ اکبر کہا اور ذبح کیا یہ نشان ہے کہ اللہ کی نیاز کعبہ کو چڑھایا دور ہو یا نزدیک۔ 12