Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 59

سورة الحج

لَیُدۡخِلَنَّہُمۡ مُّدۡخَلًا یَّرۡضَوۡنَہٗ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیۡمٌ حَلِیۡمٌ ﴿۵۹﴾

He will surely cause them to enter an entrance with which they will be pleased, and indeed, Allah is Knowing and Forbearing.

انہیں اللہ تعالٰی ایسی جگہ پہنچائے گا کہ وہ اس سے راضی ہوجائیں گے بیشک اللہ تعالٰی علم اور بردباری والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

لَيُدْخِلَنَّهُم مُّدْخَلً يَرْضَوْنَهُ ... And verily, it is Allah Who indeed is the Best of those who make provision. Truly, He will make them enter an entrance with which they shall be well-pleased, This means Paradise, as Allah says elsewhere: فَأَمَّأ إِن كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّـتُ نَعِيمٍ Then, if he be of those brought near (to Allah), rest and provision, and a Garden of Delights. (56:88-89) Allah tells us that He will grant him rest and provision and a Garden of Delights, as He tells us here: لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزْقًا حَسَنًا (surely, Allah will provide a good provision for them). Then He says: لَيُدْخِلَنَّهُم مُّدْخَلً يَرْضَوْنَهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَلِيمٌ ... Truly, He will make them enter an entrance with which they shall be well-pleased, and verily, Allah indeed is All-Knowing, meaning, He is All-Knowing about those who migrate and strive in Jihad for His sake and who deserve that (reward). ... حَلِيمٌ Most Forbearing, means, He forgives and overlooks their sins, and He accepts as expiation for their sins, their migration (Hijrah) and their putting their trust in Him. Concerning those who are killed for the sake of Allah, whether they are Muhajirs (migrants) or otherwise, they are alive with their Lord and are being provided for, as Allah says: وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَتاً بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision. (3:169) There are many Hadiths on this topic, as stated previously. With regard to those who die for the sake of Allah, whether they are emigrants or not. This Ayah and the Sahih Hadiths guarantee that they will be well provided for and that Allah will show them kindness. Ibn Abi Hatim recorded that Shurahbil bin As-Simt said: "We spent a long time besieging a stronghold in the land of the Romans. Salman Al-Farisi, may Allah be pleased with him, passed by me and said, `I heard the Messenger of Allah say: مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا أَجْرَى اللهُ عَلَيْهِ مِثْلَ ذَلِكَ الاَْجْرِ وَأَجْرَى عَلَيْهِ الرِّزْقَ وَأَمِنَ مِنَ الفَتَّانِينَ وَاقْرَوُوا إِنْ شِيْتُمْ Whoever dies guarding the borders of Islam, Allah will give him a reward like that reward (of martyr) and will provide for him and keep him safe from trials. Recite, if you wish: وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزْقًا حَسَنًا وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ لَيُدْخِلَنَّهُم مُّدْخَلً يَرْضَوْنَهُ وَإِنَّ اللَّهَ لَعَلِيمٌ حَلِيمٌ Those who emigrated in the cause of Allah and after that were killed or died, surely, Allah will provide a good provision for them. And verily, it is Allah Who indeed is the Best of those who make provision. Truly, He will make them enter an entrance with which they shall be well-pleased, and verily, Allah indeed is All-Knowing, Most Forbearing." He also recorded that; Abdur-Rahman bin Jahdam Al-Khawlani was with Fadalah bin Ubayd when they accompanied with two funerals, at (an island of) sea one of whom had been struck by a catapult, and the other had passed away. Fadalah bin Ubayd sat by the grave of the man who had passed away and someone said to him, "Are you neglecting the martyr and not sitting by his grave!" He said, "I would not mind which of these two graves Allah would resurrect me from, for Allah says: وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزْقًا حَسَنًا ... Those who emigrated in the cause of Allah and after that were killed or died, surely, Allah will provide a good provision for them." And he recited these two Ayat, then said, "What should I seek, O you servant, if I were to enter an entrance to His pleasure, and be provided good provisions By Allah, I would not mind which of these two graves Allah would resurrect me from."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

59۔ 1 کیونکہ جنت کی نعمتیں ایسی ہونگیں، جنہیں آج تک نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا۔ اور دیکھنا سننا تو کجا، کسی انسان کے دل میں ان کا وہم و گمان بھی نہیں گزرا، بھلا ایسی نعمتوں سے بہرا یاب ہو کر کون خوش نہیں ہوگا ؟ 59۔ 2 عَلِیْم وہ نیک عمل کرنے والوں کے درجات اور ان کے مراتب استحقاق کو جانتا ہے۔ کفر و شرک کرنے والوں کی گستاخیوں اور نافرمانیوں کو دیکھتا ہے۔ لیکن ان کا فوری مؤاخذہ نہیں کرتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٧] یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ کسی نے کس کس قدر خلوص نیت کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ لہذا وہ اتنا ہی اسے زیادہ اجر دے گا اور یہاں حلیم کے لفظ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اگر کسی مہاجر سے کچھ خطا ہو بھی گئی تو اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ نہیں کرے گا اور دوسرا یہ کہ جن لوگوں نے مہاجرین کو ہجرت پر مجبور کیا تھا اللہ خوب جانتا ہے۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ حلیم ہے۔ لہذا ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ فوراً عذاب نازل نہیں کرتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَيُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَهٗ : مراد جنت ہے جسے دیکھ کر وہ خوش ہوں گے اور اس میں اپنی ہر خواہش موجود پائیں گے۔ پسندیدہ رہائش بھی رزق حسن میں شامل ہے، اس کا الگ ذکر اس لیے فرمایا کہ خوبصورت اور بہترین گھر کا اہتمام لوگ کھانے پینے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ : صفت ” عَلِیْمٌ“ کی مناسبت اس مقام کے ساتھ دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے والوں کے اعمال اور ان کی نیتوں کو خوب جاننے والا ہے، وہ ہر ایک کو ان کے مطابق جزا دے گا اور اسی طرح ہجرت پر مجبور کرنے والے کفار کے اعمال اور نیتوں سے بھی خوب واقف ہے، انھیں بھی ان کے مطابق سزا دے گا۔ اسی طرح ” حَلِيْمٌ“ کی مناسبت بھی دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ ان مہاجرین سے جو کوتاہیاں ہوئیں اللہ تعالیٰ اپنے بےانتہا حلم کی وجہ سے ان سے چشم پوشی فرما کر انھیں رزق حسن اور پسندیدہ منزل عطا فرمائے گا۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ جن کفار نے انھیں نکالا، اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنے کمال حلم کی وجہ سے اتنے بڑے جرم کے باوجود مہلت دی اور فوراً گرفت نہیں فرمائی، جس کے نتیجے میں تقریباً وہ تمام لوگ جنھوں نے مہاجرین کو مکہ سے نکالا تھا مسلمان ہوگئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَيُدْخِلَنَّہُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَہٗ۝ ٠ۭ وَاِنَّ اللہَ لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ۝ ٥٩ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ رضي يقال : رَضِيَ يَرْضَى رِضًا، فهو مَرْضِيٌّ ومَرْضُوٌّ. ورِضَا العبد عن اللہ : أن لا يكره ما يجري به قضاؤه، ورِضَا اللہ عن العبد هو أن يراه مؤتمرا لأمره، ومنتهيا عن نهيه، قال اللہ تعالی: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] ، وقال تعالی: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، وقال تعالی: وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] ، وقال تعالی: أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] ، وقال تعالی: يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] ، وقال عزّ وجلّ : وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] ، والرِّضْوَانُ : الرّضا الکثير، ولمّا کان أعظم الرِّضَا رضا اللہ تعالیٰ خصّ لفظ الرّضوان في القرآن بما کان من اللہ تعالی: قال عزّ وجلّ : وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] ، وقال تعالی: يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] ، وقال : يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ، وقوله تعالی: إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، أي : أظهر كلّ واحد منهم الرّضا بصاحبه ورَضِيَهُ. ( ر ض و ) رضی ( س ) رضا فھو مرضی و مرضو ۔ راضی ہونا ۔ واضح رہے کہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے راضی ہونا یہ ہے کہ جو کچھ قضائے الہیٰ سے اس پر وارد ہو وہ اسے خوشی سے بر داشت کرے اور اللہ تعالیٰ کے بندے پر راضی ہونے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے اپنے اوامر کا بجا لانے والا اور منہیات سے رکنے والا پائے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [ المائدة/ 119] اللہ تعالیٰ ان سے خوش اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] تو اللہ تعالیٰ ضرور ان مسلمانوں سے خوش ہوتا ہے وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِيناً [ المائدة/ 3] اور ہم نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا : ۔ أَرَضِيتُمْ بِالْحَياةِ الدُّنْيا مِنَ الْآخِرَةِ [ التوبة/ 38] کیا آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی پر قناعت کر بیٹھے ہو ۔ يُرْضُونَكُمْ بِأَفْواهِهِمْ وَتَأْبى قُلُوبُهُمْ [ التوبة/ 8] اپنی زبانی باتوں سے تو تم کو رضا مند کردیتے ہیں اور ان کے دل ہیں کہ ان باتوں سے انکار کرتے ہیں ۔ وَلا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِما آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَ [ الأحزاب/ 51] اور آزردہ خاطر نہ ہوں گی اور جو کچھ ( بھی ) تم ان کو دوگے وہ ( لے کر سب ) راضی ہوجائیں گی ۔ الرضوان رضائے کثیر یعنی نہایت خوشنودی کو کہتے ہیں ۔ چونکہ سب سے بڑی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہے اس لئے قرآن پاک میں خاص کر رضا الہی ٰ کے لئے رضوان کا لفظ استعما ل ہوا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا : ۔ وَرَهْبانِيَّةً ابْتَدَعُوها ما كَتَبْناها عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغاءَ رِضْوانِ اللَّهِ [ الحدید/ 27] اور ( لذت ) دنیا کا چھوڑ بیٹھنا جس کو انہوں نے از خود ایجاد کیا تھا ہم نے وہ طریق ان پر فرض نہیں کیا تھا مگر ( ہاں ) انہوں نے اس کو خدا ( ہی ) کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ایجاد کیا تھا ۔ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْواناً [ الفتح/ 29] اور خدا کے فضل اور خوشنودی کی طلب گاری میں لگے رہتے ہیں ۔ يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوانٍ [ التوبة/ 21] ان کا پروردگار ان کو اپنی مہربانی اور رضامندی کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔۔ : إِذا تَراضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ [ البقرة/ 232] ، جب جائز طور پر آپس میں وہ راضی ہوجائیں ۔ میں تراضوا باب تفاعل سے ہے جس کے معنی باہم اظہار رضامندی کے ہیں ، علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا حلم الحِلْم : ضبط النّفس والطبع عن هيجان الغضب، وجمعه أَحْلَام، قال اللہ تعالی: أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلامُهُمْ بِهذا [ الطور/ 32] ، قيل معناه : عقولهم ( ح ل م ) الحلم کے معنی ہیں نفس وطبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑ کنہ اٹھے اس کی جمع احلام ہے اور آیت کریمہ : ۔ قال اللہ تعالی: أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلامُهُمْ بِهذا [ الطور/ 32] ، قيل معناه : عقولهم کیا عقلیں ان کو سکھاتی ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ احلام سے عقلیں مراد ہیں۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٩) اور اللہ تعالیٰ ان کو ایسی جگہ داخل فرمائے گا جسے وہ اپنے لیے بہت ہی پسند کریں گے یعنی کہ ان کو جنت میں لے جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے ثواب اور ان کی شرافت و بزرگی کو خوب جاننے والا اور جن لوگوں نے ایسے برگزیدہ لوگوں کو قتل کیا ان کی سزا کے موخر کرنے میں بڑا حلیم ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تھا جو اللہ تعالیٰ آخرت میں مسلمانوں اور کافروں کے درمیان فرمائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

103. As Allah is All-Knowing, He knows well those who left their homes for His sake and what reward they deserve. He is Clement, and forgives minor errors and weaknesses of the people; therefore these things will not hinder Him from rewarding the believers for their services and sacrifices.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :103 علیم ہے ، یعنی وہ جانتا ہے کہ کس نے فی الحقیقت اسی کی راہ میں گھر بار چھوڑا ہے اور وہ کس انعام کا مستحق ہے ۔ حلیم ہے یعنی ایسے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں اور کمزوریوں کی وجہ سے ان کی بڑی بڑی خدمات اور قربانیوں پر پانی پھیر دینے والا نہیں ہے ۔ وہ ان سے درگزر فرمائے گا اور ان کے قصور معاف کر دے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:59) لیدخلنہم۔ مضارع بلام تاکید ونون ثقیلہ۔ ادخال (افعال) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان کو ضرور داخل کرے گا مدخلا۔ داخل ہونے کی جگہ۔ یعنی جنت۔ یرضونہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ مدخلا کی طرف راجع ہے جسے وہ پسند کریں گے۔ حلیم۔ تحمل والا۔ باوقار۔ بردبار۔ حلم سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ مراد ہے جنت جسے دیکھ کر وہ خوش ہونگے اور اس میں اپنی ہر خواہش کو موجود پائیں گے۔ (کذا فی الوحیدی) 6 ۔ یعنی اسے معلوم ہے کہ وہ کس چیز سے خوش ہونگے اور اسے یہ بھی معلوم ہے کہ کس نے اخلاص کے ساتھ اس کیلئے اپنے گھر بار کو چھوڑا۔ 7 ۔ یعنی ان کو جلدی عذاب نہیں دیتا۔ جنہوں نے ایسے نیک بندوں کو اذیتیں پہنچائیں اور انہیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(لَیُدْخِلَنَّھُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَہٗ ) (اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ایسی جگہ میں داخل فرمائے گا جس سے وہ خوش ہونگے) یعنی انہیں جنت نصیب فرمائے گا جو انہیں پسند ہوگی وہاں ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کہیں جانا گوارا نہیں کریں گے (وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ) (اور اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے حلم والا ہے) سب کے اعمال کو جانتا ہے اپنے علم کے مطابق جزا سزا دے گا اور وہ حلیم بھی ہے سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا حکمت کے مطابق اور اجل مقرر کے موافق سزا دے گا۔ شاید کسی کو اشکال ہو کہ مقتول اور طبعی موت مرنے والے کے درمیان بظاہر فرق ہونا چاہئے لیکن آیت شریفہ کے ظاہری الفاظ سے مساوات مفہوم ہو رہی ہے یہ اشکال وقیع نہیں ہے کیونکہ آیت شریفہ میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں رزق حسن عطا فرمائے گا برابری کا کوئی ذکر نہیں ہے جس کو جتنا بھی ملے گا وہ رزق حسن ہی ہوگا اگرچہ فرق مراتب ہو قال صاحب الروح ناقلا عن البحران التسویۃ فی الوعد بالرزق الحسن لا تدل علی تفضیل فی المعطی و لا تسویۃ فان یکن تفضیل فمن دلیل أخرو ظاھر الشریعۃ ان المقتول افضل انتھی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

72:۔ ” لَیُدْخِلَنَّھُمْ الخ “ اور ان کو ایسے بہشتوں میں داخل کیا جائے گا جنہیں وہ پسند کریں گے اور جہاں انہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔ اور نہ کسی چیز کی کمی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کو جانتا ہے اس لیے ان کی نیات صالحہ کے مطابق ان کو اعزازو اکرام عطا کرے گا اور ان کی کوتاہیوں اور لغزشوں سے در گذر فرمائے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(59) یقیناً اللہ تعالیٰ ان مہاجرین مذکورکو ایک ایسی جگہ پہنچائے گا کہ وہ اس جگہ کو دیکھ کر بہت ہی پسند کریں گے اور یقیناً اللہ تعالیٰ سب جاننے والا اور بڑے تحمل والا ہے۔ یعنی رزق حسن کے ساتھ مسکن بھی ایسا ہوگ جس کو یہ مہاجرین بہت پسند کریں گے۔ رہی یہ بات کہ مسلمان قتل کیوں کئے گئے اور کفار کو پکڑ ا کیوں نہیں تو اس کا جواب ہے کہ ہم اپنی مصالح کو خوب جانتے ہیں اور بڑے علیم ہیں۔ کفار سے جلدی بدلہ نہ لینے کی وجہ یہ ہے کہ ہم بڑے علم اور تحمل کے مالک ہیں۔