Surat ul Hajj

Surah: 22

Verse: 72

سورة الحج

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعۡرِفُ فِیۡ وُجُوۡہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الۡمُنۡکَرَ ؕ یَکَادُوۡنَ یَسۡطُوۡنَ بِالَّذِیۡنَ یَتۡلُوۡنَ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِنَا ؕ قُلۡ اَفَاُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ اَلنَّارُ ؕ وَعَدَہَا اللّٰہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۷۲﴾  16

And when Our verses are recited to them as clear evidences, you recognize in the faces of those who disbelieve disapproval. They are almost on the verge of assaulting those who recite to them Our verses. Say, "Then shall I inform you of [what is] worse than that? [It is] the Fire which Allah has promised those who disbelieve, and wretched is the destination."

جب ان کے سامنے ہمارے کلام کی کھلی ہوئی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے تو آپ کافروں کے چہروں پر ناخوشی کے صاف آثار پہچان لیتے ہیں ۔ وہ تو قریب ہوتے ہیں کہ ہماری آیتیں سنانے والوں پر حملہ کر بیٹھیں کہہ دیجئے کہ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ بدتر خبر دوں ۔ وہ آگ ہے جس کا وعدہ اللہ نے کافروں سے کر رکھا ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ ايَاتُنَا بَيِّنَاتٍ ... And when Our clear Ayat are recited to them, means, when the Ayat of the Qur'an and clear evidence and proof for Tawhid of Allah are mentioned to them, and they are told that there is no god besides Allah and that the Messengers spoke the truth, ... تَعْرِفُ فِي وُجُوهِ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمُنكَرَ ... you will notice a denial on the faces of the disbelievers! ... يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ ايَاتِنَا ... They are nearly ready to attack with violence those who recite Our Ayat to them. then they nearly attack and do harm to those who bring proof to them from the Qur'an, and cause them harm using their tongues and hands. ... قُلْ ... Say, (O Muhammad to these people), ... أَفَأُنَبِّيُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَلِكُمُ النَّارُ وَعَدَهَا اللَّهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ... Shall I tell you of something worse than that! The Fire! which Allah has promised to those who disbelieved, The fire and wrath and torment of Allah are far worse than that with which you are trying to scare the believing close friends of Allah in this world. The punishment in the Hereafter for these deeds of yours is worse than that what you claim you want to do to the believers. ... وَبِيْسَ الْمَصِيرُ and worst indeed is that destination! how terrible is the Fire as a final destination and abode! إِنَّهَا سَأءَتْ مُسْتَقَرّاً وَمُقَاماً Evil indeed it is as an abode and as a place to rest in. (25:66)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

72۔ 1 اپنے ہاتھوں سے دست درازی کرکے یا بد زبانی کے ذریعے سے۔ یعنی مشرکین اور اہل ضلالت کے لئے اللہ کی توحید اور رسالت و قیامت کا بیان ناقابل برداشت ہوتا ہے، جس کا اظہار، ان کے چہرے سے اور بعض دفعہ ہاتھوں اور زبانوں سے ہوتا ہے۔ یہی حال آج کے اہل بدعت اور گمراہ فرقوں کا ہے، جب ان کی گمراہی، قرآن و حدیث کے دلائل سے واضح کی جاتی ہے تو ان کا رویہ بھی آیات قرآنی اور دلائل کے مقابلے میں ایسا ہی ہوتا ہے، جس کی وضاحت اس آیت میں کی گئی ہے (فتح القدیر) 72۔ 2 یعنی ابھی تو آیات الٰہی سن کر صرف تمہارے چہرے ہی حیران ہوتے ہیں۔ ایک وقت آئے گا، اگر تم نے اپنے اس روئیے سے توبہ نہیں کی، کہ اس سے کہیں زیادہ بدتر حالات سے تمہیں دو چار ہونا پڑے گا، اور وہ ہے جہنم کی آگ میں جلنا، جس کا وعدہ اللہ نے اہل کفر و شرک سے کر رکھا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠١] یعنی مشرکوں کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی ایسی آیات پڑھی جاتی ہیں جن میں خالص توحید کا ذکر ہوتا ہے اور یہ بتلایا جاتا ہے کہ تصرف امور کے جملہ اختیارات صرف اللہ کو ہیں اور کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں تو ان مشرکوں کے تیور بگڑنے لگتے ہیں اور وہ یوں کعیدہ خاطر ہونے لگتے ہیں کہ کبھی ایسی آیات سنانے والے پر حملہ کردیں گے یا چپت رسید کردیں گے۔ آپ انھیں کہئے کہ بیشک تمہیں یہ آیات ناگوار ہیں۔ لیکن اس ناگواری کا انجام اس سے بھی زیادہ ناگوار ہوگا اور وہ ہے آگ کا عذاب۔ اب تم خود ہی فیصلہ کرلو کہ ان دونوں ناگوار باتوں میں سے کون سی بات تمہیں قابل قبول ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا ۔۔ : ” الْمُنْكَرَ “ مصدر میمی ہے یعنی انکار، یا اسم مفعول ہے یعنی ایسی حالت جو مانوس اور پہچانی ہوئی نہیں بلکہ انوکھی اور بری ہے۔ ” يَسْطُوْنَ “ ” سَطَا یَسْطُوْ سَطْوَۃً “ سخت پکڑنا یا حملہ کردینا، یعنی ان باطل کے پجاری مشرکوں کا اپنے بےحقیقت اور بےبنیاد داتاؤں اور جھوٹے خداؤں کی حمیت کا یہ حال ہے کہ جب ان پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں یعنی ان کے سامنے کوئی بھی ہماری آیات پڑھ دیتا ہے، جو ہماری توحید وصفات اور آخرت وغیرہ کے بیان میں بالکل واضح ہیں اور جو اتنی پر حکمت اور بلیغ ہیں کہ ان کا ہمارا کلام ہونا بالکل واضح ہے، تو ان کافروں کے چہروں ہی سے ان کا صاف انکار پہچانا جاتا ہے۔ ان کی حالت بری ہوجاتی ہے جو نظر آرہی ہوتی ہے۔ ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے، رگیں پھول جاتی ہیں، چہرے بگڑ جاتے ہیں، بھویں تن جاتی ہیں اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں، قریب ہوتا ہے کہ وہ اپنے سامنے ہماری آیات پڑھنے والوں پر حملہ ہی کردیں۔ شوکانی نے فرمایا کہ اہل بدعت کا بھی قرآن و سنت کے دلائل سن کر یہی حال ہوتا ہے۔ توحید سے مشرکوں کی نفرت کا بیان سورة زمر کی آیت (٤٥) ” وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ “ میں بھی ملاحظہ فرمائیں۔ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ ۭ اَلنَّارُ ۔۔ : یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ پھر کیا میں تمہیں تمہارے انکار، غیظ و غضب کی آگ اور چہروں کے بگڑ جانے کی حالت سے کہیں زیادہ تمہارے لیے بری اور ناگوار چیز بتاؤں ؟ وہ جہنم کی آگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات سے کفر کرنے والوں کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور جو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے۔ سو تم لوگ اہل حق اور آیات الٰہی سے چڑنے اور غیظ و غضب کی آگ میں جلنے کے بجائے جہنم کی اس ہولناک آگ سے بچنے کی فکر کرو۔ ایسا نہ ہو کہ توبہ کی فرصت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْہِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ۝ ٠ۭ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْہِمْ اٰيٰتِنَا۝ ٠ۭ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ۝ ٠ ۭ اَلنَّارُ۝ ٠ۭ وَعَدَہَا اللہُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۝ ٠ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ۝ ٧٢ۧ تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت ( پڑھنے ) ۔ اور اس کے معانی سمجھنے کے لئے غور وفکر کرنے کی صورت میں ہوتی ہے اس معنی کے لئے اس کا مصدر تلاوۃ آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] اور چاند کی قسم جب وہ سورج کا اتباع کرتا ہے ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ بينات يقال : بَانَ واسْتَبَانَ وتَبَيَّنَ نحو عجل واستعجل وتعجّل وقد بَيَّنْتُهُ. قال اللہ سبحانه : وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] ، وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] ، ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] ، قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ، قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآياتِ [ آل عمران/ 118] ، وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ الزخرف/ 63] ، وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ النحل/ 39] ، فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] ، وقال : شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] . ويقال : آية مُبَيَّنَة اعتبارا بمن بيّنها، وآية مُبَيِّنَة اعتبارا بنفسها، وآیات مبيّنات ومبيّنات . والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «2» ، وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ( ب ی ن ) البین کے معنی ظاہر اور واضح ہوجانے کے ہیں اور بینہ کے معنی کسی چیز کو ظاہر اور واضح کردینے کے قرآن میں ہے ۔ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح ( کاملہ ) کیا تھا ۔ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] چناچہ ان کے ( ویران ) گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے ۔ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ہدایت صاف طور پر ظاہر ( اور ) گمراہی سے الگ ہوچکی ہو ۔ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآياتِ [ آل عمران/ 118] ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دیں ۔ وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ الزخرف/ 63] نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کررہے ہو تم کو سمجھا دوں وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادت ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ النحل/ 39] تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے ۔ فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] ( روزوں کا مہنہ ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( وال وال ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے ۔ اور بیان کرنے والے کے اعتبار ہے آیت کو مبینۃ نجہ کہا جاتا ہے کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔ خواہ وہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسۃ اور شاھدان ( دو گواہ ) کو بھی بینۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے : کہ مدعی پر گواہ لانا ہے اور مدعا علیہ پر حلف ۔ قرآن میں ہے أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل ( روشن رکھتے ہیں ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] تاکہ جو مرے بصیرت پر ( یعنی یقین جان کر ) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر ) یعنی حق پہچان کر ) جیتا رہے ۔ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں کے کر آئے ۔ البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا ۔ عرف المَعْرِفَةُ والعِرْفَانُ : إدراک الشیء بتفکّر وتدبّر لأثره، وهو أخصّ من العلم، ويضادّه الإنكار، قال تعالی: فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] ، فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] ( ع رف ) المعرفۃ والعرفان کے معنی ہیں کسی چیز کی علامات وآثار پر غوروفکر کرکے اس کا ادراک کرلینا یہ علم سے اخص یعنی کم درجہ رکھتا ہے اور یہ الانکار کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛ فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] پھر جس کو وہ خوب پہنچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس کافر ہوگئے ۔ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ ان کو نہ پہچان سکے ۔ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ نكر الإِنْكَارُ : ضِدُّ العِرْفَانِ. يقال : أَنْكَرْتُ كذا، ونَكَرْتُ ، وأصلُه أن يَرِدَ علی القَلْبِ ما لا يتصوَّره، وذلک ضَرْبٌ من الجَهْلِ. قال تعالی: فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] وقد يُستعمَلُ ذلک فيما يُنْكَرُ باللّسانِ ، وسَبَبُ الإِنْكَارِ باللّسانِ هو الإِنْكَارُ بالقلبِ لکن ربّما يُنْكِرُ اللّسانُ الشیءَ وصورتُه في القلب حاصلةٌ ، ويكون في ذلک کاذباً. وعلی ذلک قوله تعالی: يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] ، فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ ( ن ک ر ) الانکار ضد عرفان اور انکرت کذا کے معنی کسی چیز کی عدم معرفت کے ہیں اس کے اصل معنی انسان کے دل پر کسی ایسی چیز کے وارد ہونے کے ہیں جسے وہ تصور میں نہ لاسکتا ہو لہذا یہ ایک درجہ جہالت ہی ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا رَأى أَيْدِيَهُمْ لا تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ [هود/ 70] جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہین جاتے ( یعنی وہ کھانا نہین کھاتے ۔ تو ان کو اجنبی سمجھ کر دل میں خوف کیا ۔ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58] تو یوسف (علیہ السلام) کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو پہچان لیا اور وہ اس کو نہ پہچان سکے ۔ اور کبھی یہ دل سے انکار کرنے پر بولا جاتا ہے اور انکار لسانی کا اصل سبب گو انکار قلب ہی ہوتا ہے ۔ لیکن بعض اوقات انسان ایسی چیز کا بھی انکار کردیتا ہے جسے دل میں ٹھیک سمجھتا ہے ۔ ایسے انکار کو کذب کہتے ہیں ۔ جیسے فرمایا ۔ يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَها[ النحل/ 83] یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر واقف ہوکر ان سے انکار کرتے ہیں ۔ فَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [ المؤمنون/ 69] اس وجہ سے ان کو نہیں مانتے ۔ كَادَ ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] ، لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] . وقلّما يستعمل في كاد أن إلا في ضرورة الشّعر «1» . قال قد كَادَ من طول البلی أن يمصحا«2» أي : يمضي ويدرس . ( ک و د ) کاد ( س ) فعل مقارب ہے یعنی کسی فعل کے قریب الوقوع ہون کو بیان کرنے کے لئے آتا ہے مثلا کا دیفعل قریب تھا وہ اس کا م کو گزرتا یعنی کرنے والا تھا مگر کیا نہیں قرآن میں لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے ۔ وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] قریب تھا کہ یہ ( کافر) لگ تم اس سے بچلا دیں ۔ تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] قریب ہے کہ ( اس فتنہ ) سے آسمان پھٹ پڑیں ۔ ؛ يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] قریب ہے ک کہ بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کی بصاحب کو اچک لے جائے ۔ يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] قریب ہوتے ہیں کہ ان پر حملہ کردیں إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] تو تو مجھے ہلا ہی کرچکا تھا ۔ اور اگر ا ن کے ساتھ حرف نفی آجائے تو اثباتی حالت کے برعکدس فعل وقوع کو بیان کرنے کیلئے آتا ہے جو قوع کے قریب نہ ہوا اور حروف نفی اس پر مقدم ہو یا متاخر دونوں صورتوں میں ایک ہی معنی دیتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] اور وہ ا یسا کرنے والے تھے نہیں ۔ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اور کاد کے بعد ا ان کا استعمال صرف ضرورت شعری کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ( الرجز) ( 387 ) قد کاد من طول البلیٰ ان یمصحا قریب تھا کہ زیادہ بوسیدہ گی کے باعث وہ سٹ جائے سطو السَّطْوَةُ : البطش برفع الید . يقال : سَطَا به . قال تعالی: يَكادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آياتِنا[ الحج/ 72] ، وأصله من : سَطَا الفرس علی الرّمكة «1» يَسْطُو إذا أقام علی رجليه رافعا يديه إمّا مرحا، وإمّا نزوا علی الأنثی، وسَطَا الرّاعي : أخرج الولد ميّتا من بطن أمّه، وتستعار السَّطْوَةُ للماء کالطّغو، يقال : سَطَا الماء وطغی. ( س ط و ) السطروۃ ( تعدیہ بواسطہ باء ) کے معنی کسی کو سختی سے پکڑنے کے ہیں جیسے سطا بہ ( ن ) اس کو سخت پکڑا یا اس پر حملہ کیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ يَكادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آياتِنا[ الحج/ 72] قریب ہوتے ہیں کہ جو لوگ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ان پر حملہ کردیں ۔ یہ اصل میں سطا الفرس ( ن ) علی الرمکۃ سے مشتق ہے جس کے معنی نر گھوڑے کے اپنی اگلی دونوں ٹانگیں اٹھا کر اپنی مادہ پر پڑھ جانے کے ہیں ۔ خواہ بوجہ نشاط کے ہو یا جفتی کی غرض سے اسی طرح سطا الراعی علی الناقۃ کے معنی چرواہے کے اونٹنی کے فرج میں ہاتھ ڈال کر اس کے پیٹ سے مردہ بچہ نکالنے کے ہیں ۔ پھر استعارہ کے طور پر طغو کی طرح سطوۃ کا لفظ بھی پانی کی زیادتی پر بولا جاتا ہے اور طغی الماء وسطا کے معنی پانی کے طغیانی میں آجانے کے ہیں ۔ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے ہیں نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر ( یعنی دھمکی اور تہدید ) کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اور اس معنی میں باب اوعد ( توقد استعمال ہوتا ہے ۔ اور واعدتہ مفاعلۃ ) وتوا عدنا ( تفاعل ) کے معنی باہم عہدو پیمان کر نا کے ہیں ( قرآن کریم میں ودع کا لفظ خيٰر و شر دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے ( چناچہ وعدہ خیر کے متعلق فرمایا إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] جو ودعے خدا نے تم سے کیا تھا وہ تو سچا تھا ۔ أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا ۔ بِئْسَ و «بِئْسَ» كلمة تستعمل في جمیع المذام، كما أنّ نعم تستعمل في جمیع الممادح، ويرفعان ما فيه الألف واللام، أو مضافا إلى ما فيه الألف واللام، نحو : بئس الرجل زيد، وبئس غلام الرجل زيد . وينصبان النکرة نحو : بئس رجلا، ولَبِئْسَ ما کانوا يَفْعَلُونَ [ المائدة/ 79] ، أي : شيئا يفعلونه، ( ب ء س) البؤس والباس بئس ۔ فعل ذم ہے اور ہر قسم کی مذمت کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ نعم ہر قسم کی مدح کے لئے استعمال ہوتا ہے ان کا اسم اگر معرف بالللام ہو یا معرف باللام کی طرف مضاف ہو تو اسے رفع دیتے ہیں جیسے بئس الرجل زید وبئس غلام الرجل زید ۔ اور اسم نکرہ کو نصب دیتے ہیں جیسے قرآن میں ہے ؛ ۔ { بِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ } ( سورة المائدة 79) یعنی بلا شبہ وہ برا کرتے تھے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٢) اور جب ان لوگوں کے سامنے قرآن حکیم کی آیتیں جو کہ اوامرو نواہی کے بیان میں خوب واضح ہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو آپ ان منکرین قرآن کے چہروں پر قرآن کریم سے ناگواری کے آثار دیکھتے ہیں۔ قریب ہے کہ یہ ان لوگوں پر ابھی حملہ کردیں جو ان کو قرآن کریم کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں، آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کیا میں تمہیں اس سے زیادہ ناگواری کی چیز بتا دوں جو کہ تم اس دنیا میں مسلمانوں سے کہتے ہو وہ دوزخ ہے کیونکہ وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم نے تم سے زیادہ کم نفع والا کسی دین والے کو نہیں دیکھا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے یہ کہنے کا حکم دیا کہ وہ دوزخ ہے اور اس کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور تم بھی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کے ساتھ کفر کرتے ہو اور وہ برا ٹھکانا ہے جس کی طرف تم جاؤ گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٢ (وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمُنْکَرَ ط) ” اللہ عزوجل کا کلام سن کر خوشی سے کھل اٹھنے کی بجائے ان کے چہروں پر بیزاری اور ناگواری کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں۔ (قُلْ اَفَاُنَبِّءُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکُمْط ) ” یعنی جس قدر ناگواری تمہیں اس وقت ہو رہی ہے اور جس قدر سختی تم پر اس وقت بیت رہی ہے جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں ‘ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بڑھ کر ناگوار اور سخت چیز تمہارے لیے کیا ہوگی ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

122. That is, you will meet with a far worse state of anguish than that which you display against those who recite divine revelations to you.

سورة الْحَجّ حاشیہ نمبر :122 یعنی کلام الہٰی کی آیات سن کر جو غصے کی جلن تم کو لاحق ہوتی ہے اس سے شدید تر چیز ، یا یہ کہ ان آیات کو سنانے والوں کے ساتھ جو زیادہ سے زیادہ برائی تم کرسکتے ہو اس سے زیادہ بد تر چیز ، جس سے تمہیں سابقہ پیش آنے والا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

32: مطلب یہ ہے کہ ابھی تو تم ان آیتوں ہی کو ناگوار سمجھ رہے ہو، آخرت میں جب آگ سامنے آئے گی تو پتہ چلے گا کہ اصل ناگوار چیز کیا تھی

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(22:72) تتلی۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ بمعنی جمع مؤنث غائب تلاوۃ مصدر (جب) وہ پڑھی جاتی ہیں۔ یا اس کی تلاوت کی جاتی ہے۔ بینت۔ وضاحت کے ساتھ۔ کھول کھول کر۔ صاف صاف (ایت سے حال ہے) تعرف۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو پہچان لے گا۔ تو پہچانا گا۔ (بمعنی تو دیکھے گا) تو پہچان لیتا ہے۔ معرفۃ وعرفان مصدر۔ (باب ضرب) ۔ المنکر۔ ناخوشی۔ ناخوشی ونفرت کے آثار ۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ وہ قول وفعل جس کو عقل سلیم برا جانتی ہو یا شریعت نے اسے برا قرار دیا ہو۔ (یعنی جب ہماری آیات ان کو وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر سنائی جاتی ہیں تو تو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی اور نفرت کے آثار دیکھے گا) ۔ یکادون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ کاد یکاد کود (باب سمع) کاد اصل میں کود تھا۔ افعال مقاربہ میں سے ہے۔ اور افعال ناقصہ کی طرح عمل کرتا ہے۔ فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے۔ کاد اگر بصورت اثبات ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا گو قریب الوقوع ضرور تھا۔ جیسے کاد یزیغ قلوب فریق منہم۔ (9:117) ان میں سے ایک گروہ کے دل کج ہونے کے قریب پہنچ ہی گئے تھے۔ (لیکن ابھی کج نہیں ہوئے تھے) اور اگر بصورت نفی مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع ہوگیا لیکن عدم وقوع کے قریب تھا۔ جیسے فذبحوھا وما کادوا یفعلون (2:71) پھر انہوں نے اسے ذبح کیا۔ گو وہ ذبح نہ کرنے کی حد تک پہنچ گئے تھے۔ (یعنی بہانے بنا چکے تھے) کبھی یہ زائد ہوتا ہے اور صرف وصل کلام کے لئے آتا ہے۔ جیسے اذا اخرج یدہ لم یکد یرھا۔ (24:40) جب آدمی اپنا ہاتھ نکالتا ہے تو اسے دیکھ نہیں پاتا۔ ای لم یرھا۔ یسطون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ سطوۃ مصدر۔ وہ حملہ کردیں۔ سطایسطو۔۔ بہ وعلیہ۔ کسی پر حملہ کر کے مغلوب کرنا۔ سطو وسطوۃ مصدر۔ یکادون یسطون بالذین یتلون علیہم ایتنا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ (کافر لوگ) ان پر جو کافروں کو ہماری آیات پڑھ کر سناتے ہیں جھپٹ ہی پڑیں گے (ایتنا جمع مؤنث سالم کا اعراب بحالت نصب وجر کسرہ کے ساتھ آتا ہے) ۔ افانبئکم۔ ہمزہ استفہامیہ۔ ف زائد انبیء مضارع واحد متکلم تنبئۃ سے تفعیل مصدر کضمیر ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کیا میں تم کو بتائوں۔ کیا میں تم کو خبر دوں۔ لشر۔ برائی۔ شر۔ شر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہے۔ خیر کی ضد ہے یہاں بمعنی افعل آیا ہے یعنی بدتر۔ زیادہ نقصان دہ۔ مکروہ تر۔ اسی سے شریر وشرارۃ ہے کہ ہر دو میں کراہت و نقصان کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اور اس سے شرر بمعنی چنگاری ہے۔ آگ کی چنگاری کو شرر اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے بھی نقصان کا اندیشہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے ترمی بشرر کالقصر (77 : 32) اس سے آگ کی (اتنی اتنی بڑی) چنگاریان اڑتی ہیں جیسے محل۔ النار۔ النارھی النار۔ (کبر جس کا مبتدا محذوف ہے) ۔ المصیر۔ ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ قرار گاہ۔ صار یصیر (ضرب) سے اسم ظرف مکان نیز مصدر بھی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ یعنی غصہ سے ایسی شکل بناتے ہیں گویا ابھی کاٹ کھائیں گے۔ قاضی شوکانی (رح) لکھتے ہیں : ” یہی کیفیت اہل بدعت کی ہوتی ہے جب انہیں قرآن کی کوئی ایسی آیت یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی ایسی صحیح حدیث سنائی جاتی ہے جو ان کے باطل عقائد کی تردید کرتی ہو۔ (فتح القدیر) 7 ۔ یعنی کلام الٰہی کی آیات سن کر تم میں غصہ کی جو کیفیت پیدا ہوتی ہے یا ان آیات کے سنانے والوں کے ساتھ جو برے سے برا سلوک تم کرسکتے ہو کیا میں تمہیں اس سے بھی بری چیز نہ بتائوں جس سے تمہیں سابقہ پڑنے والا ہے ؟ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ جیسے چہرے پر بل پڑجا نا ناک چڑھ جانا، تیور بدل جانا۔ 6۔ یعنی قرآن سے ناگواری کا نتیجہ ناگوار دوزخ ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی دلیل نہ ہونے کے باوجود مشرک کا ردِّ عمل۔ مشرکانہ طبیعت کا یہ خاصہ ہے کہ جب اس کے سامنے اللہ کی ذات، صفات اور اسی ایک کی عبادت کرنے کا ذکر کیا جائے تو اسے ایسی بات اور واعظ اچھا نہیں لگتا۔ حتٰی کہ ایسی آیات کے ساتھ بےاعتنائی ظاہر کرتے ہیں۔ اہل مکہ کے سامنے سرورگرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) توحید پر مبنی آیات کی تلاوت کرتے تو طیش میں آکر ان کے چہروں کے رنگ بدل جاتے یہاں تک کہ وہ آپ پر ٹوٹ پڑنے کی کوشش کرتے اور اس پر سرور گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ آپ انھیں فرمائیں کہ آج عقیدہ توحید کے ذکر کی وجہ سے تمہارے چہرے متغیر ہوجاتے ہیں لیکن وہ وقت یاد کرو جب تمہیں جہنم میں پھینکا جائے گا اور جہنم کی آگ تمہارے چہروں کو بگاڑ کر رکھ دے گی۔ کفار کے ساتھ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا۔ جس جہنم میں تجھے پھینکا جائے گا وہ رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ اہل مکہ کو جس بات سے سب سے زیادہ چڑ تھی وہ عقیدہ توحید تھا۔ نبوت کے ابتدائی دور میں مکہ والوں نے آپ کی ذات اور آپ کے ساتھیوں پر بےانتہا مظالم ڈھائے لیکن جب آپ کے ساتھی زیادہ ہوگئے بالخصوص حضرت عمر (رض) اور حضرت حمزہ (رض) ایمان لائے تو اہل مکہ نے مخالفت کرنے کے ساتھ ساتھ مصالحت کی پالیسی اختیار کی۔ انھوں نے بارہا دفعہ آپ سے مطالبہ کیا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرتے ہیں۔ (القلم : ٩) لیکن سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ توحید اور شرک کا آپس میں معاہدہ اور ملاپ نہیں ہوسکتا۔ ” اے پیغمبر ! فرما دو کہ اے کافرو ! جن کو تم پوجتے ہو ان کو میں نہیں پوجتا اور جس الٰہ کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔ اور جن کی تم پرستش کرتے ہو ان کی میں پرستش کرنے والا نہیں ہوں۔ اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ہے “ [ الکافرون ] مسائل ١۔ مشرک کی نشانی ہے کہ وہ توحید خالص کا تذکرہ سننا گوار انہیں کرتا۔ ٢۔ توحید کا ذکر سنتے ہی مشرک کے چہرے کا رنگ بدلنا شروع ہوجاتا ہے۔ ٣۔ توحید کے ذکر کے ردِّ عمل میں مشرک مواحد پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ٤۔ مشرک کو جہنم میں پھینکا جائے گا جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ مشرک کو ضرور جہنم میں داخل کرے گا اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ تفسیر بالقرآن توحید کے ردِّ عمل میں مشرک کی کیفیت : ١۔ جب مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں تو وہ تکبر کرتے ہیں۔ ( الصافات : ٣٥) ٢۔ جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل جل جاتے ہیں۔ ( الزمر : ٤٥) ٣۔ جب تنہا ایک رب کی طرف بلایا جاتا ہے تو مشرکین اس دعوت کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ ( المؤمن : ١٢) ٤۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرو تو وہ انکار کرتے ہوئے مزید نفرت کرتے ہیں۔ ( الفرقان : ٦٠) ٥۔ جب مشرکین سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے آباء و اجداد کی پیروی کریں گے۔ ( البقرۃ : ١٧٠) ٦۔ جب قرآن میں تیرے اکیلے رب کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو وہ اپنی پیٹھوں کے بل بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : ٤٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

واذا ……ایتنا ط یہ لوگ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیتے۔ نہ دلیل کو دلیل سے رد کرتے ہیں بلکہ یہ دلیل کے مقابلے میں غصہ کر کے مخالف کو کھا جانا چاہتے ہیں اور یہ دلیل نہ ہونے کی علامت ہے اور سرکشوں کی آخری دلیل یہ ہوتی ہے کہ وہ لڑ پڑتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں۔ وہ حق کا کلمہ سننا ہی نہیں چاہتے۔ ڈنڈے کی دلیل سے بات کرتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس ڈنڈے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ان کو یہ جواب دیتا ہے : قل افانبئکم ……(٢٧) ” ان سے کہو میں بتائوں تمہیں کہ اس سے بد تر چیز ہے ؟ آگ ، اللہ نے اسی کا وعدہ ان لوگوں کے حق میں رکر رکھا ہے جو قبول حق سے انکار کریں اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ “ یہ کہ تم دلیل کا جواب ڈنڈے سے دیتے ہو تو پھر قوت کے مقابلے میں ایک بڑی قوت ہے۔ اس کا سامنا کرو اور انتظار کرو انجام کا۔ لیکن یاد رکھو کہ وہ بہت ہی برا نجام ہے۔ …… اب اس سورة کا اعلان عام ، تمام لوگوں کے لئے قرار داد ، جبراً بآواز بلند کہ لوگو ذرا اپنے معبودوں پر غور تو کرو۔ اللہ کے سوا جو شخص جس قسم کا الہ پوجتا ہے اس سے مدد طلب کرتا ہے جس شکل و صورت میں ہو وہ پکارے جانے الا۔ اللہ ان کے ضعف اور کمزوری کو ایک واضح مثال سے ظاہر کرتا ہے جسے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔ مثال کیا ہے ایک چلتے پھرتے محترک منظر کی تصویرکشی ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دل خوش ہوتا ہے۔ ذرا اس منظر میں ان خدائوں کی بیچارگی کا نظارہ کرو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافر قرآن سنتے ہیں تو ان کے چہروں سے نا گواری محسوس ہوتی ہے ان آیات میں مشرکین کی تردید فرمائی ہے اور ان کا طریقہ کار بیان فرمایا ہے اور ساتھ ہی عذاب کا تذکرہ بھی فرمایا جو آخرت میں ہوگا۔ اول تو یہ فرمایا کہ یہ لوگ ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کے معبود ہونے کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور ان کے پاس کوئی عقلی دلیل بھی نہیں ہے جس سے شرک کرنے کا جواز معلوم ہوتا ہو، یہ لوگ شرک کر کے ظالم بنے ہوئے ہیں اور اس ظلم کی سزا انہیں مل جائے گی جب انہیں عذاب ہونے لگے گا تو ان کے لیے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ جب ان مشرکوں کو ہماری آیات سنائی جاتی ہیں جن کے مضامین خوب واضح ہیں تو کافروں کے چہرے بد ل جاتے ہیں اور چہروں پر نا گواری محسوس ہونے لگتی ہے نا گواری کا یہ عالم ہے کہ جو اہل ایمان انہیں ہماری آیات سناتے ہیں ان پر حملہ کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ابھی حملہ کردیں گے ان کی یہ حالت بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان سے کہہ دیں کہ دنیا میں تمہیں نا گواری محسوس ہوتی ہے یہ تو ہلکی نا گواری ہے اس سے بڑھ کر وہ نا گواری ہوگی جو دوزخ میں داخل ہو کر پیش آئے گی دوزخ کی آگ کا عذاب بہت بڑا ہے وہ کافروں کو ناگوار ہوگا لیکن اس سے چھٹکارہ کا کوئی راستہ نہ ہوگا دنیا میں قرآن سن کر جو ناگواری ہوتی ہے اس کا تو کچھ غصہ والا منہ بنا کر تدارک کر بھی لیتے ہو آخرت میں جو عذاب ہوگا نہ ہلکا ہوگا، نہ قابل برداشت ہوگا، دوزخ کی اس آگ کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ فرمایا ہے یعنی دنیا میں پہلے سے بتادیا ہے کہ کفر کی سزا دوزخ ہے اس سے کبھی چھٹکارہ نہ ہوگا۔ (و بئس المصیر) (اور دوزخ برا ٹھکانہ ہے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

85:۔ ” وَ اِذَا تُتْلٰی الخ “ یہ بھی شکوی ہے مشرکین کو جب ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن میں خالص توحید کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے چہروں پر نفرت اور عداوت کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی آیتیں پڑھنے والوں پر حملہ کردیں گے۔ ” قُلْ اَفَاُنَبِّئُکُمْ “ تخویف اخروی ہے آپ ان مشرکین سے فرما دیں کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے توحید سنانے والوں پر غیظ و غضب اور توحید سے تمہاری نفرت سے بدرجہا بدتر ہے النار ای ھو النار (مدارک) ۔ وہ آگ ہے جو ایسے منکرین ہی کے لیے تیار کی گئی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(72) اور جب ان لوگوں پر ہماری کھلی اور واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو آپ کافروں کے چہروں پر برے آثار دیکھتے ہیں اور منکروں کی بری شکل دیکھتے ہیں اور ان برے آثار سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قریب ہے یہ ان لوگوں پر جھپٹ پڑیں جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں آپ ان کافروں سے کہہ دیجئے کہ میں تم کو اس سے بڑھ کر ناگوار اور بری چیز بتادوں وہ دوزخ کی آگ ہے اس آگ کا اللہ تعالیٰ نے کافروں سے وعدہ کیا ہے اور وہ واپس جانے کی بہت بری جگہ ہے۔ یعنی ان منکرین دین کی حق کی یہ حالت ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم کی وہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو واضح اور کھلے دلائل پر مشتمل ہیں اور اہل حق ان پر ان آیات کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کے چہروں کے بگاڑ سے ان کے دل کی خباثت پہچانی جاتی ہے اور ان کے چہرے پر غیظ و غضب کے آثار پائے جاتے ہیں اور ان کی پیشانی پر بل پڑجاتے ہیں اور غصے کے مارے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قریب ہے یہ ان قرآن کریم کی تلاوت کرنے والوں پر حملہ کردیں گے اور ان کو کھا جائیں گے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں تم کو اس قرآن کریم سے بڑھ کر تمہاری ناگواری اور منہ بنانے کی چیز بتائوں وہ جہنم اور اس کی آگ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے اس آگ کا ان لوگوں سے وعدہ ہے جو دین حق کے منکر ہیں۔ سورئہ ملک میں فرمایا فلما راوہ زلفۃً سیئت وجوہ الذین کفروا ! یعنی جب اس دوزخ کے عذاب کو دیکھیں گے تو ان منکرین کے چہرے بگڑ جائیں گے۔ آگے ایک توحید کی اور دلیل بیان ہوتی ہے۔