77. These words clearly state that the judgment of the Prophet is the judgment of Allah and the command of the Prophet is the command of Allah. Therefore, the invitation to obey the Prophet is an invitation to obey both Allah and His Prophet. Also see (Surah An-Nisa, Ayats 59-61, and the E.Ns thereof).
78. This does not only apply to the cases which came up before the Prophet (peace be upon him) for a decision in his lifetime, but this continues valid even today. Thus, a summon from the court of a judge in an Islamic government, who judges a case in accordance with the Book of Allah and the Sunnah of Prophet (peace be upon him), is actually a summon from the court of Allah and His Prophet and the one who repudiates the judge indeed repudiates both Allah and His Prophet. This thing has been explained in a tradition related by Hasan Basri thus: Whosoever is summoned to appear before a judge from among the judges of the Muslims but fails to appear before him, he is a transgressor and forfeits his rights. (Al-Jassas, Ahkam-ul-Quran, Vol. III, p. 405). In other words, such a person not only renders himself punishable but also guilty and liable to be proceeded against.
سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :77
یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ رسول کا فیصلہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کا حکم اللہ کا حکم ہے ۔ رسول کی طرف بلایا جانا صرف رسول ہی کی طرف بلایا جانا نہیں بلکہ اللہ اور رسول دونوں کی طرف بلایا جانا ہے ۔ نیز اس آیت اور اوپر والی آیت سے یہ بات بلا کسی اشتباہ کے بالکل واضح ہو جاتی ہے اللہ اور رسول کی اطاعت کے بغیر ایمان کا دعویٰ بے معنی ہے اور اطاعت خدا و رسول کا کوئی مطلب اس کے سوا نہیں ہے کہ مسلمان بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم اس قانون کے آگے جھک جائیں جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا ہے ۔ یہ طرز عمل اگر وہ اختیار نہیں کرتے تو ان کا دعویٰ ایمان ایک منافقانہ دعویٰ ہے ۔ ( تقابل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ نساء آیات 59 ۔ 61 ۔ مع حواشی 89 تا 92 ) ۔
سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :78
واضح رہے کہ یہ معاملہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی کے لیے نہ تھا ، بلکہ آپ کے بعد جو بھی اسلامی حکومت کے منصب قضا پر ہو اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کے مطابق فیصلے کرے اس کی عدالت کا سمن دراصل اللہ اور رسول کی عدالت کا سمن ہے ، اور اس سے منہ موڑنے والا درحقیقت اس سے نہیں بلکہ اللہ اور رسول سے منہ موڑنے والا ہے ۔ اس مضمون کی یہ تشریح خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرسل حدیث میں مروی ہے جسے حسن بصری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ : من دُعِیَ الیٰ حاکم من حکام المسلمین فلم یجب فھو ظالم لا حق لہ جو شخص مسلمانوں کے حکام عدالت میں سے کسی حاکم کی طرف بلایا جائے اور وہ حاضر نہ ہو تو وہ ظالم ہے ۔ اس کا کوئی حق نہیں ہے ( احکام القرآن جصاص ج 3 ، ص 405 ) ۔ بالفاظ دیگر ایسا شخص سزا کا بھی مستحق ہے ، اور مزید براں اس کا بھی مستحق ہے کہ اسے برسر باطل فرض کر کے اس کے خلاف یک طرفہ فیصلہ دے دیا جائے ۔
سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :79
یہ آیت اس حقیقت کو صاف صاف کھول کر بیان کر رہی ہے کہ جو شخص شریعت کی مفید مطلب باتوں کو خوشی سے لپک کر لے لے ، مگر جو کچھ خدا کی شریعت میں اس کی اغراض و خواہشات کے خلاف ہو اسے رد کر دے ، اور اس کے مقابلے میں دنیا کے دوسرے قوانین کو ترجیح دے وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہے ۔ اس کا دعوائے ایمان جھوٹا ہے ، کیونکہ وہ ایمان خدا اور رسول پر نہیں ، اپنی اغراض اور خواہشات پر رکھتا ہے ۔ اس رویے کے ساتھ خدا کی شریعت کے کسی جز کو اگر وہ مان بھی رہا ہے تو خدا کی نگاہ میں اس طرح کے ماننے کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔