Surat un Noor

Surah: 24

Verse: 48

سورة النور

وَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ اِذَا فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۴۸﴾

And when they are called to [the words of] Allah and His Messenger to judge between them, at once a party of them turns aside [in refusal].

جب یہ اس بات کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے جھگڑے چکا دے تو بھی ان کی ایک جماعت منہ موڑنے والی بن جاتی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ... And when they are called to Allah and His Messenger, to judge between them... means, when they are asked to follow the guidance which Allah has revealed to His Messenger, they turn away and are too arrogantly proud of themselves to follow him. This is like the Ayah: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُواْ بِمَأ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَأ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ Have you not seen those who claim that they believe in that which has been sent down to you, and that which was sent down before you, until His saying: رَأَيْتَ الْمُنَـفِقِينَ يَصُدُّونَ عَنكَ صُدُوداً you see the hypocrites turn away from you with aversion. (4: 60-61) ... إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم مُّعْرِضُونَ lo! a party of them refuses and turns away. وَإِن يَكُن لَّهُمُ الْحَقُّ يَأْتُوا إِلَيْهِ مُذْعِنِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٦] اس آیت سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ اللہ کے رسول کی طرف بلانا دراصل اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلانا ہے۔ رسول کی دعوت اور رسول کی طرف دعوت دراصل اللہ کی دعوت اور اللہ کی طرف دعوت ہے۔ دوسرے یہ کہ رسول کا فیصلہ حقیقتاً اللہ ہی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ جو شخص رسول کی طرف جانے یا اس کا فیصلہ کروانے یا اس کا فیصلہ تسلیم کرنے سے اغراض کرے وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اس آیت کا حکم آپ کی زندگی تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ آپ کے بعد کوئی بھی اسلامی حکومت جس میں عدالتیں کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور ایسی عدالت کی طرف سے اگر کسی شخص کو بلاوا یا سمن آئے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہی بلاوا سمجھا جائے گا۔ اور اس سے اعراض کرنے والا مومن نہیں بلکہ منافق ہوگا۔ علاوہ ازیں ہمارے اختلافی مسائل میں بھی اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور کتاب و سنت میں ہمارے اکثر اختلافی مسائل کا حل بھی موجود ہے۔ اگر کوئی شخص کتاب و سنت کی طرف جانے یا اس کا فیصلہ ماننے سے اعراض کرے تو وہ بھی حقیقتاً مومن نہیں بلکہ منافق ہیں۔ مقلد حضرات کے لئے بھی یہ آیت لمحہ فکریہ ہے جن میں سے بعض کا تو یہ حال ہے کہ جب ان سے کتاب و سنت کے مطابق فیصلہ کرنے کو کہا جائے تو چیں بہ جبین ہوجاتے ہیں اور چل دیتے ہیں اور بعض یوں کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے امام صاحب کو بھی یہ آیت اور یہ حدیث معلوم تھی۔ آخر انہوں نے بھی کسی دلیل سے یوں کہا ہوگا اور وہ دلیل ہمیں جاننے یا سمجھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم مقلد ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ۔۔ : واضح رہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جانے کا معاملہ صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی تک ہی نہیں تھا، بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کی سنت کی طرف جو دعوت دی جاتی ہے وہ اصل میں آپ ہی کی طرف دعوت ہوتی ہے، اس سے منہ موڑنے والے کا حکم بھی وہی ہے جو اس آیت میں منافقین کے گروہ کا بیان ہوا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَى اللہِ وَرَسُوْلِہٖ لِيَحْكُمَ بَيْنَہُمْ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْہُمْ مُّعْرِضُوْنَ۝ ٤٨ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

جس شخص کو حاکم کی عدالت میں طلب کیا جائے اسے وہاں جانا لازم ہے قول باری ہے : (واذا دعوا الی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم معرضون) جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر ……اپنے کسی حق کے سلسلے میں دعویٰ دائر کردے اور اسے حاکم کی عدالت میں پیش ہونے کے ۔۔۔۔۔۔۔ پر اس کے ساتھ حاکم کی عدالت میں پیش ہونا لازم ہوگا۔ اس لئے کہ قول باری : (فاذادعوا الی اللہ۔ ) کے معنی ” الی حکم اللہ “ کے ہیں یعنی جب انہیں اللہ کے حکم اور فیصلے کی طرف بلایا جاتا ہے، یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص حاکم کی عدالت میں پہنچ کر کسی دوسرے پر اپنے حق کا دعویٰ دائر کردے تو حاکم پر مدعا علیہ کو بلوانا اور عدالت میں حاضر کرنا لازم ہوگا۔ حاکم مدعا علیہ کے کام کاج اور مصروفیتوں میں حائل ہوکر اسے پہلے مقدمے کی پیروی کرنے کے لئے کہے گا۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں ابراہیم الحرنی نے، انہیں عبداللہ بن شبیب نے انہیں ابوبکر بن شیبہ نے، انہیں فلیح نے، انہیں محمد جعفر نے یحییٰ بن سعید اور عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے کہ اغرجہنی نے کہا ۔ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر ایک شخص کے خلاف کھجوروں کے آدھے حصے کے سلسلے میں دعویٰ دائر کیا۔ آپ نے حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا : ان کے ساتھ چلے جائو اور مدعا علیہ سے ان کا حق لے کر انہیں دے دو ۔ “ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی ، انہیں حسین بن اسحق التستری نے، انہیں رجاء الحافظ نے، انہیں شاہین نے، انہیں روح بن عطاء نے اپنے والد سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حضرت سمرہ (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (من دعی الی سلطان فلم یجب فھو ظالم لا حق لہ) جس شخص کو سلطان کی طرف سے بلاوا آیا اور وہ حاضر نہ ہو تو ایسا شخص ظالم ہوگا اور اس کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن عبدوس بن کامل نے، انہیں عبدالرحمن بن صالح نے ، انہیں یحییٰ نے ابو الا شہب سے اور انہوں نے حسن سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (من ۔۔۔ الی حاکم من حکام المسلمین فلم یجب فھو ظالم لاحق لہ) جس شخص کو کسی مسلمان حاکم کی طرف سے بلاوا آیا اور وہ حاضر نہ ہوا تو ایسا شخص ظالم ہوگا اور اس کا کوئی حق نہیں ہوگا۔ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں خطاب کے بھائی محمد بن بشر نے، انہیں محمد بن عباد نے، انہیں حاتم نے عبداللہ بن محمد سجل سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوحدرد (رض) سے وہ کہتے ہیں کہ مجھ پر ایک یہودی کے چار درہم قرض تھے۔ یہودی نے میرے خلاف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاکر دعویٰ دائر کردیا اور کہا کہ ا س شخص کے ذمہ میرے چار درہم ہیں جو یہ دبا گیا ہے۔ آپ نے یہ سن کر مجھ سے فرمایا : ” اس کا حق اسے دے دو ۔ “ میں نے عرض کیا : ” قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، مجھے اس رقم کی ادائیگی کی استطاعت نہیں ہے۔ “ آپ نے یہ سن کر فرمایا : ” اسے اس کا حق دے دو ۔ “ میں نے پھر اپنا جملہ دہرایا۔ آپ نے پھر مجھے اسکا حق اسے دینے کا حکم دیا۔ میں اس یہودی کو ساتھ لے کر بازار کی طرف نکل گیا۔ اس وقت میری سر پر پگڑی تھی اور بدن پر ایک چادر تھی جسے میں نے ازار کے طور پر باندھ رکھا تھا۔ میں نے پگڑی کو ازار کے طو ر پر باند لیا۔ یہود ینے کہا کہ اس چادر کا میں خریدار ہوں، چناچہ اس نے چار درہم میں وہ چادر مجھ سے خرید لی۔ یہ روایات آیت کے مضمون پر یکساں طور پر دلالت کرتی ہیں۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٨) اور جب یہ لوگ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی طرف اس غرض سے بلائے جاتے ہیں کہ رسول کتاب خداوندی اور حکم خداوندی کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو ان میں سے ایک گروہ کتاب اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ سے پہلوتہی کرتا ہے۔ شان نزول : ( آیت ) ”۔ واذا دعوا الی اللہ ورسولہ “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے حضرت حسن بصری (رح) سے مرسلا روایت کیا ہے کہ جب کسی انسان کا دوسرے شخص سے جھگڑا ہوتا تھا اور وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بلایا جاتا تھا اور اگر وہ حق پر ہوتا تھا اور کلی طور پر اسے اس بات کا یقین ہوتا تھا کہ فیصلہ اس کے حق میں ہوگا (تو چلاآتا تھا) اور جس وقت یہ سمجھتا تھا کہ اس نے کسی پر ظلم کیا ہے پھر اس کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بلایا جاتا تھا تو روگردانی کرتا تھا کہ فلاں کے پاس چلو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٨ (وَاِذَا دُعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) ” منافقین کے اس رویے ّ کا ذکر سورة النساء میں بھی آیا ہے۔ یہ لوگ فیصلوں کے لیے اپنے تنازعات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بجائے یہودیوں کے پاس لے جانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس لیے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے مبنی بر انصاف ہونے کی وجہ سے عام طور پر ان کے خلاف ہی جاتے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

77. These words clearly state that the judgment of the Prophet is the judgment of Allah and the command of the Prophet is the command of Allah. Therefore, the invitation to obey the Prophet is an invitation to obey both Allah and His Prophet. Also see (Surah An-Nisa, Ayats 59-61, and the E.Ns thereof). 78. This does not only apply to the cases which came up before the Prophet (peace be upon him) for a decision in his lifetime, but this continues valid even today. Thus, a summon from the court of a judge in an Islamic government, who judges a case in accordance with the Book of Allah and the Sunnah of Prophet (peace be upon him), is actually a summon from the court of Allah and His Prophet and the one who repudiates the judge indeed repudiates both Allah and His Prophet. This thing has been explained in a tradition related by Hasan Basri thus: Whosoever is summoned to appear before a judge from among the judges of the Muslims but fails to appear before him, he is a transgressor and forfeits his rights. (Al-Jassas, Ahkam-ul-Quran, Vol. III, p. 405). In other words, such a person not only renders himself punishable but also guilty and liable to be proceeded against.

سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :77 یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ رسول کا فیصلہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کا حکم اللہ کا حکم ہے ۔ رسول کی طرف بلایا جانا صرف رسول ہی کی طرف بلایا جانا نہیں بلکہ اللہ اور رسول دونوں کی طرف بلایا جانا ہے ۔ نیز اس آیت اور اوپر والی آیت سے یہ بات بلا کسی اشتباہ کے بالکل واضح ہو جاتی ہے اللہ اور رسول کی اطاعت کے بغیر ایمان کا دعویٰ بے معنی ہے اور اطاعت خدا و رسول کا کوئی مطلب اس کے سوا نہیں ہے کہ مسلمان بحیثیت فرد اور بحیثیت قوم اس قانون کے آگے جھک جائیں جو اللہ اور اس کے رسول نے ان کو دیا ہے ۔ یہ طرز عمل اگر وہ اختیار نہیں کرتے تو ان کا دعویٰ ایمان ایک منافقانہ دعویٰ ہے ۔ ( تقابل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ نساء آیات 59 ۔ 61 ۔ مع حواشی 89 تا 92 ) ۔ سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :78 واضح رہے کہ یہ معاملہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی کے لیے نہ تھا ، بلکہ آپ کے بعد جو بھی اسلامی حکومت کے منصب قضا پر ہو اور کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کے مطابق فیصلے کرے اس کی عدالت کا سمن دراصل اللہ اور رسول کی عدالت کا سمن ہے ، اور اس سے منہ موڑنے والا درحقیقت اس سے نہیں بلکہ اللہ اور رسول سے منہ موڑنے والا ہے ۔ اس مضمون کی یہ تشریح خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرسل حدیث میں مروی ہے جسے حسن بصری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے کہ : من دُعِیَ الیٰ حاکم من حکام المسلمین فلم یجب فھو ظالم لا حق لہ جو شخص مسلمانوں کے حکام عدالت میں سے کسی حاکم کی طرف بلایا جائے اور وہ حاضر نہ ہو تو وہ ظالم ہے ۔ اس کا کوئی حق نہیں ہے ( احکام القرآن جصاص ج 3 ، ص 405 ) ۔ بالفاظ دیگر ایسا شخص سزا کا بھی مستحق ہے ، اور مزید براں اس کا بھی مستحق ہے کہ اسے برسر باطل فرض کر کے اس کے خلاف یک طرفہ فیصلہ دے دیا جائے ۔ سورة النُّوْر حاشیہ نمبر :79 یہ آیت اس حقیقت کو صاف صاف کھول کر بیان کر رہی ہے کہ جو شخص شریعت کی مفید مطلب باتوں کو خوشی سے لپک کر لے لے ، مگر جو کچھ خدا کی شریعت میں اس کی اغراض و خواہشات کے خلاف ہو اسے رد کر دے ، اور اس کے مقابلے میں دنیا کے دوسرے قوانین کو ترجیح دے وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہے ۔ اس کا دعوائے ایمان جھوٹا ہے ، کیونکہ وہ ایمان خدا اور رسول پر نہیں ، اپنی اغراض اور خواہشات پر رکھتا ہے ۔ اس رویے کے ساتھ خدا کی شریعت کے کسی جز کو اگر وہ مان بھی رہا ہے تو خدا کی نگاہ میں اس طرح کے ماننے کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٨۔ ٥٢:۔ تفسیر ابن المنذر ‘ عبداللہ حمید اور ابن ابی حاتم میں حضرت حسن بصری کی روایت ١ ؎ سے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے منافقوں کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو فیصلہ کرتے اور حکم دیتے ہیں بغیر کسی رو رعایت کے وہ فیصلہ اور حکم ہوتا ہے ‘ اس لیے جس معاملے میں وہ منافق لوگ حق پر ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری ہوتی ‘ تو ایسے معاملے کو اپنا حق پانے کی خوشی میں دوڑ کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے آتے تھے اور جس معاملے میں یہ لوگ حق پر نہ ہوتے اور گواہی شاہدی بھی ان کے پاس پوری نہ ہوتی اور اس قرینہ سے جان لیتے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ ان کی مرضی کے موافق نہ ہوگا ‘ تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس معاملہ لانے پر راضی نہ ہوتے ‘ ان کی مرضی کے موافق اور سردار لوگ منافق جو مدینہ میں تھے ان کے پاس معاملہ پیش کرنے کی آرزو ظاہر کرتے ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ یہ لوگ فقط منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور اللہ کے رسول کی اطاعت ہم کو قبول ومنظور ہے لیکن حقیقت میں یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ‘ پھر فرمایا کیا ان لوگوں کے دل میں یہ شک کا روگ ہے کہ یہ لوگ اللہ کے رسول کو سچا رسول نہیں جانتے ‘ یا اپنی حق تلفی کا ان کو خوف ہے ‘ پھر فرمایا ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے بلکہ اللہ کے علم غیب میں یہ لوگ قابل سزا گنہگار ٹھہر چکے ہیں اس لیے ان کو برے کام اچھے نظر آتے ہیں ‘ صحیح بخاری و مسلم کے حوالہ سے حضرت علی کی حدیث ٢ ؎ کئی جگہ گزر چکی ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں دوزخ میں جھونکے جانے کے قابل ٹھہر چکے ہیں ‘ ان کو دنیا میں برے کام اچھے نظر آتے ہیں ‘ یہ حدیث بَلْ اُولٰیِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایسی دغا بازی کی باتوں سے یہ منافق لوگ کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے بلکہ ایسی دغا بازی کی باتوں سے یہ لوگ اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں جس کا نتیجہ ان کو مرنے کے بعد معلوم ہوجائے گا ‘ آگے عقبیٰ میں مراد کو پہنچنے والے پکے مسلمانوں کی نشانی کا ذکر فرمایا ‘ کہ اللہ اور رسول کا حکم ان کی مرضی کے موافق ہو یا نہ ہو ‘ وہ کسی طرح اللہ اور رسول کی دلی اور زبانی فرمانبرداری میں کوتاہی نہیں کرتے کیونکہ ان کے دل میں اللہ کا خوف ہے اور ان کی عادت پرہیزگاری کی ہے ‘ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر تھے ‘ ہجرت کے بعد جب اہل اسلام کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں کچھ لوگ ایسے تھے کہ مسلمانوں کی قوت اور شوکت دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اوپرے دل سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے اور اپنے ساتھیوں سے ملتے تو اہل اسلام کی مذمت کرتے ‘ یہ لوگ کبھی ادھر مل جاتے اور کبھی ادھر ‘ اسی واسطے عبداللہ بن عمر (رض) کی صحیح مسلم کی روایت ١ ؎ میں ان لوگوں کی مثال اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ریوڑ سے بہکی ہوئی بکری کی بیان فرمائی ہے ‘ جس مثال کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح ریوڑ میں جاتی ہے کبھی اس ریوڑ میں ‘ یہی حال ان لوگوں کا ہے کہ کبھی ادھر کبھی ادھر ‘ ان آیتوں میں اور اکثر آیتوں میں ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے ‘ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو ایک خوبصورت اور مالدار عورت بدکاری کے لیے بلائے اور وہ شخص اللہ تعالیٰ کے خوف سے اس عورت کا کہنا نہ مانے تو ایسے شخص کو حشر کے دن کی دھوپ میں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا ‘ پکے مسلمانوں کے ذکر میں یہ جو فرمایا تھا کہ ان لوگوں کے دل میں اللہ کا خوف ہے اور ان کی عادت پرہیزگاری کی ہے ‘ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کے دل میں اللہ کا خوف ہوگا اور اس کی عادت پرہیزگاری کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسے شخص کی بڑی قدر اور منزلت ہے ‘ حسن بصری کی روایت سے جو شان نزول اوپر بیان کی گئی ‘ اس کی سند معتبر ہے۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٢٩٨ ج ٣ والدر المنثور ص ٥٤ ج ٥ ) (٢ ؎ مثلا پچھلے صفحہ میں ) (١ ؎ مشکوٰۃ ص ٧ ا باب الکبائر و علامات النفاق ) (٢ ؎ الترغیب والترہیب ٢٢٨ ج ٤ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی تک ہی نہ تھا بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی طرف جو دعوت دی جاتی ہے وہ دراصل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دعوت ہوتی ہے۔ اس سے گریز کرنے والے کا حکم وہی ہے جو اس آیت میں منافقین کے گروہ کا بیان ہوا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یہ بلانا رسول ہی کی طرف ہے، مگر چونکہ آپ کا فیصلہ موافق حق خداوندی ہوتا ہے اس لئے الی اللہ بڑہا دیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(48) اور یہ لوگ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف اس غر ض سے بلائے جائیں اور طلب کئے جائیں کہ رسول ان کے مابین فیصلہ کردے تب ہی ایک فرقے کے لوگ پہلو تہی کرتے اور منہ موڑ لیتے ہیں۔