Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 21

سورة الفرقان

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡنَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ نَرٰی رَبَّنَا ؕ لَقَدِ اسۡتَکۡبَرُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ وَ عَتَوۡ عُتُوًّا کَبِیۡرًا ﴿۲۱﴾

And those who do not expect the meeting with Us say, "Why were not angels sent down to us, or [why] do we [not] see our Lord?" They have certainly become arrogant within themselves and [become] insolent with great insolence.

اور جنہیں ہماری ملاقات کی توقع نہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے؟ یا ہم اپنی آنکھوں سے اپنے رب کو دیکھ لیتے ان لوگوں نے اپنے آپ کو ہی بہت بڑا سمجھ رکھا ہے اور سخت سرکشی کر لی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Stubbornness of the Disbelievers Allah tells: وَقَالَ الَّذِينَ لاَ يَرْجُونَ ... And those who expect not a meeting with Us said: Allah describes how stubborn the disbelievers were in their disbelief when they said: ... لِقَاءنَا لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْنَا ... Why are not the angels sent down to us, meaning, `so that we may see them with our own eyes and they may tell us that Muhammad is the Messenger of Allah.' This is like when they said: أَوْ تَأْتِىَ بِاللَّهِ وَالْمَلَـيِكَةِ قَبِيلً or you bring Allah and the angels before (us) face to face. (17:92) Hence they also said: ... الْمَلَيِكَةُ أَوْ نَرَى ... or why do we not see our Lord, Allah said: ... رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا كَبِيرًا Indeed they think too highly of themselves, and are scornful with great pride. And Allah says: وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَأ إِلَيْهِمُ الْمَلَـيِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتَى And even if We had sent down unto them angels, and the dead had spoken unto them... (6:111) يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَيِكَةَ لاَ بُشْرَى يَوْمَيِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا

تصدیق نبوت کے لئے احمقانہ شرائط کافر لوگ انکار نبوت کا ایک بہانہ یہ بھی بناتے تھے کہ اگر اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا کو کسی فرشتے کو کیوں نہ بھیجا ؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ وہ ایک بہانہ یہ بھی کرتے تھے آیت ( قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ١٢٤؁ ) 6- الانعام:124 ) یعنی جب تک خود ہمیں وہ نہ دیا جائے جو رسولوں کو دیا گیا ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے ۔ مطلب یہ ہے کہ جسطرح نبیوں کے پاس اللہ کی طرف سے فرشتہ وحی لے کر آتا ہے ہمارے پاس بھی آئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کا مطالبہ یہ ہو کہ فرشتوں کو دیکھ لیں ۔ خود فرشتے آکر ہمیں سمجھائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کریں تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے ۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ کفار نے کہا آیت ( اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا 92۝ۙ ) 17- الإسراء:92 ) یعنی تو اللہ کو لے آ فرشتوں کو بنفس نفیس ہمارے پاس لے آ ۔ اس کی پوری تفسیر سورۃ سبحان میں گزر چکی ہے ۔ یہاں بھی ان کا یہی مطالبہ بیان ہوا ہے کہ یا تو ہمارے اوپر فرشتے اتریں یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں ۔ یہ بات اس لئے ان کی منہ سے نکلی کہ یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے تھے اور ان کا غرور حد سے بڑھ گیا تھا ۔ ان کی ایمان لانے کی نیت نہ تھی ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةَ وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْٓا اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُوْنَ ١١١۝ ) 6- الانعام:111 ) ، یعنی اگر ہم ان فرشتوں کو بھی اتارتے اور ان سے مردے باتیں کرتے ، اس قسم کی اور بھی تمام چیزیں ہم ان کے سامنے کردیتے جب بھی انہی ایمان لانا نصیب نہ ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فرشتوں کو یہ دیکھیں گے لیکن اس وقت ان کے لئے ان کا دیکھنا کچھ سود مند نہ ہوگا اس سے مراد سکرات موت کا وقت ہے جب کہ فرشتے کافروں کے پاس آتے ہیں اور اللہ کے غضب اور جہنم کی آگ کی خبر انہیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خبیث نفس تو خبیث اور ناپاک جسم میں تھا اب گرم ہواؤں ، گرم پانی اور نامبارک سایوں کی طرف چل ۔ وہ نکلنے سے کتراتی ہے اور بدن میں چھپتی پھرتی ہے اس پر فرشتے ان کے چہروں پر اور ان کی کمروں پر ضربیں مارتے ہیں ۔ جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ 93؀ ) 6- الانعام:93 ) یعنی کاش کہ تو ظالموں کو ان کی سکرات کے وقت دیکھتاجب کہ فرشتے انہیں مارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے ہوئے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکالو آج تمیں ذلت کے عذاب چکھنے پڑیں گے ۔ کیونکہ تم اللہ تعالیٰ سے متعلق ناحق الزامات ترا شتے تھے ۔ اور اس کی آیتوں سے تکبر کرتے تھے ۔ مومنوں کا حال ان کے بالکل برعکس ہوگا وہ اپنی موت کے وقت خوشخبریاں سنائے جاتے ہیں اور ابدی مسرتوں کی بشارتیں دئیے جاتے ہیں جسیے فرمان ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْـتَـقَامُوْا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ 13؀ۚ ) 46- الأحقاف:13 ) جنہوں نے اللہ کو اپنا رب کہا اور مانا پھر اس پر جمے رہے ان کے پاس ہمارے فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو ، ان جنتوں میں جانے کی خوشی مناؤ جن کا تمہیں وعدہ دیا جا تارہا ۔ ہم تمہارے والی ہیں دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ، تم جو کچھ چاہوگے پاؤ گے اور جس چیز کی خواہش کروگے موجود ہوجائے گی بخشنے والے مہربان اللہ کی طرف سے یہ تمہاری میزبانی ہوگی ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ فرشتے مومن کی روح سے کہتے ہیں اے پاک روح جو پاک جسم میں تھی تو اللہ تعالیٰ کے رحم اور رحمت کی طرف چل جو تجھ سے نارض نہیں ۔ سورۃ ابراہیم کی آیت ( يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ ڐ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ 27؀ۧ ) 14- ابراھیم:27 ) کی تفسیر میں یہ سب حدیثیں مفصل بیان ہوچکی ہیں ۔ بعض نے کہا مراد اس سے قیامت کے دن فرشتوں کا دیکھنا ہو سکتا ہے کہ دونوں موقعوں پر فرشتوں کا دیکھنا مراد ہو اس میں ایک قول کی دوسرے قول سے نفی نہیں کیونکہ دونوں ہر نیک وبد فرشتوں کو دیکھیں گے مومنوں کو رحمت ورضوان کی خوشخبری کے ساتھ فرشتوں کا دیدار ہوگا اور کافروں کو لعنت وپھٹکار اور عذابوں کی خبروں کے ساتھ فرشتے اس وقت ان کافروں سے صاف کہہ دیں گے کہ اب فلاح وبہبود تم پر حرام ہے ۔ حجر کے لفظی معنی روک ہیں چنانچہ قاضی جب کسی کو اس کی مفلسی یا حماقت یا بچپن کی وجہ سے مال کی تصرف سے روک دے تو کہتے ہیں حجر القاضی علی فلان ۔ حطیم کو بھی حجر کہتے ہیں اس لئے کہ وہ طواف کرنے والوں کو اپنے اندر طواف کرنے سے روک دیتا ہے بلکہ اس کے باہر سے طواف کیا جاتا ہے ۔ عقل کو بھی عربی میں حجر کہتے ہیں اس لئے وہ بھی انسانوں کو برے کاموں سے روک دیتی ہے ۔ پس فرشتے ان سے کہتے ہیں کہ جو خوش خبریاں مومنوں کو اس وقت ملتی ہیں اس سے تم محروم ہو ۔ یہ معنی تو اس بنا پر ہیں کہ اس جملے کو فرشتوں کا قول کہا جائے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ مقولہ اس وقت کافروں کا ہوگا وہ فرشتوں کو دیکھ کر کہیں گے کہ اللہ کرے تم ہم سے آڑ میں رہو تمہیں ہمارے پاس آنا نہ ملے ۔ گو یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں لیکن دور کے معنی ہیں ۔ بالخصوص اس وقت کہ جب اس کے خلاف وہ تفسیر جو ہم نے اوپر بیان کی اور سلف سے مروی ہے ۔ البتہ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے ایک قول ایسا مروی ہے لیکن انہی سے صراحت کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ یہ قول فرشتوں کا ہوگا ، واللہ اعلم ۔ پھر قیامت کے دن اعمال کے حساب کے وقت ان کے اعمال غارت واکارت ہوجائیں گے ۔ یہ جنہیں اپنی نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھے وہ بیکار ہوجائیں گے کیونکہ یا تو وہ خلوص والے نہ تھے یا سنت کے مطابق نہ تھے ۔ اور جو عمل ان دونوں سے یا ان میں سے ایک چیز سے خالی ہو وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں ۔ اس لیے کافروں کے نیک اعمال بھی مردود ہیں ۔ ہم نے ان کے اعمال کا ملاحظہ کیا اور ان کو مثل بکھرے ہوئے ذروں کے مثل کردیا کہ وہ سورج کی شعاعیں جو کسی سوراخ سے آرہی ہوں ان میں نظر تو آتے ہیں لیکن کوئی انہیں پکڑنا چاہئے تو ہاتھ نہیں آتے ۔ جس طرح پانی جو زمین پر بہا دیا جائے وہ پھر ہاتھ نہیں آسکتا ۔ یا غبار جو ہاتھ نہیں لگ سکتا ۔ یا درختوں کے پتوں کا چورا جو ہوا میں بکھر گیا ہو یاراکھ اور خاک جو اڑتی پھرتی ہو ۔ اسی طرح ان کے اعمال ہیں جو محض بیکار ہوگئے ان کا کوئی ثواب ان کے ہاتھ نہیں لگے گا ۔ اس لئے کہ یا تو ان میں خلوص نہ تھا یا شریعت کے مطابقت نہ تھی یا دونوں وصف نہ تھے ۔ پس جب یہ عالم وعادل حاکم حقیقی کے سامنے پیش ہوئے تو محض نکمے ثابت ہوئے اسی لئے اسے ردی اور نہ ہاتھ لگنے والی شے سے تشبیہ دی گئی جیسے اور جگہ ہے ۔ آیت ( مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِۨ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ 18؀ ) 14- ابراھیم:18 ) کافروں کے اعمال کی مثال راکھ جیسی ہے جسے تیز ہوا اڑادے ۔ انسان کی نیکیاں بعض بدیوں سے بھی ضائع ہوجاتی ہیں جیسے صدقہ خیرات کہ وہ احسان جتانے اور تکلیف پہنچانے سے ضائع ہوجاتا ہے جیسے فرمان ہے آیت ( يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى ٢٦٤؁ ) 2- البقرة:264 ) پس ان کے اعمال میں سے آج یہ کسی عمل پر قادر نہیں ۔ اور آیت میں ان کے اعمال کی مثال اس ریت کے ٹیلے سے دی گئی جو دور سے مثل دریا کے لہریں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے جسے دیکھ کر پیاسا آدمی پانی سمجھتا ہے لیکن پاس آتا ہے تو امید ٹوٹ جاتی ہے ۔ اس کی تفسیر بھی اللہ کے فضل سے گزر چکی ہے ۔ پھر فرمایا کہ ان کے مقابلے میں جنتیوں کی بھی سن لو کیونکہ یہ دونوں فریق برابر کے نہیں ۔ جنتی تو بلند درجوں میں اعلیٰ بالاخانوں میں امن وامان ، راحت وآرام کے ساتھ عیش وعشرت میں ہونگے ۔ مقام اچھا ، منظر دل پسند ، ہر راحت موجود ، ہر دل خوش کن چیز سامنے ، جگہ اچھی ، مکان طیب ، منزل مبارک سونے بیٹھنے رہنے سہنے کا آرام ، برخلاف اس کے جہنمی دوزخ کے نیچے کے طبقوں میں جکڑ بند ، اوپر نیچے ، دائیں بائیں آگ ، حسرت افسوس ، رنج غم ، پکھنا ، جلنا ، بےقرار ، جگر سوز ، مقام بد ، بری منزل خوفناک منظر ، عذاب سخت ۔ نیک لوگوں کے جن کے دل میں ایمان تھا اعمال مقبول ہوئے ، اچھی جزائیں دی گئیں بدلے ملے ۔ جہنم سے بچے ، جنت کے وارث ومالک بنے ۔ پس یہ جو تمام بھلائیوں کو سمیٹ بیٹھے اور وہ جو ہر نیکی سے محروم رہے کہیں برابر ہوسکتے ہیں؟ پس نیکوں کی سعادت بیان فرما کر بدوں کی شقاوت پر تنبیہ کردی ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے کہ ساعت ایسی بھی ہوگی کہ جنتی اپنی حوروں کے ساتھ دن دوپہر کو آرام فرمائیں اور جہنمی شیطانوں کے ساتھ جکڑے ہوئے دوپہر کو گھبرائیں ۔ سعد بن جبیر کہتے ہیں اللہ تعالیٰ آدھے دن میں بندوں کے حساب سے فارغ ہوجائے گا پس جنتیوں کے لئے دوپہر کے سونے کا وقت جنت میں ہوگا اور دوزخیوں کا جہنم میں ۔ حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے معلوم ہوا ہے کہ کس وقت جنتی جنت میں جائیں گے اور جہنمی جہنم میں ۔ یہ وہ وقت ہوگا جب یہاں دنیا میں دوپہر کا وقت ہوتا ہے کہ لوگ اپنے گھروں کو دو گھڑی آرام حاصل کرنے کی غرض سے لوٹتے ہیں ۔ جنتیوں کا یہ قیلولہ جنت میں ہوگا ۔ مچھلی کی کلیجی انہیں پیٹ بھر کر کھلائی جائے گی ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ دن آدھا ہو اس سے بھی پہلے جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں قیلولہ کریں گے پھر آپ نے یہی آیت پڑھی اور آیت ( ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ 68؀ ) 37- الصافات:68 ) بھی پڑھی ۔ جنت میں جانے والے صرف ایک مرتبہ جناب باری کے سامنے پیش ہونگے یہی آسانی سے حساب لینا پے پھر یہ جنت میں جاکر دوپہر کا آرام کریں گے جیسے فرمان اللہ ہے آیت ( فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا Ċ۝ۙ ) 84- الانشقاق:7 ) یعنی جس شخص کو اپنا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اپنے والوں کی طرف خوشی خوشی لوٹے گا ۔ اس کا قیام اور منزل بہتر ہے ۔ صفوان بن ام حرز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دو شخصوں کو لایا جائے گا ایک تو وہ جو ساری دنیا کا بادشاہ تھا اس سے حساب لیا جائے گا تو اس کی پوری عمر میں ایک نیکی بھی نہ نکلے گی پس اسے جہنم کے داخلے کا حکم ملے گا پھر دوسرا شخص آئے گا جس نے ایک کمبل میں دنیا گزاری تھی جب اس سے حساب لیا جائے گا تو یہ کہے گا کہ اے اللہ میرے پاس دنیا میں تھا ہی کیا جس کا حساب لیا جائے گا ؟ اللہ فرمائے گا ۔ یہ سبچا ہے اسے چھوڑ دو ۔ اسے جنت میں جانے کی اجازت دی جائے گی ۔ پھر کچھ عرصے کے بعد دونوں کو بلایا جائے گا تو جہنمی بادشاہ تو مثل سوختہ کوئلے کے ہو گیا ہوگا ۔ اس سے پوچھا جائے گا کہو کس حال میں ہو یہ کہے گا نہایت برے حال میں اور نہایت خراب جگہ میں ہوں ۔ پھر جنتی کو بلایا جائے گا اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکتا ہوگا ۔ اس سے پوچھا جائے گا کہو کیسی گزرتی ہے؟ یہ کہے گا الحمدللہ بہت اچھی اور نہایت بہتر جگہ میں ہوں ۔ اللہ فرمائے گا جاؤ اپنی اپنی جگہ پھر چلے جاؤ ۔ حضرت سعید صواف رحمتہ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ مومن پر تو قیامت کا دن ایسا چھوٹا ہوجائے گا جیسے عصر سے مغرب تک کا وقت ۔ یہ جنت کی کیاریوں میں پہنچا دئیے جائیں گے ۔ یہاں تک کہ اور مخلوق کے حساب ہوجائیں ۔ پس جنتی بہتر ٹھکانے والے اور عمدہ جگہ والے ہونگے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

211یعنی کسی انسان کو رسول بنا کر بھیجنے کی بجائے، کسی فرشتے کو بنا کر بھیجا جاتا۔ یا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ فرشتے بھی نازل ہوتے، جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور وہ اس بشر رسول کی تصدیق کرتے۔ 212یعنی رب آ کر ہمیں کہتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرا رسول ہے اور اس پر ایمان لانا تمہارے لئے ضروری ہے۔ 213اسی استکبار اور سرکشی کا نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے مطالبے کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف ہیں اللہ تعالیٰ تو ایمان بالغیب کے ذریعے سے انسانوں کو آزماتا ہے اگر وہ فرشتوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے اتار دے یا آپ خود زمین پر نزول فرما لے تو اس کے بعد ان کی آزمائش کا پہلو ہی ختم ہوجائے اس لیے اللہ تعالیٰ ایسا کام کیونکر کرسکتا ہے جو اس کی حکمت تخلیق اور مشیت تکوینی کے خلاف ہے ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] کفار مکہ کے لغو قسم کے مطالبات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جیسے تم پر فرشتہ نازل ہوتا ہے ایسے ہی ہم میں سے ہر ایک فرشتہ اترنا چاہئے۔ تاکہ ہمیں پورا یقین ہوجائے کہ جو کچھ تمہاری دعوت ہے وہ درست ہے اور اگر یہ نہیں ہوسکتا تو ہم کم از کم اپنے رب کو ہی دیکھ لیں۔ جو ہمیں ایک دفعہ یہ کہہ دے کہ میں فلاں شخص کو رسول بناکر بھیج رہا ہوں اور تمہیں اس پر ایما نلے آنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے یہ مطالبات اس لئے نہیں ہیں کہ اگر ان کی یہ بات پوری ہوجائے تو یہ ایمان لانے کو بالکل تیار بیٹھے ہیں بلکہ یہ لوگ ایسی بکواس اس لئے کر رہے ہیں کہ انھیں یہ یقین نہیں ہے کہ مرنے کے بعد انھیں ہمارے حصور پیش ہونا ہے۔ اگر انھیں اس بات کا یقین ہوتا تو کبھی ایسی باتیں نہ بناتے۔ [ ٣٠] یعنی ہم نے جو ان کو مال و دولت کی فراوانی اور آسودگی عطا کی ہے تو یہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے ہیں۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اگر فرشتہ اس شخص پر جو ان کے خیال کے مطابق ان سے کم درجہ کا آدمی ہے، نازل ہوسکتا ہے تو آخر ہم لوگوں پر کیوں نازل نہیں ہوسکتا، یا پھر ہمیں خود اللہ تعالیٰ ان باتوں کی یقین دہانی کرائے۔ اس شخص کی باتوں پر آخر ہم لوگ کیسے یقین کرلیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا ۔۔ : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے منکروں کا چوتھا اعتراض ہے، اللہ تعالیٰ نے ” وَقَالُوْا “ (اور انھوں نے کہا) یا ” وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ ( اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا) کہنے کے بجائے فرمایا : (وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا ) (اور ان لوگوں نے کہا جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے) یعنی انھیں اتنی گستاخی کی جرأت اس لیے ہوئی کہ وہ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے۔ یقین تو دور، اگر انھیں قیامت کی اور ہمارے سامنے پیش ہونے کی امید بھی ہوتی تو اتنی بڑی بات ان کے منہ سے نہ نکلتی۔ 3 منکرین نے کہا کہ (اس نبی پر فرشتہ وحی لے کر اترتا ہے تو) ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کیے گئے، یا ایسا کیوں نہیں ہوا کہ ہم اپنے رب کو (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لیتے ؟ یہ ایسی بات ہے کہ کسی انسان کا حق نہیں کہ زبان پر لانے کی جرأت کرے، کیونکہ یہ اس ذات پاک پر اعتراض ہے جس کی عظمت کی کوئی حد ہے نہ کوئی اس کی حکمتیں معلوم کرسکتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قسم کا مفہوم رکھنے والے الفاظ ” لَقَدْ “ کے ساتھ فرمایا کہ مجھے قسم ہے کہ یہ لوگ اپنے دلوں میں بہت بڑے بن گئے اور انھوں نے ایسی سرکشی اختیار کی جو بہت بڑی سرکشی ہے۔ حالانکہ نہ حقیقت میں انھیں کوئی بڑائی حاصل ہے نہ لوگوں کی نگاہ میں۔ آیت کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اس نبی کے ساتھ فرشتے اترتے، یا خود رب تعالیٰ سامنے آ کر اس کی تصدیق کرتا۔ گویا ان کے لیے نبی کے واضح معجزات خصوصاً قرآن کی کوئی حیثیت نہیں، جس کی ایک سورت کی مثل وہ نہیں لاسکے۔ 3 کفار کا یہ اعتراض اللہ تعالیٰ نے دوسرے کئی مقامات پر بھی ذکر فرمایا ہے۔ چناچہ سورة انعام میں فرمایا : (وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ۂاَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ۭسَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ ) [ الأنعام : ١٢٤ ] ” اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ عنقریب ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، اللہ کے ہاں بڑی ذلت پہنچے گی اور بہت سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ فریب کیا کرتے تھے۔ “ اور سورة بنی اسرائیل کی آیات (٩٠ تا ٩٣) میں ان مطالبات کا ذکر ہے جو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کی شرط کے طور پر پیش کیے تھے، ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا : (اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا) [ بني إسرائیل : ٩٢ ] ” یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔ “ 3 اللہ تعالیٰ نے اسے بہت بڑا تکبر اور بہت بڑی سرکشی اس لیے قرار دیا کہ انھوں نے اپنے ہر شخص کے لیے نبی کا مرتبہ ملنے کا مطالبہ کیا جو فرشتے کے نزول کی وجہ سے اسے حاصل ہوتا ہے۔ (دیکھیے مدثر : ٥٢، ٥٣) پھر یہیں تک نہیں رہے، بلکہ کئی فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کیا جو ان کے پاس اللہ کا پیغام لے کر آئیں۔ اس سے بھی بڑھے تو رب تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کردیا۔ گویا ان چیزوں کا مطالبہ کردیا جو نبیوں کو بھی عطا نہیں ہوئیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا سوال تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کیا تھا، اسے تکبر کیوں نہیں کہا گیا ؟ جواب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے دیدار کا مطالبہ ایمان کی شرط کے طور پر نہیں کیا تھا بلکہ شوق کے تقاضے سے کیا تھا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْ‌جُونَ لِقَاءَنَا (And said those who do not believe in meeting Us - 25:21). رَجَاء (Raja:) means to hope for something desired. Sometimes it is also used for having fear, as mentioned by Ibn-al-Ambari, the famous scholar of Arabic lexicon. Here in this verse it is used for apprehension and fear. Thus the meaning of the phrase is &those who are not apprehensive of being brought before Us&. The allusion is toward those who totally deny the Hereafter as only they could have the courage to raise such preposterous and absurd points and put such frivolous demands. Those who believe in the Hereafter dread it so much all the time that they have no time to waste over such ridiculous ideas. In the present time those who appear to be unsure about the teachings and injunctions of Islam and indulge in dubious debate and arguments under the influence of modern education allude toward weakness of their faith in the Hereafter. When one attains total faith in the Hereafter then there is no question of having such dubious doubts.

خلاصہ تفسیر اور جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے ( کیونکہ وہ قیامت اور اس کی پیشی اور حساب کے منکر ہیں) وہ (انکار رسالت کے لئے) یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ( کہ اگر فرشتے آکر ہم سے کہیں کہ یہ رسول ہیں) یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں (اور وہ خود ہم سے کہہ دے کہ یہ رسول ہیں جب ہم تصدیق کریں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں ( کہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ فرشتے آکر ان سے خطاب کریں یا خود حق تعالیٰ سے ہمکلام ہوں) اور (بالخصوص اللہ تعالیٰ کے دنیا میں دیکھنے اور اس سے ہمکلام ہونے کی فرمائش میں تو) یہ لوگ حد (انسانیت) سے بہت دور نکل گئے ہیں (کیونکہ ملائکہ اور انسان کی تو بعض چیزوں میں شرکت بھی ہے کہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں مگر اللہ تعالیٰ اور انسان میں تو کوئی مشارکت اور مشابہت نہیں۔ اور یہ لوگ خدا کو دیکھنے کے لائق تو کیا ہوتے مگر فرشتے ان کو ایک روز دکھلائی دیں گے مگر جس طرح یہ چاہتے ہیں اس طرح نہیں بلکہ ان کے عذاب و مصیبت اور پریشانی لے کر) چناچہ جس روز یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (اور وہ دن قیامت کا ہے) اس روز مجرموں (یعنی کافروں) کے لئے کوئی خوشی کی بات (نصیب) نہ ہوگی اور (فرشتوں کو جب سامان عذاب کے ساتھ آتا دیکھیں گے تو گھبرا کر) کہیں گے پناہ ہے پناہ ہے۔ معارف ومسائل وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا لفظ رجا کے عام معنے کسی محبوب و مرغوب چیز کی امید کے آتے ہیں اور کبھی یہ لفظ بمعنے خوف بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ ابن الانباری نے کتاب الاضداد میں لکھا ہے اسی جگہ بھی یہی معنے خوف کے زیادہ واضح ہیں یعنی وہ لوگ جو ہمارے سامنے پیشی سے نہیں ڈرتے۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ دور از کار اور جاہلانہ سوالات اور فرمائشوں کی جرأت اسی شخص کی ہوسکتی ہے جو آخرت کا بالکل منکر ہو۔ آخرت کے قائل پر آخرت کی فکر ایسی غالب ہوتی ہے کہ اس کو ایسے سوال و جواب کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ آج کل جو تعلیم جدید کے اثر سے اسلام اور اس کے احکام کے بارے میں بہت سے لوگ شبہات اور بحث و مباحثہ میں مشغول نظر آتے ہیں یہ بھی علامت اس کی ہوتی ہے کہ معاذ اللہ دل میں آخرت کا سچا یقین نہیں ہے۔ اور یہ ہوتا تو اس قسم کے فضول سوالات دل میں پیدا ہی نہ ہوتے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَوْ نَرٰي رَبَّنَا۝ ٠ۭ لَـقَدِ اسْـتَكْبَرُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا كَبِيْرًا۝ ٢١ رَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد : إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عوامل ووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] ، وأَرْجَتِ النّاقة : دنا نتاجها، وحقیقته : جعلت لصاحبها رجاء في نفسها بقرب نتاجها . والْأُرْجُوَانَ : لون أحمر يفرّح تفریح الرّجاء . اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] تو تمہیں کیا بلا مار گئی کہ تم نے خدا کا و قروں سے اٹھا دیا ۔ میں بعض مفسرین نے اس کے معنی لاتخافون کہئے ہیں یعنی کیوں نہیں ڈرتے ہوجیسا کہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( طویل) (177) وجالفھا فی بیت نوب عواسل جب اسے مکھی ڈنگ مارتی ہے تو وہ اس کے ڈسنے سے نہیں ڈرتا ۔ اور اس نے شہد کی مکھیوں سے معاہد کر رکھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے ۔ کہ خوف ورجاء باہم متلازم ہیں لوجب کسی محبوب چیز کے حصول کی توقع ہوگی ۔ ساتھ ہی اس کے تضیع کا اندیشہ بھی دامن گیر رہے گا ۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس صورت میں کہ اندیشہ کے ساتھ ہمیشہ امید پائی جاتی ہے ) قرآن میں ہے :َوَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] اور تم کو خدا سے وہ وہ امیدیں ہیں جو ان کو نہیں ۔ وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] اور کچھ اور لوگ ہیں کہ حکم خدا کے انتظار میں ان کا معاملہ ملتوی ہے ۔ ارجت الناقۃ اونٹنی کی ولادت کا وقت قریب آگیا ۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ اونٹنی نے اپنے مالک کو قرب ولادت کی امید دلائی ۔ الارجون ایک قسم کا سرخ رنگ جو رجاء کی طرح فرحت بخش ہوتا ہے ۔ لقی اللِّقَاءُ : مقابلة الشیء ومصادفته معا، وقد يعبّر به عن کلّ واحد منهما، يقال : لَقِيَهُ يَلْقَاهُ لِقَاءً ولُقِيّاً ولُقْيَةً ، ويقال ذلک في الإدراک بالحسّ ، وبالبصر، وبالبصیرة . قال : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] ، وقال : لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . ومُلَاقَاةُ اللہ عز وجل عبارة عن القیامة، وعن المصیر إليه . قال تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] ( ل ق ی ) لقیہ ( س) یلقاہ لقاء کے معنی کسی کے سامنے آنے اور اسے پالینے کے ہیں اور ان دونوں معنی میں سے ہر ایک الگ الگ بھی بولاجاتا ہے اور کسی چیز کا حس اور بصیرت سے ادراک کرلینے کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ [ آل عمران/ 143] اور تم موت ( شہادت ) آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے اور ملاقات الہی سے مراد قیامت کا بپا ہونا اور اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ [ البقرة/ 223] اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے دوبرو حاضر ہونا ہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( استتعال ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مدموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔ عتو العُتُوُّ : النبوّ عن الطاعة، يقال : عَتَا يَعْتُو عُتُوّاً وعِتِيّاً. قال تعالی: وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيراً [ الفرقان/ 21] ، فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ [ الذاریات/ 44] ، عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّها [ الطلاق/ 8] ، بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ [ الملک/ 21] ، مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا[ مریم/ 8] ، أي : حالة لا سبیل إلى إصلاحها ومداواتها . وقیل :إلى رياضة، وهي الحالة المشار إليها بقول الشاعر : 310 ۔ ومن العناء رياضة الهرم«2» وقوله تعالی: أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمنِ عِتِيًّا [ مریم/ 69] ، قيل : العِتِيُّ هاهنا مصدرٌ ، وقیل هو جمعُ عَاتٍ «3» ، وقیل : العَاتِي : الجاسي . ( ع ت و ) عتا ۔ یعتوا ۔ عتوا ۔ عتیا ۔ حکم عدولی کرنا قرآن میں ہے : فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ [ الذاریات/ 44] تو انہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے سر کشی کی ۔ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيراً [ الفرقان/ 21] اور اسی بنا پر بڑے سر کش ہورہے ہیں ، عَتَتْ عَنْ أَمْرِ رَبِّها[ الطلاق/ 8] اپنے پروردگار کے امر سے سر کشی کی ۔ بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ [ الملک/ 21] لیکن یہ سر کشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا[ مریم/ 8] کے معنی یہ ہیں کہ میں بڑھاپے کی ایسی حالت تک پہنچ گیا ہوں جہاں اصلاح اور مداوا کی کوئی سبیل نہیں رہتی یا عمر کے اس وجہ میں ریا ضۃ بھی بیکار ہوتی ہے اور لفظ ریا ضت سے وہی معنی مراد ہیں جن کی طرف شاعر نے اشارہ کیا ہے ( الکامل ) ( 302 ) امن العناء ریاضۃ الھرم اور انتہائی بڑھاپے میں ریاضت دینا سراسر تکلیف وہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَيُّهُمْ أَشَدُّ عَلَى الرَّحْمنِ عِتِيًّا[ مریم/ 69] جو خدا سے سخت سر کشی کرتے تھے میں بعض نے کہا ہے کہ عتیا مصدر بعض نے کہا ہے کہ عات کی جمع ہے اور العانی کے معنی سنگ دل اور اجڈ بھی آتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢١) ابوجہل اور اس کے ساتھی جو بعث بعد الموت کا فکر نہیں کرتے وہ یوں کہتے ہیں کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں بھیجے جاتے جو ہم سے آکر کہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیں اور اس سے خود آپ کے بارے میں دریافت کرلیں یہ لوگ ایمان سے تکبر کر رہے ہیں اور اپنے دلوں میں خود کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں کہ اللہ کو دیکھنے کی درخواست کرتے ہیں اور ایمان سے بہت زیاد تکبر کر رہے ہیں یا یہ کہ بہت ہی دلیری اور بدتمیزی پہ اتر رہے ہیں کہ فرشتوں کے نزول کی خواہش کیے بیٹھے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(اَوْ نَرٰی رَبَّنَاط ) ” اللہ کے حضور حاضری پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی طبیعتوں میں سر کشی اور لاپرواہی پائی جاتی ہے۔ چناچہ ایمان کی دعوت کو قبول کرنے کے بجائے جواب میں وہ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر اللہ نے ہمیں کوئی پیغام بھیجنا ہی تھا تو اپنے فرشتوں کے ذریعے بھجواتا یا وہ خود ہمارے سامنے آجاتا اور ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیتے۔ یا یہ کہ اللہ کی طرف سے ہمیں کوئی ایسا معجزہ دکھایا جاتا جس سے ہم پر واضح ہوجاتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ ان کے ایسے مطالبات کا ذکر مکیّ سورتوں میں بار بار کیا گیا ہے۔ (لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا ) ” ان کے یہ مطالبات ان کے استکبار کا ثبوت اور ان کی سر کشی کی دلیل ہیں۔ گویا وہ خود کو اس لائق سمجھتے ہیں کہ ان پر فرشتوں کا نزول ہو اور اللہ خود ان کے روبرو ان سے ہم کلام ہو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :33 یعنی اگر واقعی خدا کا ارادہ یہ ہے کہ ہم تک اپنا پیغام پہنچائے تو ایک نبی کو واسطہ بنا کر صرف اس کے پاس فرشتہ بھیج دینا کافی نہیں ہے ، ہر شخص کے پاس ایک فرشتہ آنا چاہیے جو اسے بتائے کہ تیرا رب تجھے یہ ہدایت دیتا ہے ۔ یا فرشتوں کا ایک وفد مجمع عام میں ہم سب کے سامنے آ جائے اور خدا کا پیغام پہنچا دے ۔ سورہ اَنعام میں بھی ان کے اس اعتراض کو نقل کیا گیا ہے : وَاِذَا جَآءَتْھُمْ اٰیَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حتّٰی نُؤْتٰی مِثْلَ مَآ اَوْتِیَ رُسُلُ اللہِ ؕ اَللہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ ۔ جب کوئی آیت ان کے سامنے پیش ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ ہمیں وہی کچھ نہ دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنا پیغام پہنچانے کا کیا انتظام کرے ( آیت 124 ) ۔ سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :34 یعنی اللہ میاں خود تشریف لے آئیں اور فرمائیں کہ بندو ، میری تم سے یہ التماس ہے ۔ سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :35 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے : بڑی چیز سمجھ لیا اپنی دانست میں انہوں نے اپنے آپ کو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: یہ ان کا تکبر ہے جو ان سے ایسی باتیں کہلوا رہا ہے۔ یہ اپنے آپ کو اتنا بڑا سمجھتے ہیں کہ اپنی ہدایت کے لیے کسی پیغمبر کی بات ماننا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اور مطالبہ یہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود آکر انہیں سمجھائیں، یا کم از کم کوئی فرشتہ بھیجیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢١:۔ اس آیت میں منکرین قیامت کے اترانے کی ایک اور بات کا ذکر فرمایا ‘ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح اترانے کی راہ سے یہ لوگ للہ کے رسول کو حقارت سے دیکھنے اور بازاروں میں پھرنے والا کہتے ہیں ‘ اسی طرح یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک خود اللہ تعالیٰ یا اس کے فرشتے ہمارے روبرو آکر ان رسول کی صداقت بیان نہ کریں گے تو ہم ان کو سچا رسول نہ جانیں گے ‘ پھر فرمایا یہ لوگ شرارت میں حد سے بڑھ گئے ہیں کیونکہ ان کو سمجھا دیا گیا ہے کہ فرشتوں کو اصلی صورت میں دیکھنا انسان کی طاقت سے باہر ہے اس پر بھی ان لوگوں کو فرشتوں کے دیکھنے کی ضد ہے تو فرشتوں کی اصلی صورت میں دیکھنے کے بعد ایسے لوگوں پر جو کچھ گزرے گی ‘ اس کا ذکر آگے کی آیتوں میں آتا ہے ‘ صحیح ١ ؎ مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ لوگوں کے رات کے عمل دن سے پہلے اور دن کے عمل رات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پہنچ جاتے ہیں یہ حدیث وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے باہر نہیں ہے لیکن اس نے اپنے انصاف سے جزا وسزا کا مدار اپنے علم غیب پر نہیں رکھا بلکہ اس علم کے ظہور پر رکھا ہے اس علم کے ظہور کے ملاحظہ کا انتظام وہی ہے جس کا ذکر اس حدیث میں ہے کہ لوگوں کے اعمال نامے دو وقت اللہ تعالیٰ کے ملاحظہ میں پیش ہوجاتے ہیں۔ (١ ؎ مشکوٰۃ ص ٢١ باب الایمان بالقدر )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:1) لا یرجون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب۔ رجا یرجو (نصر) رجو مادہ رجاء ورجومصدر۔ امید کرنا۔ امید رکھنا۔ لا یرجون (جو) امید نہیں رکھتے۔ لقاء نا۔ مضاف مضاف الیہ۔ لقاء حامل مصدر۔ پیشی۔ حاضری۔ لقاء لقی یلقی (سمع) کا مصدر بھی ہے۔ پالینا۔ کسی کے سامنے ہونا۔ مثلاً واعلموا انکم ملاقوہ (2:223) اور جان رکھو کہ ایک دن تمہیں اس کے روبرو حاضر ہونا ہے۔ لا یرجون لقاء نا (جو) ہمارے روبرو ہونے کی امید نہیں رکھتے۔ یعنی جو یوم حشر کے منکر ہیں۔ لولا انزل۔۔ نری ربنا۔ یہ قال الذین کا مقولہ ہے لولا ای ھلا۔ کیوں نہ۔ استکبروا فی انفسہم۔ استکبر (باب استفعال) اپنے کو بڑا سمجھنا۔ بڑا شمار کرنا۔ استکبروا فی انفسہم۔ وہ اپنے آپ کو اپنے دلوں میں بہت بڑا سمجھنے لگے تھے۔ یقینا انہوں نے اپنے دلوں میں اپنے کو بڑا سمجھ لیا تھا۔ عتوا۔ ماضی جمع مذکر غائب (باب نصر) انہوں نے نافرمانی کی۔ وہ سرتابی میں حد سے گذر گئے۔ وہ شرارت میں انتہا کو پہنچ گئے۔ عتو مصدر عما یعتوا سے۔ لقد استکبروا فی انفسہم وعتوا کبیرا۔ میں لام جواب قسم میں ہے اور عتوا مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے ۔ ای واللہ لقد استکبروا فی شان انفسہم وتجاوزو الحد فی الظلم والطغیان تجاوزا کبیرا بالغا اقصی غایتہ۔ خدا کی قسم وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھنے لگے تھے اور ظلم و سرکشی میں حد سے تجاوز کر گئے تھے اور ان کا تجاوز اپنی انتہائی حد تک پہنچ گیا تھا۔ یوم۔ ای اذکر یوم یرون الملئکۃ۔ یاد کرو وہ دن جب وہ فرشتوں کو دیکھیں گے لا بشری یومئذ للمجرمین مجرموں کے لئے اس دن کوئی خوشخبری نہ ہوگی۔ یا یوم بوجہ ظرفیت منصوب ہے۔ ای انہم یوم یرون الملئکۃ لا بشری لہم جس روزہ وہ فرشتوں کو دیکھیں گے ان کے لئے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی۔ یوم سے یہاں مراد یوم الموت بھی ہوسکتا ہے اور یوم القیامۃ بھی۔ حجرا محجورا۔ الحجر۔ سخت پتھر کو کہتے ہیں۔ الحجر والتحجیر کے معنی کسی جگہ پتھروں سے احاطہ کرنا کے ہیں۔ کہا جاتا ہے حجرتہ حجرا فھو محجور وحجرتہ تحجیرا فھو محجر۔ جس جگہ کے اردگرد پتھروں سے احاطہ کیا گیا ہو اسے حجرکہا جاتا ہے۔ اس لئے حطیم کعبہ کو اور دیار ثمود کو حجر کہا گیا ہے۔ مؤخر الذکر کے متعلق قرآن مجید میں ہے ولقد کذب اصحب الحجر المرسلین (15:80) اور وادی حجر کے رہنے والوں نے بھی پیغمبرون کی تکذیب کی ! اور حجر (پتھروں سے احاطہ کرنا) سے حفاظت اور روکنے کے معنی لے کر عقل انسانی کو بھی حجر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی انسان کو نفسانی بےاعتدالیوں سے روکتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے ھل فی ذلک قسم لذی حجر (89:5) اور بیشک یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے قابل ہیں۔ حجر حرام چیز کو بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کا کھانا ممنوع ہوتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر (6 :138) اور یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چوپائے اور کھیتی حرام ہیں۔ جاہلیت کے زمانہ میں دستور تھا کہ جب کسی کے سامنے کوئی ایسا شخص آجاتا جس سے اذیت کا خوف ہوتا اور اپنی بےبسی اور بےچارگی کا احساس ہوتا کہہ دیتا حجرا محجورا (یعنی ہم تمہاری پناہ چاہتے ہیں) یہ الفاظ سن کر دشمن اسے کچھ نہ کہتا۔ یا وہ بےبس شخص پکار اٹھتا حجرا محجورا اور مراد اس کی اللہ تعالیٰ سے مخالفت کی اذیت سے عافیت اور خدا کی پناہ طلب کرنا ہوتی۔ جیسے کہ کہے خدا یا پناہ۔ ان ہی معنوں میں جریج کا قول ہے :۔ عرب جب کسی مصیبت میں گھر جاتے ہیں تو کہتے ہیں حجرا محجورا۔ معناہ عوذا معوذا۔ ہائے بچائو۔ ہائے بچائو۔ دو چیزوں کے درمیان مضبوط آڑ یا اوٹ کو بھی حجرا محجورا کہتے ہیں یعنی ایسی مضبوط رکاوٹ جو دور نہ ہو سکے۔ اس میں روکاوٹ اور حفاظت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ وجعل بینھما برزخا وحجرا محجورا (25:53) اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی۔ قرآن مجید میں حجرا محجورا صرف دو جگہ استعمال ہوا ہے اور وہ بھی اسی سورة الفرقان کی آیۃ ہذا میں اور دوسرے آیت (25 :53) محولہ بالا۔ ویقولون حجرا محجورا میں ضمیر فاعل یقولون کے متعلق دو اقوال ہیں :۔ (1) ضمیر فاعل الملئکۃ کے لئے ہے اور حضرت ابو سعید الخدری، الضحاک، قتادہ، عطیہ و مجاہد سے یہی روایت ہے اس صورت میں ترجمہ ہوگا۔ اور فرشتے کہیں گے کہ (جنت کا داخلہ تم پر) قطعا حرام ہے۔ ای تقول الملکۃ حراما محرما ان یدخل الجنۃ الا من قال لا الہ الا اللہ وقام شرائعھا ومحجورا صفۃ توکد معنی حجرا۔ فرشتے کہیں گے کہ جنہوں نے کلمہ لا الہ نہیں پڑھا اور شریعت کے احکام کی پابندی نہیں کی ان کا جنت میں داخلہ قطعا حرام اور ممنوع ہے اس صورت میں حجرا موصوف اور محجورا صفت برائے تاکید ہے۔ (2) ضمیر فاعل الکفار کی طرف راجع ہے یقولون عطف یرون پر ہے۔ یعنی جب وہ اس دن کی ہولناکیوں کو دیکھیں گے۔ اور عذاب کو متوقع پائیں گے تو چلا اٹھیں گے حجرا محجورا۔ پناہ ! پناہ ! ان الکفار الذین اقترحوا انزال الملائکۃ اذا راوا الملائکہ توقعوا العذاب من قبلہم فیقولون حینئذ للملائکۃ حجرا محجورا۔ کفار فرشتوں کے انزال کے لئے مطالبہ کیا کرتے تھے جب وہ اس دن فرشتوں کو دیکھیں گے اور ان سے (بجائے بشارت کے) عذاب متوقع پائیں گے تو اس وقت وہ فرشتوں سے التجا کریں گے بچائو۔ بچائو ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے :… او تاتی باللہ والملائکۃ قبیلا… یا تم اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے نہ لے آئو۔ (اسرا :92) دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح پیغمبروں پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی فرشتے کیوں نہیں آتے ؟ جیسا کہ دوسری آیت میں ہے : قالا لن نومن حتی …مثل ما اولی رسل اللہ۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں بھی ویسی ہی چیز (یعنی رسالت) نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی۔ دیکھئے سورة انعام آیت 124 ۔ (ابن کثیر) 2 ۔ یعنی یہ اپنی دانست میں اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے۔ اس لئے ان میں اتباع حق سے بےنیازی کا جذبہ پیدا ہوگیا۔ یا یہ کہ ” استکبار “ یعنی کفر وعناد اپنے دلوں میں چھپا رکھا ہے۔ 3 ۔ ” سرکشی میں حد سے گزر گئے۔ “ یعنی پیغمبر کی تکذیب کی اور ایسی باتوں کا مطالبہ کیا جو اولوالعزم پیغمبروں میں کسی کو ہی حاصل ہوسکتی ہیں پھر اس سے بڑھ کر اور کیا سرکشی ہوگی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

(رکوع نمبر ٣) اسرارومعارف یہ لوگ صرف اسی پر بس نہیں کرتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہی پہ اعتراض کرتے ہیں انہیں آخرت کے انکار اور اللہ جل جلالہ کے روبرو پیشی سے انکار نے اس قدر گستاخ کردیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ فرشتہ ہمارے پاس کیوں نہیں آتا نبی ہی کے پاس کیوں آتا اور اللہ جل جلالہ ہم سے بات کیوں نہیں کرتا ، اس قدر تکبر اور اپنی بڑائی میں اس قدر بڑھ چڑھ کر بات کر رہے ہیں لیکن ایک روز ایسا بھی ہوگا کہ یہ فرشتوں کو روبرو دیکھیں گے موت کے وقت بھی اور یوم قیامت بھی فرشتے تو ان کے سامنے ہوں گے مگر ایمان لانے اور غور وفکر سے راہ اپنانے کا وقت گذر چکا ہوگا اور ان بدکاروں کے لیے فرشتوں کا سامنے آنا کوئی سامان راحت نہ ہوگا بلکہ عذاب الہی کو دیکھ کر پکاریں گے پناہ ہے اس مصیبت سے کاش ہم اس عذاب سے بچ سکیں اور جن کاموں کو دنیا میں نیکی سمجھ کر اور اپنی پسند سے اختیار کرکے کرتے رہے ان کی طرف متوجہ ہوں گے یعنی اللہ انکو ملاحظہ فرمائیں گے تو انہیں غبار کی طرح اڑا دیں گے کہ اللہ جل جلالہ کے نزدیک ان کی حیثیت کوئی نہ ہوگی نہ اللہ جل جلالہ کا حکم یا اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہوں گے ۔ کفاروملحدین کے اپنے تجویز کردہ ہوں گے کہ آخرت کا منکر اگر کوئی ایسا کام بھی کرے جو واقعی نیکی ہو تو دنیا ہی کے کسی فائدے کے لیے کرتا ہے کہ آخرت کو تو وہ مانتا ہی نہیں لہذا اس کا بدلہ اسے دنیا میں مل جاتا ہے آخرت کے لیے کچھ نہیں بچتا ۔ اس روز تو وہی لوگ مزے میں ہوں گے اور خوب آرام دہ مقامات پہ تشریف فرما ہوں گے جو جن کے مستحق ٹھہرے یعنی ایمان لائے اور اطاعت کی جس روز آسمان پھٹ کر اس میں بادل اترے گا اور مسلسل فرشتے نازل ہو رہے ہوں گے مفسرین کرام کے مطابق آسمان و زمین کی تباہی کے بعد میدان حشر میں جب آسمان و زمین درست کردیے جائیں گے تو آسمان پھٹ کر ایک بادل سا اترے گا جس میں اللہ جل جلالہ کی تجلی ہوگی اور فرشتوں کا نزول ہوگا تو پھر ہر ایک مانے گا کہ حکومت اللہ جل جلالہ ہی کی ہے جو حق ہے اور بہت بڑا رحم کرنے والا ہے اور انکار کرنے والوں کے لیے وہ دن بہت ہی مشکل ہوگا ، اس روز تو کافر اور ظالم کہ کفر خود بہت بڑا ظلم ہے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا کہ کاش میں نے فلاں شخص کو دوست ہی نہ بنایا ہوتا ۔ (برے لوگوں کی رفاقت) اے کاش میں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آشنائی پیدا کی ہوتی اور آپ کی غلامی اختیار کی ہوتی اے کاش میں اس ظالم سے واقف ہی نہ ہوا ہوتا کہ اس نے قرآن کے نزول کے بعد دین کے ظہور کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد بھی مجھے گمراہ کردیا اور ان نعمتوں سے دور کردیا اور محروم کردیا اور شیطان واقعی انسان کو ذلیل ورسوا کردیتا ہے اور سخت دھوکا دیتا ہے کہ بدکاروں سے دوستی بھی ایک شیطانی عمل ہے ۔ (ترک قرآن کتنا بڑا جرم ہے) اور اس روز اللہ جل جلالہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دے گا کہ اے اللہ جل جلالہ ان لوگوں نے قرآن کو بالکل نظر انداز کردیا تھا اور اس پر ایمان نہ لاتے تھے ، آج ان کی کسی فریاد پہ نظر نہ فرمائی جائے ، اس میں جہاں کا فر ومنکر کے لیے وعید ہے وہاں ان مسلمانوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے جو قرآن کو مانتے رہے ، تنبیہہ تو ان کے لیے بھی ہے جو یہ مانتے ہیں کہ قرآن حق ہے اگر ہم اس پر عمل نہیں کرتے تو ہمارا قصور ہے ان کے بارے حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جس نے قرآن پڑھا مگر اس کو بند کرکے طاق میں سجا دیا نہ اس پر غور کیا اور نہ عمل کرنے کی فکر کی خود قرآن بھی اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں ان کی شکایت کرے گا۔ اور یہ بھی اللہ جل جلالہ کا عذاب ہے اور اس کی ایک صورت کہ گناہ کرتے کرتے کوئی ظالم اتنا دور نکل جائے کہ وہ اللہ جل جلالہ کے نبی کا دشمن بن جائے یہ ہر نبی کے عہد میں ہوا اور ایسے ظالم لوگ پائے گئے لہذا فکر کی بات نہیں کہ تیرا پروردگار طالب کو ہدایت دینے والا بھی ہے اور منکرین کے خلاف مدد کرنا بھی اسی کا کام ہے ۔ rnّ (انوارات کا تدریجی نزول) یہ کفار کہتے ہیں کہ ان پر سارا قرآن ایک ہی بار کیوں نازل نہ ہوا بھلا انہیں کیا اس میں اللہ جل جلالہ کی کتنی حکمتیں تھیں مثلا یہ کہ اللہ جل جلالہ نے اس سے آپ کے قلب اطہر کو قوت دی کہ انوارات باری یکبارگی آتے تو پاش پاش بھی کرسکتے تھے مگر تدریجا قوت بڑھتی گئی اور نزول انوارات جو الفاظ قرآن سے متعلق تھا ہوتا رہا اور یہی حال طالبان طریقت کا ہوتا ہے کہ یکبارگی کسی کو کھینچ کر منازل پہ لے جایا جائے تو مجذوب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے مگر تدریجا منازل کرائے جائیں تو قوت برداشت پیدا ہوجاتی ہے نیز دوسری حکمت یہ بھی تھی کہ کتاب اللہ کا پڑھنا اور یاد کرنا آسان ہوجائے کہ ہر آیت کسی واقعی پہ نازل ہوئی تو وہ اس کی یاد کا سبب بھی بن گیا اور معنی متعین کرنے کا بھی ، یہ کفار مل جل کر اور مشورے کرکے کتنا بڑا اور کیسا ہی عجیب سوال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں لائیں تو اللہ کریم بھی اس کا خوبصورت اور مدلل جواب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سمجھا دیتے ہیں ۔ (کرامت) کہ کفار کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لاجواب نہیں کرسکتے اللہ جل جلالہ کے بعض بندوں پر اولیاء اللہ میں سے بھی انعام ہوتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیوضات کی برکت سے انہیں اللہ جل جلالہ کی طرف سے علوم کے خزانے نصیب ہوتے ہیں اور یہ الٹے الٹے اعتراضات کرنے والے تو تب جانیں گے جب ان کے الٹے سوالوں اور الٹے کردار کے باعث انہیں الٹا گھسیٹ کر اور منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا جو بہت ہی بری جگہ ہے ۔ (اعمال اور سزا) کہ یہ بھی راہ سے اور ہدایت سے بہت ہی دور ہیں تو سزا از جنس اعمال ہوتی ہے جتنے راہ حق سے دور تھے اتنے جہنم کے دور دراز گوشوں میں اور جیسے الٹے اعتراض کرتے تھے اسی طرح الٹا کرکے پھینکے جائیں گے ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 29 : (لایرجعون) وہ امید نہیں رکھتے ہیں ‘(لقائ) ملاقات ‘(عتو کبیر) بہت زیادہ۔ حد سے زیادہ بڑھنا ‘ (لا بشری) خوشخبری نہیں ہے ‘ (حجر) کوئی روک ۔ کوئی آڑ ‘( محجور) آڑ کھڑ کردی گئی ‘ (قدمنا) ہم آگے آئے ‘ (ھبائ) وہ ذرات جو سورج چمکنے سے نظر آتے ہیں ‘( منثور) اڑایا ہوا۔ پھیلا ہوا ‘(مستقر) ٹھکانا ‘(مقیل) آرام کی جگہ ‘ (تشقق) پھٹ جائے گی ‘ (الغمام) بادل ‘(عسیر) سخت۔ مشکل ‘(یعض) کاٹے گا ‘ (یلیتنی) ‘ اے کاش کہ میں ‘(یویلتی) ہائے میری بدنصیبی ‘ خلیل (دوست) (اضلنی) مجھے بہکادیا ‘ (خذول) دغا باز۔ چھوڑ جانے والا ‘ تشریح آیت نمبر 21 تا 29 : جو لوگ اللہ پر ‘ آخرت اور اس کے رسول پر ایمان و یقین رکھتے ہیں انہیں کسی محسوس دلیل اور معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی اور جن لوگوں کو محض باتیں بنانا اور عمل سے فرار اختیار کرنا ہے وہ طرح طرح کی نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں ان کی غیر سنجیدگی اور بےعقلی کی انتہا یہ مطالبہ ہے کہ ہم رسولوں کو مان تو لیں مگر اس کی شرط یہ ہے کہ یا تو فرشتے خود آکر ہمیں بتائیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔ یا خود اللہ تعالیٰ ہی آکر اس کی تصدیق کردیں تو ہم ماننے کے لئے تیار ہیں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے یعنی وہ اپنے تکبر ‘ غرور اور بڑائی میں اس قدر ڈوب چکی ہیں کہ انہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ جب اللہ کے فرشتے اور خود اللہ رب العالمین ان کے سامنے ہوں گے تو ان مجرمین کے لئے وہ کوئی خوش خبری کا دن نہ ہوگا بلکہ ان کو جب سامنے سے آتا ہوا عذاب اور اس کی ہولناکی نظر آئے گی تو وہ چلا اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ہم سے خطا ہوگئی ہے اور وہ چلا چلا کر کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے اور اس کے درمیان کوئی پناہ کی جگہ بنادیجئے جس میں ہم چھپ سکیں۔ لیکن اس دن یہ حال ہوگا۔ کہ لوگوں کے اعمال بھی اڑتا ہوا غبار بن جائیں گے اور اہل جنت بہترین ٹھکانوں اور آرام گاہوں میں عیش و آرام کررہے ہوں گے۔ اس دن آسمان پھٹ کر ایک رقیق بادل کی شکل اختیار کرلے گا۔ جس کے چاروں طرف فرشتے ہوں گے۔ یہ بادل ایک سائے کی طرح آسمان سے آئے گا جس میں اللہ کی تجلیات ہوں گی۔ میدان حشر قائم ہوگا۔ اور ہر شخص کو اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہوگا ۔ اس وقت کفارومشرکین اور گناہ گاروں کی ساری خوش گمانیاں دور جائیں گی اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حقیقی بادشاہت و سلطنت صرف اللہ کی ہے۔ یہ دن ظالموں کے لئے بڑا بھاری دن ہوگا۔ جب یہ لوگ رنج و غم میں اپنے ہاتھوں تک کو چبا ڈالیں گے ان کی زبان پر صرف یہی ہوگا کہ کاش ہم نے رسول کی اطاعت و فرماں برداری کا اقرار کرلیا ہوتا اور ان لوگوں کا کہا نہ مانا ہوتا جنہوں نے دوست بن کر ہمیں تباہ وبرباد کردیا کاش ہم ایسے لوگوں کو اپنا دوست نہ بناتے جنہوں نے ایک سیدھے راستے کی ہدایت آجانے کے بعد ہمیں راہ مستقیم سے بھٹکادیا اور یہ سب کچھ اس دغا باز شیطان کا کام ہے جو لوگوں کو صراط مستقیم سے ڈگمگا دیتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی ایک اور ہرزہ سرائی۔ سرورِ دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پر خلوص اور بےمثال جدو جہد کے مقابلہ میں کفار اس حد تک لاجواب اور بوکھلا ہٹ کا شکار ہوئے کہ وہ ہر روزنئے سے نیا مطالبہ کرتے۔ اس حواس باختگی میں انھیں یہ بھی خبر نہ رہی کہ ہم کس قدر متضاد اور بےمقصد اعتراضات اور سوال کرتے ہیں۔ حواس باختگی کے عالم میں انھوں نے یہ بھی سوال کر ڈالا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس کے پاس فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ہمارے پاس کیوں نہیں آتے۔ ہم اس پر ایمان تب لائیں گے کہ جب ہم پر براہ راست فرشتے نازل ہوں یا پھر اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے رب کو دیکھ لیں۔ اس کے سوا ہم اس نبی پر ایمان لانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کفار کی حواس باختگی کا یہاں صرف یہ جواب دیا گیا ہے کہ اس قسم کے مطالبات کرنا صرف اس لیے ہے کہ ان کے دلوں میں فخر و غرور بھر چکا ہے جس وجہ سے یہ کسی دلیل کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس بنا پر بغاوت اور سرکشی میں آگے ہی بڑھتے جا رہے ہیں اور فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جس دن فرشتے ان کے سامنے آکھڑے ہوں گے تو وہ دن خوشی کی بجائے ان کے لیے پریشانی اور تباہی کا دن ہوگا۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس قوم پر فرشتے نازل کیے گئے اسے نیست ونابود کردیا گیا، جس طرح قوم لوط اور دیگر اقوام کا حال ان کے سامنے ہے۔ ایسے لوگوں کے پاس موت کے وقت فرشتے آتے ہیں تو وہ انہیں جنت کی بجائے جہنم کی خبر دیتے ہیں۔ جہنم کی خبر سنتے ہی مجرم کہتے ہیں کہ کاش ہم اس سے بچ جائیں۔ اس کا یہ بھی مفہوم لیا گیا ہے کہ فرشتوں کو دیکھ کر کفار کہیں گے کاش ! ہمیں تم سے پناہ مل جائے۔ یاد رہے کہ ہر مجرم ملائکہ کو تین بار ضرور دیکھے گا (موت کے وقت، قبر میں، محشر کے میدان میں) اور ہر بار ظالموں کے لیے ان کا دیکھنا پہلے سے زیادہ اذّیت ناک ہوگا۔ (عَاءِشَۃَ (رض) أَنَّ یَہُودِیَّۃً دَخَلَتْ عَلَیْہَا، فَذَکَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ ، فَقَالَتْ لَہَا أَعَاذَکِ اللَّہُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِفَسَأَلَتْ عَاءِشَۃُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْرِ قَالَتْ عَاءِشَۃُ فَمَا رَأَیْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بَعْدُ صَلَّی صَلاَۃً إِلاَّ تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ زَادَ غُنْدَرٌ عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی عَذَابِ الْقَبْرِ ] ” سیدہ عائشہ (رض) کے پاس ایک یہودی عورت آئی وہ قبر کے عذاب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہنے لگی تجھے اللہ عذاب کے قبر سے محفوظ فرمائے۔ سیدہ عائشہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عذاب قبر کے متعلق پوچھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں عذاب قبر برحق ہے سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اس کے بعد میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ایسی نماز پڑھتے نہیں دیکھا جس میں آپ نے عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔ (غندر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عذاب قبر برحق ہے۔ “ (عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یُحْشَرُ الْمُتَکَبِّرُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَمْثَال الذَّرِّ فِيْ صُوَرِ الرِّجَالِ یَغْشَاھُمُ الذُّلُّ مِنْ کُلِّ مَکَانٍ فَیُسَاقُوْنَ إِلٰی سِجْنٍ فِيْ جَھَنَّمَ یُسَمّٰی بُوْلَسَ تَعْلُوْھُمْ نَارُ الْأَنْیَارِ یُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَۃِ أَھْلِ النَّارِ طِیْنَۃَ الْخَبَالِ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ] ” حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ اپنے باپ (رض) سے وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی صورت میں لائے جائیں گے انہیں ہر طرف سے ذلت ڈھانپے ہوئے ہوگی۔ انہیں بولس نامی جہنم کی جیل میں لے جایا جائے گا۔ ان پر آگ کے شعلے بلند ہورہے ہوں گے اور انہیں جہنمیوں کی زخموں کی پیپ پلائی جائے گی۔ “ مسائل ١۔ حق کے منکر فخر و غرور کی وجہ سے حق کا انکار کرتے ہیں۔ ٢۔ متکبر شخص پر لے درجے کا نافرمان ہوتا ہے۔ ٣۔ مجرم لوگ ملائکہ کو دیکھ کر آہ وزاری کریں گے۔ تفسیر بالقرآن ملائکہ کے نزول کا مطالبہ : ١۔ کفار نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے ہیں۔ ( الحجر : ٧) ٢۔ کفار اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے۔ ( الانعام : ١٥٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ١٥٨ ایک نظر میں اس سبق کا آغاز بھی اسی انداز سے ہوتا ہے جس سے درس سابق کا ہوا تھا اور مضمون بھی اسی انداز سے چلتا ہے ‘ البتہ یہاں مشرکین کے اعتراضات کا رخ رب تعالیٰ کی طرف ہے۔ یہاں وہ اللہ پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ کو اپنا لائحہ عمل دیتے ہیں۔ گویا اس سبق میں وہ اپنی سرکشی میں ترقی کرتے ہوئے رسول اللہ پر اعتراضات کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور خدا پر اعتراضات کرتے ہیں۔ یہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی اور دل جوئی کا ایک انداز ہے کہ یہ لوگ صرف آپ ہی پر اعتراضات نہیں کرتے بلکہ ان کی گستاخی اللہ کے جناب میں بھی ہے۔ البتہ یہاں جواب دینے کے بجائے نہایت ہی شتابی سے ان کو قیامت کے مناظر میں سے بعض مناظر کی جھلکیاں دکھا دی جاتی ہیں۔ اور یہی ان کی گستاخی کا مناسب جواب ہے۔ ان کی گستاخی یہ تھی۔ لولا انزل۔۔۔۔۔۔ ربنا (٢٥ : ٢١) ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں یا ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ اس کے بعد ان کا یہ اعتراض نقل کیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ٹکڑوں کی شکل میں کیوں اترا ہے۔ اس کا جواب دیا جاتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ کیوں قرآن مجید مسلسل ٹکڑوں کی شکل میں اترا۔ رسول اللہ کو تسلی دی جاتی ہے کہ جب بھی وہ مباحثہ کر کے کوئی بات لاتے ہیں ‘ ہم بھی نئی تاویل آپ کو دے دیتے ہ ہیں اور بہترین تفسیر اور تشریح کردیتے ہیں۔ اس کے بعد حضور اور آپ کے مخالفین کے غور کے لیے بعض مکذبین کی ہلاکت کے وقت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ یہ اقوام کس طرح ہلاک کی گئیں۔ ذرا قوم لوط کے کھنڈرات پر تو غور کرو ، تم رات دن ان پر سے گزرتے ہو۔ قرآن کریم ان پر سخت گرفت کرتا ہے کہ جب یہ رات دن ان کھنڈرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اس لیے لائی گئی ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا ایک بیان یہاں دے دیا جائے۔ یہ واقعات دے کر ان پر ایک زور دار تبصرہ کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کا نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ کھینچا جاتا ہے اور نہایت ہی حقیقت پسندانہ ‘ ان ہم۔۔۔۔۔۔ ہم اضل (٢٥ : ٤٤) ” یہ تو بس حیوانوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں “۔ وقال الذین۔۔۔۔۔ للانسان خذولا مشرکین کو ہماری ملاقات کی امید نہیں ہے اور نہ وہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور نہ وہ اس کو کوئی اہمیت دیتے ہیں نہ اپنی زندگی اور اس کی سرگرمیوں کو وہ اس نظریہ کے مطابق قائم کرتے ہیں۔ چناچہ ان کے دلوں میں نہ اللہ کا خوف ہے ‘ نہ اللہ کی محبت اور وقار ہے۔ اس لیے اللہ کے حوالے سے بھی ان کی زبان سے ایسے کلمات نکلتے ہیں جو کبھی بھی ایسے شخص کی زبان سے نہیں نکل سکتے جسے خدا کا خوف ہو۔ وقال الذین۔۔۔۔ ربنا (٢٥ : ٢١) ” جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ” کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں “۔ یہ لوگ اس بات کو مسعبد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ مطالبہ کرتے تھے کہ جس عقیدے کی طرف ہمیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ کوئی فرشتہ اترے اور وہ اس پر شہادت دے۔ یا یہ کہ وہ خود باری تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس کی تصدیق کریں۔ یہ دراصل اللہ کے مقام اور مرتبہ پر دست درازی ہے اور اس جاہل اور سرکش کا مطالبہ ہے جو مقام رب العالمین کا کوئی احساس نہیں رکھتا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدراسی طرح نہیں کرتا جس طرح حق تعالیٰ کی قدر ہونا چاہئے۔ یہ گستاخی کرنے والے کون ہوتے ہیں اور ان کی اللہ کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا ہے جو برگزیدہ ‘ جبار اور کبیر ہے۔ یہ اللہ کی عظیم مملکت اور اللہ کی اس عظیم کائنات میں حیثیت ہی کیا رکھتے ہیں۔ ایک حقیر ذرے کی حیثیت تو ان کی ہے۔ انسان کی اس کائنات میں کوئی حیثیت اگر بنتی بھی ہے تو تب بنتی ہے کہ وہ اپنا تعلق اللہ سے جوڑ کر اور اپنا وزن ایمان کے ذریعہ بڑھا کر اپنی کچھ حیثیت پیدا کرے۔ چناچہ اس آیت کے اندر بات ختم کرنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ بتا دیتا ہے کہ اس گستاخی کا سبب کیا ہے۔ لقد اسنکبرو۔۔۔۔ کبیرا (٢٥ : ٢١) ” بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں یہ اپنے نفسوں میں اور حد سے گزر گئے ہیں یہ اپنی سرکشی میں “۔ وہ اپنے خیال میں بہت پڑی شے ہیں۔ چناچہ وہ گھمنڈ میں مبتلا ہیں اور اس گھمنڈ کی وجہ سے بہت ہی بڑی سرکشی میں مبتلا ہیں۔ یہ اپنے اندر اس قدر مست ہیں کہ حقیقی قدروں کا صیحح وزن نہیں کرسکتے۔ اب ان لوگوں کی عادت یہ ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے نفس کا احساس کرتے ہیں۔ ان کا نفس ان کی نظروں میں اس قدر بڑی چیز ہے کہ اس کائنات میں وہ اپنے نفس ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ اس قدر بڑی چیز کہ اللہ جل شانہ کو بھی اس کے سامنے ظاہر ہونا چاہئے تاکہ وہ اسے دیکھ کر اس کی تصدیق کریں اور اس پر ایمان لائیں۔ ان کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اللہ بطور مذاق اور استہزاء ان کے سامنے ان کی بد حالی اور لاچاری کا ایک نقشہ پیش کرتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ جب قیامت کے دن یہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے (ملائکہ کا دیکھنا بھی ان کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ تھا) تو اس چن ان پر برا دن ہوگا۔ ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے سامنے وہ عذاب موجود ہو گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا ‘ اس سے نجات کی ان کو کوئی صورت نظر ہی نہ آئے گی اور یہ عذاب اور جزاء کا دن ہوگا۔ یوم یرون۔۔۔۔۔۔۔ حجرا محجورا (٢٥ : ٢٢) وقدمناالیٰ ۔۔۔ ھباء منثورا (٢٥ : ٢٣) ” جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن ہو نہ گا۔ چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا ‘ اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے “۔ جس دن ان کے اس مطالبے پر عمل ہوگا اور فرشتے سامنے آجائیں گے۔ یرون الملئکتہ یہ ان فرشتوں کو دیکھ لیں گے۔ لیکن اس دن ان کے لیے کوئی خوشخبری نہ ہوگی بلکہ ان کے لیے عذاب کی خبر ہوگی۔ تو ان کا مطالبہ عجیب انداز میں پورا ہوگا۔ اس دن تو وہ یوں گویا ہوں گے۔ حجرا محجورا (٢٥ : ٢٢) ” خدا کی پناہ “۔ حرام اور ممنوع ۔ یہ جملہ وہ شر سے بچنے کے لیے کہتے تھے۔ دشمنوں کو کہتے تھے۔ یہ وہ دشمنوں کے ہلاک ہونے اور ان کے شر سے محفوظ ہونے کے لیے کہتے تھے۔ یہ فقرہ قیامت میں ان کی زبان سے نکل پڑے گا۔ جس طرح یہ فقرہ وہ دنیا میں شر سے پناہ مانگنے کے لیے بال دیتے تھے۔ آج ان کو خدا کی پناہ نصیب کب ہو سکتی ہے۔ آج وہ لاکھ مرتبہ خدا کی پناہ مانگیں ‘ ان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔ منثورا (٢٥ : ٢٣) ” اور وہ جو انہوں نے کہا دھرا ہے اسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑادیں گے “۔ یہ عمل ایک لحظ میں مکمل ہوجائے گا۔ ان کے تمام اعمال غبار کی شکل میں اڑا دیئے جائیں گے۔ انداز تعبیر کو ذرا دیکھئے۔ ہمارا خیال اس طرح دیکھتا ہے کہ ایک صاحب جسم ذات آتی ہے اور ان کے اعمال کو لے کر غبار کی طرح اڑا دیتی ہے۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تجیم اور تحیل۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دنیا میں اعمال صالحہ کی شکل میں جو کچھ جمع کیا تھا وہ غبار کردیا جاتا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ان کے یہ اعمال ایمان پر مبنی نہ تھے۔ ایمان کے ذریعہ ہی انسان اللہ تک پہنچتا ہے۔ ایمان اعمال صالحہ کو ایک منہاج اور ایک پختگی اور دوام بخشتا ہے اور یہ اعمال ایک مقصد اور ا کی سمت رکھتے ہیں۔ نہ یہ کسی وقتی جذبے کے تحت صادر ہوتے ہیں اور نہ کسی ایسے شخص کی دوڑ دھوپ ہوتی ہے جس کو صیحح راہ اور سمت معلوم ہی نہیں ویسے ہی ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ یا محض بےمقصد دوڑ دھوپ ہے۔ اسلام میں کسی ایسے عمل صالح کی کوئی قیمت نہیں ہے جس کی کوئی سمت ‘ کوئی مقصد اور کوئی روح متعین نہ ہو۔ کیونکہ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا۔ اس کائنات میں انسان کا وجود ‘ اس کے اعمال ‘ اس کی زندگی کی دوڑ دھوپ دراصل اس کائنات کی حقیقت سے مربوط ہیں۔ یہ انسان بھی ناموس فطرت کا ایک پرزہ ہے۔ اور یہ پوری کائنات ذات باری سے مربوط ہے۔ اس میں انسان اور اس کی تمام سرگرمیاں شامل ہیں۔ اگر انسان کی تگ و دو اور اس کی حرکت اور دوڑ دھوپ اس اصلی نور سے کٹ جائے تو وہ بےمقصد ہوجاتی ہے۔ وہ ضائع ہوجاتی ہے اور اس کا کوئی وزن اور قدرو قیمت عنداللہ نہیں ہوتی۔ اس کے اعمال کا نہ کوئی حساب ہوگا اور نہ یہ اس کی کوئی قدرو قیمت ہوگی بلکہ اسلامی نظر میں اس کا وجود یہ نہیں ہے۔ وہ محض ہوا اور غبار ہے۔ ایمان انسان کو رب تک پہنچاتا ہے۔ اس طرح پھر اللہ رب العالمین کے ہاں اس کے اعمال کا بھی وزن ہوتا ہے۔ اور اس کائنات کے حساب میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس کے اعمال اس کائنات کی تعمیرو ترقی میں دکھائے جاتے ہیں۔ ان مشرکوں کا چونکہ ایمان نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے اعمال کو کالعدم کردیا جاتا ہے۔ لیکن قرآن کریم نے نہایت ہی مجسم اور حسی انداز تعبیر اخیتار کیا ہے۔ وقدمنا الیٰ ۔۔۔۔۔ منثورا (٢٥ : ٢٣) ” اور ہم ان اعمال کی طرف بڑھے جو انہوں نے کیے تھے تو ان اعمال کو غبار کر طرح اڑادیا “۔ اور مومنین کا حال کیا ہوگا۔ تقابل کے لیے وہ بھی ملاحظہ ہو۔ یہ اصحاب جنت ہیں۔ اصحب الجنتہ۔۔۔۔ احسن مقیلا (٢٥ : ٢٤) ” پس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اس دن اچھی جگہ ٹھریں گے اور وہ دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے “۔ وہ نہایت آرام ‘ خوشی اور استقلال کے ساتھ گھنے سایوں میں رہیں گے۔ اور یہاں مستقر کا لفظ کافروں کے اعمال کی ناپختگی اور ہوا میں غبار کی طرح اڑ جانے کے بالمقابل لایا گیا ہے اور دوپہر کا آرام اور سکون مقابل ہے۔ اہل کفر کے جزع و فزع کا ‘ کہ وہ بےاختیار ہو کر اب خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور کہتے ہیں حجرا محجورا (٢٥ : ٢٢) کفار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ اللہ ان کے سامنے بادلوں کے سایہ میں آئے اور فرشتے آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ مطالبے وہ بنی اسرائیل کی کہانیاں سن کر کرتے تھے کہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں اتر رہا ہے۔ یا ایک آگ کے عمودی شعلے کی شکل میں۔ چناچہ قرآن کریم ایک دوسرے انداز میں قیامت کے دن ان کے مطالبے کے پورا ہونے کا ایک منظر پیش کرتا ہے جس دن فرشتے اتریں گے۔ ویوم تشقق۔۔۔۔ تنزیلا (٢٥ : ٢٥) الملک یو ۔۔۔ الکفرین عسیرا (٢٥ : ٢٦) ” اس روز ایک بادل آسمان کو چیرتا ہوا نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیئے جائیں گے۔ اس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمن کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے سخت دن ہوگا “۔ یہ آیت اور قرآن کریم کی بیشمار دوسری آیات یہ بتلاتی ہیں کہ اس دن نہایت ہی بڑے فلکیاتی واقعات و حادثات ہوں گے۔ اور تمام ایسی آیات کا اشارہ اس طرف ہے کہ یہ کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور اس کا یہ نظام جو ہمیں نظر آتا ہے ‘ یہ سب کا سب درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے تمام افلاک ‘ کو آب اور ستارے باہم ٹکرا جائیں گے۔ اس کائنات کے نظام ‘ اشیاء کے باہم روابط ‘ اور یہ چیز کی موجودہ شکل بدل جائے گی اور یہ حادثہ اس دنیا کا اختتام ہوگا۔ یہ کائناتی انقلاب صرف زمین تک محدود نہ ہوگا۔ اس کی زد میں تمام ستارے ‘ تمام آسمان اور تمام کوکب آئیں گے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہاں اس انقلاب کے بعض مناظر پیش کر یئے جائیں جو متعدد سورتوں میں آئے ہیں۔ اذا الشمس کورت۔۔۔ سجرت (٨١ : ١ تا ٣ و ٦) ” جب سورج لپیٹ دیا جائے گا جب تارے بکھر جائیں گے ‘ جب پہاڑ ملائے جائیں گے۔۔۔۔۔ اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے “۔ اذا السمائ۔۔۔۔۔ القبور بعثرت (٨٢ : اتا ٤) ” جب آسمان پھٹ جائے گا ‘ جب تارے بکھر جائیں گے اور سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے اور جب قبریں کھول دی جائیں گی “۔ اذا السماء انشقت۔۔۔۔ لربھا و حقت (٨٤ : ١ تا ٥) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لیے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلا دی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے ‘ اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے) اذا اجت۔۔۔۔۔ ھباء منبثا (٥٦ : ٤ تا ٦) ” جب زمین یکبارگی بلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ بن کر رہ جائیں گے “۔ فاذانفخ فی۔۔۔۔ یومئذواھیتہ (٦٩ : ١٣ تا ١٦) ” پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک ماردی جائے گی اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک یہ چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔ اس رہز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا “۔ یوم تکون۔۔۔ کالعھن (٧٠ : ٨۔ ٩) ” جس دن آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون جیسے ہوجائیں گے “۔ اذا زلزلت۔۔۔۔ اتقالھا (٩٩ : ١۔ ٢) ” جب زمین اپنی پوری قوت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے بوجھ باہر نکال دے گی “۔ یوم یکون۔۔۔۔۔ المنفوش (١٠١ : ٤۔ ٥) ” وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنے ہوئے اون کی طرح ہوں گے “۔ فارتقب یوم ۔۔۔۔۔ عذاب الیم (٤٤ : ١٠۔ ١١) ” اچھا انتظار کرو جب آسمان صریح دھواں لائے گا اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے دردناک سزا “۔ یوم ترجف۔۔۔۔ کثیبا مھیلا (٧٣ : ١٤) ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جا رہے ہیں “۔ السماء منفطر بہ (٧٣ : ١٨) ” آسمان پھٹا جا رہا ہوگا اس دن “۔ کلا اذا دکت الارض دکا (٨٩ : ٢١) ” ہر گز نہیں جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بجا دی جائے گی “۔ فاذا برق۔۔۔۔۔ والقمر (٧٥ : ٧ تا ٩) ” پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے “۔ فاذا النجوم۔۔۔۔ الجبال نسفت (٧٧ : ٨ تا ١٠) ” پھر جب ستارے ماند پڑجائیں گے اور آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور پہاڑ دھنک ڈالے جائیں گے “۔ ویسئلونک عن۔۔۔۔ ولا امتا (٢٠ : ١٠٥ تا ١٠٧) ” یہ اگر آپ سے پوچھتے ہیں کہ اس دن پہاڑ کہاں چلے جائیں گے۔ کہو میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا کہ اس میں کوئی بھی کجی اور سلوٹ نہ دیکھو گے “۔ وتری الجبال۔۔۔۔ السحاب (٢٧ـ : ٨٨) ” آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب ہوئے ہیں مگر اس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے “۔ و یوم نسیر۔۔۔۔۔ الارض بارزۃ (١٨ : ٤٧) ” جب ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے “۔ یوم تبدل ۔۔۔۔ والسموت (١٤ : ٤٨) ” اس روز جبکہ زمین و آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کردیئے جائیں گے “۔ یوم نطوی۔۔۔۔ للکتب (٢١ : ١٠٤) ” وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں “۔ یہ تمام آیات بتاتی ہیں کہ ہماری اس دنیا کا انجام نہایت ہی خوفناک ہوگا۔ اس میں اس زمین کو بلا مارا جائے گا اور اجسام عظیمہ ایک دوسرے کے ساتھ دھماکے سے ٹکرا جائیں گے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے۔ سمندر پھٹ جائیں گے یعنی کرئہ ارض کے اضطرابات کی وجہ سے یا سمندروں کے ذرات پھٹ جائیں گے اور تابکاری سے پانیوں میں آگ لگ جائے گی۔ چمکدار ستارے بےنور ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا اور ٹکرے ٹکرے ہوگا۔ کواکب ایک دوسرے کے ساتھ ٹکڑا کر ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوجائیں گے۔ تمام آسمانی دوریاں ختم ہوجائیں گی۔ شمس وقمر ایک ہوجائیں گے۔ آسمان کبھی سیاہ دھوئیں کی طرح ہوگا اور کبھی آگ کے شعلے کی طرح ہوگا۔ غرض یہ ایک ہولناک گھڑی ہوگی اور اس میں انسان سخت خوفزدہ ہوگا۔ غرض ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس بات سے ذراتا ہے ہیں کہ اس روز آسمان کو چیرتا ایک بادل نمودار ہوں گے اور اس دن فرشتوں کے پرے کافرین پر نازل ہوں گے ‘ جیسا کہ ان کا مطالبہ تھا۔ یہ مبالبہ وہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کے لیے نہ کرتے تھے یہ فرشتے اللہ کے حکم سے اللہ کا عذاب لے کر آئیں گے۔ وکان یوما۔۔۔۔ عسیرا (٢٥ : ٢٦) ” اور منکرین کے لیے یہ پڑا سخت دن ہوگا “۔ کیونکہ اس دن میں سخت عذاب سامنے وہ گا اس لیے وہ ایک ہولناک دن ہوگا۔ یہ لوگ کم علمی سے نزول ملائکہ کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ ملائکہ عذاب لے کر آتے ہیں۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر لایا جاتا ہے۔ اس میں یہ گمراہ اور ظالم بہت زیادہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ منظر بہت یہ طویل ہے۔ اس قدر طویل کہ ناظرین یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ منظر چلتا ہی رہے گا۔ یہ ظالم نہایت ندامت اور حسرت کی وجہ سے ہاتھ کاٹ رہا ہے ‘ خود اپنے ہاتھ۔ ویوم یعض۔۔۔ للانسان خذولا (٢٥ : ٢٧ تا ٢٩) ” ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا ” کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی کاش میں نے فلاں شخض کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی۔ شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفا بکلا “۔ یہ شخض اس گہرے تاسف کا اظہار کر رہا ہے اور اس کے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہ شخض اپنی حسر تناک آواز کو بلند کرتے چلا جاتا ہے۔ اس کی چیخیں اس قدر دلدوز ہیں اور ان کا اثر اس قدر طویل ہے کہ یہ محفل طویل ہوتی جارہی ہے۔ اثرات عمیق ہوتے جارہے ہیں۔ یہاں تک آج بھی ان آیات کا پڑھنے والا گہرا تاسف لے لیتا ہے۔ منظر کو دیکھنے والے شریک غم ہوجاتے ہیں۔ ویوم یعض الظالم علی یدیہ (٢٥ : ٢٧) ” اس دن یہ ظالم اپنے ہاتھ چبائے گا “۔ یہ صرف ایک ہاتھ کو نہ چبائے گا بلکہ دونوں ہاتھوں کو چبائے گا۔ کبھی اس کو کبھی اس کو۔ یہ شدت غم کی وجہ سے اپنے ہاتھوں پر اپنا غصہ اتارے گا۔ ہاتھوں کو چبانا اشارہ اس طرف ہے کہ اس دن ظالم کی نفسیاتی حالت کیا ہوگی۔ اس کے غم اور اندوہ کو نہایت یہ مجسم فعل اور حرکت کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے یعنی غم کو یہ برداشت نہ کرسکے گا۔ یقول یلیتنی۔۔۔۔ سبیلا (٢٥ : ٢٧) ” کہے گا کاش میں نے رسول اللہ کا ساتھ دیا ہوتا “۔ رسول کے طریقے پر چلا ہوتا۔ رسول سے علیحدہ نہ ہوا ہوتا۔ وہ رسول جس کی رسالت کا وہ منکر تھا ‘ اس لیے کہ یہ رسول بشرکیوں ہے۔ یویلتی لیتنی۔۔۔۔۔ خلیلا (٢٥ : ٢٨) ” میری کم بختی ! کاش میں فلاں کو اپنا دوست نہ بناتا “۔ فلاں کو عام کردیا ہے۔ کسی کا نام نہیں لیا تاکہ اس میں تمام گمراہ کنند گان شامل ہوجائیں۔ تمام دوست جو دوستوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں لیکن روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول عقبہ ابن معیط ہے۔ یہ شخض نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بہت ہی بیٹھتا اٹھتا تھا۔ اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ضیافت کے لیے بلایا تو حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تک تم دو باتوں کی شہادت نہ دو ۔ چناچہ اس نے ایسا کیا۔ ابی ابن خلف بھی اس کا دوست تھا۔ اس نے اسے بہت ہی شرمندہ کیا۔ اور کہا تو بےدین ہوگیا ہے۔ تو اس نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میں نے محمد کے دین کو قبول نہیں کیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں تمہاری دعوت اس وقت تک قبول نہ کروں گا جب تم کلمہ شہادت ادا نہ کرو۔ حالانکہ وہ میرے گھر میں تھے اور میرا کھانا نہ کھاتے تھے۔ مجھے اس سے بڑی شرم آئی کہ وہ میرا کھانا نہ کھائے۔ اس لیے میں نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔ تو ابی ابن خلف نے کہا خدا کی قسم میں تم سے تب راضی ہوں گا کہ تم اس کی گردن دبا کر اس کے منہ پر تھوکو۔ حضور اسے دارالندوہ میں سجدہ کرتے ہوئے مل گئے۔ اور اس (بد بخت) نے ایسا ہی کیا۔ اسے حضور اکرم نے فرمایا کی مکہ سے باہر تم جب بھی مجھے ملو گے میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ یہ شخض بدر کے دن گرفتار ہوا۔ آپ نے حضرت علی (رض) کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو ۔ لقد اضلنی۔۔۔ جاء نی (٢٥ : ٢٩) ” اس کے بہکاوے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس گئی تھی “۔ یہ دراصل شیطان تھا جو گمراہ کر رہا تھا یا شیطان کا مدد گار تھا۔ وکان۔۔۔۔ خذولا (٢٥ : ٢٩) ” اور شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بےوفانکلا “۔ وہ انسان کو شرمندگی کے انجام تک پہنچاتا ہے۔ اور جب سچائی کا وقت آتا ہے کہ ہمیشہ شیطان بھاگ جایا کرتے ہیں۔ خصوصاً ہولناک اور کربناک مناظرو مواقع میں۔ یوں قرآن کریم نے ان لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑا۔ ان کے سامنے ان کے انجام کو کپکپا دینے والے مناظر کی شکل میں پیش کیا۔ اس طرح کہ گویا وہ ایک واقعہ ہے جسے دیکھا جارہا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ ابھی اس زمین پر ہی ہیں جو اللہ کی تکذیب کررہے ہیں اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا بڑی حقارت کے ساتھ انکار کررہے ہیں اور ایسے مطالبات کررہے ہیں جو بیہودہ ہیں۔ حالانکہ وہاں نہایت ہی خوفناک صورت حال سے دو چار ہونے والے ہیں اور نہایت ہی شرمساری اور ندامت سے دوچار ہوں گے لیکن اس وقت ندامت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اب روئے سخن مناظر قیامت سے اس دنیا کی طرف آجاتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے انہوں نے جو موقف اختیار کر رکھا ہے اس پر بات ہوتی ہے۔ اب ان کا اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید سب کا سب ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔ موجود انداز نزول قرآن قابل اعتراض ہے۔ اس سوال و جواب کا خاتمہ بھی قیامت کے منظر پر ہوتا ہے کہ جس طرح ان کا اعتراض الٹا ہے ‘ اسی طرح وہ جہنم میں الٹے ڈالے جائیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

معاندین اور مکذبین کے لیے وعید، اصحاب جنت کے لیے خوشخبری معاندین و مکذبین کی جاہلانہ باتوں میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ ہم رسالت کا دعویٰ کرنے والے کو اس وقت رسول مانیں گے جب فرشتوں کو اتار کر ہمارے سامنے لے آئے بلکہ اللہ تعالیٰ کو ہمیں دکھا دے اگر ایسا ہوجائے تو ہم ایمان لے آئیں گے یہ لوگ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لیے ایسی باتیں کرتے تھے جس کا آخرت پر ایمان ہو وہ تو یہ سوچے گا کہ جو شخص نبوت کا مدعی ہے مجھے اس کی باتوں پر غور کرنا چاہئے جو معجزات پیش کیے ان پر کفایت کر کے ایمان لانا چاہئے جو لوگ آخرت کو مانتے ہی نہیں وہ لوگ ایسی بےتکی معاندانہ باتیں کرتے ہیں اسی لیے (وَقَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَاءَنَا) فرمایا کہ یہ باتیں ان لوگوں کی ہیں جنہیں یہ امید نہیں ہے کہ قیامت کے دن پیشی ہوگی اور حق و ناحق کے فیصلے ہوں گے اور کفر کی سزا ملے گی اور اہل ایمان کو انعامات ملیں گے۔ یہاں معاندین کی دو باتیں نقل فرمائیں اول یہ کہ محمد ( رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعی رسول ہیں تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے آئیں جو ان کی تصدیق کردیں ان کے جواب میں فرمایا (لَقَدْ اسْتَکْبَرُوْا فِیْ اَنفُسِہِمْ ) کہ ان لوگوں نے اپنے نفسوں میں بڑا تکبر اختیار کیا صاحب روح المعانی لکھتے ہیں اوقعوا الا ستکبار فی شانھا و عدوھا کبیرۃ الشان یعنی انہوں نے اپنی جانوں کے بارے میں یہ سمجھ لیا کہ ان کے نفوس اتنے بڑے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں (وَعَتَوْا عُتُوًّا کَبِیْرًا) ( اور انہوں نے بڑی سر کشی اختیار کی) یعنی انہوں نے اپنے کو اس لائق سمجھا کہ فرشتے آکر ہمارے سامنے بیان دیں اور اپنے کو اس لائق سمجھا کہ اس دنیا میں رب جل شانہٗ کو دیکھ لیں یہ تکبر میں بہت آگے بڑھ گئے اور اپنے لیے وہ بات تجویز کی جس کے اہل نہیں ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” وقال الذین الخ “ یہ پانچویں شکوے کا اعادہ ہے برائے بیان زیادت یعنی ” او نری ربنا “ مشرکین جو منکرین بعث بھی ہیں کہتے ہیں ہمارے پاس فرشتے بھیجے جائیں جو پیغمبر (علیہ السلام) کے دعوے کی تصدیق وتائید کریں۔ یا ہم خود اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور وہ خود پیغمبر (علیہ السلام) کی رسالت کی تصدیق کرے اور ہمیں ایمان لانے کا بالمشافہہ حکم صادر فرمائے۔ لولا انزل علینا الملائکۃ فتخبرنا انک رسول حقا او نری ربنا فیخبرنا بذلک (بحر ج 6 ص 491) ۔ ”’ لقد استکبروا فی انفسہم الخ “ یہ زجر ہے یہ ان معاندین کے عناد و استکبار اور ان کی بغاوت سرکشی کی انتہا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(21) اور وہ لوگ جن کو ہماری ملاقات کی اور ہمارے روبرو پیش ہونے کی توقع اور امید نہیں ہے اور جن کو قیامت کا خوف نہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں نازل کئے جاتے یا ہم اپنے پروردگار کو کھلم کھلا کیوں نہیں دیکھ لیتے یہ لوگ اپنے جی میں اپنے کو بہت بڑا سمجھ رہے ہیں اور یہ لوگ شرارت میں انسانیت اور بندگی کی حد سے بہت آگے نکل گئے ہیں یعنی منکرین رسالت اور منکرین قیامت یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم سے ملائکہ آکر آپ کی رسالت کی تصدیق کریں یا ہمارا پروردگار ہمارے سامنے ہوکر یہ کہے کہ یہ ہمارا رسول ہے اس وقت تک ہم آپ کے رسول ہونے کا اقرار نہیں کریں گے حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا فرشتوں کو ان کی اصلی حالت میں دیکھنا یا حضرت حق جل مجدہ کی زیارت سے اس دنیا میں مشرف ہونے کا مطالبہ کرنا یہ صلاحیت ان میں کہاں ہے اور باوجود عدم صلاحت کے خواہش مند ہیں رویت کے توبہ اپنے دلوں میں اپنے کو بہت بلند اور بہت بڑا سمجھتے ہیں کہ یہ فرشتوں کو بھی دیکھ لیں گے اور ان سے ہم کلام بھی ہوجائیں گے ایسی ان ہوئی باتوں کی خواہش کرکے یہ لوگ اپنی شرارت اور سرکشی میں حد سے تجاوز کر گئے ہیں نہ یہ انسانیت کا متقضا ہے اور نہ بندگی کا کہ دنیا میں ملائکہ کی روایت کا مطالبہ کیا جائے یا اللہ تعالیٰ کی رویت کا مطالبہ کیا جائے ۔