الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا (who have rejected Our signs - 25:36). Here it is described that the people of Pharaoh had denied Allah&s verses. It is to be noted that by that time Torah was not revealed to Sayyidna Musa (علیہ السلام) . Therefore it cannot be Torah which was denied. Hence it is either the proofs of the Oneness of Allah, which can be understood by any one according to his mental level, or the traditions of the past prophets which are passed on through generations, no matter in what little detail, are referred here as rejection of His message. The same thing is referred in Qur&an as well وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ (Joseph brought you the clear signs before - 40:34). It mentions about the teachings of the earlier prophets, which had also reached them. (Bayan ul-Quran)
معارف و مسائل الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا، اس میں قوم فرعون کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے۔ حالانکہ اس وقت تک تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل بھی نہیں ہوئی تھی اس لئے اس تکذیب سے آیات تورات کی تکذیب تو مراد نہیں ہوسکتی، بلکہ مراد آیات سے یا تو توحید کے دلائل عقلیہ ہیں۔ جو ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق سمجھ میں آسکتے ہیں ان میں غور نہ کرنے کو تکذیب آیات فرمایا اور یا یہ کہ انبیاء سابقین کی روایات جو کچھ نہ کچھ ہر قوم میں نقل ہوتی آئی ہیں ان کا انکار مراد ہے جیسے قرآن کریم میں فرمایا وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بالْبَيِّنٰتِ ، اس میں انبیاء سابقین کی تعلیم کا ان لوگوں تک منقول چلا آنا بتلایا گیا ہے۔ (بیان القران)