Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 36

سورة الفرقان

فَقُلۡنَا اذۡہَبَاۤ اِلَی الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ؕ فَدَمَّرۡنٰہُمۡ تَدۡمِیۡرًا ﴿ؕ۳۶﴾

And We said, "Go both of you to the people who have denied Our signs." Then We destroyed them with [complete] destruction.

اور کہہ دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کی طرف جاؤ جو ہماری آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں ۔ پھر ہم نے انہیں بالکل ہی پامال کر دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And indeed We gave Musa the Scripture, and placed his brother Harun with him as a helper; And We said: "Go you both to the people who have denied Our Ayat." Then We destroyed them with utter destruction. Allah threatens the idolators who denied and opposed His Messenger Muhammad and He warns them of the punishment and painful torment He sent upon the previous nations who rejected their Messengers. Allah begins by mentioning Musa, upon him be peace, whom He sent along with his brother Harun as a helper -- i.e., as another Prophet who helped and supported him -- but Fir`awn and his chiefs denied them both: دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَـفِرِينَ أَمْثَـلُهَا Allah destroyed them completely, and similar (awaits) the disbelievers. (47:10) And when the people of Nuh denied him, Allah destroyed them likewise, for whoever denies one Messenger denies all the Messengers, because there is no difference between one Messenger and another. If it had so happened that Allah had sent all His Messengers to them, they would have denied them all. Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٧] یہاں آیات سے مراد غالباً وہ وحی تھی جو حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف (علیہم السلام) پر نازل ہوئی تھی کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے تو ان فرعونیوں کو ابھی اپنی طرف نازل شدہ کوئی وحی سنائی ہی نہ تھی۔ یا پھر آیت اللہ سے مراد کائنات میں ہر سو اللہ کی بکھری ہوئی نشانیاں ہیں جن سے غور و فکر کرنے والے اللہ کی معرفت حاصل کرسکتے ہیں۔ اور فرعون ایسی نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے خود ہی خدائی کا دعویدار بن بیٹھا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَقُلْنَا اذْهَبَآ اِلَى الْقَوْمِ ۔۔ : اس سے پہلی آیت اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے قصے کی ابتدا کا ذکر فرمایا، پھر سارا طویل قصہ حذف کرکے ان دونوں کے قصے کی انتہا کا ذکر فرما دیا، کیونکہ یہاں مقصود اتنی بات ہی تھی، یہ اختصار کا کمال ہے۔ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا : ان آیات سے مراد یا تو وہ معجزے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے، یا ایک اللہ کی عبادت، موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت تسلیم کرنے اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کے احکام ہیں، جو اللہ کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) لے کر فرعون کے پاس گئے تھے۔ رسول بھیجنے سے پہلے ہی انھیں آیات جھٹلانے والے اس لیے قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ انھوں نے آیات کو جھٹلا دینا ہے، یا اس لیے کہ قرآن کے مخاطب لوگوں کو معلوم تھا کہ فرعون نے اللہ کی آیات کو جھٹلا دیا تھا۔ ان کے علم کے اعتبار سے ” كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا “ فرما دیا۔ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِيْرًا :”ۭتَدْمِيْرًا “ کسی چیز کو اس طرح توڑنا کہ پھر درست نہ ہو سکے۔ (المراغی) مزید وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (١٦) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا (who have rejected Our signs - 25:36). Here it is described that the people of Pharaoh had denied Allah&s verses. It is to be noted that by that time Torah was not revealed to Sayyidna Musa (علیہ السلام) . Therefore it cannot be Torah which was denied. Hence it is either the proofs of the Oneness of Allah, which can be understood by any one according to his mental level, or the traditions of the past prophets which are passed on through generations, no matter in what little detail, are referred here as rejection of His message. The same thing is referred in Qur&an as well وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِن قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ (Joseph brought you the clear signs before - 40:34). It mentions about the teachings of the earlier prophets, which had also reached them. (Bayan ul-Quran)

معارف و مسائل الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا، اس میں قوم فرعون کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے۔ حالانکہ اس وقت تک تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل بھی نہیں ہوئی تھی اس لئے اس تکذیب سے آیات تورات کی تکذیب تو مراد نہیں ہوسکتی، بلکہ مراد آیات سے یا تو توحید کے دلائل عقلیہ ہیں۔ جو ہر انسان کو اپنی عقل کے مطابق سمجھ میں آسکتے ہیں ان میں غور نہ کرنے کو تکذیب آیات فرمایا اور یا یہ کہ انبیاء سابقین کی روایات جو کچھ نہ کچھ ہر قوم میں نقل ہوتی آئی ہیں ان کا انکار مراد ہے جیسے قرآن کریم میں فرمایا وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ يُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بالْبَيِّنٰتِ ، اس میں انبیاء سابقین کی تعلیم کا ان لوگوں تک منقول چلا آنا بتلایا گیا ہے۔ (بیان القران)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَقُلْنَا اذْہَبَآ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا۝ ٠ۭ فَدَمَّرْنٰہُمْ تَدْمِيْرًا۝ ٣٦ۭ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ دمر قال : فَدَمَّرْناهُمْ تَدْمِيراً [ الفرقان/ 36] ، وقال : ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ [ الشعراء/ 172] ، وَدَمَّرْنا ما کانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَما کانُوا يَعْرِشُونَ [ الأعراف/ 137] ، والتدمیر : إدخال الهلاک علی الشیء، ويقال : ما بالدّار تَدْمُرِيٌّ وقوله تعالی: دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ محمد/ 10] ، فإنّ مفعول دمّر محذوف . ( د م ر ) التدمیر ( تفعیل ) کے معنی ہیں کسی چیز پر ہلاکت لاڈالنا ۔ قرآن میں ہے :َ فَدَمَّرْناهُمْ تَدْمِيراً [ الفرقان/ 36] اور ہم نے انہیں ہلاک کرڈالا ۔ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ [ الشعراء/ 172] پھر ہم نے اوروں کو ہلاک کردیا ۔ وَدَمَّرْنا ما کانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَما کانُوا يَعْرِشُونَ [ الأعراف/ 137] اور فرعون اور قوم فرعون جو ( محل بناتے اور انگور کے باغ ) جو چھتریوں پر چڑھاتے تھے سب کو ہم نے تباہ وبرباد کردیا ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ [ محمد/ 10] خدا نے ان پر تباہی ڈال دی ۔ میں دمر کا مفعول محذوف ہے ۔ محاورہ ہے ۔ بالدار تدمری ۔ یعنی گھر میں کوئی بھی نہیں ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٦) پھر ہم نے ان دونوں کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قبطی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری نو نشانیوں کو جھٹلایا ہے مگر ان کے سمجھانے کے باوجود بھی وہ لوگ ایمان نہیں لائے نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان سب کو غرق کرکے بالکل ہی نیست ونابود کردیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٦ (فَقُلْنَا اذْہَبَآ اِلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاط فَدَمَّرْنٰہُمْ تَدْمِیْرًا ) ” یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا گیا اور ان لوگوں کے مسلسل انکار کے باعث بالآخر انہیں سمندر میں غرق کر کے نیست و نابود کردیا گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49 "Revelations": The Divine teachings which had reached them through Prophets Jacob and Joseph, and which had been preached to them by the righteous people of Israel for centuries

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :49 یعنی ان آیات کو جو حضرت یعقوب اور یوسف علیہم السلام کے ذریعے سے ان کو پہنچی تھیں ، اور جن کی تبلیغ بعد میں ایک مدت تک بنی اسرائیل کے صلحاء کرتے رہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:36) دمرنا ہم۔ ماضی جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب تدمیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ ہم نے ان کو اکھیڑ مارا۔ تباہ کر کے چھوڑا۔ التدمیر اشد الا ھلاک واصلہ کسر الشیء علی وجہ لا یمکن اصلاحہ۔ تدمیر اہلاک کی شدید ترین شکل ہے اور اس کی اصل کسی شے کو اس طرح توڑ پھوڑ دینا کہ اس کی اصلاح ہی ممکن نہ رہے۔ یعنی بالکل چور چور و ریزہ ریزہ ہی کر ڈالا۔ کلام کچھ یوں ہے :۔ فقلنا اذھبا الی القوم فذھبا الیہم ودعوہم الی الایمان فکذبوھما واستمروا علی ذلک فدمرنہم۔ ہم نے کہا کہ تم دونوں قوم کے پاس جائو پس وہ دونوں ان کی طرف گئے اور ان کو ایمان کی دعوت دی لیکن (اس قوم کے ) لوگوں نے ان دونوں کی تکذیب کی اور ڈٹے رہے پس ہم نے ان کو تباہ کر کے چھوڑا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں کے پاس۔ یہاں آیات سے وہ نشانیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں جو حضرت موسیٰ کو بطور معجزہ دی گئیں اور ارسال کے وقت ان کو مکذب کہنا اس کے اعتبار سے ہے اور اگر ان سے مراد ” آیات الٰہیہ “ یعنی دلائل توحید ہوں جو کائنات میں پائے جاتے ہیں تو کوئی اشکال لازم نہیں آتا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ مراد اس قوم سے فرعون اور اس کی قوم ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(36) پھر ہم نے ان سے کہا کہ تم دونوں ان لوگوں کے پاس جائو جنہوں نے ہمارے دلائل توحید کی تکذیب کی ہے پھر ہم نے ان سب تکذیب کرنے والوں کو بالکل ہلاک کردیا یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) وہاں گئے اور فرعون کو سمجھایا مگر وہ اور اس کی قوم متاثر نہ ہوئی اور بالآخر وہ سب ہلاک و برباد کردئیے گئے آیات کی تکذیب جو فرمائی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے وہاں شاید حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دین رائج تھا لوگ اس کی تکذیب کرتے ہوں گے یا عقلی دلائل مراد ہوں گے جسکی وجہ سے ہر شخص توحید الٰہی کا مکلف ہے۔