Surat ul Furqan

Surah: 25

Verse: 47

سورة الفرقان

وَ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِبَاسًا وَّ النَّوۡمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّہَارَ نُشُوۡرًا ﴿۴۷﴾

And it is He who has made the night for you as clothing and sleep [a means for] rest and has made the day a resurrection.

اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے پردہ بنایا اور نیند کو راحت بنائی اور دن کو اُٹھ کھڑے ہونے کا وقت ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا ... And it is He Who makes the night a covering for you, It covers and conceals all things. This is like the Ayah: وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى By the night as it envelops. (92:1) ... وَالنَّوْمَ سُبَاتًا ... and the sleep a repose, means, a halt to movement so that bodies may rest. For the faculties and limbs get tired from their constant movement during the day when one goes out to earn a living. When night comes, and it becomes quiet, they stop moving, and rest; so sleep provides a rejuvenation for both the body and the soul. ... وَجَعَلَ النَّهَارَ نُشُورًا and makes the day Nushur. meaning, people get up and go out to earn a living and attend to their business. This is like the Ayah: وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُواْ فِيهِ وَلِتَبتَغُواْ مِن فَضْلِهِ It is out of His mercy that He has made for you the night and the day that you may rest therein and that you may seek of His bounty... (28:73)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

471یعنی لباس، جس طرح لباس انسانی ڈھانچے کو چھپا لیتا ہے، اسی طرح رات تمہیں اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے۔ 472سبات کے معنی کاٹنے کے ہوتے ہیں۔ نیند انسان کے جسم کو عمل سے کاٹ دیتی ہے، جس سے اس کو راحت میسر آتی ہے۔ بعض کے نزدیک سبات کے معنی تمدد پھیلنے کے ہیں نیند میں انسان دراز ہوجاتا ہے اس لیے اسے سبات کہا۔ ایسر التفاسیر وفتح القدیر۔ 473یعنی نیند، جو موت کی بہن ہے، دن کو انسان اس نیند سے بیدار ہو کر کاروبار اور تجارت کے لئے پھر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ أحْیَانا بَعْدَ مَا اَمَاتَنا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ) ' تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اکٹھے ہونا ہے '۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٩] اللہ تعالیٰ کا ایک انعام یہ ہے کہ اس نے رات کو تاریک اور ہر چیز کو ڈھانپنے والا بنادیا۔ تاکہ دن بھر کے تھکے ماندے لوگ رات کو آرام کرسکیں۔ اور آرام کے لئے رات کی تاریکی اور خاموش ماحول بہت ساز گار ہوتا ہے رات کو نیند بھی اللہ کی ایک خاص نعمت ہے اور اس نعمت کی قدر اس شخص سے پوچھئے جسے رات کو نیند نہ آتی ہو۔ پر اس نیند میں بھی اللہ تعالیٰ کی کئی نشانیاں ہیں۔ دن بھر کام کرنے سے اور۔۔ جسم کے کچھ خلیے حرارت سے جل جاتے ہیں۔ جب انسان سوتا ہے تو ان جلے ہوئے خلیوں کی جگہ نئے خلیے پیدا ہوجاتے ہیں اور جب یہ عمل پورا ہوچکتا ہے تو انسان کو جاگ آجاتی ہے اور وہ تازہ دم ہو کر دوسرے دن کام کرنے کے قابل ہوجاتا ہے انسان جس قدر زیادہ تھکا ہوا ہوگا۔ اتنی ہی اسے گہری نیند آئے گی اور تادیر آئے گی۔ تاکہ اس کے جلے ہوئے خلیوں کی تلافی۔۔ ہوسکے۔ بعض دفعہ انسان گہری نیند کی علامت کے طور پر خراٹے بھی لیتا ہے یہ اللہ کی ایک اور نشانی ہے اور بعض دفعہ خواب بھی دیکھتا ہے۔ اب اگر خواب کی حقیقت پر غور کرنا شروع کیا جائے تو انسان اللہ تعالیٰ کے اس محیرالعقول کرشمے کی پہنائیوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں کیا کچھ عجائبات سمو دیئے ہیں۔ اس آیت سے سرسری طور پر جو بات ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے اللہ نے کام کاج کے لئے دن اور آرام کے لئے رات بنا لی ہے۔ اب اگر انسان اس کا الٹ کرے گا یعنی رات کو کام اور دن کو آرام کرے گا تو اس کے نتائج انسان کے حق میں بہتر نہیں ہوسکتے اور اس کی صحت تادیر قائم نہ رہ سکے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا ۔۔ : ” سُـبَاتًا “ اور ” سَبْتٌ“ (ن، ض) مصدر ہیں، راحت، سکون، قطع کرنا۔ کلام کا اسلوب بطور التفات متکلم سے غائب کی طرف واپس آگیا ہے۔ سائے اور دھوپ کے بعد رات اور دن کا ذکر فرمایا۔ جملے کے دونوں جز ” ھُوَ “ اور ” اَلَّذِی “ معرفہ ہونے سے اس میں قصر افراد پیدا ہو رہا ہے، یعنی رات دن بنانے والا وہ اکیلا ہی ہے، کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں۔ جب تم بھی مانتے ہو کہ رات دن کا ایک لمحہ بنانے میں کسی کا کوئی حصہ نہیں، تو ان کے اندر موجود کسی چیز کا داتا اور دستگیر کوئی دوسرا کیسے بن گیا ؟ ” جَعَلَ لَكُمُ “ میں توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دھوپ چھاؤں اور رات دن کا یہ سلسلہ تمہارے لیے بنایا ہے، وہ ہر چیز سے غنی ہے۔ رات کو لباس بنانے کا مطلب یہ ہے کہ روشنی راحت میں خلل انداز ہوسکتی تھی، لہٰذا اس نے رات کو تاریک بنادیا جو لباس کی طرح ہر چیز کو چھپا لیتی ہے۔ رات کی تاریکی میں کتنے ہی دینی و دنیوی فائدے ہیں، کسی غازی، کسی عابد شب بیدار، کسی علم کی لذت یا کسی اونچے مقصد کی لذت سے آشنا ہی کو اس کا اندازہ ہوسکتا ہے۔ البتہ ایک فائدہ ایسا ہے جس سے کوئی بھی محروم نہیں رہتا، نہ اس سے کوئی مستغنی ہوسکتا ہے اور وہ ہے نیند، جو موت کی طرح تمہاری تمام حرکت قطع کر کے تمہیں مکمل سکون کی وادی میں لے جاتی ہے اور تمہاری تھکن دور کرتی اور پورے جسم کی ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کردیتی ہے۔ دیکھیے سورة انعام (٦٠) اور زمر (٤٢) ۔ وَّجَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا : ” نُشُوْرًا “ میں دو مفہوم پائے جاتے ہیں، ایک یہ کہ نیند ایک طرح کی موت ہے اور دن کو بیدار ہونا قیامت کو اٹھنے کی ایک مثال ہے۔ حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بستر پر جاتے تو کہتے : ( بِاسْمِکَ أَمُوْتُ وَ أَحْیَا ) ” تیرے ہی نام کے ساتھ میں مرتا ہوں اور زندہ ہوں گا۔ “ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے : ( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَ إِلَیْہِ النُّشُوْرُ ) [ بخاري، الدعوات، باب ما یقول إذا نام : ٦٣١٢ ] ” سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ “ دوسرا یہ کہ رات آرام کے لیے اور دن کام کاج اور اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لیے ہے۔ آیت میں اللہ کی توحید کی دلیل بھی ہے اور قیامت پر اس کی قدرت کا اظہار بھی اور نعمت کی یاد دہانی بھی۔ اور دیکھیے سورة قصص (٧٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

To work during day time and rest at night is based on great Wisdom And He is the One who has made the night an apparel for you, and the sleep a means of rest and has made the day a means of revival. [ 47] وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهَارَ‌ نُشُورً‌ا The night is referred as the apparel in this verse to describe that it covers up everything like a natural sheet as does the dress to human body. The word سُبَاتًا (subata) is derived from سَبت (sabt) which means to cut out. سُبَات is that thing which cuts out some other thing. Allah Ta’ ala has made the sleep to shed away the exhaustion and fatigue one develops after the daylong work. In sleep one is cut off with stress and strain of mind and body while they are rested. Hence the word سُبات is generally translated as rest, relaxation or tranquility. So the sense of the verse is that Allah Ta’ ala has created the night as a covering to everything then imposed sleep on men and all living things, so that they rest and relax. Here one needs to ponder over a few things. Everyone knows that sleep is a blessing and a source of relaxation. But it is human nature to sleep in darkness. It is very difficult to sleep in day light, and even if one goes off to sleep, one is awakened quickly. Conforming to human needs and nature Allah Ta’ ala has made nights dark and cool, so that people can sleep and relax. Hence, night by itself is a blessing and sleep is another blessing. The third blessing is that the entire humanity and animals sleep at night instinctively. If the sleeping time of different people were different from one another, it would have created a number of problems. In such a situation some would have slept at one time and the others at some other, creating problems for one another, because when people are awake, they move about for various works and this movement; would have created noise to the annoyance and disturbance for those who were sleeping. Apart from this, people are dependent on each other in many ways and different times of their sleeping would have deprived them of helping each other in their works because working time of one would have been the time of rest for the other. If human beings would have resorted to a social contract for uniting the times of rest and work for the whole world, it was not, at the first place, an easy task to make billions of people agree on a single resolution, then the implementation of such a contract would have required a lot of formal departments, and still there would have been room for violation of such a contract through corrupt means, as is observed in the contemporary forums. All such problems have been overcome by the creation of night and sleep by Allah Ta’ ala which are greatly beneficial and necessary for human and other living beings. Allah Ta’ ala has instilled in humans such an urge to sleep at night that one can keep awake only with great difficulty and effort. فَتَبَارَ‌كَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ Similarly in وَجَعَلَ النَّهَارَ‌ نُشُورً‌ا (and has made the day a means of revival - 25:47), the day is described as revival, because its opposite, that is sleep, is like death when one loses all his senses. Here again, to keep awake and attend to one&s needs during the day time is made mandatory in human beings. If this was not so, some people would have attended to their work while others slept, and this would have caused all sorts of problems. As in the case of sleep, Allah Ta’ ala has bestowed a great blessing on human beings by creating its need at night. He has also made it part of human nature to keep awake and attend to work during day time, so that people should look after each other&s needs. He has also fixed certain timings for certain desires and needs common in all human beings. For instance, all people feel hungry in the mornings and evenings and want to eat. So the eating times of all humans are common which is again a great blessing from Allah Ta’ ala

رات میں نیند اور دن میں کام کی تخصیصات بھی بڑی حکمت پر مبنی ہیں : وَهُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُـبَاتًا وَّجَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا، اس آیت میں رات کو لباس کے لفظ سے تعبیر فرمایا کہ جس طرح لباس انسان کے پورے بدن کا ساتر ہے اسی طرح رات ایک قدرتی پردہ کی چادر ہے جو پوری کائنات پر ڈال دی جاتی ہے۔ سباتا، سبت سے مشتق ہے جس کے اصل معنی قطع کرنے کے ہیں۔ سبات وہ چیز ہے جس سے کسی دوسری چیز کو قطع کیا جائے۔ نیند کو اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز بنایا ہے کہ دن بھر کی محنتوں کا تکان اور کمزوری اس سے قطع ہوجاتی ہے۔ افکار و خیالات منقطع ہو کر دماغ کو آرام ملتا ہے اس لئے سبات کا ترجمہ راحت کا کیا جاتا ہے۔ معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ ہم نے رات کو ایک چھپانے والی چیز بنایا پھر اس میں انسان اور سارے جانداروں پر نیند مسلط کردی جو ان کے آرام و راحت کا سامان ہے۔ یہاں کئی چیزیں قابل غور ہیں۔ اول یہ کہ نیند کا راحت ہونا بلکہ راحت کی جان ہونا تو ہر شخص جانتا ہے مگر انسانی فطرت یہ ہے کہ روشنی میں نیند آنا مشکل ہوتا ہے اور آبھی جائے تو جلد آنکھ کھل جاتی ہے۔ حق تعالیٰ نے نیند کے مناسب رات کو تاریک بھی بنایا اور ٹھنڈا بھی۔ اسی طرح رات خود ایک نعمت ہے اور نیند دوسری نعمت، اور تیسری نعمت یہ ہے کہ سارے جہان کے انسانوں جانوروں کی نیند ایک ہی وقت رات میں جبری کردی۔ ورنہ اگر ہر انسان کی نیند کے اوقات دوسرے انسان سے مختلف ہوتے تو جس وقت کچھ لوگ سونا چاہتے دوسرے لوگ کاموں میں مصروف اور شور شغب کا سبب بنے رہتے۔ اسی طرح جب دوسروں کے سونے کی باری آتی تو اس وقت کام کرنے والے چلنے پھرنے والے ان کی نیند میں خلل انداز ہوتے۔ اس کے علاوہ ہر انسان کی ہزاروں حاجتیں دوسرے انسانوں سے وابستہ ہوتی ہیں باہمی تعاون و تناصر اور کاموں میں بھی شدید حرج ہوتا کہ جس شخص سے آپ کو کام ہی اس کے سونے کا وقت ہے اور جب اس کے جاگنے کا وقت آئے گا تو آپ کا سونے کا وقت ہوگا۔ اگر ان مقاصد کی تکمیل کے لئے کسی بین الاقوامی معاہدہ سے کام لیا جاتا کہ سب لوگ اپنے سونے کا وقت ایک ہی مقرر کرلیں، اول تو ایسا معاہدہ اربوں کروڑوں انسانوں میں ہونا آسان نہ تھا پھر اس پر کار بند رکھنے کے لئے ہزاروں محکمے کھولنے پڑتے اس کے باوجود عام قانونی اور معاہداتی طریقوں سے طے ہونے والی چیزوں میں جو خلل ہر جگہ رشوت، رعایت وغیرہ کے سبب پایا جاتا ہے وہ پھر بھی باقی رہتا۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اپنی قدرت کاملہ سے نیند کا ایک وقت جبری طور پر مقرر کردیا ہے کہ ہر انسان اور ہر جانور کو اسی وقت نیند آتی ہے کبھی کسی ضرورت سے جاگنا بھی چاہے تو اس کے لئے مشکل سے انتظام کرپاتا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ اسی طرح وّجَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا، میں دن کو نشور یعنی زندگی فرمایا کیونکہ اس کا مقابل یعنی نیند ایک قسم کی موت ہے اور اس زندگی کے وقت کو بھی سارے انسانوں میں جبری طور پر ایک کردیا ہے ورنہ کچھ کارخانے اور دکانیں دن کو بند رہتیں، رات کو کھلتیں، اور جب وہ کھلتیں تو دوسری بند ہوجاتیں۔ اس لحاظ سے دونوں میں کاروباری مشکلات پیش آتیں۔ جس طرح رات کو نیند کے لئے مخصوص فرما کر ایک بڑا انعام حق تعالیٰ نے فرمایا اسی طرح دوسری ضروریات زندگی جو باہم اشتراک چاہتی ہیں ان کے لئے بھی تقریبی طور پر ایسے ہی متحد اور مشترک وقت مقرر کردیئے۔ مثلاً بھوک اور کھانے کی ضرورت صبح شام ایک امر مشترک ہے سب کو ان اوقات میں اس کی فکر ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں سب ضروریات کی فراہمی ہر ایک کے لئے آسان ہوجاتی ہیں کھانے کے ہوٹل اور دکانیں ان وقتوں میں تیار کھانے سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہر گھر میں یہ اوقات کھانے کی مصروفیت کے لئے متعین ہیں۔ یہ تعیین کی بڑی نعمت ہے جو حق تعالیٰ ہی کی حکمت بالغہ نے فطری طور پر انسان کی طبیعت میں رکھ دی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُـبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوْرًا۝ ٤٧ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ لبس لَبِسَ الثّوب : استتر به، وأَلْبَسَهُ غيره، ومنه : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] واللِّبَاسُ واللَّبُوسُ واللَّبْسُ ما يلبس . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] وجعل اللّباس لكلّ ما يغطّي من الإنسان عن قبیح، فجعل الزّوج لزوجه لباسا من حيث إنه يمنعها ويصدّها عن تعاطي قبیح . قال تعالی: هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] فسمّاهنّ لباسا کما سمّاها الشاعر إزارا في قوله : 402- فدی لک من أخي ثقة إزاري«1» وجعل التّقوی لِبَاساً علی طریق التّمثیل والتّشبيه، قال تعالی: وَلِباسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ [ الأعراف/ 26] وقوله : صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 80] يعني به : الدِّرْعَ ، وقوله : فَأَذاقَهَا اللَّهُ لِباسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ [ النحل/ 112] ، وجعل الجوع والخوف لباسا علی التّجسیم والتشبيه تصویرا له، وذلک بحسب ما يقولون : تدرّع فلان الفقر، ولَبِسَ الجوعَ ، ( ل ب س ) لبس الثوب ۔ کے معنی کپڑا پہننے کے ہیں اور البسہ کے معنی دوسرے کو پہنانا کے ۔ قرآن میں ہے : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] اور وہ سبز کپڑے پہنا کریں گے ۔ اللباس واللبوس واللبس وہ چیز جو پہنی جائے ۔ قرآن میں ہے : قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈاھانپے ۔ اور لباس کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے ۔ جو انسان کے برے کاموں پر پردہ ڈال سکے ۔ چناچہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کو دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کو قبائح کے ارتکاب سے روکتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] وہ تمہاری پوشاک اور تم ان کی پوشاک ہو ۔ چناچہ اسی معنی میں شاعرنے اپنی بیوی کو ازار کہا ہے ۔ اے میرے قابل اعتماد بھائی پر میری ازار یعنی بیوی قربان ہو ۔ اور تمثیل و تشبیہ کے طور پر تقوی کو بھی لباس قرار دیا گیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَلِباسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ [ الأعراف/ 26] اور جو پر ہیزگاری کا لباس ہے ۔ اور آیت کریمہ : صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 80] اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک طرح کا لباس بنانا ۔۔۔۔۔ میں لبوس سے زر ہیں مراد ہیں اور آیت کریمہ : فَأَذاقَهَا اللَّهُ لِباسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ [ النحل/ 112] تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر ناشکری کا مزہ چکھا دیا ۔ میں جوں یعنی بھوک اور خوف کی تصویر کھینچے کے لئے اس لباس کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔ نوم النّوم : فسّر علی أوجه كلّها صحیح بنظرات مختلفة، قيل : هو استرخاء أعصاب الدّماغ برطوبات البخار الصاعد إليه، وقیل : هو أن يتوفّى اللہ النّفس من غير موت . قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ الآية [ الزمر/ 42] . وقیل : النّوم موت خفیف، والموت نوم ثقیل، ورجل نؤوم ونُوَمَة : كثير النّوم، والمَنَام : النّوم . قال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ مَنامُكُمْ بِاللَّيْلِ [ الروم/ 23] ، وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] ، لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] والنُّوَمَة أيضا : خامل الذّكر، واستنام فلان إلى كذا : اطمأنّ إليه، والمنامة : الثّوب الذي ينام فيه، ونامت السّوق : کسدت، ونام الثّوب : أخلق، أو خلق معا، واستعمال النّوم فيهما علی التّشبيه . ( ن و م ) النوم ۔ اس کی تفسیر گئی ہے اور مختلف اعتبارات سے تمام وجوہ صحیح ہوسکتی ہیں ۔ بعض نے کہا نے کہ بخارات کی رطوبت سی اعصاب دماغ کے ڈھیلا ہونے کا نام نوم ہے ۔ اور بعض کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا بغیر موت کے روح کو قبض کرلینے کا نام نوم ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ الآية [ الزمر/ 42] خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں ان کی ( روحیں ) سوتے میں ( قبض کرلیتا ہے ) اور بعض نوم کو موت خفیف اور موت کو نوم ثقیل کہتے ہیں رجل نووم ونومۃ بہت زیادہ سونے والا اور منام بمعنی نوم آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَمِنْ آياتِهِ مَنامُكُمْ بِاللَّيْلِ [ الروم/ 23] اور اسی کے نشانات ( اور تصرفات ) میں سے ہے تمہارا رات میں ۔۔۔ سونا ۔ وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] تمہارے لئے موجب آرام بنایا ۔ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند ۔ نیز النومۃ کے معنی خامل لذکر یعني گم نام بھی آتے ہیں ۔ کہاجاتا ہے ۔ استنام فلان الی ٰکذا ۔ کسی چیز سے اطمینان حاصل کرنا ۔ منامۃ ۔ لباس خواب ۔ نامت السوق کساد بازاری ہونا ۔ نام الثوب ( لازم ومتعدی ) کپڑے کا پرانا ہونا یا کرنا ۔ ان دونون معنی میں نام کا لفظ تشبیہ کے طور مجازا استعمال ہوتا ہے ۔ سبت أصل السَّبْتُ : القطع، ومنه سبت السّير : قطعه، وسَبَتَ شعره : حلقه، وأنفه : اصطلمه، وقیل : سمّي يوم السَّبْت، لأنّ اللہ تعالیٰ ابتدأ بخلق السموات والأرض يوم الأحد، فخلقها في ستّة أيّام کما ذكره، فقطع عمله يوم السّبت فسمّي بذلک، وسَبَتَ فلان : صار في السّبت وقوله : يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعاً [ الأعراف/ 163] ، قيل : يوم قطعهم للعمل، وَيَوْمَ لا يَسْبِتُونَ [ الأعراف/ 163] ، قيل : معناه لا يقطعون العمل، وقیل : يوم لا يکونون في السّبت، وکلاهما إشارة إلى حالة واحدة، وقوله : إِنَّما جُعِلَ السَّبْتُ [ النحل/ 124] ، أي : ترک العمل فيه، وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] ، أي : قطعا للعمل، وذلک إشارة إلى ما قال في صفة اللّيل : لِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] . ( س ب ت ) السبت کے اصل معنی قطع کرنے کے ہیں اور اسی سے کہا جاتا ہے سبت السیر اس نے تسمہ گو قطع کیا سینت شعرۃ اس نے اپنے بال مونڈے سبت انفہ اس کی کاٹ ڈالی ۔ بعض نے کہا ہے کہ ہفتہ کے دن کو یوم السبت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی تخلیق اتوار کے دن شروع کی تھی اور چھ دن میں تخلیق عالم فرماکر سینچر کے دن اسے ختم کردیا تھا اسی سے سبت فلان ہے جس کے معنی ہیں وہ ہفتہ کے دن میں داخل ہوا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعاً [ الأعراف/ 163] سنیچر کے دن ( مچھلیاں ) سینہ سیر ہوکر ان کے سامنے آجاتیں ۔ میں بعض نے یوم سبتھم سے ان کے کاروں بار کو چھوڑنے کا دن مراد لیا ہے اس اعتبار سے یوم لا یسبتون کے معنی یہ ہوں گے کہ جس روز وہ کاروبار چھوڑ تے اور بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ روز سینچر نہ ہوتا ان ہر دو معنی کا مآل ایک ہی ہے اور آیت : ۔ إِنَّما جُعِلَ السَّبْتُ [ النحل/ 124] میں سبت سے مراد سینچر کے دن عمل کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ سنیچر کے روز کام چھوڑنے کا حکم صرف لِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] اس لئے دیا گیا تھا اور آیت : ۔ وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] اور نیند کو ( موجب ) راحت بنایا ۔ میں سبات کے معنی ہیں حرکت وعمل کو چھوڑ کر آرام کرنا اور یہ رات کی اس صفت کی طرف اشاریہ ہے جو کہ آیت : ۔ تاکہ تم رات میں راحت کرو لِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] . میں مذکور ہے یعنی رات کو راحت و سکون لے لئے بنایا ہے نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ نشر النَّشْرُ ، نَشَرَ الثوبَ ، والصَّحِيفَةَ ، والسَّحَابَ ، والنِّعْمَةَ ، والحَدِيثَ : بَسَطَهَا . قال تعالی: وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ [ التکوير/ 10] ، وقال : وهو الّذي يرسل الرّياح نُشْراً بين يدي رحمته [ الأعراف/ 57] «2» ، وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ [ الشوری/ 28] ، وقوله : وَالنَّاشِراتِ نَشْراً [ المرسلات/ 3] أي : الملائكة التي تَنْشُرُ الریاح، أو الریاح التي تنشر السَّحابَ ، ويقال في جمع النَّاشِرِ : نُشُرٌ ، وقرئ : نَشْراً فيكون کقوله :«والناشرات» ومنه : سمعت نَشْراً حَسَناً. أي : حَدِيثاً يُنْشَرُ مِنْ مَدْحٍ وغیره، ونَشِرَ المَيِّتُ نُشُوراً. قال تعالی: وَإِلَيْهِ النُّشُورُ [ الملک/ 15] ، بَلْ كانُوا لا يَرْجُونَ نُشُوراً [ الفرقان/ 40] ، وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلانُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وأَنْشَرَ اللَّهُ المَيِّتَ فَنُشِرَ. قال تعالی: ثُمَّ إِذا شاءَ أَنْشَرَهُ [ عبس/ 22] ، فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] وقیل : نَشَرَ اللَّهُ المَيِّتَ وأَنْشَرَهُ بمعنًى، والحقیقة أنّ نَشَرَ اللَّهُ الميِّت مستعارٌ من نَشْرِ الثَّوْبِ. كما قال الشاعر : 440- طَوَتْكَ خُطُوبُ دَهْرِكَ بَعْدَ نَشْرٍ ... كَذَاكَ خُطُوبُهُ طَيّاً وَنَشْراً «4» وقوله تعالی: وَجَعَلَ النَّهارَ نُشُوراً [ الفرقان/ 47] ، أي : جعل فيه الانتشارَ وابتغاء الرزقِ كما قال : وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ الآية [ القصص/ 73] ، وانْتِشَارُ الناس : تصرُّفهم في الحاجاتِ. قال تعالی: ثُمَّ إِذا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ [ الروم/ 20] ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا[ الأحزاب/ 53] ، فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ [ الجمعة/ 10] وقیل : نَشَرُوا في معنی انْتَشَرُوا، وقرئ : ( وإذا قيل انْشُرُوا فَانْشُرُوا) [ المجادلة/ 11] «1» أي : تفرّقوا . والانْتِشَارُ : انتفاخُ عَصَبِ الدَّابَّةِ ، والنَّوَاشِرُ : عُرُوقُ باطِنِ الذِّرَاعِ ، وذلک لانتشارها، والنَّشَرُ : الغَنَم المُنْتَشِر، وهو للمَنْشُورِ کالنِّقْضِ للمَنْقوض، ومنه قيل : اکتسی البازي ريشا نَشْراً. أي : مُنْتَشِراً واسعاً طویلًا، والنَّشْرُ : الكَلَأ الیابسُ ، إذا أصابه مطرٌ فَيُنْشَرُ. أي : يَحْيَا، فيخرج منه شيء كهيئة الحَلَمَةِ ، وذلک داءٌ للغَنَم، يقال منه : نَشَرَتِ الأرضُ فهي نَاشِرَةٌ. ونَشَرْتُ الخَشَبَ بالمِنْشَارِ نَشْراً اعتبارا بما يُنْشَرُ منه عند النَّحْتِ ، والنُّشْرَةُ : رُقْيَةٌ يُعَالَجُ المریضُ بها . ( ن ش ر ) النشر کے معنی کسی چیز کو پھیلانے کے ہیں یہ کپڑے اور صحیفے کے پھیلانے ۔ بارش اور نعمت کے عام کرنے اور کسی بات کے مشہور کردیتے پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ [ التکوير/ 10] اور جب دفتر کھولے جائیں گے ۔ وهو الّذي يرسل الرّياح نُشْراً بين يدي رحمته [ الأعراف/ 57] اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامیدہو جانیکے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت ( یعنی بارش کے برکت ) کو پھیلا دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالنَّاشِراتِ نَشْراً [ المرسلات/ 3] اور بادلوں کو ( بھاڑ ) ( پہلا دیتی ہے ۔ میں ناشرات سے مراد وہ فرشتے ہن جو ہواؤں کے پھیلاتے ہیں یا اس سے وہ ہوائیں مراد ہیں جو بادلون کو بکھیرتی ہیں ۔ چناچہ ایک قرات میں نشرابین یدی رحمتہ بھی ہے جو کہ وہ الناشرات کے ہم معنی ہے اور اسی سے سمعت نشرا حسنا کا محاورہ ہے جس کے معنی میں نے اچھی شہرت سنی ۔ نشرالمیت نشودا کے معنی ہیت کے ( ازسرنو زندہ ہونے کے ہیں ) چناچہ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ النُّشُورُ [ الملک/ 15] اسی کے پاس قبروں سے نکل کر جانا ہے بَلْ كانُوا لا يَرْجُونَ نُشُوراً [ الفرقان/ 40] بلکہ ان کو مرنے کے بعد جی اٹھنے کی امیدہی نہیں تھی ۔ وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے ۔ اور نہ جینا اور نہ مرکراٹھ کھڑے ہونا ۔ انشر اللہ المیت ک معنی میت کو زندہ کرنے کے ہیں۔ اور نشر اس کا مطاوع آتا ہے ۔ جس کہ معنی زندہ ہوجانے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ إِذا شاءَ أَنْشَرَهُ [ عبس/ 22] پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا ۔ فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کردیا ۔ بعض نے کہا ہے ک نشر اللہ المیت وانشرہ کے ایک ہی معنی میں ۔ لیکن درحقیقت نشر اللہ المیت نشرالثوب کے محاورہ سے ماخوذ ہے شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (425) طوتک خطوب دھرک بعد نشر کذاک خطوبہ طیا ونشرا تجھے پھیلانے کے بعد حوادث زمانہ نے لپیٹ لیا اس طرح حوادث زمانہ لپیٹنے اور نشر کرتے رہتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] اور دن کو اٹھ کھڑا ہونے کا وقت ٹھہرایا ۔ میں دن کے نشوربنانے سے مراد یہ ہے کہ اس کا روبار کے پھیلانے اور روزی کمانے کے لئے بنایا ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ الآية [ القصص/ 73] اور اس نے رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا ۔ تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو ۔ اور انتشارالناس کے معنی لوگوں کے اپنے کاروبار میں لگ جانے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ إِذا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ [ الروم/ 20] پھر اب تم انسان ہوکر جابجا پھیل رہے ہو ۔ فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا[ الأحزاب/ 53] تو جب کھانا کھا چکو تو چل دو ۔ فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ [ الجمعة/ 10] پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ نشروا بمعنی انتشروا کے آتا ہے۔ چناچہ آیت کریمہ : وإذا قيل انْشُرُوا فَانْشُرُوا) [ المجادلة/ 11] اور جب کہاجائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑا ہوا کرو ۔ میں ایک قراءت فاذا قیل انشروافانشروا بھی ہے ۔ یعنی جب کہاجائے کہ منتشر ہوجاؤ تو منتشر ہوجایا کرو ۔ الانتشار کے معنی چوپایہ کی رگوں کا پھول جانا ۔۔ بھی آتے ہیں ۔ اور نواشر باطن ذراع کی رگوں کو کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بدن میں منتشر ہیں ۔ النشر ( ایضا) پھیلنے والے بادل کو کہتے ہیں ۔ اور یہ بمعنی منشور بھی آتا ہے جیسا کہ نقض بمعنی منقوض آجاتا ہے اسی سے محاورہ ہے ؛اکتسی البازی ریشا نشرا ۔ یعنی باز نے لمبے چوڑے پھیلنے والے پروں کا لباس پہن لیا ۔ النشر ( ایضا) خشک گھاس کو کہتے ہیں ۔ جو بارش کے بعد سرسبز ہوکر پھیل جائے اور اس سے سر پستان کی سی کونپلیں پھوٹ نکلیں یہ گھاس بکریوں کے لئے سخت مضر ہوتی ہے ۔ اسی سے نشرت الارض فھی ناشرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی زمین میں نشر گھاس پھوٹنے کے ہیں ۔ شرت الخشب بالمنشار کے معنی آرے سے لکڑی چیرنے کے ہیں ۔ اور لکڑی چیر نے کو نشر اس لئے کہتے ہیں کہ اسے چیرتے وقت نشارہ یعنی پر ادہ پھیلتا ہے ۔ اور نشرہ کے معنی افسوں کے ہیں جس سے مریض کا علاج کیا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٧) اور وہ اللہ ایسا ہے جس نے رات تمہارے لیے پردہ کی چیز بنائی کہ اس میں ہر ایک چیز چھپ جاتی ہے اور نیند کو تمہارے جسموں کے لیے راحت کی چیز بنایا اور دن کو تمہاری روزی تلاش کرنے کا وقت بنایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٧ (وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُبَاتًا وَّجَعَلَ النَّہَارَ نُشُوْرًا ) ” رات کو انسانوں کے آرام کرنے کے لیے موزوں کیا ‘ اور دن کے ماحول کو ان کے کام کاج کرنے کے لیے سازگار بنایا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

60 The night is a "garment" in the sense that it covers and hides things. 61 This verse has three objects: (1) It provides a proof of Tauhid, (2) It furnishes a proof of the possibility of life-after-death from everyday human experience, and (3) It bears the good news that the night of ignorance has come to an end and now the bright day of Knowledge and Guidance has dawned. It is therefore inevitable that those who were sleeping the sleep of ignorance, will sooner or later wake up, but those who have slept the sleep of death, will not wake up and will themselves be deprived of life, while the business of the day will go on thriving even without them.

سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :60 یعنی ڈھانکنے اور چھپانے والی چیز ۔ سورة الْفُرْقَان حاشیہ نمبر :61 اس آیت کے تین رخ ہیں ۔ ایک رخ سے یہ توحید پر استدلال کر رہی ہے ۔ دوسرے رخ سے یہ روز مرہ کے انسانی تجربہ و مشاہدے سے زندگی بعد موت کے امکان کی دلیل فراہم کر رہی ہے ۔ اور تیسرے رخ سے یہ ایک لطیف انداز میں بشارت دے رہی ہے کہ جاہلیت کی رات ختم ہو چکی ، اب علم و شعور اور ہدایت و معرفت کا روز روشن نمودار ہو گیا ہے اور ناگزیر ہے کہ نیند کے ماتے دیر یا سویر بیدار ہوں ۔ البتہ جن کے لیے رات کی نیند موت کی نیند تھی وہ نہ جاگیں گے ، اور ان کا نہ جاگنا خود انہی کے لیے زندگی سے محرومی ہے ، دن کا کاروبار ان کی وجہ سے بند نہ ہو جائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(25:47) لباسا۔ مفعول ، منصوب۔ لباس کی طرح۔ یعنی رات لباس کی طرح ہے دونوں عیب پوش بھی ہیں اور سکون بخش بھی۔ سباتا : سبت یسبت ویسبت (نصر۔ ضرب) ہفتہ کے دن میں داخل ہونا۔ سبت منانا۔ آرام لینا۔ سباتا آرام لینے کے لئے۔ السبت کے معنی کاٹنے (قطع کرنے) کے بھی ہیں۔ جیسے کہتے ہیں کہ سبت شعرہ اس نے اپنے بال مونڈے یا سبت انفہ اس نے اس کی ناک کاٹ ڈالی۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوا کہ حرکت و عمل سے قطع تعلق کرکے آرام کرنا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ (10:67) وہ وہی (اللہ ) تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ تم اس میں چیز پاؤ۔ نشورا : ای ذانشور، پھیلنے والا۔ نشر ینشر (نصر) نشور۔ نشر الثوب کپڑا پھیلانا۔ نشر الخبر۔ خبر کو نشر کرنا۔ مشہور کرنا۔ پھیلانا۔ (اسی معنی میں یہاں استعمال ہوا ہے) ۔ ای ینشر فیہ الناس لطلب المعاش۔ لوگ اس (دن) کے دوران (زمین میں) پھیل جاتے ہیں رزق کی تلاش میں۔ اسی سے ہے انتشار (باب افتعال) پھیلنا، متفرق ہونا۔ بکھرجانا۔ نشر ینشر (نصر) اللہ کا (مردوں کو) زندہ کرکے اٹھانا۔ یا مردے کا زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونا۔ اور اگر یہاں اس آیت میں اس معنی میں لیا جائے تو جعل النھار نشور کا ترجمہ ہوگا اور ان کو (نیند سے جو موت کی مانند ہے) اٹھ کھڑا ہونا بنایا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ کیونکہ اس میں تم اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر آرام کرتے ہو۔ ” سبات “ کے اصل معنی تمدد یعنی پھیلنے کے ہیں اور نیند یا راحت کے وقت بھی آدمی دراز ہوجاتا ہے اس لئے نیند یا راحت کو ” سبات “ کہا جاتا ہے۔ (شوکانی) 10 ۔ نیند ایک طرح کی موت ہے اس لئے صبح کے وقت بیداری کو ” نشور “ (جی اٹھنے) کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ علامہ زمحشری لکھتے ہیں کہ ” یہاں ” سبات “ کا لفظ چونکہ ” نشور “ کے مقابلہ میں آیا ہے اس لئے اس کے معنی موت کے ہیں۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

9۔ اس اعتبار سے کہ سونا مشابہ موت کے ہے اور دن کا وقت جاگنے کا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نظام شمسی کے ساتھ رات اور دن کا آنا جانا لازم وملزوم ہے۔ اس لیے رات اور دن کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بار بار اس بات کی دعوت دی ہے کہ وہ رات اور دن کے آنے جانے، ان کے گھٹنے اور بڑھنے پر غور کرے تاکہ اسے علم یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کس قدر قدرت والا ہے۔ وہ رات اور دن کے نظام کو کس ترتیب کے ساتھ چلا رہا ہے ؟ رات اور دن میں سب سے پہلی دلیل یہ ہے کہ کروڑوں اور اربوں انسان سال ہا سال سے دیکھ رہے ہیں۔ رات اور دن کے آنے جانے کا سلسلہ اس قدر منظم ہے کہ آج تک دنیا کے کسی خطے میں ان کے آنے جانے میں نقص واقع نہیں ہوا۔ کیا انسان نے اس بات پر غور کیا ہے ؟ کہ پوری دنیا کے سائنسدان اور حکمران مل کر بھی دن اور رات کے اوقات میں ایک سیکنڈ کا آگا پیچھا نہیں کرسکتے۔ رات اور دن کے اوقات ابد سے چوبیس گھنٹوں پر مشتمل ہیں یہ ازل تک چوبیس گھنٹے ہی رہیں گے۔ رات میں ان گنت فوائد ہیں۔ جن میں ایک ایسا فائدہ ہے جس سے ہر ذی روح مستفید ہوتا ہے۔ بالخصوص انسان سب سے زیادہ بہتر طریقے سے مستفید ہوتا ہے۔ رات کو اللہ تعالیٰ نے لباس قرار دیا ہے جس میں انسان کو خود بخود نیند آجاتی ہے۔ جس طرح لباس انسان کے جسم کو ڈھانپتا ہے اسی طرح ہی رات میں اللہ تعالیٰ نے ایسی خصوصیت رکھی ہیں جو دماغ کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ جس سے انسان کو نیند آتی ہے اور نیند سے انسان کی دن بھر کی تھکاوٹ اس طرح دور ہوجاتی ہے کہ صبح کے وقت وہ اپنے آپ کو قوت کار کے لیے تازہ دم پاتا ہے۔ یہاں تک کہ نیند انسان کے غم کو ہلکا کردیتی ہے۔ گویا کہ نیند سے انسان ہر طرح پُر سکون ہوجاتا ہے۔ نیند ایسی نعمت ہے کہ اگر انسان کسی وجہ سے نیند سے محروم ہوجائے تو ناصرف اس کا جسم تناؤ کا شکار ہوگا، بلکہ انسان کا زیادہ دیر زندہ رہنا محال ہوجائے گا۔ انسان ہی نہیں بلکہ ہر ذی روح رات کے وقت سکون پاتی ہے۔ یہاں تک کہ نباتات میں بیشمار فصلیں اور پودے ایسے ہیں جو صرف رات کو ہی بڑھتے ہیں اور ان کے پھلوں میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے۔ رات کے مقابلے میں دن ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے کام کاج اور چلنے پھرنے کے لیے بنایا ہے۔ دن کے فوائد بھی ان گنت ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کو چھوٹا اور بڑا کرتا ہے اسی طرح ہی دن کو طویل اور چھوٹا کرتا ہے۔ اگر لیل ونہار وقت کے اعتبار سے یکساں ہوتے تو ناصرف انسان کے لیے مسائل پیدا ہوتے بلکہ انسان اپنی زندگی کو اپنے آپ پر بوجھ محسوس کرتا۔ اگر رات اور دن پر غور فرمائیں تو یہی انسان اور پوری کائنات کی زندگی کا نظام ہے اگر ان میں خلل واقع ہوجائے تو پورا نظام درہم برہم ہوجائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی عظیم نشانیاں قرار دیا ہے۔ (ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَ النَّھَارَ مُبْصِرًااِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنََ ) [ یونس : ٦٧] ” وہ ذات جس نے تمہارے لیے رات بنائی، تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سچی بات توجہ سے سنتے ہیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے رات سکون کے لیے پیدا کی اور دن کو کام کاج کے لیے بنایا۔ ٢۔ کائنات کا پورا نظام رات اور دن کے آنے جانے پر قائم ہے۔ ٣۔ اگر رات اور دن کے نظام میں خلل واقع ہوجائے تو کائنات کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ تفسیر بالقرآن رات اور دن کے فوائد کی ایک جھلک : ١۔ رات اور دن کو اللہ نے نشانیاں بنایا ہے۔ (بنی اسرائیل : ١٢) ٢۔ دن، رات، سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ( حٰم السجدۃ : ٣٧) ٣۔ رات دن ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں۔ (الاعراف : ٥٤) ٤۔ رات دن کو اور دن رات کو ڈھانپ لیتا ہے۔ (الزمر : ٥) ٥۔ رات آرام اور دن کام کے لیے ہے۔ (الفرقان : ٤٧) ٦۔ آسمان اور زمین کی پیدائش، دن اور رات کے آنے جانے میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (آل عمران : ١٩٠) ٧۔ بیشک دن اور رات کے مختلف ہونے میں اور جو کچھ اللہ نے زمین و آسمان میں پیدا کیا ہے، اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ (یونس : ٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وھو الذی ……نشوراً (٤٧) رات تمام چیزوں اور تمام زندہ مخلوق کو ڈھانپ لیتی ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ ہر چیز نے رات کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ لوگ رات کے پردے میں چھپ جاتے ہیں۔ یوں رات اس کے لئے لباس ہوجاتی ہے۔ رات میں مکمل سکون ہوتا ہے۔ ہر چیز کی حرکت رک جاتی ہے۔ انسان حیوانات اور پرندے تک سو جاتے ہیں۔ پھر مزید یہ کہ سونے کے بعد اس دنیا کے ساتھ انسان کا وہ احساس قائم نہیں رہتا جو جاگتے میں ہوتا ہے۔ اس لئے یہ اسے سبات یعنی موت جیسے سکون سے تعبیر کیا۔ اس کے بعد صبح نمودار ہوتی ہے اور زمین کے اوپر پھر حرکت شروع ہوتی ہے۔ اس طرح گویا مرنے کے بعد ہر چیز دوبارہ جی اٹھتی ہے۔ اس لئے اسے نشور اسے تعبیر کیا گیا۔ گویا چوبیس گھنٹے کے اس زمینی دورے میں انسان موت وحیات کا ایکم ختصر نمونہ پیش کرتا ہے اور جب سے اللہ نے زمین ، آسمان کو پیدا کیا ہے ، زمین کا یہ دور اپنے محور کے گرد جاری ہے۔ اس میں ایک سیکنڈ کا فرق بھی نہیں آیا۔ یہ زمین انسانوں کو لے کر چلتی ہی رہتی ہے ، لیکن انسان ہیں کہ غافل ہیں اور وہ زمین کی اس حرکت کے بارے میں سوچنے ہی نہیں جبکہ اللہ کی جو شان اس زمین کو چلاتی ہے وہ ایک لحظہ کے لئے غافل نہیں ہو سکتی اور نہ اللہ کو نیند آتی ہے۔ اب ذرا دوسرا منظر یہ ہوائیں جو بارش کی خوشخبری لے کر آتی ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر چونکہ نیند ایک طرح سے موت ہے جسے حدیث شریف میں النَّوْمُ اَخُو الْمَوْتِ فرمایا ہے اس لیے دن کی نعمت کا تذکرہ فرماتے ہوئے (وَ جَعَلَ النَّھَارَ نُشُوْرًا) فرمایا، قرآن و حدیث میں لفظ نشور قبروں سے اٹھنے کے لیے استعمال ہوا ہے اور یہاں صبح کو بیدار ہو کر دن میں مختلف کاموں کے لیے پھیل جانے کو نشور سے تعبیر فرمایا، سورة القصص میں فرمایا (وَ مِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَ النَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (اور اس کی رحمت میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو) چونکہ رات کو سونا موت کے مترادف ہے اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو سونے لگتے تو یہ دعا پڑھتے اللّٰھُمَّ بِسْمِکَ اَمُوْتُ وَ اَحْیٰی (میں اللہ کا نام لے کر مرتا اور جیتا ہوں) اور جب سو کر اٹھتے تو یہ دعا پڑھتے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَحْیَانَا بَعْدَ اَمَاتَنَا وَ اِلَیْہِ النُّشُوْرِ (سب تعریف اللہ کے لیے جس نے موت دینے کے بعد زندہ فرما دیا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(47) اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات کو لباس اور پردے کی چیز بنایا اور نیند کو تمہارے لئے راحت و آرام کی چیز بنایا اور دن کو اٹھ کھڑے ہونا اور زندہ ہونے کا وقت بنایا رات کو لباس بنایا یعنی جس طرح لباس سے بدن ڈھک جاتا اور پردے میں ہوجاتا ہے اسی طرح رات بھی تستر کا کام دیتی ہے نیند کا آرام و راحت ہونا ظاہرہی ہے دن کو اٹھ کھڑے ہونا پھسل جانا معاش کو تلاش کرنے وغیرہ کا وقت اور مرکر زندہ ہوجانا ہے جیسا کہ سو کر اٹھنے کی دعا ہم نے مشکل کشا میں نقل کی ہے الحمد للہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور نیند چونکہ موت کے مشابہ ہے سویا مرا برابر ہے اس لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سو کر اٹھنے کی دعا میں ان الفاظ کی رعایت رکھی اور ایسے الفاظ فرمائے جو قیامت کی زندگی کو ظاہر کرتے ہیں ایک عارف نے کیا خوب فرمایا ہے ؎ توم ماچوں شد اخ الموت اے فلاں زیں برادر آں برادر رابداں اسی لئے نیند کو موت کا بھائی فرمایا نیند موت نہ سہی کالموت تو یقینی ہے سوتے وقت کی دعا میں فرمایا با سبک اللھم وصعت جنبی وبک احی ربک اموت