Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 10

سورة النمل

وَ اَلۡقِ عَصَاکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہۡتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدۡبِرًا وَّ لَمۡ یُعَقِّبۡ ؕ یٰمُوۡسٰی لَا تَخَفۡ ۟ اِنِّیۡ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿٭ۖ۱۰﴾

And [he was told], "Throw down your staff." But when he saw it writhing as if it were a snake, he turned in flight and did not return. [ Allah said], "O Moses, fear not. Indeed, in My presence the messengers do not fear.

تو اپنی لاٹھی ڈال دے موسیٰ نے جب اسے ہلتا جلتا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے تو منہ موڑے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا ، اے موسٰی! خوف نہ کھا میرے حضور میں پیغمبر ڈرا نہیں کرتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَلْقِ عَصَاكَ ... "And throw down your stick!" Then He commanded him to throw down the stick that was in his hand, so that He might show him clear proof that He is the One Who is able to do all things, whatever He wills. When Musa threw that stick down, it changed into the form of a huge and terrifying snake, moving quickly despite its size. Allah says: ... فَلَمَّا رَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَانٌّ ... But when he saw it moving as if it were a Jann (snake). Jann refers to a type of snake that is the fastest-moving and most agile. When Musa saw that with his own eyes, ... وَلَّى مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْ ... he turned in flight, and did not look back. meaning, he did not turn around, because he was so afraid. Allah's saying: ... يَا مُوسَى لاَا تَخَفْ إِنِّي لاَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ O Musa! Fear not: verily, the Messengers fear not in front of Me. means, `do not be afraid of what you see, for I want to choose you as a Messenger and make you a great Prophet.' إِلاَّ مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

101اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم الغیب نہیں ہوتے، ورنہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی لاٹھی سے نہ ڈرتے دوسرا، طبعی خوف پیغمبر کو بھی لا حق ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی بالآخر انسان ہی ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] اس آیت سے کئی امور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ کی لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ، آپ کو سب سے پہلے اور اسی مقام پر عطا ہوا تھا۔ یہ لاٹھی زمین پر پڑتے ہی اژدہا کی شکل کا بڑا سانپ بن گیا جس میں پھرتی پتلے سانپ کی تھی۔ دوسرے یہ کہ چونکہ یہ پہلا موقع تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) خود بھی اس سانپ سے ڈر گئے تھے۔ تیسرے یہ کہ اس وقت ہی آپ کو معلوم ہوا کہ منصب رسالت آپ کے سپرد کیا جارہا اس سے پہلے آپ کو قطعی طور پر علم نہ تھا کہ آپ کو نبوت عطا ہوگی اور نبوت یا رسالت عطا ہونے کے وقت بھی طبیعت گرانبار ہوجاتی ہے اور کچھ نامعلوم سا خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی غار حرا میں ایسا خوف لاحق ہوا تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ && رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے &&

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاَلْقِ عَصَاكَ ۭ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ ۔۔ : ” جَاۗنٌّ“ اصل میں چھوٹے سفیدسانپ کو کہتے ہیں۔ سورة اعراف (١٠٧) اور شعراء (٣٢) میں اس کے لیے ” ثُعْبَانٌ“ کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی بڑا سانپ (اژدہا) ہے۔ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ شروع میں ” جَانٌّ“ تھا، پھر ” ثُعْبَانٌ“ بن گیا۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اول سٹک سی بن گئی تھی پتلی، جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر۔ “ (موضح) یا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سانپ حجم میں اژدہا تھا، مگر تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔ يٰمُوْسٰي لَا تَخَفْ ۔۔ : موسیٰ (علیہ السلام) کے خوف زدہ ہو کر پیٹھ پھیر کر لوٹنے سے ظاہر ہے کہ انھیں اس سے پہلے نہ اپنے نبی بنائے جانے کا علم تھا، نہ یہ معجزات عطا کیے جانے کا۔ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی پہلی وحی پر سخت خوف زدہ ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا : ” اے موسیٰ ! ڈرو نہیں، رسول میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔ “ بعض حضرات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیدائش سے بھی پہلے عالم الغیب باور کروانے پر اصرار کرتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاَلْقِ عَصَاكَ۝ ٠ۭ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ كَاَنَّہَا جَاۗنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ۝ ٠ۭ يٰمُوْسٰي لَا تَخَفْ۝ ٠ۣ اِنِّىْ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُوْنَ۝ ١ ٠ۤۖ لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] تو جادو گروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم جادو کی چیز ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں ۔ موسیٰ نے کہا تم ہی ڈالو۔ عصا العَصَا أصله من الواو، وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] . ( ع ص ی ) العصا ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے۔ عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ هزز الْهَزُّ : التّحريك الشّديد، يقال : هَزَزْتُ الرّمح فَاهْتَزَّ وهَزَزْتُ فلانا للعطاء . قال تعالی: وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ [ مریم/ 25] ، فَلَمَّا رَآها تَهْتَزُّ [ النمل/ 10] ، واهْتَزَّ النّبات : إذا تحرّك لنضارته، قال تعالی: فَإِذا أَنْزَلْنا عَلَيْهَا الْماءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ [ الحج/ 5] واهْتَزَّ الكوكب في انقضاضه، وسیف هَزْهَازٌ ، وماء هُزَهِزٌ ورجل هُزَهِزٌ: خفیف . ( ھ ز ز ) الھز کے معنی کسی چیز کو زور سے ملانے کے ہیں جیسے ھززت الرمح میں نے نیزہ زور سے ہلا یا اھتز افتعال اس کا مط اور ہے اسی طرح ھززت فلانا للعطآء کے معنی ہیں میں نے فلاں کو بخشش کے لئے حرکت دی یعنی وہ خوشی سے جھومنے لگا قرآن میں ہے : ۔ وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ [ مریم/ 25] اور کھجور کے تنے کو پکڑا کر اپنی طرف ہلاؤ ۔ فَلَمَّا رَآها تَهْتَزُّ [ النمل/ 10] جب اسے دیکھا تو اس طرح اہل رہی تھی گویا سانپ ہے اھتزت النبات نباتات ( سبزے کا لہلہا نا چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِذا أَنْزَلْنا عَلَيْهَا الْماءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ [ الحج/ 5] پھر جب ہم اس پر بارش بر ساتے ہیں تو وہ شاداب ہوجاتی ہے اور ابھر نے لگتی ہے ۔ اھتز الکواکب فی انقضا ضہ ستارے کا تیزی کے ساتھ ٹوٹنا اور سیف ھز ھا ز کے معنی لچکدار تلوار کے ہیں اور شفاف پانی کو ماء ھز ھز کہا جاتا ہے اسی طرح ھز ھز کے معنی سبک اور ہلکے پھلکے آدمی کے بھی آتے ہیں ۔ جان وقوله تعالی: وَالْجَانَّ خَلَقْناهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نارِ السَّمُومِ [ الحجر/ 27] فنوع من الجنّ ، وقوله تعالی: كَأَنَّها جَانٌّ [ النمل/ 10] ، قيل : ضرب من الحيّات . اور آیت کریمہ ؛۔ وَالْجَانَّ خَلَقْناهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نارِ السَّمُومِ [ الحجر/ 27] اور جان کو اس سے بھی پہلے بےہوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا ۔ میں جان سے بھی جنوں کی ایک قسم مراد ہے ۔ لیکن آیت کریمۃ ؛ كَأَنَّها جَانٌّ [ النمل/ 10] میں جان سے ایک قسم سانپ مراد ہے ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ دبر ( پيٹھ) دُبُرُ الشّيء : خلاف القُبُل «3» ، وكنّي بهما عن، العضوین المخصوصین، ويقال : دُبْرٌ ودُبُرٌ ، وجمعه أَدْبَار، قال تعالی: وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ [ الأنفال/ 16] ، وقال : يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبارَهُمْ [ الأنفال/ 50] ، أي : قدّامهم وخلفهم، وقال : فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ [ الأنفال/ 15] ، وذلک نهي عن الانهزام، وقوله : وَأَدْبارَ السُّجُودِ [ ق/ 40] : أواخر الصلوات، وقرئ : وَإِدْبارَ النُّجُومِ «1» ( وأَدْبَار النّجوم) «2» ، فإدبار مصدر مجعول ظرفا، ( د ب ر ) دبر ۔ بشت ، مقعد یہ قبل کی ضد ہے اور یہ دونوں لفظ بطور کنایہ جائے مخصوص کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور اس میں دبر ا اور دبر دولغات ہیں اس کی جمع ادبار آتی ہے قرآن میں ہے :َ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍدُبُرَهُ [ الأنفال/ 16] اور جو شخص جنگ کے روز ان سے پیٹھ پھیرے گا ۔ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبارَهُمْ [ الأنفال/ 50] ان کے مونہوں اور پیٹھوں پر ( کوڑے و ہیتھوڑے وغیرہ ) مارتے ہیں ۔ فَلا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبارَ [ الأنفال/ 15] تو ان سے پیٹھ نہ پھیرنا ۔ یعنی ہزیمت خوردہ ہوکر مت بھاگو ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ وَأَدْبارَ السُّجُودِ [ ق/ 40] اور نماز کے بعد ( بھی ) میں ادبار کے معنی نمازوں کے آخری حصے ( یا نمازوں کے بعد ) کے ہیں . وَإِدْبارَ النُّجُومِ«1»میں ایک قرات ادبارالنجوم بھی ہے ۔ اس صورت میں یہ مصدر بمعنی ظرف ہوگا یعنی ستاروں کے ڈوبنے کا وقت جیسا کہ مقدم الجام اور خفوق النجم میں ہے ۔ اور ادبار ( بفتح الحمزہ ) ہونے کی صورت میں جمع ہوگی ۔ تَّعْقيبُ والتَّعْقيبُ : أن يأتي بشیء بعد آخر، يقال : عَقَّبَ الفرسُ في عدوه . قال : لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] ، أي : ملائكة يتعاقبون عليه حافظین له . وقوله : لا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ [ الرعد/ 41] ، أي : لا أحد يتعقّبه ويبحث عن فعله، من قولهم : عَقَّبَ الحاکم علی حکم من قبله : إذا تتبّعه . قال الشاعر : 325- وما بعد حکم اللہ تعقیب ويجوز أن يكون ذلک نهيا للنّاس أن يخوضوا في البحث عن حكمه وحکمته إذا خفیت عليهم، ويكون ذلک من نحو النّهي عن الخوض في سرّ القدر . وقوله تعالی: وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ [ النمل/ 10] ، أي : لم يلتفت وراء ه . والاعتقاب : أن يتعاقب شيء بعد آخر کا عتقاب اللّيل والنهار، ومنه : العُقْبَة أن يتعاقب اثنان علی رکوب ظهر، وعُقْبَة الطائر : صعوده وانحداره، وأَعقبه كذا : إذا أورثه ذلك، قال : فَأَعْقَبَهُمْ نِفاقاً [ التوبة/ 77] ، التعقیب ایک چیز کے بعد دوسری لانا ۔ عقب الفرس فی عدوہ گھوڑے نے ایک دوڑ کے بعد دوسری دوڑ لگائی قرآن میں ہے ۔ لَهُ مُعَقِّباتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ [ الرعد/ 11] اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں اور آیت کریمہ : ۔ لا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ [ الرعد/ 41] کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے فیصلے کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا اور نہ اس پر بحث کرسکتا ہے ۔ یہ عقب الحاکم علٰی حکم من قبلیہ کے محاورہ سے ماخوذ ہے بعنی حاکم نے اپنے بیشر وحاکم کے خلاف فیصلہ دیا شاعر نے کہا ہے ۔ ( 317 ) وما یعد حکم اللہ تعقیب اللہ کے فیصلہ کے بعد کسی اور کا فیصلہ نہیں آسکتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت مذکورہ میں لوگوں کو اللہ کے حکم اور اس کی مخفی حکمتو میں خوض کرنے سے منع فرمایا گیا ہو ۔ جیسا کہ قضا وقدر کے اسرار میں غور وخوض کیا گیا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلَّى مُدْبِراً وَلَمْ يُعَقِّبْ [ النمل/ 10] میں لم یعقب کے معنی ہیں اس نے مڑکر پیچھے کو نہ دیکھا الاعتقاب کے معنی ایک چیز کے دوری کے بعد آنے کے ہیں جیسے شب دروز کہ یہ دونوں یکے بعد دیگرے آتے ہیں اسی سے العقبۃ ہے یعنی دو مسافروں کا یکے بعد دیگرے ایک سواری پر سوار ہونا عقبۃ الطائر پرند کا کبھی اوپر چڑھنا اور کبھی نیچے اترنا اعقبۃ کذا کسی چیز کا وارث بنا دینا ایک چیز کی جگہ دوسری چیز کو اس کا جانشین بنانا قرآن میں ہے : ۔ فَأَعْقَبَهُمْ نِفاقاً [ التوبة/ 77] تو خدا نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا ۔ خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ لدی لَدَى يقارب لدن . قال تعالی: وَأَلْفَيا سَيِّدَها لَدَى الْبابِ [يوسف/ 25] . ( ل د ی ) لدی یہ تقریبا لدن کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَأَلْفَيا سَيِّدَها لَدَى الْبابِ [يوسف/ 25] اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط) ” یعنی آپ ( علیہ السلام) پر شدید خوف طاری ہوگیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12 In Surahs Al-A`raf and Ash-Shu`araa', the snake has been called thu`ban (a large serpent) but here jaann, a small snake. The reason is that in physical size it was a serpent but in movement it was swift like a small snake. The same thing has been expressed by hayyatun tas `a (a running snake) in Ta Ha: 20. 13 That is, "In My Presence there is no danger of any harm to the Messenger. When I call someone into My Presence to appoint him to the high office of Prophethood, I Myself become responsible for his safety. Therefore, the Messenger should remain fearless and confident in every kind of unusual situation: it will never harm or hurt him in any way. "

سورة النمل حاشیہ نمبر :12 سورہ اعراف اور سورہ شعراء میں اس کے لیے ثعبان ( اژدھے ) کا لفظ استعمال کیا گ یا ہے اور یہاں اسے جان کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو چھوٹے سانپ کے لے بولا جاتا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جسامت میں وہ اژدہا تھا ، مگر اس کی حرکت کی تیزی ایک چھوٹے سانپ جیسی تھی ، اسی مفہوم کو سورہ طہ میں حیۃ تسعی ( دوڑتے ہوئے سانپ ) کے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر :13 یعنی میرے حضور اس امر کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ رسول کو کوئی گزند پہنچے رسالت کے منصب عظیم پر مقرر کرنے کے لیے جب میں کسی کو اپنی پیشی میں بلاتا ہوں تو اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں ، اس لیے خواہ کیسا ہی کوئی غیر معمولی معاملہ پیش آئے رسول کو بے خوف اور مطمئن رہنا چاہیے کہ اس کے لیے وہ کسی طرح ضرر رساں نہ ہوگا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:10) الق۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو ڈال دے۔ القاء (افعال) مصدر۔ راھا۔ اس نے اس کو دیکھا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا کو دیکھا ھاضمیر مفعول واحد مؤنث غائب عضا کی طرف راجع ہے تھتز۔ مضارع واحد مؤنث غائب اھتزاز (افتعال) مصدر۔ وہ بل کھاتی ہے۔ وہ پھنپھناتی ہے۔ وہ ہلتی ہے۔ یہ حال ہے مفعول ھا سے پھر جب اس نے اس کو (عصا کو) بل کھاتے دیکھا ۔ وھزی الیک بجذع النخلۃ (19:25) اور تو ہلا کھجور کے تنے کو اپنی طرف کانھا۔ یہ بھی یا ھا کا حال ہے یا ضمیر تھتز کا حال ہے جیسے کہ وہ۔ گویا وہ ہے ۔ کان حرف مشابہ بفعل ہے اس کا اسم منصوب اور خبر مرفوع ہوتی ہے جیسے کان زیدا اسد۔ یہ اکثر اور خاص کر قرآن مجید میں تشبیہ کے لئے استعمال ہوا ہے ! جان : الجن سے مشتق ہے جن کی جمع ہے (باب نصر) اس کے اصل معنی کسی چیز کو حواس سے پوشیدہ کرنے کے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے فلما حن علیہ الیل (6:77) جب رات نے ان کو (پردہ تاریکی سے) چھپا دیا۔ الجنان دل کہ وہ بھی حواس سے مستور ہوتا ہے۔ یا المجن والجنۃ ڈھال وجہ سے اس کی زمین نظر نہیں آتی یا الجن جن کہ وہ بھی پوشیدہ مخلوق ہے۔ لیکن آیت ہذا میں جان ایک قسم کا سانپ مراد ہے۔ ولی۔ ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے۔ تولیۃ (تفعل) مصدر وہ منہ موڑ کر پیٹھ دے کر بھاگا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وان یقاتلوکم یوتوکم الادبار (3:111) اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائینگے ولی مادہ۔ اسی مادہ سے اور مشتقات ولی دوست۔ والی مددگار۔ حاکم۔ مدبرا۔ اسم فاعل واحد مذکر بحالت نصبی۔ پیٹھ موڑنے والا۔ دبر پیٹھ۔ پشت پائخانہ کا مقام ۔ ادبار پیٹھ پھیرنا۔ ثم ادبر واسکتبر (74:23) پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا۔ لم یقعب مضارع مجزوم نفی جحد بلم تعقیب (تفعیل ( مصدر۔ اس نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ وہ پیچھے نہ پھرا۔ پیچھے مڑکر بھی نہ دیکھا۔ لدی : لدی مضاف یاء واحد متکلم مضاف الیہ ۔ میرے پاس۔ لدی طرف مکان پاس۔ طرف۔ ضمیر کی طرف اضافت کے وقت لدی کی وہی حالت ہوتی ہے جو علی حرف جر کی ہوتی ہے جیسے علینا، لدینا، علیک ، لدیک وغیرہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ ” جان “ اصل میں چھوٹے سفید سانپ کو کہتے ہیں۔ سورة اعراف (آیت :107) اور سورة شعرا۔ (آیت :32) میں اس کے لئے ” ثعبان “ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی بڑے سانپ (اژدہا) کے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ سانپ اصل میں بڑا اژدہا رہا تھا لیکن اپنی حرکت کی تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔ بعض نے لکھا ہے کہ کبھی ” جان “ بن جاتا اور کبھی ” ثعبان “۔ اس لئے ان دو لفظوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، ” اول شک سی بن گئی تھی پتلی جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر۔ (موضح) 2 ۔ یہ خوف طبعی بتضائے بشریت تھا۔ (قرطبی) 3 ۔ یعنی میرے حضور پہنچ کر انبیا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، سانپ وغیرہ کسی چیز سے نہیں ڈرا کرتے کیونکہ یہاں تو وہ اخذ وحی میں بالکل مستغرق ہوتے ہیں اور کسی طرف التفات نہیں رہتا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ مراد اس صورت خبر سے معنی انشاء ہے، یعنی ڈرنا نہ چاہئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلی وحی کے موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرنے کے ساتھ دو عظیم معجزات سے سرفراز کیا گیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول منتخب فرمالیا ہے تو انھیں حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! اپنا عصا زمین پر پھینکئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو نہی عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر اپنا پھن پھلاتے ہوئے لہرانے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اڈر کر اس سے دور بھاگے اور انھوں نے پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہ کی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ڈریے نہیں کیونکہ میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے۔ میری بارگاہ میں پیشی سے وہ لوگ ڈرا کرتے ہیں جنھوں نے ظلم کیا ہوتا ہے۔ ہاں جو برائی کو بھلائی سے بدلتے ہیں انہیں معاف کرنے والا اور مہربان ہوں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پلٹ کر اژدھا کو پکڑا تو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالووہ بغیر کسی بیماری کے چمکتا ہوا نکلے گا۔ یہ نونشانیوں میں سے دو ہیں جن کے ساتھ تجھے فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جا رہا ہے۔ ہاں یہ بات ذہن میں رکھنا کہ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں آل فرعون انتہائی ظالم لوگ تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا مجھے رب العالمین کی طرف سے رسول بنایا گیا ہے اور میں وہی بات کہوں گا جس کے کہنے کا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے میں تمہارے پاس اپنے رب کی ربوبیت اور وحدت کے ٹھوس اور واضح دلائل لایا ہوں۔ اس لیے تمہیں اپنی خدائی چھوڑ کر صرف اور صرف ایک اللہ کو اپنا رب ماننا چاہیے اس کے ساتھ میرا یہ مطالبہ ہے کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردیا جائے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا اگر تو واقعی اپنے دعویٰ میں سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فی الفور اپنا عصا زمین پر پھینکا جو بہت بڑا اژدہا بن کر لہرانے لگا۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ اتنا بڑا اژدہا بن کر سامنے آیا کہ یوں لگتا تھا جیسے سب کو نگل لے گا۔ یہ دیکھتے ہی فرعون اور اس کے درباری اپنی جان بچانے کے لیے دوڑتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے فریادیں کرنے لگے کہ ہمیں اس سے بچائیں۔ تب موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا کو پکڑ اتو وہ پہلے کی طرح عصا بن گیا۔ پھر اپنی بغل میں ہاتھ دبا کر باہر نکالا تو اس کے سامنے تمام روشنائیاں ماند پڑگئیں۔ ہاتھ دیکھنے والے حیران اور ششد ررہ گئے کہ یہ تو سورج اور چاند سے زیادہ روشن ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کے سامنے سورج کی روشنی ماند پڑتی دکھائی دیتی تھی۔ (روح المعانی و جامع البیان) (قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَمُجَاہِدُ ، وَعِکْرَمَۃُ وَالشَّعْبِیُّ ، وَقَتَادَۃُ ہِیَ یَدُہٗ ، وَعَصَاہٗ ، وَالسَّنِیْنُ ، وَنَقْصُ الثَّمَرَاتِ ، وَالطَّوْفَانُ ، وَالْجَرَادُ ، وَالقُمَّلُ ، وَالضَّفَادِعُ ، وَالدَّمُ ) [ ابن کثیر ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) مجاھد، عکرمہ، شعبی اور قتادہ کے قول کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی جانے والی تو نشانیاں یہ تھیں۔ ١۔ عصا، ٢۔ یدِبیضاء، ٣۔ قحط سالی، ٤۔ پھلوں کی کمی، ٥۔ طوفان، ٦۔ ٹڈی دل، ٧۔ جوؤں کا عذاب، کھٹمل، ٨۔ مینڈک ٩۔ اور خون کا عذاب۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہ معاف کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والق عصاک یہ یہاں بات اختصار سے کی جاتی ہی اور سورة طہ کی طرح طویل مناجات نہیں ہے۔ یہاں مقصد آواز دینا اور فریضہ عائد کرنا ہے۔ “ فلما راھا تھتز کانھا جآن ولی مدبراً ولم یعقب ط حضرت مسویٰ نے حکم کے مطابق عصا پھینکا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک سانپ ہے اور زمین پر رینگ رہا ہے ۔ جیسا کہ چھوٹے اور سریع الحرکت سانپ تیزی سے دوڑتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انفعالی طبیعت کے مالک تھے۔ یہ اچانک منظر ان کے لئے غیر متوقع تھا۔ حضرت اس سانپ سے دور بھاگ گئے اور واپس نہ دیکھا۔ یہ ایک ایسی حرکت تھی جو غیر متوقع اور اچانک پیش آجانے کی صورت میں ہر انسان سے صادر ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مزاج بھی ایسا تھا کہ وہ جلد متاثر ہوتے تھے۔ اب پھر عالم بالا سے آواز دی جاتی ہے۔ اطمینان عطا کرنے والی آواز اعلان کیا جاتا ہے آپ کا منصب رسالت ہے اور کسی رسول کے لئے ڈرنا مناسب نہیں ہے۔ یموسیٰ لاتخف انی لایخاف لدی المرسلون ’ آپ گھبرائیں نہیں۔ آپ کے اس قدررسالت کا منصب اور فرائض ہیں اور رسول اللہ کے دربار میں ہوتے ہیں اور وہاں ، ان کے ڈرنے کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ وہ چھوٹا سانپ جو تیزی سے حرکت کرے۔ دوسری جگہ اس سانپ کو “ ثعبان ” (اژدہا) سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہاں اسے بہت بڑا اژدھا بن گیا لیکن حرکت کی تیزی میں چھوٹے سانپ کی مانند تھا۔ شبھھا سبحانہ فی شدۃ حرکتہا واضطرابھا مع عظم جث تھا بصغار الحیات السریعۃ الحرکۃ الخ (روح ج 19 ص 163) ۔ 11:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اژدہا کو دیکھا تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا تو ارشاد ہوا اے موسیٰ ! مت ڈرو، کیونکہ میرے قرب میں پیغمبر کسی چیز سے نہیں ڈرا کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو باین جلالت شان یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ سانپ ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ وہ عالم الغیب نہ تھے اور ہر چیز کو جاننا اللہ تعالیٰ کی خصوصیت ہے۔ اس سے ایمان والوں کو ہدایت اور راہنمائی ملتی ہے کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ ” الا من ظلم الخ “ استثناء منقطع ہے اور ” الا “ بمعنی ” لکن “ ہے اور ” بدل “ بمعنی ” تاب “۔ قال صاحب المطلع والمعنی علیہ لکن من ظلم من سائر العباد ثم تاب فانی اغفر لہ (روح ج 19 ص 165) ۔ یا “ لایخاف ” بمعنی “ لا یتضرر ”۔ یعنی تکلیف نہیں اٹھاتا اور “ الا ” بمعنی “ بل ” ہے جو ترقی کے لیے ہوتا ہے۔ اس صورت میں حاصل یہ ہوگا، اے موسیٰ ! میں کسی پر ظلم نہیں کرتا تاکہ کوئی مجھ سے ڈر کر بھاگے بلکہ اگر کوئی ظلم کرنے کے بعد توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلے تو میں اسے بھی معاف کردیتا اور اس پر رحم کرتا ہوں کیونکہ میں غفور رحیم ہوں۔ قالہ الشیخ قدس سرہ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اور تو اپنی لاٹھی کو ڈال دے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا کہ وہ ایک پتلا تیزرفتار سانپ ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا ارشاد ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ڈر نہیں میری حضور میں پہونچکر پیغمبر ڈرا نہیں کرتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی تفصیل پہلے گذرچ کی ہے۔ جان کہتے ہیں پتلے سانپ کو سورة طہ میں حیۃ فرمایا اژدہا یا موٹا سانپ تو دوڑ میں چونکہ پتلے سانپ کی طرح دوڑتا تھا اس لئے جان فرمایا ورنہ اژدہا تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول سٹک سی بن گئی تھی پتلی جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر 12 بہرحال ! یہ خوف طبعی تھا جو نبوت کے منافی نہیں تفصیل سورة طہ میں گذر چکی ہے۔