Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 3

سورة النمل

الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ یُوۡقِنُوۡنَ ﴿۳﴾

Who establish prayer and give zakah, and of the Hereafter they are certain [in faith].

جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Those who perform the Salah and give the Zakah and they believe with certainty in the Hereafter. They establish obligatory prayers, pay Zakah and believe with certain faith in the Hereafter, the resurrection after death, reward and punishment for all deeds, good and bad, and Paradise and Hell. This is like the Ayat: قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَأءٌ وَالَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ فِى ءَاذَانِهِمْ وَقْرٌ Say: "It is for those who believe, a guide and a healing. And as for those who disbelieve, there is heaviness (deafness) in their ears..." (41:44) لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً that you may give glad tidings to those who have Taqwa, and warn with it the Ludd (most quarrelsome) people. (19: 97) Allah says here:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31یہ مضمون متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ قرآن کریم ویسے تو پوری نسل انسانی کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے لیکن اس سے حقیقتاً راہ یاب وہی ہونگے جو ہدایت کے طالب ہونگے، جو لوگ اپنے دل اور دماغ کی کھڑکیوں کو حق کے دیکھنے اور سننے سے بند یا اپنے دلوں کو گناہوں کی تاریکیوں سے مسخ کرلیں گے، قرآن انھیں کس طرح سیدھی راہ پر لگا سکتا ہے، ان کی مثال اندھوں کی طرح ہے جو سورج کی روشنی سے فیض یاب نہیں ہوسکتے، درآں حالیکہ سورج کی روشنی پورے عالم کی درخشانی کا سبب ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں کی ظاہری علامات یہ ہیں کہ کم از کم وہ نماز کو پوری درستی کے ساتھ قائم کریں۔ نیز زکوٰۃ ادا کریں اور روز آخرت پر ایمان بھی رکھتے ہوں۔ روز آخرت پر ایمان اگرچہ ایمان کے چھ اجزاء میں ایک جزء ہے اور ایمان لانے میں آخرت پر ایمان لانا از خود شامل ہوجاتا ہے۔ تاہم ایمان کے اس جزء کی اہمیت کے پیش نظر اس کو دوبارہ اور بڑی تاکید سے بیان فرمایا۔ اسی لئے قرآن کریم نے آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کو مکمل کافر قرار دیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں کو بھی کافر قرار دیا ہے جو آخرت کے دن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر جزا و سزا کے متعلق وہ تصور نہیں رکھتے جو قرآن پیش کرتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوۃَ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ يُوْقِنُوْنَ۝ ٣ اقامت والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43] ، في غير موضع وَالْمُقِيمِينَ الصَّلاةَ [ النساء/ 162] . وقوله : وَإِذا قامُوا إِلَى الصَّلاةِ قامُوا كُسالی[ النساء/ 142] فإنّ هذا من القیام لا من الإقامة، وأمّا قوله : رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاةِ [إبراهيم/ 40] أي : وفّقني لتوفية شرائطها، وقوله : فَإِنْ تابُوا وَأَقامُوا الصَّلاةَ [ التوبة/ 11] فقد قيل : عني به إقامتها بالإقرار بوجوبها لا بأدائها، والمُقَامُ يقال للمصدر، والمکان، والزّمان، والمفعول، لکن الوارد في القرآن هو المصدر نحو قوله : إِنَّها ساءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقاماً [ الفرقان/ 66] ، والمُقَامةُ : لإقامة، قال : الَّذِي أَحَلَّنا دارَ الْمُقامَةِ مِنْ فَضْلِهِ [ فاطر/ 35] نحو : دارُ الْخُلْدِ [ فصلت/ 28] ، وجَنَّاتِ عَدْنٍ [ التوبة/ 72] وقوله : لا مقام لَكُمْ فَارْجِعُوا[ الأحزاب/ 13] ، من قام، أي : لا مستقرّ لكم، وقد قرئ : لا مقام لَكُمْ «1» من : أَقَامَ. ويعبّر بالإقامة عن الدوام . نحو : عَذابٌ مُقِيمٌ [هود/ 39] ، وقرئ : إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ «2» [ الدخان/ 51] ، أي : في مکان تدوم إقامتهم فيه، وتَقْوِيمُ الشیء : تثقیفه، قال : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [ التین/ 4] الاقامتہ ( افعال ) فی المکان کے معنی کسی جگہ پر ٹھہرنے اور قیام کرنے کے ہیں اوراقامتہ الشیی ( کسی چیز کی اقامت ) کے معنی اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کے ہوتے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] کہو کہ اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ اور انجیل ۔۔۔۔۔ کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہوسکتے یعنی جب تک کہ علم وعمل سے ان کے پورے حقوق ادا نہ کرو ۔ اسی طرح فرمایا : ۔ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] اور اگر وہ توراۃ اور انجیل کو ۔۔۔۔۔ قائم کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے یا نماز یوں کی تعریف کی گئی ہے ۔ وہاں اقامتہ کا صیغۃ استعمال کیا گیا ہے ۔ جس میں اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ نماز سے مقصود محض اس کی ظاہری ہیبت کا ادا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اسے جملہ شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے اسی بنا پر کئی ایک مقام پر اقیموالصلوۃ اور المتقین الصلوۃ کہا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا قامُوا إِلَى الصَّلاةِ قامُوا كُسالی[ النساء/ 142] اوت جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہوکر ۔ میں قاموا اقامتہ سے نہیں بلکہ قیام سے مشتق ہے ( جس کے معنی عزم اور ارادہ کے ہیں ) اور آیت : ۔ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاةِ [إبراهيم/ 40] اے پروردگار مجھ کو ( ایسی توفیق عنایت ) کر کہ نماز پڑھتا رہوں ۔ میں دعا ہے کہ الہٰی / مجھے نماز کو پورے حقوق کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرما اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ تابُوا وَأَقامُوا الصَّلاةَ [ التوبة/ 11] پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے ۔۔۔۔۔۔۔ لگیں ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں اقامۃ سے نماز کا ادا کرنا مراد نہیں ہے بلکہ اس کے معنی اس کی فرضیت کا اقرار کرنے کے ہیں ۔ المقام : یہ مصدر میمی ، ظرف ، مکان ظرف زمان اور اسم مفعول کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ لیکن قرآن پاک میں صرف مصدر میمی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنَّها ساءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقاماً [ الفرقان/ 66] اور دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے ۔ اور مقامتہ ( بضم الیم ) معنی اقامتہ ہے جیسے فرمایا : الَّذِي أَحَلَّنا دارَ الْمُقامَةِ مِنْ فَضْلِهِ [ فاطر/ 35] جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ کے رہنے کے گھر میں اتارا یہاں جنت کو دارالمقامتہ کہا ہے جس طرح کہ اسے دارالخلد اور جنات عمدن کہا ہے ۔ اور آیت کریمہ : لا مقام لَكُمْ فَارْجِعُوا[ الأحزاب/ 13] یہاں تمہارے لئے ( ٹھہرنے کا ) مقام نہیں ہے تو لوٹ چلو ۔ میں مقام کا لفظ قیام سے ہے یعنی تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور ایک قرات میں مقام ( بضم المیم ) اقام سے ہے اور کبھی اقامتہ سے معنی دوام مراد لیا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ عَذابٌ مُقِيمٌ [هود/ 39] ہمیشہ کا عذاب ۔ اور ایک قرات میں آیت کریمہ : ۔ إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي مَقامٍ أَمِينٍ «2» [ الدخان/ 51] بیشک پرہیزگار لوگ امن کے مقام میں ہوں گے ۔ مقام بضمہ میم ہے ۔ یعنی ایسی جگہ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ تقویم الشی کے معنی کسی چیز کو سیدھا کرنے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ [ التین/ 4] کہ ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا ۔ اس میں انسان کے عقل وفہم قدوقامت کی راستی اور دیگر صفات کی طرف اشارہ ہے جن کے ذریعہ انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوتا ہے اور وہ اس کے تمام عالم پر مستولی اور غالب ہونے کی دلیل بنتی ہیں ۔ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی زكا أصل الزَّكَاةِ : النّموّ الحاصل عن بركة اللہ تعالی، ويعتبر ذلک بالأمور الدّنيويّة والأخرويّة . يقال : زَكَا الزّرع يَزْكُو : إذا حصل منه نموّ وبرکة . وقوله : أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] ، إشارة إلى ما يكون حلالا لا يستوخم عقباه، ومنه الزَّكاةُ : لما يخرج الإنسان من حقّ اللہ تعالیٰ إلى الفقراء، وتسمیته بذلک لما يكون فيها من رجاء البرکة، أو لتزکية النّفس، أي : تنمیتها بالخیرات والبرکات، أو لهما جمیعا، فإنّ الخیرین موجودان فيها . وقرن اللہ تعالیٰ الزَّكَاةَ بالصّلاة في القرآن بقوله : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] ، وبِزَكَاءِ النّفس وطهارتها يصير الإنسان بحیث يستحقّ في الدّنيا الأوصاف المحمودة، وفي الآخرة الأجر والمثوبة . وهو أن يتحرّى الإنسان ما فيه تطهيره، وذلک ينسب تارة إلى العبد لکونه مکتسبا لذلک، نحو : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها[ الشمس/ 9] ، وتارة ينسب إلى اللہ تعالی، لکونه فاعلا لذلک في الحقیقة نحو : بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] ، وتارة إلى النّبيّ لکونه واسطة في وصول ذلک إليهم، نحو : تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] ، يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] ، وتارة إلى العبادة التي هي آلة في ذلك، نحو : وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] ، لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ، أي : مُزَكًّى بالخلقة، وذلک علی طریق ما ذکرنا من الاجتباء، وهو أن يجعل بعض عباده عالما وطاهر الخلق لا بالتّعلّم والممارسة بل بتوفیق إلهيّ ، كما يكون لجلّ الأنبیاء والرّسل . ويجوز أن يكون تسمیته بالمزکّى لما يكون عليه في الاستقبال لا في الحال، والمعنی: سَيَتَزَكَّى، وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] ، أي : يفعلون ما يفعلون من العبادة ليزكّيهم الله، أو لِيُزَكُّوا أنفسهم، والمعنیان واحد . ولیس قوله : «للزّكاة» مفعولا لقوله : «فاعلون» ، بل اللام فيه للعلة والقصد . وتَزْكِيَةُ الإنسان نفسه ضربان : أحدهما : بالفعل، وهو محمود وإليه قصد بقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] ، وقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى[ الأعلی/ 14] . والثاني : بالقول، كتزكية العدل غيره، وذلک مذموم أن يفعل الإنسان بنفسه، وقد نهى اللہ تعالیٰ عنه فقال : فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] ، ونهيه عن ذلک تأديب لقبح مدح الإنسان نفسه عقلا وشرعا، ولهذا قيل لحكيم : ما الذي لا يحسن وإن کان حقّا ؟ فقال : مدح الرّجل نفسه . ( زک و ) الزکاۃ : اس کے اصل معنی اس نمو ( افزونی ) کے ہیں جو برکت الہیہ سے حاصل ہو اس کا تعلق دنیاوی چیزوں سے بھی ہے اور اخروی امور کے ساتھ بھی چناچہ کہا جاتا ہے زکا الزرع یزکو کھیتی کا بڑھنا اور پھلنا پھولنا اور آیت : ۔ أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] کس کا کھانا زیادہ صاف ستھرا ہے ۔ میں ازکیٰ سے ایسا کھانا مراد ہے جو حلال اور خوش انجام ہو اور اسی سے زکوۃ کا لفظ مشتق ہے یعنی وہ حصہ جو مال سے حق الہیٰ کے طور پر نکال کر فقراء کو دیا جاتا ہے اور اسے زکوۃ یا تو اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس میں برکت کی امید ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ اس سے نفس پاکیزہ ہوتا ہے یعنی خیرات و برکات کے ذریعہ اس میں نمو ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے تسمیہ میں ان ہر دو کا لحاظ کیا گیا ہو ۔ کیونکہ یہ دونوں خوبیاں زکوۃ میں موجود ہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نما ز کے ساتھ ساتھ زکوۃٰ کا بھی حکم دیا ہے چناچہ فرمایا : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] نماز قائم کرو اور زکوۃ ٰ ادا کرتے رہو ۔ اور تزکیہ نفس سے ہی انسان دنیا میں اوصاف حمیدہ کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت میں اجر وثواب بھی اسی کی بدولت حاصل ہوگا اور تزکیہ نفس کا طریق یہ ہے کہ انسان ان باتوں کی کوشش میں لگ جائے جن سے طہارت نفس حاصل ہوتی ہے اور فعل تزکیہ کی نسبت تو انسان کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ اس کا اکتساب کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] کہ جس نے اپنی روح کو پاک کیا ( وہ ضرور اپنی ) مراد کو پہنچا ۔ اور کبھی یہ اللہ تعالےٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے کیونکہ فی الحقیقت وہی اس کا فاعل ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے ۔ اور کبھی اس کی نسبت نبی کی طرف ہوتی ہے کیونکہ وہ لوگوں کو ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] کہ اس سے تم ان کو ( ظاہر میں بھی ) پاک اور ( باطن میں بھی ) پاکیزہ کرتے ہو ۔ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] وہ پیغمبر انہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں بذریعہ تعلیم ( اخلاق رذیلہ ) سے پاک کرتا ہے : ۔ اور کبھی اس کی نسبت عبادت کی طرف ہوتی ہے کیونکہ عبادت تزکیہ کے حاصل کرنے میں بمنزلہ آلہ کے ہے چناچہ یحیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] اور اپنی جناب سے رحمدلی اور پاگیزگی دی تھی ۔ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا [ مریم/ 19] تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا بخشوں یعنی وہ فطرتا پاکیزہ ہوگا اور فطرتی پاکیزگی جیسا کہ بیان کرچکے ہیں ۔ بطریق اجتباء حاصل ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو عالم اور پاکیزہ اخلاق بنا دیتا ہے اور یہ پاکیزگی تعلیم وممارست سے نہیں بلکہ محض توفیق الہی سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اکثر انبیاء اور رسل کے ساتھ ہوا ہے ۔ اور آیت کے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ لڑکا آئندہ چل کر پاکیزہ اخلاق ہوگا لہذا زکیا کا تعلق زمانہ حال کے ساتھ نہیں بلکہ استقبال کے ساتھ ہے قرآن میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] اور وہ جو زکوۃ دیا کرتے ہیں ۔ یعنی وہ عبادت اس غرض سے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں پاک کر دے یا وہ اپنے نفوس کو پاک کرنے کی غرض سے عبادت کرتے ہیں والما ل واحد ۔ لہذا للزکوۃ میں لام تعلیل کے لیے ہے جسے لام علت و قصد کہتے ہیں اور لام تعدیہ نہیں ہے حتیٰ کہ یہ فاعلون کا مفعول ہو ۔ انسان کے تزکیہ نفس کی دو صورتیں ہیں ایک تزکیہ بالفعل یعنی اچھے اعمال کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرنا یہ طریق محمود ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] اور آیت : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى [ الأعلی/ 14] میں تزکیہ سے یہی مراد ہیں ۔ دوسرے تزکیہ بالقول ہے جیسا کہ ایک ثقہ شخص دوسرے کے اچھے ہونیکی شہادت دیتا ہے ۔ اگر انسان خود اپنے اچھا ہونے کا دعوے ٰ کرے اور خود ستائی سے کام لے تو یہ مذموم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے تزکیہ سے منع فرمایا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے ۔ فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] اپنے آپ کو پاک نہ ٹھہراؤ ۔ اور یہ نہی تادیبی ہے کیونکہ انسان کا اپنے منہ آپ میاں مٹھو بننا نہ تو عقلا ہی درست ہے اور نہ ہی شرعا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک دانش مند سے پوچھا گیا کہ وہ کونسی بات ہے جو باوجود حق ہونے کے زیب نہیں دیتی تو اس نے جواب دیا مدح الانسان نفسہ کہ خود ستائی کرنا ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔ يقن اليَقِينُ من صفة العلم فوق المعرفة والدّراية وأخواتها، يقال : علم يَقِينٍ ، ولا يقال : معرفة يَقِينٍ ، وهو سکون الفهم مع ثبات الحکم، وقال : عِلْمَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 5] «2» ، وعَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 7] «3» وحَقُّ الْيَقِينِ [ الواقعة/ 95] وبینها فروق مذکورة في غير هذا الکتاب، يقال : اسْتَيْقَنَ وأَيْقَنَ ، قال تعالی: إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ، وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] ، لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] وقوله عزّ وجلّ : وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] أي : ما قتلوه قتلا تَيَقَّنُوهُ ، بل إنما حکموا تخمینا ووهما . ( ی ق ن ) الیقین کے معنی کسی امر کو پوری طرح سمجھ لینے کے ساتھ اس کے پایہ ثبوت تک پہنچ جانے کے ہیں اسی لئے یہ صفات علم سے ہے اور معرفت اور وغیرہ سے اس کا در جہ اوپر ہے یہی وجہ ہے کہ کا محاورہ تو استعمال ہوات ہے لیکن معرفۃ الیقین نہیں بولتے اور قدر معنوی فرق پایا جاتا ہے جسے ہم اس کتاب کے بعد بیان کریں گے استیتن والقن یقین کرنا قرآن میں ہے : ۔ إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ہم اس کو محض ظن ہی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا ۔ وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] یقین کرنے والوں کیلئے اور آیت کریمہ : ۔ وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] اور انہوں نے عیسیٰ کو یقینا نہیں کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ انہیں ان کے قتل ہوجانے کا یقین نہیں ہے بلکہ ظن وتخمین سے ان کے قتل ہوجانے کا ھکم لگاتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣) اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ جو پانچوں نمازوں کی کمال وضو، رکوع، اور سجود اور تمام آداب کی رعایت کے ساتھ پابندی کرتے ہیں اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دیتے ہیں اور بعث بعد الموت اور جنت و دوزخ پر پورا یقین رکھتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ (الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ بالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ ) ” یعنی آخرت پر ان کا پورا یقین ہے۔ سورة البقرۃ کے آغاز میں بھی متقین کی صفات کے ضمن میں عقیدۂ آخرت پر ایمان کے لیے لفظ ” یُوْقِنُوْنَ “ ہی استعمال ہوا ہے۔ دراصل انسان کے عمل اور کردار کے اچھے یا برے ہونے کا تعلق براہ راست عقیدۂ آخرت کے ساتھ ہے۔ آخرت پر اگر یقین کامل نہیں ہے تو انسان کا عمل اور کردار بھی درست نہیں ہوسکتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 That is, "These verses of the Qur'an give guidance and convey the good news of a good end only to those people who possess these two qualities: (1) They should affirm faith, that is, accept the invitation of the Qur'an and the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings), believe In one God as their only Deity and Lord, accept the Qur'an' as the Book of AIlah, acknowledge the Holy Prophet as a true Prophet and their Leader, and also adopt the belief that after this life there is another life, in which man has to render his full account of deeds and be rewarded or punished accordingly. (2) They should not only profess faith verbally, but should also be inclined to follow and obey the Divine Commands practically, and the first indication of this inclination is that they should establish the Salat and pay the Zakat. The verses of the Qur'an will show the right way of life only to those people who fulfil these two conditions; they will explain to them the difference between the right and the wrong at every stage on the way, protect them against the wrong ways at every turn of the way, and bless them with the satisfaction that whatever be the consequences of following the Right Way in the world, in the Hereafter they will certainly attain the eternal and everlasting success and the good will of Allah only through it. For in order to derive full benefit from the teaching of a teacher, one has first to have faith in him, then accept to be his student, and then work according to his instructions. Similarly, a patient who wants to be benefited by a doctor has first to accept him as a physician, and then follow his instructions with regard tomedical dosage, prevention, etc. Then only he can assure the patient of the desired results. Some people have interpreted the words yu'tun-az-zakat in this verse to mean that they should adopt moral purity. But, wherever in the Qur'an the word ita-i-zakat has occurred along with the word iqamat-i-salat, it means payment of the Zakat, which is the second pillar of Islam after the Salat. Moreover, the Qur'an has used the word tazakka for adopting piety and purity and not ita' which is specifically used for the payment of the Zakat. In fact, what is meant to be impressed here is this: In order to benefit fully by the guidance of the Qur'an, it is imperative that one should adopt the attitude of submission and obedience in practical life as well after the affirmation of the Faith, and the establishment of the Salat and the payment of the Zakat is the first indication that one has actually adopted such an attitude. If there is no such indication, it will become obvious that one is rebellious: he might have acknowledged a ruler as such, but he is not inclined to carry out his commands. 4 Although belief in the Hereafter is an article of the Faith, and a believer will also believe in it along with believing in Tauhid and the Prophethood, here it has been specially mentioned separately in order to bring out its unique importance. The object is to impress that for those people who do not believe in the Hereafter, it is impossible to follow, even tread, the way taught by the Qur'an. For the people of this way of thinking naturally determine their criterion of good and evil by the results that appear, in this world. For them it is not possible to accept any admonition or guidance which seeks to determine the good and evil by the criterion of the gain and loss in the Hereafter. Such people in the first instance do not at all heed the teachings of the Prophets, but if for some reason, they also get included among the believers, they find it difficult to take even the initial steps on the way of the Faith and Islam because of the lack of faith in the Hereafter. For as soon as they will encounter the first situation where the demands of the worldly g ains and the losses of the Hereafter will pull them in opposite directions, they will freely allow themselves to be pulled towards the worldly gains without caring in the least for the losses of the Hereafter, even though they may be making all sons of claims to be the believers.

سورة النمل حاشیہ نمبر :3 یعنی قرآن مجید کی یہ آیات رہنمائی بھی صرف انہی لوگوں کی کرتی ہیں اور انجام نیک کی خوشخبری بھی صرف انہی لوگوں کو دیتی ہیں جن میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں ، ایک یہ کہ وہ ایمان لائیں ، اور ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ وہ قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول کرلیں ، خدائے واحد کو اپنا ایک ہی الہ اور رب مان لیں ، قرآن کو خدا کی کتاب تسلیم کرلیں ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بر حق مان کر اپنا پیشوا بنالیں ، اور یہ عقیدہ بھی اختیار کرلیں کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے جس میں ہم کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزائے اعمال سے دو چار ہونا ہے ، دوسری خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو محض مان کر نہ رہ جائیں بلکہ عملا اتباع و اطاعت کے لیے آمادہ ہوں اور اس آمادگی کی اولین علامت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ، یہ دونوں شرطیں جو لوگ پوری کردیں گے انہی کو قرآن کی آیات دنیا میں زندگی کا سیدھا راستہ بتائیں گے ، اس راستہ کے ہر مرحلے میں ان کو صحیح اور غلط کا فرق سمجھائیں گے ، اس کے ہر موڑ پر انہیں غلط راہوں کی طرف جانے سے بچائیں گی ، اور ان کو یہ اطمینان بخشیں گی کہ راست روی کے نتائج دنیا میں خواہ کچھ بھی ہوں ، آخر کار ابدی اور دائمی فلاح اسی کی بدولت انہیں حاصل ہوگی اور وہ اللہ تعالی کی خوشنودی سے سرفراز ہوں گے ، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک معلم کی تعلیم سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو اس پر اعتماد کر کے واقعی اس کی شاگردی قبول کرلے اور پھر اس کی ہدایات کے مطابق کام بھی کرے ، ایک ڈاکٹر سے استفادہ ہی مریض کرسکتا ہے جو اسے اپنا معالج بنائے اور دوا اور پرہیز وغیرہ کے معاملہ میں اس کی ہدایات پر عمل کرے ، اسی صورت میں معلم اور ڈاکٹر یہ اطمینان دلا سکتے ہیں کہ آدمی کو نتائج مطلوبہ حاصل ہوں گے ۔ بعض لوگوں نے اس آیت میں يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ اخلاق کی پاکیزگی اختیار کریں ، لیکن قرآن مجید میں اقامت صلوۃ کے ساتھ ایتاء زکوۃ کا لفظ جہان بھی آیا ہے اس سے مراد وہ زکوۃ ادا کرنا ہے جو نماز کے ساتھ اسلام کا دوسرا رکن ہے ۔ علاوہ بریں زکوٰۃ کے لیے ایتاء کا لفظ استعمال ہوا ہے جو زکوۃ مال ادا کرنے کے معنی متعین کردیتا ہے ، کیونکہ عربی زبان میں پاکیزگی اختیار کرنے کے لیے تزکی کا لفظ بولا جاتاہے نہ کہ ایتاء زکوۃ ، دراصل یہاں جو بات ذہن نشین کرنی مقصود ہے وہ یہ کہ قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایمان کے ساتھ عملاً اطاعت و اتباع کا رویہ اختیار کرنا بھی ضروری ہے ، اور اقامت صلوۃ و ایتاء زکوۃ وہ پہلی علامت ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ آدمی نے واقعی اطاعت قبول کرلی ہے ، یہ علامت جہاں غائب ہوئی وہاں فورا یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آدمی سرکش ہے ، حاکم کو حاکم چاہے اس نے مان لیا ہو ، مگر حکم کی پیروی کے لیے وہ تیار نہیں ہے ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر :4 اگرچہ آخرت کا عقیدہ ایمانیات میں شامل ہے ، اور اس بنا پر ایمان لانے والوں سے مراد ظاہر ہے کہ وہی لوگ ہیں جو توحید اور رسالت کے ساتھ آخرت پر بھی ایمان لائیں ، لیکن ایمانیات کے ضمن میں اس کے آپ سے آپ شامل ہونے کے باوجودیہاں اس عقیدے کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے خاص طور پر زور دے کر اسے الگ بیان کیا گیا ہے ، اس سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ جو لوگ آخرت کے قائل نہ ہوں ان کے لیے اس قرآن کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا بلکہ اس پر قدم رکھنا بھی محال ہے ، کیونکہ اس طرز فکر کے لوگ طبعا اپنا معیار خیر و شر صرف انہی نتائج سے متعین کرتے ہیں جو اس دنیا میں ظاہر ہوتے یا ہوسکتے ہیں ۔ اور ان کے لیے کسی ایسی نصیحت و ہدایت کو قبول کرنا ممکن نہیں ہوتا جو انجام اخروی کو سود و زیاں اور نفع و نقصان کا معیار قرار دے کر خیر و شر کا تعین کرتی ہو ، ایسے لوگ اول تو انبیاء علیہم السلام کی تعلیم پر کان ہی نہیں دھرتے ، لیکن اگر کسی وجہ سے وہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں شامل بھی ہوجائیں تو آخرت کا یقین نہ ہونے کے باعث ان کے لیے ایمان و اسلام کے راستے پر ایک قدم چلنا بھی مشکل ہوتا ہے ۔ اس راہ میں پہلی ہی آزمائش جب پیش آئے گی جہاں دنیوی فائدے اور اخروی نقصان کے تقاضے انہیں دو مختلف سمتوں میں کھینچیں گے تو وہ بے تکلف دنیا کے فائدے کی طرف کھچ جائیں گے اور آخرت کے نقصان کی ذرہ برابر پروا نہ کریں گے ، خواہ زبان سے وہ ایمان کے کتنے ہی دعوے کرتے رہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:3) الذین یقیمون الصلوۃ ویؤتون الزکوۃ۔ مؤمنین کی صفت ہے۔ وھم بالاخرۃ ہم یوقنون ۔ یا اس جملہ کا عطف جملہ اول پر ہے ۔ اس صورت میں یہ مؤمنین کی تیسری صفت (اقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوۃ کے علاوہ) ہوگی۔ یا یہ ضمیر موصول سے حال ہے۔ یوقنون۔ مضارع جمع مذکر غائب ہے ایقان (افعال) مصدر۔ وہ یقین کرتے ہیں۔ یقین مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : یقین اور ایمان سے محروم لوگوں کی دنیا میں سزا اور آخرت میں انتہا درجہ کا نقصان۔ جو لوگ ایمان وایقان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کے حوالہ کردیتا ہے۔ وہ اپنے گناہوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔ انسان جب گمراہی کے آخری درجہ میں پہنچجاتا ہے تو پھر وہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے تہذیب و تمدن، معاشرتی روایات، فیشن اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کا دل پریشانیوں کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ دل کے سکون کے لیے کبھی نشہ کرتا ہے اور کبھی مزید عیاشی کا سامان ڈھونڈتا ہے۔ لیکن دل میں اطمینان اور سکون پیدا ہونے کی بجائے مزید پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ان لوگوں کے لیے دنیا میں بےچینی اور بےسکونی کی سزا ہے اور آخرت میں انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ ان کے لیے ایسا نقصان ہوگا جس کا وہ دنیا میں تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کتاب مبین میں شک کرنے والے، نماز کے تارک، زکوٰۃ کے منکر اور آخرت پر یقین نہ رکھنے والے لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ ان کے لیے خوبصورت بنا دیتا ہے۔ یہی بات قرآن مجید میں کئی مرتبہ یوں بیان کی گئی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمانوں کے اعمال شیطان خوبصورت بنا دیتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی پر چل کر جن رسومات، تہذیب و تمدّن اور اعمال کو یہ لوگ اپنے لیے مفید اور باعث عزت سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کے اعمال کے حوالہ کردیتا ہے۔ یہ دنیا میں پریشان رہیں گے اور آخرت میں بدترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُنِ طْمَاَنَّ بِہٖ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْھِہٖ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃَ ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ) [ الحج : ١١] ” اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہوجاتا ہے اگر مصیبت آگئی تو الٹا پھرجاتا ہے اس کی دنیا بھی خراب ہوگئی اور آخرت بھی۔ یہ ہے کھلا نقصان۔ “ (اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا وَ رَضُوْا بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِھَا وَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ) [ یونس : ٧] ” بیشک جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر خوش ہوئے اور اس پر مطمئن ہوگئے وہ ہماری آیات سے غافل ہیں۔ “ مسائل ١۔ اللہ اور اس کے رسول کے نافرمان اور قیامت کے منکروں کے اعمال خوبصورت بناد یے جاتے ہیں۔ ٢۔ جو لوگ برے اعمال کو اچھا سمجھتے ہیں ان کے لیے دنیا میں پریشانی اور آخرت میں بدترین عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن دنیا اور آخرت میں نقصان پانے والے لوگ : ١۔ اے پیغمبر کیا میں تمہیں ایسے لوگوں کے متعلق نہ بتاؤں جو اپنے اعمال میں نقصان پا نے والے ہیں۔ ( الکہف : ١٠٣) ٢۔ اسلام کا انکار کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (البقرۃ : ١٢١) ٣۔ اسلام کے بغیر دین تلاش کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (آل عمران : ٨٥) ٤۔ شیطان کی تابعداری کرنے والے نقصان پائیں گے۔ (المجادلۃ : ١٩) ٥۔ مشرک نقصان پائیں گے۔ (الزمر : ٦٥) ٦۔ کافر نقصان پائیں گے۔ (النحل : ١٠٩) ٧۔ زمین میں فساد کرنے والے لوگ خسارہ اٹھائیں گے۔ (البقرۃ : ٢٧) ٨۔ اللہ کفار کے اعمال دنیا میں تباہ کرے گا اور وہ آخرت میں خسارہ پائیں گے۔ (التوبۃ : ٦٩) ٩۔ جس نے اللہ کے سوا شیطان کو دوست بنایا اس نے بہت نقصان پایا۔ (النساء : ١١٩) ١٠۔ ان لوگوں نے نقصان پایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات کی تکذیب کی۔ (الانعام : ٣١) ١١۔ اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان پانے والے ہوں گے۔ (حضرت آدم (علیہ السلام) کی دعا) (الاعراف : ٢٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وہ نماز قائم کرتے ہیں اور نماز کی ادائیگی اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس کا حق شبے یوں کہ جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں تو ان کے دل جاگ رہے ہوں اور اس وقت ان کو یہ شعور ہو کہ وہ ذوالجلال والا کرام کے دربار میں کھڑے ہیں ۔ اس وقت ان کی توجہ اس بلند افق پر ہو ، ان کے دل مناجات الٰہی میں مشغول ہوں ، اسے پکار رہے ہوں اور اسکے عظیم دربار میں حاضر ہوں۔ وہ زکوۃ دیتے ہیں ، اس طرح ان کے نفوس کنجوسی کی رذالت سے نجات پا جائیں۔ یوں ان کی روح مال کے فتنوں سے سربلند ہوجائے اور وہ بعض ان نادار بھائیوں کے ساتھ مربوط ہوجائیں اور ان تک رزق پہنچا دیں اور اس طرح اپنی اجتماعی ذمہ داریاں ادا کردیں۔ وہ آخرت پر پختہ یقین رکھتے ہوں۔ ہر وقت ان کو احساس ہو کہ آخرت میں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ ان کا دل امور آخرت میں مشغول ہو ، ان کا دل خدا کے خوف سے بھرا ہو اور انسانی خواہشات ان کے دل پر اثر نہ کرتی ہوں۔ اللہ کی خشیت اور قیامت کے حساب و کتاب کا غم ان کو کھائے جا رہا ہو۔ یہ مومن ، اللہ کو یاد کرنے والے ، اس کے فرائض ادا کرنے والے ، اس سے ڈرنے والے اصحاب خشیت اللہ کے جر اور ثواب کے امیدوار یہ ہیں وہ لوگ جن کے دل قرآن کے لئے کھل جاتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لئے قرآن ہدایت و بشارت بن جاتا ہے۔ وہ ان کی روح کا نور بن جاتا ہے ، یہ ان کے خون کو گرم کردیتا ہے اور ان کی زندگی کو متحرک بنا دیتا ہے اور یہ قرآن پھر ان کا زاد راہ بن جاتا ہے جس کے ذریعے وہمنزل مقصود کو پہنچتے ہیں اور اپنے رب سے مربوط ہوجاتے ہیں۔ ذکر آخرت کے حوالے سے مزید تاکید کرتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ جو آخرت پر پختہ یقین نہیں رکھتے وہ اپنی گمراہی میں آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اچانک وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر آیات قرآنیہ کو اہل ایمان کے لیے ہدایت اور بشارت بتایا۔ اور اہل ایمان کی صفات بتائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے اور یہ دونوں اسلام کے ارکان میں سے ہیں۔ ان کی ادائیگی پابندی سے کی جائے تو ایمان کے دوسرے تقاضوں پر بھی عمل ہوتا رہتا ہے۔ اور آخرت کا یقین ہر نیکی پر آمادہ کرنے اور ہر گناہ چھڑانے پر ابھارتا رہتا ہے اسی کو آیت کے ختم پر (وَ ھُمْ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ) میں بیان فرمایا۔ مومنین کی صفات بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ آیات قرآنیہ اہل ایمان کے لیے بشارت اور ہدایت ہیں قرآن تو سبھی کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے اور حق قبول کرنے پر انعامات کی بشارت دیتا ہے لیکن چونکہ قرآن کی دعوت پر اہل ایمان ہی دھیان دیتے ہیں اس لیے خاص طور سے ان کے لیے ہدایت اور بشارت ہونا بیان فرمایا۔ اس کے بعد کافروں کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کردیا ہے جو انہیں مرغوب ہیں اور انہیں اچھے لگتے ہیں، جو کام برے ہیں یہ لوگ انہیں اچھا سمجھ رہے ہیں اور اس کی وجہ سے جہل مرکب میں مبتلا ہیں اور گمراہی کی وادیوں میں بھٹکتے پھر تے ہیں، ان لوگوں کی وعید بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کے لیے بڑا عذاب ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت خسارہ میں ہوں گے۔ انہیں وہاں نعمت اور رحمت نصیب نہ ہوگی۔ ہمیشہ کے لیے عذاب ہی میں رہیں گے اور عذاب بھی بڑھتا چڑھتا رہے گا اس سے بڑھ کر کیا خسارہ ہوسکتا ہے دنیا میں جو انہیں اجسام دیئے گئے اعضاء اور جوارح عطا کیے گئے اموال سے نوازے گئے ایمان قبول کرکے ان سب کے ذریعہ جنت حاصل کرسکتے تھے لیکن وہ تو کفر اختیار کر کے اور اعمال بد میں مبتلا ہو کر جنت سے ہاتھ دھو بیٹھے اور دوزخ کے مستحق ہوگئے، یہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(3) وہ ایمان والے ایسے ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں اور زکوۃ دیا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یعنی پچھلے دن پر جس کو قیامت کہتے ہیں ان کا یقین اور ایمان ہے۔