Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 7

سورة النمل

اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِاَہۡلِہٖۤ اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا ؕ سَاٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ اَوۡ اٰتِیۡکُمۡ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴿۷﴾

[Mention] when Moses said to his family, "Indeed, I have perceived a fire. I will bring you from there information or will bring you a burning torch that you may warm yourselves."

۔ ( یاد ہوگا ) جبکہ موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں سے یا تو کوئی خبر لے کر یا آگ کا کوئی سلگتا ہوا انگارا لے کر ابھی تمہارے پاس آجاؤں گا تاکہ تم سینک تاپ کر لو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of Musa and the End of Fir`awn Here Allah tells His Messenger Muhammad about what happened to Musa, peace be upon him, how Allah chose him, spoke with him and gave him mighty, dazzling signs and overwhelming proof, and sent him to Fir`awn and his people, but they denied the proof, disbelieved in him and arrogantly refused to follow him. Allah says: إِذْ قَالَ مُوسَى لاَِهْلِهِ ... when Musa said to his household, meaning, remember when Musa was traveling with his family and lost his way. This was at night, in the dark. Musa had seen a fire beside the mountain, i.e., he had noticed a fire burning brightly, and said, ... لاِأَهْلِهِ إِنِّي انَسْتُ نَارًا سَأتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ ... to his household: "Verily, I have seen a fire; I will bring you from there some information..." meaning, `about the way we should take.' ... أَوْ اتِيكُم بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ or I will bring you a burning ember, that you may warm yourselves. meaning, so that they could keep warm. And it was as he said: "He came back with great news, and a great light." Allah says:

آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی ۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی ۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو ۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم ہوجائے یا میں وہاں کچھ آگ لے آؤں کہ تم اسے ذرا سینک تاپ کرلو ۔ ایسا ہی ہوا کہ آپ وہاں سے ایک بڑی خبر لائے اور بہت بڑا نور حاصل کیا فرماتا ہے کہ جب وہاں پہنچے اس منظر کو دیکھ کر حیر ان رہ گئے دیکھتے ہیں کہ سرسبز درخت ہے اس پر آگ لپٹی رہی شعلے تیز ہورہے ہیں اور درخت کی سرسبزی اور بڑھ رہی ہے ۔ اونچی نگاہ کی تو دیکھا کہ وہ نور آسمان تک پہنچا ہوا ہے ۔ فی الوقع وہ آگ نہ تھی بلکہ نور تھا اور نور بھی وحدہ لاشریک کا ۔ حضرت موسیٰ متعجب تھے اور کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی ۔ کہ یکایک ایک آواز آتی ہے کہ اس نور میں جو کچھ ہے وہ پاکی والا اور بزرگی والا ہے اور اس کے پاس جو فرشتے ہیں وہ بھی مقدس ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سوتا نہیں اور نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو پست کرتا ہے اور اونچی کرتا ہے رات کے کام اس کی طرف دن سے پہلے اور دن کے کام رات سے پہلے چڑھ جاتے ہیں ۔ اسکا حجاب نور یا آگ ہے اگر وہ بٹ جائیں تو اس کے چہرے کی تجلی ہر چیز کو جلادیں جس پر اسکی نگاہ پہنچ رہی ہے یعنی کل کائنات کو ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ راوی حدیث نے یہ حدیث بیان فرما کر یہی آیت تلاوت کی ۔ یہ الفاظ ابن ابی حاتم کے ہیں اور اس کی اصل صحیح مسلم میں ہے ۔ پاک ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کے مشابہ نہیں ۔ اس کی مصنوعات میں سے کوئی چیز کسی کے احاطے میں نہیں ۔ وہ بلند وبالا ہے ساری مخلوق سے الگ ہے زمین وآسمان اسے گھیر نہیں سکتے وہ احد وصمد سے وہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے پھر خبر دی کہ خود اللہ تعالیٰ ان سے خطاب فرما رہا ہے وہی اسی وقت سرگوشیاں کررہا ہے جو سب پر غالب ہے سب اس کے ماتحت اور زیر حکم ہیں ۔ وہ اپنے اقوال وافعال میں حکمت والا ہے اس کے بعد جناب باری عزوجل نے حکم دیا کہ اے موسیٰ اپنی لکڑی کو زمین پر ڈال دو تاکہ تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکو کہ اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ارشاد سنتے ہی لکڑی کو زمین پر گرایا ۔ اسی وقت وہ ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا سانپ بن گئی اور بہت بڑے جسم کا سانپ بڑی ڈراؤنی صورت اس موٹاپے پر تیز تیز چلنے والا ۔ ایسا جیتا جاگتا چلتا پھرتا زبردست اژدہا دیکھ کر حضرت موسیٰ خوف زدہ ہوگئے جان کا لفظ قرآن کریم میں ہے یہ ایک قسم کے سانپ ہیں جو بہت تیزی سے حرکت کرنے والے اور کنڈی لگانے والے ہوتے ہیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے ایسے سانپوں کے قتل سے ممانعت فرمائی ہے ۔ الغرض جناب موسیٰ اسے دیکھ کر ڈرے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے اور منہ موڑ کر پیٹھ پھر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ایسے دہشت زدہ تھے کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا ۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ موسیٰ ڈرو نہیں ۔ میں تو تمہیں اپنا برگزیدہ رسول اور ذی عزت پیغمبر بنانا چاہتا ہوں ۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے اس آیت میں انسان کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ جس نے بھی کوئی برائی کا کام کیا ہو پھر وہ اس پر نادم ہو جائے اس کام کو چھوڑ دے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے تو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ قبول فرمالیتا ہے ۔ جیسے اور آیت میں ہے ( وَاِنِّىْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى 82؁ ) 20-طه:82 ) جو بھی توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور راہ راست پر چلے میں اس کے گناہوں کو بخشنے والا ہوں اور فرمان ہے آیت ( وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ يَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ١١٠؁ ) 4- النسآء:110 ) جو شخص کسی برائی کا مرتکب ہوجائے یا کوئی گناہ کر بیٹھے پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کو غفور ورحیم پائے گا ۔ اس مضمون کی آیتیں کلام الھی میں اور بھی بہت ساری ہیں ۔ لکڑی کے سانپ بن جانے کے معجزے کے ساتھ ہی کلیم اللہ کو اور معجزہ دیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی اپنے گریبان میں ہاتھ ڈال کر نکالیں گے تو وہ چاند کی طرح چمکتا ہو کر نکلے گا یہ دو معجزے ان نو معجزوں میں سے ہے کہ جن سے میں تیری وقتا فوقتا تائید کرتا رہونگا ۔ تاکہ فاسق فرعون اور اس کی فاسق قوم کے دلوں میں تیری نبوت کا ثبوت جگہ پکڑجائے یہ نو معجزے وہ تھے جن کا ذکر آیت ( وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا ١٠١؁ ) 17- الإسراء:101 ) میں ہے جس کی پوری تفسیر بھی اس آیت کے تحت میں گزر چکی ہے جب یہ واضح ظاہر صاف اور کھلے معجزے فرعونیوں کو دکھائے گئے تو وہ اپنی ضد میں آکر کہنے لگے یہ تو جادو ہے لو ہم اپنے جادوگروں کو بلالیتے ہیں مقابلہ کرلو اس مقابلہ میں اللہ نے حق کو غالب کیا اور سب لوگ زیر ہوگئے مگر پھر بھی نہ مانے ۔ گو دلوں میں اس کی حقانیت جم چکی تھی ۔ لیکن ظاہر مقابلہ سے ہٹے ۔ صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر حق کو جھٹلاتے رہے اب تو دیکھ لے کہ ان مفسدوں کا انجام کس طرح حیرتناک اور کیسا کچھ عبرت ناک ہوا ؟ ایک ہی مرتبہ ایک ہی ساتھ سارے کے سارے دریا برد کردئے گئے ۔ پس اے آخری نبی الزمان کے جھٹلانے والو تم اس نبی کو جھٹلاکر مطمئن نہ بیٹھو ۔ کیونکہ یہ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی اشرف وافضل ہیں ان کی دلیلیں اور معجزے بھی ان کی دلیلوں اور معجزوں سے بڑے ہیں خود آپ کا وجود آپ کے عادات واخلاق اور اگلی کتابوں کی اور اگلے نبیوں کی آپ کی نسبت بشارتیں اور ان سے اللہ کا عہد پیمان یہ سب چیزیں آپ میں ہیں پس تمہیں نہ مان کر نڈر اور بےخوف نہ رہنا چاہئے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

71یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آرہے تھے، رات کو اندھیرے میں راستے کا علم نہیں تھا اور سردی سے بچاؤ کے لئے آگ کی ضرورت تھی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧] یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے اس دور کا واقعہ ہے جب آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر واپس مصر اپنے وطن جارہے تھے۔ بیوی ساتھ تھی اور وہ حاملہ تھی ایک بچہ اور ایک خادم بھی ساتھ تھے۔ جب طور سینا کے قریب پہنچے تو راستہ بھول گئے۔ سردیوں کا موسم۔ رات کا گہرا اندھیرا اور کڑاکے سردی پڑ رہی تھی۔ اس حال میں راستہ بھی بھول گئے تو سخت پریشان ہوئے۔ دور کہیں آگ نظر آئی تو خیال کیا کہ وہاں ضرور کچھ لوگ ہوں گے۔ ان کے ہاں جاتا ہوں ان سے راستہ پوچھوں گا۔ اپنے بیوں بچوں سے کہنے لگے : تم یہیں ٹھہرو۔ میں وہاں جاکر راستہ پوچھ آتا ہوں اور اگر کسی نے راستہ نہ بھی بتلایا تو کم از کم کچھ آگ کے انگارے ہی لیتا آؤ گا۔ تاکہ تم لوگ آگ سینک کر کچھ گرمی حاصل کرسکو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِذْ قَالَ مُوْسٰي لِاَهْلِهٖٓ اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا : ” تَصْطَلُوْنَ “ ” صَلِيَ یَصْلٰی “ (ع) سے باب افتعال ہے۔ اصل میں ” تَصْتَلِیُوْنَ “ تھا، تاء کو طاء سے بدل دیا اور یاء حذف ہوگئی۔ ” شِھَابٌ“ شعلہ یا انگارا۔ ” قَبَسٍ “ (کسی آگ سے) سلگایا ہوا۔ ان آیات کی تفسیر سورة اعراف میں اور سورة طٰہٰ کی ابتدا میں گزر چکی ہے، یہاں صرف اس مقام سے متعلق چند باتیں ذکر ہوں گی۔ ” اِذْ “ سے پہلے ” اُذْکُرْ “ محذوف ہے، یعنی اس وقت کو یاد کر جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا۔ اس کی طرح تجھے بھی کسی پیشگی علم یا توقع کے بغیر وحی عطا کی گئی ہے۔ (دیکھیے قصص : ٨٦) اور اس کے بعد ذکر کردہ انبیاء اور ان کی اقوام کے قصوں میں تیرے اور تیری قوم کے لیے بہت سا علم و حکمت کا سامان موجود ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Adoption of natural means for one&s need is not against trust in Allah إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِ إِنِّي آنَسْتُ نَارً‌ا سَآتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ‌ أَوْ آتِيكُم بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ﴿٧﴾ (Remember) when Musa said to his family, |"I have noticed a fire. I shall bring to you some news or bring to you an inflamed ember, so that you may warm yourselves|" (27:7). Here Sayyidna Musa (علیہ السلام) faced two necessities. One, to find out the way which he had forgotten, and second, to warm up with the fire, because it was a cold night. For achieving this purpose he tried to go to mount Tur. But he did not make a claim of success in his endeavour, rather he uttered such words that conveyed his servitude and hope from Allah Ta’ ala. Thus, it is apparent that in order to meet one&s requirements and needs in life it is not against the trust in Allah to strive and make endeavour. But the conviction should be in Allah Ta’ ala and not in one&s own efforts. Perhaps, the wisdom in showing him the fire was that it had fulfilled his two needs - finding the way and to get warm with its heat. (Ruh) Sayyidna Musa (علیہ السلام) has said اُمکُثُوا and تَصْطَلُونَ which are both in plural form, and are used where the addressees are more than one, although there was only his wife (Sayyidna Shuaib&s (علیہ السلام) daughter) with him. Use of plural form for her only was to show respect to her. It was in the same manner as some times the noble people use plural form in addressing even a single person. It is reported from the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) also in ahadith that he used to address his wives in plural form. It is prudent not to refer one&s wife by her name in general gatherings, rather an allusion for the purpose is better قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِ (Musa said to his family) The word |"Ahl|" is used in this verse for the wife of Sayyidna Musa (علیہ السلام) while this word means |"family|" and includes all the members of one&s household alongwith his wife, although the wife of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was the only one present at the time of this incident, but by the use of this word in his discourse there is a hint that while referring to one&s wife in a group of people it is better to use common words. For example, ` my family members are of the opinion&.

خلاصہ تفسیر (اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے) جبکہ (مدین سے آتے ہوئے کوہ طور کے قریب رات کو سردی کے وقت پہنچے اور مصر کی راہ بھی بھول گئے تھے تو) موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے (طور کی طرف) آگ دیکھی ہے میں ابھی (جا کر) وہاں سے (یا تو راستہ کی) کوئی خبر لاتا ہیں یا تمہارے پاس (وہاں سے) آگ کا شعلہ کسی لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں تاکہ تم سینک لو سو جب اس (آگ) کے پاس پہنچے تو ان کو (منجانب اللہ) آواز دی گئی کہ وہ جو اس آگ کے اندر ہیں (یعنی فرشتے) ان پر بھی برکت ہو اور جو اس (آگ) کے پاس ہے (یعنی موسی) اس پر بھی (برکت ہو، یہ دعا بطور تحیتہ وسلام کے ہے جیسے ملاقاتی آپس میں سلام کرتے ہیں۔ چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) جانتے نہ تھے کہ یہ نور انوار الہیہ سے ہے اس لئے خود سلام نہیں کرسکے تو منجانب اللہ ان کے انس کے لئے سلام ارشاد ہوا اور فرشتوں کو ملا لینا شاید اس لئے ہو کہ جس طرح فرشتوں کو سلام حق تعالیٰ کے قرب خاص کی علامت ہوتی ہے یہ سلام بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو قرب خاص کی بشارت ہوگیا) اور (اس امر کے بتلانے کے لئے کہ یہ نور جو بشکل نار ہے خود حق تعالیٰ کی ذات نہیں ارشاد فرما دیا کہ) اللہ رب العالمین (رنگ جہات، مقدار اور حد بندی وغیرہ سے) پاک ہے (اور اس نور میں یہ چیزیں پائی جاتی ہیں، پس یہ نور ذات خداوندی نہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) اگر اس مسئلہ سے خالی الذہن ہوں تو اس کی تعلیم ہے اور اگر دلائل عقلیہ اور فطرت صحیحہ کی بناء پر ان کو پہلے سے معلوم ہو تو زیادہ سمجھانا ہے اس کے بعد ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ بات یہ ہے کہ میں (جو کہ بےکیف کلام کر رہا ہوں) اللہ ہوں زبردست حکمت والا اور (اے موسی) تم اپنا عصا (زمین پر) ڈال دو (چنانچہ انہوں نے ڈال دیا تو وہ اژدھا بن کر لہرانے لگا) سو جب انہوں نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے سانپ ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی تو نہ دیکھا (ارشاد ہوا کہ) اے موسیٰ ڈرو نہیں (کیونکہ ہم نے تم کو پیغمبری دی ہے) اور ہمارے حضور میں (یعنی پیغمبری کا اعزاز عطا ہونے کے وقت) پیغمبر (ایسی چیزوں سے جو کہ خود اس کی پیغمبری کی دلیل یعنی معجزات ہوں) نہیں ڈرا کرتے (یعنی تم کو بھی ڈرنا نہ چاہئے) ہاں مگر جس سے کوئی قصور (لغزش سرزد) ہوجاوے (اور وہ اس لغزش کو یاد کر کے ڈرے تو مضائقہ نہیں لیکن اس کی نسبت بھی یہ قاعدہ ہے کہ اگر قصور ہوجاوے اور) پھر برائی (ہو جانے) کے بعد برائی کی جگہ نیک کام کرے (توبہ کرے) تو میں (اس کو بھی معاف کردیتا ہوں کیونکہ میں) مغفرت والا رحمت والا ہوں ( یہ اس لئے فرما دیا کہ عصاء کے معجزہ سے مطمئن ہوجانے کے بعد کبھی اپنا قصہ قبطی کو قتل کرنے کا یاد کر کے پریشان ہوں اس لئے اس سے بھی مطمئن فرما دیا تاکہ وحشت جاتی رہے) اور (اے موسیٰ اس معجزہ عصا کے سوا ایک معجزہ اور بھی عطا ہوتا ہے وہ یہ کہ) تم اپنا ہاتھ گریبان کے اندر لے جاؤ (اور پھر نکالو تو) وہ بلا کسی عیب (یعنی بغیر کسی مرض برص وغیرہ) کے (نہایت) روشن ہو کر نکلے گا ( اور یہ دونوں معجزے ان) نو معجزوں میں (سے ہیں جن کے ساتھ تم کو) فرعون اور اس کی قوم کی طرف (بھیجا جاتا ہے کیونکہ) وہ بڑے حد سے نکل جانے والے لوگ ہیں غرض جب ان لوگوں کے پاس ہمارے (دیئے ہوئے) معجزے پہنچے (جو) نہایت واضح تھے (یعنی ابتدائے دعوت میں دو معجزے دکھلائے گئے پھر وقتاً فوقتاً باقی دکھلائے جاتے رہے) تو وہ لوگ (ان سب کو دیکھ کر بھی) بولے یہ صریح جادو ہے اور (غضب تو یہ تھا کہ ظلم اور تکبر کی راہ سے ان (معجزات) کے (بالکل) منکر ہوگئے حالانکہ (اندر سے) ان کے دلوں نے ان کا یقین کرلیا تھا سو دیکھئے کیسا (برا) انجام ہوا ان مفسدوں کا (دنیا میں غرق ہوئے اور آخرت میں جلنے کی سزا پائی۔ ) معارف و مسائل اِذْ قَالَ مُوْسٰي لِاَهْلِهٖٓ اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا ۭ سَاٰتِيْكُمْ مِّنْهَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِيْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ ۔ انسان کو اپنی ضروریات کے لئے اسباب طبعیہ کو اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس جگہ دو ضرورتیں پیش آئیں ایک راستہ پوچھنا جو آپ بھول گئے تھے دوسرا آگ سے گرمی حاصل کرنا کہ سردی کی رات تھی اس کے لئے آپ نے کوہ طور کی طرف جانے کی سعی و کوشش کی لیکن اس کے ساتھ ہی اس مقصد میں کامیابی پر یقین اور دعویٰ کرنے کے بجائے ایسے الفاظ اختیار فرمائے جس میں اپنی بندگی اور حق تعالیٰ سے امید ظاہر ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ ضروریات کے حصول کے لئے جدوجہد توکل کے منافی نہیں۔ لیکن بھروسہ اپنی کوشش کے بجائے اللہ پر ہونا چاہئے اور آگ آپ کو دکھلائے جانے میں بھی شاید یہی حکمت ہو کہ اس سے آپ کے دونوں مقصود پورے ہو سکتے تھے، راستہ کا مل جانا اور آگ سے گرمی حاصل کرنا۔ (کما فی الروح) اس جگہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے امْكُـثُوْٓا اور تَصْطَلُوْنَ جمع کے صیغے بولے حالانکہ آپ کے ساتھ صرف آپ کی بیوی یعنی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی تھیں ان کے لئے لفظ جمع استعمال فرمانا بطور اکرام کے ہوا جیسے معزز لوگوں میں کسی ایک فرد سے بھی خطاب ہوتا ہے تو صیغہ جمع کا استعمال کیا جاتا ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اپنی ازواج مطہرات کے لئے صیغہ جمع استعمال فرمانا روایات حدیث میں وارد ہوا ہے۔ تخصیص کے ساتھ بیوی کا ذکر عام مجالس میں نہ کرنا بلکہ کنایہ سے کام لینا بہتر ہے : آیت مذکورہ میں قال مُوْسٰي لِاَهْلِهٖٓ فرمایا گیا ہے لفظ اھل عام ہے جس میں بیوی اور گھر کے دوسرے افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس مقام میں اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تنہا اہلیہ محترمہ ہی تھیں، کوئی دوسرا نہ تھا مگر تعبیر میں یہ عام لفظ استعمال کرنے سے اس طرف اشارہ پایا گیا کہ مجالس میں اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا ذکر کرے تو عام لفظوں سے کرنا بہتر ہے جیسے ہمارے عرف میں کہا جاتا ہے میرے گھر والوں نے یہ کہا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِذْ قَالَ مُوْسٰي لِاَہْلِہٖٓ اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا۝ ٠ۭ سَاٰتِيْكُمْ مِّنْہَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِيْكُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ۝ ٧ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب «1» ، وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس «2» ، وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه «3» ، وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے خبر الخُبْرُ : العلم بالأشياء المعلومة من جهة الخَبَر، وخَبَرْتُهُ خُبْراً وخِبْرَة، وأَخْبَرْتُ : أعلمت بما حصل لي من الخبر، وقیل الخِبْرَة المعرفة ببواطن الأمر، والخَبَار والخَبْرَاء : الأرض اللّيِّنة «2» ، وقد يقال ذلک لما فيها من الشّجر، والمخابرة : مزارعة الخبار بشیء معلوم، والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر «3» : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، وقیل أي : عالم ببواطن أمورکم، وقیل : خبیر بمعنی مخبر، کقوله : فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ المائدة/ 105] ، وقال تعالی: وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] ، قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبارِكُمْ [ التوبة/ 94] ، أي : من أحوالکم التي نخبر عنها . ( خ ب ر ) الخبر ۔ جو باتیں بذریعہ خبر کے معلوم ہوسکیں ان کے جاننے کا نام ، ، خبر ، ، ہے کہا جاتا ہے ۔ خبرتہ خبرۃ واخبرت ۔ جو خبر مجھے حاصل ہوئی تھی اس کی میں نے اطلاع دی ۔ بعض نے کہا ہے کہ خبرۃ کا لفظ کسی معاملہ کی باطنی حقیقت کو جاننے پر بولا جاتا ہے ۔ الخبارو الخبرآء نرم زمین ۔ اور کبھی درختوں والی زمین پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ المخابرۃ ۔ بٹائی پر کاشت کرنا ۔ اسی سے کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے :۔ اور بعض نے کہا ہے کہ وہ تمہارے باطن امور سے واقف ہے ۔ اور بعض نے خبیر بمعنی مخیر کہا ہے ۔ جیسا کہ آیت ۔ فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ المائدة/ 105] پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائیگا سے مفہوم ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] اور تمہارے حالات جانچ لیں ۔ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبارِكُمْ [ التوبة/ 94] خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتادئے ہیں ۔ یعنی تمہارے احوال سے ہمیں آگاہ کردیا گیا ہے ۔ شهب الشِّهَابُ : الشّعلة السّاطعة من النار الموقدة، ومن العارض في الجوّ ، نحو : فَأَتْبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ [ الصافات/ 10] ، شِهابٌ مُبِينٌ [ الحجر/ 18] ، شِهاباً رَصَداً [ الجن/ 9] . والشُّهْبَةُ : البیاض المختلط بالسّواد تشبيها بالشّهاب المختلط بالدّخان، ومنه قيل : كتيبة شَهْبَاءُ : اعتبارا بسواد القوم وبیاض الحدید . ( ش ھ ب ) الشھاب کے معنی بکند شعلہ کے ہیں خوارہ وہ جلتی ہوئی آگ کا ہو یا فضا میں کسی عارضہ کی وجہ سے پیدا ہوجائے ۔ قرآن میں ہے : فَأَتْبَعَهُ شِهابٌ ثاقِبٌ [ الصافات/ 10] تو جلتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لگتا ہے ۔ شِهابٌ مُبِينٌ [ الحجر/ 18] روشنی کرنیوالا انگارہ ۔ شِهاباً رَصَداً [ الجن/ 9] انگارہ تیار ۔ الشھبتہ سفیدی جس میں کچھ سیاہی ملی ہوئی ہو ۔ جیسا کہ انگارہ کی روشنی کے ساتھ دھواں ملا ہوتا ہے اسی سے کتیبتہ شھباء کاز محاورہ ہے جس کے معنی مسلح لشکر کے ہیں کیونکہ اس میں ہتھیاروں کی چمک سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیاہی اور سفیدی ملی ہوئی ہیں ۔ قبس القَبَسُ : المتناول من الشّعلة، قال : أَوْ آتِيكُمْ بِشِهابٍ قَبَسٍ [ النمل/ 7] ، والْقَبَسُ والِاقْتِبَاسُ : طلب ذلك، ثم يستعار لطلب العلم والهداية . قال : انْظُرُونا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ [ الحدید/ 13] . وأَقْبَسْتُهُ نارا أو علما : أعطیته، والْقَبِيسُ : فحل سریع الإلقاح تشبيها بالنار في السّرعة . ( ق ب س ) القبس آگ ( کا شعلہ یا اس کی چنگاری جو شعلہ سے لی جائے قرآن میں ہے ۔ أَوْ آتِيكُمْ بِشِهابٍ قَبَسٍ [ النمل/ 7] یا سلگتا ہوا انگارہ تمہارے پاس لاتا ہوں ۔ اور القبس ( مصدر ) والا تتباس کے معنی بڑی آگ سے کچھ آگ لینے کے ہیں ۔ مجازا علم ہدایت کی طلب پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ انْظُرُونا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ [ الحدید/ 13] ہماری طرف نظر شفقت کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے روشنی حاصل کرلیں ۔ اقبستہ نارا اوعلما میں نے اسے آگ دی یا علم سکھایا ۔ القبیس وہ سانڈھ جو تیزی کے ساتھ مادہ کو ماملہ کردے گویا سرعت میں وہ شعلہ کی طرح ہے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧) اس وقت کا واقعہ بیان کیجیے جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے واپسی پر راستہ بھول گئے تھے تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے راستہ کے بائیں جانب آگ دیکھی تم یہیں ٹھہرے رہو میں ابھی جا کر آگ کے پاس سے یا تو راستہ کی کوئی خبر لاتا ہوں یا تمہارے پاس آگ کا شعلہ کسی لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں تاکہ تم سینک لو کیونکہ اس وقت سردی کی شدت تھی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ) ” عبارت کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت تھا ‘ سردی کا موسم تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ واقفیت نہ تھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

8 This happened at the foot of Mount Tur when the Prophet Moses (peace be upon him) was travelling along with his family in search of a suitable place for settlement, after passing eight to ten years in Madyan (Midian). From Madyan, whose territory lay on both sides of the Gulf of `Aqabah, on the sea-shores of Arabia and the Sinai Peninsula, he reached the place called Mt. Sinai and Jabal Musa in the southern part of the Peninsula, which at the time of the revelation of the Qur'an was well known as Tur. (See also The Meaning of Qur'an, Vol. VIII Ash-Shu'araa', E.N. 115). The details of this story have already been given in Surah Ta Ha: 9-24 above and will, follow in Surah Al-Qasas: 29-36 below. 9 The context shows that it was a cold wintry night and the Prophet Moses was passing through unfamiliar land. Therefore, he said to his family, "Let me go and fmd out what habitation it is where a fire is alight, and get some information about the travelling routes and the nearby habitations. I shall at least bring a few embers for you to light a fire and warm yourselves." The place where the Prophet Moses had seen a burning bush is situated at about 5,000 ft. above sea level at the foot of Mt. Tur. Constantine, the first Christian Emperor of the Roman Empire, had a church built in about 365 A.D. right at the spot where this event had occurred. Two hundred years later Emperor Justinian had a monastery built which included the church built by Constantine as well. Both the monastery and the church stand even today and are under the control of the monks of the Greek Orthodox Church. Some photographs of it are given on the opposite page.

سورة النمل حاشیہ نمبر :8 یہ اس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسی علیہ السلام مدین میں آٹھ دس سال گزارنے کے عبد اپنے اہل و عیال کو ساتھ لیکر کوئی ٹھکانا تلاش کرنے جارہے تھے ، مدین کا علاقہ خلیج عقبہ کے کنارے عرب اور جزیرہ نمائے سینا کے سواحل پر واقع تھا ( ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم الشعرء ، حاشیہ 115 ) وہاں سے چل کر حضرت موسی جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی حصے میں اس مقام پر پہنچے جو اب کوہ سینا اور جبل موسی کہلاتا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں طور کے نام سے مشہور تھا ، اسی کے دامن میں وہ واقعہ پیش آیا جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے ۔ یہاں جو قصہ بیان کیا جارہا ہے اس کی تفصیلات اس سے پہلے سورہ طہ ( رکوع 1 ) میں گزر چکی ہیں اور آگے سورہ قصص ( رکوع 4 ) میں آرہی ہیں ۔ سورة النمل حاشیہ نمبر :9 فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت اور جاڑے کا موسم تھا ، اور حضرت موسی ایک اجنبی علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی ، اس لیے انہوں نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ میں جاکر معلوم کرتا ہوں یہ کون سی بستی ہے جہاں آگ جل رہی ہے ، آگے کدھر راستے جاتے ہیں اور کون کون سی بستیاں قریب ہیں ۔ تاہم اگر وہ بھی ہماری ہی طرح کوئی چلتے پھرتے مسافر ہوئے جن سے کوئی معلومات حاصل نہ ہوسکیں تو کم از کم میں کچھ انگارے ہی لے آؤں گا کہ تم لوگ آگ جلا کر چکھ گرمی حاصل کرسکو ۔ یہ مقام جہاں حضرت موسی نے جھاڑی میں آگ لگی ہوئی دیکھی تھی کوہ طور کے دامن میں سطح سمندر سے تقریبا 5 ہزار فیٹ کی بلندی پر واقع ہے ، یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے 365 کے لگ بھگ زمانے میں ٹھیک اس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کرادیا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا ، اس کے دو سو برس بعد قیصر جسٹینین نے یہاں ایک دیر ( Monastery ) تعمیر کرایا جس کے اندر قسطنطین کے بنائے ہوئے کنیسہ کو بھی شامل کرلیا ، یہ دیر اور کنیسہ دونوں آج تک موجود ہیں اور یونانی کلیسا ( Greek Orthodox Church ) کے راہبوں کا ان پر قبضہ ہے ، میں نے جنوری 1960ء میں اس مقام کی زیارت کی ہے ، مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: یہاں یہ واقعہ محض ایک اشارے کے طور پر آیا ہے، مفصل واقعہ اگلی سورت یعنی سورۂ قصص میں آنے والا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:7) اذقال موسیٰ : ای اذکر لہم وقت قول موسی۔ ان کو یاد کراؤ وہ وقت جب (حضرت) موسیٰ نے کہا۔ انست۔ ماضی واحد متکلم ایناس (افعال) مصدر میں نے محسوس کیا۔ میں نے دیکھا۔ اس کا مادہ انس ہے۔ الانس (کسرہ ہمزہ کے ساتھ) جن کی ضد ہے۔ اور انس (بضمۃ الہمزہ) نفور کی ضد ہے۔ انس (باب افعال) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھنا کے ہیں مثلاً حتی تستانسوا (24:27) جب تک تم ان سے (اجازت لے کر) انس پیدا نہ کرلو۔ اور فان انستم منھم رشدا (4:6) اور اگر تم ان میں عقل کی پختگی دیکھو یا محسوس کرو۔ یہاں بھی اس آیۃ میں انہی معنوں میں آیا ہے۔ میں نے دیکھی ہے۔ ساتیکم : سین مستقبل قریب کے لئے ہے۔ اتی اتیان سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ آنے والا۔ لیکن جب اس کا تعدیہ باء کے ساتھ ہو تو بمعنی لانے والا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ساتیکم میں ابھی تمہارے پاس خبر لاتا ہوں۔ اور خبر سے مراد راستے کے متعلق معلومات ہیں۔ والمراد بالخبر الذی یاتیہم من جھۃ النار الخبر عن ھال الطریق آگ کی جانب سے جو وہ خبر لائے گا اس سے مراد راستہ کے احوال کے متعلق معلومات ہیں (جو حضرت موسیٰ کی منزل مراد کی طرف ممدو معاون ہوسکیں) (بحوالہ روح المعانی) ۔ یعنی اگر یہ آگ کسی بستی میں ہے یا وہاں آگ جلانے والے موجود ہیں تو شاید وہ راستہ کی رہنمائی میں معلومات بہم پہنچا سکیں۔ او یا۔ (اگر وہ بھی کوئی چلتے پھرتے مسافر جن سے کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکیں تو کم از کم کچھ انگارے ہی لے آؤں گا سینکنے کیلئے شھاب قبس۔ شہاب۔ انگارا۔ فضا میں ٹوٹنے والا تارا۔ چمکدار شعلہ جو بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوتا ہے اس کی جمع شھب ہے۔ جیسے کتب کی جمع کتب ہے۔ قبس آگ کا شعلہ ۔ آگ کی چنگاری جو شعلہ سے لی جائے۔ قبس واقتباس (افتعال) مصدر جس کے معنی بڑی آگ سے کچھ آگ لینے کے ہیں۔ مجازا علم و ہدایت کی طلب پر بھی بولا جاتا ہے جیسے انظرونا نقتبس من نورکم (57:13) ہماری طرف نظر کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرسکیں۔ یہاں مراد ہے ٹھہرئیے۔ یہاں اگر قبس بمعنی مقبوس یعنی بڑی آگ سے لکڑی وغیرہ جلا کرلی ہوئی آگ، تو شہاب کی صفت ہے یا یا یہ شہاب کا بدل ہے یعنی آگ کا شعلہ کسی لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں۔ تصطلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر اصطلاء (افتعال) مصدر۔ تم تاپو۔ تم سینکو۔ صلی مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مدین میں آٹھ یا دس سال گزارنے کے بعد اپنے بیوی بچوں سمیت مصر جانے کے لئے کوہ طور کے پاس سے گزر رہے تھے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 : (اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد اپنے گھروالوں کے ساتھ واپس مصر تشریف لارہے تھے ۔ جیسا کہ اس سے پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سردی کی رات اور اندھیرے کی وجہ سے مصر کا راستہ بھول گئے تھے۔ دور دور تک کوئی شخص بھی نہ تو راستہ بتانے والا تھا اور نہ سردی سے بچنے کا سامان تھا۔ یہ جگہ وادی سینا یا وادی طوی کے قریب واقع تھی۔ آپ نے جب ایک جلتی ہوئی آگ کو دیکھا تو اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ ذرا تم ٹہرو میں نے ایک جلتی آگ کو دیکھا ہے شاید وہاں کوئی راستہ بتانے والا مل جائے یا کم ازکم میں تھوڑی سے آگ یا انگارہ ہی لے آؤں گا تاکہ سردی سے بچائو کیا جاسکے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اس آگ سے کچھ قریب ہوئے تو ایسا محسوس ہو اجیسی کسی جھاڑی یا درخت میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہ ایک ہرا بھرا درخت ہے۔ جب موسیٰ اس آگ کی طرف بڑھے تو وہ آگ آپ سے دور ہونے لگی اور جب آپ پیچھے ہٹتے تو ایسا لگتا جیسے آگ ان کا پیچھا کررہی ہے۔ آپ اسی حیرت و تعجب میں تھے کہ اس جھاڑیا درخت میں سے ایک آواز بلند ہوئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) جو کچھ آگ کے اندر ہے یا اس کے ارد گرد ہے وہ مبارک و برکت والا ہے۔ اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور وہی رب العالمین ہے۔ فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) یہ میں ہی اللہ ہوں جس کی حکمت ہر چیز پر غالب ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھنا شروع کیا کہ یہ آواز کدھر سے آرہی ہے کیونکہ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ آواز ہر سمت اور جانب سے آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ! تم اپنا عصا (لاٹھی) کو پھینکو۔ جیسے ہی انہوں نے اپنے عصا کو پھینکا تو وہ ایک اژدھا بن گیا جو پتلے سانپ کی طرح نہایت پھر تیلا اور دوڑ نے والا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اژدھا کو دیکھا تو بشری تقاضے کے تحت ان پر ایک خوف طاری ہوگیا اور انہوں نے خوف کے مارے اس طرح بھاگنا شروع کیا کہ پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا اللہ کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! تم ڈرو مت کیونکہ میرے سامنے رسول ڈرا نہیں کرتے۔ ڈر تو اس شخص کو ہوتا ہے جو کسی قسم کی کوتاہی یا گناہ کرتا ہے۔ پھر بھی اگر وہ پلٹ آئے اور توبہ کرلے تو اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ معاف کردیتا ہے چونکہ آپ نے تو کوئی خطا کی نہیں ہے لہٰذا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ اے موسیٰ ! اپناہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالیے وہ بغیر کسی عیب یا بیماری کے (چاند کی طرح) چمکتا ہو نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ دونوں معجزات دیکر ارشاد فرمایا کہ اب آپان دونوں معجزات کو لے کر فرعون کے دربار میں بےخوف و خطر پہنچ جائیے۔ اور اس کو اور اس کی نافرمان قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے کیونکہ وہ لوگ بہت زیادہ حد سے نکل چلے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح کے نو معجزات عطا فرمائے مگر اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود فرعون اور اس کی قوم نے اپنے ظلم وتکبر سے توبہ نہیں کی اور آخر کار اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کو ان کے فساد کی وجہ سے بھیانک انجام سے دوچار کیا اور پانی میں ڈبو دیا گیا۔ سورۃ النمل کی ان آیات کی مزید تشریح اور وضاحت یہ ہے کہ (1) اللہ تعالیٰ جسم اور جسمانیت سے پاک ذات ہے۔ اس موقع پر یہ بات ایک دفعہ اور عرض ہے کہ اس جھاڑیا درخت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو چمک ‘ آگ اور روشنی نظر آئی ہے وہ اللہ کا نور اور تجلی ہے جو اس درخت پر ڈال دی گئی تھی۔ اس آگ کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ نے اس درخت میں حلول کرلیا تھا بلکہ محسوسات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دکھایا گیا کہ یہ درخت میں لگی ہوئی آگ ‘ یہ دنیا کی آگ نہیں ہے بلکہ اللہ کی تجلی کا عکس ہے جو نظر آتا ہے۔ آگ کی شکل میں اس لئے دکھائی گئی کہ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ اور روشنی کی ضرورت تھی۔ (2) یہ غیبی آواز جو اس درخت سے معجزاتی طور پر آرہی تھی اس کی کوئی سمت یا جہت مقرر نہیں تھی بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ آواز ہر طرف سے آرہی ہیجس کو صرف حضرت موسیٰ کے کان ہی نہیں بلکہ تمام اعضاء یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ سن رہے تھے۔ (3) اللہ تعالیٰ نے اس وادی طوی میں حضرت موسیٰ کو دو معجزات عطا فرمائے عصا کا اژدھا بن جانا اور بغل میں سے ہاتھ نکالنا جو چاند کی طرح چمکدار اور روشن ہوجاتا تھا۔ بقیہ معجزات مختلف اوقات میں عطا فرمائے۔ (1) جادو گروں کی شکست اور فرعون کی ذلت۔ (2) شدید ترین قحط سالی (3) ٹڈیوں کا عذاب (4) غلے اور اناج میں سرسریوں کا پڑجانا۔ (5) ہر چیز میں خون کا عذاب۔ (6) مینڈکوں کا عذاب۔ (7) طوفان۔ جب بھی ان میں سے کوئی عذاب آتا تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آتے ‘ دعا کی درخواست کرتے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے یہ عذاب ٹل جاتا تو پھر سے اسی طرح اپنی نافرمانیوں میں لگ جاتے تھے۔ غرضیکہ جب یہ قوم حد سے آگے بڑھ گئی اور فساد فی الارض کی انتہاؤں پر پہنچ گئی تب اللہ کا فیصلہ آگیا اور فرعون اور اس کے تمام لشکر کو تباہ و برباد کردیا گیا اور پانی میں ڈبودیا گیا۔ اس کے برخلاف اللہ نے حضرت موسیٰ اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمادی۔ (4) ظلم و زیادتی اور تکبر و غرور ایسی بڑی خرابی ہے جو انسان کو حق و صداقت کی راہوں سے روک دیتی ہے اور اس برے انجام تک پہنچا دیتی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیات میں قرآن مجید کے بارے میں شک کرنے اور سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرنے والوں کا انجام ذکر ہوا۔ اب جو انہیں دنیا اور آخرت میں ہوگا اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ بات سورة مزمل آیت ١٥ کے حوالہ سے بتلائی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان بہت سی مماثلتیں قائم کی ہیں۔ اس لیے موقع محل کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مشکلات اور ان کی قوم کی مخالفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جس کی یہاں اس طرح ابتداء کی ہے کہ اے نبی ! موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر پر غور فرمائیں۔ جب وہ دس سالہ غریب الوطنی کی زندگی گزار کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کی طرف آرہے تھے۔ راستے میں انھوں نے بھڑکتی ہوئی آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ یہاں ٹھہریں وہ آگ دکھائی دے رہی ہے میں وہاں سے راستے کی معلومات حاصل کرتا ہوں یا آپ کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں تاکہ آپ اسے تاپ سکیں۔ یہ کہہ کر موسیٰ (علیہ السلام) آگ کی طرف بڑھے۔ جب اس کے قریب پہنچے تو انھیں آواز دی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! جسے تم آگ سمجھ رہے ہو وہ آگ نہیں بلکہ اللہ کا مبارک نور ہے۔ جس سے اس کے آس پاس کا ماحول روشن اور بابرکت ہوچکا ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اللہ تعالیٰ ہر عیب اور کمزوری سے پاک ہے۔ وہی رب العالمین ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو پھر یقین دلایا گیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تجھے آواز دینے والا ” اللہ “ ہے جو ہر بات پر غالب اور حکمت والا ہے۔ مفسرین نے سبحان اللہ کا یہاں یہ مفہوم بیان کیا ہے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یہ بات ہرگز نہ سمجھنا کہ میں درخت میں حلول کرچکا ہوں یا میرا نور اتنا محدود ہے کہ جس نے صرف محدود حلقہ کو گھیررکھا ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! نہ میری ذات محدود ہے اور نہ میرا جمال اور کوئی صفت محدود ہے۔ میں تو رب العالمین ہوں۔ میں اس بات پر اختیار رکھتا ہوں کہ اپنی ذات کا پرتو اور اپنے حسن و جمال کی ایک جھلک کو کسی درخت پر مرکوز کر دوں۔ درخت پر تجلی مرکوز کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ ہمہ تن گوش ہو کر اس پر توجہ دے سکیں۔ یقین رکھیں کہ آپ کا رب اپنا ہر فیصلہ نافذ کرنے پر غالب ہے اور اس کا حکم حکمت سے بھرپور ہوتا ہے۔ ان الفاظ میں موسیٰ (علیہ السلام) کو مستقبل کے حوالے سے کامیابی کی نوید دی گئی ہے۔ (عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِےْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاُ الْمِےْزَانَ وَسُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَأُ مَا بَےْنَ السَّمٰوٰتِ وَالاْرَضِ وَالصَّلٰوۃُ نُوْرٌ وَّالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ وَّالصَّبْرُ ضِےَآءٌ وَّالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَّکَ اَوْ عَلَےْکَ کُلُّ النَّاسِ ےَغْدُوْا فَبَآءِعٌ نَفْسَہُ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا۔ ) [ رواہ : مسلم : باب فضل الوضوء ] ” حضرت ابومالک اشعری (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے ‘ ” الحمدللہ “ کے الفاظ میزان کو بھر دیتے ہیں۔ ” سبحان اللہ “ اور ” الحمدللہ “ دونوں کلمے زمین و آسمان کو بھر دیتے ہیں۔ نماز روشنی ہے ‘ صدقہ دلیل ہے ‘ صبر بھی نور ہے۔ قرآن مجید تیرے حق میں یا تیرے خلاف حُجّت ہے۔ صبح کو اٹھنے والا ہر شخص اپنے نفس کا سودا کیے ہوتا ہے چاہے تو آزادی حاصل کرے یا چاہے تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دے۔ “ مسائل ١۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین سے واپسی پر راستے میں ایک درخت پر اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے بتلانے سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اس روشنی کو آگ سمجھتے رہے تھے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلی وحی میں بتلا دیا کہ میں ہر کمی کمزوری سے پاک ہوں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو رب العالمین، العزیز اور الحکیم کہہ کر اپنا تعارف کروایا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة طہ میں بھی اس قصے کی یہ کڑی لائی گی تھی ۔ جب آپ مدین سے مصر کی طرف لوٹ رہے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی بیوی ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دختر بھی رفیق تھیں۔ ایک ادھیری سیاہ اور سردرات میں آپ سے راستہ گم ہوگیا تھا۔ حضرت کے الفاظ ” میں تو ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے آتا ہوں یا کوئی انکار اچن لاتا ہوں تاکہ تم گرم ہو سکو۔ “ اس وقت حضرت موسٰ کوہ طور کے ایک طرف تھے۔ اور اس زمانے میں یہ رواج تھا کہ بلند ٹیلوں پر ات کے وقت آ گ چلائی جاتی تھی۔ تاکہ اگر کوئی مسافر بھٹک جائے تو اس کی راہنمائی ہو۔ ایسی صورت میں جب کوئی مسافر آتا تو اسے مہمان نوازی بھی ملتی اور وہ سردی میں اپنے آپ کو گرم بھی کرتا اور صحراء میں راستے کی راہنمائی بھی ہوتی۔ انی انست نارا (٨٢ : ٨) ” مجھے ایک آگ سی نظر آنی ہے “ دور سے انہوں نے آگ کو دیکھا تو ان کو ایک گونہ اطمینان حاصل ہوگیا اور یہ امید پیدا ہوگئی کہ اس آگ کے پاس جا کر انہیں کچھ نہ کچھ راہنمائی مل جائے گی یا وہ کوئی انگارا لے آئیں گے جس سے وہ آگ جلا کر اس صحراء میں اپنے آپ کو گرم کرسکیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کی طرف آگے بڑھے جسے انہوں نے دیکھا تھا تاکہ وہ وہاں سے کوئی خبر لائیں۔ اچانک یہاں انہیں ایک نہایت ہی معزز اور شاہانہ آواز آتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رات کے وقت سفر میں کوہ طور پر آگ کے لیے جانا اور نبوت سے سرفراز ہونا سورة طٰہٰ کے پہلے اور دوسرے رکوع کی تفسیر میں اور سورة شعراء کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیل کے ساتھ ہم نے بیان کردیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے مصر میں رہتے تھے فرعون کے بیٹے بنے ہوئے تھے ان کے ہاتھ سے فرعون کی قوم کا ایک شخص قتل ہوگیا ایک شخص نے رائے دی کہ دیکھو فرعونی لوگ تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں لہٰذا تم یہاں سے نکل جاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کو چھوڑ کر مدین چلے گئے وہاں کے شیخ کی لڑکی سے نکاح ہوگیا اور دس سال وہاں رہے۔ جب اپنی بیوی کو لے کر مصر کی طرف واپس آنے لگے تو رات کو سردی بھی لگ گئی اور راستہ بھی بھول گئے۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ پہاڑ طور پر آگ نظر آرہی ہے یہ آگ نہیں تھی نور ربانی تھا جسے انہوں نے آگ سمجھ لیا تھا اپنی بیوی سے کہا تم یہیں ٹھہرو مجھے آگ نظر آرہی ہے میں وہاں جاتا ہوں، وہاں سے لکڑی میں سلگا کر آگ کا شعلہ لے آؤں گا۔ تاکہ تم اس سے تاپ لو گی یعنی گرمی حاصل کرلو گی اور یہ بھی امکان ہے کہ وہاں کوئی راستہ بتانے والا مل جائے۔ وہاں پہنچے تو اللہ پاک کی طرف سے یہ آواز آئی کہ وہ شخص مبارک ہے جو آگ میں ہے اور وہ بھی مبارک ہیں جو اس کے ارد گرد ہیں۔ مفسرین نے فرمایا کہ (مَنْ فِی النَّارِ ) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور (مَنْ حَوْلَہَا) سے فرشتے مراد ہیں (و قیل علی عکس ذالک) جہاں یہ آگ تھی سورة قصص میں اس کو (اَلْبَقْعَۃِ الْمُبَارَکَۃِ ) فرمایا ہے اور آواز بھی وادی کے کنارے کی دائیں جانب سے آئی تھی بقعہ بھی مبارک وہاں جو فرشتے حاضر تھے وہ بھی مبارک موسیٰ (علیہ السلام) بھی مبارک، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک ہونے کی خوشخبری دی گئی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کی کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے اور ہر نقص سے اور مخلوقات کی صفات سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ وحدہ لا شریک ہے اپنی ذات وصفات میں مخلوق کی ہر مشابہت سے پاک ہے (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ یہ پہلا قصہ ہے اور پہلی علت جو پہلے دعوے سے متعلق ہے اس قصے کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) عالم الغیب تھے۔ اس واقعہ میں ایمان والوں کے لیے ہدایت بھی ہے اور بشارت بھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدت اجارہ پوری کر کے جب اپنے اہل بیت یعنی بیوی کو ساتھ لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے تو راستے میں وادی طوی میں رات آگئی رات اندھیری تھی اس لیے راستہ بھول گئے اور سردی بھی شدت کی تھی۔ اسی اثنا میں ایک طرف آگ دکھائی دی تو بیوی سے فرمایا تم یہاں ٹھہرو میں آگ کے پاس جاتا ہوں وہاں کوئی آدمی ہوگا اس سے راستہ پوچھوں گا اگر کوئی موجود نہ ہوا تو کم از کم سینکنے تاپنے کے لیے انگارا ہی لے آؤں گا۔ شھاب ای شعلۃ مضیئۃ (مدارک ج 3 ص 154) ۔ ” قبس “ اسم مفعول کے معنوں میں ہے اور ” شھاب “ کی صفت ہے یا اس سے بدل ہے ای بشعلۃ نار مقبوسۃ ای ماخوذۃ من اصلھا فقبس صفۃ شھاب او بدل منہ (روح ج 19 ص 159) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) اے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں وہاں سے کوئی راستے کی خبر لاتا ہوں یا آگ سے کوئی چیز جلا کر ایک شعلہ لے آتا ہوں تاکہ تم اس سے تاپو اور گرمی حاصل کرو یعنی قرآن کریم کے ذکر کی مناسبت سے موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ بتایا جب وہ مدین سے مصر واپس ہوئے تو طور کی وادی میں مصر کا راستہ بھول گئے اور سردی کڑا کے کی پڑ رہی تھی حیران تھے کہ کس طرف جائیں یکایک طور پر ایک روشنی نظرآئی سمجھے کہ آگ ہے اس لئے گھر والوں سے فرمایا چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی پیغمبر ہوئے کتاب ملی اور فرعونیوں میں تبلیغ کے لئے تقرر ہوا۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیغمبر ہیں ان کو بھی واضح کتاب عطا ہوئی اور قریش کے فراغنہ کی ہدایت کا کام سپرد ہوا تاکہ مکہ کی یہ روشنی تمام عالم میں جلوہ گر ہو۔