The Qur'an tells the Story of the Differences among the Children of Israel, and Allah judges between Them
Allah tells:
إِنَّ هَذَا الْقُرْانَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَايِيلَ
...
Verily, this Qur'an narrates to the Children of Israel,
Allah tells us about His Book and the guidance, proof and criterion between right and wrong that it contains.
He tells us about the Children of Israel, who were the bearers of the Tawrah and Injil.
...
أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
most of that in which they differ.
such as their different opinions about `Isa. The Jews lied about him while the Christians exaggerated in praise for him, so the Qur'an came with the moderate word of truth and justice: that he was one of the servants of Allah, and one of His noble Prophets and Messengers, may the best of peace and blessings be upon him, as the Qur'an says:
ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ
Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt. (19:34)
وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُوْمِنِينَ
حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا
قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے ۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات وانجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے ۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا ۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی ۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے ۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے ۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے ۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے ۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے ۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں ۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا ۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے ۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا ۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں ۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے ۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں ۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے ۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو ۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں ۔