Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 76

سورة النمل

اِنَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اَکۡثَرَ الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۷۶﴾

Indeed, this Qur'an relates to the Children of Israel most of that over which they disagree.

یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا ہےجن میں یہ اختلاف کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Qur'an tells the Story of the Differences among the Children of Israel, and Allah judges between Them Allah tells: إِنَّ هَذَا الْقُرْانَ يَقُصُّ عَلَى بَنِي إِسْرَايِيلَ ... Verily, this Qur'an narrates to the Children of Israel, Allah tells us about His Book and the guidance, proof and criterion between right and wrong that it contains. He tells us about the Children of Israel, who were the bearers of the Tawrah and Injil. ... أَكْثَرَ الَّذِي هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ most of that in which they differ. such as their different opinions about `Isa. The Jews lied about him while the Christians exaggerated in praise for him, so the Qur'an came with the moderate word of truth and justice: that he was one of the servants of Allah, and one of His noble Prophets and Messengers, may the best of peace and blessings be upon him, as the Qur'an says: ذلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِى فِيهِ يَمْتُرُونَ Such is `Isa, son of Maryam. (It is) a statement of truth, about which they doubt. (19:34) وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُوْمِنِينَ

حق وباطل میں فیصلہ کرنے والا قرآن پاک کی ہدایت بیان ہو رہی ہے ۔ کہ اس میں جہاں رحمت ہے وہاں فرقان بھی ہے اور بنی اسرائیل حاملان تورات وانجیل کے اختلافات کا فیصلہ بھی ہے ۔ جیسے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہودیوں نے منہ پھٹ بات اور نری تہمت رکھ دی تھی اور عیسائیوں نے انہیں ان کی حد سے آگے بڑھا دیا تھا ۔ قرآن نے فیصلہ کیا اور افراط وتفریط کو چھوڑ کر حق بات بتادی کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ وہ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں ان کی والدہ نہایت پاکدامن تھی ۔ صحیح اور بیشک وشبہ بات یہی ہے ۔ اور یہ قرآن مومنوں کے دل کی ہدایت ہے ۔ اور ان کے لیے سراسر رحمت ہے ۔ قیامت کے دن انکے فیصلے کرے گا جو بدلہ لینے میں غالب ہے اور بندہ کے اقوال و افعال کا عالم ہے ۔ تجھے اسی پر کام بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ اپنے رب کی رسالت کی تبلیغ میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے ۔ تو تو سراسر حق پر ہے مخالفین شقی ازلی ہیں ۔ ان پر تیرے رب کی بات صادق آچکی ہے کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا ۔ گو تو انہیں تمام معجزے دکھا دے ۔ تو مردوں کو نفع دینے والی سماعت نہیں دے سکتا ۔ اسی طرح یہ کفار ہیں کہ ان کے دلوں پر پردے ہیں ان کے کانوں میں بوجھ ہیں ۔ یہ بھی قبولیت کا سننا نہیں سنیں گے ۔ اور نہ تو بہروں کو اپنی آواز سناسکتا ہے جب کہ وہ پیٹھ موڑے منہ پھیرے جا رہے ہوں ۔ اور تو اندھوں کو انکی گمراہی میں بھی رہنمائی نہیں کرسکتا تو صرف انہیں کو سنا سکتا ہے ۔ یعنی قبول صرف وہی کریں گے جو کان لگا کر سنیں اور دل لگا کر سمجھیں ساتھ ہی ایمان و اسلام بھی ان میں ہو ۔ اللہ کے رسول کے ماننے والے ہوں دین اللہ کے قائل وحامل ہوں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

761اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے تھے۔ ان کے عقائد بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین کرتے تھے اور عیسائی ان کی شان میں غلو۔ حتٰی کہ انہیں، اللہ یا اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔ قرآن کریم نے ان کے حوالے سے ایسی باتیں بیان فرمائیں، جن سے حق واضح ہوجاتا ہے اور اگر وہ قرآن کے بیان کردہ حقائق کو مان لیں تو ان کے عقائدی اختلاف اور تفریق و انتشار کم ہوسکتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٠] یہ اختلاف صرف عقائد میں ہی نہیں تھے بلکہ احکام اور ق میں بھی تھے۔ عقائد کے اختلاف یہ تھے کہ مثلاً یہود ہی کا ایک فرقہ آخرت کا منکر بن گیا تھا۔ پھر ان میں کچھ فرقوں کا آخرت کے متعلق تصور ہی غلط تھا جس کا قرآن نے کئی مواقع پر ذکر فرمایا ہے۔ عیسائیوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف تھے کچھ انھیں اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے کچھ انھیں اللہ ہی سمجھتے تھے۔ کچھ بیٹے کو باپ کی طرح قدیم سمجھتے تھے اور کچھ اسے مخلوق اور حاوث قرار دیتے تھے۔ کچھ یہ کہتے تھے کہ اللہ نے اپنے سارے اختیارات اپنے بیٹے کو سونپدیئے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ تین میں کا تیسرا ہیں۔ اور احکام میں اختلاف ان کی تحریفات لفظی اور معنی کی بنا پر تھا۔ بہت سی آیتوں کو وہ چھپا جاتے تھے اور بہت سی آیات کی تحریف کرلیتے تھے اور ان کی ایسی حرکات بھی قرآن میں متعدد مقامات پر بالوضاحت مذکور ہیں۔ ان سب اختلافات کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ بہتر فرسوں میں بٹ گئے تھے۔ قرآن نے آکر ان اختلافات کو بیان بھی کیا اور ان میں صحیح راہ بھی متعین فرما دی کہ فلاں مسئلہ میں اصل حقیقت یہ ہے اور فلاں میں حقیقت اتنی ہے۔ یہاں اس آیت کے ذکر کرنے سے مطلب یہ ہے اس وقت جو اختلافات کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان ہیں ان میں بھی قرآن صحیح راستے کی نشان دہی کر رہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ ۔۔ : مفسر رازی نے پچھلی آیات کے ساتھ اس آیت کی مناسبت یہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خلق کی ابتدا اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کے اثبات پر گفتگو کرنے کے بعد اب نبوت پر بحث شروع فرمائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے اثبات میں چونکہ قرآن ہی سب سے بڑی دلیل ہے، اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر فرمایا، یعنی یہ قرآن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات میں سے ہے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہیں۔ بنی اسرائیل کے لیے جو تورات و انجیل کے عالم ہیں، اس کی یہ بات دلیل ہے کہ یہ ان کی اکثر وہ اشیاء بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے تھے اور یہ بھی بیان کرتا ہے کہ ان میں حق اور درست بات کیا ہے۔ اَكْثَرَ الَّذِيْ هُمْ فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ : یہود و نصاریٰ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے، اس بنا پر ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے، مثلاً عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہودی جھوٹا اور ولد الزنا کہتے تھے۔ نصاریٰ نے یہاں تک غلو کیا کہ انھیں عین ذات الٰہی یا اس کا بیٹا بنا بیٹھے۔ (نعوذ باللہ) اسی طرح اور بھی بہت سے امور تھے جن میں ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے۔ ان میں حق اور اعتدال کی راہ قرآن نے واضح کی جو قرآن کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ (دیکھیے مائدہ : ٤٨) اگر وہ اس راہ کو اختیار کرتے تو ان میں ہرگز کوئی اختلاف نہ رہتا اور ان سب کی فرقہ بندی ختم ہوجاتی۔ 3 یہ جو فرمایا کہ قرآن بنی اسرائیل کے لیے اکثر وہ چیزیں بیان کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں، تو اس میں اشارہ ہے کہ اس نے بہت سی باتیں جن میں ان کا اختلاف ہے، بیان نہیں کیں، کیونکہ ان کے ذکر کرنے سے کوئی اہم مقصد حاصل نہیں ہوتا تھا اور اس لیے کہ اس میں ان کی بعض خطاؤں اور لغزشوں کی پردہ پوشی ہے جو ان سے سرزد ہوئیں۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کے ذکر نہ کرنے کو اپنی طرف سے عفو قرار دیا ہے، چناچہ فرمایا : (يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ) [ المائدۃ : ١٥ ] ” اے اہل کتاب ! بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آیا ہے، جو تمہارے لیے ان میں سے بہت سی باتیں کھول کر بیان کرتا ہے، جو تم کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے در گزر کرتا ہے۔ بیشک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary By describing Allah&s omnipotence through different examples in the earlier verses, the reality of the Hereafter and the rational possibility of resurrection of the dead has been established. There is no logical ambiguity in that. Its definite occurrence is confirmed by the sayings of the prophets and the divine books that were revealed to them. Authenticity and establishment of any information is based on the veracity of the courier or the narrator. In this verse it is stated that the informant of this news is the Holy Qur&an whose authenticity and truthfulness is beyond any doubt or contradiction. So much so that in matters in which the scholars of Bani Isra&il had differed strongly and could not resolve them, the Qur&an has given them evaluated verdict to follow for correct judgment. It is but obvious that in matters where there is difference of opinion among the scholars, the only competent authority to overrule is the one who is superior in knowledge and status. Therefore, it is established that Qur&an is an authentic informant. After this the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was consoled that he need not be despondent over their antagonism. &Allah Ta’ ala is to make judgment Himself in his case. He should have faith in Allah, because Allah&s help and aid is with the truth. And there is no doubt that he is on the right path&. (Verse 79).

خلاصہ تفسیر بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں (کی حقیقت) کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں اور وہ ایمانداروں کے لئے (خاص) ہدایت اور (خاص) رحمت ہے (ہدایت باعتبار طاعات و اعمال کے اور رحمت با اعتبار ثمرات و نتائج کے) بالیقین آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے (وہ عملی) فیصلہ (قیامت کے دن) کرے گا (اس وقت معلوم ہوجاوے گا کہ دین حق کیا تھا اور باطل کیا، تو ایسے لوگوں پر کیا افسوس کیا جائے) اور وہ زبردست علم والا ہے (بدون اس کی مشیت کے کوئی کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتا) تو آپ اللہ پر توکل رکھئے (اللہ کی مدد ضرور ہوگی کیونکہ) آپ صریح حق پر ہیں۔ معارف ومسائل پہلی آیات میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کو مختلف مثالوں سے ثابت کر کے یہ بات ثابت کردی گئی ہے کہ قیامت کا وقوع اور اس میں مردوں کا دوبارہ زندہ ہونا عقلاً ممکن ہے اس میں کوئی عقلی اشکال نہیں۔ عقلی امکان کے ساتھ اس کا ضرور واقع ہونا یہ انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں کی نقل سے ثابت ہے اور کسی خبر کا صحیح اور ثابت ہونا اس پر موقوف ہے کہ اس کا ناقل مخبر اور روایت کرنے والا صادق اور سچا ہو۔ اس لئے اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ اس کا مخبر قرآن ہے اور اس کا مخبر صادق ہونا ناقابل انکار ہے، یاں تک کہ علماء بنی اسرائیل جن مسائل میں باہم سخت اختلافات رکھتے تھے اور وہ حل نہ ہوتے تھے قرآن حکیم نے ان مسائل میں محاکمہ کر کے صحیح فیصلوں کی ہدایت فرمائی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ علماء کے اختلاف میں محاکمہ اور فیصلہ کرنے والا ان سب علماء سے اعلم اور اعلی ہونا ضروری ہے اس لئے قرآن کا مخبر صادق ہونا واضح ہوگیا، اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کی مخالفت سے تنگدل نہ ہوں، اللہ تعالیٰ خود آپ کا فیصلہ کرنے والا ہے آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد حق کے ساتھ ہے اور آپ کا طریق حق پر ہونا یقینی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ يَقُصُّ عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اَكْثَرَ الَّذِيْ ہُمْ فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ۝ ٧٦ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ قصص الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِقُصِّيهِ [ القصص/ 11] ( ق ص ص ) القص کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔ وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ [ القصص/ 11] اور اسکی بہن کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٦) اور یہ قرآن کریم جو آپ ان کو پڑھ کر سناتے ہیں یہ بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاری پر اکثر ان باتوں کی حقیقت ظاہر کرتا ہے جن دینی باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٦ (اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَکْثَرَ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) ” تورات کا نزول قرآن سے دو ہزار سال پہلے ہوا تھا۔ اصل کتاب مدتوں پہلے گم ہوچکی تھی ‘ پھر ایک عرصے بعد اسے یادداشتوں کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا گیا اور بنی اسرائیل نے اپنی من پسند روایات کے ذریعے سے بہت سی غلط باتیں اللہ سے منسوب کردیں۔ جیسے اقبال نے کہا ہے : ع ” یہ امتّ روایات میں کھو گئی ! “ بہر حال قرآن نے ہرچیز کو کھول کر بیان کردیا اور حقیقت ہر پہلو سے منکشف ہوگئی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة النمل حاشیہ نمبر : 93 اس فقرے کا تعلق مضمون سابق سے بھی ہے اور مضمون مابعد سے بھی ، مضمون سابق سے اس کا تعلق یہ ہے کہ اسی عالم الغیب خدا کے علم کا ایک کرشمہ یہ ہے کہ ایک امی کی زبان سے اس قرآن میں ان واقعات کی حقیقت کھولی جارہی ہے جو بنی اسرائیل کی تاریخ میں گزرے ہیں ، حالانکہ خود علمائے بنی اسرائیل کے درمیان ان کی اپنی تاریخ کے ان واقعات میں اختلاف ہے ( اس کے نظائر اسی سورہ نمل کے ابتدائی رکوعوں میں گزر چکے ہیں ، جیسا کہ ہم نے اپنے حواشی میں واضح کیا ہے ) اور مضمون مابعد سے اس کا تعلق یہ ہے جس طرح اللہ تعالی نے ان اختلافات کا فیصلہ فرمایا ہے اسی طرح وہ اس اختلاف کا بھی فیصلہ کردے گا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلما ور ان کے مخالفین کے درمیان برپا ہے ۔ وہ کھول کر رکھ دے گا کہ دونوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون ۔ چنانچہ ان آیات کے نزول پر چند ہی سال گزرے تھے کہ فیصلہ ساری دنیا کے سامنے آگیا ۔ اسی عرب کی سرزمین میں ، اور اسی قبیلہ قریش میں ایک متنفس بھی ایسا نہ رہا جو اس بات کا قائل نہ ہوگیا ہو کہ حق پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے نہ کہ ابوجہل اور ابو لہب ۔ ان لوگوں کی اپنی اولاد تک مان گئی کہ ان کے باپ غلطی پر تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

35: یہ بھی قرآن کریم کی حقانیت کی دلیل ہے کہ جن معاملات میں بنی اسرائیل کے بڑے بڑے علماء میں بھی اختلاف رہا، قرآن کریم نے ان کی حقیقت واضح فرما دی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:76) ان ھذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون ۔ ۔ بنی اسرائیل یقص فعل کا مفعول اول اکثر مفعول ثانی ہے اور ضمیر ھو فاعل راجع بسوئے قرآن ہے۔ تحقیق یہ قرآن بنی اسرائیل پر بہت سی ان باتوں کو ظاہر کرتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ یہود اور نصاریٰ بہت سے فرقوں میں بٹ گئے تھے۔ اس بنا پر ان کے درمیان سخت اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو یہودی جھوٹا اور ولدالزنا کہتے تھے اور نصاریٰ نے یہاں تک غلو کیا کہ وہ انہیں خدا کا بیٹا سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے امور تھے جن میں ان کے درمیان سخت اختلافات پائے جاتے تھے ان میں حق اور اعتدال کی راہ قرآن نے واضح کی۔ جو قرآن کی حقانیت کی دلیل ہے۔ اگر وہ اس راہ کو اختیار کرتے تو ان میں ہرگز کوئی اختلاف نہ رہتا اور ان کی سب فرقہ بندی ختم ہوجاتی۔ امام رازی (رح) لکھتے ہیں : مبداء و معاد کے اثبات پر گفتگو کرنے کے بعد اب نبوۃ کے متعلق بحث شروع کی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے اثبات میں چونکہ قرآن ہی سب سے بڑی دلیل ہے اس لئے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا۔ (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی غالب اکثریت اَن پڑھ تھی جس بناء پر وہ مدینہ کے یہودیوں سے پوچھتے کہ ہمیں علمی لحاظ سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کیا کیا اعتراض اٹھانے چاہییں۔ یہودی مکہ والوں کو مختلف قسم کے سوال کرنے کی تعلیم دیتے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ مکہ والوں کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی مخاطب کیا جائے۔ چناچہ ارشاد ہوا یہ قرآن مجید ان مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے جن کی حقیقت جاننے کے باوجود بنی اسرائیل ان کو نہیں مانتے۔ بنی اسرائیل کے خطاب میں مجموعی طور پر یہودی اور عیسائی شامل ہیں۔ تاہم کبھی کبھی یہ لفظ صرف یہودیوں یا عیسائیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے یہودیوں نے تورات کے بر خلاف یہ عقیدہ بنایا کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے۔ قرآن مجید نے دو ٹوک انداز میں اس کی وضاحت فرمائی کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا نہیں بلکہ اس کا بندہ اور نبی تھا۔ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور مریم [ کو اللہ کا جزو قرار دیا۔ قرآن مجید نے اس کی بھی نفی کی ہے اس طرح دو ٹوک انداز میں فیصلہ کیا کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل کے عقائد حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ قرآن مجید ہر اس شخص کے لیے ہدایت کا سر چشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اس پر ایمان لاتا ہے۔ جس طرح بنی اسرائیل کے اختلاف میں حق واضح کیا گیا ہے اسی طرح ہی اے نبی آپ کا رب آپ کے مخالفوں کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ کیونکہ وہ ہر حال میں غالب ہے اور ہر معاملے کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ آپ اللہ پر بھروسہ کریں اور یقین رکھیں کہ آپ واضح طور پر حق پر گامزن ہیں۔ اس فرمان میں اللہ تعالیٰ نے العزیز کی صفت لا کر اپنے پیغمبر کو مخصوص انداز میں مستقبل کی کامیابی کی خوشخبری دی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہجرت مکہ کے بعد دو صورتوں میں پورا فرمایا۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بڑے بڑے دشمن آپ کے ہاتھوں ذلّت کی موت مرے، باقی حلقۂ اسلام میں داخل ہوئے یہودیوں کو ذلیل ہو کر مدینہ چھوڑنا پڑا۔ عیسائیوں کی سب سے بڑی حکومت آپ کے سامنے کھڑے ہونے کی تاب نہ لاسکی اس طرح پوری دنیا میں اسلام کی عظمت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کا پھریرا بلند ہوا۔ مسائل ١۔ قرآن مجید لوگوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ ٢۔ ایمان لانے والوں کے لیے قرآن مجید ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ٤۔ ایمان والوں کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن ایمان داروں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم : ١۔ رسول کریم کو اللہ پر تو کل کرنے کی ہدایت۔ (النمل : ٧٩) ٢۔ مومنوں کو اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا حکم۔ (المجادلۃ : ١٠) ٣۔ انبیاء اور نیک لوگ اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف : ٦٧) ٤۔ اللہ پر ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (الشوریٰ : ٣٦) ٥۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (التوبۃ : ١٢٩) ٦۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران : ١٥٩) ٧۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت : ٥٩) ٨۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق : ٣

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان ھذا القران ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا من یؤمن بایتنا فھم مسلمون (81) نصاری کے درمیان حضرت عیسیٰ اور آپ کی والدی کے بارے میں شدید اختلاف رائے تھا۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ محض ایک انسان تھے۔ بعض کہتے تھے اللہ نے ان کے بارے میں باپ ، بیٹے اور روح القدس کے جو الفاظ استعمال کیے ہیں دراصل وہ اللہ نے ذات باری کے لیے مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تو اس گروہ کے نزدیک اللہ تین اقانیم سے مرکب ہے۔ اب ، ابن اور روح القدس۔ ابن چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تھے تو اللہ ، جو صورت رب میں تھے ، وہ روح القدس کی صورت میں اترے اور حضرت مریم میں ایک انسان کی شکل اختیار کر گئے۔ اور یہ اللہ پھر مریم سے بصورت انسان پیدا ہوئے۔ ایک جماعت نے کہا کہ ابن ازلی نہیں ہے ، جس طرح باپ ازلی ہے۔ ہاں وہ عالم سے قبل پیدا کردہ ہے۔ لہٰذا وہ رب سے کم درجے کا ہے اور رب کے تابع فرمان ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ روح القدس اقتوم نہیں ہے اور نیقیا کی مجلس منعقدہ 325 نے یہ فیصلہ کیا اور قسطنطینہ کی مجلس 381 نے اس کی توثیق کی کہ ابن اور روح القدس باپ کے برابر ہیں اور یہ بھی لاہوت کی وحدت کا حصہ ہیں۔ یہ بیٹے بھی ازل ہی میں پیدا ہوئے تھے جبکہ روح القدس رب سے نکلے ہیں۔ اور طیفلہ کی مجلس منعقدہ 589 نے یہ فیصلہ کیا کہ روح القدس ابن سے نکلا ہے۔ اس نکتے پر مشرقی اور مغربی کنیہ کے درمیان افتراق پیدا ہوگیا جو آج تک نکتہ اختلاف ہے۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس نے ایک فیصلہ کن بات کردی کہ وہ ایک کلمہ ہے جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے روح ہے۔ اور وہ بشر ہیں ان ھو الا ۔۔۔۔۔ اسراء یل (43: 59) ” نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا “۔ یہ تھی وہ فیصلہ کن بات جس میں ان کے درمیان اختلاف رائے تھا۔ اسی طرح بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سولی پر چٖڑھائے جانے کے مسئلے میں بھی اختلاف ہوا۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ آپ فوت ہوگئے اور دفن کر دئیے گئے اور تین دنوں کے بعد آپ اپنی قبر سے نکلے اور آسمانوں کی طرف اٹھالیے گئے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے حواریوں میں سے ایک شخص یہوذا کو حضرت مسیح کے مشابہ بنا دیا گیا اور اس کو سولی دے دی گئی اس لیے کہ اس شخص نے حضرت مسیح کے ساتھ خیانت کی تھی اور حکومت کو آپ کی نشاندہی کی تھی اور آپ گرفتار ہوگئے تھے۔ بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ آپ کے ایک حواری شمعون کو آپ کا مشابہ بنا دیا گیا اور وہ گرفتار ہوئے۔ قرآن کریم نے اصل بتا دی وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (4: 157) ” انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ سولی پر چڑھایا ، لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا “۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید نے فرمایا : یا عیسیٰ انی ۔۔۔۔۔۔ ومطھرک (3: 55) ” اے عیسیٰ میں تمہیں واپس لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہیں پاک کرنے والا ہوں “۔ یہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں فیصلہ کن بات تھی۔ اس سے قبل یہودیوں نے بھی تورات کی شریعت کو بدل دیا تھا۔ کئی احکام میں تحریفات کردی گئی تھی۔ قرآن مجید آیا تو اصل شریعت بتا دی۔ وکتبنا علیھم فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ قصاص ” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ “۔ قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کے انبیاء کے بارے میں حقائق بتائے۔ اور ان حقائق میں سے ان قصے اور کہانیوں اور افسانوں کو علیحدہ کرکے صاف کردیا جو ان حقائق کے ساتھ انہوں نے ناحق ملا دئیے تھے۔ یہ افسانے ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی نبی بھی معصوم اور پاک ہوکر نہیں نکل سکتا تھا۔ ان کے افسانوں کے چند نمونے مشہور ہیں۔ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) پر الزام لگایا کہ انہوں نے ابو مالک شاہ فلسطین اور فرعون شاہ مصر کے سامنے اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پیش کیا۔ اور ان کے کہنے کے مطابق حضرت ابراہیم ان کی نظروں میں مقام بلند حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا نام اسرائیل تھا ، انہوں نے خود اپنے باپ اسحاق سے ، حضرت ابراہیم کی برکات حیلہ سازی ، جھوٹ اور چوری کے طور پر حاصل کیں۔ جبکہ یہ تبرکات ان کے بڑے بھائی عیصو کی ملکیت تھیں۔ اور حضرت لوط کے بارے میں ان کی روایات یہ ہیں کہ ان کی دو بیٹیوں نے ان کی میراث اوروں کے پاس نہ چلی جائے اور جس طرح ان لڑکیوں نے چاہا ایسا ہی ہوا۔ اور داؤد نے اپنے محل میں ایک خوبصورت عورت کو دیکھا اور معلوم ہوا کہ وہ ان کے فوجی کی بیوی ہے۔ پھر اس فوجی کو انہوں نے ایک ہلاکت آفرین مہم میں بھیجا تاکہ وہ بیوی کو حاصل کرسکیں۔ اور سلیمان لعل کی عبادت کی طرف مائل ہوگئے۔ محض اپنی عورتوں میں سے ایک عورت کو خوش کرنے کے لئے ، کیونکہ ان کو اس کے ساتھ محبت تھی اور وہ اس کے مطالبے کو رد نہ کرسکتے تھے۔ یہ تھے ان کے الزامات اپنے پیغمبروں پر۔ اور جب قرآن کریم نازل ہوا تو اللہ نے تمام پیغمبروں کی صفائی بیان کی اور ان اوہام اور افسانوں کو پیغمبروں کی سیرتوں سے نکال دیا۔ کیونکہ یہ اوہام یہود و نصاریٰ نے خود اپنی کتابوں کے اندر داخل کر دئیے تھے۔ خصوصا قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہا السلام) کی ذات کے ساتھ منسوب تمام غلط باتوں کی نفی کی اور وہ صحیح تعلیمات بیان کردیں جو اللہ کی طرف سے تھیں۔ اس مفہوم میں اس قرآن کو سابقہ کتب کے لیے مہیمن کہا گیا ہے کہ وہ سابقہ کتب کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے اور تمام اختلافی اور جدلیاتی مسائل میں فیصلہ کن بات کرتا ہے۔ وانا لھدی ورحمۃ للمومنین (27: 77) ” اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے “۔ یہ وہ ہدایت ہے جو اہل ایمان کو ضلالت اور اختلاف سے بچاتا ہے۔ ان کو ایک منہاج حیات دیتا ہے۔ زندگی کی راہ میں ان کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور ان کو اپنی تعلیماے اور نظریات دیتا ہے جو اس پوری کائنات میں موجود سنن الہیہ سے ہم آہنگ ہیں۔ اور یہ قرآن ہدایت کے ساتھ رحمت بھی ہے ۔ انسانوں کو شک ، بےچینی اور پریشانی اور بےیقینی سے نجات دیتا ہے۔ اور انسان کو ایسے کچے نظریات سے بچاتا ہے جو آئے دن بدلتے رہتے ہیں۔ پائے چوبیں رکھتے ہیں اور اپنے حال پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ اس کی تعلیمات انسان کو مطمئن کرکے اللہ کے جوار رحمت اور بارگاہ سکون تک پہنچاتی ہیں۔ اس طرح انسان اپنے ماحول ، اپنی سوسائٹی اور کود اپنے افکار کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور آشتی کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور آخرت میں اللہ کی رضا مندی اور عظیم ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔ انسانی نفس کی تربیت اور از سر نو قوانین فطرت کے مطابق اس کی تسکیل و تصفیل کے معاملے میں قرآنی طریق کار ایک منفرد طریق کار ہے۔ اس طریق کار کے مطابق انسان اپنی زندگی ان قوانین فطرت کے مطابق گزارتا ہے جو خود اس کائنات میں بھی جاری وساری ہیں اور اس طرح انسان کی زندگی نہایت سکون کے ساتھ ، فطری انداز میں گزرتی ہے۔ اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی۔ اسلامی منہاج تربیت کے نتیجے میں انسان اپنی زندگی کی گہرائیوں تک میں اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ بہت بڑی دولت ہوتی ہے۔ اور یہ اطمینان اسے اس وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے مطابق انسان کی زندگی قوانین فطرت کے ساتھ متصادم نہیں ہوتی اور نہ انسان قوانین فطرت اور ان کے مطابق چلنے والی اس کائنات سے متصادم ہوتا ہے ، نہ انسانی اخلاقیات ان قوانین فطرت سے متصادم ہوتی ہیں۔ بشرطیکہ انسان قوانین فطرت اور نوامیس کو اچھی طرح معلوم کرسکے اور وہ مقامات معلوم کرلے جہاں انسانی شخصیت اور اس کائنات کے درمیان باہم اتصال ہوتا ہے۔ اور انسان اس نتیجے تک پہنچ جائے کہ انسانی فطرت اور کائناتی فطرت اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ وہ باہم متناسب اور ہم آہنگ ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم سلامتی جو انسانی شخصیت اور انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی اس عظیم کائنات کے درمیان قائم ہوتی ہے اور اس سلامتی کے نتیجے میں انسانی سوسائٹی نہایت ہی پر سکون زندگی بسر کرتی ہے۔ اور یہ ہے وہ رحمت جس کی طرف قرآن کریم اشارہ کرتا ہے۔ یہ رحمت الہیہ کا وسیع تر مفہوم ہے۔ ان اشارات کے بعد کہ قرآن کریم بنی اسرائیل کے بیشتر نطریاتی مسائل کو حل کرتا ہے ، ان کے اختلافات کو دور کرتا ہے اور اہل ایمان کو ایک فطری نظام زندگی دے کر ان کو عظیم سکون اور سلامتی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی دیتا ہے کہ آپ کی قوم آپ کے ساتھ ناحق مجادلہ کر رہی ہے۔ اس کا فیصلہ بھی عنقریب اللہ کر دے گا ۔ ایسا فیصلہ جسے کوئی رد نہ کرسکے گا۔ کیونکہ اللہ کے فیصلے حقائق اور صحیح علم پر مبنی ہوتے ہیں۔ فتوکل علی اللہ انک علی الحق المبین (27: 79) ” پس اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اللہ پر بھروسہ رکھو یقیناً تم صریح حق پر ہو “۔ اللہ تعالیٰ نے حق کی نصرت کرنا ، حق کو غالب کرنا ، اپنے اوپر اسی طرح لازم قرار دیا ہے جس طرح اس کائنات میں اللہ کے دوسرے چلنے والے قوانین لازمی اور اٹل ہیں۔ یہ قوانین رکتے نہیں ، اسی طرح حق بھی غالب آتا ہے لیکن اللہ کی بعض پوشیدہ حکمتوں کی وجہ سے کبھی کبھار یہ غلبہ دیر سے آتا ہے اور ان حکمتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ کچھ مقاصد ہوتے جن کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے لیکن یہ سنت پوری ہوکر رہتی ہیں اور آخر کار حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اس کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ انسان کا ایمان اس وقت تک پورا اور مکمل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اس سنت کے اٹل ہونے پر ایمان نہ لائے۔ مطلب یہ ہے کہ حق کی کامیابی کے لیے اللہ کے ہاں ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ کامیابی نہیں آسکتی۔ انسان اگر جلدی کرتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہوگی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی قوم کی طرف سے بڑی مشکلات درپیش تھیں ، بات بات پر وہ جھگڑتے تھے ، کٹ جحتی اور ہٹ دھرمی کرتے تھے۔ محض عناد کی وجہ سے بادی النظر چیزوں کو بھی نہ مانتے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جدوجہد اور نہایت ہی واضح بیان و تبلیغ کے بعد بھی وہ کفر پر اصرار کر رہے تھے۔ قرآن کریم کے بار بار کے خطاب کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ان سب باتوں پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے ، کوئی قصور نہیں کیا ہے ، لیکن بات کو وہ لوگ سنتے ہیں جو زندہ ہوں اور ان کے کانوں کے پردے حساس ہوں۔ مردے تو کبھی سنا نہیں کرتے۔ مردوں کا دماغ مرچکا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے عاری ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مردے نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ بس آپ کی قوم کے دل و دماغ مرچکے ہیں۔ لہٰذا ان کو سنانا اب نہ سنانے کے برابر ہوگیا ہے۔ ہدایت پر آنے کی ان کے سامنے کوئی سبیل باقی نہیں ہے۔ اب چھوڑدیں ان کو اپنی گمراہی اور سرکشی اور بےراہ روی پر۔ انک لا تسمع ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (27: 80- 81) ” تم مردوں کو نہیں سنا سکتے ، نہ ان بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو ، جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں ، اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ قرآن کریم نے نہایت ہی عجیب انداز میں ان لوگوں کی نظریاتی اور نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی ہے۔ چناچہ غیر محسوس معانی کو محسوس شکل دے دی ہے۔ قلبی جمود ، روح کی مردنی ، کند ذہنی اور شعور کی گراؤٹ کو یوں بیان کیا ہے کہ گویا یہ لوگ مردے ہیں اور بہرے ہیں اور رسول ان کو پکار رہا ہے۔ یہ نہیں سنتے ، نہ جواب دیتے ہیں۔ کیونکہ مردے نہ سنتے ہیں ، نہ ان کو شعور ہوتا ہے اور نہ جواب دے سکتے ہیں۔ ایک دوسری محسوس صورت یوں ہے کہ ایک شخص بہرا ہے۔ بالکل نہیں سنتا اور پکار والے کی طرف اس کا رخ بھی نہیں ہے۔ بلکہ وہ مخالف سمت پر جا رہا ہے۔ ایسے شخص کو لاکھ پکارو وہ نہ سنے گا۔ کبھی قرآن ان کو اس شکل میں لاتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ ایک اندھا شخص راہ راست پر کیسے جاسکتا ہے۔ جب اسے اگلے قدم پر کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔ ان آیات میں ان تمام صورتوں کو نہایت ہی مجسم و شخصی صورت میں پیش کردیا گیا ہے۔ اب ان مردوں ، بہروں اور اندھوں کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں۔ یہ زندہ ہیں ، یہ سنتے ہیں ، یہ دیکھتے ہیں۔ ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (27: 81) ” آپ اپنی بات انہی کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں “۔ یعنی جن لوگوں کے اندر زندگی ، قوت سامعہ اور قوت باصرہ ہے۔ آپ انہی کو سنا سکتے ہیں ۔ اور ایسے ہی لوگوں کو سنائیں۔ یہ علامات زندگی ہیں اور شعور زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ سننے والے اور دیکھنے والے ہی دعوت کو قبول کرسکتے ہیں اور یہ اہل ایمان ہی ہیں جن کے اندر حیات ، سماعت اور بصارت پائی جاتی ہے۔ ان لوگوں پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کام کیا۔ انہوں نے دعوت کو قبول کیا اور سرتسلیم خم کردیا۔ اسلام بہت ہی سادہ اور قریب الفہم دین ہے۔ فطرت سلیم کے بہت ہی قریب ہے۔ قلب سلیم اور فطرت سلیم دعوت اسلامی کو پاتے ہی قبول کرتے ہیں اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔ وہ پھر قیل و قال اور جدل وجدال میں نہیں پڑتے۔ یہی تصویر ہے اہل ایمان کی اور ایسے ہی لوگوں کو دعوت دینا چاہئے۔ ایسے لوگ دعوت کو سنتے ہی اس کی طرف لپکتے ہیں اور فوراً ایمان لاتے ہیں۔ مردوں کو اپنی جگہ پر چھوڑ کر داعی کو ایسے لوگوں تک پہنچنا چاہئے جو قبولیت کے لیے تیار ہوں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قرآن مجید ان چیزوں کو بیان کرتا ہے جن میں بنی اسرائیل اختلاف کرتے ہیں یہ چار آیات ہیں پہلی دو آیتوں میں قرآن کی صفات بیان فرمائی ہیں اول تو یہ فرمایا کہ بنی اسرائیل جن باتوں میں اختلاف رکھتے ہیں قرآن ان کے بارے میں صحیح صحیح پوری حقیقت کو بیان کرتا ہے، ان لوگوں نے اپنی کتاب میں تو تحریف کر ہی دی تھی اور ان میں جو کچھ سنی سنائی باتیں چلی آرہی تھیں ان میں اختلاف رکھتے تھے، قرآن مجید نے واضح طور پر حق باتیں واضح فرما دیں۔ ان لوگوں کی جاہلانہ باتوں میں ایک یہ بات بھی تھی کہ العیاذ باللہ حضرت ابراہیم یہودی تھے اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا (مَا کَانَ اِبْرٰھِیْمُ یَھُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰکِنْ کَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا) (ابراہیم یہودی اور نصرانی نہیں تھے لیکن وہ حق کی طرف مائل ہونے والے فرمانبر دار تھے) یہ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم اور یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہودیت اختیار کرنے کی وصیت فرمائی تھی اس کی تردید میں فرمایا (وَ وَصّٰی بِھَا اِبْرَاھِیْمُ بَنِیْہِ وَ یَعْقُوْبَ ) ۔ اسی طرح حضرت مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں غلط باتیں کہتے تھے قرآن نے اس کو بھی صاف کیا اور حضرت مریم [ کی عفت اور عصمت بیان فرمائی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا صحیح مقام بتایا کہ وہ اللہ کے بیٹے نہیں تھے بلکہ اللہ کے رسول تھے۔ قرآن مجید کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اہل ایمان کے لیے ہدایت ہے اور رحمت ہے اہل ایمان اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اس لیے ان کے لیے قرآن ہدایت اور رحمت ہے، ہے تو غیر مومنین کے لیے بھی ہدایت اور رحمت لیکن وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اس لیے وہ اس کی خیر اور برکات سے محروم ہیں۔ تیسری آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اس وقت حق اور باطل ظاہرہو جائے گا (وَ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ ) (اللہ زبردست ہے وہ قیامت کے دن سب کو حاضر فرمائے گا اور وہ علیم بھی ہے اس کو ہر ہر فرد کا اور ہر ہر فرد کے عقیدہ اور عقل کا علم ہے) کوئی اس سے چھوٹ کر جا نہیں سکتا اور کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ چوتھی آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی کہ آپ اللہ پر بھروسہ کیجیے ان لوگوں کی تکذیب سے غمگین نہ ہوجائیے بلاشبہ آپ صریح حق پر ہیں حق پر ہونا ہی تسلی اور ثبات قدمی کے لیے کافی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

65:۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس سے حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کا بیان مقصود ہے۔ یعنی یہ قرآن بہت سے ایسے مسائل کا صحیح صحیح فیصلہ کرتا ہے جن میں بنی اسرائیل آپس میں مختلف تھے اور کوئی حتمی فیصلہ نہ کر پاتے تھے۔ مثلاً حضرت مسیح اور حضرت مریم کے بارے میں ان کا اختلاف وہ ان کے بارے میں افراط وتفریط میں گرفتار تھے قرآن نے اس معاملے میں افراط وتفریط کے درمیان صحیح راہ بتائی۔ یہودی ان کو برا جانتے تھے اور طعن کرتے تھے۔ عیسائی ان کو خدا اور خدا کا بیٹا اور دونوں کو کارساز سمجھتے تھے قرآن نے دونوں نظریوں کو باطل ٹھہرا کر صحیح فیصلہ دیا کہ وہ دونوں ہمارے نیک اور برگزیدہ بندے ہیں وہ نہ خدا ہیں، نہ خدا کے نور سے ہیں اور نہ کارساز ہیں ایسے امور غیبیہ صحیح صحیح بتا دینا یہحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق نبوت کی دلیل ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(76) بلاشبہ ! یہ قرآن کریم بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں کی حقیقت کو ظاہر کردیتا ہے اور بیان کردیتا ہے جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے ہیں۔