Surat un Namal

Surah: 27

Verse: 9

سورة النمل

یٰمُوۡسٰۤی اِنَّہٗۤ اَنَا اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ۙ﴿۹﴾

O Moses, indeed it is I - Allah , the Exalted in Might, the Wise."

موسٰی! سُن بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں غالب با حکمت ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

O Musa! Verily, it is I, Allah, the All-Mighty, the All-Wise. Allah told him that the One Who was addressing him was his Lord Allah, the All-Mighty, Who has subjugated and subdued all things, the One Who is Wise in all His words and deeds.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

91درخت سے ندا کا آنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے باعث تعجب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسٰی ! تعجب نہ کر میں ہی اللہ ہوں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩] اس منظر نے پھر اس آواز نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تو پھر آواز آئی : موسیٰ && میں اللہ ہوں، زبردست ہوں اور حکمت والا ہوں && اور یہاں سبحان اللہ کہنے سے مقصود یہ تھا کہ اللہ رب العالمین ایسا نہیں جو اس درخت میں یا آگ میں موجود ہو یا ان میں حلول کر آیا ہو۔ بس اس مقام پر اللہ نے اپنی تجلی ڈالی تھی۔ جیسے سورج کے سامنے شیشہ رکھنے سے شیشے میں سے بھی روشنی اور اس کی شعاعیں اور سورج سب کچھ نظر آنے لگتے ہیں۔ لیکن یہ کہا جاسکتا ہے اتنا بڑا سورج چھوٹے سے آئینہ میں سما گیا ہے یا اس جگہ موجود ہے۔ جہمیہ اور معتزلہ جو اللہ تعالیٰ کی صفات کی بزعم خود تنزیہہ بیان کرتے اور اپنے آپ کو اہل التوحید کہتے تھے نیز بعض متصوفین اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی آواز نہیں سنی بلکہ اس درخت میں اللہ تعالیٰ نے بات کرنے کی قوت پیدا کردی تھی اور یہ آواز اسی درخت کی آواز تھی اور اسی درخت سے نکل رہی تھی۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا درخت بیچارے کی یہ مال ہے کہ وہ کہا && میں اللہ ہوں، زبردست اور حکمتوں والا && اور درخت یہ دعویٰ کرسکتا ہے تو پھر حسین بن منصور بن حلاج کا کیا قصور تھا جس نے اناالحق کا دعویٰ کیا تھا ؟ نیز جنید بغدادی اور دیگر علمائے حق نے اس کے قتل کا کیوں فتویٰ دیا تھا ؟ دراصل یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے سے ہمکلام ہونے کی ایک مسلمہ خاص شکل ہے مجھے سورة شوریٰ کی آیت نمبر ٥١ میں اومن واری حجاب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور 2[ mrl[ وراء کا لفظ آگے، پیچھے، اوپر، نیچے غرضیکہ سب سمتوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے حجاب میں رہ کر درخت کی طرف سے کلام کی تھی اور اللہ کا حجاب نور ہے جیسا کہ احادیث میں وارد ہے کہ حجاب النور تو یا اس روشنی کے پار سے اللہ تعالیٰ نے خود موسیٰ (علیہ السلام) سے باتیں کی تھیں اسی لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے۔ کیونکہ قرآن میں اللہ نے واضح طوف پر فرمایا ہے وکلم اژ موسیٰ تکلیما جب کہ معتزلہ اللہ کے کلام کرنے کے منکر ہیں اور متصوفین عقیدہ حلول کو درست سمجھتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : دیکھیے سورة طٰہٰ (١٤) یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنی دو صفات بیان فرمائیں، ایک ” عزیز “ اور دوسری ” حکیم “۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جو عظیم ذمہ داری دی جانے والی تھی اس کے لیے انھیں یہ اطمینان دلانا ضروری تھا کہ فرعون کو دعوت دیتے وقت اس کی شان و شوکت یا قوت و عظمت سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ انھیں بھیجنے والا اللہ ہے جو سب پر غالب ہے اور جو کمال حکمت والا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے گھر پرورش دلانے، پھر دس سال بکریاں چروانے اور اندھیری رات میں صحرا میں راستہ بھلا کر اچانک نبوت اور معجزے عطا کرکے فرعون کی طرف بھیجنے میں اس کی بیشمار حکمتیں ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰمُوْسٰٓي اِنَّہٗٓ اَنَا اللہُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ٩ۙ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزۃ العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٩۔ ١٠) ارشاد ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں اور جو میرے اوپر ایمان نہ لائے اس کو سزا دینے میں زبردست ہوں اور اپنے حکم اور فیصلہ میں حکمت والا ہوں۔ میں نے اس چیز کا حکم دیا ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے اور تم ہاتھ میں سے اپنا عصا زمین پر ڈال دو ، چناچہ انہوں نے ڈال دیا، سو جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے سانپ ہو تو وہ اس سے مڑ کر بھاگے اور اس کے ڈر کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ارشاد خداوندی ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) ڈور نہیں اور ہمارے حضور میں پیغمبر نہیں ڈرا کرتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩ (یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٗٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) ” میں اللہ ہوں اور میں ہی آپ ( علیہ السلام) سے اس وقت خطاب کر رہا ہوں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(27:9) یموسیٰ ۔۔ قیل معناہ ان موسیٰ قال من المنادی قال یموسیٰ ۔۔ جیسے موسیٰ نے کہا ہو کون ہے یہ پکارنے والا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہ انا للہ ۔۔ انہ میں ضمیر شان ہے انا مبتداء اللہ خبر۔ العزیز الحکیم خبر کی صفات ہیں اے موسیٰ یہ میں ہوں۔ اللہ۔ بڑے غلبہ والا۔ بڑی حکمت والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مبارک ہونے کی بشارت کے بعد اللہ پاک کا مزید خطاب ہوا اور فرمایا (یٰمُوْسٰی اِِنَّہٗٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) کہ اے موسیٰ بیشک میں اللہ ہوں عزیز ہوں حکیم ہوں۔ اس کے بعد لاٹھی کے بارے میں سوال و جواب ہوا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں تھی، پھر اس لاٹھی کے ڈالنے کا حکم فرمایا جب انہوں نے لاٹھی کو ڈال دیا تو وہ اژدھا بن گئی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح سے ہے اور اس کی حرکت ہو رہی ہے یہ حال دیکھ کر وہ پچھلے پاؤں لوٹے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا یہ خوف طبعی تھا جس کا اس وقت مظاہرہ ہوا، اللہ پاک کا ارشاد ہوا کہ اسے پکڑ لو ڈرو نہیں ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے اور یہ بھی فرمایا کہ (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) (میرے حضور میں پیغمبر نہیں ڈرا کرتے) لہٰذا تم ڈرو نہیں میری طرف سے تمہاری حفاظت ہوگی۔ بظاہر اس سے پہلے انہیں نبوت اور رسالت سے نوازنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہم کلامی ہی رسالت عطا فرمانے کے قائم مقام ہوگئی جیسا کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) نے خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غار حرا میں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات سنا دیں اور اسی سے آپ کے پیغمبر ہونے کی ابتدائی خبر دی گئی، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) میں دونوں باتیں بیان فرما دیں اول رسالت کا اعلان فرمایا، دوم رسولوں کی ایک صفت خاص فرما دی اور وہ یہ کہ اللہ کے رسول، اللہ کے حضور میں کسی مخلوق سے نہیں ڈرتے قال صاحب الروح و التقید بلدی لان المرسلین فی سائر الاحیان اخوف الناس من اللہ عزوجل۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ اے موسیٰ اس وقت تم سے کلام کرنے والا میں ہوں جو سارے جہاں میں متصرف اور فاعل مختار ہوں “ العزیز الحکیم ” یہ ماقبل کے لیے بمنزلہ علت ہے۔ کیونکہ میں قدرت کے اعتبار سے سب پر غالب اور علم و حکمت کے اعتبار سے ہر چیز پر حاوی ہوں۔ “ والق عصاک ” یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت کا ذکر کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی لاٹھی زمین پر پھینکنے کا حکم دیا تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ معجزہ عصا اور ید بیضاء اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے لیکن ان کا ظہور محض اللہ کی قدرت سے ہوا اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اختیار و تصرف کو کوئی دخل نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(9) اے موسیٰ (علیہ السلام) بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں کمال قوت کا مالک بڑی ہمت والا یعنی جو بلا کیف کلام کر رہا ہوں میں ہی اللہ ہوں کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہوں۔