Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 19

سورة القصص

فَلَمَّاۤ اَنۡ اَرَادَ اَنۡ یَّبۡطِشَ بِالَّذِیۡ ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَا ۙ قَالَ یٰمُوۡسٰۤی اَتُرِیۡدُ اَنۡ تَقۡتُلَنِیۡ کَمَا قَتَلۡتَ نَفۡسًۢا بِالۡاَمۡسِ ٭ۖ اِنۡ تُرِیۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ جَبَّارًا فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا تُرِیۡدُ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِیۡنَ ﴿۱۹﴾

And when he wanted to strike the one who was an enemy to both of them, he said, "O Moses, do you intend to kill me as you killed someone yesterday? You only want to be a tyrant in the land and do not want to be of the amenders."

پھر جب اپنے اور اس کے دشمن کو پکڑنا چاہا وہ فریادی کہنے لگا کہ موسیٰ ( علیہ السلام ) کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے مجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے ، تو تو ملک میں ظالم و سرکش ہونا ہی چاہتا ہے اور تیرا یہ ارادہ ہی نہیں کہ ملاپ کرنے والوں میں سے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَلَمَّا أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِالَّذِي هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا ... Then when he decided to seize the man who was an enemy to both of them, Then Musa intended to attack that Coptic, but the Israelite -- because of his own cowardice and weakness -- thought that Musa wanted to hit him because of what he had said, so he said, in self-defence -- ... قَالَ يَا مُوسَى أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالاْاَمْسِ ... the man said: O Musa! Is it your intention to kill me as you killed a man yesterday? ... إِن تُرِيدُ إِلاَّ أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِي الاَْرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ Your aim is nothing but to become a tyrant in the land, and not to be one of those who do right." Nobody except him and Musa, peace be upon him, knew about it, but when the other Coptic heard this, he took the news to Fir`awn's gate and told him about it. So Fir`awn came to know of it, and he became very angry and resolved to kill Musa, so he sent people after him to bring him to him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

191یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چاہا کہ قطبی کو پکڑ لیں، کیونکہ وہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کا دشمن تھا، تاکہ لڑائی زیادہ نہ بڑھے۔ 192فریادی (اسرائیلی) سمجھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) شاید اسے پکڑنے لگے ہیں تو وہ بول اٹھا کہ اے موسٰی، جس سے قبطی کے علم میں یہ بات آگئی کہ کل جو قتل ہوا تھا، اس کا قاتل موسیٰ (علیہ السلام) ہے، اس نے جا کر فرعون کو بتلا دیا جس پر فرعون نے اس کے بدلے میں موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا عزم کرلیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] سبطی کو اس طرح ملامت کرنے کے بعد موسیٰ نے ارادہ کیا کہ قبطی کو پکڑ کر اس سبطی کو اس سے نجات دلائیں۔ مگر سبطی یہ سمجھا کہ موسیٰ نے چونکہ آج مجھے ہی ملامت کی ہے۔ لہذا مجھی پر ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں۔ لہذا وہ فوراً بک اٹھا اور کہنے لگا کہ موسیٰ کیا تم مجھے اسی طرح موت کے گھاٹ اتارنا چاہتے ہو جس طرح کل تم نے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑے کی صورت میں کسی نہ کسی کو مار ڈالنا ہی جانتے ہو۔ ان کا مقدمہ سن کر ان میں صلح یا سمجھوتہ کرانا نہیں جانتے۔ قبطی نے جب سبطی کے منہ سے یہ بات سنی تو اس نے لڑائی جھگڑا تو وہیں چھوڑا اور ایک دم بھاگ کر فرعون اور اس کے اہلکاروں کو یہ اطلاع دے دی کہ کل جو قبطی قتل ہوا ہے اس کا قاتل موسیٰ ہے۔ گویا جس راز پر اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے۔ اسے اسی احمق سبطی نے فاش کر ڈالا جس کی حمایت میں آپ نے قبطی کو مارا تھا۔ جب فرعون کے اہلکاروں کو قتل کے مجرم کا پتا چل گیا تو موسیٰ کی گرفتار کا حکم صادر ہوگیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ اَنْ يَّبْطِشَ بِالَّذِيْ ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَا۝ ٠ۙ قَالَ يٰمُوْسٰٓى اَتُرِيْدُ اَنْ تَــقْتُلَنِيْ كَـمَا قَتَلْتَ نَفْسًاۢ بِالْاَمْسِ۝ ٠ۤۖ اِنْ تُرِيْدُ اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِي الْاَرْضِ وَمَا تُرِيْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِيْنَ۝ ١٩ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ بطش البَطْشُ : تناول الشیء بصولة، قال تعالی: وَإِذا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ [ الشعراء/ 130] ، يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] ، وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] ، إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] . يقال : يد بَاطِشَة . ( ب ط ش ) البطش کے معنی کوئی چیز زبردستی لے لینا کے ہیں قرآن میں : { وَإِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِينَ } ( سورة الشعراء 130) اور جب کسی کو پکڑتے تو ظالمانہ پکڑتے ہو ۔ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرى[ الدخان/ 16] جس دن ہم بڑی سخت پکڑ پکڑیں گے ۔ وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنا [ القمر/ 36] اور لوط نے ان کو ہماری گرفت سے ڈرایا ۔ إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ [ البروج/ 12] بیشک تمہاری پروردگار کی گرفت بڑی سخت ہے ید کا طشۃ سخت گیر ہاتھ ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] جبر أصل الجَبْر : إصلاح الشیء بضرب من القهر، والجبّار في صفة الإنسان يقال لمن يجبر نقیصته بادّعاء منزلة من التعالي لا يستحقها، وهذا لا يقال إلا علی طریق الذم، کقوله عزّ وجل : وَخابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ [إبراهيم/ 15] ( ج ب ر ) الجبر اصل میں جبر کے معنی زبردستی اور دباؤ سے کسی چیز کی اصلاح کرنے کے ہیں ۔ الجبار انسان کی صفت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ناجائز تعلی سے اپنے نقص کو چھپانے کی کوشش کرنا ۔ بدیں معنی اس کا استعمال بطور مذمت ہی ہوتا ہے ۔ جیسے قران میں ہے : ۔ وَخابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ [إبراهيم/ 15] تو ہر سرکش ضدی نامراد ہ گیا ۔ صلح والصُّلْحُ يختصّ بإزالة النّفار بين الناس، يقال منه : اصْطَلَحُوا وتَصَالَحُوا، قال : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] ( ص ل ح ) الصلاح اور الصلح کا لفظ خاص کر لوگوں سے باہمی نفرت کو دورکر کے ( امن و سلامتی پیدا کرنے پر بولا جاتا ہے ) چناچہ اصطلحوا وتصالحوا کے معنی باہم امن و سلامتی سے رہنے کے ہیں قرآن میں ہے : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] کہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کرلیں اور صلح ہی بہتر ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩) سو جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اسرائیلی کو شبہ ہوا کہ شاید آج مجھ سے مواخذہ کریں گے گھبرا کر کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا آج مجھ کو قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ کل ایک قبطی کو قتل کرچکے ہو معلوم ہوتا ہے کہ سر زمین مصر میں تم اپنا زور بٹھانا چاہتے ہو امر بالعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے صلح کرانا نہیں چاہتے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩ (فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بالَّذِیْ ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَالا) ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگے تو بڑھے تھے اس قبطی کو پکڑنے کے لیے تاکہ اسے اپنے اسرائیلی بھائی کو مارنے سے روک سکیں ‘ لیکن چونکہ آپ ( علیہ السلام) کے غصے کا رخ اسرائیلی کی طرف تھا اور اس کو سختی سے ڈانٹتے ہوئے آپ ( علیہ السلام) نے اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ کہا تھا ‘ اس لیے وہ سمجھا کہ آپ ( علیہ السلام) اس کی پٹائی کرنا چاہتے ہیں ‘ چناچہ : (قَالَ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًام بالْاَمْسِق) ” گویا اس نے اپنی حماقت سے بھانڈا ہی پھوڑ دیا کہ کل والا قتل موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا تھا۔ (وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ ) ” گویا اس مکالمے سے اس اسرائیلی نے ثابت کردیا کہ وہ خود ایک منفی سوچ کا حامل اور گھٹیا کردار کا مالک شخص تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 Here, the Biblical version is different from the Qur'anic. The Bible says that the fight on the next day was between two Israelites, but according to the Qur'an this fight also was between an Israelite and an Egyptian. This second version seems to be credible, for the manner in which the secret of the murder of the tirst day became known, as is being mentioned below, could be possible only if a member of the Coptic community had come to know of the matter. An Israelite's knowledge of it could not be so treacherous: he could not have gone to inform the Pharaonic government of such a heinous crime committed by the prince, who was a great supporter of his own community. 29 The one who cried out was the same Israelite whom the Prophet Moses wanted to help against the enemy. When after scolding and rebuking him, he turned to assault the Egyptian, the Israelite thought that Moses was going to strike him; therefore, he raised a hue and cry and disclosed the secret of the previous day's murder by this own folly.

سورة القصص حاشیہ نمبر : 28 بائیبل کا بیان یہاں قرآن کے بیان سے مختلف ہے ۔ بائیبل کہتی ہے کہ دوسرے دن کا جھگڑا دو اسرائیلیوں کے درمیان تھا ۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ یہ جھگڑا بھی اسرائیلی اور مصری کے درمیان ہی تھا ، قرین قیاس بھی یہی دوسرا بیان معلوم ہوتا ہے ، کیونکہ پہلے دن کے قتل کا راز فاش ہونے کی جو صورت آگے بیان ہو رہی ہے وہ اسی طرح رونما ہوسکتی تھی کہ مصری قوم کے ایک شخص کو اس واقعہ کی خبر ہوجاتی ۔ ایک اسرائیلی کے علم میں اس کے آجانے سے یہ امکان کم تھا کہ اپنی کے پشیبان شہزادے کے اتنے بڑے قصور کی اطلاع پاتے ہی وہ جاکر فرعونی حکومت میں اس کی مخبری کردیتا ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 29 یہ پکارنے والا وہی اسرائیلی تھا جس کی مدد کے لیے حضرت موسی آگے بڑھے تھے ۔ اس کو ڈانٹنے کے بعد جب آپ مصری کو مارنے کے لیے چلے تو اس اسرائیلی نے سمجھا کہ یہ مجھے مارنے آرہے ہیں ، اس لیے اس نے چیخنا شروع کردیا اور اپنی حماقت سے کل کے قتل کا راز فاش کر ڈالا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہاتھ تو اس مصری قبطی کی طرف بڑھایا تھا، تاکہ اسے مارنے سے روکیں، لیکن اسرائیلی نے جب اُن کا یہ جملہ سناکہ: ’’تم بڑے شریر آدمی ہو‘‘ تو وہ یہ سمجھا کہ وہ اِس کو مارنے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔ اِس لئے اس نے یہ بات کہی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:19) فلما ان اراد ان یبطش بالذی۔ اس میں پہلا ان زائدہ ہے اور لما کی تاکید کے لئے آیا ہے ۔ دوسرا ان مصدریہ ہے اور اسی کی وجہ سے مضارع منصوب ہے بطش مصدر۔ (باب ضرب) سختی اور قوت کے ساتھ پکڑنا۔ ان بثش ربک لشدید (85:12) بیشک تمہارے پروردگار کی گرفت بڑی سخت ہے۔ ترجمہ :۔ پس جب اس (حضرت موسیٰ ) نے پکڑنے کا ارادہ کیا۔ عدو لہما۔ دونوں کا دشمن ۔ یعنی قبطی کیونکہ وہ ان دونوں کے مذہب پر نہ تھا۔ اور قبطی اسرائیلیوں کے سب سے بڑھ کر دشمن تھے قال یموسی۔ قال میں ضمیر فاعل اس اسرائیلی کی طرف راجع ہے جو کل کی طرح آج بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو امداد کے لئے پکار رہا تھا۔ بعض کے نزدیک اس کا مرجع القبطی ہے۔ ان ترید۔ میں ان نافیہ ہے۔ جبارا۔ زبردست دباؤ والا۔ سرکش۔ انسان کا ناجائز تعلی کے ذریعہ اپنے نقص کو چھپانے کی کوشش کرنا۔ جبر کہلاتا ہے۔ لیکن جب یہ باری تعالیٰ کی صفت ہو تو اس کے اشتقاق میں اہل لغت سے دو قول منقول ہیں :۔ (91 بعض نے کہا ہے کہ یہ جبرت الفقیر کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی فقیر کی حالت کو درست کرنے اور اسے بےنیاز کردینے کے ہیں۔ یعنی باری تعالیٰ بھی چونکہ اپنے فیضان نعمت سے لوگوں کی حالتیں درست کرتا ہے اور ان کے نقصانات پورے کرتا ہے اس لئے اسے الجنار کہا جاتا ہے۔ (2) یہ کہ چونکہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ کے آگے سب کو مجبور کردیتا ہے اس لئے وہ جبار ہے یہاں ان تکون جبارا فی الارض کا ترجمہ یوں ہے :۔ کہ تو ملک میں زبردستی اور سینہ زوری کرنے والا بنے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ ” تو وہ کہنے لگا “ میں ” وہ “ سے مراد جمہور مفسرین (رح) نے اسرائیلی لیا ہے کیونکہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے قبطی کو پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو وہ سمجھا کہ شاید مجھ ہی کو پکڑ کر مارنا چاہتے ہیں۔ اس پر اس نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے یہ الفاظ کہے۔ جن مفسرین (رح) نے یہ مطلب لیا ہے اہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت تک اس اسرائیلی اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے سوا کسی شخص کو معلوم نہ تھا کہ کل جو قبطی قتل ہوا ہے اس کا قاتل کون ہے اور قاتل کی تلاش ہو رہی تھی۔ اب جب کہ اس دوسرے قبطی نے اسرائیلی کی زبان سے یہ الفاظ سنے تو اس نے جا کر فرعون کو اطلاع کردی مگر سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ” وہ “ سے مراد قبطی ہے اور ممکن ہے اس قبطی کو اس اسرائیلی کے ذریعہ معلوم ہوگیا ہو۔ یا وہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس اسرائیلی کو ” غوی مبین “ کہنے سے سمجھ گیا ہو کہ کل جو شخص قتل ہوا تھا اس کے قاتل حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) تھے۔ (شوکانی) 8 ۔ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے یہ بات بھی قبطی ہی کہہ سکتا تھا جو کافر تھا نہ کہ اسرائیلی جو مومن تھا۔ (شوکانی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

19۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس فرعونی کو پکڑنے کا ارادہ کیا جو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس اسرائیلی دونوں کا مخالف اور دشمن تھا وہ اسرائیلی یہ سمجھ کر کہ مجھ کو پکڑنا چاہتے ہیں کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا تھا آج مجھ کو قتل کرنا چاہتا ہے تم تو بس یہی چاہتے ہو کہ عواقب اور انجام کا خیال کئے بغیر ملک میں ماردھاڑ اور زبردستی کرتے پھرو اور تم باہمی صلح و صفائی اور میل ملاپ کرانے والے لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہتے ۔ یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اس اسرائیلی نے پکارا تو اول موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو یہ کہہ کر ڈانٹا کہ انک لغوی مبین پھر اس کے بعد فرعونی کو پکڑنا چاہا یہ اسرائیلی سمجھا کہ مجھ کو پکڑناچاہتے ہیں کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) مجھ سے ناراض ہیں اور مجھ کو لغوی مبین فرماچکے ہیں اس لئے اس نے گھبرا کر بیسا ختہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کیا تو آج مجھ کو قتل کرنا چاہتا ہے جس طرح تو کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے تو مصر کی سر زمین پر انجام کو بغیر سوچے سمجھے زبردستی اور زور دکھانا چاہتا ہے اور مار ڈھاڑ کرنا چاہتا ہے تو میل ملاپ کرنے والوں میں سے ہونا نہیں چاہتا۔ یہ فقیرے اس اسرائیلی نے اس انداز سے کہے کہ جو بات کل سے کسی کو معلوم نہ تھی وہ ظاہر ہوگئی اور فرعونی کے قاتل کا سراغ مل گیا اور پولیس کو معلوم ہوگیا کہ باورچی خانہ کے منیجر کا قاتل یہی موسیٰ (علیہ السلام) ہے چناچہ اس راز کا افشا ہونا اور وہ بھی اپنی ہی جماعت کے ایک نادان دوست کی زبان سے افشا ہونا۔ غضب ہوگیا فرعونی نے فوراً ہل دربار کو طلب کیا اور باہمی مشورہ ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی زیادتیوں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خدا پرستی میں بحثیں ہوئیں اور بالآخر موسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کی تجویز طے ہوئی انہیں دربار میں سے کوئی موسیٰ (علیہ السلام) کا ہمدرد جو اندرونی طور پر مسلمان تھا شاید اس کا نام حزقیل تھا یا حزبیل تھا وہ راستہ بدل کر وہاں سے بھاگا اور پولیس کے آنے سے پہلے وہ موسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچ گیا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) نے فرمایا ہاتھ ڈالنا چاہا اس ظالم پر بول اٹھا مظلوم جانا کہ زبان سے مجھ پر غصہ کیا تھا ہاتھ بھی چلا دیں گے وہ کل کا خون چھپا رہا تھا آج اسکی زبان سے مشہورہوا ۔ 12