Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 29

سورة القصص

فَلَمَّا قَضٰی مُوۡسَی الۡاَجَلَ وَ سَارَ بِاَہۡلِہٖۤ اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا ۚ قَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾

And when Moses had completed the term and was traveling with his family, he perceived from the direction of the mount a fire. He said to his family, "Stay here; indeed, I have perceived a fire. Perhaps I will bring you from there [some] information or burning wood from the fire that you may warm yourselves."

جب حضرت مو سٰی علیہ السلام نے مدت پوری کر لی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوہ طور کی طرف آگ دیکھی ۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ٹھہرو! میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر لاؤں یا آگ کا کوئی انگارہ لاؤں تاکہ تم سینک لو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Musa's Return to Egypt and how he was honored with the Mission and Miracles on the Way In the explanation of the previous Ayah, we have already seen that Musa completed the longer and better of the two terms, which may also be understood from the Ayah where Allah says: فَلَمَّا قَضَى مُوسَىالاَْجَلَ ... Then, when Musa had fulfilled the term, meaning, the longer of the two; and Allah knows best. ... وَسَارَ بِأَهْلِهِ ... and was traveling with his family, They said: "Musa missed his country and his relatives, so he resolved to visit them in secret, without Fir`awn and his people knowing. So he gathered up his family and the flocks which his father-in-law had given to him, and set out on a cold, dark, rainy night. They stopped to camp, and whenever he tried to start a fire, he did not succeed. He was surprised by this, and while he was in this state, ... انَسَ مِن جَانِبِ الطُّورِ نَارًا ... he saw a fire in the direction of At-Tur, he saw a fire burning from a far. ... قَالَ لاِاَهْلِهِ امْكُثُوا إِنِّي انَسْتُ نَارًا ... He said to his family: "Wait, I have seen a fire..." meaning, `wait while I go there,' ... لَّعَلِّي اتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ ... perhaps I may bring to you from there some information, This was because they lost their way. ... أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ or a burning firebrand that you may warm yourselves. so that they could get warm and find relief from the cold.

دس سال حق مہر پہلے یہ بیان گزرچکا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے ۔ قرآن کے اس لفظ الاجل سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے واللہ اعلم ۔ بلکہ حضرت مجاہد کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے ۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہوگیا ۔ آپ ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی ۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لئے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں ۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤنگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہوجائے ۔ جب آپ وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی ۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے ( وماکنت بجانب الغربی ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آرہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی ۔ یہ وہاں جاکر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی ، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی ۔ حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے حضرت موسیٰ کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہاہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی ۔ کلیم اللہ نے سنا کہ آواز آرہی ہے کہ اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین ۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں ۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں ۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بےمثل ہوں اور وحدہ لاشریک ہوں ۔ میری ذات ، میری صفات ، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں ۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں ۔ اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ اے موسیٰ تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں ۔ اب مطلع فرمایا کہ لکڑی کو احساس دلاکر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی ۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہا بن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی ۔ یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرمادے ٹل نہیں سکتا ۔ سورۃ طہ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزرچکا ہے ۔ اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جارہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا ۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے اسے دیکھ کر حضرت موسیٰ سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا ۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے ۔ اب حضرت موسیٰ کا دل ٹھہر گیا ۔ اطمینان سے بےخوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آکر باادب کھڑے ہوگئے ۔ یہ معجزہ عطافرماکر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ حضرت موسیٰ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہوجائے ۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا ۔ پھر حکم دیا کہ تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا ۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو انشاء اللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ ابتدا میں حضرت موسیٰ کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے ۔ دعا ( اللھم انی ادرابک فی نحرہ واعوذبک من شرہ ) ۔ اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں ۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اسکا یہ حال ہوگیا تھا کہ حضرت موسیٰ کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہوجاتا تھا ۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

291حضرت ابن عباس نے اس مدت سے دس سالہ مدت مراد لی ہے، کیونکہ یہی اکمل اور اطیب (یعنی خسر موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے خوشگوار اور مرغوب) تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کریمانہ اخلاق نے اپنے بوڑھے خسر کی دلی خواہش کے خلاف کرنا پسند نہیں کیا۔ 292اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے جاسکتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٩] اس معاہدہ کے بعد حضرت شعیب نے اپنی بیٹی کا حضرت موسیٰ سے نکاح کردیا۔ اور آپ وہاں متاہل زندگی گزارنے لگے۔ کہتے ہیں کہ جس لڑکی سے آپ کا نکاح ہوا اس کا نام صفورہ تھا۔ آپ نکاح کے بعد یہاں آٹھ کے بجائے دس سال ہی قیام پذیر رہے۔ پھر اپنے آبائی وطن مصر کی طرف جانے کے ارادہ سے اپنے اہل و عیال سمیت مدین سے نکل کھڑے ہوئے۔ ایک تو آپ کو اپنے والدین اور بہن بھائی سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ دوسرے آپ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ ممکن ہے لوگ اب تک واقعہ قتل کو بھول چکے ہوں، اس لئے اپنے ہی وطن جانا مناسب سمجھا۔ راستہ میں جب آپ طور سینا کے دامن میں پہنچے تو اندھیری رات کی وجہ سے راستہ بھول گئے۔ سردی کا موسم اور شدید ٹھنڈی رات اور بال بچے ساتھ تھے۔ سخت پریشان ہوگئے۔ ایسے حال میں کوئی راہ بتلانے والا بھی نہیں مل رہا تھا۔ آخر دور سے انھیں ایک آگ نظر آئی جسے آپ نے غنیمت سمجھا اور خیال کیا کہ وہاں کوئی آگ جلانے والا تو ضرور ہوگا۔ لہذا اپنے اہل و عیال سے کہا تم یہیں ٹھہرو۔ میں اس آگ کے قریب جاتا ہوں۔ اگر کسی نے راستہ بتلا دیا تو فبھا ورنہ کچھ آگ کے انگارے ہی لے آؤں گا۔ تاکہ آپ لوگ اسے سینک سکیں۔ (یہ پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة طٰہ میں گزر چکا ہے)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَهْلِهٖٓ : اہل کتاب اور اکثر مسلمان مفسرین کا کہنا ہے کہ ان دس سالوں کے دوران وہ فرعون فوت ہوگیا جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی تھی اور اب اس کی جگہ اور فرعون حکمران تھا۔ (واللہ اعلم) موسیٰ (علیہ السلام) نے جب وہ مدت پوری کرلی تو بیوی کو لے کر اپنے وطن جانے کے ارادے سے مدین سے روانہ ہوگئے۔ اس ارادے کی دلیل یہ ہے کہ طور اس راستے پر واقع ہے جو مدین سے مصر کی طرف جاتا ہے۔ ایک تو اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے کا شوق تھا، دوسرے ہوسکتا ہے یہ خیال بھی ہو کہ لوگ اب تک اس واقعہ کو بھول چکے ہوں گے اور وہاں رہنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا ۔۔ : ” جَذْوَةٍ “ لکڑی کا ٹکڑا جس کے سرے پر آگ ہو۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة طٰہٰ اور سورة نمل میں گزر چکا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary فَلَمَّا قَضَىٰ مُوسَى الْأَجَلَ (So When Musa (علیہ السلام) completed the term - 28:29). Then Sayyidna Musa (علیہ السلام) completed his term of service, which was eight years compulsory and two years optional. A question arises here, whether he completed eight years of service or ten years. Sahih al-Bukhari has reported that when this question was put to Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) ، he answered ten years, and added that prophets always fulfill their commitments, rather they do more than what they agree to. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was also in the habit of giving more than due to the one having a right. He has also advised the Ummah to be selfless and considerate in the matters of employment, wages, and business dealings.

خلاصہ تفسیر غرض جب موسیٰ (علیہ السلام) اس مدت کو پورا کرچکے اور (باجازت شعیب (علیہ السلام) کے) اپنی بی بی کو لے کر (مصر کو یا شام کو) روانہ ہوئے تو (ایک شب میں ایسا اتفاق ہوا کہ سردی بھی تھی اور راہ بھی بھول گئے اس وقت) ان کو کوہ طور کی طرف سے ایک (روشنی بشکل) آگ دکھلائی دی، انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں ہی) ٹھہرے رہو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں تمہارے پاس وہاں سے (راستہ کی) کچھ خبر لاؤں یا کوئی آگ کا (دہکتا ہوا) انگارا لے آؤں تاکہ تم سینک لو، سو وہ جب اس آگ کے پاس پہنچے تو ان کو اس میدان کے داہنی جانب سے (جو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی داہنی جانب تھی) اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسیٰ میں رب العالمین ہوں اور یہ (بھی آواز آئی) کہ تم اپنا عصا ڈال دو (چنانچہ انہوں نے ڈال دیا اور وہ سانپ بن کر چلنے لگا) سو انہوں نے جب اس کو لہراتا ہوا دیکھا جیسا پتلا سانپ (تیز) ہوتا ہے تو پشت پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) اے موسیٰ آگے آؤ اور ڈرو مت (ہر طرح) امن میں ہو (اور یہ کوئی ڈر کی بات نہیں بلکہ تمہارا معجزہ ہے اور دوسرا معجزہ اور عنایت ہوتا ہے کہ) تم اپنا ہاتھ گریبان کے اندر ڈالو ( اور پھر نکالو) وہ بلا کسی مرض کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا اور (اگر مثل انقلاب عصا کے اس معجزہ سے بھی طبعاً خوف اور حیرت پیدا ہو تو) خوف (رفع کرنے) کے واسطے اپنا (وہ) ہاتھ (پھر) اپنے (گریبان اور بغل) سے (بدستور سابق) ملا لینا (تاکہ وہ پھر اصلی حالت پر ہوجائے اور پھر طبعی خوف بھی نہ ہوا کرے) سو یہ (تمہاری نبوت کی) دو سندیں ( اور دلیلیں) ہیں تمہارے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس جانے کے واسطے (جس کا تم کو حکم کیا جاتا ہے کیونکہ) وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں، انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب (میں جانے کے لئے حاضر ہوں مگر آپ کی خاص امداد کی ضرورت ہے کیونکہ) میں نے ان میں سے ایک آدمی کا خون کردیا تھا سو مجھ کو اندیشہ ہے کہ (کہیں پہلے ہی) وہ لوگ مجھ کو قتل کردیں (تبلیغ بھی نہ ہونے پاوے) اور (دوسری بات یہ ہے کہ زبان بھی زیادہ رواں نہیں ہے اور) میرے بھائی ہارون کی زبان مجھ سے زیادہ رواں ہے تو ان کو بھی میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ رسالت دیدیجئے کہ (وہ میری تقریر کی تائید اور) تصدیق (مفصل اور مکمل طور سے) کریں گے (کیونکہ) مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ لوگ (فرعون اور اس کے درباری) میری تکذیب کریں (تو اس وقت مناظرہ کی ضرورت ہوگی اور زبانی مناظرہ کے لئے عادةً وہ آدمی زیادہ مفید ہوتا ہے جو رواں زبان ہو) ارشاد ہوا کہ (بہتر ہے) ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں ( ایک درخواست تو یہ منظور ہوئی) اور (دوسری درخواست کی منظوری اس طرح ہوئی کہ) ہم تم دونوں کو ایک خاص شوکت (وہیبت) عطا کرتے ہیں جس سے ان لوگوں کو تم پر دسترس نہ ہوگی (پس) ہمارے معجزے لے کر جاؤ تم دونوں اور جو تمہارا پیرو ہوگا (ان لوگوں پر) غالب رہو گے۔ معارف ومسائل فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ ، یعنی جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت معینہ ملازمت کی پوری کردی جو آٹھ سال لازمی اور دو سال اختیاری تھی سو یہاں سوال یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف آٹھ سال پورے کئے یا دس سال۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عباس سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے زیادہ مدت یعنی دس سال پورے کئے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی یہی شان ہے کہ جو کچھ کہتے ہیں اس کو پورا کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی عادت شریفہ تھی کہ حقدار کو اس کے حق سے زائد ادا فرماتے تھے اور امت کو اسی کی ہدایت فرمائی ہے کہ ملازمت، اجرت اور خریدو فروخت میں مساہلت اور ایثار سے کام لیا جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَہْلِہٖٓ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا۝ ٠ۚ قَالَ لِاَہْلِہِ امْكُثُوْٓا اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّيْٓ اٰتِيْكُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ۝ ٢٩ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ سير السَّيْرُ : المضيّ في الأرض، ورجل سَائِرٌ ، وسَيَّارٌ ، والسَّيَّارَةُ : الجماعة، قال تعالی: وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ، يقال : سِرْتُ ، وسِرْتُ بفلان، وسِرْتُهُ أيضا، وسَيَّرْتُهُ علی التّكثير ( س ی ر ) السیر ( ض) کے معنی زمین پر چلنے کے ہیں اور چلنے والے آدمی کو سائر وسیار کہا جاتا ہے ۔ اور ایک ساتھ چلنے والوں کی جماعت کو سیارۃ کہتے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَجاءَتْ سَيَّارَةٌ [يوسف/ 19] ( اب خدا کی شان دیکھو کہ اس کنویں کے قریب ) ایک قافلہ دار ہوا ۔ أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب «1» ، وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس «2» ، وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه «3» ، وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔ جنب أصل الجَنْب : الجارحة، وجمعه : جُنُوب، قال اللہ عزّ وجل : فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] ، وقال تعالی: تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ، وقال عزّ وجلّ : قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] . ثم يستعار من الناحية التي تليها کعادتهم في استعارة سائر الجوارح لذلک، نحو : الیمین والشمال، ( ج ن ب ) الجنب اصل میں اس کے معنی پہلو کے ہیں اس کی جمع جنوب ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے ۔ فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] پھر اس سے ان ( بخیلوں ) کی پیشانیاں اور پہلو داغے جائیں گے ۔ تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ان کے پہلو بچھو نوں سے الگ رہنے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ پہلو کی سمت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسا کہ یمین ، شمال اور دیگر اعضا میں عرب لوگ استعارات سے کام لیتے ہیں ۔ طور طَوَارُ الدّارِ وطِوَارُهُ : ما امتدّ منها من البناء، يقال : عدا فلانٌ طَوْرَهُ ، أي : تجاوز حدَّهُ ، ولا أَطُورُ به، أي : لا أقرب فناء ه . يقال : فعل کذا طَوْراً بعد طَوْرٍ ، أي : تارة بعد تارة، وقوله : وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] ، قيل : هو إشارة إلى نحو قوله تعالی: خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ، وقیل : إشارة إلى نحو قوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] ، أي : مختلفین في الخَلْقِ والخُلُقِ. والطُّورُ اسمُ جبلٍ مخصوصٍ ، وقیل : اسمٌ لكلّ جبلٍ وقیل : هو جبل محیط بالأرض «2» . قال تعالی: وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] ، وَما كُنْتَ بِجانِبِ الطُّورِ [ القصص/ 46] ، وَطُورِ سِينِينَ [ التین/ 2] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وَرَفَعْنا فَوْقَهُمُ الطُّورَ [ النساء/ 154] . ( ط و ر ) طوارا لدار وطوارھ کے معنی گھر کی عمارت کے امتداد یعنی لمبا ہونے اور پھیلنے کے ہیں محاورہ ہے : ۔ عدا فلان طوارہ فلاں اپنی حدود سے تجاوز کر گیا ۔ لاوطور بہ میں اسکے مکان کے صحن کے قریب تک نہیں جاؤں گا ۔ فعل کذا طورا بعد طور اس نے ایک بار کے بعد دوسری باریہ کام کیا اور آیت کریمہ : ۔ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ کہ اطوارا سے ان مختلف منازل ومدارج کی طرف اشارہ ہے جو کہ آیت : ۔ خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ہم نے تم کو ( پہلی بار بھی ) تو پیدا کیا تھا ( یعنی ابتداء میں ) مٹی سے پھر اس سے نطفہ بناکر پھر اس سے خون کا لوتھڑا بناکر پھر اس سے بوٹی بناکر ۔ میں مذکور ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مختلف احوال مراد ہیں جن کی طرف آیت : ۔ وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا جدا جدا ہونا ۔ میں اشارہ فرمایا ہے یعنی جسمانی اور اخلاقی تفاوت جو کہ ہر معاشرہ میں نمایاں طور پر پا یا جاتا ہے ۔ الطور ( ایلہ کے قریب ایک خاص پہاڑ کا نام ہے) اور بعض نے کہا ہے کہ ہر پہاڑ کو طور کہہ سکتے ہیں اور بعض کے نزدیک طور سے وہ سلسلہ کوہ مراد ہے جو کرہ ارض کو محیط ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَالطُّورِ وَكِتابٍ مَسْطُورٍ [ الطور/ 1- 2] کوہ طور کی قسم اور کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے ۔ وَما كُنْتَ بِجانِبِ الطُّورِ [ القصص/ 46] اور نہ تم اس وقت طور کے کنارے تھے ۔ وَطُورِ سِينِينَ [ التین/ 2] اور طورسنین کی ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کی داہنی جانب سے پکارا ۔ وَرَفَعْنا فَوْقَهُمُ الطُّورَ [ النساء/ 154] اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کر کھڑا کیا ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ مكث المکث : ثبات مع انتظار، يقال : مَكَثَ مکثا . قال تعالی: فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ [ النمل ] [ 22] ، وقرئ : مکث «5» ، قال : إِنَّكُمْ ماكِثُونَ [ الزخرف/ 77] ، قالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا[ القصص/ 29] ( م ک ث ) المکث کسی چیز کے انتظار میں ٹھہرے رہنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ [ النمل ] [ 22] ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی ۔ ایک قرات میں مکث ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ إِنَّكُمْ ماكِثُونَ [ الزخرف/ 77] تم ہمیشہ ( اسی حالت میں ) رہو گے ۔ قالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا[ القصص/ 29] تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ تم یہاں ٹھہرو ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ خبر الخُبْرُ : العلم بالأشياء المعلومة من جهة الخَبَر، وخَبَرْتُهُ خُبْراً وخِبْرَة، وأَخْبَرْتُ : أعلمت بما حصل لي من الخبر، وقیل الخِبْرَة المعرفة ببواطن الأمر، والخَبَار والخَبْرَاء : الأرض اللّيِّنة «2» ، وقد يقال ذلک لما فيها من الشّجر، والمخابرة : مزارعة الخبار بشیء معلوم، والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر «3» : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، وقیل أي : عالم ببواطن أمورکم، وقیل : خبیر بمعنی مخبر، کقوله : فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ المائدة/ 105] ، وقال تعالی: وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] ، قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبارِكُمْ [ التوبة/ 94] ، أي : من أحوالکم التي نخبر عنها . ( خ ب ر ) الخبر ۔ جو باتیں بذریعہ خبر کے معلوم ہوسکیں ان کے جاننے کا نام ، ، خبر ، ، ہے کہا جاتا ہے ۔ خبرتہ خبرۃ واخبرت ۔ جو خبر مجھے حاصل ہوئی تھی اس کی میں نے اطلاع دی ۔ بعض نے کہا ہے کہ خبرۃ کا لفظ کسی معاملہ کی باطنی حقیقت کو جاننے پر بولا جاتا ہے ۔ الخبارو الخبرآء نرم زمین ۔ اور کبھی درختوں والی زمین پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ المخابرۃ ۔ بٹائی پر کاشت کرنا ۔ اسی سے کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے :۔ اور بعض نے کہا ہے کہ وہ تمہارے باطن امور سے واقف ہے ۔ اور بعض نے خبیر بمعنی مخیر کہا ہے ۔ جیسا کہ آیت ۔ فَيُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ [ المائدة/ 105] پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائیگا سے مفہوم ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَنَبْلُوَا أَخْبارَكُمْ [ محمد/ 31] اور تمہارے حالات جانچ لیں ۔ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبارِكُمْ [ التوبة/ 94] خدا نے ہم کو تمہارے سب حالات بتادئے ہیں ۔ یعنی تمہارے احوال سے ہمیں آگاہ کردیا گیا ہے ۔ جذو الجَذْوَة والجِذْوَة : الذي يبقی من الحطب بعد الالتهاب، والجمع : جذی. قال عزّ وجلّ : أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ [ القصص/ 29] ، قال الخلیل : يقال : جَذَا يَجْذُو، نحو : جثا يجثو «2» ، إلا أنّ جذا أدلّ علی اللزوم . يقال : جذا القراد في جنب البعیر : إذا شدّ التزامه به، وأَجَذَتِ الشجرة : صارت ذات جذوة . وفي الحدیث :«کمثل الأرزة المجذية»ورجل جَاذٍ : مجموع الباع، كأنّ يديه جذوة، وامرأة جَاذِيَة . ( ج ذ و ) الجذوۃ والجذوۃ ( انگارہ ) جلنے اور شعلہ ختم ہوجانے کے بعد جو ایندھن باقی رہ جاتا ہے اسے جذوۃ کہا جاتا ہے ۔ ج جذی وجذی قرآن میں ہے : ۔ أَوْ جَذْوَةٍ مِنَ النَّارِ [ القصص/ 29] یا اگ کا انگارہ ۔ خلیل نے کہا ہے کہ جذا اور جثا ہم معنی ہیں یعنی چمٹ جانا جذا میں شدت لزوم کے معنی پائے جاتے ہیں ، چناچہ محاورہ ہے : ۔ کہ حچڑی اونٹ کے پہلو میں سختی کے ساتھ چمٹ گئی ۔ اجذت ( افعال ) الشجرۃ درخت کا جڑ پکڑ لینا ۔ حدیث میں ہے اس کی مثال مضبوط جڑوالے صنو بر کے درخت کی ہے ( یعنی جو ہوا کے جھکولوں سے ادھر ادھر نہیں جھکتا رجل جاذ مرد کوتاہ دست۔ کوتاہ ارش مؤنث جاذیۃ کو تاد ہونے میں اس کے دونوں ہاتھ گو یا پارہ آتش ہیں ۔ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٩) غرض کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس دس سالہ مدت کو پورا کرچکے اور اپنی بیوی کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو ایک رات جب کہ سردی بھی سخت تھی اور راستہ بھی بھول گئے تھے راستہ کے بائیں جانب ایک روشنی آگ کی صورت میں دکھائی دی۔ انھوں نے اپنی بیوی سے کہا تم یہاں ٹھہرے رہو میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس وہاں سے رستہ کی کچھ خبر لاؤں یا تمہارے سینکنے کو کوئی آگ کا دہکتا ہوا انگارا لے آؤں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩ (فَلَمَّا قَضٰی مُوْسَی الْاَجَلَ وَسَارَ بِاَہْلِہٖٓ) ” یہ سوچ کر کہ آٹھ دس سال کا عرصہ بیت جانے کے بعد قتل والا معاملہ ٹھنڈا پڑگیا ہوگا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ (اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ ) ” ممکن ہے آگ کی جگہ پر موجود کسی شخص سے مجھے راستے کے بارے میں کچھ یقینی معلومات مل جائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم بھٹک کر غلط راستے پر چل پڑے ہوں۔ (اَوْ جَذْوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ) ” اگر وہاں سے مجھے کوئی انگارا وغیرہ مل گیا تو اس سے ہم آگ جلا کر اس سرد رات میں اپنے لیے گرمی حاصل کرسکیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

40 According to Hadrat Hasan bin `Ali bin Abi Talib, the Prophet Moses had completed the ten years term instead of the eight years. According to Ibn 'Abbas, this has been related on the authority of the Holy Prophet himself. He has said, "Moses (peace be upon him) completed the term which was more perfect and more agreeable to his father-in-law, i.e. ten years." 41 That the direction of the journey was towards Mt. Tur shows that the Prophet Moses might be traveling to Egypt with his family, for Tur lies on the way from Midian to Egypt. Probably Prophet Moses thought that he had stayed away from home for ten long years and the Pharaoh in whose reign he had left Egypt had also died, if he quietly went back and stayed with his people, nobody would know it. The Biblical version of the sequence of events is different from the Qur'an's. It says that the Prophet Moses `led the flocks (of his father-in-law) to the backside of the desert, and came to the mountain of God, even to Horeb." There God spoke to him, and appointed him to Prophethood and commanded him to go to Egypt. Then Moses went back to Jethro, his father-in-law, took his permission and went to Egypt with his family. (Exod. 3: 1, 4: 18) Contrary to this, the Qur'an says that the Prophet Moses left Midian with his family after completing the term and during this journey AIIah spoke to him and appointed him to Prophethood. Both the Bible and the Talmud agree that the Pharaoh in whose house Prophet Moses had been brought up had died during his stay in Midian, and now another Pharaoh was the king of Egypt.

سورة القصص حاشیہ نمبر : 40 حضرت حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت موسی نے آٹھ کے بجائے دس سال کی مدت پوری کی تھی ، ابن عباس کی روایت ہے کہ یہ بات خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔ حضور نے فرمایا : قضی موسی اتم الاجلین وا طیبھما عشر شنین ۔ موسی علیہ السلام نے دونوں مدتوں میں سے وہ مدت پوری کی جو زیادہ کامل اور ان کے خسر کے لیے زیاہ خوشگوار تھی ، یعنی دس سال ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 41 اس سفر کا رخ طور کی جانب ہونے سے یہ خیال ہوتا ہے کہ حضرت موسی اپنے اہل و عیال کو لیکر مصر ہی جانا چاہتے ہوں گے ۔ اس لیے کہ طور اس راستے پر ہے جو مدین سے مصر کی طرف جاتا ہے ، غالبا حضرت موسی نے خیال کیا ہوگا کہ دس سال گزر چکے ہیں ، وہ فرعون بھی مرچکا ہے جس کی حکومت کے زمانے میں وہ مصر سے نکلے تھے ، اب اگر خاموشی کے ساتھ وہاں چلا جاؤں اور اپنے خاندان والوں کے ساتھ رہ پڑوں تو شاید کسی کو میرا پتہ بھی نہ چلے ۔ بائیبل کا بیان یہاں واقعات کی ترتیب میں قرآن کے بیان سے بالکل مختلف ہے ، وہ کہتی ہے کہ حضرت موسی اپنے خسر کی بکریاں چراتے ہوئے بیابان کے پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ حورب کے نزدیک آ نکلے تھے ، اس وقت اللہ تعالی نے ان سے کلام کیا اور انہیں رسالت کے منصب پر مامور کر کے مصر جانے کا حکم دیا ، پھر وہ اپنے خسر کے پاس واپس آگئے اور ان سے اجازت لے کر اپنے بچوں کے ساتھ مصر روانہ ہوئے ( خروج 3 ۔ 1 ۔ 4 ۔ 18 ) اس کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ حضرت موسی مدت پوری کرنے کے بعد پنے اہل و عیال کو لیکر مدین سے روانہ ہوئے اور اس سفر میں اللہ تعالی کی مخاطبت اور منصب نبوت پر تقرر کا معاملہ پیش آیا ۔ بائیبل اور تلمود دونوں کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت موسی کے زمانہ قیام مدین میں وہ فرعون مرچکا تھا جس کے ہاں انہوں نے پرورش پائی تھی اور اب ایک دوسرا فرعون مصر کا فرمانروا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دس سال حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس پورے کیے تھے، اس کے بعد غالبا انہوں نے اپنی والدہ اور دوسرے رشتہ داروں کے پاس مصر جانے کا ارادہ فرمایا یا اور یہ سوچا کہ قبطی کے قتل کا قصہ اب بھولا بسرا ہوچکا ہوگا، اور واپس مصر جانے میں کوئی خطرہ نہیں رہا

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٩ تا ٣٤۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دونوں مدتوں میں سے دس برس کی مدت کو پورا کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر کے جانے کا اور اپنے بھائی اور اپنی ماں سے ملنے کا شوق ہوا اور وہ شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہوئے ان کے ساتھ ان کی بی بی اور بکریاں تھیں جو شعیب (علیہ السلام) نے ان کو دی تھیں یہ سفر جاڑے کے موسم کا تھا اور اندھیری رات میں راستہ بھی بھول گئے تھے اسی حالت میں انہوں نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا تم ٹھہرو میں جاتا ہوں تاکہ راستہ کی کچھ خبر لاؤں اور تاپنے کے لیے کچھ آگ بھی لیتا آؤں جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے پاس آئے جو کوہ طور کے جانب کو تھی یہ آگ ایک سبز درخت میں دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) تعجب ہوا اتنے میں میدان کے داہنے کنارے کے درخت سے یہ آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تمام جہان کا پالنے والا اللہ رب العالمین ہوں معتبر سند سے تفسیر ابن جریر میں عبداللہ بن مسعود (رض) کا قول ہے کہ انہوں نے اس درخت کو دیکھا جس کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز آئی وہ کی کر کا درخت تھا نہایت سبز ‘ پھر فرمایا اے موسیٰ ڈال دے اپنی لکڑی جو تیرے ہاتھ میں ہے انہوں نے وہ لکڑی ہاتھ سے ڈال دی تو وہ سانپ بن کر دوڑنے لگی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ڈر کر پیٹھ پھیری اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آگے اے موسیٰ اور خوف نہ کر بیشک تو امن والوں میں سے ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلی جگہ آکر کھڑے ہوگئے پھر فرمایا اپنا ہاتھ بغل میں دبا اور پھر نکال کہ وہ بغیر کسی مرض کے سفید ہوجائے گا اور اس میں سورج کی سی چمک ہوگی پھر فرمایا اگر لکڑی کے سانپ بن جانے اور ہاتھ کے چمکدار ہوجانے سے کچھ ڈر لگے تو سینہ پر ہاتھ رکھ لینے سے یہ ڈر جاتا رہے گا پھر فرمایا یہ دونوں معجزے ہیں تیرے رب کی طرف سے ایک تو عصا کا سانپ ہوجانا دوسرا ہاتھ کا گریبان سے سفید چمک دار نکلنا فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف دونوں معجزے خدا نے بھیجے ہیں کہ وہ لوگ بےحکم ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ یہ دونوں معجزے لے کر فرعون کے پاس جاؤ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میں نے تو ایک قبطی کو قتل کیا ہے میں ڈرتا ہوں کہ جب وہ لوگ مجھ کو دیکھیں گے تو جان سے مار ڈالیں گے اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح زبان کا ہے کیونکہ میری زبان میں توتلا پن ہے ‘ اس لیے ہارون کو میرا مددگار مقرر فرمایا جائے تاکہ وہ میرے کلام کی تائید کرے کس لیے کہ توتلے پنے کے سبب سے مجھ کو خوف ہے کہ وہ لوگ میرے جھٹلانے پر آمادہ ہوجاویں گے اس کے جواب میں فرمایا اے موسیٰ ہم ہارون کو تمہارا قوت بازو ٹھہراتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ ان معجزوں کے سبب سے تمہارے اور تمہارے ساتھیوں پر کوئی غالب نہ آسکے گا۔ معتبر سند سے مسند بزار مسند ابی لیلیٰ اور مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ (رض) بن عباس سے روایت ١ ؎ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل (علیہ السلام) سے موسیٰ (علیہ السلام) کے مدین میں رہنے کی مدت کا حال پوچھا تو جبرئیل (علیہ السلام) نے جواب دیا موسیٰ (علیہ السلام) شرط کی پوری مدت تک مدین میں رہے جس کا مطلب یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) دس برت تک مدین میں رہے یہ حدیث فلما قضی موسیٰ الاجل کی گویا تفسیر ہے صحیح بخاری کے حوالہ سے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت اس باب میں جو اوپر گزر چکی اگرچہ وہ ان کا قول ہے لیکن اس تفسیر میں یہ بات ایک جگہ بیان کردی گئی ہے کہ تفسیر کے باب میں صحابہ (رض) کا صحیح قول حدیث نبوی کے حکم میں ہوتا ہے خصوصاً حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کا صحیح قول تفسیر کے باب میں بڑا معتبر ہے سورة النمل میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث جو گذر چکی ہے وہی انس من جانب الطورنارا کی بھی تفسیر ہے اس میدان میں نور الٰہی کی برکت تھی اس لیے اس کو بقعہ مبارک فرمایا ہے فرقہ جہمیہ کا یہ اعتقاد ایک جگہ گذر چکا ہے کہ کوہ طور کے پاس جو کی کر کا درخت تھا اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک آواز پیدا کردی تھی وہی آواز موسیٰ (علیہ السلام) نے سنی کیوں کہ خود بات چیت کرنے کے لیے زبان اور ہونٹوں کی ضرورت ہے اور ان چیزوں سے اللہ پاک ہے اہل سنت نے آیت انی انا اللہ رب العالمین سے اس اعتقاد کو یوں غلط ٹھہرایا ہے کہ اگر کی کر کا درخت یہ لفظ کہتا تو وہی درخت موسیٰ (علیہ السلام) کا معبود بن جاتا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس درخت کو معبود جانتے تو نعوذ باللہ من ذالک مشرک ٹھہرتے۔ اہل سنت نے یوں بھی اس عتقاد کو غلط ٹھہرایا ہے کہ سورة حم السجدہ میں یہ جو ذکر ہے کہ بغیر زبان اور ہونٹوں کے آسمان اور زمین نے اتینا طاعین کہ کر اللہ تعالیٰ کے حکم کا جو جواب دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے بات چیت میں زبان اور ہونٹوں کا ہونا کچھ لازمی چیز نہیں ہے صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ ٢ ؎ سے عدی (رض) بن حاتم کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر شخص سے بلا واسطہ بات چیت کرے گا ‘ اس حدیث سے بھی فرقہ جہمیہ کے اعتقاد کی غلطی اچھی طرح ثابت ہوتی ہے کیوں کہ اس میں کلام الٰہی کے ساتھ کسی واسطے کا ذکر نہیں ہے اس سورة میں یہ ذکر تفصیل سے نہیں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی زبان کے توتلے پنے کی جو شکایت کی تھی اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے کیا دیا لیکن سورة طہٰ میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ شکایت بی اتنی رفع فرمادی تھی کہ لوگ ان کی بات کو سمجھ لیتے تھے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے فرعون کی قوم کے ایک شخص کے مارے جانے کا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کے جل جانے کا اور اسی سبب سے اس میں توتلاپن پیدا ہوجانے کا قصہ اوپر گزر چکا ہے یہاں تو مختصر طور پر اتنا ہی فرمایا کہ اے موسیٰ ہم ہارون کو تمہارا قوت بازو ٹھہراتے ہیں لیکن سورة مریم میں گزر چکا ہے ‘ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کے لیے ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی۔ (١ ؎ تفسیر الدرالمنثور ١٢٦ ج ٥ تفصیلی کے لیے دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص ٣٨٦‘ ٣٨٧ ج ٣ ) (٢ ؎ مشکوۃ باب الحساب والقصاص والمیزان فصل اول۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

2 ۔ یہ کلمہ عہد کو پختہ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ “ ہمارے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی وطن سے نکلے۔ سو آٹھ برس پیچھے آ کر مکہ فتح کیا۔ اگر چاہتے اسی وقت شہر خالی کرواتے کافروں سے۔ دس برس پیچھے پاک کیا۔ “ (موضح) 3 ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے آٹھ برس کے بجائے دس کی مدت پوری کی تھی۔ یہی بات متعدد روایات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی مروی ہے۔ ان روایات کی سند میں اگرچہ کلام ہے لیکن وہ ایک دوسرے سے مل کر قوی ہوجاتی ہیں۔ (شوکانی) 4 ۔ یہ اس لئے کہ غالباً حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے۔ (طہ :10)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 29 تا 46 اسرارومعارف چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر تاپ سکیں گے۔ جس جگہ کوئی مبارک کام ہو یا اللہ کا بارک بندہ مقیم ہو وہ جگہ بھی مبارک ہوتی ہے : جب آگ لینے کے لیے پہنچے تو وادی کہ اس کنارے سے جہاں پورا تختہ ہی روشن ہورہا تھا اور برکات سے بھرا ہوا تھا کہ جہاں کوئی مبارک کام ہو یا مبارک ہستی مقیم ہو وہ جگہ بھی برکات کی حامل ہوتی ہے۔ چناچہ اسی تختہ میں سے ایک درخت سے جو سارے کا سارا روشن ہورہا تھا آواز آرہی تھی کہ اے موسیٰ میں اللہ ہوں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہوں۔ وادی میں ذات باری جلوہ افروز تھی کیا ؟ : یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ وہ روشنی جلوہ ذات باری تھا بلکہ وہ نور تو تجلی صفاتی کا کا تھا کہ کلام باری خود صفت باری ہے ارشاد یہ ہورہا تھا کہ یہ کلام جو آپ سن رہے ہیں اور جس کے انوارات سے وادی بقعہ نور بنی ہوئی ہے کرنے والا میں اللہ ہوں۔ اور حکم ہوا کہ اپنے عصا کو ڈال دیجیے آپ نے پھینکا تو وہ اژدہا بن کر پھنکارنے لگا تو موسیٰ (علیہ السلام) خوفزدہ ہو کر پیچھے کو بھاگے کہ بہت بڑا اژدھا تھا آپ نے جان بچانا چاہی اور پیچھے دیکھا تک نہیں کہ دوبارہ آواز آئی کہ موسیٰ ڈریں نہیں واپس آئیں اور آگے بڑھیں۔ آپ تو اللہ کی طرف سے امن دیے گئے ہیں یہ آپ کا معجزہ ہے آپ کی مدد اور نبوت کا ثبوت ہے اسے ہاتھ میں لیجیے عصا بن جائے گا۔ اب اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالیے جب نکالیں گے تو بہت روشن ہوگا اور گھبرنے کی کوئی بات نہیں جب دوبارہ گریبان میں ڈالیں گے تو درست ہوجائے گا۔ دوسرے معجزات کے ساتھ یہ دو عظیم معجزات آپ کی نبوت کی دلیل ہیں آپ فرعون اور اس کے امراء سے بات کیجیے انہیں راہ راست کی طرف بلائیے کہ وہ بہت سخت نافرمان ہیں۔ آپ نے عرض کیا بارالہا مجھ سے تو ان کا ایک قبطی مارا گیا تھا خطرہ یہ ہے کہ بات سننے سے پہلے ہی وہ میرے قتل کا حکم صادر کردے پھر اگر بات ہو اور سوال جواب کرنے پڑیں تو میری زبان میں لکنت ہے جن کہ میرے بھائی ہارون بڑے فصیح ہیں اور خوب کلام کرسکتے ہیں انہیں آپ میرے سات کردیجیے کہ وہ میری قوت بھی ہوں گے اور میری تصدیق بھی کریں گے فرعونیوں سے تو مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے تو کوئی ایسا بھی ہو جو ان کے روبرو تصدیق بھی کرے۔ ارشاد ہوا تمہارے بھائی کو تمہاری قوت بازو بنا دیں گے یعنی انہیں بھی نبوت سے سرفراز کر کے ساتھ کردیا اور تمہیں وہ رعب عطا کریں گے کہ فرعونی ہاتھ ڈالنے کی جرات ہی نہ کرسکیں گے نیز آپ معجزات لے کر جائیں یہ بات طے ہے کہ آپ اور آپ کے اطاعت شعار ہی فاتح اور غالب ہوں گے موسیٰ (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ نوید فتح لے کر فرعون کی طرف روانہ ہوئے۔ اور جب فرعون کے دربار میں پہنچے دعوت دی اور معجزات کا اظہار فرمایا تو اہل دربار کہنے لگے یہ سب جادو کا کھیل نظر آتا ہے اور ساری بات ایک تراشیدہ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ آج تک ہمارے باپ دادا نے کسی نبی یا دین کا نام تک نہیں سنا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ حق اور باطل کا فیصلہ تو پروردگار ہی کے پاس ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ اس کی بارگاہ سے ہدایت کا پیغام کون لایا ہے اور انجام کار کس کو فتح اور آخرت کی کامرانی نصیب ہوگی لیکن یہ ظاہر ہے کہ ظلم کبھی کامیاب نہ ہوگا اور نہ ہی اللہ ظالموں کا بھلا کرے گا اور تم لوگ ظالم ہو لہذا تمہارا انجام واضح ہے۔ فرعون کہنے لگا کہ اے ہامان میں نہیں سمجھتا کہ میرے علاوہ کوئی دوسری ایسی ہستی ہے جس کی پوجا اور اطاعت کی جائے اگر کوئی آسمانوں پہ ہے تو پھر مٹی کو آگ میں پکا کر اس سے ایک بہت بڑی اور بلند وبالا عمارت بناؤ کہ اس سے جھانک کر آسمانوں تک میں دیکھا جاسکے کہ کہیں موسیٰ کا معبود بھی ہے حالانکہ میں یہ جانتا ہوں کہ وہ غلط کہ رہا ہے۔ فرعون کے حکم سے ہامان نے اینٹ ایجاد کی : یعنی اول اینٹ جو تیار کی گئی وہ ہامان نے ایجاد کی۔ اور ایک بلند وبالا عمارت کھڑی کی گئی اور فرعون کو حسرت ہی رہی فرعون کو اپنے لشکروں پہ اور طاقت پہ بڑا گھمنڈ تھا اس نے تکبر کی راہ اختیار کی اور اس کے لشکر بھی زمین پر ناحق اکڑتے پھرتے تھا جیسے انہوں نے یہ سمجھ لیا ہو کہ انہیں پلٹ کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر نہیں ہونا۔ چنانچہ اللہ کی گرفت میں پکڑے گئے فرعون بھی اور اس کے لاؤ لشکر بھی اور پانی میں غرق کر کے تباہ کردیے گئے اے مخاطب طلم کرنے والوں کا انجام دیکھ لے کہ برائی کرتے کرتے وہ جہنم کی طرف بلانے والے داعی اور امام بن گئے۔ لفظ امام : لفظ امام کوئی شرعی منصب نہیں یہ پہلے بھی گزر چکا یہ محض قیادت اور لیڈر شپ کے معنوں میں کتاب میں استعمال ہوا نیک لوگوں کا رہنما بھی امام کہ لایا اور کفار و بدکار کا راہنما یا لیڈر بھی لہذا شیعہ کا منصب امامت محض ایک گھڑی ہوئی بات ہے ہ شرعی منصب ہی نہیں اور فرعونی ایسے امام بنے جو دوزخ کی طرف دعوت دیتے تھے اور روز حشر جن کی مدد کو بھی کوئی نہیں ہوگا یعنی شفاعت سے بھی محروم ہوں گے اور ان کے اعمال بد کے نتیجے میں اس دنیا میں بھی ان پر لعنت مسلط کردی گئی کہ وہ نہ رہیں تو بھی انہیں پھٹکار پڑتی رہے اور روز حشر ان کا بہت برا حال ہوگا۔ ہر برائی بجائے خود آگ ہے : یہاں ثابت ہے کہ ہر برا عمل بجائے خود ایک آگ ہے اور آخرت میں جس طرح نیکی گل و گلزار بن جائے گی ویسے ہی برائی انگاروں کی صورت اختیار کرلے گی۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 29 تا 35 : سار (وہ چلا) اھل (گھروالے ۔ گھر والی) ‘ انس (اس نے محسوس کیا) ‘ امکئوا (تم ٹھہرو) جذوۃ ( انگارہ۔ شعلہ۔ چنگاری) شاطی (کنارہ) وادالایمن (داہنا میدان) ‘ البقعۃ (جگہ) الق (ڈال دے۔ پھینک دے) تھتز (وہ پھنکارتا ہے۔ وہ لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ) ولی (وہ پلٹا) ‘ مدبر ( پیٹھ پھیر نے والا) ‘ لم یعقب (پیچھے مڑکرنہ دیکھا) اقبل (سامنے آ) اسلک (تو ڈال دے) اضمم (ملالے) الرھب (خوف۔ ڈر) افصح (زیادہ فصیح۔ اچھی زبان بولنے والا) ‘ ردا (مدد گار) ‘ سنشد (ہم عنقریب مضبوط کردیں گے) ‘ عضد (بازو) ‘ سلطان (غلبہ۔ قوت و طاقت) ۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 35 : حضرت شعیب (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان آٹھ یا دس سال تک خدمت کرنے کا جب معاہدہ وپرا ہوگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوگئے تا کہ اپنی والدہ ‘ بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) اور رشتہ داروں سے ملاقات کرسکیں۔ چونکہ اس فرعونکا انتقال ہوچکا تھا جس کے زمانہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں غلطی سے ایک قبطی مارا گیا تھا اور اب دوسرا فرعون حکومت کررہا تھا جو پہلے کے فرعون کے مقابلے میں ذرا کچھ نرم دل تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے آپ کے ساتھ کچھ بکریاں بھی کردیں تھیں تاکہ ان سے فائدہ اٹھا یا جاسکے۔ سردی کا زمانہ تھا اور چلتے چلتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھی بھول گئے تھے۔ سردی کی اس اندھیری رات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دور سے ایک روشنی اور چمک نظر آئی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو تاکہ میں کچھ آگ لا سکوں اور تم سردی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے اپنے جسم کو تاپ سکو اور کسی سے راستہ بھی پوچھ لوں گا تاکہ اس صحرا میں ہم کہیں بھٹک نہ جائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کی طرف روانہ ہوئے جو کوہ طور کے داہنی جانب روشن ہورہی تھی۔ جب آپ اس آگ کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک درخت میں آگ لگی ہوئی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس توقع پر آگے بڑھے کہ اگر اس درخت کی کوئی شاخ جل کر گرجائے تو میں اس کو اٹھا کرلے جاؤں ۔ جب قریب پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ وہ آگ ان سے دور ہورہی ہے جب وہ ذرا پلٹے تو ایسا محسوس ہوا جیسے آگ ان کی طرف آرہی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک انجانا سا خوف محسوس ہوا۔ ابھی آپ اس کشمکش میں تھے کہ اس درخت میں سے آواز آئی اے موسیٰ (علیہ السلام) تم مت گھبرائو یہ میں ہوں اللہ۔ رب العالمین۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چاروں طرف دیکھنے لگے کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ آواز تو ہر طرف سے آرہی ہے۔ اسی نور تجلی سے آواز آئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے۔ عرض کیا یہ ایک لاٹھی ہے۔ فرمایا کہ تم اس عصا (لاٹھی) کو زمین پر پھینکو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی عصا کو پھینکا تو وہ عصا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ڈر کے مارے اس طرح پیٹھ پھیر کر بھاگے کہ پیچھے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ آوازآئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم ڈورمت آگے آئو۔ تم بالکل امن و عافیت سے ہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے جیسے ہی اس سانپ یا اژدھے کے منہ میں ہاتھ ڈالا تو وہ پھر سے عصا بن گیا۔ اس کے بعداللہ نے فرمایا کہ اپنے ہاتھ کو اپنے بغل میں ڈال کر نکالو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جیسے ہی بغل میں ہاتھ ڈال کر اس کو باہر نکالا تو وہ سورج کی طرح چمکنے لگا۔ فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! عصا اور ید بیضا (چمکتا ہاتھ) یہ دونوں معجزات ہیں ان کو لے کر فرعون کے پاس جائو جس نے تکبر ‘ غرور اور سرکشی اختیار کررکھی ہے اور اس کی قوم بھی سخت نافرمان بن چکی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا الٰہی میں تو آپ کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہوں مگر مجھے اس بات کا غم ستائے جارہا ہے کہ میرے ہاتھوں سے ایک شخص قتل ہوگیا تھا۔ ہو سکتا ہے اس فریضہ تبلیغ کو ادا کرنے سے پہلے ہی فرعون اس واقعہ کو وجہ بنا کر مجھے نقصان پہنچائے اور میں فریضہ ادانہ کرسکوں۔ اگر میرے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جو گفتگو میں بھی بہت فصیح ہیں ان کو میرا مدد گار بنادیا جائے تو وہ میری اس بات کی تصدیق بھی کردیں گے کہ جو کچھ ہوا اس میں میرے ارادے کو دخل نہ تھا اور وہ اس فرض کی ادائیگی میں میری بھرپور مدد کرسکیں گے۔ جواب آیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم آپ کے بھائی کے ذریعہ آپ کے بازوؤں کو مضبوط کردیں گے اور تم جہاں بھی جائو گے تم دونوں کو غلبہ عطا کردیا جائے گا۔ تم دونوں ہماری نشانیا لے کرجائو۔ اللہ آپ کیا ور ان تمام لوگوں کی حفاظت فرمائے گا جو آپ کی پیروی کریں گے اور وہی غالب بھی رہیں گے چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے گھر مصر پہنچ گئے۔ والدہ سے بھی ملاقات ہوگئی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) بھی آپ کے پاس پہنچ گئے۔ اسکے بعد کے واقعات کی تفصیلات اگلی آیات میں آئے گی۔ اس واقعہ کی تفصیل اور اس کے بعض پہلوؤں پر سورة طٰہ اور سورة شعراء میں وضاحت آچکی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی اہلیہ کے ساتھ اپنے وطن واپس آنا۔ قرآن مجید اور حدیث مبارکہ میں اس بات کی وضاحت موجود نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے معاہدہ کے مطابق آٹھ سال پورے کیے یا اختیاری مدت کے مطابق دس (١٠) سال مدین میں گزارے قرآن مجید کا ارشاد ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدّت پوری کرلی تو حضرت شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے راستہ میں طور پہاڑ کے دامن میں انھوں نے جلتی ہوئی آگ دیکھی۔ اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ تم ٹھہرو میں وہ آگ دیکھ رہا ہوں وہاں سے راستہ کی معلومات حاصل کروں یا آگ کے کچھ انگارے لاؤں تاکہ تم تاپ سکو۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے قریب پہنچے تو انھیں اس وادی کے دائیں جانب سے بابرکت جگہ میں ایک درخت سے آواز دی گئی اے موسیٰ (علیہ السلام) ! یقیناً میں اللہ ہوں سب جہانوں کا رب ہوں۔ ” موسیٰ وہاں پہنچے تو پکارا گیا اے موسیٰ ۔ میں ہی تیرا رب ہوں تو اپنے جوتے اتار دے تو وادی مقدس طویٰ میں پہنچ چکا ہے اور میں نے تجھ کو چن لیا ہے جو کچھ وحی کی جاتی ہے توجہ سے سنو۔ میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس میری بندگی کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ “ ( طٰہٰ : ١١ تا ١٤ )

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فلما قضی موسیٰ الاجل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعکما الغلبون (29- 35) قبل اس کے کہ ہم اس حلقے کے ان دو مناظر پر تفصیلی گفتگو کریں ، ہمیں یہ غور کرنا چاہئے کہ ان دس سالوں کے وقفے میں اللہ نے حضرت موسیٰ کے حوالے سے کیا تدابیر اختیار کیں اور کیا اقدامات کیے۔ اس سفر اور آنے جانے میں کیا حکمت تھی۔ دست قدرت کو یوں منظور تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایک قدم آگے بڑھتے جائیں۔ یعنی اس وقت سے لے کر جب وہ شیرخوار بچہ تھے ، ان کی موجودہ پوزیشن تک ان کے ستاھ دست قدرت کا معاملہ کیا رہا۔ ان کو دریا میں پھنکا گیا تاکہ فرعون کے لوگ اسے پکڑلیں۔ ان کو دیکھ کر فرعون کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی یا کردی گئی کہ وہ عین شاہی محل میں پرورش پائیں ، دشمن کے گھر میں پلیں۔ پھر وہ لوگوں کی غفلت کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور ایک آدمی ان کے ہاتھوں مرگیا۔ پھر ان کے پاس فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے ایک شخص کو بھیجا گیا کہ نکلو تمہارے قتل کی تدابیر ہو رہی ہیں ، یہ تائیدی ایزفی مصر اور مدین تک کے صحرائی سفر میں اس کے ساتھ رہی جبکہ ان کے پاس کوئی زادو عتاد نہ تھا۔ اور پھر مدین کے کنویں پر ان کی ملاقات دختران شیخ سے کرادی گئی اور اس بہترین مربی اور بوڑھے کے ساتھ ان کا دس سالہ معاہدہ ہوگیا اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو طور پر ان کو عظیم مشن سپرد کیا گیا۔ مشن سپرد کرنے کی ندا سے قبل ان پر خدا کا طویل فضل و کرم ہوتا رہا ، ان کو تلقین ہوتی رہی اور تمام آسمانی قوتیں ان کی تائید میں بڑھتی رہیں۔ اور ان کو زندگی کے مختلف تجربات سے دوچار کیا جاتا رہا۔ مہربانی ، محبت اور راہنمائی کا تجربہ ، حالات کے دباؤ میں آکر انتہائی اقدام کرنے کا تجربہ ، نادم ہونے ، احتیاط کرنے اور غلطی پر استغفار کرنے کا تجربہ۔ ڈر ، تعاقب اور پریشانی کا تجربہ ، تنہائی ، مسافری اور بھوک و افلاس کا تجربہ اور دوسروں کی خدمت کرنے اور بکریوں تک چرانے کا تجربہ اور ان بڑے بڑے تجربوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے روز مردہ کے تجربات ، ولی احساسات ، مختلف قسم کے تصورات و خلجانات ، نئی نئی دریافتیں اور معلومات۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللہ نے جوان ہوتے ہی ان کو علم و حکمت سے نوازا لیا تھا۔ (ایک شاہزادنے کی حیثیت سے نکال کر یہ تجربات کرائے گئے) ۔ حقیقت یہ ہے کہ منصب رسالت ایک ایسا فریضہ اور ایک ایسی عظیم ذمہ داری ہوتی ہے جس کے متعدد پہلو ہوتے ہیں اور گوناگوں ذمہ داریاں نبی اور رسول پر آن پڑتی ہیں۔ لہٰذا نبی کو علم و فضل ، حکمت و دانائی اور زندگی کے مختلف تجربات اور مختلف لوگوں کی عملی زندگی کا ادراک کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ اور یہ عملی تجربہ اس لغوی علم و حکمت اور وحی الٰہی سے الگ ہوتا ہے جو ہر نبی کو کرایا جاتا ہے تاکہ نبی کا ضمیر پاک و صاف ہوجائے اور ہدایت نبی کے قلب میں بٹھا دی جائے۔ رسولوں کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا تمام انبیاء کو سپرد کئے جانے والے مشنوں میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ذمہ داریاں بہت بھاری اور مشکل ذمہ داری تھی۔ ان کو فرعون جیسے سرکش اور جنار وقہار حکمران کے سامنے جانا تھا۔ یہ اپنے دور کے بادشاہوں میں سے بڑا اور مالدار بادشاہ تھا۔ قدیم شاہی سلسلے کا مالک تھا۔ حکومت نہایت مستحکم تھی اور تہذیب و تمدن کے لحاظ سے مصر اس وقت ترقی یافتہ تھا۔ اس نے تمام پسی ہوئی اقوام کو غلام بنا رکھا تھا اور زمین کے اوپر اس کو مقام بلند حاصل تھا۔ پھر حضرت مو سیٰ علیہ اسلام کو ایک ایسی قوم کی آزادی اور ہجرت کے لیے بھیجا گیا تھا جس کے دل و دماغ میں غلا می رچ بس گئی تھی ۔ وہ غلا مانہ زند گی کے عادی ہوگئے تھے اور ان کا ضمیر پو ری طرح بدل گیا تھا ۔ وہ عملا ایک طو یل زما نے تک غلام رہے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامی انسانی فطرت کو بگاڑ دیتی ہے۔ اس کے اندر تعفن اور سڑاند پیدا ہوجاتی ہے اور اس قوم کے احساسات سے گندگی اور تعفن اور سڑاند کا احساس ہی جاتا رہتا ہے ۔ بھلا ئی ، خیر اور جمال اور برتری اس کو راس ہی نہیں آتی ۔ اس طرح کی بگڑی ہو ئی قوم کو اٹھانا معنی دارو۔ آپ کو ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا جو قویم زمانہ سے اسلامی نظریہ کی حامل تھی لیکن اس کے اندر نظریاتی انحراف پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے دل دماغ میں اس کی اصل حقیقی صورت وہ نہ رہی تھی ۔ نہ یہ قوم پرانے اسلامی عقیدہ اور شریعت پر قائم تھی اور نہ جدید عقیدے کو صحیح طرح قبول کر رہی تھی ۔ اس قسم کے لوگوں کی اصلاح کرنا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ ان کے اندر پائے جانے والی کجی کو درست کرنا ، ان کے انحراف کو سیدھا کرنا اور ان کے اصل عقائد کے اوپر سے خرافات کی گہری تہوں کو ہٹانا اس مہم کی مشکل ترین باتیں تھیں۔ مختصر اً یہ کہ حضرت موسیٰ نے بالکل ایک نئی امت کی تعمیر کرنا تھی ۔ بالکل ننے سرے سے پہلی مرتبہ بنی اسرائیل کو ایک خاص قوم ، ایک خاص نظام کی حامل قوم اور ایک خاص رسالت کی حامل امت بنانا تھا اور ظاہر ہے کہ کسی قوم اور امت کی تعمیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا بار بار دہرایا ہے ۔ اس لئے کہ ایک نظریہ کی اساس پر کسی نئی امت کی تعمیر کے سلسلے میں حضرت مو سیٰ (علیہ السلام) کی زندگی ایک مخصوص نمونہ تھی ۔ ایسے عظیم کام کی راہ میں داخلی اور خارجی مشکلات ہوتی ہیں ۔ ایسی ہمہ گیر دعوتوں میں کجی بھی پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ وہ مخصوص شکل بھی اختیار کرلیتی ہے اور اسے بہت سے تجربات سے بھی گزارنا پڑتا ہے ۔ اور راستے میں مشکلات بھی آتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کی بددیانہ زندگی سے کیوں گزارا گیا تو یہ اس لیے تاکہ وہ عوام الناس کی پر مشقت زندگی کے نشیب و فراز بھی جان لیں اور براہ راست تجربہ بھی حاصل کرلیں ۔ شاہی محلات کی زندگی کی ایک مخصوص فضا ہوتی ہے ، مخصوص آداب اور پروٹوکول ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی درجے کا سلیم الفطرت ، پاک طینت اور صاحب علم و فضل کیوں نہ ہو ، محلات کی زندگی کی پرچھائیں اس پر ضرور پڑتی ہے۔ اور اس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور رہ جاتے ہیں جہاں تک رسالت کا تعلق ہے اس میں ایک رسول کا واسطہ غنی سے بھی پڑتا ہے اور فقیر سے بھی۔ امت میں مالدار بھی ہوتے ہیں اور فقراء بھی ہوتے ہیں۔ اس میں صاف ستھرے بھی ہوتے ہیں اور میل کچیل والے بھی ہوتے ہیں ، مہذب بھی ہوتے ہیں اور وحشی بھی ہوتے ہیں۔ پاک فطرت بھی ہوتے ہیں اور خبیث الفطرت بھی ہوتے ہیں۔ اچھئ بھی اور برے بھی ، قوی بھی اور ضعیف بھی۔ صابر بھی اور جزع و فزع کرنے والے بھی۔ غرض امت میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور نبی نے سب کی اصلاح کرنی ہوتی ہے۔ فقراء لوگوں کے کھانے پینے ، چلنے پھرنے اور لباس کی الگ عادات ہوتی ہیں۔ وہ معاملات کو اپنے ذہن کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے زندگی کا ایک مخصوص تصور ہوتا ہے ، ان کی بات چیت ان کی حرکات و سکنات ، ان کا کلام اور ان کے شعور کا اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے۔ یہ عوامی عادات ان لوگوں پر بہت بھاری ہوتی ہیں ، جنہوں نے محلات میں تربیت پائی ہوئی ہوتی ہے۔ اونچے محلات کے لوگ ، ان کے عوامی انداز کو دیکھنے کے روداد بھی نہیں ہوتے ، چہ جائیکہ وہ انہیں برداشت کریں اور ان کا علاج کریں۔ اگرچہ ان عامی لوگوں کے دل بھلائی سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور وہ اصلاح پذیر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ظاہری ربگ ڈھنگ ان کی ظاہری عادات ، اونچے محلات والے کو نہیں جچتے۔ ایک رسول کو بعض اوقات مشتقوں ، تنہائیوں اور تنگ دستیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو بڑے بڑے محالات میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں ، ان کے اندر قربانی دینے کا بےپناہ جذبہ کیوں نہ ہو ، وہ بہت طویل عرصے تک تنگ دستی ، محرومی اور عملی زندگی میں مشقتوں کو برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ محلات کے اندر پر تعیش ، فراوانی اور آرام طلبی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محلات کے اس اعلیٰ معیار کی زندگی سے ذرا نیچے لا کر عوامی زندگی کی سطح تک اتارا جائے۔ انہیں فرواہوں کی سوسائٹی کے اندر ڈال دیا جائے اور خوف ، تعاقب اور پکڑے جانے کے ڈر سے فرار کے بعد ایک چرواہے کی زندگی گزارنے کا عادی بنایا جائے جہاں انہیں صرف کھانا اور ٹھکانا ملتا ہے تاکہ شہزادوں کے مزاج میں غربت اور غرباء سے جو کچھاؤ ہوتا ہے وہ دور ہوجائے۔ چرواہوں کی عادات ، ان کے اخلاق ، ان کی درشی اور ان کی سادگی کے بارے میں شہزادوں کے اندر جو ناگواری پائی جاتی ہے وہ دور ہوجائے۔ ان کی جہالت ، غربت ، بدحالی اور مجموعی طور طریقوں سے حضرت موسیٰ شہزادہ اپنے آپ کو بلند اور دور نہ سمجھیں ، اور اس لئے کہ ان کو عوامی زندگی کے گہرے سمندروں کے اندر ڈال دیا جائے جبکہ پہلے وہ انسانی زندگی کے ایک محدود دھادے کے اندر تیرتے رہے تھے تاکہ آنے والی داعیانہ زندگی کے لیے وہ اچھی طرح تیار ہوجائیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت نے یہ تجربے مکمل کرلیے اور وہ عوامی زندگی کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہوگئے اور یہ تجربات انہیں ایک غریب الدیار اجنبی کی حیثیت سے دوسرے علاقے میں رہ کر ہوئے تو دست قدرت نے انہیں پھر اپنی جائے پیدائش کی طرف روانہ کیا۔ جہاں ان کے اہل و عیال اور ان کی قوم رہتی تھی۔ اور جہاں انہوں نے مشکل ترین فریضہ رسالت ادا کرنا تھا اب وہ اسی راہ پر چل رہے ہیں۔ اس سے وہ بھاگے تھے اور بالکل یکہ و تنہا بھاگتے چلے جا رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس ایک ہی راستے پر وہ کیوں آئے اور واپس ہوئے ؟ یہ دراصل ایک جنگی مشق تھی انہیں اس راستے کے نشیب و فراز اور راہ و گھاٹ سے خبردار کرنا مطلوب تھا۔ کیونکہ قدرت نے طے کر رکھا تھا کہ عنقریب اسی راستے سے موسیٰ نے اپنی قوم کی قیادت کرتے ہوئے سینائی میں داخل ہونا ہے۔ یہ دراصل ہر ادل دستے اور رہبر کی مشق تھی تاکہ حضرت موسیٰ کو خود اپنے سوا کسی اور راہنما کی ضرورت نہ پڑے ، راستہ بتلانے والے کی بھی۔ کیونکہ ان کی قوم ایسی حالت میں جاگری تھی کہ انہیں چھوٹے بڑے سب کاموں میں راہنمائی کی ضرورت تھی اس لئے کہ ذلت ، غلامی اور ماتحتی نے انہیں پوری طرح بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے اندر کوئی تدبر اور کوئی سوچ نہ رہی تھی۔ اب معلوم ہوگیا کہ قدرت الٰہیہ کس طرح اپنی نظروں کے نیچے حضرت موسیٰ کی تربیت کر رہی تھی اور ان کا فریضہ رسالت کی ادائیگی کیلئے کس طرح اچھی تربیت دی گئی۔ اب ذرا دیکھئے کہ حضرت موسیٰ نے واپسی کا سفر کس طرح طے کیا فلما قضی موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ لعلکم تصطلون (28: 29) ” جب موسیٰ نے مدت پوری کردی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ” ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو “۔ یہاں یہ ایک اہم سوال ہے کہ وہ کیا سوچ تھی جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مصر لوٹنے پر آمادہ کیا۔ مدین میں انہوں نے عرصہ کار پورا کردیا۔ اب وہ مصر لوٹ رہے ہیں حالانکہ وہ مصر سے نہایت ہی خوف کی حالت میں نکلے تھے۔ ان کو تعاقب کا ڈر تھا۔ وہ یوں واپس ہو رہے تھے کہ شاید وہ اس خطرے کو بھول گئے ہیں جو مصر میں اب بھی ان کو درپیش ہے۔ وہاں انہوں نے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا ہے ، فرعون ابھی زندگہ ہے جو اپنے سرداروں کے ساتھ آپ کے قتل کا مشاورت کر رہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ عالم بالا کی اپنی سکیم کے مطابق ہو رہا ہے۔ اس بار شاید اہل و عیال اور قوم اور وطن کیلئے فطری مبلان انہیں واپسی پر مجبور کر رہا ہے اور ان کے دل سے وہ خطرات اب محو ہوگئے جن کی بنا پر اس نے یکہ و تنہا یہاں سے فرار اختیار کیا تھا۔ اور یہ دست قدرت اس لیے کر رہا ہے کہ وہ اس مہم اور منصب کیلئے تیار ہوجائیں جس کیلئے اللہ نے ان کو اول روز پیدا کیا ہے بہرحال وجہ جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ واپس ہو رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کے اہل و عیال بھی ہیں۔ رات کا وقت ہے ، سخت اندھیرا ہے۔ یہ قافلہ راستے سے بھٹک گیا ہے۔ سردیوں کا موسم ہے۔ اس لیے کہ آگ دیکھ کر وہ وہاں سے آگ لانے کے لیے جا رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے پاس جو کوئی ہوگا یا تو راستہ بتا دے گا ورنہ وہ ایک انگارہ لے آئیں گے تاکہ تاب سکیں۔ یہ اس حصے کا پہلا منظر ہے۔ دوسرا منظر نہایت غیر متوقع ہے۔ فلما اتھا نودی ۔۔۔۔۔۔ من الشجرۃ (28: 30) ” وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا “۔ حضرت موسیٰ تو دیکھ رہے ہیں کہ آگ ہے اور یہ وادی طور میں ان کے دائیں جانب ہے۔ اور یہ جگہ نہایت ہی متبرک ہے ، اور یہ وادی بھی آج ہی متبرک ہو رہی ہے ، پوری کائنات لمحہ بھی کے لیے خاموش ہے اور اس کے اندر عالم بالا اور رب ذوالجلال کی یہ آواز گونج رہی ہے ، بظاہر کانوں پر وہ ایک درخت مبارک سے آرہی ہے اور شاید یہ اس علاقے میں واحد درخت ہے۔ ان یموسی انی انا اللہ رب العالمین (28: 30) ” اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا مالک “۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو براہ راست سنا۔ اس گہری اور خاموش وادی میں وہ اکیلے کھڑے تھے۔ نہایت ہی تاریک اور خاموش رات میں۔ یہ آواز پوری کائنات بھی ہر طرف سے اس آواز کو سن رہی تھی ، زمین اور آسمانوں کی دوریوں اور بلندیوں میں یہ آواز گونج رہی تھی۔ حضرت موسیٰ نے اس آواز کو پایا ، کس ذریعہ سے پایا ، کس طرح سے سنا ، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ البتہ حضرت موسیٰ کی ذات اور ان ماحول اور پوری کائنات اس سے گونج رہی تھی اور بھری ہوئی تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے رب کائنات کی آواز کو پایا اور اس کے متحمل ہوگئے ، کیونکہ ان کو اس کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔ اس کائنات کے ۔۔ نے اس آواز کو ریکارڈ کرلیا ، جہاں اس آواز کو حضرت موسیٰ نے پایا ، وہ جگہ بابرکت ہوگئی۔ یہ جگہ اب مکرم ہوگئی اور حضرت موسیٰ اب نہایت ہی بابرکت اور مکرم جگہ میں کھڑے تھے اور یہ آواز ابھی ختم نہیں ہوئی مکاملہ جاری ہے۔ الق عصاک (28: 31) ” پھینک دے اپنی لاٹھی “۔ حضرت موسیٰ نے باری تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے فوراً لاٹھی پھینک دی۔ دیکھتے کیا ہیں ؟ وہ تو اب ان کی وہ لاٹھی نہیں ہے جو ان کے ساتھ ایک عرصہ تک رہی اور جس کو وہ یقیناً جانتے تھے کہ یہ ایک عصا ہے۔ عصا نہیں اب تو وہ ایک سانپ ہے جو زمین پر رینگ رہا ہے۔ بڑی تیزی سے ادھر ادھر جا رہا ہے اور یہ اس طرح کروٹیں بدل رہا ہے جس طرح چھوٹے چھوٹے سانپ بدلتے ہیں حالانکہ یہ بہت ہی بڑا سانپ نظر آتا ہے۔ فلما راھا ۔۔۔۔۔۔۔ ولم یعقب (28: 31) ” جو موسیٰ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے ، تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا “۔ اس لیے کہ یہ نہایت ہی غیر متوقع صورت حال تھی ، اس کے لیے وہ ذہنا تیار نہ تھے ، پھر آپ کا مزاج بھی انفعالی تھا۔ آپ پر ہر صورت حال کا جلد اثر ہوجاتا تھا۔ آپ اس طرح بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ یہ سانپ ان کی طرف بڑھ بھی رہا ہے یا نہیں تاکہ وہ معلوم کرتے کہ یہ عجیب معجزہ ہے اور اس پر کچھ غور کرتے۔ جو لوگ بھی جلد متاثر ہوجاتے ہیں ان کی روش اسی طرح ہوتی ہے۔ ندائے ربانی جاری ہے۔ یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” موسیٰ پلٹ آ اور خوف نہ کر تو بالکل محفوظ ہے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے خوف اور امن کے یہ تجربے کوئی نئے نہ تھے۔ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں خوف اور امن کے چکروں پر مشتمل ہیں۔ خوف اور امن ان کی پوری زندگی کے موسم ہیں۔ آغاز سے انجام تک اور موسیٰ (علیہ السلام) کا یوں متاثر ہوجانا بھی حکمت خداوندی پر مبنی اور مطلوب و مقصود تھا۔ ان کی زندگی میں اسی طرح مقدر تھا کیونکہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں یہ زیر و بم اور یہ اضطراب اور یہ تلاطم بنی اسرائیل کی جامد ، تقلیدی اور رکی ہوئی زندگی کے بالمقابل قصداً پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ قدرت کی تقدیر تھی اور قدرت کی گہری حکمت اور تدبیر پر مبنی تھی۔ اقبل ولا تخف انک من الامنین (28: 31) ” واپس آجاؤ “ اور ڈرو نہیں تم محفوظ ہو “۔ کس طرح وہ محفوظ نہ ہوگا جسے دست قدرت آگے بڑھا رہا ہو اور جس کی نگرانی اللہ تعالیٰ خود کر رہا ہو۔ ابھی مکالمہ جاری ہے۔ اسلک یدل فی جیبک تخرج بیضآء من غیر سوء (28: 32) ” اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے “۔ حضرت موسیٰ نے حکم کی اطاعت فرمائی اور اپنے ہاتھ کو گریبان میں ڈالا اور نکالا۔ یہ ان کے لئے اسی وقت دوسرا غیر متوقع منظر تھا کہ ہاتھ سفید اور چمکدار ہے اور بغیر کسی بیماری کے ایسا ہے حالانکہ پہلے وہ گندم گوں تھا۔ ہاتھ کے سفید ہونے میں اشارہ اس طرح تھا کہ حق اور سچائی واضح اور صاف اور روشن دن کی طرح ہے۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) جذباتی اور متاثر ہونے والی شخصیت نے اپنا کام دکھایا۔ وہ ان مناظر ، غیر متوقع مناظر کو دیکھ کر ڈر گئے اور کانپنے لگے۔ ایک بار پھر ربانی ہدایت براہ راست آتی ہے۔ حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھوں کو اپنے بازوؤں کو بھینچ لو ، اس طرح تمہارے دل کی دھڑکن کم ہوگی اور تمہیں پورا اطمینان ہوجائے گا۔ واضمم الیک جناحک من الرھب (28: 32) ” اور خوف سے بچنے کیلئے اپنا بازو بھینچ لو “۔ گویا ان کے ہاتھ ان کا پر ہے جسے وہ سینے کے ساتھ ملا رہے ہیں جس طرح پرندہ مطمئن ہوکر پروں کو جسم سے جوڑ لیتا ہے۔ جب پرندہ پروں کے ساتھ پھڑ پھڑاتا ہے تو اس کی کیفیات کے ساتھ مشابہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم یہاں اس مفہوم کی ایسی ہی تصویر کشی کرتا ہے : اب موسیٰ (علیہ السلام) باری تعالیٰ کی طرف سے ہدایات پاچکے ہیں اور جو مشاہدات ان کو کرائے گئے وہ مشاہدہ دہ کرچکے ہیں۔ یہ دو نشانیاں اور معجزات تو وہ خود دیکھ چکے ہیں۔ پہلے وہ خود بھی خائف ہوگئے اور ان کا دل دھڑکنے لگا۔ پھر ان کو اطمینان دیا گیا۔ اب ان کو وہ اصل مشن سپرد کیا جاتا ہے جس کے لیے ان کو ابتدا سے آغاز پیدائش سے تربیت دی جا رہی ہے۔ فذلک برھانن ۔۔۔۔۔۔ قوما فسقین (28: 32) ” یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لئے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں “۔ یہ پیغام گویا فرعون اور اس کے سرداروں کے لیے تھا۔ اور یہ اس وعدے کا ایفا ہوا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ” ہم اسے تیری طرف لوٹانے والے ہیں اور اسے مرسلین میں سے بنانے والے ہیں “۔ اور یہ پختہ وعدہ تھا ، کئی سال گزر گئے کہ یہ طے ہوا تھا۔ لیکن یہ اللہ کا وعدہ تھا اور اللہ وعدہ خلافی نہیں فرمایا کرتا۔ وہ تو سب سے سچی بات کرنے والا ہے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یاد آتا ہے کہ انہوں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے اور یہ کہ وہ ان سے اس وقت چلے گئے جب گرفتاری کا خطرہ تھا۔ اور اس لیے بھاگ گئے تھے کہ انہوں نے انہیں قتل کرنے کے مشورے شروع کر دئیے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا رب تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ شروع تھا اور یہ عظیم اعزاز تھا جو انہیں بخشا گیا۔ پھر ان کو دو عظیم معجزات کا اعزاز بھی بخشا گیا۔ اور پھر اپنی نگرانی میں ان کی تربیت فرمائی۔ لہٰذا انہوں نے اپنے مشن کے سلسلے میں ایک عملی دشواری کی طرف سے خدشے کا اظہار کیا۔ یہ نہ ہو کہ وہ لوگ چھوٹتے ہی انہیں قتل کردیں اور دعوت کا سلسلہ ہی کٹ جائے۔ قال رب ۔۔۔۔۔۔ ان یقتلون (28: 33) ” موسیٰ نے عرض کیا میرے آقا میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں اور ڈرتا ہوں اور ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے “۔ موسیٰ (علیہ السلام) منصب نبوت قبول کرنے سے معذرت نہ کر رہے تھے۔ نہ ان کا مقصد یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جائیں یا منہ موڑلیں اور نافرمانی کریں بلکہ وہ یقین دہانی چاہئے تھے اور یہ اطمینان چاہتے تھے کہ دعوت کو جاری رہنا چاہئے۔ اور اگر وہ قتل ہوگئے جس طرح خدشہ ہے تو سلسلہ شروع ہی سے ختم ہوجائے گا۔ یہ ان کی جانب سے ایک مناب بات بھی ہے حالانکہ وہ قوی اور امین تھے۔ ڈرنے والے نہ تھے۔ واخی ھرون ۔۔۔۔۔۔ انی اخاف ان یکذبون (28: 34) ” اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہت کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے “۔ ہارون مجھ سے زیادہ فصیح وبلیغ مقرر ہے اور دعوت کو اچھی طرح پیش کرسکتا ہے ، اسے میرے لیے تائید کنندہ کے طور پر بھیج دے تاکہ وہ میرے دعوائے رسالت کی تائید کرے اور اگر وہ مجھے قتل ہی کردیں تو میرا خلیفہ ہو۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین دہانی کرائی جاتی ہے اور درخواست قبول کرلی جاتی ہے۔ قال سنشد عضدک ۔۔۔۔۔۔ اتبعکما الغلبون (28: 35) ” فرمایا ! ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سعادت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہوگا “۔ جو واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں ان میں قدرت الہیہ کی معجزانہ قوتیں زیادہ واضح طور پر حضرت موسیٰ کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی اور غلبہ کے پیچھے صرف متعارف اسباب ہی نظر نہ آئیں بلکہ اس پر عالم بالا کی مشیت کا رنگ غالب ہوتا کہ لوگوں کے نظریات کے اندر محض مادی اسباب کے علاوہ آسمانی قوتوں کی مشیت بھی واضح طور پر اہمیت اختیار کرلے۔ لوگوں کو اللہ پر ایمان حاصل ہو اور وہ اللہ پر توکل کریں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔ یہ خوبصورت اور عظیم منظر ختم ہوجاتا ہے اور زمان و مکان کے فاصلے لپیٹ دئیے جاتے ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اب دربار فرعون میں ہیں۔ اللہ کی واضح آیات لیے ہوئے ہیں۔ اب ہدایت و ضلالت آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان سخت مکالمہ شروع ہے۔ اور اس دنیا میں حق و باطل کی کشمکش کا فیصلہ یوں ہوتا ہے کہ باطل اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں لازماً وہ لعنت کا مستحق ہوگا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی اہلیہ کے ساتھ مدین سے واپس مصر کے لیے روانہ ہونا، اور کوہ طور پر آگ نظر آنا پھر وہاں پہنچنے پر رسالت سے سرفراز کیا جانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں اپنے خسر صاحب کے پاس اہلیہ کے ساتھ رہتے رہے پھر وہاں سے مصر کی طرف واپس لوٹنے کا ارادہ فرمایا، جب آنے لگے تو اپنی اہلیہ کو ساتھ لیا چلتے چلتے راستہ بھی بھول گئے اور رات کی ٹھنڈک کی وجہ سے سردی بھی لگنے لگی، طور پر پہاڑ سے کچھ دور ہی تھے کہ طور کی جانب آگ نظر آئی فرمایا میں وہاں جاتا ہوں۔ امید ہے کہ وہاں راستہ کی کوئی خبر مل جائے گی یعنی کسی راستہ بتانے والے سے ملاقات ہوجائے گی، اگر یہ نہ ہوا تو کم از کم اتنا تو ہوگا کہ آگ کا کوئی شعلہ کسی لکڑی میں لے آؤں گا، جسے جلا کر تم تاپ لو گے یعنی گرمی حاصل کرلو گے، اہل خانہ سے فرما کر آگ کی طرف چل دیئے جیسے ہی طور پہاڑ کے داہنے جانب کے کنارے پر پہنچے تو اس مبارک جگہ سے انہیں پکارنے کی آواز آئی اور یہ آواز ایک درخت سے نکلتی معلوم ہو رہی تھی۔ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا اے موسیٰ میں اللہ ہوں رب العالمین ہوں، اور یہ بھی فرمایا کہ یہ تمہارے ہاتھ میں جو عصا ہے اسے ڈال دو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے عصا کو ڈال دیا تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ وہ تو چھوٹے سانپ کی طرح حرکت کر رہا ہے اس کو جو حرکت کرتے ہوئے دیکھا تو پشت پھیر کر چل دیئے اور مڑ کر دیکھا بھی نہیں، اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ڈرو نہیں آگے بڑھو تم امن میں ہو تمہیں کوئی تکلیف پہنچنے والی نہیں ہے، مزید یہ کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو پھر اسے نکالو وہ چمکدار ہو کر تمہارے سامنے آجائے گا، گندمی رنگ کی بجائے زیادہ تیز روشنی والا ہو کر جو نکلے گا تو کسی مرض یعنی برص وغیرہ کی وجہ سے ایسا نہ ہوگا چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا کہ ہاتھ گریبان میں ڈال کر باہر نکالا ان کا ہاتھ خوب زیادہ روشن ہو کر گریبان سے باہر آگیا۔ اللہ جل شانہٗ نے مزید فرمایا کہ ہاتھ کی یہ کیفیت دیکھ کر کچھ خوف محسوس ہو تو اسے دور کرنے کے لیے اپنے بازو یعنی اسی سفید ہاتھ کو دو بارہ اپنے گریبان میں ڈال لینا ایسا کرنے سے وہ اپنی پہلی حالت پر آجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عصا کو سانپ بنا کر پہلی حالت پر لوٹا دیا اور ان کے داہنے ہاتھ کو خوب زیادہ روشن چمکدار بنا دیا پھر اس کو اصلی حالت پر لوٹا دیا اور بطور معجزہ ان کو یہ دونوں چیزیں عطا فرما دیں اور فرمایا کہ تمہارے رب کی طرف سے یہ دو دلیلیں ہیں۔ تم فرعون اور اس کی جماعت کے بڑے لوگوں کے پاس چلے جاؤ اور انہیں حق کی اور اعمال صالحہ کی دعوت دو اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عبادت کی طرف متوجہ کرو۔ (اِنَّھُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ) (بلاشبہ وہ لوگ نافرمان ہیں) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دو باتیں عرض کیں ایک تو یہ کہ میں نے مصریوں کا ایک شخص قتل کردیا تھا اب مجھے ڈر ہے کہ ان کے پاس جاؤں تو مجھے قتل کردیں اور اس صورت میں رسالت کا کام نہ ہو سکے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ میرے ساتھ کوئی ایک شخص ہونا چاہیے۔ جو میرا معاون ہو لہٰذا میرے خاندان میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دیں (کمافی سورة طہ) اس سے مجھے قوت بھی ملے گی اور میری زبان میں روانی نہیں ہے ہارون زبان کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ فصیح ہیں۔ جب وہ بھی رسول ہوں گے اور میرے کام میں شریک ہوں گے اور ہم دونوں مل کر فرعون کے پاس جائیں گے تو اس کی وجہ سے ہمت بندھی رہے گی اور اگر زبانی مناظرے کی ضرورت پیش آگئی تو چونکہ ان کی زبان میں روانی ہے اس لیے وہ مناظرہ میں بھی اچھی طرح گفتگو کرسکیں گے۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔ لہٰذا مناسب یہ ہے کہ اس موقعہ پر ہارون میرے مددگار ہوں، اور میری تصدیق کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا وہیں کوہ طور کے پاس کی تھی جب نبوت سے سر فراز ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرما دی۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ہارون (علیہ السلام) مصر ہی میں تھے ابھی موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے بھی نہیں تھے کہ اس سے پہلے انہیں رسالت سے سر فراز کردیا گیا تھا۔ (قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِاَخِیْکَ ) (الآیۃ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہارے بازو کو مضبوط کردیں گے اور تمہیں غلبہ دے دیں گے کہ وہ لوگ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکیں گے تم دونوں میری آیات کو لے کر چلے جاؤ۔ تم دونوں اور جو بھی شخص تمہارا اتباع کرے تم سب غالب ہو گے۔ (ھذا اذا تعلق قولہ تعالیٰ بایاتنا بالفعل المحذوف ای اذھبا بایاتنا و اختارہ المحلی فی تفسیرہ و فیہ اوجہ ذکرھا فی حاشیۃ تفسیر الجلالین) (یہ تفسیر تب ہے جبکہ بِاٰیَاتِنَا کا تعلق فعل محذوف سے ہو یعنی (اِذْھَبَا بِاٰیَاتِنَا) (تم دونوں میری آیات لے جاؤ) ( اسی توجیہ کو علامہ محلی نے اپنی تفسیر میں اختیار کیا ہے اور آیت کے اس جملہ میں اور بھی کئی ساری توجیہات ہیں جو تفسیر جلا لین کے حاشیہ میں مذکور ہیں) ۔ فائدہ : صاحب معارف القرآن لکھتے ہیں کہ طور پر جو تجلی تھی کہ تجلی بشکل نار تجلی مثالی تھی کیونکہ تجلی ذاتی کا مشاہدہ اس دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا اور خود موسیٰ (علیہ السلام) کو اس تجلی ذاتی کے اعتبار سے لَنْ تَرَانِیْ فرمایا گیا ہے یعنی آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے مراد مشاہدہ ذات حق ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28:۔ تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس سال کی مدت پوری کی۔ اتمام میعاد کے بعد اپنی بیوی کو ساتھ لے کر مصر کا رخ کیا تاکہ وہاں اپنی والدہ، ہمشیرہ اور بھائی کی ملاقات کریں۔ ان کا خیال تھا کافی عرصہ گذر چکا ہے اب قبطی کے قتل کا معاملہ فع دفع ہوچکا ہوگا۔ راستے میں جب وادی طوی میں پہنچے جو کوہ طور کے دامن میں ہے تو راستہ بھول گئے۔ رات کا وقت تھا اور سردی بھی پڑ رہی تھی۔ اچانک کوہ طور کی جانب سے آگ دیکھی تو بیوی سے فرمایا تم یہیں ٹھہرو مجھے آگ نظر آئی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں، وہاں کوئی آدمی ہوگا اس سے راستہ پوچھوں گا یا کم از کم تمہارے تاپنے کے لیے وہاں سے آگ ہی لے آؤں گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

29۔ الغرض ! جب موسیٰ (علیہ السلام) وہ مدت پوری کرچکا اور اپنے گھر والوں کو لیکر چلا تو اس نے کوہ طور کی جانب ایک آگ دیکھی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا تم ذرا ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں وہاں سے تمہارے لئے کوئی خبر لے آئوں یا آگ کا کوئی انگارا لے آئوں تا کہ تم اس سے گرمی حاصل کرو اور تاپو ! غرض موسیٰ (علیہ السلام) جب وہ مدت یعنی بقول مشہور دس سال پورے کردیئے تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے مصر یا شام کا سفر اختیار کیا چلتے وقت ان کی اہلیہ محترمہ نے کچھ بکریاں حضرت شعیب سے مانگ لیں باپ نے لڑکی کو اس سال کی پیدا شدہ تمام بکریاں دے دیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے روانہ ہوئے ایک دن رات کو راستے میں سخت سردی ہوئی اور ہوا چلی گھر والی کو در دزہ کی تکلیف ہوئی راستے کا پتہ نہ چلا بکریوں کا گلہ ہوا کہ تیزی میں تتر بتر ہوگیا کوئی آدمی نہیں جس سے راستہ دریافت کریں اسی حالت میں تھے کہ کوہ طور کے قریب ایک روشنی نظر آئی سمجھے کہ آگ ہے گھر والی سے کہا تم ذرا ٹھہر ئو مجھے آگ دکھائی دیتی ہے میں دیکھوں آگ کے پاس کوئی آدمی ہو تو اس سے کوئی راستہ کی خبر لائوں یا کوئی آگ کا شعلہ اور انگارہ وہی لے آئوں تا کہ تم آگ سے تاپ لو اور سردی کچھ کم ہوجائے ، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور کی جانب بڑھے۔