Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 30

سورة القصص

فَلَمَّاۤ اَتٰىہَا نُوۡدِیَ مِنۡ شَاطِیَٔ الۡوَادِ الۡاَیۡمَنِ فِی الۡبُقۡعَۃِ الۡمُبٰرَکَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنۡ یّٰمُوۡسٰۤی اِنِّیۡۤ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۰﴾

But when he came to it, he was called from the right side of the valley in a blessed spot - from the tree, "O Moses, indeed I am Allah , Lord of the worlds."

پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے میدان کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دئیے گئے کہ اے موسٰی! یقیناً میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِي مِن شَاطِيِ الْوَادِي الاَْيْمَنِ ... So when he reached it (the fire), he was called from the right side of the valley, From the side of the valley that adjoined the mountain on his right, to the west. This is like the Ayah, وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِىِّ إِذْ قَضَيْنَأ إِلَى مُوسَى الاٌّمْرَ And you were not on the western side, when We made clear to Musa the commandment. (28:44) This indicates that when Musa headed for the fire, he headed in the direction of the Qiblah with the western mountain on his right. He found the fire burning in a green bush on the side of the mountain adjoining the valley, and he stood there amazed at what he was seeing. Then his Lord called him: ... مِن شَاطِيِ الْوَادِي الاَْيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ ... from the right side of the valley, in the blessed place, from the tree. ... أَن يَا مُوسَى إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ O Musa! Verily, I am Allah, the Lord of all that exits! meaning, `the One Who is addressing you and speaking to you is the Lord of all that exits, the One Who does what He wills, the One apart from Whom there is no other god or lord, may He be exalted and sanctified, the One Who by His very nature, attributes, words and deeds is far above any resemblance to His creation, may He be glorified.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

301یعنی آواز وادی کے کنارے سے آرہی تھی، جو مغربی جانب سے پہاڑ کے دائیں طرف تھی، یہاں درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے جو دراصل رب کی تجلی کا نور تھا۔ 302یعنی اے موسٰی ! تجھ سے جو اس وقت مخاطب اور ہم کلام ہے، وہ میں اللہ ہوں رب العالمین۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٠] یہ آگ نہیں تھی، نہ اس میں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ بلکہ یہ اللہ کا نور تھا۔ جس نے ایک درخت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور اس آگ یا نور کے درمیان یہ سرسبز درخت لہلہا رہا تھا۔ اس درخت میں سے آواز آنے لگی کہ موسیٰ ! تم یہاں اتفاقاً نہیں پہنچ گئے بلکہ ٹھیک میرے اندازہ کے مطابق اس مبارک وادی میں پہنچے ہو اور میں اللہ تم سے ہمکلام ہو رہا ہوں۔ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے (اس مقام پر اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ کی گفتگو کی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے جو سورة طٰہ اور دوسری مقامات پر مذکور ہے)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَمَّآ اَتٰىهَا نُوْدِيَ ۔۔ :” شَاطی الْوَادِ الْاَيْمَنِ “ کی تفسیر کے لیے دیکھے سورة مریم (٥٢) اور طٰہٰ (٨٠) ” مِنَ الشَّجَرۃِ “ جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس آئے تو دیکھا کہ سرسبز درخت میں آگ لگی ہوئی ہے، جس سے جلنے کے بجائے درخت مزید سرسبز اور خوب صورت دکھائی دے رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) حیرت سے یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ درخت میں سے آواز آئی : ” اے موسیٰ ! بلاشبہ میں ہی اللہ ہوں جو رب العالمین ہے۔ “ اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ : دیکھیے سورة طٰہٰ (١٤) اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو دو ناموں کے ساتھ اپنا تعارف کروانے کا ذکر فرمایا ہے، ایک ” اللّٰهُ “ جو ذاتی نام ہے، جس میں اس کی ساری صفات آجاتی ہیں اور دوسرا ” رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ “ جو اللہ کے اسماء میں سے ایسا اسم ہے جس میں اس کی وہ تمام صفات آجاتی ہیں جن کے آثار آدمی کے مشاہدے میں آتے ہیں۔ سورة طٰہٰ میں بھی انھی دو اسماء کا ذکر ہے، جیسے فرمایا : (اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ) [ طٰہٰ : ١٢ ] اور (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا) [ طٰہٰ : ١٤ ] یہاں بات مختصر کی ہے، سورة طٰہٰ میں ان اسماء کے تقاضے پر عمل کا بھی حکم دیا ہے، فرمایا : (اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا تَسْعٰي فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى) [ طٰہٰ : ١٤ تا ١٦ ] ” سو میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ یقیناً قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلا دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔ سو تجھے اس سے وہ شخص کہیں روک نہ دے جو اس پر یقین نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے، پس تو ہلاک ہوجائے گا۔ “ سورة نمل میں دو مزید صفات کا بھی ذکر ہے، فرمایا : (يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) [ النمل : ٩ ] ” اے موسیٰ ! بیشک حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر ان تمام صفات کا ذکر فرمایا تھا، پھر ہر سورت میں اس کے مضمون کے مطابق ان میں سے چند صفات کا ذکر فرما دیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَ‌كَةِ مِنَ الشَّجَرَ‌ةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ He was called by a voice coming from a side of the right valley in the blessed ground, from the tree, saying|" 0 Musa, I am Allah, the Lord of the worlds|" - 28:30). This subject was also mentioned in Surahs Taha and An-Naml in the story of Musa (علیہ السلام) . In Surah Taha it is said إِنِّي أَنَا رَ‌بُّكَ (it is Me your Lord - 20:12) and in Surah An-Naml نُودِيَ أَن بُورِ‌كَ مَن فِي النَّارِ‌ (So when he came to it, he was called: |"Blessed is the one who is in the fire - 27:8), while in the present Surah (Al-Qasas) it appears as إِنِّي أَنَا اللَّـهُ رَ‌بُّ الْعَالَمِينَ (I am Allah the Lord of the worlds - 28:30). Although the wordings are slightly different here, yet the meanings are almost the same. The incident is related in the words which suited to the situation being described. (کَذا قال الامام). The refulgence that Sayyidna Masa (علیہ السلام) had seen in the form of fire was only in the form of an example (mithali), because it is impossible for a worldly being to see the actual refulgence of Allah Ta` ala. Masa (علیہ السلام) is called لَن تَرَ‌انِي (7:143) (You will never see Me) in respect of actual refulgence. The place also becomes auspicious if righteous deeds are performed there فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَ‌كَةِ (In the blessed ground - 28:30). The Holy Qur&an has termed the mount Tur as blessed ground. It is obvious that the reason of its being auspicious is the refulgence of Allah Ta` ala, which was manifested at that spot in the form of fire. It proves that if something virtuous happens at a place, that particular spot also turns auspicious.

نُوْدِيَ مِنْ شَا ٨ الْوَادِ الْاَيْمَنِ (الی) اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، یہ مضمون بضمن قصہ موسیٰ (علیہ السلام) سورة طہ اور سورة نمل میں گزرا ہے۔ سورة طہ میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ اور سورة نمل میں ہے نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّار اور اس سورت میں ہے اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ یہ الفاظ اگرچہ مختلف ہیں مگر معنی تقریباً ایک ہی ہیں واقعہ کی حکایت پر ہر مقام کے مناسب الفاظ سے کی گئی ہے (کذا قال الامام) اور یہ تجلی بشکل نار تجلی مثالی تھی کیونکہ تجلی ذاتی کا مشاہدہ اس دنیا میں کسی کو نہیں ہوسکتا اور خود موسیٰ (علیہ السلام) کو اس تجلی ذاتی کے اعتبار سے لَن تَرَانِی فرمایا گیا ہے۔ یعنی آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے مراد مشاہدہ ذات حق ہے۔ نیک عمل سے جگہ بھی متبرک ہوجاتی ہے : فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ کوہ طور کے اس مقام کو قرآن کریم نے بقعہ مبارکہ فرمایا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ اس کے مبارک ہونے کا سبب یہ تجلی خداوندی ہے جو اس مقام پر بشکل نار دکھائی دی گئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس مقام میں کوئی نیک عمل اہم واقع ہوتا ہے وہ مقام بھی متبرک ہوجاتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَمَّآ اَتٰىہَا نُوْدِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِي الْبُقْعَۃِ الْمُبٰرَكَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنْ يّٰمُـوْسٰٓي اِنِّىْٓ اَنَا اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۝ ٣٠ ۙ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ شطط الشَّطَطُ : الإفراط في البعد . يقال : شَطَّتِ الدّارُ ، وأَشَطَّ ، يقال في المکان، وفي الحکم، وفي السّوم، قال : شطّ المزار بجدوی وانتهى الأمل«1» وعبّر بِالشَّطَطِ عن الجور . قال تعالی: لَقَدْ قُلْنا إِذاً شَطَطاً [ الكهف/ 14] ، أي : قولا بعیدا عن الحقّ. وشَطُّ النّهر حيث يبعد عن الماء من حافته . ( ش ط ط ) الشطط ۔ کے معنی حد سے بہت زیادہ تجاوز کرنے کے ہیں جیسے شطت الدار واشط ( گھر کا دور ہونا ) اور یہ کسی مقام یا حکم یا نرخ میں حد مقررہ سے تجاوز کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے : ( البسیط ) یعنی حذوی ( محبوبہ ) کی زیارت مشکل ہوگئی اور ہر قسم کی امیدیں منقطع ہوگئیں ۔ اور کبھی شطط بمعنی جور بھی آجاتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ لَقَدْ قُلْنا إِذاً شَطَطاً [ الكهف/ 14] تو ہم نے بعید از عقل بات کہی ۔ شط النھر ۔ دریا کا کنارا جہاں سے پانی دور ہو وادي قال تعالی: إِنَّكَ بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ [ طه/ 12] أصل الوَادِي : الموضع الذي يسيل فيه الماء، ومنه سُمِّيَ المَفْرَجُ بين الجبلین وَادِياً ، وجمعه : أَوْدِيَةٌ ، نحو : ناد وأندية، وناج وأنجية، ويستعار الوادِي للطّريقة کالمذهب والأسلوب، فيقال : فلان في وَادٍ غير وَادِيكَ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وادٍ يَهِيمُونَ [ الشعراء/ 225] فإنه يعني أسالیب الکلام من المدح والهجاء، والجدل والغزل «2» ، وغیر ذلک من الأنواع . قال الشاعر : 460- إذا ما قطعنا وَادِياً من حدیثنا ... إلى غيره زدنا الأحادیث وادیاً «3» وقال عليه الصلاة والسلام : «لو کان لابن آدم وَادِيَانِ من ذهب لابتغی إليهما ثالثا» «4» ، وقال تعالی: فَسالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِها[ الرعد/ 17] أي : بقَدْرِ مياهها . ( و د ی ) الوادی ۔ اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو اسی سے دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ زمین کو وادی کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّكَ بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ [ طه/ 12] تم ( یہاں ) پاک میدان ( یعنی ) طوی میں ہو ۔ اس کی جمع اودیتہ اتی ہے جیسے ناد کی جمع اندیتہ اور ناج کی جمع انجیتہ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَسالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِها[ الرعد/ 17] پھر اس سے اپنے اپنے انداز کے مطابق نالے بہ نکلے ۔ اور حدیث میں ہے ۔ لوکان لابن ادم وادیان من ذھب لابتغی ثالثا کہ اگر ابن ادم کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہش مند ہوگا ۔ يمین ( دائیں طرف) اليَمِينُ : أصله الجارحة، واستعماله في وصف اللہ تعالیٰ في قوله : وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] علی حدّ استعمال الید فيه، و تخصیص اليَمِينِ في هذا المکان، والأرض بالقبضة حيث قال جلّ ذكره : وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] «1» يختصّ بما بعد هذا الکتاب . وقوله :إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] أي : عن الناحية التي کان منها الحقّ ، فتصرفوننا عنها، وقوله : لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] أي : منعناه ودفعناه . فعبّر عن ذلک الأخذ باليَمِينِ کقولک : خذ بِيَمِينِ فلانٍ عن تعاطي الهجاء، وقیل : معناه بأشرف جو ارحه وأشرف أحواله، وقوله جلّ ذكره : وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] أي : أصحاب السّعادات والمَيَامِنِ ، وذلک علی حسب تعارف الناس في العبارة عن المَيَامِنِ باليَمِينِ ، وعن المشائم بالشّمال . واستعیر اليَمِينُ للتَّيَمُّنِ والسعادة، وعلی ذلک وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] ، وعلی هذا حمل : 477- إذا ما راية رفعت لمجد ... تلقّاها عرابة باليَمِين ( ی م ن ) الیمین کے اصل معنی دایاں ہاتھ یا دائیں جانب کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لیپٹے ہوں گے ۔ میں حق تعالیٰ کی طرف یمن نسبت مجازی ہے ۔ جیسا کہ ید وغیر ہا کے الفاظ باری تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوتے ہیں یہاں آسمان کے لئے یمین اور بعد میں آیت : ۔ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی ۔ میں ارض کے متعلق قبضۃ کا لفظ لائے میں ایک باریک نکتہ کی طرف اشارہ ہے جو اس کتاب کے بعد بیان ہوگا اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] تم ہی ہمارے پاس دائیں اور بائیں ) اسے آتے تھے ۔ میں یمین سے مراد جانب حق ہے یعنی تم جانب حق سے ہمیں پھیرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے ۔ میں دایاں ہاتھ پکڑ لینے سے مراد روک دینا ہے جیسے محاورہ ہے : ۔ یعنی فلاں کو ہجو سے روک دو ۔ بعض نے کہا ہے کہ انسان کا دینا ہاتھ چونکہ افضل ہے سمجھاجاتا ہے اسلئے یہ معنی ہو نگے کہ ہم بہتر سے بہتر حال میں بھی اسے با شرف اعضاء سے پکڑ کر منع کردیتے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] اور دہنے ہاتھ والے ۔ میں دہنی سمت والوں سے مراد اہل سعادت ہیں کو ین کہ عرف میں میامن ( با برکت ) ) کو یمین اور مشاے م ( منحوس ) کو شمالی کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے اور استعارہ کے طور پر یمین کا لفظ بر کت وسعادت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] اگر وہ دائیں ہاتھ والوں یعنی اصحاب خیر وبر کت سے ہے تو کہا جائیگا تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام اور ایس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( 426 ) اذا ما رایۃ رفعت ملجد تلقا ھا عرا بۃ بالیمین جب کبھی فضل ومجد کے کاموں کے لئے جھنڈا بلند کیا جاتا ہے تو عرابۃ اسے خیر و برکت کے ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔ شجر الشَّجَرُ من النّبات : ما له ساق، يقال : شَجَرَةٌ وشَجَرٌ ، نحو : ثمرة وثمر . قال تعالی: إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] ، وقال : أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها [ الواقعة/ 72] ، وقال : وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ [ الرحمن/ 6] ، لَآكِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ [ الواقعة/ 52] ، إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ [ الدخان/ 43] . وواد شَجِيرٌ: كثير الشّجر، وهذا الوادي أَشْجَرُ من ذلك، والشَّجَارُ الْمُشَاجَرَةُ ، والتَّشَاجُرُ : المنازعة . قال تعالی: حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ [ النساء/ 65] . وشَجَرَنِي عنه : صرفني عنه بالشّجار، وفي الحدیث : «فإن اشْتَجَرُوا فالسّلطان وليّ من لا وليّ له» «1» . والشِّجَارُ : خشب الهودج، والْمِشْجَرُ : ما يلقی عليه الثّوب، وشَجَرَهُ بالرّمح أي : طعنه بالرّمح، وذلک أن يطعنه به فيتركه فيه . ( ش ج ر ) الشجر ( درخت وہ نبات جس کا تنہ ہو ۔ واحد شجرۃ جیسے ثمر و ثمرۃ ۔ قرآن میں ہے : إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے ۔ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها [ الواقعة/ 72] کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ۔ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ [ الرحمن/ 6] اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کررہے ہیں ۔ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ [ الواقعة/ 52] ، تھوہر کے درخت سے إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ [ الدخان/ 43] بلاشبہ تھوہر کا درخت گنجان درختوں والی وادی ۔ بہت درختوں والی جگہ ۔ ھذا الوادی اشجر من ذالک اس وادی میں اس سے زیادہ درخت ہیں ۔ الشجار والمشاجرۃ والتشاجر باہم جھگڑنا اور اختلاف کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ [ النساء/ 65] اپنے تنازعات میں ۔ شجرنی عنہ مجھے اس سے جھگڑا کرکے دور ہٹا دیا یا روک دیا حدیث میں ہے ۔ (189) فان اشتجروا فالسلطان ولی من لا ولی لہ اگر تنازع ہوجائے تو جس عورت کا ولی نہ ہو بادشاہ اس کا ولی ہے الشجار ۔ ہودہ کی لکڑی چھوٹی پالکی ۔ المشجر لکڑی کا اسٹینڈ جس پر کپڑے رکھے یا پھیلائے جاتے ہیں ۔ شجرہ بالرمح اسے نیزہ مارا یعنی نیزہ مار کر اس میں چھوڑ دیا ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ عالَمُ والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه الصّيغة لکونه کا لآلة، والعَالَمُ آلة في الدّلالة علی صانعه، ولهذا أحالنا تعالیٰ عليه في معرفة وحدانيّته، فقال : أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] ، وأمّا جمعه فلأنّ من کلّ نوع من هذه قد يسمّى عالما، فيقال : عالم الإنسان، وعالم الماء، وعالم النّار، وأيضا قد روي : (إنّ لله بضعة عشر ألف عالم) «1» ، وأمّا جمعه جمع السّلامة فلکون النّاس في جملتهم، والإنسان إذا شارک غيره في اللّفظ غلب حكمه، وقیل : إنما جمع هذا الجمع لأنه عني به أصناف الخلائق من الملائكة والجنّ والإنس دون غيرها . وقد روي هذا عن ابن عبّاس «2» . وقال جعفر بن محمد : عني به النّاس وجعل کلّ واحد منهم عالما «3» ، وقال «4» : العَالَمُ عالمان الکبير وهو الفلک بما فيه، والصّغير وهو الإنسان لأنه مخلوق علی هيئة العالم، وقد أوجد اللہ تعالیٰ فيه كلّ ما هو موجود في العالم الکبير، قال تعالی: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ، وقوله تعالی: وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] ، قيل : أراد عالمي زمانهم . وقیل : أراد فضلاء زمانهم الذین يجري كلّ واحد منهم مجری كلّ عالم لما أعطاهم ومكّنهم منه، وتسمیتهم بذلک کتسمية إبراهيم عليه السلام بأمّة في قوله : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] ، وقوله : أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] . العالم فلک الافلاک اور جن جواہر واعراض پر حاوی ہے سب کو العالم کہا جاتا ہے دراصل یہ فاعل کے وزن پر ہے جو اسم آلہ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے طابع بہ ۔ مایطبع بہ خاتم مایختم بہ وغیرہ اسی طرح عالم بھی ہے جس کے معنی ہیں ماعلم بہ یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ کسی شے کا علم حاصل کیا جائے اور کائنات کے ذریعہ بھی چونکہ خدا کا علم حاصل ہوتا ہے اس لئے جملہ کائنات العالم کہلاتی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن نے ذات باری تعالیٰ کی وحدانیت کی معرفت کے سلسلہ میں کائنات پر غور کرنے کا حکم دیا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ أَوَلَمْ يَنْظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 185] کیا انہوں نے اسمان اور زمین گی بادشاہت پر غور نہیں کیا ۔ اور العالم کی جمع ( العالمون ) اس لئے بناتے ہیں کہ کائنات کی ہر نوع اپنی جگہ ایک مستقلی عالم عالم کی حیثیت رکھتی ہے مثلا عالم الاانسان؛عالم الماء وعالمالناروغیرہ نیز ایک روایت میں ہے ۔ ان اللہ بضعتہ عشر الف عالم کہ اللہ تعالیٰ نے دس ہزار سے کچھ اوپر عالم پیدا کئے ہیں باقی رہا یہ سوال کہ ( واؤنون کے ساتھ ) اسے جمع سلامت کے وزن پر کیوں لایا گیا ہے ( جو ذدی العقول کے ساتھ مختص ہے ) تو اس کا جواب یہ ہے کہ عالم میں چونکہ انسان بھی شامل ہیں اس لئے اس کی جمع جمع سلامت لائی گئی ہے کیونکہ جب کسی لفظ میں انسان کے ساتھ دوسری مخلوق بھی شامل ہو تو تغلیبا اس کی جمع واؤنون کے ساتھ بنالیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ چونکہ لفظ عالم سے خلائق کی خاص قسم یعنی فرشتے جن اور انسان ہی مراد ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے ۔ اس لئے اس کی جمع واؤنون کے ساتھ لائی گئی ہے امام جعفر بن محمد کا قول ہے کہ عالیمین سے صرف انسان مراد ہیں اور ہر فرد بشر کو ایک عالم قرار دے کر اسے جمع لایا گیا ہے ۔ نیز انہوں نے کہا ہے کہ عالم دو قسم پر ہے ( 1 ) العالم الکبیر بمعنی فلک دمافیہ ( 2 ) العالم اصغیر یعنی انسان کیونکہ انسان کی تخلیق بھی ایک مستقل عالم کی حیثیت سے کی گئی ہے اور اس کے اندر قدرت کے وہ دلائل موجود ہیں جا عالم کبیر میں پائے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعالَمِينَ [ الحجر/ 70] کیا ہم نے تم کو سارے جہاں ( کی حمایت وطر فداری سے ) منع نہیں کیا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو تمام مخلوقات کو پروردگار ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعالَمِينَ [ البقرة/ 47] کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تم یعنی بنی اسرائیل کو ان کی ہمعصراز قوام پر فضیلت دی اور بعض نے اس دور کے فضلا مراد لئے ہیں جن میں سے ہر ایک نواز شات الہٰی کی بدولت بمنزلہ ایک عالم کے تھا اور ان کو عالم سے موسم کرنا ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً [ النحل/ 120] بیشک حضرت ابراہیم ایک امہ تھے میں حضرت ابراہیم کو امۃ کہا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٠) چناچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دائیں طرف سے جو ان کی بھی دائیں طرف تھی اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں رب العالمین ہوں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

42 That is, in the ground which was being lit up by Divine Light. 43 That is, on that side of the valley which lay to the right of the Prophet Moses.

سورة القصص حاشیہ نمبر : 42 یعنی اس کنارے پر جو حضرت موسی کے داہنے ہاتھ کی طرف تھا ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 43 یعنی اس خطے میں جو نور تجلی سے روشن ہورہا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:30) اتھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نارا ہے۔ نودی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ندا مصدر۔ اس کو پکارا گیا۔ نادی ینادی مناداۃ۔ ندائ۔ شاطیء الواد الایمن : الواد الایمن موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ ۔ شابیئ۔ کنارہ (جمع سواطی) دائیں جانب کی وادی کے ایک کنارہ سے (اسے پکارا گیا) یا شاطیء الواد (وادی کا کنارہ) مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف اور الایمن صفت، وادی کے بائیں کنارہ سے (اسے پکارا گیا) ۔ البقعۃ۔ زمین ۔ قطعہ زمین۔ بقاع وبقع جمع ۔ البقعۃ المبرکۃ مبارک اس لئے کہ وہ بقعہ آیات اللہ وانوار الٰہی کے اظہار کے لئے مخصوص ہوا۔ موضع حال میں ہے شاطی۔ من الشجرۃ۔ بدل اشتمال ہے کیونکہ درخت وادی کے اس کنارہ میں واقع تھا ۔ اب من شاطیء الواد الایمن فی البقعۃ المبرکۃ من الشجرۃ کی صورت یوں ہوئی۔ کہ حضرت موسیٰ کو ان کی دائیں جانب کی وادی کے ایک کنارے سے آواز آئی اس وادی کے ایک مبارک قطعہ اراضی سے ایک درخت میں سے جو اس وادی کے قطعہ مبارک میں واقع تھا۔ ان۔ مفسرہ ہے۔ کہ۔ وان الق عصاک اس کا عطف ان یاموسی پر ہے۔ اور یہ کہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ یعنی اس کنارے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اپنے داہنے ہاتھ کی طرف تھا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ کے لیے جمع کی ضمیر استعمال فرمائی۔ ” اُمْکُثُوْا، تم ٹھہرو۔ “ ہوسکتا ہے کہ جس طرح اردو زبان میں ہم واحد مخاطب کے لیے جمع مخاطب کی ضمیر استعمال کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بناء پر جمع کی ضمیر استعمال کی ہو۔ البتہ تورات میں موجود ہے کہ مدین میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں دو بچے پیدا ہوچکے تھے۔ جو سفر میں ان کے ساتھ تھے جس وجہ سے انھوں نے جمع کی ضمیر استعمال فرمائی۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ انھوں نے جمع کی ضمیر اس لیے استعمال کی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اہلیہ، بیٹا اور ایک خادم بھی تھا۔ جس بناء پر انھوں نے اپنی اہلیہ کے لیے واحد مخاطب کی ضمیر استعمال کرنے کی بجائے جمع مخاطب کی ضمیر استعمال کی۔ بہر حال موسیٰ (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو وہاں ٹھہرا کر طور کے دامن کے قریب پہنچے تو انھیں اِ ن الفاظ سے مخاطب کیا گیا کہ اے موسیٰ ! آپ مبارک اور مقدس جگہ پر پہنچ چکے ہیں لہٰذا اپنا جوتا اتار دیں اور جو کچھ آپ کو کہا جا رہا ہے اسے پوری توجہ کے ساتھ سنو اور یقین کرو۔ میں اللہ ہی جہانوں کو پیدا کرنے والا اور انھیں رزق دینے والا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں لہٰذا صرف میری ہی عبادت کرو۔ میری یاد کے لیے میرے حضور نماز ادا کرتے رہو۔ (طٰہٰ : ١٤) موسیٰ (علیہ السلام) کو پوری طرح یقین ہوگیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ساتھ سرفراز فرمایا ہے اور واقعی ہی میرے ساتھ کائنات کا رب کلام فرما رہا ہے اور میرے رب نے مجھے نبوت سے سرفراز کردیا ہے تو اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دو عظیم معجزے عنایت کیے گئے۔ میرے مطالعہ کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہلے پیغمبر ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے سفر کے دوران نبوت عطا فرمائی اور اعلان نبوت کے ساتھ ہی دو عظیم معجزات عطا کیے۔ ” اے موسیٰ یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ (١٧) موسیٰ نے جواب دیا یہ میری لاٹھی ہے اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں۔ (١٨) ” فرمایا اے موسیٰ اپنا عصا پھینک یکایک عصا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ فرمایا پکڑ لے اس کو ڈرنا نہیں ہم اسے پھر ویسا ہی کردیں گے جیسے پہلے تھا۔ اور اب اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دباکر نکال جو بغیر کسی تکلیف کے چمکتا ہوا نکلے گا یہ دوسری نشانی ہے۔ کیونکہ ہم آپ کو اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں۔ اب سرکش فرعون کے پاس جا۔ موسیٰ نے کہا پروردگار میرا سینہ کھول دے اور میرے کام کو میرے لیے آسان فرمادے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ پائیں۔ میرے لیے میرے گھرو الوں سے ایک وزیر مقرر کر دے۔ ہارون کو جو میرا بھائی ہے اس کے ساتھ میری پشت مضبوط کردے اور اس کو میرے کام میں شریک فرمادے تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں۔ “ (طٰہٰ : ١٧ تا ٣٣) ” اپناہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ چمکتا ہوانکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ فرعون اور اس کی قوم کی طرف لے جانے کے لیے یہ دونشانیاں نونشانیوں میں سے ہیں کیونکہ وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔ “ ( النمل : ١٢) مسائل ١۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سفر کے دوران کوہ طور کے دامن میں مقدس وادی میں ایک درخت پر آگ دیکھی۔ ٢۔ آگ سے آواز آئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں اللہ ہوں اور رب العالمین ہوں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ” رب “ کے معانی ١۔ سب کو پالنے والا۔ (الفاتحۃ : ١) ٢۔ ساری کائنات کا خالق۔ (الانعام : ١٠٢) ٣۔ کائنات کا مالک۔ (یونس : ٣١) ٤۔ کائنات کا نظام چلانے والا۔ (فاطر : ١٣) ٥۔ حاکم مطلق۔ (یوسف : ٤٠) ٦۔ پیدا کرنے والا۔ ( النساء) ٧۔ عطا کرنے والا۔ ( سبا : ١٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

29:۔ من شاطئ، مبدل منہ اور من الشجرۃ اس سے بدل ہے جب وہ آگ کے قریب پہنچے تو اس بابرکت اور سر سبز و شاداب کطے میں وادی کے دائیں کنارے کی جانب سے ایک درخت میں سے آواز آئی اے موسیٰ ! میں اللہ ہوں یعنی ساری کائنات میں متصرف اور سارے جہاں کا مالک ہوں۔ ان یاموسی میں اَن تفسیریہ ہے جو نداء کی تفسیر کر رہا ہے۔ وان الق عصاک یہ ان یموسی پر معطوف ہے۔ فلما راھا تہتز الخ جب انہوں نے دیکھا کہ لاٹھی کا بہت بڑا اژدھا بن گیا ہے اور وہ سپولے کی مانند بڑی تیزی سے حرکت کر رہا ہے تو خوف سے پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ یموسی اقبل الخ، پھر آواز آئی اے موسیٰ ! آگے بڑھو اور مت ڈرو اور اسے پکڑ لو تم ہر خوف و خطر سے محفوظ ہو اس اژدہا سے تمہیں کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ اژدہا اگرچہ بہت بڑا تھا لیکن چھوٹے سانپوں کی سی تیزی سے حرکت کررہا تھا اس لیے اسے جآن (چھوٹے سانپ) کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔ کانہا جان ای فی سرعۃ الحرکۃ مع غایۃ عظم جث تھا (ابو السعود ج 6 ص 656) ۔ سانپ کو دیکھ کر بتقاضائے بشریت موسیٰ (علیہ السلام) ڈر گئے اس سے معلوم ہوا کہ معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور پیغمبروں کے اختیار میں نہیں ہوتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

30۔ پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس پہنچا تو اس کو ایک درخت میں سے جو میدان کی داہنی جانب زمین کے ایک مبارک قطعہ میں تھا یہ آواز دی گئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) بلا شبہ میں ہی اللہ تمام عالموں کا پروردگار ہوں ۔ چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) بڑھتے ہوئے طور کے پاس پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں ایک سبز درخت میں بےدھوئیں کی ایک روشنی ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) متحیر ہوئے کہ سبز درخت میں یہ آگ کیسی ہے اور اس سے آگ کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے ابھی اسی حالت میں تھے کہ درخت میں سے آواز دی گئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا گیا ۔ انی انا للہ رب العالمین موسیٰ (علیہ السلام) نے درخت کی جانب گہری نظر سے دیکھا اور وہ آواز تمام جسم میں سرایت کرگئی صرف کانوں ہی نے نہیں سنی بلکہ تمام جسم کان بن گئے وہ آگ اگرچہ درخت میں معلوم ہوتی تھی لیکن انی انا اللہ کی آواز کے ساتھ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قلب میں پیوست ہوگئی اور نہ تجھے والی آگ بن کر موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں سما گئی ، کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔ ؎ ہست دامن آتش روسن نمید انم کہ چست ایں قدر دانم کہ ہم چوں شمع مے کا ہم دگر اس خطاب کی کیفیت اور لذت اور اس کے اثرات کو موسیٰ (علیہ السلام) جانتے ہوں گے۔