Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 44

سورة القصص

وَ مَا کُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِیِّ اِذۡ قَضَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسَی الۡاَمۡرَ وَ مَا کُنۡتَ مِنَ الشّٰہِدِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾

And you, [O Muhammad], were not on the western side [of the mount] when We revealed to Moses the command, and you were not among the witnesses [to that].

اور طور کے مغربی کی جانب جب کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ، نہ تو تو موجود تھا اور نہ تو دیکھنے والوں میں سے تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Proof of the Prophethood of Muhammad Allah says: وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الاَْمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ And you were not on the western side (of the Mount), when We made clear to Musa the commandment, and you were not among the witnesses. Allah points out the proof of the Prophethood of Muhammad, whereby he told others about matters of the past, and spoke about them as if he were hearing and seeing them for himself. But he was an illiterate man who could not read books, and he grew up among a people who knew nothing of such things. Similarly, Allah told him about Maryam and her story, as Allah said: وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُون أَقْلَـمَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ You were not with them, when they cast lots with their pens as to which of them should be charged with the care of Maryam; nor were you with them when they disputed, (3:44), meaning, `you were not present then, but Allah has revealed this to you.' Similarly, Allah told him about Nuh and his people, and how He saved Nuh and drowned his people, then He said: تِلْكَ مِنْ أَنْبَأءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَأ إِلَيْكَ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَأ أَنتَ وَلاَ قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَـذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَـقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ This is of the news of the Unseen which We reveal unto you; neither you nor your people knew it before this. So, be patient. Surely, the (good) end is for those who have Taqwa. (11:49) And at the end of the same Surah (Hud) Allah says: ذَلِكَ مِنْ أَنْبَأءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ That is some of the news of the towns which We relate unto you. (11:100) And here, after telling the story of Musa from beginning to end and how Allah began His revelation to him and spoke with him, Allah says: وَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَى مُوسَى الاَْمْرَ ... And you were not on the western side (of the Mount), when We made clear to Musa the commandment, meaning, `you -- O Muhammad -- were not on the western side of the mountain where Allah spoke to Musa from the tree which was to the east of it, in the valley.' ... وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ and you were not among the witnesses. `to that event, but Allah has revealed this to you,' so that it may be evidence and proof of events which happened centuries ago, for people have forgotten the evidence that Allah established against them and what was revealed to the earlier Prophets.

دلیل نبوت اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض ناآشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گذشتہ تاریخ سے بالکل بےخبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کام فصاحت وبلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گذشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونیکے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے ۔ حضرت مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس چیز کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے آیت ( ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ 44؀ ) 3-آل عمران:44 ) جب کہ وہ حضرت مریم کے پالنے کے لیے قلمیں ڈال کر فیصلے کررہے تھے اس وقت تو ان کے پاس موجود نہ تھا اور نہ تو اس وقت تھا جب کہ وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے پس باوجود عدم موجودگی اور بےخبری کے آپ کی نبوت کی کھری دلیل ہے اور صاف نشانی ہے اس امر پر کہ وحی الٰہی سے یہ کہہ رہے ہیں ۔ اسی طرح نوح نبی کا واقعہ بیان فرما کر فرمایا ہے آیت ( تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ 49؀ۧ ) 11-ھود:49 ) یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تم تک پہنچا رہے ہیں تو اور تیری ساری قوم اس وحی سے پہلے ان واقعات سے محض بےخبر تھی ۔ اب صبر کے ساتھ دیکھتا رہ اور یقین مان کہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے ہی نیک انجام ہوتے ہیں ۔ سورۃ یوسف کے آخر میں بھی ارشاد ہوا ہے کہ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم بذریعہ وحی کے تیرے پاس بھیج رہے ہیں تو ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھا جب کہ برادران یوسف نے اپنا مصمم ارادہ کرلیا تھا اور اپنی تدبیروں میں لگ گئے تھے ۔ سورۃ طہ میں عام طور پر فرمایا آیت ( كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا 99۝ڻ ) 20-طه:99 ) اسی طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی خبریں بیان فرماتے ہیں ۔ پس یہاں بھی موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ان کی نبوت کی ابتداء وغیرہ اول سے آخر تک بیان فرما کر فرمایا کہ تم اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مغربی پہاڑ کی جانب جہاں کے مشرقی درخت میں سے جو وادی کے کنارے تھے اللہ نے اپنے کلیم سے باتیں کیں موجود نہ تھے بلکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی وحی کے ذریعے آپ کو یہ سب معلومات کرائیں ۔ تاکہ یہ آپ کی نبوت کی ایک دلیل ہوجائے ان زمانوں پر جو مدتوں سے چلے آرہے ہیں اور اللہ کی باتوں کو وہ بھول بھال چکے ہیں ۔ اگلے نبیوں کی وحی ان کے ہاتھوں سے گم ہوچکی ہے اور نہ تو مدین میں رہتا تھا کہ وہاں کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام کی حالت بیان کرتا جو ان میں اور ان کے قوم میں واقع ہوئے تھے ۔ بلکہ ہم نے بذریعہ وحی یہ خبریں تمہیں پہنچائیں اور تمام جہان کی طرف تجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ۔ اور نہ تو طور کے پاس تھا جب کہ ہم نے آواز دی ۔ نسائی شریف میں حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ آواز دی گئی کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم اس سے پہلے مجھ سے مانگو میں نے تمہیں دے دیا اور اس سے پہلے تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کرچکا ۔ مقاتل کہتے ہیں کہ ہم نے تیری امت کو جو ابھی باپ دادوں کی پیٹھ میں تھی آواز دی کہ جب تو نبی بناکر بھیجا جائے تو وہ تیری اتباع کریں ۔ قتادہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی یہی زیادہ مشابہ اور مطابق ہے کیونکہ اوپر بھی یہی ذکر ہے ۔ اوپر عام طور بیان تھا یہاں خاص طور سے ذکر کیا جیسے اور آیت میں ہے ( وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ 10۝ۙ ) 26- الشعراء:10 ) کو آواز دی اور آیت میں ہے کہ وادی مقدس میں اللہ نے اپنے کلیم کو پکارا ۔ اور آیت میں ہے کہ طور ایمن کی طرف سے ہم نے اسے پکارا اور سرگوشیاں کرتے ہوئے اسے اپنا قرب عطا فرمایا ۔ پھر فرماتا ہے کہ ان میں سے ایک واقعہ بھی نہ تیری حاضری کا ہے نہ تیرا چشم دید ہے بلکہ یہ اللہ کی وحی ہے جو وہ اپنی رحمت سے تجھ پر فرما رہے ہیں اور یہ بھی اس کی رحمت ہے کہ اس نے تجھے اپنے بندوں کی طرف نبی بناکر بھیجا ۔ کہ تو ان لوگوں کو آگاہ اور ہوشیار کردے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا تاکہ نصیحت حاصل کریں اور ہدایت پائیں ۔ اور اس لیے بھی کہ ان کی دلیل باقی نہ رہ جائے اور کوئی عذر ان کے ہاتھ میں نہ رہے اور یہ اپنے کفر کی وجہ سے عذابوں کو آتا دیکھ کر یہ نہ کہہ سکیں کہ ان کے پاس کوئی رسول آیا ہی نہ تھا جو انہیں راہ راست کی تعلیم دیتا اور جیسے کہ اپنی مبارک کتاب قرآن کریم کے نزول کو بیان فرما کر فرمایا کہ یہ اس لئے ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے کی دونوں جماعت پر اترتی تھی لیکن ہم تو اس کی درس وتدریس سے بالکل غافل تھے اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو یقینا ہم ان سے زیادہ راہ راست پر آجاتے ۔ اب بتاؤ کہ خود تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی دلیل اور ہدایت ورحمت آچکی ۔ اور آیت میں ہے رسول ہیں خوشخبریاں دینے والے ڈرانے والے تاکہ ان رسولوں کے بعد کسی کی کوئی حجت اللہ پر باقی نہ رہ جائے ۔ اور آیت میں فرمایا ( يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰي فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ 19۝ۧ ) 5- المآئدہ:19 ) اے اہل کتاب اس زمانہ میں جو رسولوں کی عدم موجودگی کا چلا آرہا تھا ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے پاس کوئی بشیر ونذیر نہیں پہنچا لو خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آپہنچا ۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت ہیں غرض رسول آچکے اور تمہارا یہ عذر کٹ گیا کہ اگر رسول آتے تو ہم اس کی مانتے اور مومن ہوجاتے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

441یعنی کوہ طور پر جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا اور اسے وحی و رسالت سے نوازا، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو نہ وہاں موجود تھا اور نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں سے تھا۔ بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں جو ہم نے وحی کے ذریعے سے تجھے بتلا رہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ تو اللہ کا سچا پیغمبر ہے۔ کیونکہ نہ تو نے یہ باتیں کسی سے سیکھی ہیں نہ خود ہی مشاہدہ کیا ہے۔ یہ مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مثلاً (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران :44) (تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ ) 11 ۔ ہود :49) (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْقُرٰي نَقُصُّهٗ عَلَيْكَ مِنْهَا قَاۗىِٕمٌ وَّحَصِيْدٌ) 11 ۔ ہود :100) ، (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۚ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْٓا اَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُوْنَ ) 12 ۔ یوسف :102) ، (كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا) 20 ۔ طہ :99) وغیرہ میں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٧] یعنی آپ کا وہاں موجود نہ ہونا پھر ان حالات کو یوں بیان کرنا جسے کوئی عینی شاہد بیان کرتا ہے۔ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ ورنہ آپ کے پاس وحی الٰہی کے سوا ان واقعات کو جاننے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔ [٥٨] ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا وہی مطلب ہے جو اوپر بیان ہوا۔ اور اگر اس جملہ کو الگ واقعہ سمجھا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آپ ان ستر (٧٠) آدمیوں سے بھی نہیں تھے جنہوں نے موسیٰ سے دیدار الٰہی کا مطالبہ کیا تھا۔ اور وہ واقعہ بھی آپ نے لوگوں کو ایسے بتلا دیا جیسے آپ ان میں موجود تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ ۔۔ : ” بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ “ میں ” جَانِبٌ“ موصوف ہے جو اپنی صفت کی طرف مضاف ہے اور یہ کلام عرب میں عام ہے، جیسے ” مَسْجِدُ الْجَامِعِ ، دِیْنُ الْقَیِّمِ ، حَقُّ الْیَقِیْنِ “ اور ” دَارُ الْآخِرَۃِ ۔ “ بعض نحوی حضرات جو موصوف کو صفت کی طرف مضاف کرنا جائز نہیں سمجھتے، وہ ان سب مقامات میں کوئی نہ کوئی لفظ محذوف مانتے ہیں، مثلاً ” بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ “ کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ اصل میں ” بِجَانِبِ الْمَکَانِ الْغَرْبِيِّ “ ہے۔ مگر اس تکلف کی ضرورت نہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغربی جانب سے کس مقام کی مغربی جانب مراد ہے ؟ کیونکہ ہر جگہ ہی کسی نہ کسی لحاظ سے مغربی ہوتی ہے۔ جواب اس کا یہ ہے کہ عرب کے ہاں سمتوں کے تعین کے لیے بیت اللہ کو اصل قرار دیا گیا ہے۔ بیت اللہ کو سامنے رکھ کر مشرق کی طرف منہ کریں تو دائیں طرف کے علاقے کو یمن (دایاں) کہتے ہیں، بائیں طرف کو شام (بایاں) اور سامنے کے علاقے کو جانب شرقی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرق کی طرف منہ کر کے فرمایا : ( أَلَا إِنَّ الْفِتْنَۃَ ھٰھُنَا مِنْ حیْثُ یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِ ) [ مسلم، الفتن و أشراط الساعۃ، باب الفتنۃ من المشرق۔۔ : ٢٩٠٥۔ بخاري : ٣٥١١ ] ” آگاہ ہوجاؤ ! اس (یعنی مشرق کی ) طرف سے فساد پھوٹے گا، جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ “ اور بیت اللہ سے مغرب کی جانب والے علاقوں کو ” جانب غربی “ کہا جاتا ہے۔ امرء القیس نے ایک بادل کا محل وقوع بیان کرتے ہوئے کہا ہے ؂؂ عَلٰی قَطَنٍ بالشَّیْمِ أَیْمَنُ صَوْبِہِ وَ أَیْسَرُہُ عَلَی السِّتَارِ فَیَذْبُلِ ” غور سے دیکھنے پر اس کی بارش کا دایاں حصہ قطن مقام پر تھا اور اس کا بایاں حصہ ستار پھر یذبل نامی مقام پر تھا۔ “ یہاں دائیں اور بائیں جانب سے مراد مشرق کی طرف منہ کرنے کے بعد دائیں اور بائیں جانب مراد ہے۔ واضح رہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جب طور سے ندا آئی تو اس وقت وہ طور سے اس جانب میں تھے جو کعبہ کی طرف رخ کرنے سے اس کی غربی جانب بنتی ہے اور اس وقت وہ جس وادی میں تھے وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے کعبہ کی طرف رخ کرنے کی صورت میں پہاڑ کی دائیں طرف تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے ” الواد الایمن “ اور ” بالواد المقدس طوی “ فرمایا ہے۔ 3 ان آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور قرآن کے حق ہونے کی دلیل بیان فرمائی ہے کہ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی اور انھیں نبوت عطا فرمائی، اس وقت اے محمد ! نہ تو طور کی غربی جانب میں موجود تھا، نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں سے تھا اور نہ تو اس سے پہلے پڑھنا لکھنا جانتا تھا (دیکھیے عنکبوت : ٤٨) بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں جو ہم نے تجھے وحی کے ذریعے سے بتلائی ہیں، جو اس بات کی دلیل ہیں کہ تو اللہ کا سچا رسول ہے، کیونکہ تو نے نہ خود ان باتوں کا مشاہدہ کیا، نہ یہ کسی سے سیکھیں۔ یہ مضمون قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے، سورة آل عمران میں ہے : (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ ) [ آل عمران : ٤٤ ] ” یہ غیب کی کچھ خبریں ہیں، ہم اسے تیری طرف وحی کرتے ہیں اور تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا جب وہ اپنے قلم پھینک رہے تھے۔ “ اور دیکھیے سورة ہود (٤٩ اور ١٠٠) ، یوسف (١٠٢) اور طٰہٰ (٩٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَآ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشّٰہِدِيْنَ۝ ٤٤ۙ جنب أصل الجَنْب : الجارحة، وجمعه : جُنُوب، قال اللہ عزّ وجل : فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] ، وقال تعالی: تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ، وقال عزّ وجلّ : قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] . ثم يستعار من الناحية التي تليها کعادتهم في استعارة سائر الجوارح لذلک، نحو : الیمین والشمال، ( ج ن ب ) الجنب اصل میں اس کے معنی پہلو کے ہیں اس کی جمع جنوب ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے ۔ فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] پھر اس سے ان ( بخیلوں ) کی پیشانیاں اور پہلو داغے جائیں گے ۔ تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ان کے پہلو بچھو نوں سے الگ رہنے ہیں ۔ پھر بطور استعارہ پہلو کی سمت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسا کہ یمین ، شمال اور دیگر اعضا میں عرب لوگ استعارات سے کام لیتے ہیں ۔ غرب الْغَرْبُ : غيبوبة الشّمس، يقال : غَرَبَتْ تَغْرُبُ غَرْباً وغُرُوباً ، ومَغْرِبُ الشّمس ومُغَيْرِبَانُهَا . قال تعالی: رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] ، رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] ، بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] ، وقد تقدّم الکلام في ذكرهما مثنّيين ومجموعین «4» ، وقال : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] ، وقال : حَتَّى إِذا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَغْرُبُ [ الكهف/ 86] ، وقیل لكلّ متباعد : غَرِيبٌ ، ولكلّ شيء فيما بين جنسه عدیم النّظير : غَرِيبٌ ، وعلی هذا قوله عليه الصلاة والسلام : «بدأ الإسلام غَرِيباً وسیعود کما بدأ» «5» وقیل : العلماء غُرَبَاءُ ، لقلّتهم فيما بين الجهّال، والغُرَابُ سمّي لکونه مبعدا في الذّهاب . قال تعالی: فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ [ المائدة/ 31] ، وغَارِبُ السّنام لبعده عن المنال، وغَرْبُ السّيف لِغُرُوبِهِ في الضّريبة «6» ، وهو مصدر في معنی الفاعل، وشبّه به حدّ اللّسان کتشبيه اللّسان بالسّيف، فقیل : فلان غَرْبُ اللّسان، وسمّي الدّلو غَرْباً لتصوّر بعدها في البئر، وأَغْرَبَ الساقي : تناول الْغَرْبَ ، والْغَرْبُ : الذّهب «1» لکونه غَرِيباً فيما بين الجواهر الأرضيّة، ومنه : سهم غَرْبٌ: لا يدری من رماه . ومنه : نظر غَرْبٌ: ليس بقاصد، و، الْغَرَبُ : شجر لا يثمر لتباعده من الثّمرات، وعنقاء مُغْرِبٌ ، وصف بذلک لأنه يقال : کان طيرا تناول جارية فَأَغْرَبَ «2» بها . يقال عنقاء مُغْرِبٌ ، وعنقاء مُغْرِبٍ بالإضافة . والْغُرَابَانِ : نقرتان عند صلوي العجز تشبيها بِالْغُرَابِ في الهيئة، والْمُغْرِبُ : الأبيض الأشفار، كأنّما أَغْرَبَتْ عينُهُ في ذلک البیاض . وَغَرابِيبُ سُودٌ [ فاطر/ 27] ، قيل : جَمْعُ غِرْبِيبٍ ، وهو المُشْبِهُ لِلْغُرَابِ في السّواد کقولک : أسود کحلک الْغُرَابِ. ( غ رب ) الغرب ( ن ) سورج کا غائب ہوجانا غربت نغرب غربا وغروبا سورج غروب ہوگیا اور مغرب الشمس ومغیر بانھا ( مصغر ) کے معنی آفتاب غروب ہونے کی جگہ یا وقت کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] وہی ) مشرق اور مٖغرب کا مالک ہے ۔ رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] وہی دونوں مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے ۔ بِرَبِّ الْمَشارِقِ وَالْمَغارِبِ [ المعارج/ 40] مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم ۔ ان کے تثنیہ اور جمع لانے کے بحث پہلے گذر چکی ہے ۔ نیز فرمایا : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] کہ نہ مشرق کی طرف سے اور نہ مغرب کی طرف ۔ حَتَّى إِذا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَها تَغْرُبُ [ الكهف/ 86] یہاں تک کہ جب سورج کے غروب ہونے جگہ پہنچا ۔ اور ہر اجنبی کو غریب کہاجاتا ہے اور جو چیز اپنی ہم جنس چیزوں میں بےنظیر اور انوکھی ہوا سے بھی غریب کہہ دیتے ہیں ۔ اسی معنی میں آنحضرت نے فرمایا (58) الاسلام بدء غریبا وسعود کمابدء کہ اسلام ابتداء میں غریب تھا اور آخر زمانہ میں پھر پہلے کی طرح ہوجائے گا اور جہلا کی کثرت اور اہل علم کی قلت کی وجہ سے علماء کو غرباء کہا گیا ہے ۔ اور کوے کو غراب اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ بھی دور تک چلا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَبَعَثَ اللَّهُ غُراباً يَبْحَثُ [ المائدة/ 31] اب خدا نے ایک کو ابھیجا جو زمین کریدٹے لگا ۔ اور غارب السنام کے معنی کو ہاں کو بلندی کے ہیں کیونکہ ( بلندی کی وجہ سے ) اس تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے اور غرب السیف کے معنی تلوار کی دھار کے ہیں کیونکہ تلوار بھی جسے ماری جائے اس میں چھپ جاتی ہے لہذا ی مصدر بمعنی فاعل ہے ۔ پھر جس طرح زبان کو تلوار کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے اسی طرح زبان کی تیزی کو بھی تلوار کی تیزی کے ساتھ تشبیہ دے کر فلان غرب اللسان ( فلاں تیز زبان ہے ) کہاجاتا ہے اور کنوئیں میں بعد مسافت کے معنی کا تصور کرکے ڈول کو بھی غرب کہہ دیا جاتا ہے اور اغرب الساقی کے معنی ہیں پانی پلانے والے ڈول پکڑا اور غرب کے معنی سونا بھی آتے ہیں کیونکہ یہ بھی دوسری معدنیات سے قیمتی ہوتا ہے اور اسی سے سھم غرب کا محاورہ ہے یعنی دہ تیر جس کے متعلق یہ معلوم نہ ہو کہ کدھر سے آیا ہے ۔ اور بلا ارادہ کسی طرف دیکھنے کو نظر غرب کہاجاتا ہے اور غرب کا لفظ بےپھل درخت پر بھی بولا جاتا ہے گویا وہ ثمرات سے دور ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ عنقاء جانور ایک لڑکی کو اٹھا کر دوردروازلے گیا تھا ۔ اس وقت سے اس کا نام عنقاء مغرب اوعنقاء مغرب ( اضافت کے ساتھ ) پڑگیا ۔ الغرابان سرینوں کے اوپر دونوں جانب کے گڑھے جو ہیت میں کوے کی طرح معلوم ہوتے ہیں ۔ المغرب گھوڑا جس کا کر انہ ، چشم سفید ہو کیونکہ اس کی آنکھ اس سفیدی میں عجیب و غریب نظر آتی ہے ۔ اور آ یت کریمہ : وَغَرابِيبُ سُودٌ [ فاطر/ 27] کہ غرابیب کا واحد غربیب ہے اور اس کے معنی کوئے کی طرح بہت زیادہ سیاہ کے ہیں جس طرح کہ اسود کحلک العراب کا محاورہ ہے ۔ ( یعنی صفت تاکیدی ہے اور اس میں قلب پایا جاتا ہے اصل میں سود غرابیب ہے ۔ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے شهد وشَهِدْتُ يقال علی ضربین : أحدهما جار مجری العلم، وبلفظه تقام الشّهادة، ويقال : أَشْهَدُ بکذا، ولا يرضی من الشّاهد أن يقول : أعلم، بل يحتاج أن يقول : أشهد . والثاني يجري مجری القسم، فيقول : أشهد بالله أنّ زيدا منطلق، فيكون قسما، ومنهم من يقول : إن قال : أشهد، ولم يقل : بالله يكون قسما، ( ش ھ د ) المشھود والشھادۃ شھدت کا لفظ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1) علم کی جگہ آتا ہے اور اسی سے شہادت ادا ہوتی ہے مگر اشھد بکذا کی بجائے اگر اعلم کہا جائے تو شہادت قبول ہوگی بلکہ اشھد ہی کہنا ضروری ہے ۔ ( 2) قسم کی جگہ پر آتا ہے چناچہ اشھد باللہ ان زید ا منطلق میں اشھد بمعنی اقسم ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤) اور اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اس وقت کوہ طور کے غربی جانب میں نہیں تھے جب کہ ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس آنے کا حکم دیا تھا اور آپ تو اس مقام پر موجود بھی نہیں تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤ (وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَآ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ ) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! طور کے دامن میں جب ہم موسیٰ (علیہ السلام) سے گفتگو کر رہے تھے اور انہیں منصب رسالت پر فائز کرکے فرعون کی طرف جانے کا حکم دے رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت وہاں پر موجود نہیں تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

60 "Western side": Mount Sinai, which lies to the west of the Hijaz and on which the Prophet Moses was given the Divine Law. 61 "The witnesses": the seventy of the elders of Israel who had been summoned along with Moses for the covenant to follow the Law. (For reference, see AI-A'raf: 155 and Exod., ch. 24)

سورة القصص حاشیہ نمبر : 60 مغربی گوشے سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسی کو احکام شریعت دیے گئے تھے ، یہ علاقہ حجاز کے مغربی جانب واقع ہے ۔ سورة القصص حاشیہ نمبر : 61 یعنی بنی اسرائیل کے ان ستر نمائندوں میں جن کو شریعت کی پابندی کا عہد لینے کے لیے حضرت موسی کے ساتھ بلایا گیا تھا ( سورہ اعراف ، آیت 155 میں ان نمائندوں کے بلائے جانے کا ذکر گزر چکا ہے ، اور بائیبل کی کتاب خروج ، باب 24 میں بھی اس کا ذکر موجود ہے )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

26: یہاں سے آیت نمبر۱ ۶ تک نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور قرآنِ کریم کی سچائی کا بیان ہے۔ پہلے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جو واقعات قرآنِ کریم نے بیان فرمائے ہیں، مثلا کوہِ طور کے مغربی کنارے پر اُن کو تورات دیاجانا، اور صحرائے سینا میں اُن کو پکار کر نبوّت عطا کرنا، اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عرصۂ دراز تک مدین میں رہنا، یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ نہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اُس وقت خود موجود تھے کہ ان واقعات کو دیکھتے اور نہ اُن کو معلوم کرنے کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ تھا، اِس کے باجود آپ یہ واقعات اتنی تفصیل سے بیان فرمارہے ہیں، تو اِس کا کوئی اور مطلب سوائے اس کے نہیں ہوسکتا کہ آپ پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے جس نے آپ کو ان واقعات سے باخبر کیا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:44) وما کنت ۔۔ یہاں قرآن مجید کے من جانب اللہ وحی ہونے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ ولسم کے من جانب اللہ رسول ہونے کے دلائل دئیے جا رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے یہ جو آپ نے اپنے مخاطبین کو حضرت موسیٰ کے ساتھ بیتے ہوئے واقعات جن کو وقوع پذیر ہوئے مدت مدیر و عرصہ بعید گزر چکا ہے بیان کئے ہیں کہ اس امر کی دلیل نہیں ہیں کہ آپ کے پاس ان کے علم کا ذریعہ بجز وحی کے اور کوئی نہیں ہے اور آپ پر وحی کا نازل ہونا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آپ فرستادہ رب جلیل ہیں۔ یہاں تین باتیں بطور دلیل پیش کی گئی ہیں (1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دئیے گئے آپ نہ وہاں موجود تھے اور نہ ہی شاہدین میں سے تھے۔ (2) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں تھے اور جو ان کے ساتھ وہاں گزرا آپ وہاں مقیم نہ تھے۔ (3) جب کوہ طور پر رب تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمائی آپ وہاں نہ تھے۔ لیکن اب جب وحی کے ذریعہ آپ کو بتایا گیا تو آپ نے جملہ تفصیلات مبنی برحق کھول کھول کر اپنے مخاطبین کو سنا دیں۔ وحی کے ثبوت میں قرآن مجید میں اور بھی کئی جگہ ایسے دلائل موجود ہیں مثلا :۔ (1) ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک۔۔ (3:44) یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے ہیں ہم آپ پر ان کی وحی کر رہے ہیں (2) ذلک من انباء الغیب نوحیہا الیک ۔۔ (11:49) (3) ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک ۔۔ (12:102) (4) ذلک من انباء القری نقصہ علیک ۔۔ (11:100) یہ ان بستیوں کی بعض خبریں تھین جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں۔ وما کنت : ای وما کنت حاضرا۔ تو حاضر نہ تھا۔ تو موجود نہ تھا۔ خطاب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے۔ بجانب الغربین۔ مضاف مضاف الیہ ۔ مغرب والی سمت۔ غربی جانب۔ یہ موصوف کی اپنی صفت کی طرف اضافت کی مثال ہے۔ جیسے مسجد الجامع۔ اصل میں الجانب الغربی تھا۔ یا موصوف محذوف ہے۔ اور صفت کو اس کا قام مقام لایا گیا اصل میں بجانب المکان الغربی تھا۔ یہاں مراد وہ جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو تورات کی تختیاں دی گئیں تھیں۔ قضینا الی ۔۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم الی کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی ہیں کہ ہم نے بھیجا تھا۔ ہم نے پہنچایا تھا۔ ہم نے دیا تھا۔ قضی الامر الیہ معاملہ کسی تک پہنچانا۔ آیت ہذا میں الامر سے مراد توریت ہے یا نبوت۔ الشاھدین۔ گواہ ۔ شہادت دینے والے۔ دیکھنے والے۔ مشاہدہ کرنے والے۔ بچشم خود دیکھنے والے۔ اشارہ یہاں ان ستر لوگوں کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ کے ہمراہ کوہ طور پر گئے تھے۔ سورة الاعراف میں ان کا ذکر ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے واختار موسیٰ قومہ سبعین رجلا لمیقاتنا (7:155) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ستر مرد انتخاب کئے ہمارے وقت موعود (یا جائے موعود) کے لئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ اب یہاں سے قرآن کی حقانیت پر دلیل قائم کی جا رہی ہے یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت موجود نہ تھے کہ اس کا خود مشاہدہ کرتے اور پھر اپنی طرف سے بیان کرتے تو ظاہر ہے کہ یہ ساری معلومات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کے ذریعہ نازل کی گئی ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں بتا رہے ہیں۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 177 تشریح آیات 44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے میدان حشر کے بھی بعض مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو تعلیم لے کر آئے وہ سچی ہے۔ اہل کتاب میں سے سلیم الفطرت لوگ اسے قبول کرتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ مدعی دین ابراہیمی ہونے کے باوجود انکار کرتے ہیں اگر وہ اس دعوت کو قبول کرلیں تو یہ ان کیلئے رحمت ثابت ہوگی۔ اس قصے سے جو پہلا نتیجہ یہاں نکالا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو کلام نازل ہو رہا ہے وہ سچا ہے۔ اس لیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان قصص کو اس طرح بیان کر رہے ہیں جس طرح کوئی عینی شاہد کسی واقعہ کو بیان کر رہا ہوتا ہے ، حالانکہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان واقعات کے پیش آنے کے وقت وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ علیم وخبیر اللہ کی طرف سے وحی ہے جو آپ پر آرہی ہے اور یہ وحی رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک میں مبتلا ہیں۔ اور اس فعل کی وجہ سے دائمی عذاب کے مستحق ہو سکتے ہیں اور اس لیے کہ اگر یہ وحی نہ آتی تو ان لوگوں کو ایک بہانہ ہاتھ آجاتا۔ ربنا لولا ارسلت ۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” پروردگار تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی نبی بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ وما کنت بجانب الغربی ۔۔۔۔۔۔۔ لھم القول لعلکم یتذکرون (44 – 51) غربی سے یہاں طور کا جانب غربی مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مکالمے اور چلہ کشی کے چالیس روز و شب کے لیے متعین فرمایا تھا۔ اصل میعاد تیس راتیں تھیں پھر اس میں دس کا اضافہ کردیا گیا۔ اس کا تذکرہ سورت اعراف میں گزر چکا ہے۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کی وہ تختیاں دی گئیں جن میں احکام خداوندی لکھے ہوئے تھے تاکہ ان احکام پر بنی اسرائیل کا قانونی نظام قائم ہو۔ ظاہر ہے کہ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود نہ تھے کہ آپ ازخود ان حالات و مشاہدات کی رپورٹ دے رہا ہے کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت موسیٰ کے زمانوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے۔ ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر (28: 45) ” ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر زمانہ گزر چکا ہے “۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ اطلاعات اللہ علیم وخبیر دے رہا ہے اور یہ قرآن وحی من جانب اللہ ہے۔ قرآن کریم نے حضرت موسیٰ کے قیام مدین کے واقعات کے بارے میں بھی تحدی کی ہے اور چیلنج کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے وہاں قیام کیا۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ واقعات بتا رہے ہیں تو حضور ہدایت خود مدین میں بھی تو موجود نہ تھے کہ اس زمانے کی خبریں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے لی ہوں اور پھر تفصیلات بیان کردیں۔ اس کی حقیقت یہی ہے کہ لکنا کنا مرسلین (28: 45) ” مگر یہ خبریں ہم بھیجنے والے ہیں “۔ تو معلوم ہوا کہ قرآن مجید اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے جس کے پاس انبیائے سابقین کی خبریں محفوظ ہیں۔ پھر قرآن مجید نے حضرت موسیٰ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات اور مکالمے کو بھی اپنی جزئیات کے ساتھ نقل کیا ہے۔ نہایت گہرائی کے ساتھ۔ وما کنت بجانب الطور اذنادینا (28: 46) ” اور تم طور کے دامن میں اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے پہلی مرتبہ موسیٰ کو پکارا “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ پکار تو نہ سنی تھی۔ نہ اس کی تفصیلات انہوں نے قلم بند فرمائی تھیں۔ یہ اللہ کی جانب سے اہل مکہ قوم رسول کیلئے ایک رحمت ہے کہ وہ خبریں تفصیلات کے ساتھ دی جا رہی ہیں لہٰذا یہ خبریں بھی اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ آپ سچے ہیں اور جو دعویٰ کرتے ہیں اس پر پہلی دلیل خود یہ قرآن ہے تاکہ عرب جیسی قوم کو آپ ڈرائیں جن کے پاس اس سے قبل ڈرانے والا نہیں آیا۔ اس سے قبل کی رسالتیں بنی اسرائیل کے پاس آتی تھیں جو عربوں کے پڑوس میں بستے تھے۔ اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد اہل عرب میں کوئی رسول نہ آیا تھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ یہ قرآن لوگوں کیلئے رحمت خداوندی بھی ہے اور ان پر حجت بھی ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہمارے لیے تو کوئی رسول بھیجا ہی نہ گیا تھا اور یہ کہ ان کو تو اچانک ہی پکڑ لیا گیا اور یہ کہ اس پکڑ سے قبل ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ یہ لوگ جس جاہلیت اور شرک میں مبتلا تھے وہ تو موجب عذاب تھی تو اللہ نے ان کی حجت بازی اور ان کے عذرات کو ختم کرنے کیلئے رسول بھیج دیا اور آخری رسول بھیج دیا تاکہ ان کے بعد کوئی عذر نہ کرے۔ ولولا ان تصیبھم ۔۔۔۔۔۔۔ من المومنین (28: 47) ” اور کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب ان پر آئے تو وہ کہیں اے پروردگار تو نے کیوں ہماری طرف کوئی رسول نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے “۔ اگر رسول نہ آتا تو وہ ایسی ہی بات کرتے۔ اگرچہ رسول کے پاس آیات نہ ہوتیں ، لیکن جب رسول آگیا اور اس کے پاس آیات بھی ہیں تو یہ لوگ ماننے سے انکار کر رہے ہیں حالانکہ اس کے پاس ناقابل تردید و ناقابل شک دلائل ہیں۔ فلما جآءھم الحق من عندنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل کفرون (28: 48) ” مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ” کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ کیو یہ لوگ اس کا انکار کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ انہوں نے کہا ” دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں “۔ اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “۔ یہی غرض تھی ان کی بہانہ سازی اور ان کے غلط عذرات کی۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی تسلیم نہ کیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ معجزات کیوں نہیں دئیے گئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دئیے گئے تھے یعنی مادی معجزات یا قرآن کریم تختیوں پر لکھا ہوا کیوں نہیں اتارا گیا جس طرح تورات کو لکھا ہوا اتارا گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے جو دلیل بیان کی ہے ، یہ اس میں سچے نہیں ہیں۔ نہ ان کا یہ اعتراض مخلصانہ ہے۔ اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل (28: 48) ” کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے جو اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ “ جزیرۃ العرب میں یہودی رہتے تھے۔ ان کے پاس تورات بھی تھی تو عربوں نے تورات کو کیوں نہ مانا۔ انہوں نے تو تورات کو بھی تکذیب کی تھی۔ نیز ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ تورات میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت اور صفات دونوں دی گئی ہیں اور انہوں نے قرآن کے بارے میں بعض اہل کتاب سے فتویٰ بھی پوچھا تھا اور انہوں نے کہہ دیا تھا کہ محمد جو تعلیم پیش کرتے ہیں وہ سچی ہے اور یہ تعلیم بھی کتب سابقہ کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ لیکن انہوں نے ان فتاویٰ کو بھی تسلیم نہ کیا۔ انہوں نے تورات کو بھی جادو کہا۔ قرآن کو بھی جادو کہا اور چونکہ دونوں جادو ہیں اس لیے دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں۔ اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔ قالوا سحرن تظھرا وقالوا انا بکل کفرون (28: 48) ” انہوں نے کہا دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہا ” ہم کسی کو نہیں مانتے “ وہ حق طلب کرنا ہی نہیں چاہتے۔ ورنہ دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے اور نہ قرآن کی پشت پر موجود دلائل ضعیف ہیں۔ قرآن مجید ایک قدم آگے بڑھ کر ان کو اچھی طرح لاجواب کردیتا ہے ، ان سے کہا جاتا ہے اگر تم قرآن کو تسلیم نہیں کرتے ، اور تورات کی تعلیمات بھی تمہارے دل کو نہیں لگتیں تو تم کوئی ایسی کتاب لاؤ جو تورات اور قرآن دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو ، ہم اس کتاب کو مان لیں گے۔ یہ آخری بات ہے اور دلیل وبرہان کی آخری حد ہے کہ تم ایسی کوئی کتاب لاؤ، اس کے بعد بھی اگر کوئی حق کے سامنے نہیں جھکتا تو یہ مکابرہ ہوگا اور ہٹ دھرمی ہوگی۔ اور ہٹ دھرمی کے سامنے کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی۔ فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔۔۔ لا یھدی القوم الظلمین (28: 50) ” اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں ، اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ قرآن جن حقائق پر مشتمل ہے وہ نہایت واضح ہیں۔ دین اسلام کے جو دلائل ہیں وہ قطعی اللبوت ہیں۔ ان دلائل کا جو شخص انکار کرتا ہے وہ وہی شخص ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا ہوا ہو۔ کیونکہ معقول انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں۔ تیسرا راستہ ہی نہیں ہے یا تو وہ مخلص اور حق قبول کرنے والا ہوگا تو وہ لازماً دلائل ایمان کو دیکھ کر ایمان لائے گا اور یا وہ شک میں مبتلا ہوگا ، اپنی خواہشات کا پیرو ہوگا وہ ہٹ دھرم اور کج بحثی کرنے والا ہوگا۔ انکار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے کرے گا ، اسلئے نہیں کرے گا کہ اسلامی عقائد میں کوئی پیچیدگی ہے یا حجت میں کوئی ضعف ہے یا دلیل میں کوئی کمی ہے جیسا کہ نفس پرست لوگ کہتے ہیں۔ فان لم یستجیبوا ۔۔۔۔۔ اھوآءھم (28: 50) ” اگر وہ آپ کی بات نہیں مانتے تو جان لیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہے ، آخری ہے ، اللہ کا فیصلہ ہے۔ اس لیے اسے رد نہیں کیا جاسکتا۔ جو لوگ اس دین کو قبول نہیں کرتے وہ مفاد پرست ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور عذر نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو زبردستی ناسمجھ بنا رکھا ہے دراصل اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں۔ حق واضح ہے اور پھر بھی یہ لوگ منہ موڑتے ہیں۔ ومن اضل ممن اتبع ۔۔۔۔۔۔۔ القوم لظلمین (28: 50) ” اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا “۔ اور یہ اہل مکہ اس معاملے میں بڑے ظالم اور باغی ہیں۔ یہ آیت ان لوگوں کے تمام عذرات ختم کردیتی ہے جن کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو سمجھا نہیں ہے اور ان کو دین کا پورا پورا علم نہ تھا۔ اسلام کا موقف ہے کہ اسلام بالکل واضح ہے۔ صرف لوگوں تک پہنچنا چاہئے ، ان پر حجت تمام ہونا چاہئے کہ اسلام پہنچا دیا گیا۔ بس پھر مجادلہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ صرف پہنچا دینے سے لوگوں کے عذرات ختم ہوجائیں گے۔ دین پہنچ جانے کے بعد محض نفس پرست یا مفاد پرست ہی اس سے منہ موڑ سکتا ہے اور تکذیب وہی شخص کرسکتا ہے جو زبردستی اپنے آپ کو جاہل بنائے اور اپنے اوپر ظلم کرے۔ اس سچائی پر ظلم کرے۔ ایسا شخص مستحق ہدایت ہی نہیں ہوتا۔ ” ایسے ظالموں کو تو اللہ ہدایت ہی نہیں بخشتا “۔ حق پہنچتے ہی ان کا عذر ختم ہوا۔ ان پر دعوت پیش کرتے ہی رسول اور امت کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اب ایسے لوگوں کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔ ولقد وصلنا ۔۔۔۔۔ یتذکرون (28: 51) ” اور نصیحت کی بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں “۔ گذشتہ آیات میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ لوگ منہ موڑتے ہیں ، شک کرتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں۔ اب یہاں بعض ایسے لوگوں اور ایسے کرداروں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جو حق کو خلوص نیت سے قبول کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی مثال اہل کتاب میں ملتی ہے۔ ذرا دیکھو انہوں نے سچائی پر مشتمل اس کتاب کو کس طرح ہاتھوں ہاتھ لیا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

41:۔ یہاں سے لعلھم یتذکرون تک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صداقت کا بیان ہے حاصل یہ ہے کہ آپ گذشتہ زمانے کے احوال ظاہری اسباب علم کے بغیر صحیح صحیح بیان فرما رہے ہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے وحی کے ذریعہ سے یہ ساری باتیں آپ کو بتائی ہیں۔ ان الوقوف علی ما فصل من الاحوال لایتسنی الا بالمشاھدۃ او التعلم ممن شاھدھا وحیث انتفی کلاھما تبین انہ بوح من علام الغیون لا محالۃ (ابو لسعود ج 6 ص 60) ۔ یعنی جب ہم نے کوہ طور کی غربی جانب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے، اسی طرح جب موسیٰ (علیہ السلام) میقات خداوندی کے لیے ستر آدمی منتخب کر کے طور پر لے گئے تھے آپ ان میں بھی شامل نہ تھے۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب ہم موسیٰ کی طرف وحی کر رہے تھے اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے۔ ای من جملۃ الحاجرین للوحی الیہ او الشاھدین علی الوحی الیہ علیہ الصلوۃ والسالم وھم السبعون المختارون للمیقات (روح ج 86) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

44۔ آگے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے دلائل کا ذکر ہے اور اے پیغمبر آپ طور کی مغربی جانب میں اس وقت موجود نہیں تھے جس وقت ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیئے تھے اور نہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو وہاں موجود تھے۔ یعنی نہ تو آپ اس وقت موجود تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تھی ، شاید میقات کی طرف اشارہ ہوگا جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حسب وعدہ بلا کر توریت عطافرمائی تھی ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں موجود نہ تھے اور جو لوگ موجود اور شاہدین تھے ان میں بھی آپ شریک نہ تھے اور باوجود عدم موجودگی کے پھر تمام حالات تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر بیان نہیں کئے جاسکتے اور یہی تمہاری نبوت کی علامت ہے اور یہ جو فرمایا کہ تم شاہدین میں سے بھی نہ تھے اس سے مراد شاید وہ ستر حضرات ہوں گے جن کو موسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہماہ طور پر لے گئے تھے یا یہ کہ آپ بنی اسرائیل میں شامل نہ تھے جن کو واقعات کا کم و بیش علم حاصل ہوتا رہتا ایک آدمی کا جس کے لئے ان باتوں کے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر سب کچھ بتانا اور صحیح بتانا سوائے اللہ تعالیٰ کی وحی کے اور کیا ذریعہ ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وحی بھیجنا آپ کیلئے کافی دلیل ہے۔