Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 74

سورة القصص

وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ فَیَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿۷۴﴾

And [warn of] the Day He will call them and say, "Where are my 'partners' which you used to claim?"

اور جس دن انہیں پکار کر اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ جنہیں تم میرے شریک خیال کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Rebuking the Idolators Allah says: وَيَوْمَ يُنَادِيهِمْ فَيَقُولُ ... And the Day when He will call to them, and will say: This is another call by way of rebuke for those who worshipped other gods besides Allah. The Lord, may He be exalted, will call to them before all the witnesses, and will say: ... أَيْنَ شُرَكَايِيَ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ Where are My (so-called) partners, whom you used to assert! meaning, in this world.

افترا بندی چھوڑ دو مشرکوں کو دوسری دفعہ ڈانٹ دکھائی جائے گی اور فرمایا جائے گا کہ دنیا میں جنہیں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے وہ آج کہاں ہیں؟ ہر امت میں سے ایک گواہ یعنی اس امت کا پیغمبر ممتاز کرلیا جائے گا ۔ مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے شرک کی کوئی دلیل پیش کرو ۔ اس وقت یہ یقین کرلیں گے کہ فی الواقع عبادتوں کے لائق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں ۔ کوئی جواب نہ دے سکیں گے حیران رہ جائیں گے اور تمام افترا بھول جائیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ ۔۔ : توحید کے مزید دلائل ذکر کرنے کے بعد وہی مضمون دہرایا جو اوپر گزرا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کو آواز دے کر کہے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جنھیں تم گمان کرتے تھے ! ؟ بار بار یہ کہنے کا مقصد انھیں ڈانٹنا، ذلیل و رسوا کرنا اور ان کی اور ان کے شرکاء کی بےبسی کا اور شرک کے باطل ہونے کا اظہار ہوگا۔ پھر کبھی وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ وہ کسی شریک کی عبادت کرتے تھے (دیکھیے انعام : ٢٢ تا ٢٤) ، کبھی اپنے جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے اور کوئی جواب نہ پائیں گے اور کبھی مایوس ہو کر خاموش ہو رہیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary A question that will be asked from the infidels on the Day of Judgment to repeat what they had replied to the prophets on their invitation to truth was mentioned in an earlier verse. Now in this verse it is stated that the prophets would testify about the reply that was given by the infidels.

خلاصہ تفسیر اور جس دن اللہ تعالیٰ ان کو پکار کر فرماوے گا (تاکہ سب لوگ ان کی رسوائی سن لیں) کہ جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں گئے اور (اگرچہ حجت تمام کرنے کے لئے خود اس کا اقرار کافی تھا مگر مزید تاکید کے لئے ان پر شہادت بھی قائم کردی جاوے گی اس طرح کہ) ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (بھی) نکال کر لائیں گے ( مراد اس سے انبیاء ہیں جو ان کے کفر کی گواہی دیں گے) پھر ہم (ان مشرکین سے) کہیں گے کہ (اب) اپنی کوئی دلیل (شرک کے دعوے کی صحت پر) پیش کرو سو (اس وقت) ان کو (بعین الیقین) معلوم ہوجاوے گا کہ سچ بات خدا کی تھی (جو انبیاء کے ذریعہ بتلائی گئی تھی اور شرک کا دعویٰ جھوٹا تھا) اور (دنیا میں) جو کچھ باتیں گھڑا کرتے تھے (آج) کسی کا پتہ نہ رہے گا۔ (کیونکہ انکشاف حق کے لئے باطل کا غائب ہوجانا لازم ہے۔ ) فائدہ : اس سے پہلی آیت میں جو سوال ماذآ اَجَبْتُمُ میں کیا گیا اس میں کفار سے انبیاء کو جواب دینے کے متعلق باز پرس تھی اور یہاں خود انبیاء (علیہم السلام) سے شہادت دلوانا مقصود ہے اس لئے سوال میں کوئی تکرار نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَوْمَ يُنَادِيْہِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۝ ٧٤ ندا النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع بالألفاظ المعروفة، وقوله : أُولئِكَ يُنادَوْنَمِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] فاستعمال النّداء فيهم تنبيها علی بُعْدهم عن الحقّ في قوله : وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] ، وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] ، وقال : فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] ، وقوله : إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] فإنه أشار بِالنِّدَاء إلى اللہ تعالی، لأنّه تَصَوَّرَ نفسَهُ بعیدا منه بذنوبه، وأحواله السَّيِّئة كما يكون حال من يَخاف عذابَه، وقوله : رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] فالإشارة بالمنادي إلى العقل، والکتاب المنزَّل، والرّسول المُرْسَل، وسائر الآیات الدَّالَّة علی وجوب الإيمان بالله تعالی. وجعله منادیا إلى الإيمان لظهوره ظهورَ النّداء، وحثّه علی ذلك كحثّ المنادي . وأصل النِّداء من النَّدَى. أي : الرُّطُوبة، يقال : صوت نَدِيٌّ رفیع، واستعارة النِّداء للصَّوْت من حيث إنّ من يَكْثُرُ رطوبةُ فَمِهِ حَسُنَ کلامُه، ولهذا يُوصَفُ الفصیح بکثرة الرِّيق، ويقال : نَدًى وأَنْدَاءٌ وأَنْدِيَةٌ ، ويسمّى الشَّجَر نَدًى لکونه منه، وذلک لتسمية المسبَّب باسم سببِهِ وقول الشاعر : 435- كَالْكَرْمِ إذ نَادَى مِنَ الكَافُورِ «1» أي : ظهر ظهورَ صوتِ المُنادي، وعُبِّرَ عن المجالسة بالنِّدَاء حتی قيل للمجلس : النَّادِي، والْمُنْتَدَى، والنَّدِيُّ ، وقیل ذلک للجلیس، قال تعالی: فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] ومنه سمّيت دار النَّدْوَة بمكَّةَ ، وهو المکان الذي کانوا يجتمعون فيه . ويُعَبَّر عن السَّخاء بالنَّدَى، فيقال : فلان أَنْدَى كفّاً من فلان، وهو يَتَنَدَّى علی أصحابه . أي : يَتَسَخَّى، وما نَدِيتُ بشیءٍ من فلان أي : ما نِلْتُ منه نَدًى، ومُنْدِيَاتُ الكَلِم : المُخْزِيَات التي تُعْرَف . ( ن د ی ) الندآ ء کے معنی آواز بلند کرنے کے ہیں اور کبھی نفس آواز پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] جو لوگ کافر ہیں ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ میں اندر سے مراد آواز و پکار ہے یعنی وہ چو پائے صرف آواز کو سنتے ہیں اور اس کلام سے جو مفہوم مستناد ہوتا ہے اسے ہر گز نہیں سمجھتے ۔ اور کبھی اس کلام کو جس سے کوئی معنی مفہوم ہوتا ہو اسے ندآء کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] اور جب تمہارے پروردگار نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] اور جب تم لوگ نماز کے لئے اذان دیتے ہو ۔ میں نماز کے لئے اذان دینا مراد ہے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ [ الجمعة/ 9] جب جمعے کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے ۔ میں بھی نداء کے معنی نماز کی اذان دینے کے ہیں اور شریعت میں ند اء الصلوۃ ( اذان ) کے لئے مخصوص اور مشہور کلمات ہیں اور آیت کریمہ : ۔ أُولئِكَ يُنادَوْنَ مِنْ مَكانٍ بَعِيدٍ [ فصلت/ 44] ان کو گویا دور جگہ سے آواز دی جاتی ہے : ۔ میں ان کے متعلق نداء کا لفظ استعمال کر کے متنبہ کیا ہے کہ وہ حق سے بہت دور جا چکے ہیں ۔ نیز فرمایا ۔ وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَكانٍ قَرِيبٍ [ ق/ 41] اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا ۔ وَنادَيْناهُ مِنْ جانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ [ مریم/ 52] اور ہم نے ان کو طور کے ذہنی جانب سے پکارا فَلَمَّا جاءَها نُودِيَ [ النمل/ 8] جب موسیٰ ان ان کے پاس آئے تو ندار آئی ۔ ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِذْ نادی رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا [ مریم/ 3] جب انہوں نے اپنے پروردگار کو دبی آواز سے پکارا میں اللہ تعالیٰ کے متعلق نادی کا لفظ استعمال کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے گناہ اور احوال سینہ کے باعث اس وقت اپنے آپ کو حق اللہ تعالیٰ سے تصور کیا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے کی حالت ہوتی ہے اور آیت کریمہ ؛ ۔ رَبَّنا إِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادِي لِلْإِيمانِ [ آل عمران/ 193] اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا ۔ جو ایمان کے لئے پکاررہا تھا ۔ میں منادیٰ کا لفظ عقل کتاب منزل رسول مرسل اور ان آیات الہیہ کو شامل ہے جو ایمان باللہ کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور ان چیزوں کو منادی للا یمان اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ ندا کی طرح ظاہر ہوتی ہیں اور وہ پکارنے والے کی طرح ایمان لانے کی طرف دعوت دے رہی ہیں ۔ اصل میں نداء ندی سے ہے جس کے معنی رطوبت نمی کے ہیں اور صوت ندی کے معنی بلند آواز کے ہیں ۔ اور آواز کے لئے نداء کا استعارہ اس بنا پر ہے کہ جس کے منہ میں رطوبت زیادہ ہوگی اس کی آواز بھی بلند اور حسین ہوگی اسی سے فصیح شخص کو کثرت ریق کے ساتھ متصف کرتے ہیں اور ندی کے معنی مجلس کے بھی آتے ہیں اس کی جمع انداء واندید آتی ہے ۔ اور در خت کو بھی ندی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ نمی سے پیدا ہوتا ہے اور یہ تسمیۃ المسبب با سم السبب کے قبیل سے ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 420 ) کالکرم اذا نادٰی من الکافور جیسا کہ انگور کا خوشہ غلاف ( پردہ ) سے ظاہر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ منادی کرنے والے کی آواز ہوتی ہے ۔ کبھی نداء سے مراد مجالست بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے مجلس کو النادی والمسدیوالندی کہا جاتا ہے اور نادیٰ کے معنی ہم مجلس کے بھی آتے ہیں قرآن پاک میں ہے : ۔ فَلْيَدْعُ نادِيَهُ [ العلق/ 17] تو وہ اپنے یاران مجلس کو بلالے ۔ اور اسی سے شہر میں ایک مقام کا نام درا لندوۃ ہے ۔ کیونکہ اس میں مکہ کے لوگ جمع ہو کر باہم مشورہ کیا کرتے تھے ۔ اور کبھی ندی سے مراد مخاوت بھی ہوتی ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ فلان اندیٰ کفا من فلان وپ فلاں سے زیادہ سخی ہے ۔ ھو یتندٰی علیٰ اصحابہ ۔ وہ اپنے ساتھیوں پر بڑا فیاض ہے ۔ ما ندیت بشئی من فلان میں نے فلاں سے کچھ سخاوت حاصل نہ کی ۔ مندیات الکلم رسوا کن باتیں مشہور ہوجائیں ۔ شرك ( شريك) الشِّرْكَةُ والْمُشَارَكَةُ : خلط الملکين، وقیل : هو أن يوجد شيء لاثنین فصاعدا، عينا کان ذلک الشیء، أو معنی، كَمُشَارَكَةِ الإنسان والفرس في الحیوانيّة، ومُشَارَكَةِ فرس وفرس في الکمتة، والدّهمة، يقال : شَرَكْتُهُ ، وشَارَكْتُهُ ، وتَشَارَكُوا، واشْتَرَكُوا، وأَشْرَكْتُهُ في كذا . قال تعالی: وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] ، وفي الحدیث : «اللهمّ أَشْرِكْنَا في دعاء الصّالحین» «1» . وروي أنّ اللہ تعالیٰ قال لنبيّه عليه السلام : «إنّي شرّفتک وفضّلتک علی جمیع خلقي وأَشْرَكْتُكَ في أمري» «2» أي : جعلتک بحیث تذکر معي، وأمرت بطاعتک مع طاعتي في نحو : أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] ، وقال تعالی: أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39] . وجمع الشَّرِيكِ شُرَكاءُ. قال تعالی: وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] ، وقال : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] ، أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] ، وَيَقُولُ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] . ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ کے معنی دو ملکیتوں کو باہم ملا دینے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ ایک چیز میں دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کے شریک ہونے کے ہیں ۔ خواہ وہ چیز مادی ہو یا معنوی مثلا انسان اور فرس کا حیوانیت میں شریک ہونا ۔ یا دوگھوڑوں کا سرخ یا سیاہ رنگ کا ہونا اور شرکتہ وشارکتہ وتشارکوا اور اشترکوا کے معنی باہم شریک ہونے کے ہیں اور اشرکتہ فی کذا کے معنی شریک بنا لینا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] اور اسے میرے کام میں شریک کر ۔ اور حدیث میں ہے (191) اللھم اشرکنا فی دعاء الصلحین اے اللہ ہمیں نیک لوگوں کی دعا میں شریک کر ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر (علیہ السلام) کو فرمایا ۔ (192) انی شرفتک وفضلتک علی ٰجمیع خلقی واشرکتک فی امری ۔ کہ میں نے تمہیں تمام مخلوق پر شرف بخشا اور مجھے اپنے کام میں شریک کرلیا ۔ یعنی میرے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر ہوتا رہے گا اور میں نے اپنی طاعت کے ساتھ تمہاری طاعت کا بھی حکم دیا ہے جیسے فرمایا ۔ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ محمد/ 33] اور خدا کی فرمانبرداری اور رسول خدا کی اطاعت کرتے رہو ۔ قران میں ہے : ۔ أَنَّكُمْ فِي الْعَذابِ مُشْتَرِكُونَ [ الزخرف/ 39]( اس دن ) عذاب میں شریک ہوں گے ۔ شریک ۔ ساجھی ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ [ الإسراء/ 111] اور نہ اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے ۔ اس کی جمع شرگاء ہے جیسے فرمایا : ۔ : شُرَكاءُ مُتَشاكِسُونَ [ الزمر/ 29] جس میں کئی آدمی شریک ہیں ( مختلف المزاج اور بدخو ۔ أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ [ الشوری/ 21] کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرد کیا ہے ۔ أَيْنَ شُرَكائِيَ [ النحل/ 27] میرے شریک کہاں ہیں ۔ زعم الزَّعْمُ : حكاية قول يكون مظنّة للکذب، ولهذا جاء في القرآن في كلّ موضع ذمّ القائلون به، نحو : زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] ، لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] ، كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] ، زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] ، وقیل للضّمان بالقول والرّئاسة : زَعَامَةٌ ، فقیل للمتکفّل والرّئيس : زَعِيمٌ ، للاعتقاد في قوليهما أنهما مظنّة للکذب . قال : وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ، إمّا من الزَّعَامَةِ أي : الکفالة، أو من الزَّعْمِ بالقول . ( ز ع م ) الزعمہ اصل میں ایسی بات نقل کرنے کو کہتے ہیں جس میں جھوٹ کا احتمال ہو اس لئے قرآن پاک میں یہ لفظ ہمیشہ اس موقع پر آیا ہے جہاں کہنے والے کی مذمت مقصود ہے چناچہ فرمایا : ۔ زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا[ التغابن/ 7] کفار یہ زعم کو کہتے ہیں ۔ لْ زَعَمْتُمْ [ الكهف/ 48] مگر تم یہ خیال کرتے ہو ۔ كُنْتُمْ تَزْعُمُونَ [ الأنعام/ 22] جن کو شریک خدائی سمجھتے تھے ۔ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ [ الإسراء/ 56] جنہیں تم نے ) اللہ کے سوا ( معبود ) خیال کیا ۔ اور زعامۃ کے معنی ذمہ داری اٹھانے اور ریاست ( سرداری ) کے ہیں اور کفیل ( ضامن اور رئیں کو زعیم کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں کی بات میں جھوٹ کا احتمال ہوسکتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ [يوسف/ 72] اور میں اس کا ذمہ دار ہوں ، أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعِيمٌ [ القلم/ 40] ان میں سے کون اس کا ذمہ دار ہے ۔ یہاں زعیم یا تو زعامہ بمعنی کفالۃ سے ہے اور یا زعم بلقول سے ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٤) اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں گئے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:74) ملاحظہ ہو آیت 62 ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ اس سے پہلے بھی یہی مضمون تھا۔ اسے دہرایا اس لئے گیا کہ کافروں کو تو بیخ و زجر کے طور پر بار بار اس قسم کی آواز دی جائے گی۔ کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے اور کوئی جواب نہ پائیں گے اور کبھی مایوس ہو کر خاموش ہو رہیں گے۔ (کذانی ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کی قدرتوں اور لیل و نہار کی گردش میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا تو پھر ذات کبریا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے کا کیا جواز ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید میں جس بات کی سب سے زیادہ تر دید اور مذّمت کی ہے وہ شرک ہے۔ شرک کرنے والا جن کو ” اللہ “ کے ساتھ یا اس کے سوا پکارتا ہے وہ کسی نہ کسی درجہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتا یا کم ازکم اس کے اختیارات میں شریک سمجھتا ہے۔ مشرکوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سوال کرے گا بتاؤ جنھیں تم میرا شریک بناتے تھے کہاں ہیں ؟ اگر ہیں تو انھیں سامنے لاؤ تاکہ وہ اپنی اور تمہاری مدد کرسکیں۔ جو بزرگ دنیا میں لوگوں کو شرک سے منع کرتے رہے۔ وہ رب ذوالجلال کے حضور اپنی صفائی پیش کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم نے ان لوگوں کو شرک کی نہ تعلیم اور نہ ہی ترغیب دی تھی۔ ہمارے بعد انھوں نے خود ہی ہمیں آپ کا شریک بنا لیا تھا۔ جو لوگ بزرگی اور پیری فقیری کے چکر میں شرک کی تبلیغ اور ترغیب دیتے رہے۔ وہ رب ذوالجلال کے سامنے آنے کی جرأت نہیں کرسکیں گے ملائکہ انھیں مجرموں کی صورت میں رب تعالیٰ کے حضور پیش کریں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہر اُمّت سے ایک دوسرے پر لوگوں کو گواہ کے طور پر پیش کریں گے تاکہ مشرکوں کو عملاً معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ تھا کہ نہ اس کا کوئی شریک تھا اور نہ ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے مشرک سب کچھ بھول جائیں گے اور نہ ہی شرک کی حمایت میں کوئی دلیل پیش کرسکیں گے۔ انبیاء کرام کی گواہی : (عَنْ أَبِيْ سَعِیْدِنِ الْخُدْرِيِّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُدْعٰی نُوْحٌ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ لَہٗ ھَلْ بَلَّغْتَ فَیَقُوْلُ نَعَمْ فَیُدْعٰی قَوْمُہٗ فَیُقَالُ لَھُمْ ھَلْ بَلَّغَکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ مَآأَتَانَا مِنْ نَّذِیْرٍ أَوْ مَآ أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَیُقَالُ لِنُوْحٍ مَنْ یَّشْھَدُ لَکَ فَیَقُوْلُ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہٗ قَالَ فَذٰلِکَ قَوْلُہٗ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا) [ مسند أحمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب : مسند أبی سعید الخدری ] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن نوح (علیہ السلام) کو پوچھا جائے گا کہ کیا تو نے میرا پیغام پہنچا یا تھا ؟ وہ جواب دیں گے ہاں پھر ان کی قوم کو بلا کر پوچھا جائے گا کیا انہوں نے تمہیں تبلیغ کی اور میرا پیغام پہنچایا۔ وہ کہیں گے ہمارے پاس تو ڈرانے والا کوئی نہیں آیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا جائے گا آپ کی گواہی کون دے گا ؟ وہ کہیں گے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی امّت۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ (اسی طرح ہم نے تمہیں امّتِ وسط بنایا ہے) ۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرک سے ان کے شرک کے بارے میں سوال کرے گا۔ ٢۔ مشرک اپنے شرک کا کوئی جواز پیش نہیں کرسکیں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک دوسرے پر گواہ کے طور پر پیش کرے گا۔ ٤۔ ہر نبی اپنی امت پر گواہ ہوگا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن شہادتیں : ١۔ اس دن تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا اور وہ پیشی کا دن ہوگا۔ (ھود : ١٠٣) ٢۔ افترا پردازی کرنے والوں کے خلاف شہادتیں پیش کی جائیں گی۔ (ھود : ١٨) ٣۔ قیامت کے دن مجرم کے منہ پر مہر لگادی جائے گی اس کے ہاتھ اور پاؤں اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ ( یٰس : ٦٥) ٤۔ قیامت کے دن ہاتھ، پاؤں اور زبان مجرم کے خلاف شہادت دیں گے۔ ( النور : ٢٤) ٥۔ قیامت کے دن مجرم کے خلاف اس کے کان، آنکھیں اور جسم گواہی دے گا۔ (حٰم السجدۃ : ٢٠) ٦۔ سب کا حساب کتاب لکھا ہوا ہے اور فرشتے ان پر گواہی دیں گے۔ (المطففین : ٢٠۔ ٢١) ٧۔ انبیاء کرام اپنی اپنی امت کے بارے میں گواہی دینگے۔ ( النساء : ٤١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویوم ینادیھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یفترون (74 – 75) قیامت کے دن پکارنے کا منظر اور شرکاء کی بابت پوچھنے کا وقفہ گزشتہ سبق میں بھی گزرا ہے لیکن یہاں اسے بطور تاکید دوبارہ ایک نئے منظر میں لایا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ سوال و جواب ایک گواہ کے سامنے ہوگا۔ یہ ہر امت کا نبی ہوگا اور یہ شہادت دے گا کہ کس نے دعوت اسلامی کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا۔ اس منظر میں اصل مقصد یہ ہے کہ نبی کے سامنے لایا جائے گا تاکہ اس کی امت بھی اسے سب کی سب دیکھے اور وہ بھی ان کو سب کے سب کو دیکھے۔ اور اس عظیم گواہ کے سامنے مشرکین کو مزید شرمسار کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے کہ وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم ایسا سمجھتے تھے ۔ اس وقت ان کا نہ کوئی شریک ہوگا اور نہ اس شرک پر کوئی دلیل ہوگی۔ اور نہ وہ دنیا کی طرف ہٹ دھرمی کرسکیں گے۔ اور نہ کوئی مکالمہ اور دلیل پیش کرسکیں گے۔ فعلموا ان الحق للہ (28: 75) ” ان کو معلوم ہوگا کہ حق اللہ کی طرف ہے “۔ اور ایسا حق اور سچائی اللہ کی طرف ہوگی جس میں کوئی شبہ نہ ہوگا۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون (28: 75) ” اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے “۔ یعنی ارتکاب شرک ، شرکاء۔ نہ شرکاء ان کو دیکھیں گے اور نہ یہ شرکاء کو پا سکیں گے۔ حالانکہ اس مکالمے اور مناظرے کے وقت برہان کی ضرورت تھی۔ یہاں آکر موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے پر تبصرہ ختم ہوتا ہے۔ اس تبصرے میں انسانوں کے دل و دماغ کو ایک وسیع بنیاد کی سیرکرائی گئی۔ دنیا کی بھی ، آخرت کی بھی ، انفس انسانی کے نشیب و فراز میں بھی اسے پھرایا گیا ، اور اس کائنات کی وسعتوں میں بھی ، سابقہ مکذبین کے کھنڈرات میں بھی اور اس کائنات کے سنن الہیہ میں بھی۔ اور یہ تمام سورت کے اصل مقاصد اور اس کے قصوں کے مضمون کے ساتھ ہم آہنگ اور مربوط رہی۔ اب ہم سورت کے دوسرے قصے کی طرف آتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن ہر امت میں سے گواہ لانا اور شرک کی دلیل طلب فرمانا یہ دو آیات ہیں پہلی آیت کے الفاظ تو مکرر ہیں لیکن سیاق کے اعتبار سے مقام مختلف ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا تھا کہ جب ان لوگوں سے یہ سوال ہوگا کہ میرے شرکاء کہاں ہیں جنہیں تم میرا شریک بناتے تھے تو اس پر وہ لوگ جواب دیں گے جنہوں نے انہیں بہکایا تھا اور گمراہ کیا کہ اے ہمارے رب ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے ہم گمراہ ہوئے ہم نے بہکایا تو تھا لیکن زبردستی نہیں کی تھی ہم بھی بہکے ان کو بہکایا ہم ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں، اور یہاں دوسری جگہ جو آیت شریفہ کو دو بارہ ذکر فرمایا ہے وہ بعد والی آیت کی تمہید ہے یعنی جب انہیں پکارا جائے گا تو ان سے جواب نہ بن پڑے گا اور ہر امت کا نبی ان پر گواہی دے گا کہ یہ لوگ دنیا میں کافر تھے، مشرک تھے، ایمان لانے سے منکر تھے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ (ھَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ ) (تم اپنی دلیل لے آؤ) اول تو ان کے نبی کی ان کے خلاف گواہی ہوگی پھر اپنے شرک اور کفر پر کوئی دلیل نہ لاسکیں گے اور اس وقت انہیں عین الیقین کے طور پر معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی کی بات سچی تھی، جو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعہ پہنچی تھی اور ہمارا کفر و شرک پرجما رہنا جہالت اور ضلالت پر مبنی تھا۔ جب دنیا میں کہا جاتا تھا کہ کفر و شرک سے بچو تو بڑی کٹ حجتی سے پیش آتے تھے اور جھوٹی باتوں کو دلیل کے طور پر پیش کیا کرتے تھے۔ آج قیامت کے دن دلیل کا سوال ہوگا تو وہ سب باتیں جو دنیا میں تراشتے تھے اور جھوٹ بناتے تھے سب گم ہوجائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

68:۔ یہ تخویف اخروی ہے قیامت کے دن مشرکین سے سوال ہوگا وہ میرے شریک کہاں ہیں ؟ جنہیں تم میرے سوا کارساز اور سفارشی سمجھتے تھے۔ آج وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے۔ یہ آیت نیک پیروں کے حق میں ہے جنہیں بعد کے لوگوں نے کارساز سمجھ کر حاجات میں غائبانہ پکارنا شروع کردیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

74۔ اور وہ دن قابل ذک رہے جس دن اللہ تعالیٰ ان کافروں کو پکارے گا اور پکارکر ارشاد فرمائے گا جن لوگوں کو تم میرا شریک سمجھا کرتے تھے اور جن کے شریک ہونے کا دعویٰ کیا کرتے تھے وہ میرے شریک کہاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا بطور تو بیخ ہوگا اور انکے خلاف شہادت لیتے وقت فرمائے گا ۔ چناچہ ارشاد ہے۔