Surat ul Qasass

Surah: 28

Verse: 8

سورة القصص

فَالۡتَقَطَہٗۤ اٰلُ فِرۡعَوۡنَ لِیَکُوۡنَ لَہُمۡ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا ؕ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ وَ ہَامٰنَ وَ جُنُوۡدَہُمَا کَانُوۡا خٰطِئِیۡنَ ﴿۸﴾

And the family of Pharaoh picked him up [out of the river] so that he would become to them an enemy and a [cause of] grief. Indeed, Pharaoh and Haman and their soldiers were deliberate sinners.

آخر فرعون کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا کہ آخرکار یہی بچہ ان کا دشمن ہوا اور ان کے رنج کا باعث بنا کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے ہی خطا کار ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَالْتَقَطَهُ الُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا ... Then the household of Fir`awn picked him up, that he might become for them an enemy and a (cause of) grief. Allah says: ... إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خَاطِيِينَ Verily, Fir`awn, Haman and their armies were sinners.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

81یہ تابوت بہتا بہتا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا، جو لب دریا تھا اور وہاں فرعون کے نوکروں چاکروں نے پکڑ کر باہر نکال لیا۔ 82یہ عاقبت کے لئے ہے۔ یعنی انہوں نے تو اسے اپنا بچہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنا کرلیا تھا نہ کہ دشمن سمجھ کر۔ لیکن انجام ان کے اس فعل کا یہ ہوا کہ وہ ان کا دشمن اور رنج و غم کا باعث، ثابت ہوا۔ 83یہ اس سے پہلے کی تعلیل ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے لئے دشمن کیوں ثابت ہوئے ؟ اس لئے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطا کار تھے، اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے پروردہ کو ہی ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنادیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] چناچہ ام موسیٰ نے وحی کے مطابق اس بچہ کو کسی تابوت یا ٹوکرے میں رکھ کر دریائے نیل کی موجوں کے سپرد کردیا۔ یہ تابوت موجوں پر سفر کرتے کرتے جب اس مقام پر پہنچا جہاں فرعون کے محلات تھے تو فرعون کے اہل کاروں نے اسے دیکھ لیا اور اسے پکڑ کر فرعون اور اس کی بیوی کے پیش کردیا۔ یا ممکن ہے کہ فرعون اور اس کی بیوی سیر و تفریح کی غرض سے محل سے نکل کردیا کے کنارے آئے ہوئے ہوں اور انہوں نے خود یہ تابوت دیکھ کر اسے نکال لانے کا حکم دیا ہو۔ چناچہ فرعون اور اس کی بیوی اس بچہ کو اپنے ہاں لے آئے۔ جو ان کا دشمن اور ان کی تباہی کا باعث بننے والا تھا۔ [١٣] اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں : ایک یہ کہ ایک بچہ کے خطرہ کے بنا پر ہزار ہا بچوں کا قتل کردینا ان کی بہت بڑی غلطی اور حماقت تھی۔ اور ان کی یہ حماقت اس لحاظ سے اور بھی زیادہ واضح ہوگئی تھی کہ جس بچہ سے خطرہ کے سد باب کے لئے وہ یہ سفاکی کر رہے تھے وہ تو ان کے پاس پہنچ چکا تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ خطاکار اس لحاظ سے تھے کہ وہ اپنی اس ظالمانہ تدبیر سے اللہ کی تقدیر کو روکنا چاہتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ : ” اِلْتَقَطَ “ کا معنی ہے کسی کی گری ہوئی چیز اٹھا لینا۔ اُمّ موسیٰ کا گھر دریائے نیل کے کنارے پر فرعون کے محل کے بالائی جانب تھا۔ انھوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک صندوق میں بند کر کے اسے پانی سے محفوظ بنا کر دریا میں ڈال دیا، جو بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا، اس کے لوگوں نے اسے دیکھا تو دریا سے نکال کر فرعون کے پاس لے آئے۔ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا : اس ” لام “ کو اکثر مفسرین ” لام عاقبت “ کہتے ہیں، یعنی آل فرعون کے اسے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے غم کا باعث بنے۔ مگر اسے لام تعلیل بھی بنا سکتے ہیں، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر تھی کہ آل فرعون نے اسے اٹھا لیا، تاکہ وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم بنے۔ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ ۔۔ :” خٰطِـــــِٕيْنَ “ ” أَخْطَأَ یُخْطِئُ “ (افعال) کا معنی ہے بھول کر خطا کرنا اور ” خَطِئَ یَخْطَأُ “ (ع) کا معنی ہے جان بوجھ کر گناہ کرنا، جیسا کہ فرمایا : (نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ) [ العلق : ١٦ ] ” پیشانی کے ان بالوں کے ساتھ جو جھوٹے ہیں، خطا کار ہیں۔ “ اس کا مصدر ” خِطْأٌ“ (خاء کے کسرے کے ساتھ) ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا ) [ بني إسرائیل : ٣١ ] ” بیشک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔ “ اور سورة یوسف میں ہے : (اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ ) [ یوسف : ٢٩ ] ” یقیناً تو ہی خطا کاروں سے تھی۔ “ ” اِنَّ “ کے ساتھ عموماً پہلی بات کی علت بیان کی جاتی ہے، یعنی موسیٰ (علیہ السلام) ان کے لیے دشمن اور باعث غم کیوں بننے والے تھے ؟ اس لیے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطاکار تھے، جنھوں نے ہزاروں بچوں کو ذبح کردیا اور بنی اسرائیل پر بےپناہ ظلم کیے۔ اللہ تعالیٰ نے انھی کے پروردہ کو ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنادیا۔ بعض مفسرین نے اس کا ترجمہ ” چوکنے والے “ کیا ہے، مگر ” خَاطِئٌ“ کا لغوی معنی اس ترجمے کا ساتھ نہیں دیتا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا۝ ٠ۭ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَہُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ۝ ٨ التقط التقاط ( افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے جس کے معنی بلا قصد و طلب کسی چیز کو پانے اور اس کو اٹھا لینے کے ہیں۔ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ عدو العَدُوُّ : التّجاوز ومنافاة الالتئام، فتارة يعتبر بالقلب، فيقال له : العَدَاوَةُ والمُعَادَاةُ ، وتارة بالمشي، فيقال له : العَدْوُ ، وتارة في الإخلال بالعدالة في المعاملة، فيقال له : العُدْوَانُ والعَدْوُ. قال تعالی: فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] ، وتارة بأجزاء المقرّ ، فيقال له : العَدْوَاءُ. يقال : مکان ذو عَدْوَاءَ «3» ، أي : غير متلائم الأجزاء . فمن المُعَادَاةِ يقال : رجلٌ عَدُوٌّ ، وقومٌ عَدُوٌّ. قال تعالی: بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] ( ع د و ) العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہم ہم آہنگی نہ ہونا ہیں اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃ اور معاداۃ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدو کہا جاتا ہے اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عدوان اور عدو کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ [ الأنعام/ 108] کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بےسمجھے برا نہ کہہ بیٹھیں ۔ اور اگر اس کا تعلق کسی جگہ کے اجزاء کے ساتھ ہو تو اسے عدواء کہہ دیتے ہیں جیسے مکان ذوعدوء ناہموار مقام چناچہ معاداۃ سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے رجل عدو وقوم عدو اور یہ واحد جمع دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ طه/ 123] اب سے تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔ حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو خطأ الخَطَأ : العدول عن الجهة، وذلک أضرب : أحدها : أن ترید غير ما تحسن إرادته فتفعله، وهذا هو الخطأ التامّ المأخوذ به الإنسان، يقال : خَطِئَ يَخْطَأُ ، خِطْأً ، وخِطْأَةً ، قال تعالی: إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] ، وقال : وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] . والثاني : أن يريد ما يحسن فعله، ولکن يقع منه خلاف ما يريد فيقال : أَخْطَأَ إِخْطَاءً فهو مُخْطِئٌ ، وهذا قد أصاب في الإرادة وأخطأ في الفعل، وهذا المعنيّ بقوله عليه السلام : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» «3» وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» «4» ، وقوله عزّ وجلّ : وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ [ النساء/ 92] . والثّالث : أن يريد ما لا يحسن فعله ويتّفق منه خلافه، فهذا مخطئ في الإرادة ومصیب في الفعل، فهو مذموم بقصده وغیر محمود علی فعله، والخَطِيئَةُ والسّيّئة يتقاربان، لکن الخطيئة أكثر ما تقال فيما لا يكون مقصودا إليه في نفسه، بل يكون القصد سببا لتولّد ذلک الفعل منه ( خ ط ء ) الخطاء والخطاء ۃ کے معنی صحیح جہت سے عدول کرنے کے ہیں اس کی مختلف صورتیں ہیں ۔ ( 1 ) کوئی ایسا کام بالا رادہ کرے جس کا ارادہ بھی مناسب نہ ہو ۔ یہ خطا تام ہے جس پر مواخزہ ہوگا ا س معنی میں فعل خطئی یخطاء خطاء وخطاء بولا جا تا ہے قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ قَتْلَهُمْ كانَ خِطْأً كَبِيراً [ الإسراء/ 31] کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت جرم ہے ۔ وَإِنْ كُنَّا لَخاطِئِينَ [يوسف/ 91] اور بلا شبہ ہم خطا کار تھے ۔ ( 2 ) ارادہ تو اچھا کام کرنے کا ہو لیکن غلطی سے برا کام سرزد ہوجائے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ اس میں اس کا ارادہ وہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کا فعل غلط ہوتا ہے اسی قسم کی خطا کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ : «رفع عن أمّتي الخَطَأ والنسیان» میری امت سے خطا سے خطا اور نسیان اٹھائے گئے ہیں ۔ نیز فرمایا : وبقوله : «من اجتهد فأخطأ فله أجر» جس نے اجتہاد کیا ۔ لیکن اس سے غلطی ہوگئی اسے پھر بھی اجر ملے گا قرآن میں ہے : ۔ اور جو غلطی سے مومن کو مار ڈالے تو ایک تو غلام کو ازاد کردے ۔ ( 3 ) غیر مستحن فعل کا ارادہ کرے لیکن اتفاق سے مستحن فعل سرزد ہوجائے ۔ اس صورت میں اس کا فعل تو درست ہے مگر ارادہ غلط ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل ہے لہذا اس کا قصد مذموم ہوگا مگر فعل بھی قابل ستائس نہیں ہوگا ۔ الخطیتۃ یہ قریب قریب سیئۃ کے ہم معنی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَحاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ [ البقرة/ 81] اور اسکے گناہ ہر طرف سے اس کو گھیر لیں گے ۔ لیکن زیادہ تر خطئۃ کا استعمال اس فعل کے متعلق ہوتا ہے جو بزات خود مقصود نہ ہو بلکہ کسی دوسری چیز کا ارادہ اس کے صدر کا سبب بن جائے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨) غرض کہ ایسا ہی ہوا فرعون کی باندیوں نے پانی اور پتوں میں سے اس صندوق کو نکال لیا اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ (علیہ السلام) کے پاس لے گئیں تاکہ رسالت مل جانے کے بعد وہ فرعونیوں کے دشمن اور فرعون کی سلطنت ختم ہوجانے کے بعد اس کے لیے باعث غم بنیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨ (فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ ) ” ” لُقطہ “ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو کہیں گری پڑی ہو اور کوئی اسے اٹھا لے۔ فقہ کی کتابوں میں ” لُقطہ “ کے بارے میں تفصیلی احکام و مسائل ملتے ہیں۔ (لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ط) ” اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچے کو دریا سے نکالتے ہوئے ان کا یہ مقصد تھا یا انہیں معلوم تھا کہ ایسے ہوگا ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ بالآخر اس کا جو نتیجہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ بچہ ان کے لیے تکلیف اور پریشانی کا باعث بن گیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

11 This was not their aim, but the ultimate destiny of their act. They picked up the child through whom they were to be destoyed in the end.

سورة القصص حاشیہ نمبر : 11 یہ ان کا مقصد نہ تھا بلکہ یہ ان کے اس فعل کا انجام مقدر تھا ، وہ اس بچے کو اٹھا رہے تھے جس کے ہاتھوں آخر کار انہیں تباہ ہونا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: خطا کار ہونے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کافر اور گناہگار لوگ تھے، اور یہ بھی کہ انہوں نے اس بچے کو اٹھا کر اپنے حق میں غلطی کی، کیونکہ وہی بچہ آخر ان کے زوال کا سبب بنا

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨ تا ٩۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا مکان دریائے نیل کے کنارہ پر تھا ان کی ماں نے ایک صندوق بنایا اور اس میں بچھونا بچھایا اب فرعونیوں کے خوف سے دودھ پلانے کے بعد بچہ کو اس صندوق میں ڈال کر صندوق کو دریا میں چھوڑ دیاوہ بہ گیا یہاں تک کہ فرعون کے محل کے نیچے سے وہ صندوق گزرا لونڈیوں نے اس کو اٹھا کر حضرت آسیہ (رض) کے پاس پہنچا یا ان کو خبر نہ تھی کہ اس میں کیا ہے کھولا تو ایک لڑکا تھا اس کی محبت خدا نے حضرت آسیہ (رض) کے دل میں ڈالی یہ اس واسطے کہ خدا نے آسیہ (رض) کو نیک بخت اور فرعون کو بدبخت بنانے کا ارادہ کیا تھا جب فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا مگر حضرت آسیہ (رض) نے فرعون کو اس ارادہ سے روکا اور کہا کہ یہ لڑکا میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے فرعون نے کہا تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میری نہیں فرعون سے یہ بات اللہ تعالیٰ نے کہلوائی کیوں کہ حقیقت میں ایسا ہی ہوا کہ خدا نے موسیٰ ( علیہ السلام) کے سبب سے حضرت آسیہ کو ہدایت دی اور فرعون مردود کو ہلاک کیا حضرت آسیہ (رض) نے یہ بھی کہا کہ ہم اس لڑکے کو لے پالک بیٹا بنالیں گے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کی خبر اس کو نہ تھی۔ لیکون لھم عدوا وحزنا کی تفسیر میں قتادہ کا قول ہے کہ دین کی باتوں میں تو موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور فرعونیوں کے دشمن تھے اور دنیا میں فرعون اور فرعونیوں کی بربادی کا سبب تھے یہی مطلب آیت کے اس ٹکڑے کا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق قصہ کے انجام کے طور پر بڑھا کر آخر میں وھم لایشعون فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کو اس انجام کی خبر نہ تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ لوگ فرعون کا لے پالک بیٹا جان کر یہ خیال جو کرتے ہیں کہ فرعونی بادشاہت کو موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب سے کچھ مدد پہنچے گی ان لوگوں کا یہ خیال اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب کے موافق موسیٰ (علیہ السلام) کے سبب سے فرعونی بادشاہت برباد ہو کر مصر سے فرعون پرستی بالکل جاتی رہے گی۔ کانو خاطیٔن کا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) بڑھ کر انہی لوگوں کے طریقہ پر رہیں گے یہ خیال بھی غلط ہے موسیٰ (علیہ السلام) تو بڑھ کر مصر کو فرعون پرستی سے بالکل صاف وپاک کردیں گے۔ سورة بقر میں گذر چکا ہے کہ انسان کو غیب کا علم نہیں ہے اس لیے انسان بعض باتوں کو اپنے حق میں اچھا جانتا ہے لیکن علم الٰہی میں وہ باتیں اس کے حق میں اچھی نہیں ہوتیں یہی حاصل موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کہ قصہ کا ہے کہ فرعونی لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا لے پالک بیٹا جان کر جن اچھے خیالوں میں لگے ہوئے تھے اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں ان کے وہ خیالات بےاصل تھے۔ معتبر سند سے مسند امام احمدمسند بزار اور مسند ابی یعلی میں ابو سعید (رض) خدری سے روایت ١ ؎ ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کوئی ایمان دار شخص کسی بات کو اپنے حق میں اچھا جان کر اللہ تعالیٰ سے اس بات کے پورے ہوجانے کی دعاء کرتا ہے اور علم الٰہی میں وہ بات اس شخص کے حق میں اچھی نہیں ہوتی تو بجائے اس کے پوری ہونے کے کوئی برائی اس شخص پر جو آنے والی تھی وہ ٹل جاتی ہے اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں یہ دخل ہے کہ فرعونی لوگ اللہ کو نہیں پہچانتے تھے بلکہ فرعون کو اپنا معبود جانتے تھے اس واسطے ان کے دلی خیالات بھی پورے نہیں ہوئے اور خیالات کے پورے نہ ہونے کے عوض میں ڈوب کر مرنے کی برائی جو ان لوگوں پر آنے والی تھی وہ بھی ان کے سر پر سے نہ ٹلی مگر ایماندار لوگوں پر اللہ کی یہ رحمت ہے کہ ان کی کوئی خواہش ان کے حق میں اچھی نہیں ہوتی تو بجائے اپنی خواہش کے پورے ہونے کے کوئی آفت ان کے سر پر سے ٹل جاتی ہے۔ (١ ؎ الترغیب والترہیب ص ٤٧٨ ج ٢۔ باب الترغیب فی کثرۃ الدعاء الخ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(28:8) فالتقطہ : ف جملہ محذوف پر عطف ہے ای ففعلت ما امرت بہ من ارضاعہ والقائد فی الیم لما خافت علیہ۔ یعنی دودھ پلانے اور جان کے خوف کی صورت میں دریا میں ڈال دینے کے متعلق جو اسے کہا گیا تھا اس نے ایسا ہی کیا۔ التقط التقاط (افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر گا ئب ہے جس کے معنی بلا قصد و طلب کسی چیز کو پانے اور اس کو اٹھا لینے کے ہیں۔ یہاں صیغہ واحد جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی ال فرعون (فرعون کے لوگوں نے) اسے اٹھالیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بطرف موسیٰ ۔ لیکون۔ میں لام عاقبت کا ہے ۔ یعنی انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا سے اس لئے نہیں نکالا تھا کہ وہ بڑا ہو کر ان کا دشمن بنے اور رنج و غم کا باعث بنے لیکن ان کے فعل کا انجام عاقبۃ یہی نکلا۔ لام عاقبت یا لام مآل کسی فعل پر مرتب ہونے والے نتیجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ خواہ واقع میں اس نتیجہ کے حصول کے لئے وہ کام نہ کیا گیا ہو۔ اس کی مثال ربان انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک (10:88) فرعون اور اس کے سرداروں کو سامان زینت اور مال وزر اس واسطے نہیں دیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو خدا کے راستے سے گمراہ کریں لیکن اس دادودہش پر جو نتیجہ مرتب ہوا وہ یہی تھا کہ وہ لوگوں کو راہ راست سے گمراہ کرتے رہے۔ اسی طرح آیت ہذا میں فرعون کے لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا سے اس واسطہ نہیں نکالا تھا کہ وہ ان کا دشمن بنے اور باعث حزن و الم ہو لیکن اس کا مال و انجام کار یہی ہوا۔ بعض نے اس کو لام علت ہی قرار دیا ہے اور چونکہ واقع میں لام کا مابعد لام کے ماقبل کے لئے علت نہیں ہے اس لئے اس کو لام تعلیل واقعی نہیں بلکہ تعلیل نما کہا جائے گا۔ یعنی فعل کا نتیجہ یہ نکلا خواہ کام اس نتیجہ کے لئے نہیں کیا گیا تھا۔ تو اس جملہ کا ترجمہ یہ ہوگا :۔ فرعون کے آدمیوں نے اس کو ٹھا لیا کہ (بمقضائے مشیت ایزدی) وہ (انجام کار) ان کا دشمن بنے اور ان کے لئے حزن و ملال کا باعث بنے۔ مفصل بحث کے لئے ملاحظہ ہو اضواء البیان تفسیر سورة القصص۔ کانوا خطئین۔ وہ خطا کار تھے۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یعنی بوجہ ظلم و کفر کے وہ خطا کار تھے۔ اور ایسے ظالموں اور کافروں کو سزا ملنی ہی چاہیے تھی۔ (کہ خواد ان کے ہاتھوں ان کا دشمن پروان چڑھے) جو مال کار ان کی تباہی کا سبب ہو۔ (2) دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے اس محل میں بڑے خطاکار اور بڑے لغزش کھانے والے ثابت ہوئے۔ (3) تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کانوا خطئین : فی کل شیء فلیس خطؤہم فی تربیۃ عدوھم یبدع منھم۔ یعنی وہ تو ہر امر میں خطاکار رہے تھے۔ لہٰذا اپنے ہاتھوں اپنے دشمن کو ترتیب دینا ان کے لئے کوئی انوکھی بات نہ تھی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ لفظی ترجمہ یوں ہے :” تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لئے باعث رنج بنے۔ “ لیکن مطلب وہ ہے جو متن میں بیان کیا گیا ہے۔ یا یہ کہ ان کے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ (حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ان کے لئے دشمن اور باعث رنج ہوں۔ اس لام کو عربی زبان میں لام عاقبت کہا جاتا ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ کہ اپنے دشمن کو اپنی بغل میں پالا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنا اور صندوق کا فرعون کے ہاتھ لگنا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کے بارے میں ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اے اُمِّ موسیٰ ! تیرے ساتھ تیرے رب کا وعدہ ہے کہ نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو تیرے پاس لوٹائے گا بلکہ اسے رسول منتخب کرے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے رب کے حکم پر موسیٰ (علیہ السلام) کو صندوق میں ڈال کر دریا کی لہروں کے حوالے کیا اور اپنی بیٹی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو ہدایت کی کہ وہ دریا کے کنارے پوری احتیاط کے ساتھ صندوق کے ساتھ ساتھ چلے اور دیکھنے البتہ چلنے کا انداز ایسا ہو کہ آل فرعون محسوس نہ کر پائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن اسی احتیاط اور سمجھداری کے ساتھ دریا کے کنارے چلتی رہی تآنکہ فرعون کے ملازموں نے محل کے قریب دریا میں تیرتے ہوئے صندوق کو پکڑکر فرعون کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح جس کی دشمنی وجہ سے فرعون نے ہزاروں بچے قتل کروائے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کے دشمن کو اسی کے اہلکاروں کے ہاتھوں اس کے گھر پہنچایا۔ تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کے گھر پرورش پا کر جوان ہوا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت عطا فرمائے۔ اس کی وجہ سے فرعون، ہامان اور اس کے لشکر کیفر کردار تک پہنچیں کیونکہ وہ بڑے ظالم اور خطا کار تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کا صندوق کھولا گیا تو فرعون کی بیوی نے موسیٰ کا معصوم اور پھول جیسا چہرہ دیکھا اس نے فرعون کو کہا اسے قتل نہ کیا جائے۔ درخواست کے انداز میں کہا کہ ہوسکتا ہے یہ بچہ ہمیں بہت ہی فائدہ پہنچائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو۔ ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ فرعون نے قتل کرنے سے ہاتھ روک لیا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ہونے والے اپنے انجام کو نہیں سمجھتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اللہ تعالیٰ کے الہامی حکم کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کے حوالے کیا لیکن رات کے بعد جب صبح ہوئی تو اس کے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ میرا لخت جگر دشمن کے ہاتھ لگ چکا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اسے قتل کر ڈالے۔ ماں کی مامتا تڑپ اٹھی قریب تھا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ معصوم بیٹے کے فراق میں حوصلہ ہار بیٹھتی اور انتہائی غم کی حالت میں اڑوس پڑوس میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کر بیٹھتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل کو مضبوط کیا اور حوصلہ بخشا تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر اس کا ایمان پکا رہ سکے۔ دریا میں اٹکیلیاں کھاتا ہوا صندوق دیکھ کر فرعون کے خدام نے اسے پکڑلیا صندوق کھولا گیا تو اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو معصوم اور پر نور چہرے کے ساتھ مسکراتا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی رحمت کا پرتو اس طرح ڈال رکھا تھا کہ جو بھی انھیں دیکھتا فریفتہ ہوجاتا۔ یہی حالت فرعون اور اس کی بیوی آسیہ کی تھی جو نہی فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے چہرے پر نظر ڈالی تو دل ہار بیٹھا اسے یہ احساس اور خیال تک نہ رہا کہ اس طرح دریا میں تیرتے ہوئے جس بچے کو میں نے پکڑا ہے ہوسکتا ہے کہ یہ وہی ہو جس کی خاطر میں نے ہزاروں معصوم بچوں کا قتل کیا ہے۔ فرعون ایسا کیوں نہ سوچ سکا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے موسیٰ میں نے تجھ پر اپنی محبت ڈال دی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائے۔ (وَأَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِنِّی وَلِتُصْنَعَ عَلَی عَیْنِی) [ طٰہٰ : ٣٩] ” اے موسیٰ میں نے تجھ پر اپنی محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا تاکہ تو میری نگرانی میں پرورش پائے۔ “ مسائل ١۔ فرعون، ہامان اور ان کے ساتھی جس بچے سے ڈرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو فرعون کے گھر پہنچا دیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت سے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش اس کے دشمن کے ہاتھوں کروائی۔ ٣۔ جادو اور علم نجوم کا دعویٰ رکھنے والے یہ نہ جان سکے کہ ہم اپنے دشمن کی پرورش کر رہے ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل کو مضبوط کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر قائم رہی۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی دلوں کو تسکین دینے والا ہے : ١۔ اللہ نے تمہارے گھر تمہارے لیے سکون کا باعث بنائے ہیں۔ (النحل : ٨٠) ٢۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ (یونس : ٦٧) ٣۔ اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم تسکین حاصل کرو۔ (القصص : ٨٢) ٤۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہاری جانوں میں سے تمہارے لیے بیویاں پیدا فرمائیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ (الروم : ٢١) ٥۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے دعا کیجئے آپ کی دعا ان کے لیے باعث تسکین ہے۔ (التوبۃ : ١٠٣) ٦۔ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ (الرعد : ٢٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فالتقطہ ال فرعون ” آخر کار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا “۔ کیا یہی امن تھا ؟ اور کیا یہی فرعون تک بشارت تھی ؟ کیا ہل فرعون کے علاوہ کسی اور سے اس بیچاری کو کوئی ڈر تھا ؟ ڈر تو یہی تھا کہ اس کے حالات سے ظالم فرعونی خبردار نہ ہوجائیں۔ ڈر تو صرف یہ تھا کہ یہ بچہ فرعون کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ دیکھئے قدرت خداوندی کا کرشمہ کہ یہ بچہ ان کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ہاں ، یہی کچھ تھا ، یہ دست قدرت کا کھلا چیلنج ہے اور نہایت ہی کھلا چیلنج ہے۔ فرعون اور ہامان کی عظیم سیاسی اور مالی قوت کا چیلنج ہے۔ یہ عظیم قوت رات دن بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکوں کا پیچھا کر رہی ہے۔ ان کو ڈر ہے کہ ان کا اقتدار ، ان کا تخت ، بلکہ خودان کی ذات کو ان لوگوں سے خطرہ ہے۔ فرعونیوں نے خفیہ سروس اور خفیہ ایجنسیوں کا جال پھیلا رکھا تھا ، وہ ایک ایک گھر پر نظر رکھتے تھے کہ کوئی بچہ بچ کر نہ نکل جائے۔ لیکن خالق حقیقی ان کی ان سرگرمیوں کا دفعیہ بغیر کسی قیل و قال ، بغیر کسی خفیہ سروس کے خود ان کے ہاتھوں سے کر رہا ہے۔ خود ان سے اس بچہ کی پرورش کرا رہا ہے۔ یہ کون سا بچہ ہے ؟ اس بچے کے ہاتھوں ان کی اس عظیم قوت کو پاس پاس ہونا ہے۔ یہ بغیر سہارے ، بغیر کسی ظاہری تدبیر کے ، عاجزی اور ناتوانی کی انتہائی شدید کمزوری کے حالات میں ان کے ہاتھوں میں ہے اور یہ بیچاری ماں اسے ان کے حوالے کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں کہ یہ بچہ اپنے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ یہ خود اس بچے کو فرعوں کے مضبوط قلعوں تک پہنچا دیتی ہے۔ اس ظالم کو اس بچے کی تلاش بھی نہیں کرنا پڑتی۔ جس طرح وہ ہر پیدا ہونے والے بچے کی تلاش رات دن جاری رکھتے تھے۔ جس کے ہاں بھی بچہ پیدا ہوتا ، سرکار وہاں پہنچ جاتی۔ دست قدرت نہایت ہی چیلنج کے انداز میں اپنے منصوبے کا صاف صاف اعلان کردیتا ہے۔ لیکون لھم عدوا وحزنا ” تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے “۔ یہ بچہ ان کے لیے ایک ایسا دشمن بن جائے جو ان کی قوت کو چیلنج کرے اور ان کے لیے پریشانی کا باعث بن جائے۔ ان فرعون وھامن وجنودھما کانوا خطئین (8) ” واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے “۔ وہ کس طرح ان کا دشمن بنے گا اور کس طرح باعث تشویش ہوگا حالانکہ وہ ان کے ہاتھ میں ہے اور بےبس ہے۔ اس کے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ اس کے پاس کوئی ظاہری ذریعہ اور تدبیر بھی نہیں ہے۔ سیاق کلام اس کا جواب خود دیتا ہے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

8:۔ فاء فصیحہ ہے یعنی جب والدہ موسیٰ (علیہ السلام) کو خطرہ لاحق ہوا تو بچے کو الہام ربانی کے مطابق صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا۔ اتفاق سے اس روز فرعون نے دریا کے کنارے اپنا دربار لگا رکھا تھا اسی اثنا میں وہ صندوق تیرتا ہوا اس کی نشست گاہ کے قریب ہی ایک درخت کے ساتھ جا لگا۔ فرعون کے لوگوں نے اسے نکال لیا۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں نہایت ہی حسین و جمیل بچہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ لیکون لھم میں لام عاقبت کا ہے۔ یعنی انہوں نے اس کو اٹھا لیا جو انجام کار ان کا دشمن اور ان کے لیے غم واندوہ کا باعث بننے والا تھا حالانکہ ان کی غرض یہ نہ تھی۔ خطئین کفر و شرک اور انکار حق کی وجہ سے مجرم اور گنہگار تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

8۔ غرض ! موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون والوں نے اٹھا لیا تا کہ آخر کار یہ موسیٰ (علیہ السلام) ان فرعونیوں کا دشمن اور ان کا غم واندوہ اور حزن و ملال کا سبب ہو بلا شبہ فرعون اور ہامان اور ان کی پیروی کرنے والوں نے اس معاملے میں بڑی چوک کی اور بڑی غلطی کھائی ۔ یعنی فرعون والوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے صندوق کو اٹھا لیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی جس کا انجام جو کچھ ہوا وہ آگے آتا ہے ، یعنی یہی موسیٰ (علیہ السلام) فرعون والوں کے لئے دشمن اور فرعون والوں کے لئے پریشانی اور غم اندوہ کا سبب بنے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون و ہامان اور ان کی اتباع کرنے والوں نے بڑی چوک کھائی کہ جس بچہ کی خاطر ہزاروں معصوم بچوں کو قتل کیا آخراسی بچہ کی پرورش کا سامان کیا اور اپنے گھر رکھ کر اس کو پالا اور پورا ۔ حضر ت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں لقوم یومنون پر بیٹے ذبح کرتا کہ یہ قوم بڑھ نہ جاوے کہ زور پکڑیں یعنی بنی اسرائیل ۔ 12 ۔ پھر فرماتے ہیں ہامان وزیر تھا فرعون کا ظلم میں اس کا شریک تھا۔ پھر فرماتے ہیں یہ ان کے دل میں پڑگیا یا خواب میں دیکھا ہرگزر کے پیادے ڈھونڈ ڈھونڈ لاتے اور مارتے جس کے ہاں بیٹا ہوتا ۔ 12 پھر فرماتے ہیں ایک لکڑی کے صندوق میں ڈال کر ان کو بہاد یا نہر میں وہ بہتا چلا گیا فرعون کے محل میں اس کی عورت نے اس کو اٹھا لیا ۔ 12