Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 1

سورة العنكبوت

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾

Alif, Lam, Meem

الم

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Believers are tested so that it may be known Who is Sincere and Who is Lying Allah says: الم Alif Lam Mim. In the beginning of the Tafsir of Surah Al-Baqarah, we discussed the letters which appear at the beginning of some Surahs. أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا امَنَّا وَهُمْ لاَ يُفْتَنُونَ

حروف مقطعہ کی بحث سورۃ بقرہ کی تفسیر کے شروع میں گزرچکی ہے ۔ امتحان اور مومن پھر فرماتا ہے یہ ناممکن ہے کہ مومنوں کو بھی امتحان سے چھوڑ دیا جائے ۔ صحیح حدیث میں ہے کہ سب سے زیادہ سخت امتحان نبیوں کا ہوتا ہے پھر صالح نیک لوگوں کا پھر ان سے کم درجے والے پھر ان سے کم درجے والے ۔ انسان کا امتحان اس کے دین کے انداز پر ہوتا ہے اگر وہ اپنے دین میں سخت ہے تو مصیبتیں بھی سخت نازل ہوتی ہیں ۔ اسی مضمون کا بیان اس آیت میں بھی ہے ( اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 16۝ۧ ) 9- التوبہ:16 ) کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم چھوڑ دئیے جاؤ گے ؟ حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے مجاہد کون ہے؟ اور صابر کون ہے؟ اسی طرح سورۃ برات اور سورہ بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ کیا تم نے یہ سوچ رکھا ہے کہ تم جنت میں یونہی چلے جاؤ گے؟ اور اگلے لوگوں جیسے سخت امتحان کے موقعے تم پر نہ آئیں گے ۔ جیسے کہ انہیں بھوک ، دکھ ، درد وغیرہ پہنچے ۔ یہاں تک کہ رسول اور ان کے ساتھ کے ایماندار بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کہاں ہے؟ یقین مانو کہ اللہ کی مدد قریب ہے ۔ یہاں بھی فرمایا ان سے اگلے مسلمانوں کی بھی جانچ پڑتال کی گئی انہیں بھی سرد گرم چکھایا گیا تاکہ جو اپنے دعوے میں سچے ہیں اور جو صڑف زبانی دعوے کرتے ہیں ان میں تمیز ہوجائے اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اللہ اسے جانتا نہ تھا وہ ہر ہوچکی بات کو اور ہونے والی بات کو برابر جانتا ہے ۔ اس پر اہل سنت والجماعت کے تمام اماموں کا اجماع ہے ۔ پس یہاں علم رویت یعنی دیکھنے کے معنی میں ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ لنعلم کے معنی لنری کرتے ہیں کیونکہ دیکھنے کا تعلق موجود چیزوں سے ہوتا ہے اور عم اس سے عام ہے ۔ پھر فرمایا ہے جو ایمان نہیں لائے وہ بھی یہ گمان نہ کریں کہ امتحان سے بچ جائیں گے بڑے بڑے عذاب اور سخت سزائیں ان کی تاک میں ہیں ۔ یہ ہاتھ سے نکل نہیں سکتے ہم سے آگے بڑھ نہیں سکتے ان کے یہ گمان نہایت برے ہیں جن کا برا نتیجہ یہ عنقریب دیکھ لیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الۗمّۗ: حروف مقطعات کی بحث سورة بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر الۗمّۗ، اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں، بعضے مسلمان جو کفار کی ایذاؤں سے گھبرا جاتے ہیں تو) کیا ان لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ اتنا کہنے میں چھوٹ جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کو (انواع مصائب سے) آزمایا نہ جائے گا، (یعنی ایسا نہ ہوگا بلکہ اس قسم کے امتحانات بھی پیش آئیں گے) اور ہم تو (ایسے ہی واقعات سے) ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں جو ان سے پہلے (مسلمان) ہو گذرے ہیں (یعنی اور امتوں کے مسلمانوں پر بھی یہ معاملے گذرے ہیں) سو (اسی طرح ان کی آزمائش بھی کی جائے گی اور اس آزمائش میں) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو (ظاہری علم سے) جان کر رہے گا جو (ایمان کے دعویٰ میں) سچے تھے، اور جھوٹوں کو بھی جان کر رہے گا (چنانچہ جو صدق و اعتقاد سے مسلمان ہوتے ہیں وہ ان امتحانات میں ثابت رہتے ہیں بلکہ اور زیادہ پختہ ہوجاتے ہیں اور جو دفع الوقتی کے لئے مسلمان ہوجاتے ہیں وہ ایسے وقت میں اسلام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ یعنی یہ ایک حکمت ہے امتحان کی کیونکہ مخلص اور غیر مخلص کے خلط ملط میں بہت سی مضرتیں ہوتی ہیں، خصوص ابتدائی حالات میں یہ مضمون تو مسلمانوں کے متعلق ہوا آگے ان ایذا دینے والے کفار کی نسبت فرماتے ہیں کہ) ہاں کیا جو لوگ برے برے کام کر رہے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے کہیں نکل بھاگیں گے، ان کی یہ تجویز نہایت ہی بیہودہ ہے (یہ جملہ معترضہ کے طور پر تھا جس میں کفار کی بد انجامی سنا کر مسلمانوں کی ایک گونہ تسلی کردی کہ ان ایذاؤں کا ان سے بدلہ لیا جاوے گا، آگے پھر مسلمانوں کی طرف روئے سخن ہے کہ) جو شخص اللہ سے ملنے کی امید رکھتا ہو سو (اس کو تو ایسے ایسے حوادث سے پریشان ہونا ہی نہ چاہئے کیونکہ اللہ (کے ملنے) کا وہ معین وقت ضرور ہی آنے والا ہے (جس سے سارے غم غلط ہوجائیں گے۔ کقولہ تعالیٰ وَقَالُوا الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ) اور وہ سب کچھ سنتا سب کچھ جانتا ہے (نہ کوئی قول اس سے مخفی نہ کوئی فعل پس لقاء کے وقت تمہاری سب طاعات قولیہ و فعلیہ کا صلہ دے کر سب غم دور کر دے گا) اور (یاد رکھو کہ ہم جو تم کو ترغیب دے رہے ہیں مشقتوں کے برداشت کرنے کی سو اس میں ظاہر اور مسلم ہے کہ ہماری کوئی منفعت نہیں بلکہ) جو شخص محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی (نفع کے) لئے محنت کرتا ہے (ورنہ) اللہ تعالیٰ کو (تو) تمام جہان والوں میں کسی کی حاجت نہیں (اس میں بھی ترغیب ہے) تحمل مشاق کی کیونکہ اپنے نفع پر متنبہ ہونے سے وہ فعل زیادہ آسان ہوجاتا ہے) اور (وہ نفع جو اطاعت سے پہنچتا ہے اس کا بیان یہ ہے کہ) جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ہم ان کے گناہ ان سے دور کردیں گے (جس میں بعض گناہ جیسے کفر و شرک تو ایمان سے زائل ہوجاتے ہیں اور بعض گناہ توبہ سے کہ اعمال صالحہ میں داخل ہے اور بعضے گناہ صرف حسنات سے اور بعضے گناہ محض فضل سے معاف ہوجائیں گے اور کوئی گناہ بعد قدرے سزا کے، یہاں تکفیر سب کو عام ہے اور ان کو ان کے (ان) اعمال (ایمان و اعمال صالحہ) کا (استحقاق سے) زیادہ اچھا بدلہ دیں گے۔ (پس اتنی ترغیبات پر اطاعت اور مجاہدہ پر استقامت کا اہتمام ضروری ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ الۗمّۗ۝ ١ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْٓا اَنْ يَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ۝ ٢ حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] ( ف ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١۔ ٢) اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے کیا رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ان کی نجات اتنا کہنے پر ہوجائے گی کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کو خواہشات اور بدعات اور ہتک محارم کے ذریعے آزمایا نہ جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة العنکبوت: نام: آیت 41 کے فقرہ مَثَلُ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِيَاۗءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ سے ماخوذ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سورت ہے جس میں لفظ عنکبوت آیا ہے ۔ زمانہ نزول: آیات 56 تا 60 سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت حبشہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی تھی ۔ باقی مضامین کی اندرونی شہادت بھی اسی کی تائید کرتی ہے ، کیونکہ پس منظر میں اسی زمانہ کے حالات جھلکتے نظر آتے ہیں ، بعض مفسرین نے صرف اس دلیل کی بنا پر کہ اس میں منافقین کا ذکر آیا ہے اور نفاق کا ظہور مدینہ میں ہوا ہے ، یہ قیاس قائم کرلیا کہ اس سورۃ کی ابتدائی دس آیات مدنی ہیں اور باقی سورۃ مکی ہے ، حالانکہ یہاں جن لوگوں کے نفاق کا ذکر ہے وہ وہ لوگ ہیں جو کفار کے ظلم و ستم اور شدید جسمانی اذیتوں کے ڈر سے منافقانہ روش اختیار کر رہے تھے اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کا نفاق مکہ ہی میں ہوسکتا تھا نہ کہ مدینہ میں ، اسی طرح بعض دوسرے مفسرین نے یہ دیکھ کر اس سورہ میں مسلمانوں کی ہجرت کرنے کی تلقین کی گئی ہے ، اسے مکہ کی آخری نازل شدہ سورت قرار دے دیا ہے ، حالانکہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے مسلمان حبشہ کی طرف بھی ہجرت کرچکے تھے ، یہ تمام قیاسات دراصل کسی روایت پر مبنی نہیں ہیں بلکہ صرف مضامین کی اندرونی شہادت پر ان کی بنا رکھی گئی ہے ، اور یہ اندرونی شہادت اگر پوری سورت کے مضامین پر بحیثیت مجموعی نگاہ ڈالی جائے ، مکہ کے آخری دور کی نہیں بلکہ اس دور کے حالات کی نشاندہی کرتی ہے جس میں ہجرت حبشہ واقعہ ہوئی تھی ۔ موضوع و مضمون: سورۃ کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزول کا زمانہ مکہ معظمہ میں مسلمانوں پر بڑے مصائب و شدائد کا زمانہ تھا ، کفار کی طرف سے اسلام کی مخالفت پورے زور شور سے ہورہی تھی اور ایمان لانے والوں پر سخت ظلم و ستم توڑے جارہے تھے ، ان حالات میں اللہ تعالی نے یہ سورۃ ایک طرف صادق الایمان لوگوں میں عزم و ہمت اور استقامت پیدا کرنے کے لیے اور دوسری طرف ضعیف الایمان لوگوں کو شرم دلانے کے لیے نازل فرمائی ۔ اس کے ساتھ کفار مکہ کو بھی اس میں سخت تہدید کی گئی کہ اپنے حق میں اس انجام کو دعوت نہ دیں جو عداوت حق کا طریقہ اختیار کرنے والے ہر زمانے میں دیکھتے رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ان سوالات کا جواب بھی دیا گیا ہے جو بعض نوجوانوں کو اس وقت پیش آرہے تھے ۔ مثلا ان کے والدین ان پر زور ڈالتے تھے کہ تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ساتھ چھوڑ دو اور ہمارے دین پر قائم رہو ، جس قرآن پر تم ایمان لائے ہو اس میں بھی تو یہی لکھا ہے کہ ماں باپ کا حق سب سے زیادہ ہے ، تو ہم جو کچھ کہتے ہیں اسے مانو ورنہ تم خود اپنے ہی ایمان کے خلاف کام کرو گے ۔ اس کا جواب آیت 8 میں دیا گیا ہے ۔ اسی طرح بعض نو مسلموں سے ان کے قبیلے کے لوگ کہتے تھے کہ عذاب ثواب ہماری گردن پر ، تم ہمارا کہنا مانو اور اس شخص سے الگ ہوجاؤ ، اگر خدا تمہیں پکڑے گا تو ہم خود آگے بڑھ کر کہہ دیں گے کہ صاحب ، ان بے چاروں کا کچھ قصور نہیں ، ان کو ہم نے ایمان چھوڑنے پر مجبور کیا تھا ، اس لیے آپ ہمیں پکڑ لیں ، اس کا جواب آیات 12 ۔ 13 میں دیا گیا ہے ۔ جو قصے اس سورے میں بیان کیے گئے ہیں ان میں بھی زیادہ تر یہی پہلو نمایاں ہے کہ پچھلے انبیاء کو دیکھو ، کیسی کیسی سختیاں ان پر گزریں اور کتنی کتنی مدت وہ ستائے گئے ، پھر آخر کار اللہ تعالی کی طرف سے ان کی مدد ہوئی ، اس لیے گھبراؤ نہیں ، اللہ کی مدد ضرور آئے گی ، مگر آزمائش کا ایک دور گزرنا ضروری ہے ، مسلمانوں کو یہ سبق دینے کے ساتھ کفار مکہ کو بھی ان قصوں میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر خدا کی طرف سے پکڑ ہونے میں دیر لگ رہی ہے تو یہ نہ سمجھ بیٹھو کہ کبھی پکڑ ہوگی ہی نہیں ۔ پچھلی تباہ شدہ قوموں کے نشانات تمہارے سامنے ہیں ، دیکھ لو کہ آخر کار ان کی شامت آکر رہی اور خدا نے اپنے نبیوں کی مدد کی ۔ پھر مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ اگر ظلم و ستم تمہارے لیے ناقابل برداشت ہوجائے تو ایمان چھوڑنے کے بجائے گھر بار چھوڑ کر نکل جاؤ ، خدا کی زمین وسیع ہے ، جہاں خدا کی بندگی کرسکو وہاں چلے جاؤ ۔ ان سب باتوں کے ساتھ کفار کی تفہیم کا پہلو بھی چھوٹنے نہیں پایا ہے ۔ توحید اور معاد ، دونوں حقیقتوں کو دلائل کے ساتھ ان کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، شرک کا ابطال کیا گیا ہے اور آثار کائنات کی طرف توجہ دلا کر ان کو بتایا گیا ہے کہ یہ سب نشانات اس تعلیم کی تصدیق کر رہے ہیں جو ہمارا نبی تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١ تا ٤۔ حروف مقطعات کا ذکر سورة بقر میں گذر چکا ہے تفسیر شعبی تفسیر ابن ابی حاتم معالم التتریل وغیرہ ١ ؎ میں مجاہد اور قتادہ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ سے ہجرت فرمانے کے بعد کچھ مسلمان مکہ میں ایسے رہ گئے تھے جن کو مشرک لوگ ہجرت سے بھی روکتے تھے اور مکہ میں بھی ان کو امن سے نہیں رہنے دیتے تھے بلکہ طرح طرح کی تکلیفیں ان مسلمانوں کو ہر قت دیتے تھے جن تکلیفوں سے وہ مسلمان تنگ دل تھے ان کی ہمت بڑھانے لے لیے مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جب مدینہ سے ان کے دوست صحابہ (رض) نے ان کو ان آیتوں کے نازل ہونے کا حال لکھ کر مکہ میں بھیجا تو وہ مشرکین سے لڑ کر ہجرت کے لیے مکہ سے نکلنے کو مستعد ہوگئے اور اپنے ارادہ کے موافق ہجرت کی نیت سے نکلے اور مشرکین نے ان کو روکا اور لڑائی ہو کر کچھ مسلمان تو شہید ہوگئے اور کچھ مدینہ میں مہا جربن کر پہنچ گئے صحیح مسلم کی حضرت ابوہریرہ (رض) کی وہ مشہور حدیث ٢ ؎ ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو اپنی نعلین مبارک نشانی کے طور پردے کر لوگوں کو یہ خوشخبری سنانے کو بھیجا تھا کہ جو کوئی شخص دل سے کلمہ شہادت پڑھے گا وہ جنتی ہے اور حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو اس بشارت سے منع کیا تھا اور جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے اس منع کرنے کا سبب پوچھا تھا تو حضرت عمر (رض) نے یہ سبب عرض کیا تھا کہ اس بشارت کے سننے کے بعد لوگ ایسے نیک عملوں سے باز رہ جاویں گے جن عملوں کے سبب سے ان کو بڑے بڑے درجے جنت میں مل سکتے ہیں ان آیتوں کی وہ صحیح حدیث پوری تفسیر ہے کیوں کہ اس کا بھی وہی مطلب سے کہ اگر فقط مونہ سے کلمہ شہادت کے کہ لینے پر لوگوں کو چھوڑ دیا جائے اور نقصان مال اور جان سے ان کو اللہ تعالیٰ نہ آزمائے تو نقصان کے وقت صبر کرنے سے جو درجے ان لوگوں کو ملنے والے ہیں ان درجوں سے وہ محروم رہ جائیں گے۔ مثلا صحیح بخاری ومسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عباس (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کر کے آگ میں ڈالا اس چانچ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قیامت کے دن یہ مرتبہ ٣ ؎ دلوایا کہ سب ٤ ؎ سے پہلے ان کو اس دن کپڑے پہنائے جائیں گے اللہ تعالیٰ کا علم قدیمی ہے دنیا کی روز کی نئی باتوں سے کوئی جدید علم اللہ تعالیٰ کا نہیں بڑھتا لیکن ازل میں مثلا اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ جب دنیا پیدا ہوگی تو ایک شخص ابوجہل پیدا ہوگا اور باوجود رسول وقت کے سمجھانے کے وہ ایمان نہ لائے گا اور حالت کفر میں مارا جائے گا جب دنیا پیدا ہوئی اور ابوجہل پیدا ہوا تو اللہ تعالیٰ کے اس علم ازلی کی ظہور ہوگا اس ظہور ازلی کو اللہ کے جانچ اس واسطے جگہ جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ نیکی اور کی جزاو سزا اللہ تعالیٰ نے اس جانچ پر موقوف رکھی ہے اپنے علم ازلی پر موقوف نہیں رکھی تاکہ لوگوں کو اس حجت کا موقع باقی نہ رہے کہ نیکی بدی کی جانچ سے پہلے فقط اپنے علم ازلی پر اللہ تعالیٰ نے ہم کو سزا دی ہے۔ آگے فرمایا کہ یہ جانچ کچھ اس امت کے لوگوں پر ہی منحصر نہیں ہے۔ اس سے پہلے جو امتیں گذری ہیں ان کا بھی یہی حال تھا مثلا فوعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل نے جو جو تکلیفیں پائی ہیں وہ قصہ یہ لوگ سن چکے ہیں ان کا بھی یہی حال تھا مثلا فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل نے جو جو تکلیفیں پائی ہیں وہ قصہ یہ لوگ سن چکے ہیں نبی اسرائیل کے قصہ کی آیتیں قرآن میں جہاں جہاں ہیں وہ سب گویا ان آیتوں کی تفسیر ہیں پھر فرمایا یہ مشرک لوگ جو غریب مسلمانوں کو ہجرت سے روکتے ہیں اور ان کو مکہ میں بھی امن سے نہیں رہنے دیتے اپنے دل میں یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ ان سے اس ظلم و زیادتی کا بدلیہ نہیں لے سکتا اللہ بڑا صاحب قدرت ہے اور سے بڑھ کر صاحب قوت قوموں کو اس نے ایک دم میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا جن کی اجڑی ہوئی بستیاں ملک شام اور یمن کے سفر میں یہ لوگ جو غریب مسلمانوں کو ہجرت سے روکتے ہیں اور ان کو مکہ میں بھی امن سے نہیں رہنے دیتے لیکن اللہ کے کار خانہ میں ہر کام کا وقت مقرر ہے اس کے آنے پر ان لوگوں کو اس ظلم و زیادتی کی حقیقت کھل جائے گی اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے بدر کی لڑائی کے وقت یہ حقیقت کھل گئی جس کا قصہ صحیح بخاری ومسلم کی انس بن مالک (رض) کی روایت سے ایک جگہ گزر چکا ہے۔ صحیح بخاری مسلم کے حوالہ سے ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث بھی گذرچ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب تک چاہتا ہے ظالم لوگوں کو مہلت دیتا ہے پھر جب ان کو پکڑتا ہے تو بالکل برباد کردیتا ہے اس حدیث کو آیتوں کو تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تک اللہ کو منظور تھا مشرکین مکہ طرح طرح سرکشی کرتے رہے اور جب بدر کی لڑائی کے وقت ان آیتوں کے وعدہ کے موافق اللہ تعالیٰ نے ان میں کے بڑے بڑے سرکشوں کو پکڑا تو بالکل بر باد کردیا۔ (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ١٤١ جلد ٥۔ ) (٢ ؎ مشکوٰۃ ص ١٥ کتاب الایمان ) (٣ ؎ حکمت فتح الباری ص ٢٣١ ج ٣ میں بیان کی گئی ہے حدیث کے الفاظ نہیں (ع ‘ ح۔ ) (٤ ؎) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سب سے پہلے کپڑے پہنائے جانے کی حدیث کے لیے دیکھئے مشکوٰۃ ص ٤٨٣ باب الحشر )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:1) احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لایفتنون۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے حسب (ماضی بمعنی حال) حسبان مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب حسب یحسب (سمع) وحسب یحسب (حسب) سے بمعنی گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ حسب افعال قلوب میں سے ہے افعال قلوب متعدی بدو مفعول استعمال ہوئے ہیں ۔ الناس اسم جمع۔ قافل۔ (کیا لوگ خیال کرتے ہیں) ۔ ان یترکوا میں ان مصدریہ ہے یترکوا مضارع مجہول جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور ضمیر مفعول مالم یسم فاعلہ کا مرجع الناس ہے (کہ وہ چھوڑ دئیے جائیں گے۔ اور یہ جملہ حسب کا مفعول اول ہے۔ ان یقولوا۔ میں بھی ان مصدریہ ہے بتقدیر لام یہ حسب کا مفعول ثانی ہے۔ امنا۔ ایمان سے باب افعال۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم ۔ ہم ایمان لائے۔ وہم لایفتنون ۔ ضمیر یترکوا سے حال ہے۔ گویا تقدیر کلام ہے احسبوا ترکہم غیر مفتونین لقولہم امنا کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ان کا چھٹکارا بغیر کسی آزمائش کے (محض) بوجہ ان کے قول کے کہ ” ہم ایمان لے آئے “ ہوجائے گا۔ یعنی کسی کا صرف یہ کہنا کہ میں مومن ہوں کافی نہیں جب تک کہ اس کو آزمائش کی کسوٹی پر نہ پرکھا جائے۔ اسی مضمون میں ارشاد الٰہی ہے :۔ ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یؤتکم مثل الذین خلوا من قبلکم مستھم البأساء والضراء وزلزلوا حتی یقول الرسول والذین امنوا معہ متی نصر اللہ الا ان نصر اللہ قریب (2:214) کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے درآں حالیکہ (ابھی ) تم پر ان لوگوں کے حالات پیش نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں انہیں تنگی اور سختی پیش آئی اور انہیں ہلا ڈالا گیا یہاں تک کہ پیغمبر اور جو لوگ ان کے ہمراہ ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی امداد ( آخر) کب آئے گی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 1 تا 13 اسرارو معارف راہ حق میں آزمائش : راہ حق میں مصیبت سے گھبرانا درست نہیں کیا لوگوں کا یہ گمان ہے کہ صرف یہ کہ دینے سے کہ ہم مومن ہیں وہ چھوٹ جائیں گے اور ان پر کوئی آزمائش نہ آئے گی یقینا آزمائش ضرور آئے گی بلکہ ان سے پہلی ساری امتوں کو آزمایا گیا اور اللہ نے کھرے اور کھوٹے سچے اور جھوٹے کو الگ الگ ثابت کردیا۔ آج کے مسلمان کا جو خیال ہے کہ کوئی ایسا راستہ ہو کہ اسلام پر بھی کاربند رہا جائے اور کافر بھی ناراض نہ ہوں اور کوئی مصیبت بھی کھڑی نہ کردیں یہ خیال خام ہے جو بھی حق پر عمل پیرا ہوگا اس کی آزمائش ضرور ہوگی ہاں کفار یہ نہ جان لیں کہ وہ برای کر کے اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ان کی یہ سوچ بالکل غلط اور بری ہے یعنی وہ مغلوب ہوں گے اور دنیا میں بھی انجام کار مومن غالب ہوگا اور آخرت کا عذاب تو یقینی ہے۔ مومن کی زندگی : اور مومن جو وصال الہی کی امید پر زندگی گزارتا ہے کہ کافر کے کیے جو موت کہلاتی ہے اور بہت خوفناک نظر آتی ہے مومن کے لیے حضوری کی گھڑی اور نوید مسرت ہوتی ہے یعنی مومنانہ زندگی یہ ہے کہ اللہ سے ملاقات کے لیے زندہ رہا جائے تو ایسے لوگوں کو یقین کے ساتھ جان لینا چاہیے کہ اللہ کا وعدہ آرہا ہے اور اللہ سب کی بات سننے والا اور سارے حالات جاننے والا ہے۔ مجاہدہ انسان کی ضرورت ہے : اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ دین کے لیے بہت قربان کر رہا ہے اور بہت بڑے مجاہدے سے گزر رہا ہے تو اس کی اپنی ضرورت ہے اور خود اسی کو اس کا فائدہ ملے گا۔ اللہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز ہے وہ کسی کی عبادت یا مجاہدے کا محتاج اور ضرورت مند نہیں۔ بلکہ جو لوگ صحیح عقیدہ اختیار کر کے نیک عمل میں بھی کوشاں رہتے ہیں ان سے اگر غلطی ہوگئی یاکمی رہ گئی تو اللہ اپنی رحمت عامہ سے اس کی تلافی فرما کر انہیں ان کے نیک اعمال کا اجر اعمال کی نسبت بہت اعلی عطا فرمائیں گے لہذا مجاہدے سے گھبرانا نہ چاہیے۔ عقیدہ کی اہمیت : اور جہاں تک عقیدے کا تعلق ہے تو اس کی اہمیت اتنی ہے کہ خود اللہ نے والدین سے حسن سلوک کرنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے لیکن اگر وہ بھی یہ کہ دیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو یا کفریہ بات جس کا حق ہونا ثابت نہ ہو ماننے کا حکم دیں تو ان کا حکم ماننے سے بھی انکار کردیا جائے اور اے مخاطب ان کی یہ بات ہرگز مت ماننا اس لیے کہ تجھے واپس میری بارگاہ میں لوٹ کر آنا ہے جہاں اللہ کسی سے پوچھنے کا محتاج نہ ہوگا بلکہ آنے والے کو اس کے اعمال کی خبر دی جائے گی۔ اور یقینا جو لوگ نیکی پر کاربند رہے ان کا شمار نیک اور صالح لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ اور کچھ لوگوں کا تو حال ایسا ہے کہ اپنے مسلمان ہونے کا تو اقرار کرتے ہیں مگر اللہ کی راہ میں کوئی تکلیف پیش آئے تو یا کفار کوئی دباؤ ڈالیں تو گھبرا جاتے ہیں جیسے اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے کہ اس کا نہ تو جواب ہوسکتا ہے اور نہ برداشت کیا جاسکتا ہے مگر یہ کفار سے ڈر کر ان کی بات مان لیتے ہیں۔ اور جب اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوتی ہے یا کوئی فائدہ نظر آتا ہے تو کہ اٹھتے ہیں کہ ہم بھی تو آپ کے ساتھ ہیں۔ کیا انہیں احساس نہیں کہ اللہ تو سب جہانوں کی مخلوق کے دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے اور یہ بھی کہ مشیت باری اسی جہان میں ایمانداروں اور منافقین کو الگ الگ کر دے گی۔ کفار اسلام کی راہ سے ہٹانے کے کئی حیلے کرتے ہیں جو ان کی طاقت اور رعب میں نہ آئے اسے کہتے ہیں بھئی تم ہماری راہ اختیار کرلو قیامت کو تمہارے گناہوں کا ذمہ ہم لے لیتے ہیں لہکن یہ بہت بڑا جھوٹ ہے وہ ہرگز کسی کا بوجھ نہ بانٹیں گے بلکہ ان کے اپنے کفر کا بوجھ ہی بہت بھاری ہوگا جبکہ دوسروں کو کفر کی دعوت دینے کا بوجھ بھی ان پر لادا جائے گا اور اس جھوٹ کی پرسش ان کے لیے بہت بڑی مصیبت بن جائے گی ۔ کفر کی دعوت کا بوجھ : جو لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بولتے ہیں یہاں ثابت ہے کہ کفر کی دعوت دینا بھی بہت بڑا کفر ہے اور اگر کوئی عملا کفار کی غلامی پر لوگوں کو آمادہ کرے کہ دنی ا میں نقصان اٹھاؤ گے تو وہ بھی بہت بڑا گناہگار ہے اور کافروں کی غلامی میں انسان نقصان سے بچ نہیں سکتا بلکہ نقصان کے ساتھ ذلت میں بھی پھنس جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جو عملا کفر کی غلامی کا مشورہ دیں اور جو سیاستدان یہ کہتے ہیں کہ سود کے بغیر زندہ رہنا محال ہے یا اسلامی سزائیں وحشیانہ ہیں ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 7 : حسب (گمان کیا۔ خیال کیا) ‘ لایفتنون (وہ آزمائے نہ جائیں گے) ‘ ساء (برا ہے) ‘ یرجوا ( امید رکھتا ہے) یجاھد ( وہ جدوجہد۔ کوشش کرتا ہے) ‘ غنی (بےنیاز) نکفرن ( ہم ضرور اتاردیں گے) نجزین ( ہم ضرور بدلہ دیں گے) احسن ( زیادہ بہتر) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 7 : اس سورت کا آغاز بھی حروف مقطعات سے کیا گیا ہے یعنی جن حروف کے معنی کا علم اللہ کو ہے۔ جب انسان حق و صداقت یعنی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرتا ہے تو اس کو باطل نظام زندگی اور ظالموں کی قوت و طاقت سے ٹکرانا پڑتا ہے۔ یہ اتنی بڑی آزمائش اور امتحان ہے کہ حالات کے سامنے اگر وہ ڈٹ کر اور جم کر کھڑا ہوجائے اور اپنے اندر ہر طرح کے طوفانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ پیدا کرلے تو وہ مخالف حالات کی اس بھٹی سے کندن بن کر نکلتا ہے جس طرح سونے کو آگ میں تپایا جاتا ہے تو اس کا میل کچیل نکل جاتا ہے اور وہ سونا کندن بن جاتا ہے۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان نبوت فرمایا تو کچھ سعادت مندوں کے علاوہ پورے عرب کے لوگ آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑنے لگے جن کے تصور سے روح کا نپ اٹھتی ہے۔ لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام (رض) نے بےمثال قربانیوں اور صبر و تحمل کا پیکر بن کر ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کیا۔ اس خوف اور دہشت کے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے ان آیات کو نازل رک کے اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ وہ کفار کی اس یلغار سے قطعاً پریشان نہ ہوں کیونکہ ان سے پہلے سچائی کے راستے پرچلنے والوں کو اس سے بھی زیادہ تکلیفیں پہنچائی گئی ہیں۔ حالات کی یہ سختی درحقیقت اہل ایمان کا ایک امتحان ہے جو اچھے اور برے لوگوں کو چھانٹ کر رکھ دیتی ہے۔ لیکن اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جو بھی اس حق وصداقت کے راستے پر چلے گا ثابت قدم رہ کر ہر ظلم و ستم کو برداشت کرتاچلا جائے گا اس کو دنیا اور آخرت میں کامیاب و بامراد کیا جائے گا۔ سورئہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ” کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تمہیں جنت یوں ہی مل جائے گی اور تم اس میں داخل کردیئے جائو گے حالانکہ ابھی تو تم پر وہ حالات بھی نہیں آئے جو تم سے پہلے لوگوں پر آئے تھے جو ایسی پریشانیوں اور تکلیفوں اور مصیبتوں میں مبتلا کئے گئے اور ہلا مارے گئے تھے کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے بھی کہہ اٹھے تھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سنو ! اللہ کی مدد بہت قریب ہے “۔ (سورئہ بقرہ) اسی طرح جب حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے اور صحابہ کرام (رض) پر ہر طرف سے کفار کے ظلم و ستم بڑھ گئے تو حضرت خباب ابن ارت (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس وقت عرض کیا جب آپ کعبہ کی دیوار کے سائے میں تشریف رکھتے تھے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے لئے (ان برے حالات سے نکلنے کے لئے) دعاکیوں نہیں کرتے ؟ یہ سن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ انور سرخ ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم سے پہلے جو اہل ایمان گذر چکے ہیں ان پر اس سے زیادہ تکلیفیں اور مصیبتیں آئی تھیں۔ ان میں سے کسی کو زمین میں گڑھا کھود کر اس میں بٹھا دیا جاتا اور اس کے سر پر آرا چلا کر اس کے دو ٹکڑے کر ڈالے جاتے ‘ کسی کیبدن پر لوہے کے کھنگھے گھسے جاتے تاکہ وہ ایمان سے باز آجائے۔ اللہ کی قسم یہ کام پورا ہو کر رہے گا (نظام اسلام مکمل ہو کر رہے گا) یہاں تک کہ ایک شخص صنعا سے حضر موت تک بےخوف و خطر سفر کرے گا اور وہ اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ رکھے گا۔ (بخاری ‘ ابودائود ‘ ترمذی) خلاصہ یہ ہے کہ اس راہ عشق میں زبانی دعوے سے کام نہیں چلتا بلکہ دین کی سچائیوں کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے سے کامیابی کی منزل قریب آتی ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے۔ ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یہ کہنے پر چھوڑدیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور وہ آزمائے نہ جائیں گے۔ حالانکہ ہم ان لوگوں کو بھی آزماچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گذرے ہیں۔ یقیناً اللہ ان کو ظاہر کرکے رہے گا جو سچائی کے علم بردار ہیں اور ان لوگوں کی حقیقت کو بھی کھول کر رکھ دے گا جو جھوٹے ہیں “۔ فرمایا ” وہ لوگ جو کفر اور گناہ کے راستے پر چل کر اہل ایمان کو ستا رہے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم سے نکل کر وہ کہیں بھاگ نکلیں گے بلکہ وہ ہماری نظروں میں ہیں۔ اگر وہ ایساسوچتے ہیں تو وہ ایک غلط فیصلہ کئے ہوئے ہیں یعنی وہ اللہ کی گرفت میں آکر رہیں گے “۔ اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ” وہ لوگ جو اللہ سے ملاقات کی امید رکھتے ہیں ان کے لئے ایک وقت مقررہ ہے۔ وہ سن رہا ہے اور جانتا ہے۔ جو شخص (اللہ کی راہ میں) جدوجہد کرے گا اسکا فائدہ اسی کو پہنچے گا۔ بلاشبہ اللہ تو جہاں والوں سے بےنیاز ہے یعنی وہ کسی کی جدوجہد یا عبادت کا محتاج نہیں ہے۔ فرمایا جو لوگ ایمان لاکر بھلے اور نیک کام کریں گے تو ہم ان کے گناہ ضرور دور کردیں گے۔ اور وہ جو بھی عمل صالح کرتے ہیں اس پر انہیں زیادہ بہتر بدلہ اور صلہ عطا کیا جائے گا جو وہ کرتے رہے ہیں “۔ خلاصہ یہ ہے کہ دین کی سچائیوں کو دین بھر میں قائم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ایک مومن یہ نہیں دیکھتا کہ حالات کس قدر سنگین اور ناموافق ہیں بلکہ وہ اپنے ایمان کی قوت سے ہر طوفان کا رخ موڑ دیتا ہے۔ اس میں اس بات کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حالات کو تبدیل کرلیتا ہے۔ وہ اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں رکھتا۔ صحابہ کرام (رض) اور ان کے بعد آنے والوں کا یہی حوصلہ اور بےخوفی تھی کہ ساری دنیا کی سلطنتیں ان کے قدموں کی دھول بن کر رہ گئی تھیں کیونکہ ان کے دلوں میں صرف ایک اللہ کا خوف تھا باقی وہ دنیا کی ہر طاقت کے خلاف آندھی طوفان کی طرح اٹھے اور دنیا کو ظلم و ستم سے پاک کرکے انسانیت کی اقدار کو قائم کرکے دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنادیا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط سورة : سورة القصص کا اختتام توحید کے مرکزی نقطہ پر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود نہیں بنانا۔ چاہے حالات کتنے ہی ناگفتہ بہ ہوجائیں ایک داعی اور موحد کو ہر حال میں عقیدہ توحید پر قائم رہنا ہے۔ سورة العنکبوت کی ابتداء اس بات سے ہوئی کہ توحید کی دعوت دینے اور اس پر قائم رہنے پر مشکلات اور مصائب کا آنا ناگزیر ہے۔ الم ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے بارے میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان کا معنی اور مفہوم حدیث مبارکہ سے ثابت نہیں۔ صحابہ کرام (رض) ان کا معنی جانے بغیر ہی تلاوت کیا کرتے تھے۔ حروف مقطعات کے بعد ارشاد ہوتا ہے کیا لوگوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم ” اللہ “ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے سے آزمائش میں نہیں ڈالے جائیں گے ؟ انھیں یہ خیال چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پہلے ایماندار لوگوں کو بھی چھوٹی، بڑی آزمائشوں کے ساتھ آزمایا اور تمہیں بھی ضرور آزمائے گا تاکہ وہ جان لے کہ ایمان کے دعویٰ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے دین اسلام کے اوصاف میں ایک وصف یہ بھی ہے کہ دین اپنے ماننے والوں کو ہر حال میں خوشخبری نہیں سناتا بلکہ اس راستے میں آنے والی مشکلات اور مصائب سے بھی آگاہ کرتا ہے تاکہ دین اسلام کو قبول کرنے والا شخص ذہنی طور پر مشکلات کے لیے تیار ہو کر اسے قبول کرے۔ اس لیے یہاں بار بار تاکید کے الفاظ استعمال فرما کر اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کی ذہن سازی فرمائی ہے کہ میں تمہیں ضرور بضرور آزماؤں گا۔ گھبرانے کی بات نہیں تم سے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا کیونکہ سچے اور جھوٹے میں پرکھ کے لیے لازم ہے کہ تمہیں بھی آزمایا جائے مقصد یہ ہے کہ تمہارا رب خوب جان لے کہ کون دعویٰ ایمان میں سچا اور پکا ہے اور کون ایمان میں کچا اور جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے جاننے کا یہ معنی نہیں کہ وہ کسی بات اور حقیقت سے بیخبر ہے اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی لوگوں کے سامنے ثابت کریں کہ سچے اور جھوٹے کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے۔ تاکہ مسلمان جھوٹے لوگوں کے ساتھ اسی انداز میں رہیں جس کا شریعت نے انھیں حکم دیا ہے۔ جہاں تک ایمان لانے کے بعد آزمائش کا تعلق ہے قرآن مجید نے دوسرے موقع پر یہاں تک فرمایا ہے کہ اے مسلمانو ! کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم یونہی جنت میں داخل کیے جاؤ گے ؟ حالانکہ تمہیں ان حالات سے واسطہ نہیں پڑا جن حالات سے تم سے پہلے لوگوں کو واسطہ پڑا تھا انھیں ہر قسم کی تنگی اور تکلیف پہنچی اور وہ خوب ہلائے گئے یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھی پکار اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ تب جا کر اللہ تعالیٰ نے انھیں خوشخبری سنائی کہ اللہ کی مدد تو آ ہی پہنچی ہے۔ (البقرۃ : ٢١٤) (عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ قَالَ شَکَوْنَا إِلَی رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَہْوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً لَہُ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ ، قُلْنَا لَہُ أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا أَلاَ تَدْعُو اللَّہَ لَنَا قَالَ کَان الرَّجُلُ فیمَنْ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ فِی الأَرْضِ فَیُجْعَلُ فیہِ ، فَیُجَاء بالْمِنْشَارِ ، فَیُوضَعُ عَلَی رَأْسِہِ فَیُشَقُّ باثْنَتَیْنِ ، وَمَا یَصُدُّہُ ذَلِکَ عَنْ دینِہِ ، وَیُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیدِ ، مَا دُونَ لَحْمِہِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ ، وَمَا یَصُدُّہُ ذَلِکَ عَنْ دینِہِ ، وَاللَّہِ لَیُتِمَّنَّ ہَذَا الأَمْرَ حَتَّی یَسِیر الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَی حَضْرَمَوْتَ ، لاَ یَخَافُ إِلاَّ اللَّہَ أَوِ الذِّءْبَ عَلَی غَنَمِہِ ، وَلَکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُونَ ) [ رواہ البخاری : باب علامات النبوۃ ] ” حضرت خباب (رض) بیان کرتے ہیں ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس وقت شکایت کی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے سایہ میں چادر لپیٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کی آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے ہیں کہ وہ ہماری مدد فرمائے۔ آپ اپنے چہرے سے چادر ہٹاکر بیٹھ گئے اور فرمایا اللہ کی قسم تم سے پہلے لوگوں کو پکڑا جاتا اور ان کو ایک گھڑھے میں گاڑ کر اس کے سر پر آرا رکھ کر دو ٹکڑے کردیا جاتا۔ وہ پھر بھی اپنے دین پر قائم رہتا اس کا گوشت لوہے کی کنگھیوں سے نوچ لیا جاتا لیکن پھر بھی دین سے منحرف نہ ہوتا، اللہ تعالیٰ اس دین کو غالب فرمائے گا کہ ایک سوار صنعا سے لے کر حضرموت تک تن تنہا سفر کرے گا۔ اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوگا اسے صرف اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے کا خوف ہوگا، لیکن تم عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُغَفَّل ٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَا رَسُول اللَّہِ وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّکَ فَقَالَ انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ قَالَ وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّکَ فَقَالَ انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ قَالَ وَاللَّہِ إِنِّی لأُحِبُّکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ إِنْ کُنْتَ تُحِبُّنِی فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَی مَنْ یُحِبُّنِی مِنَ السَّیْلِ إِلَی مُنْتَہَاہُ ) [ رواہ الترمذی : باب ماجاء فی فضل اللفقر ] ” حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا اپنے دعویٰ پر غور کر کیا کہہ رہے ہو۔ اس نے کہا اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ نے فرمایا پھر غور کرو کہ کیا کہہ رہے ہو اس نے عرض کی اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں اس نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی آپ نے فرمایا اگر تو مجھ سے محبت کرتا ہے تو فقر وفاقہ کے لیے تیار ہوجا۔ اس لیے کہ جو مجھ سے پیار کرتا ہے اس کی طرف فقر وفاقہ سیلاب سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ آتا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ضرور آزماتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کو بھی آزمایا تھا۔ ٣۔ آزمانے کا مقصد جھوٹے اور سچے، کھرے اور کھوٹے کے درمیان فرق کرنا ہے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) اور مومنوں کی آزمائش کی چند مثالیں : ١۔ سخت آزمائش کے وقت رسولوں اور ایماندار لوگوں نے گھبرا کر کہا کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ (البقرۃ : ٢١٤) ٢۔ اللہ کی طرف سے مومن کی خوف، بھوک، مال و جان کے نقصان سے آزمائش ضرور کی جاتی ہے۔ صابر مومن کے لیے خوشخبری ہے۔ (البقرۃ : ١٥٥) ٣۔ پہلے لوگوں کو بڑی بڑی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا تاکہ پتہ چل جائے کہ سچا کون اور جھوٹا کون ہے۔ (العنکبوت : ٣) ٤۔ ( ابرہیم (علیہ السلام) کا اسماعیل (علیہ السلام) کو قربانی کے لیے پیش کرنا) بہت بڑا امتحان تھا۔ (الصٰفٰت : ١٠٦) ٥۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید کی خاطر آگ میں پھینکا جانابڑی آزمائش تھی۔ (الانبیاء : ٦٨) ٦۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی بیوی اور نو مولود بچے کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑ کر جانا بہت بڑی آزمائش تھا۔ (ابرہیم : ٣٧) ٧۔ ہم نے کھرے اور کھوٹے کی پہچان کرنے کے لیے پہلے لوگوں کو آزمایا۔ ( العنکبوت : ٢) ٨۔ ہم نے زندگی اور موت کو آزمائش بنایا تاکہ دیکھیں تم میں سے کون نیک عمل کرتا ہے۔ ( الملک : ٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة العنکبوت ایک نظر میں سورة عنکبوت مکی ہے ، بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس کی پہلی گیارہ آیات مدنی ہیں۔ محض اس لیے کہ ان میں جہاد اور منافقین کا ذکر ہے۔ لیکن ہم اس قول کو ترجیح دیتے ہیں یہ پوری سورت مکی ہے اور اس کی آٹھویں آیت کے بارے میں یہ روایت آتی ہے کہ یہ سعد ابن ابی وقاص کے اسلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جیسا کہ عنقریب اس کا ذکر ہوگا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص مکہ میں مسلمان ہوئے۔ ظاہر ہے کہ جن آیات کو مدنی کہا گیا ہے یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ لہٰذا صحیح بات یہی ہے کہ ان سب آیات کو مکی کہا جائے۔ رہی یہ بات کہ ان میں جہاد کا ذکر آیا ہے تو اس کی تاویل آسان ہے کیونکہ مضمون کلام سے یہاں آزمائشوں کے خلاف جہاد معلوم ہوتا ہے ۔ نفس کے خلاف جہاد اور نفاق کا ذکر بھی اسی کا مفہوم ہے یعنی اسی منافقت کہ ایک آدمی بات کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا۔ ان آیات میں لوگوں کے ایک مخصوص نمونے کا ذکر ہے۔ یہ پوری سورت آغاز سے اختتام تک ایک ہی لائن اور ایک ہی موضوع پر جاری ہے۔ اس کا آغاز حروف مقطعات اور ایمان اور ایمان والوں کی آزمائش سے ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب ایمان کسی شخص کے دل میں جاگزیں ہوجاتا ہے تو اس شخص سے ایمان بھاری تقاضے کرتا ہے کیونکہ ایمان صرف چند کلمات کا نام نہیں ہے جو کہہ دئیے جائیں بلکہ ایمان کے نتیجے میں جو مشکلات آتی ہے انکو برداشت کرنا ، اس کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے فرائض و مشکلات پر صبر کرنا بھی ایمان کا حصہ ہوتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کا محور اور موضوع ہی ” ایمان اور اس کے تقاضے “ ہے کیونکہ ایمان اور مشکلات راہ کے ذکر کے بعد حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط ، حضرت شعیب (علیہم السلام) کے قصص آتے ہیں۔ پھر عاد ، ثمود ، قارون ، فرعون اور ہامان کا ذکر ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر تمام زمانوں اور اقوام میں یہی صورت حال اہل ایمان کو پیش آتی رہی ہے یعنی ایمان کے ساتھ فتنے اور آزمائش لازم ہوتی ہیں۔ اس کے بعد یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں شر کی قوتیں ہمیشہ ایمان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں اور مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ شر کی قوتیں اہل ایمان کو معاشرے میں حقیر قوت ظاہر کرتی ہیں۔ ان کو نظر انداز کرتی ہیں لیکن اللہ ان کو خوب پکڑتا ہے۔ فکلا اخذنا ۔۔۔۔۔۔ من اغرقنا (29: 40) ” آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی ، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ، اور کسی کو غرق کردیا “۔ پھر ان تمام قوتوں کی ایک مجسم مثال دی جاتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں یہ کس قدر کمزور ہیں اللہ کی قوتیں جب اٹھتی ہیں تو یہ بےبس ہوتی ہیں۔ مثل الذین اتخذوا ۔۔۔۔۔۔ لو کانو یعلمون (29: 41) ” جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے “۔ اس کے بعد یہ سورت اس سچائی کو جو تمام انبیاء کی دعوتوں میں پائی جاتی ہے ، اس سچائی کے ساتھ جوڑ دیتی ہے ، جو زمین اور آسمان کی تخلیق میں ہے اور اس کے بعد ان تمام دعوتوں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے کہ یہ سب اللہ کی جانب سے ہیں۔ سب دعوتیں اللہ وحدہ کی طرف پکارتی ہیں۔ اس کے بعد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کی کتاب قرآن کریم پر بات ہوتی ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ مشرکین کا ردعمل اس کتاب کے حوالے سے کیا تھا۔ وہ اس کتاب کے ہوتے ہوئے خارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں حالانکہ اس کے اندر جو دعوت ہے وہ اللہ کی رحمت اور نہایت ہی بہترین راہنمائی اور یاد دہانی پر مشتمل ہے۔ اور پھر تعجب انگیز انداز میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس بارے میں جلدی کرتے ہیں کہ عذاب جلد کیوں نازل نہیں ہوتا حالانکہ جہنم تو بہت جلد ان کو اپنے گھیرے میں لینے والی ہے۔ پھر خود ان کی سوچ اور اپنے عقائد میں تضاد ہے۔ ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر ان سے پوچھو کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ، تو ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ نے “۔ ولئن سالتھم من نزول ۔۔۔۔۔۔۔ لیقولن اللہ ” اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں سے پانی کس نے نازل کیا ، پھر زمین کے مردہ ہوجانے کے بعد اس کے ساتھ اسے زندہ کردیا تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے “۔ فاذا رکبوا ۔۔۔۔ لہ الدین (29: 56) ” جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں ، پورا دین اس لیے خالص کرتے ہوئے “۔ لیکن یہ عقائد رکھنے کے باوجود یہ لوگ شرک کرتے ہیں اور اہل ایمان کو آزمائشوں میں ڈالتے ہیں۔ اس بحث و مباحثے کے درمیان مومنین کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان آزمائشوں سے بچنے کیلئے ہجرت کریں ، موت سے نہ ڈریں ، کیونکہ کل نفس ذائقۃ الموت ثم الینا ترجعون ” ہر نفس موت کو چکھنے والا ہے ، پھر وہ سب ہماری طرف لوٹ کر آئیں گے “۔ نیز ہجرت کرتے ہوئے اس بات کی بھی پرواہ نہ کرو کہ ہم کھائیں گے کیا ، کیونکہ وکاین من دابۃ ۔۔۔۔۔ وایاکم (29: 60) ” کتنے ہی زمین پر چلنے والے جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے ہوئے نہیں ہوتے ، اللہ انہیں رزق دیتا ہے اور تمہیں بھی دیتا ہے “۔ سورت کے آخر میں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ان کی تعریف اور تمجید کی گئی ہے اور ان کو ہدایت پر مطمئن ہونے اور ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ والذین جاھدوا ۔۔۔۔۔۔ لمع المحسنین (29: 69) ” وہ لوگ جنہوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا ، ہم ضرور ان کی راہنمائی اپنے راستوں کی طرف کریں گے ، بیشک اللہ محسن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے “۔ یوں سورت کا خاتمہ اس کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ہے اور اس طرح پوری سورت کے پیش نظر جو حکمت ہے ، وہ واضح ہوجاتی ہے۔ اور اسکے تمام حلقے مربوط ہوجاتے ہیں اور سب اس سورت کے محور کے اردگرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ چناچہ اس سورت کی بات ، اپنے اس موضوع پر تین راونڈز میں چلتی ہے۔ پہلے راؤنڈ میں ایمان کی حقیقت ، اللہ کی یہ سنت کہ وہ کارکنوں کو آزماتا ہے اور مشکلات میں مبتلا کرتا ہے اور پھر یہ کہ ایمان لانے والوں کا انجام کیا ہوگا اور کافروں کا انجام کیا ہوگا۔ اور یہ کہ ذمہ داری انفرادی ہے۔ لہٰذا قیامت کے دن کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا۔ ولیسئلن یوم القیمۃ عما کانوا یفترون (29: 13) ” قیامت کے دن ضرور ان سے پوچھا جائے گا کہ وہ کیا افترا پردازیاں کرتے رہے تھے۔ دوسرے راؤنڈ میں وہ قصص ہیں جن کی طرف ہم نے ابھی اشارہ کیا۔ ان قصص میں بھی وہ مشکلات اور رکاوٹیں بیان کی گئی ہیں جو ہمیشہ دعوت اور داعی کی راہ میں آتی ہیں۔ لیکن آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی قوتوں کے سامنے ان مشکلات اور رکاوٹوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ بتایا جاتا ہے کہ رسولوں کی دعوت حق پر مبنی ہوتی ہے اور اس کائنات کی تخلیق بھی اس حق کے اصول پر ہے۔ جس حق پر کائنات استوار ہے اور جس پر دین و شریعت استوار ہے ، دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ تیسرے راؤنڈ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ مجادلہ نہ کرو مگر نہایت اچھے انداز میں۔ ہاں ان میں سے ایسے لوگوں کے خلاف سخت بات کی جاسکتی ہے جو ان میں سے ظالم ہوں۔ اہل کتاب سے یہ بات کی جاسکتی ہے کہ تمام ادیان ایک ہیں ، اور کافر جس دین اسلام کا انکار کر رہے ہیں ، یہ بھی تمام ادیان سماوی کا ہم مشرب دین ہے۔ سب کا سرچشمہ ایک ہے۔ اس راؤنڈ میں مشرکین کے ساتھ مباحثہ ہے۔ اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں کہ وہ مطمئن ہوجائیں ، ان کے لیے خوشخبریاں ہیں اور ثابت قدمی سے اپنی راہ پر چلیں ۔ کیونکہ وان اللہ لمع المحسنین (29: 69) ” بیشک اللہ محسنین کے ساتھ ہے “۔ آغاز سے اختتام تک دوران کلام جا بجا تبصرے آتے ہیں ، جن میں ایمان کی حقیت کو دلوں میں بٹھایا جاتا ہے۔ ان تبصروں کے ذریعے دلوں کو خوب جھنجھوڑا جاتا ہے۔ اور داعیان حق کے دلوں کو راہ ایمان کی مشکلات کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے کہ یا تو ان مشکلات کو برداشت کردیا اس راہ کو چھوڑدو۔ اگر تم ایمان کے تقاضے پورے نہ کروگے تو یہ نفاق ہوگا۔ غرض یہ ایسے اور ایسی ضربات ہیں جن پر ان نصوص کے ضمن ہی میں بحث کی جاسکتی ہے ، جن میں یہ ضربات آتی ہیں۔ لہٰذا مفصل بات ہم نصوص کی تشریح تک موخر کرتے ہیں اور یہاں اسی اشارے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ درس نمبر 180 تشریح آیات 1 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 13 ا۔ ل۔ م۔ ان حروف میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کتاب انہی حروف تہجی سے بنی ہے جو تمہیں معلوم ہیں اور تمہاری دسترس میں ہیں لیکن ان سے تم ایسی کتاب نہیں بنا سکتے جیسے قرآن ہے۔ اس لیے کہ یہ کتاب اللہ کا کلام ہے ، انسان کا کلام نہیں ہے۔ دوسرے مفسرین نے ان کے اور معانی بھی بیان کیے ہیں لیکن میں اس معنی کو ترجیح دیتا ہوں۔ اتل ما اوحی الیک من الکتب (29: 45) ” تمہاری طرف جو کتاب نازل کی جا رہی ہے اسے پڑھئے “۔ وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اسی طرح ہم نے تمہاری طرف بھی کتاب نازل کی ہے “۔ وما کنت۔۔۔۔۔ تخطہ بیمینک (29: 48) ” اس سے پہلے آپ کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکھتے تھے۔ اولم یکفھم ۔۔۔۔۔۔ علیھم (29: 51) ” کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے تمہارے اوپر کتاب نازل کی ہے جو ان پر پڑھی جا رہی ہے “۔ یہ تذکرہ اسی قاعدے کے مطابق ہے اور اسی لیے ہم نے حروف مقطعات کی تفسیر میں یہ رائے اختیار کی ہے۔ ان کے بعد ایمان کی بات شروع ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی بات آتی ہے جو اس ایمان کی حقیقت سمجھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں ، تاکہ معلوم ہو کہ مدعیان ایمان صادق ہیں یا کاذب ، اس لئے کہ سچے اور جھوٹے کی آزمائش ، آزمائش ہی سے ہوتی ہے۔ الم ۔۔۔۔۔ ولیعلمن الکذبین (1 – 3) ؟ اس سورت کے پہلے پر زور قطعہ کا یہ دھماکہ خیز اعلان ہے ، سرزنش آمیز سوالیہ کے ذریعے لوگوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ تم ایمان کو کیا سمجھتے ہو ؟ کیا ایمان صرف چند الفاظ کا نام ہے جو زبانی ادا کر دئیے جائیں ؟ احسب الناس ۔۔۔۔۔۔ لا یفترون (29: 2) ” کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دئیے جائیں گے کہ وہ کہہ دیں کہ ” ہم ایمان لائے “ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا “۔ ایمان چند کلمات کا نام نہیں ہے جو زبان سے کہہ دئیے جائیں بلکہ وہ ایک حقیقت ہے جس کے اپنے تقاضے ہیں۔ وہ ایک امانت ہے جس کی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ یہ دراصل ایک جہاد ہے جس میں بڑے صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ بات کافی ہے کہ کوئی زبان سے کہہ دے ” ہم ایمان لائے “۔ اگر وہ ایمان کا دعویٰ کریں گے تو خود ان کی آزمائش شروع ہوجائے گی اور ان کی آزمائشوں میں ان کو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان آزمائشوں سے وہ صاف ہو کر نکلیں گے اور ان کے دلوں کو خالص ہونا ہوگا۔ فتنہ کے معنی ہیں سونے کو گرم کرکے اس سے کھوٹ جدا کرنا۔ اس لفظ کے یہ لغوی معنی بھی یہاں مراد ہیں کہ آزمائشوں کے نتیجے میں ہی خالص لوگ سامنے آتے ہیں۔ آزمائشوں سے نکل کر کارکنوں کے دل صاف و شفاف ہوجاتے ہیں لہٰذا ایمان کے اعلان کے بعد آزمائش کا آنا ایک اصولی بات ہے۔ ایک جاری سنت سے اور اللہ کا معیار ہے۔ جس پر اہل ایمان پرکھے جاتے ہیں۔ ولقد فتنا۔۔۔۔۔ الکذبین (29: 3) ” حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائش کو چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں “۔ اللہ کو تو ہر دل کی حقیقت معلوم ہے۔ ابتلا سے پہلے ہی معلوم ہے ، لیکن مقصد یہ ہے کہ ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور لوگوں سے پوشیدہ ہے وہ کھل کر سامنے آجائے تاکہ لوگوں کے ساتھ حساب و کتاب ان کے اعمال کے مطابق کیا جاسکے۔ اور صرف اسی بات پر ان کا محاسبہ نہ ہو کہ اللہ کو علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے۔ اور یہ ایک پہلو سے اللہ کا کرم ہے اور اللہ کا عدل ہے اور لوگوں کی تربیت ہے کہ کسی شخص کو صرف ان اعمال پر پکڑا جاسکتا ہے جو کھلے ہوں ، اور جو ایک عملی حقیقت ہوں۔ کسی کو اس کی نیت پر نہیں پکڑا جاسکتا۔ کیونکہ دنیا کا کوئی حاکم اللہ سے زیادہ نبات کا جاننے والا نہیں ہے اب ہم اس مضمون کی طرف آتے ہیں کہ اللہ اہل ایمان کو ، اپنی سنت کے مطابق ہمیشہ آزماتا ہے اور انہیں بعض مشکلات سے دوچار کرتا ہے تاہ یہ معلوم ہو کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اور نظریہ اس کائنات میں اللہ کی امانت ہے۔ اس امانت کے حامل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس کی اہلیت رکھتے ہوں اور جن کے اندر اس کے اٹھانے کی قدرت ہو ، اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ مخلصانہ تعلق رکھتے ہوں ، جو اپنا آرام اور امن اور سکون و سلامتی ، سازو سامان اور عیش و عشرت اس پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ ایمان اور اسلامی نظریہ حیات اس زمین پر منصب خلافت الہیہ کا دوسرا نام ہے۔ بایں معنی کہ اس زمین پر مومن عوام الناس کا قائد ہو اور اللہ کے احکام کو اس دنیا کی زندگی میں حقیقت کا روپ دے۔ یہ ہے نہایت اہم اور قیمتی ذمہ داری اور یہ ایک ایسا کام ہے جو بہت ہی مشکل ہے اور اس کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے جو مشکلات کو انگیز کرسکتے ہوں۔ اہل ایمان کی آزمائشوں میں سے ایک آزمائش یہ ہوتی کہ وہ ان مشکلات اور اذیتوں پر صبر کریں جو ان کو اہل باطل کی طرف سے پہنچیں۔ خصوصاً ایسے حالات میں کہ ان کے لیے کوئی مددگار اور سہارانہ ہو۔ مومن نہ اپنا دفاع کرسکتا ہو اور نہ اسے کسی طرح سے کوئی مدد ملتی ہو۔ نہ اس کے پاس کوئی ایسی قوت ہو جس کے ساتھ وہ زیادتی کرنے والوں کا مقابلہ کرسکے۔ یہ آزمائش کی سخت ترین صورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں جب آزمائش کا ذکر ہوتا ہے تو ایسی ہی صورت حالات مراد ہوتی ہے۔ لیکن فتنے اور آزمائش کی اس سے بھی زیادہ سخت اور شدید صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلاً بعض اوقات یہ خطرہ ہوتا ہے کہ ایک مومن کی وجہ سے اس کے دوستوں ، احباب اور رشتہ داروں کو بھی اذیت دی جائے گی۔ اور یہ مومن ان کے بارے میں بےبس ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ یہ احباب دہائیاں دیتے ہیں کہ مومن ان کی خاطر نرمی کرلے یا باطل کے ساتھ مصالحت کرے تاکہ اقرباء اور رشتہ داروں پر تشدد نہ ہو اور دوسرے لوگ تباہ و برباد نہ ہوں۔ اس سورت میں اس قسم کی آزمائشوں کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے کہ جہاں مومن کے ساتھ بچے بھی مارے جاتے ہیں۔ آزمائش کی ایک شکل یہ بھی ہوتی ہے کہ بعض اوقات باطل پرستوں پر دولت کی بارش ہوتی ہے ۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ اہل باطل خوشحال اور کامیاب ہیں۔ دنیا ان کے نعرے بلند کرتی ہے۔ عوام الناس تالیاں بجا کر ان کا استقبال کرتے ہیں۔ اس کے راستے سے رکاوٹیں دور ہوتی چلی جاتی ہیں اور لوگ ان پر قربان ہوتے ہیں اور ان کی زندگی نہایت ہی خوشگواری سے گزرتی ہے اور یہ مومن بیچارہ نظروں سے گرا ہوا ، غیر اہم جس کا کوئی حامی نہ ہو ، اور وہ جس عظیم سچائی کا حامل ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ہاں چند اس جیسے لوگ اور اس کے حامی ہوتے ہیں لیکن وہ خود معاشرے کے بےاثر لوگ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک مومن اپنے آپ کو بالکل تنہا محسوس کرتا ہے ، وہ دیکھتا ہے کہ وہ خود اپنی سوسائٹی میں غریب الدیار ہے۔ اس کا پورا ماحول گمراہی میں مبتلا ہے۔ اور اس ماحول میں وہ انوکھا لگ رہا ہے۔ اور آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ ایک مومن عجیب اذیت کے ساتھ آزمایا جاتا ہے ۔ ایک مومن دیکھتا ہے کہ اس کرہ ارض پر بعض اقوام گمراہی اور رذالت میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہیں لیکن یہ اقوام نہایت ترقی یافتہ ہیں اور نہایت خوشحال اور مہذب ہیں اور ایسی اقوام میں ایک فرد ، جو بھی ہو ، وہ ایک انسان کے لائق عزت اور دیکھ بھال پاتا ہے۔ یہ اقوام مالدار اور خوشحال ہیں حالانکہ یہ اللہ کی نافرمان اقوام ہیں۔ اور اس سے بھی ایک عظیم آزمائش ایک مومن کے لیے اور ہے۔ یہ بہت ہی شدید ہے۔ نفس ، نفسانیت اور شہوات کا فتنہ ، دنیا کی کشش ، جسمانی لذت ، دولت اور اقتدار کی پیاس ، خوشحالی اور مرفہ الخالی کی دوڑ ، اور صراط مستقیم اور راہ ایمان پر چلنے کی دشواری۔ پھر اخلاق و کردار اور نفس کے مخالف میلانات کی دشواری ، جدید دور کی زندگی کے حالات ، جدید لوگوں کی سوچ ، اور اہل زمانہ کے تصورات کے حملے اور آزمائش۔ اور جب ایک مومن کی جدوجہد طویل تر ہوجائے ، اور اللہ کی طرف سے نصرت آنے میں تاخیر اور آزمائش شدید اور ناقابل برداشت ہوجائے اور ان کا مقابلہ وہی شخص کرسکتا ہو جسے اللہ ہی لغزشوں سے بچا رہا ہو ، تو ایسے مومن ہی دراصل وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس امانت کا حق ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں پر اس عظیم امانت کے سپرد کیے جانے کا اعتماد کیا جاتا ہے۔ یعنی زمین کے بارے میں عالم بالا کی امانت اور انسانی ضمیر میں ایمان باللہ کی امانت۔ خدا کی قسم ، یہ بات نہیں ہے کہ اللہ آزمائشوں کے ذریعہ اہل ایمان کو محض سزا دینا چاہتا ہو ، یا ان کو مصائب میں مبتلا کرکے ان کو اذیت دینا چاہتا ہو ، بلکہ اللہ ان کو اس امانت کے اٹھانے کے لیے حقیقتاً تیار کرنا چاہتا ہے اور یہ تیاری اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک اہل ایمان کو عملا مشتقوں میں مبتلا نہ کیا جائے ، جب تک وہ صبر کرکے ہر قسم کی خواہشات اور شہوات پر برتری حاصل نہیں کرلیتے ، جب تک وہ اذیتوں پر صبر کرنا سیکھ نہیں لیتے ، اور جب تک انہیں اللہ کی نصرت پر حقیقی بھروسہ نہیں ہوجاتا۔ اگرچہ نصرت الہیہ بہت دیر کر دے اور اگرچہ ابتلاؤں کا دور طول کھینچ لے اور بہت شدید ہوجائے۔ نفس انسانی کو جب مصیبتوں کی بھٹی میں گرمایا جاتا ہے تو اس کا کھوٹ دور ہوجاتا ہے۔ اس کی خفیہ قوتیں جوش میں آتی ہیں ، اس کی مدافعانہ قوتیں جمع ہوتی ہیں۔ مصائب کے یہ پہاڑ جب کسی پر ٹوٹتے ہیں تو اس کا باطل عیقل ہوجاتا ہے ، اس کا جسم مضبوط ہوتا ہے اور یہ مومن ان مصائب و شدائد کا خوگر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی جماعت پر یہ مشکلات آئیں تو وہ جماعت بھی اسی طرح صاف ہوجاتی ہے۔ اس کی صفوں سے کمزور لوگ نکل جاتے ہیں۔ مضبوط لوگ ہی رہ جاتے ہیں اور اولوالعزم اور قوی الارادہ اور اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق والے ہی جماعت میں رہتے ہیں۔ وہ لوگ جنہیں کسی ایک نہ ایک اچھے نتیجے والے کی امید ہوتی ہے یا فتح کی یا اجراخروی کی اور یہی لوگ ہوتے ہیں ، جن کو آخر میں جھنڈے تھمائے جاتے ہیں اور اچھی تیاری اور ٹریننگ کے بعد پھر ان پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جب اس امانت کو اٹھاتے ہیں تو یہ پھر انہیں دل و جان سے عزیز ہوتی ہے اس لیے کہ انہوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہوتی ہیں اور اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوتی ہے۔ اس کی خاطر انہوں نے صبر کیا ہوتا ہے اور مشقتیں جھیلی ہوتی ہیں اور جو کارکن اپنا خون اور اپنے اعصاب قربان کرتا ہے ، آرام اور اطمینان تج دیتا ہے۔ لذائذ اور مرغوبات کی قربانی دیتا ہے۔ اور پھر اذیتوں اور محرومیوں پر صبر کرتا ہے۔ تو حقیقت یہ ہے کہ ایسے ہی کارکن کو اس امانت اور نظریہ کا شعور ہوتا ہے کہ اس کی قدرو قیمت کیا ہے۔ اس لیے وہ اسے ارزاں فروخت نہیں کرتا ، کیونکہ اس نے اس کی بھاری قیمت ادا کی ہوئی ہوتی ہے۔ رہی یہ بات کہ آخر کار یہ ایمان ، امانت اور اسلامی نظریہ حیات غالب ہو کر رہے گا تو یہ وہ وعدہ ہے جو اللہ نے کیا ہے اور اس کی ضمانت دی ہے۔ اور کوئی سچا مومن اللہ کے وعدے کے بارے میں شک نہیں کرسکتا ، اگر یہ وعدہ دیر سے حقیقت بنتا ہے تو اس کی بھی کوئی حکمت ہوگی۔ اس میں اہل ایمان کے لیے بھلائی ہوگی۔ جان لو کہ اللہ جس قدر حق پر غیرت کرتا ہے ، جس قدر ان کی حمایت کرتا ہے ، اس سے زیادہ حق کی حمایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ مومن کے لیے آزمائش اور مشقت ہی بہتر ہے تاکہ اس طرح وہ بندگان مختار میں شامل ہوجائے۔ حق کا امین بن جائے ، اور اللہ اس پر گواہ ہوجائے کہ اس کا دین مضبوط ہے اور وہ حمل امانت کا اہل ہے اس لیے اسے آزمائش کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ” ابتلاؤں میں شدید اور مضبوط لوگ انبیاء ہوتے ہیں۔ پھر صالحین ہوتے ہیں ، اور ان کے بعد درجہ بدرجہ ، ہر آدمی کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر اس کا دین مضبوط ہو تو اسے زیادہ آزمایا جاتا ہے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1۔ الم