Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 3

سورة العنكبوت

وَ لَقَدۡ فَتَنَّا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَلَیَعۡلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡا وَ لَیَعۡلَمَنَّ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۳﴾

But We have certainly tried those before them, and Allah will surely make evident those who are truthful, and He will surely make evident the liars.

ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا یقیناً اللہ تعالٰی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کر لے گا جو جھوٹے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And We indeed tested those who were before them so that Allah will know those who are true, and will know those who are liars. meaning, He will make know which are sincere in their claim to be believers from those who are lying. Allah, may He be glorified and exalted, knows what has happened in the past and what is yet to come, and He knows how that which will not happen would have happened if it were to happen. All the Imams of Ahlus-Sunnah wal-Jama`ah are agreed on this. This is the view of Ibn Abbas and others concerning phrases such as the Ayah, إِلاَّ لِنَعْلَمَ (only that We know). (2:143), Meaning, only to see -- because seeing has to do with what is there, but knowledge is broader than seeing, since it includes what is not present as well as what is. The Evildoers cannot escape from Allah Allah said: أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّيَاتِ أَن يَسْبِقُونَا سَاء مَا يَحْكُمُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

31یعنی یہ سنت الٰہیہ ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے۔ اس لئے وہ اس امت کے مومنوں کی بھی آزمائش کرے گا، جس طرح پہلی امتوں کی آزمائش کی گئی۔ ان آیات کی شان نزول کی روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے اس ظلم و ستم کی شکایت کی جس کا نشانہ وہ کفار مکہ کی طرف سے بنے ہوئے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کی تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ' یہ تشدد و ایذاء تو اہل ایمان کی تاریخ کا حصہ ہے تم سے پہلے بعض مومنوں کا یہ حال کیا گیا کہ انھیں ایک گھڑا کھود کر اس میں کھڑا کردیا گیا اور پھر ان کے سروں پر آرا چلا دیا گیا، جس سے ان کے جسم دو حصوں میں تقسیم ہوگئے، اسی طرح لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت پر ہڈیوں تک پھیری گئیں۔ لیکن یہ ایذائیں انھیں دین حق سے پھیرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں ' (صحیح بخاری) حضرت عمار، انکی والدہ حضرت سمیہ اور والد حضرت یاسر، حضرت صہیب، بلال ومقداد وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین پر اسلام کے ابتدائی دور میں جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، وہ صفحات تاریح میں محفوظ ہیں۔ یہ واقعات ہی ان آیات کے نزول کا سبب بنے۔ تاہم عموم الفاظ کے اعتبار سے قیامت تک کے اہل ایمان اس میں داخل ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] حضرت خباب بن ارت کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ کے پاس آیا اس وقت آپ کعبہ کے سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹے تھے۔ اس زمانہ میں ہم مشرک لوگوں سے سخت تکلیفیں اٹھا رہے تھے۔ میں نے آپ سے عرض کیا : && آپ اللہ سے دعا کیوں نہیں کرتے ؟ && یہ سنتے ہی آپ (تکیہ چھوڑ کر سیدھے) بیٹھ گئے۔ آپ کا چہرہ (غصہ سے) سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا : && تم سے پہلے ایسے لوگ گزر چکے ہیں جن کے گوشت اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی جاتی تھیں مگر وہ اپنے سچے دین سے نہیں پھرتے تھے اور آرا ان کے سر کے درمیان پر رکھ کر چلایا جاتا اور دو ٹکڑے کردیئے جاتے مگر وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ اور اللہ اپنے اس کام (غلبہ حق) کو ضرور پورا کرکے رہے گا۔ (بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب مالقی النبی و اصحابہ من المشرکین بمکۃ) [٣] فلیعلمن سے ایک گمراہ فرقہ نے یہ عقیدہ اخذ کیا کہ جوں جوں واقعات ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ اللہ کو ان کا علم ہوتا جاتا ہے۔ اور اس عقیدہ کو وہ لوگ اپنی اصطلاح میں بدا کہتے ہیں۔ حالانکہ بیشمار آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات اور اس میں ظہور پذیر ہونے والے تمام واقعات کا پہلے سے ہی علم ہے۔ اور اس کا یہ علم بھی اس کی ذات کی طرح ازلی ابدی ہے۔ اور اس آیت یا اس جیسی بعض دوسری آیات سے جو اللہ تعالیٰ کے حدوث علم کا وہم پیدا ہوتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل کی تقسیم صرف صرف ہم انسانوں کے لئے ہے اللہ تعالیٰ کے لئے زمانہ کی یہ تقسیم کوئی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ ہر واقعہ خواہ وہ ہمارے خیال کے مطابق زمانہ سے تعلق رکھتا ہو یا حال سے یا استقبال سے اس کے لئے غیب نہیں بلکہ شہادت ہی شہادت ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مستقبل کی خبروں کو بیشمار مقامات پر زمانہ ماضی کے صیغہ میں ذکر فرمایا ہے۔ جیسے ( وَنَادٰٓي اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۭقَالُوْا نَعَمْ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ 44؀ۙ ) 7 ۔ الاعراف :44) یا جیسے ( اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ۝۽) 81 ۔ التکوير :1) لیکن یہ ایسے واقعات کے متعلق ہوتا ہے جو انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہ آسکتے ہوں۔ اور جو انسانوں کے تجربہ اور مشاہدہ میں آسکتے ہوں تو ان کا تعلق یفیناً حال اور استقبال سے ہوگا۔ لہذا ایسے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے مضارع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے اور اس کا مطلب صرف یہ ہی نہیں ہوتا تاکہ ہم جان لیں یا معلوم کرلیں بلکہ یہ بھی ہوتا ہے تاکہ تم لوگ جان لو۔ جیسا کہ اس مقام پر ہے یا اور بھی کئی مقامات پر ایسا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اور اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو فی الواقع ہر شخص کے متعلق پہلے سے علم ہے کہ فلاں شخص کیسے خصائل کا مالک ہے۔ لیکن محض اللہ اپنے علم کی بنا پر کسی کو جزا یا سزا نہیں دیتا جب تک فی الواقعہ وہ بات عملی صورت نہ اختیار کرلے۔ مثلاً یہ بات اللہ کے علم میں ہے کہ فلاں شخص فلاں وقت چوری کرے گا۔ لیکن اس علم پر سزا مترتب نہ ہوگی۔ جب تک فی الواقعہ وہ شخص چوری نہ کرلے۔ گویا اللہ تعالیٰ یہ انداز بیان اس وقت اختیار کرتے ہیں جب اس کا تعلق دوسرے لوگوں کے علم سے ہو۔ ایسی آیات میں علم کا ترجمہ مشاہدہ یا دیکھنے سے کیا جاسکتا ہے اور حضرت ابن عباس (رض) اس کا معنی لِیُرِیَنَّ ہی کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) اور اگر علم کا ترجمہ جاننے سے ہی کیا جائے تو اس && جاننے && میں اللہ کے علاوہ دوسرے لوگ بھی شریک ہوں گے۔ اور بعض علماء نے ایسے مقامات پر لفظ علم کا ترجمہ جاننے کے بجائے جتلانے سے کیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ پیش آیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے اور پہلے لوگوں کی بھی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں، خباب بن ارت (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کا تکیہ بنائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے کہا : ( أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا ؟ أَلاَ تَدْعُوْ لَنَا ؟ فَقَالَ قَدْ کَانَ مَنْ قَبْلَکُمْ یُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِي الْأَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیْہَا فَیُجَاء بالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَأْسِہِ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ وَ یُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَا دُوْنَ لَحْمِہِ وَعَظْمِہِ فَمَا یَصُدُّہُ ذٰلِکَ عَنْ دِیْنِہِ ، وَاللّٰہِ ! لَیَتِمَّنَّ ہٰذَا الْأَمْرُ حَتّٰی یَسِیْرَ الرَّاکِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلٰی حَضْرَ مَوْتَ لاَ یَخَافُ إِلاَّ اللّٰہَ وَالذِّءْبَ عَلٰی غَنَمِہِ وَ لٰکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُوْنَ ) [ بخاري، الإکراہ، باب من اختار الضرب و القتل و الھوان علی الکفر : ٦٩٤٣ ] ” کیا آپ ہمارے لیے مدد نہیں مانگتے ؟ کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں کرتے ؟ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم سے پہلے لوگوں میں آدمی کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا اور اسے زمین میں گاڑ دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھا جاتا اور اسے دو حصوں میں چیر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیوں سے اس کا گوشت ہڈیوں سے نوچ دیا جاتا اور یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں روکتی تھی۔ اللہ کی قسم ! یہ کام ضرور مکمل ہو کر رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک چلے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا، یا اسے اپنی بکریوں کے متعلق بھیڑیے کا (خوف ہوگا) ، لیکن تم بہت جلدی کا مطالبہ کرتے ہو۔ “ فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ۔۔ : ” سو اللہ تعالیٰ ہر صورت ان لوگوں کو جان لے گا جنھوں نے سچ کہا “ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ ماضی، حال اور مستقبل کی ہر بات کو جانتا ہے، پھر اس کا کیا مطلب کہ وہ سچوں اور جھوٹوں کو جان لے گا۔ مفسر ابن کثیر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہاں علم سے مراد وہ علم ہے جو دیکھنے سے حاصل ہوتا ہے، عام علم تو ان چیزوں کا بھی ہوتا ہے جو وجود میں نہ آئی ہوں، مگر دیکھنے سے حاصل ہونے والا علم (یا یہ علم کہ کوئی چیز وجود میں آچکی ہے) کسی چیز کے وجود میں آنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ مزید دیکھیے سورة آل عمران (١٤٢) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا (So Allah will surely know the ones who are truthful - 29:3). It means that through tests and hardships the good and the bad, and the sincere and non-sincere will be differentiated, because if the hypocrites are mixed up with the sincere believers and are not identified, it may create a number of problems. The object of this verse is to elucidate the difference between the good and the bad, and between the sincere and the non-sincere. The expression used for this purpose is that Allah Ta’ ala will find out who are the true ones and who are the liars. Since He knows about every one even before his birth, whether he is a true one or a liar, the sense carried by this expression is that tests and trials are conducted to bring the distinction of good and bad on surface, so that others should also know. Hakim-ul-Ummah Thanawi (رح) has copied the argument of his Shaikh, Maulana Muhammad Ya` qub (رح) that sometimes people are addressed by descending down to their level of intellect. The common man makes distinction between the sincere and the hypocrites by testing him out. Therefore, according to their approach of understanding Allah Ta’ ala has said that, through various means, We would find out who is sincere and who is not, even though He knows everything from the very beginning.

فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا، یعنی ان امتحانات اور شدائد کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص اور نیک و بد میں ضرور امتیاز کریں گے۔ کیونکہ مخلصین کے ساتھ منافقین کا خلط ملط بعض اوقات بڑے نقصانات پہنچا دیتا ہے مقصد اس آیت کا نیک و بد اور مخلص و غیر مخلص کا امتیاز واضح کردینا ہے، جس کو اس طرح تعبیر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جان لے گا صادقین کو اور کا ذبین کو، اللہ تعالیٰ کو تو ہر انسان کا صادق یا کاذب ہونا اس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی معلوم ہے، امتحانات اور آزمائشوں کے جان لینے کے معنی یہ ہیں کہ اس امتیاز کو دوسروں پر بھی ظاہر فرما دیں گے۔ اور حضرت سیدی حکیم الامت تھانوی نے اپنے شیخ مولانا محمد یعقوب صاحب سے اس کی توجیہ یہ بھی نقل فرمائی ہے کہ بعض اوقات عوام کے درجہ علم پر تنزل کر کے بھی کلام کیا جاتا ہے، عام انسان مخلص اور منافقت میں فرق آزمائش ہی کے ذریعہ معلوم کرتے ہیں ان کے مذاق کے مطابق حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ان مختلف قسم کے امتحانات کے ذریعہ ہم یہ جان کر رہیں گے کہ کون مخل ہے کون نہیں، حالانکہ اس کے علم میں یہ سب کچھ ازل سے ہے۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكٰذِبِيْنَ۝ ٣ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا صدق وکذب الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ الکذب یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣) اور ہم تو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے بعد ان چیزوں کے ذریعے سے ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں جو اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے گزرے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ممتاز کردے جو اپنے دعوے ایمانی میں سچے ہیں کہ وہ خواہشات اور بدعات سے بچ رہے ہیں اور جھوٹوں کو بھی دکھا جو ان چیزوں میں مبتلا ہو کر اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣ (وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ) ” ہم ان سے پہلے بھی ایمان کے ہر دعویدار کو آزماتے رہے ہیں اور آزمائش کے بغیر ہم کسی کے ایمان کو تسلیم نہیں کرتے۔ (فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ ) ” اگرچہ ان الفاظ کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ ” اللہ جان کر رہے گا “ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم قدیم سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے اور وہ انسانوں کی نیتوں اور دلوں کے حالات سے بخوبی واقف ہے ‘ اس لیے یہاں اللہ کے ” جان لینے “ کا مفہوم دراصل یہی ہے کہ اللہ ظاہر کر دے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے ! وہ ممیز کر دے گا کہ کون منافق ہے اور کون سچا مؤمن ! کون ضعیف الایمان ہے اور کون قوئ الایمان ! کون سچا جاں نثار ہے اور کون محض دودھ پینے والا مجنوں ہے ! یہاں یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ گزشتہ دو آیات میں اگر خفگی کا اظہار ہے تو اگلی دو آیات میں اہل ایمان کی دلجوئی کا سامان بھی ہے۔ گویا ترہیب اور ترغیب ساتھ ساتھ ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک شفیق استاد اپنے شاگرد کو ایک وقت میں ڈانٹ پلاتا ہے لیکن پھر اس کے بعد تھپکی دے کر اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ اس نکتے کو اس حدیث کے حوالے سے بھی سمجھنا چاہیے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : (اَلْخَلْقُ عَیَال اللّٰہِ ) (١) کہ تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ یعنی اللہ اپنی مخلوق اور خصوصاً اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ چناچہ اس محبت اور شفقت کی جھلک اگلی آیت میں صاف نظر آرہی ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 That is, "This is not a new thing which you alone may be experiencing. The same has been happening before also. Whoever made a claim to the Faith was made to pass through trials and tribulations. And when the others were not given anything without the trial, you are in no way any special people that you should be favoured and rewarded merely on verbal profession of the Faith." 3 Literally, "It is necessary that Allah should find out." A question may be asked: "When Allah already knows the truth of the truthful and the untruth of the liar, why should He put the people to the test for the sake of these?" The answer is: Until a person has manifested his potential and capability to do a thing in practical terms, justice requires that he neither deserves any rewards nor any punishment. One man, for example, is capable of being trustworthy and another man of being un-trustworthy. Unless both are tried and one manifests trustworthiness and the other the lack of it practically, it will not be justice on the part of Allah that He should reward one for trustworthiness and punish the other for the lack of it only on the basis of His knowledge of the unseen. Therefore the knowledge Allah already possesses about the capabilities of the people and about their conduct in the future is not enough to satisfy the requirements of justice until the people have manifested their potentialities in practical ways. Justice with AIlah is not based on the knowledge that a person possesses a tendancy to steal and will commit a theft, but on the knowledge that he has actually committed a theft. Likewise, Allah does not bestow favours and rewards on the basis of the knowledge that a person has the potential and capability to become a great believer and fighter in His way, but on the basis of the knowledge that the person concerned has practically proved by deed and action that he is a sincere believer and a brave fighter in His way. That is why we have translated the words of the verse as: "Allah has to see..."

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 2 یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ ہی پیش آرہا ہو ۔ تاریخ میں ہمیشہ یہی ہوا ہے کہ جس نے بھی ایمان کا دعوی کیا ہے اسے آزمائشوں کی بھٹی میں ڈال کر ضرور تپایا گیا ہے ، اور جب دوسروں کو امتحان کے بغیر کچھ نہیں دیا گیا تو تمہاری خصوصیت ہے کہ تمہیں صرف زبانی دعوے پر نواز دیا جائے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 3 اصل الفاظ ہیں فَلَيَعْلَمَنَّ اللّٰهُ جن کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ ضرور ہے اللہ یہ معلوم کرے اس پر ایک شخص یہ سوال کرسکتا ہے کہ اللہ کو تو سچے کی سچائی اور جھوٹے کا جھوٹ خود ہی معلوم ہے ، آزمائش کر کے اسے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے ، اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک ایک شخص کے اندر کسی چیز کی صرف صلاحیت اور استعداد ہی ہوتی ہے ، عملا اس کا ظہور نہیں ہوجاتا ، اس وقت تک ازروئے عدل و انصاف نہ تو وہ کسی جزا کا مستحق ہوسکتا ہے نہ سزا کا ۔ مثلا ایک آدمی میں امین ہونے کی صلاحیت ہے اور ایک دوسرے میں خائن ہونے کی صلاحیت ، ان دونوں پر جب تک آزمائش نہ آئے اور ایک سے امانت داری کا اور دوسرے سے خیانت کا عملا ظہور نہ ہوجائے ، یہ بات اللہ کے انصاف سے بعید ہے کہ وہ محض اپنے علم غیب کی بنا پر ایک کو امانت داری کا انعام دے دے اور دوسرے کو خیانت کی سزا دے ڈالے ۔ اس لیے وہ علم ساق جو اللہ کو لوگوں کے اچھے اور برے اعمال سے پہلے ان کی صلاحیتوں کے بارے میں اور ان کے آئندہ طرز عمل کے بارے میں حاصل ہے ، انصاف کی اغراض کے لیے کافی نہیں ہے ، اللہ کے ہاں انصاف اس علم کی بنیاد پر نہیں ہوتا کہ فلاں شخص چوری کا رجحان رکھتا ہے اور چوری کرے گا یا کرنے والا ہے ، بلکہ اس علم کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ اس شخس نے چوری کر ڈالی ہے ۔ اسی طرح بخششیں اور انعامات بھی اس کے ہاں اس علم کی بنا پر نہیں دیے جاتے کہ فلاں شخص اعلی درجے کا مومن و مجاہد بن سکتا ہے یا بنے گا ، بلکہ اس علم کی بنا پر دیے جاتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنے عمل سے اپنا صادق الایمان ہونا ثابت کردیا ہے اور اللہ کی راہ میں جان لڑا کر دکھا دی ہے ، اسی لیے ہم نے آیت کے ان الفاظ کا ترجمہ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: اگرچہ اللہ تعالیٰ کو شروع ہی سے معلوم ہے کہ کون فرماں بردار ہوگا، اور کون نافرمان، لیکن اللہ تعالیٰ اس ازلی علم کی بنیاد پر جزا وسزا کا فیصلہ کرنے کے بجائے لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لئے انہیں موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے ہدایت یا گمراہی کا راستہ خود چنیں، اور یہاں یہی دیکھنا مراد ہے کہ کس نے کونسا راستہ عملاً چنا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:3) ولقد فتنا الذین من قبلہم۔ یہ جملہ حال ہے الناس سے یا ضمیر یفتعنون سے۔ واؤ حالیہ ہے لام تاکید کے لئے اور قد یہاں تحقیق کے معنوں میں آیا ہے۔ فتنا ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے فتن یفتن (ضرب) فتنۃ مصدر۔ بیشک ہم نے آزمائش میں ڈالا۔ یا آزمایا تھا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے گزرے۔ فلیعلمن میں ف ترتیب کا لام تاکید کا یعلمن مضارع تاکید بانون ثقیلہ ۔ واحد مذکر غائب سو (اللہ تعالیٰ ) ان کو ضرور جان کر رہے گا۔ اس کے بعد ولیعلمن کو مکرر تاکید مزید کے لئے لایا گیا ہے۔ فائدہ : اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ازل سے ابد تک کا ہے اسے آزما کر معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہے آزمائش محض اتمام حجت اور استحقاق جزا و سزا پر قائل کرنے کے لئے ہے۔ ولیعلمن۔ اس کو دوبارہ مزید تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

7 ۔ یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ پیش آیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مستقل سنت رہی ہے اور پہلے لوگوں کی بھی آزمائشیں ہوتی رہی ہیں۔ 8 ۔ لفظی ترجمہ یوں ہے کہ ” اللہ ضرور معلوم کرے گا کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ؟ لیکن مطلب یہ ہے کہ الگ الگ کر کے دکھلا دے گا کیونکہ اس کو تو سب حال پہلے سے معلوم ہے اور اس کا علم ازلی اور قدیم ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ چناچہ جو صدق و اعتقاد سے مسلمان ہوتے ہیں وہ ان امتحانات میں ثابت رہتے ہیں، بلکہ اور زیادہ پختہ ہوجاتے ہیں، اور جو دفع الوقتی کے لئے مسلمان ہوجاتے ہیں وہ ایسے وقت میں اسلام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں، یعنی یہ ایک حکمت ہے امتحان کی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) (اور ہم نے آزمایا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھے) (فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا) (سو ضرور ضرور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جان لے گا جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں) (وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ ) (اور ضرور ضرور ان لوگوں کو بھی جان لے گا جو جھوٹے ہیں) یعنی جو زبان سے ایمان کے مدعی ہیں لیکن ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ پہلے لوگوں کو آزمائش میں ڈالا گیا ان کو بھی تکلیفیں پہنچیں اور دشمنان اسلام سے واسطہ پڑا، مقتول ہوئے، زخم کھائے اور دوسری تکلیفوں میں مبتلا ہوئے، اب امت محمدیہ (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ) مخاطب ہے ان کا بھی امتحان لیا جائے گا۔ سورۂ آل عمران میں فرمایا (وَ کَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ مَعَہٗ رِبِّیُّوْنَ کَثِیْرٌ فَمَا وَ ھَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَکَانُوْا وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ ) (اور بہت سے نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی، پھر جو مصیبتیں ان کو اللہ کی راہ میں پہنچیں ان کی وجہ سے نہ ہمت ہارے نہ کمزور پڑے اور نہ عاجز ہوئے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ) اہل ایمان کے ساتھ آزمائش کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، دعا امن و عافیت اور سلامتی کی ہی کرنی چاہیے، اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی آزمائش آجائے تو صبر و تحمل اور برداشت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کو سامنے رکھتے ہوئے آزمائش کا وقت گزار دیں، تکلیفوں پر بھی اجر اور صبر پر بھی، صبر کا پھل میٹھا ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ جو لوگ صدق دل سے مسلمان ہوتے ہیں وہ تکلیفوں اور آزمائشوں میں بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور جو لوگ دفع الوقتی کے طور پر دنیا سازی کے لیے اوپر اوپر سے اسلام کے مدعی ہوجاتے ہیں وہ آڑے وقت میں اسلام کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ مصائب اور مشکلات کے ذریعہ مخلص اور غیر مخلص کا امتیاز ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ کو مخلوق پیدا فرمانے سے پہلے ہی سب کچھ معلوم تھا کہ کون کیا کرے گا اور کیسا ہوگا، اسے پہلے ہی سے اس کا علم ہے، پھر جب اسی علم ازلی کے مطابق لوگوں کے اعمال اور احوال کا ظہور ہوجاتا ہے تو یہ علم بھی ہوجاتا ہے کہ علم ازلی کے مطابق جو واقعہ ہونے والا تھا وہ ہوچکا۔ مفسرین کرام اسے علم ظہوری سے تعبیر کرتے ہیں، یہ مسئلہ ذرا باریک سا ہے کسی اچھے عالم سے سمجھ لیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

3۔ اور بلا شبہ ہم ان لوگوں کو بھی آزما چکے ہیں اور مختلف حوادثات و مصائب میں مبتلا کرچکے ہیں جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں یقینا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ظاہر کر دے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی ظاہرکر رہے گا جو جھوٹے اور کاذب ہیں ۔ یعنی تم سے پہلے جو مسلمان تھے اور کافرانہ اقتدار کے دور میں اپنے مانے کے نبی پر ایمان لائے تھے ان کے ساتھ جو مظالم ہوئے کوئی کھولتے ہوئے تیل میں ڈالا گیا اور کسی کو لوہے کی کنگھیوں سے کھرچ کھرچ کر اس کی ہڈیوں کے ڈھانچے کو نمایاں کیا گیا ۔ کما جاء فی الحدیث یہ سب سلوک ہوچکے ہیں تو ہم ان مسلمانوں سے پہلے کے مسلمانوں کو بھی اس قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کرچکے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو ظاہر کر دے اور یہ بات معلوم ہوجائے کہ صحیح اعتقاد سے مسلمان ہونیوالے کون ہیں اور جھوٹے لانے والے کون ہیں ۔ آگے ان ظالموں کو بھی تنبیہ فرمائی جو محض اس بنا پر لوگوں کو ستاتے اور ان پر ظلم کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں ۔