Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 38

سورة العنكبوت

وَ عَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَ قَدۡ تَّبَیَّنَ لَکُمۡ مِّنۡ مَّسٰکِنِہِمۡ ۟ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ کَانُوۡا مُسۡتَبۡصِرِیۡنَ ﴿ۙ۳۸﴾

And [We destroyed] 'Aad and Thamud, and it has become clear to you from their [ruined] dwellings. And Satan had made pleasing to them their deeds and averted them from the path, and they were endowed with perception.

اور ہم نے عادیوں اور ثمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنے ظاہر ہیں اور شیطان نے انہیں انکی بد اعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راہ سے روک دیا تھا باوجودیکہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Destruction of Nations Who rejected Their Messengers Allah tells: وَعَادًا وَثَمُودَ وَقَد تَّبَيَّنَ لَكُم مِّن مَّسَاكِنِهِمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَلَقَدْ جَاءهُم مُّوسَى بِالْبَيِّنَاتِ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الاَْرْضِ وَمَا كَانُوا سَابِقِينَ

احقاف کے لوگ عادی حضرت ہود علیہ السلام کی قوم تھے ۔ احقاف میں رہتے تھے جو یمن کے شہروں میں حضرموت کے قریب ہے ۔ ثمودی حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے لوگ تھے ۔ یہ حجر میں بستے تھے جو وادی القریٰ کے قریب ہے ۔ عرب کے راستے میں ان کی بستی آتی تھی جسے یہ بخوبی جانتے تھے ۔ قارون ایک دولت مند شخص تھا جس کے بھرپور خزانوں کی کنجیاں ایک جماعت کی جماعت اٹھاتی تھی ۔ فرعون مصر کا بادشاہ تھا اور ہامان اسکا وزیر اعظم تھا ۔ اسی کے زمانے میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام نبی ہو کر اس کی طرف بھیجے گئے ۔ یہ دونوں قبطی کافر تھے جب ان کی سرکشی حد سے گذر گئی اللہ کی توحید کے منکر ہوگئے رسولوں کو ایذائیں دیں اور ان کی نہ مانی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا ۔ عادیوں پر ہوائیں بھیجیں ۔ انہیں اپنی قوت وطاقت کا بڑا گھمنڈ تھا کسی کو اپنے مقابلے کا نہ جانتے تھے ۔ ان پر ہوا بھیجی جو بڑی تیز وتند تھی جو ان پر زمین کے پتھر اڑا اڑا کر برسانے لگی ۔ بالآخر زور پکڑتے پکڑتے یہاں تک بڑھ گئی کہ انہیں اچک لے جاتی اور آسمان کے قریب لے جاکر پھر گرا دیتی ۔ سر کے بل گرتے اور سر الگ ہوجاتا دھڑ الگ ہوجاتا اور ایسے ہوجاتے جیسے کجھور کے درخت جس کے تنے الگ ہوں اور شاخیں جدا ہوں ۔ ثمودیوں پر حجت الٰہی پوری ہوئی دلائل دے دئیے گئے ان کی طلب کے موافق پتھر میں سے ان کے دیکھتے ہوئے اونٹنی نکلی لیکن تاہم انہیں ایمان نصیب نہ ہوا بلکہ طغیانی میں بڑھتے رہے ۔ اللہ کے نبی کو دھمکانے اور ڈرانے لگے اور ایمانداروں سے بھی کہنے لگے کہ ہمارے شہر چھوڑ دو ورنہ ہم تمہیں سنگسار کردیں گے ۔ انہیں ایک چیخ سے پارہ پارہ کردیا ۔ دل ہل گئے کلیجے اڑگئے اور سب کی روحیں نکل گئیں ۔ قارون نے سرکشی اور تکبر کیا ۔ طغیانی اور بڑائی کی رب الاعلیٰ کی نافرمانی کی زمین میں فساد مچا دیا ۔ اکڑ اکڑ کر چلنے لگا اپنے ڈنٹر بل دیکھنے لگا اترانے لگا اور پھولنے لگا ۔ پس اللہ نے اسے مع اس کے محلات کے زمین دوز کردیا جو آج تک دھنستاچلاجارہا ہے ۔ فرعون ہامان اور ان کے لشکروں کو صبح ہی صبح ایک ساتھ ایک ہی ساعت میں دریا برد کر دیا ۔ ان میں سے ایک بھی نہ بچا جو ان کا نام تو کبھی لیتا ۔ اللہ نے یہ جو کچھ کیا کچھ ان پر ظلم نہ تھا بلکہ ان کے ظلم کا بدلہ تھا ۔ ان کے کرتوت کا پھل تھا ان کی کرنی کی بھرنی تھی ۔ یہ بیان یہاں بطور لف ونشر کے ہے ۔ اولا جھٹلانے والی امتوں کا ذکر ہوا ہے پھر ان میں سے ہر ایک کو عذابوں سے ہلاک کرنیکا ۔ کسی نے کہا کہ سب سے پہلے جن پر پتھروں کا مینہ برسانے کا ذکر ہے ان سے مراد لوطی ہیں اور غرق کی جانے والی قوم قوم نوح ہے لیکن یہ قول ٹھیک نہیں ۔ ابن عباس سے یہ مروی تو ہے لیکن سند میں انقطاع ہے ۔ ان دونوں قوموں کی حالت کا ذکر اسی صورت میں بہ تفصیل بیان ہوچکاہے ۔ پھر بہت سے فاصلے کے بعد یہ بیان ہوا ہے ۔ قتادۃ سے یہ بھی مروی ہے کہ پتھروں کا مینہ جن پر برسایا گیا ان سے مراد لوطی ہیں اور جنہیں چیخ سے ہلاک کیا گیا ان سے مراد قوم شعیب ہے لیکن یہ قول بھی ان آیتوں سے دور دراز ہے واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

381قوم عاد کی بستی احقاف، حضرموت (یمن) کے قریب اور ثمود کی بستی، حجر، جسے آجکل مدائن صالح کہتے ہیں، حجاز کے شمال میں ہے۔ ان علاقوں سے عربوں کے تجارتی قافلے آتے جاتے تھے، اس لئے یہ بستیاں ان کے لئے انجان نہیں، بلکہ ظاہر تھیں۔ 382یعنی تھے وہ عقلمند اور ہوشیار۔ لیکن دین کے معاملے میں انہوں نے اپنی عقل و بصیرت سے کچھ کام نہیں لیا، اس لئے یہ عقل اور سمجھ ان کے کام نہ آئی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٨] قوم عاد (اولی) کا وطن پورا جنوبی عرب تھا یعنی یمن، حضرموت اور احقاف کا علاقہ اور ثمود کا علاقہ شمالی عرب تھا۔ ان دونوں علاقوں کی تاریخ سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ پھر وہ ان کی تباہ شدہ بستیاں دیکھتے بھی رہتے تھے۔ [٥٩] یعنی وہ دنیا کے کاموں میں بڑے ہوشیار اور فنکار تھے۔ اپنے اپنے دور کی ترقی یافتہ اور مہذب قومیں تھیں۔ سجھدار تھے۔ طاقتور تھے اور بالخصوص سنگ تراش کے فن یدطولی رکھتے تھے۔ لیکن اللہ کے معاملہ میں شیطان نے ان کی مت مار دی تھی۔ جیسا کہ آج کل عیسائی اقوام کے محققین جب تحقیق و تنقید کے میدان میں اترتے ہیں تو بال کی کھال اتار کے رکھ دیتے ہیں۔ مگر عقیدہ تثلیث کو عقلی دلائل سے ثابت کرنے کا وقت آتا ہے تو بات گول کر جاتے ہیں اور ان کی عقلیں جواب دے جاتی ہیں۔ پھر بھی اسی پر اصرار کرتے جاتے ہیں یا جیسے آج کل کے ماہرین فلکیات اس جو بڑی سے بڑی طاقتور دوربینوں سے اجرام فلکی کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان میں بعض علمائے ہیئت کی تو ایسے مت ماری جاتی ہے کہ ایک طرف تو کائنات کے اس مربوط و منظم نظم پر حیرت استعجاب کا اظہار کرتے ہیں جگر دوسری طرف یہ سب کچھ اتفاقات کا نتیجہ قرار دینے لگتے ہیں۔ اور لطف یہ کہ اپنے انہی موہوم قیاسات کو علمی تحقیق کے خوبصورت نام سے دوسروں کے سامنے پیس کرتے ہیں۔ عاد اور ثمود کے محققین بھی کچھ ایسے ہی لوگ تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَقَدْ تَّبَيَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ ۔۔ :” من “ تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ” ان کے رہنے کی کچھ جگہیں تمہارے سامنے آچکی ہیں “ ظاہر ہے کہ ان کے شہر اور آبادیاں تو اللہ کے عذاب سے تباہ و برباد ہوچکی تھیں، مگر ان کے آثار اور بچے کھچے کچھ گھر عبرت کے سامان کے طور پر باقی تھے۔ عاد اور ثمود دونوں قومیں جن علاقوں میں آباد تھیں وہ معروف شاہراہوں پر واقع تھے اور عرب کے تمام لوگ ان سے واقف تھے۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ جو اب احقاف، یمن اور حضر موت کے نام سے معروف ہے، قوم عاد کا مسکن تھا اور حجاز کے شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیماء اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے۔ جس زمانے میں قرآن اترا ہے یقیناً اس وقت وہ آثار اور زیادہ نمایاں ہوں گے۔ وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ : ” أَبْصَرَ یُبْصِرُ “ دیکھنا، صاحب بصیرت ہونا۔ ” اِسْتَبْصَرَ یَسْتَبْصِرُ “ میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ پیدا ہوگیا، یعنی وہ بہت بصیرت والے، نہایت سمجھ دار تھے، مگر ان کی ساری بصیرت اور ساری سمجھ داری دنیا تک محدود تھی۔ دنیا کے کاموں میں بڑے ہوشیار اور فنکار تھے، اپنے دور کے نہایت ترقی یافتہ اور طاقت ور لوگ تھے۔ لیکن شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے ایسے خوش نما بنائے کہ اللہ تعالیٰ کے متعلق ان کی مت مار دی اور آخرت سے مکمل طور پر بیگانہ کردیا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اکثر لوگوں کا یہی حال بیان فرمایا ہے : (وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ښ وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ ) [ الروم : ٦، ٧ ] ” اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ وہ دنیا کی زندگی میں سے ظاہر کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے، وہی غافل ہیں۔ “ ان آیات کی تفسیر پر بھی نظر ڈال لیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ وہ بہت سمجھ دار تھے، بڑے صاحب بصیرت تھے، انھیں خوب علم تھا کہ پیغمبر جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ حق ہے، مگر وہ اپنی لذتوں میں ایسے غرق تھے اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال ایسے مزین کردیے تھے کہ وہ جاننے بوجھنے کے باوجود اپنی لذتیں چھوڑ کر راہ حق پر آنے کے لیے تیار نہیں تھے، عناد اور سرکشی کی بنا پر انبیاء کی مخالفت کرتے تھے۔ یہی حال اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کا بیان فرمایا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب معجزات لے کر ان کے پاس آئے تو : (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ ) [ النمل : ١٤ ] ” اور انھوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کردیا، حالانکہ ان کے دل ان کا اچھی طرح یقین کرچکے تھے، پس دیکھ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ “ دونوں تفسیریں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ 3 پہلے پیغمبروں اور ان کی امتوں کے ان واقعات میں کفار قریش کے لیے تنبیہ اور عبرت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے کی صورت میں ان کا انجام بھی پہلے جھٹلانے والوں جیسا ہوگا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے لیے تسلی اور حوصلہ ہے کہ آزمائشوں اور مشکلات کے بعد آخر انھی کو کامیابی حاصل ہوگی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The stories of the earlier people, that are mentioned in these verses briefly, have been related in detail in the previous Surahs. For instance, the story of Shu&aib and those of ` Ad and Thamud have been related in Surahs Al-A` raf and Hud, and the incidents of Qarun, Haman, and the Pharaoh have just passed in Surah Al- Qasas. وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِ‌ينَ (They were people of insight - 29:38). This word is derived from Istibsar, which means sight; and Mustabsir is used for observer. The meaning of this sentence is that those who insisted on infidelity and shirk (associating partner with Allah) and got themselves involved in perdition and Allah&s wrath were no fools or insane. They were very clever having insight, but their intelligence and sagacity was confined to mundane considerations. They did not realize that there would be a day of reckoning for all good and bad actions, when there would be complete justice, because the cruel and the oppressors move about in this world without hindrance, but those oppressed and afflicted are compelled to endure injustice. The day this injustice will finish and justice will be the order of the day is called the Hereafter. They are at a loss to comprehend this bit. The same subject is coming ahead in Surah Ar-Rum, where it is said يَعْلَمُونَ ظَاهِرً‌ا مِّنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَ‌ةِ هُمْ غَافِلُونَ (They know what is superficial of the worldly life, but of the Hereafter they are negligent. - 30:7). . Some commentators have interpreted the meaning of وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِ‌ينَ (They were people of insight) that these people did have faith in their heart and did understand well the necessity of the Day of Judgment, but the mundane considerations had compelled them to reject it.

معارف و مسائل ان آیات میں جن انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کے واقعات اجمالاً بیان کئے گئے ہیں وہ پچھلی سورتوں میں مفصل آ چکے ہیں، مثلاً شعیب (علیہ السلام) کا قصہ سورة اعراف اور ہود میں، اسی طرح عاد وثمود کا قصہ بھی اعراف اور ہود میں گذر چکا ہے اور قارون، فرعون، ہامان کا قصہ سورة قصص میں ابھی گذرا ہے۔ وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ ، استبصار سے مشتق ہے، جو بصیرت کے معنی میں ہے اور مستبصر بمعنی مبصر، مراد یہ ہے کہ یہ لوگ جو کفر و شرک پر اصرار کر کے عذاب میں اور ہلاکت میں مبتلا ہوئے کچھ بیوقوف یا دیوانے نہ تھے، دنیا کے کاموں میں بڑے مبصر اور ہوشیار تھے، مگر ان کی عقل اور ہوشیاری اسی مادی دنیا میں مقید ہو کر رہ گئی یہ نہ پہچانا کہ نیک و بد کی جزا و سزا کا کوئی دن آنا چاہئے جس میں مکمل انصاف ہو۔ کیونکہ دنیا میں تو اکثر مجرم ظالم دندناتے پھرتے ہیں اور مظلوم و مصیبت زدہ مجبور ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی انصاف کے دن کا نام قیامت اور آخرت ہے، اس کے معاملہ میں ان کی عقل ماری گئی۔ یہی مضمون سورة روم میں بھی آگے آنے والا ہے، يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ ، یعنی یہ لوگ دنیاوی زندگی کے کاموں کو تو خوب جانتے ہیں مگر آخرت سے غافل ہیں۔ اور بعض ائمہ تفسیر نے وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ کے معنی یہ بتلائے کہ یہ لوگ ایمان اور آخرت پر بھی دل میں تو یقین رکھتے تھے اور اس کا حق ہونا خوب سمجھتے تھے، مگر دنیوی اغراض نے ان کو انکار پر مجبور کر رکھا تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَقَدْ تَّبَيَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِہِمْ۝ ٠ۣ وَزَيَّنَ لَہُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِيْلِ وَكَانُوْا مُسْتَبْصِرِيْنَ۝ ٣ ٨ۙ ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی ہوجہ سے غیر منصرف ہے اور بعض کے نزدیک عربی ہے اور ثمد سے مشتق سے ( بروزن فعول ) اور ثمد ( بارش) کے تھوڑے سے پانی کو کہتے ہیں جو جاری نہ ہو ۔ اسی سے رجل مثمود کا محاورہ ہے یعنی وہ آدمی جس میں عورتوں سے کثرت جماع کے سبب مادہ منویہ باقی نہ رہے سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، ( س ک ن ) السکون ( ن ) حرکت کے بعد ٹھہر جانے کو سکون کہتے ہیں اور کسی جگہ رہائش اختیار کرلینے پر بھی یہ لفط بولا جاتا ہے اور سکن فلان مکان کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں جگہ رہائش اختیار کرلی ۔ اسی اعتبار سے جائے رہائش کو مسکن کہا جاتا ہے اس کی جمع مساکن آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا ۔ زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے صدد الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] ( ص د د ) الصدود والصد ۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24] اور شیطان نے ان کے اعمال ان کو آراستہ کردکھائے اور ان کو سیدھے راستے سے روک دیا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ ( بصر) استبصار وَكانُوا مُسْتَبْصِرِينَ [ العنکبوت/ 38] أي : طالبین للبصیرة . ويصحّ أن يستعار الاسْتِبْصَار للإِبْصَار، نحو استعارة الاستجابة للإجابة، وقوله عزّوجلّ : وَأَنْبَتْنا فِيها مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ تَبْصِرَةً [ ق/ 7- 8] أي : تبصیرا وتبیانا . الباصرۃ مستبصرین کے معنی طالب بصیرت کے ہیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتہ ہے کہ بطور استعارہ استبصار ( استفعال ) بمعنی ابصار ( افعال ) ہو جیسا کہ استجابہ بمعنی اجابۃ کے آجاتا ہے اور آیت کریمہ ؛ وَكانُوا مُسْتَبْصِرِينَ [ العنکبوت/ 38]

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٨) اور ہم نے قوم ہود اور قوم صالح کو بھی ہلاک کیا اور اے مکہ والو ! ان کی یہ ہلاکت تمہیں کو ان کے ویران مکانات سے نظر آرہی ہے اور شیطان نے ان کے شرک اور ان کی تنگی وفراخی کی حالت کو ان کی نظر میں مستحسن کر رکھا تھا اور اس وجہ سے ان کو رہ حق اور ہدایت سے روک رکھا تھا اور وہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ چیز حق ہے مگر خود حق پر قائم نہ تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ (وَعَادًا وَّثَمُوْدَا وَقَدْ تَّبَیَّنَ لَکُمْ مِّنْ مَّسٰکِنِہِمْوقفۃ) ” تمہیں سب معلوم ہے کہ یہ قومیں کس کس علاقے میں کہاں کہاں آباد تھیں۔ (وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ ) ” شیطان کے زیر اثر انہیں اپنے مشرکانہ افعال و اعمال بہت خوش نما لگتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ ان ہی میں مگن رہتے تھے۔ (فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَکَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَ ) ” استبصار باب ” استفعال “ سے ہے۔ اس کے معنی بغور دیکھنا کے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ بڑے باریک بین تھے ‘ ہرچیز کا مشاہدہ بڑی احتیاط سے کرتے تھے ‘ بڑے ہوشیار اور دانشور قسم کے لوگ تھے ‘ مگر اس کے باوجود انہیں راہ راست سجھائی نہیں دیتی تھی۔ یہ تضاد اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت سمجھدار انسان اپنی ناک کے نیچے کے پتھر سے ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ آج کے سائنسدانوں ہی کی مثال لے لیجیے۔ آج یہ لوگ کیسی کیسی ایجادات کر رہے ہیں۔ کائنات کے کیسے کیسے حقائق تک آج ان کی رسائی ہے۔ اربوں ‘ کھربوں نوری سالوں کی دوری پر نئے نئے ستاروں کو دریافت کر رہے ہیں۔ کیسے کیسے آلات کی مدد انہیں حاصل ہے اور ان آلات کے ذریعے کیسے کیسے مشاہدات ان کی نظروں سے گزرتے ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود ان کے ذہن خالق کائنات اور مدبر کائنات کی طرف منتقل نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ ایک (مادی) آنکھ سے دیکھ رہے ہیں جبکہ ان کی دوسری (روحانی) آنکھ بالکل اندھی ہے۔ ایسے ہی سائنسدانوں اور دانشوروں کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا : ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا ! یعنی یہ لوگ کائنات کے بڑے بڑے رازوں کی کھوج میں تو لگے ہوئے ہیں اور تحقیق کے اس میدان میں آئے روز نت نئی کامیابیوں کے جھنڈے بھی گاڑ رہے ہیں ‘ لیکن ان میں سے کوئی اپنی ذات کے بارے میں جاننے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ میں کون ہوں ؟ کہاں سے آیا ہوں ؟ مجھے کہاں جانا ہے ؟ میری اس زندگی کا مقصد و مآل کیا ہے ؟ ان کے نزدیک تو زندگی بھی جانوروں کی طرح پیدا ہونے ‘ کھانے پینے ‘ نسل بڑھانے اور مرجانے کا نام ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ موت پر انسانی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اگر انسانی زندگی ان دانشوروں کے خیال میں یہی کچھ ہے تو پھر یہ واقعی ایک کھیل ہے۔ اور کھیل بھی بقول بہادر شاہ ؔ ظفربس چار دن کا ! عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے ‘ دو انتظار میں ! اس ” دانشورانہ “ نقطہ نظر کے مطابق جائزہ لیں تو انسانی زندگی کی تہی دامانی اور بےبضاعتی پر ترس آتا ہے۔ ماہ و سال کے اس میزانیہ میں سے کچھ وقت تو بچپنے کے بھولپن میں بیت گیا ‘ کچھ لڑکپن کے کھیل کود اور شرارتوں میں۔ جوانی آئی تو سنجیدہ سوچ کی گویا بساط ہی الٹ گئی۔ جوانی کا خمار اترا اور ہوش سنبھالنے کی فرصت محسوس ہوئی تو بڑھاپے کی چاپ سنائی دینے لگی۔ اور اگر کوئی زیادہ سخت جان ثابت ہوا تو اسے ” ارذل العمر “ میں لِکَیْ لاَ یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْءًا* کے نوشتہ تقدیر کا سامنا کرنا پڑا ۔۔ تو کیا یہی ہے انسان کی اس ” انمول “ زندگی کی حقیقت ؟ کیا اسی کے بل پر انسان اشرف المخلوقات بنا تھا ؟ اور کیا اسی برتے پر یہ مسجود ملائک ٹھہرا تھا ؟ اور کیا : ع ” اِک ذرا ہوش میں آنے کے خطاکار ہیں ہم ؟ “۔۔ نہیں ‘ نہیں ‘ ایسا ہرگز نہیں ! انسانی زندگی اتنی ارزاں کیونکر ہوسکتی ہے ؟ انسانی زندگی فقط پیدا ہونے ‘ کھانے پینے اور چند سال زندہ رہنے کے دورانیے تک ہرگز محدود نہیں ہوسکتی ! بلکہ یہ اس تصور سے بہت اعلیٰ اور بہت بالا ایک ابدی حقیقت ہے۔ بقول اقبالؔ : ؂ ُ تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں ‘ پیہم دواں ‘ ہر دم جواں ہے زندگی ! دراصل جس ” دورانیے “ کو یہ لوگ زندگی سمجھے بیٹھے ہیں وہ تو اصل زندگی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ انسانی زندگی کا اصل اور بڑا حصہ تو وہ ہے جس کا آغاز انسان کی موت کے بعد ہونے والا ہے۔ اس دنیا کی زندگی تو انسان کے لیے محض ایک وقفہ امتحان ہے اور بس !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

65 Every Arab was acquainted with the lands where these two nations had lived. The whole of southern Arabia now known as Ahqaf, Yaman and Hadramaut, was the land of 'Ad in the ancient times, and the Arabs knew it. The whole area in the north of the Hijaz, from Rabigh to 'Aqabah and from Madinah and Khaiber to Taima' and Tabuk. still abounds with Thamudic monuments, which must have been more prominent than they are today in the time when the Qur'an was being revealed. 66 That is, "They were not ignorant and foolish people, but were the most civilized people of their own times. They performed and carried out their worldly duties and chores very carefully and intelligently. Therefore, it cannot be said that Satan deluded them and pulled them on to his way by artifice and deception. Nay, they adopted the way shown by Satan with open eyes and with full understanding because it promised great pleasures and advantages; and they abandoned the way presented by the Prophets because it appeared to be colourless, tasteless and troublesome due to moral restrictions."

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 65 عرب کے جن علاقوں میں یہ دونوں قومیں آباد تھیں ان سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا ۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ جو اب احقاف ، یمن اور حضرت موت کے نام سے معروف ہے ، قدیم زمانہ میں عاد کا مسکن تھا اور اہل عرب اس کو جانتے تھے ۔ حجاز کے شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیما اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں یہ آثار موجودہ حالت سے کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوں گے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 66 یعنی جاہل و نادان نہ تھے ۔ اپنے اپنے وقت کے بڑے ترقی یافتہ لوگ تھے ۔ اور اپنی دنیا کے معاملات انجام دینے میں پوری ہوشیاری اور دانائی کا ثبوت دیتے تھے ۔ اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شیطان ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ان کی عقل سلب کر کے انہیں اپنے راستے پر کھینچ لے گیا ۔ نہیں ، انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر آنکھوں دیکھتے شیطان کے پیش کیے ہوئے اس راستے کو اختیار کیا جس میں انہیں بڑی لذتیں اور منفعتیں نظر آتی تھیں اور انبیاء کے پیش کیے ہوئے اس راستے کو چھوڑ دیا جو انہیں خشک اور بدمزہ اور اخلاقی پابندیوں کی وجہ سے تکلیف دہ نظر آتا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

17: دیکھئے سورۃ اعراف : 64 تا 72۔ سورۃ ہود : 49، 60 18: یعنی دنیا کے معاملات میں بڑے سمجھ دار اور ہوشیار تھے مگر آخرت سے بالکل غافل اور جاہل

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٨ تا ٤٠۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان امتوں کا احوال مشرکین مکہ کو جتلایا جن امتوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اللہ تعالیّٰ نے ان کو کس کس طرح کا عذاب کرکے ہلاک کیا قوم عاد حضرت ہود (علیہ السلام) کے امت ہے اور ثمود حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت ہے عرب کے لوگ ان کے مکانوں کو خوب جانتے تھے اور رات دن عرب کے لوگوں کا ان پر گزر ہوتا تھا قارون بڑے خزانوں والا تھا اور فرعون شہر مصر کا بادشاہ تھا اور اس کا وزیر ہامان تھا اللہ تعالیٰ نے بسبب کفر کے ہر ایک کو اس کے گناہ کے مناسب عذاب میں پکڑا قوم عادنے دعویٰ کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر میں پکڑا قوم عادنے دعویٰ کیا کہ ہم سے زیادہ قوت میں کون ہے ان کے اوپر بہت سخت آندھی آئی جو زمین سے کنکر پتھر اٹھا کر ان کو مارتی اور اڑا کر آسمان سے سر کے بل پٹخ دیتی کہ جس کے صدمہ سے دھڑ سے سر جدا ہو کر دھڑ کھجور کے تنے کی طرح زمین پر گر پڑتا اور کسی کو سخت آواز سے مار ڈالا جیسے قوم ثمود کہ ان کی درخواست کے موافق ایک اونٹنی پتھر سے پیدا ہوئی پھر بھی وہ یقین نہ لائے کفر پر اڑے رہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کو اور جو ان پر ایمان لائے تھے ان کو ڈراتے کہ ہم تم کو بستی سے نکالدیں گے سنگسار کریں گے خدا تعالیٰ نے ان کو ایک چنگھاڑ سے ہلاک کردیا اور کسی کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں دھنسا دیا جیسے قارون کو کہ وہ اپنے آپ کو سب سے بہتر جانتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے مکانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا قیامت تک وہ دھنستا چلا جائے گا۔ اور فرعون اور ہامان اس کے وزیر کو مع اس کے لشکر کے ایک تھوڑی سی دیر میں دریا میں ڈبو دیا کوئی خبر دینے والا بھی باقی نہ بچا پھر فرمایا یہ اللہ تعالیٰ نے کچھ ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ ان کے عملوں کے موافق ان کو سزادی دہی اپنی جانوں پر آپ ظلم کرتے تھے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہدایت کے واسطے ان کے پاس پیغمبروں کو بھیج دیا تھا اور کتابیں بھی نازل فرمائیں غرض کہ کوئی دقیقہ ان کے سمجھانے کا باقی نہیں رکھا مگر وہ کم بخت اپنے کفر اور جھٹلانے پر اڑے رہے اور گناہوں اور نافرمانیوں سے اپنی شرارت کے سبب سے باز نہ آئے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ من ارسلنا علیہ حاصبا سے مراد قوم لوط ہے اور من اخذتہ الصیحۃ سے مراد قوم ثمود اور مدین والے اور زمین میں دھنسا دیا “ سے مراد قارون اور اس کے اصحاب ہیں اور غرق سے قوم نوح اور فرعون مراد ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ ١ ؎ سے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کے کچھ لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا صدمہ قوم کے لوگوں کو بہت تھا شیطان نے ان لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ قوم کے لوگ ان نیک شخصوں کی مورتیں بنا کر اپنی آنکھوں کے روبرو رکھ لیویں تو ان نیک لوگوں کی جدائی کا صدمہ کم ہوجائے گا قوم کے لوگوں نے اس وسوسہ کے موافق عمل کیا اور کچھ مدت تک تو وہ مورتیں ویسی ہی رہیں پھر رفتہ رفتہ ان کی پوجا ہونے لگی۔ جس کے سبب سے شرک دنیا میں پھیل کر توحید اٹھ گئی یہ حدیث وزین لھم الشیطان اعمالھم کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ شیطان دھوکے سے اس طرح ناحق بات کو حق بات کی صورت میں لوگوں کو دکھا دیتا ہے کہ دنیا کے کاموں میں جو بڑے ہو شیار کہلاتے ہیں وہ اس کے دھو کے میں آجاتے ہیں اور حق بات کو چھوڑ کر ناحق بات کو ایک حق بات کی صورت میں پہلے پہل رواج دیا اور پھر رفتہ رفتہ اپنا کام نکال لیا کہ بت پرستی دنیا میں پھیلا کر توحید سے لوگوں کو روک دیا اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم سے لے کر قاروں تک جو لوگ طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوئے اللہ تعالیٰ نے ظلم کے طور پر بےقصور ان کو ہلاک نہیں کیا کیوں کہ ظلم کو اس نے اپنی ذات پاک پر ٹھہرا لیا ہے اس لیے ان لوگوں کی سرکشی ہلاکت کے درجہ کو پہنچ گئی تو اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کردیا۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤١٠ ج ٣۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة نوح ص ٣٧٧ ج ٤ مع فتح الباری طبع دہلی۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:38) وعادا وثمودا۔ منصوب بوجہ فعل مضمر ای واھلکنا عادا وثمودا اور ہم نے ہلاک کیا عاد اور ثمود کو۔ (ثمود بوجہ عجمہ اور معرفہ غیر منصرف ہے) زین۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے سنوارا۔ اس نے زینت دی۔ اس نے بھلا کرکے دکھایا۔ تزیین (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی آراستہ کرنے اور زینت دینے کے ہیں ۔ مستبصرین۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ خبر کانوا ۔ استبصار (استفعال) مصدر۔ دیکھنے والے۔ عقل مند۔ ھق و باطل میں تمیز رکھنے والے ۔ دور اندیش (دنیاوی امور میں) یعنی باوجود یکہ واضح اور روشن دلائل کی وجہ سے انہوں نے حق کو خوب پہچان لیا تھا۔ لیکن شیطان نے ان کے دنیاوی اعمال کو آراستہ پیراستہ کرکے دکھایا اور راہ راست سے ان کو روکے رکھا ۔ وکانوا مستبصرین جملہ حالیہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

6 ۔ شام کے راستے میں خیبر و تیما سے تبوک تک قوم ثمود کے آثار پائے جاتے ہیں اور قوم عاد کے آثار جزیرہ عرب کے جنوبی علاقہ میں، جو احقاف اور حضرموت کے نام سے مشہور ہے، پائے جاتے ہیں۔ اب اگر یہ آثار مٹ چکے ہوں تو نزول قرآن کے زمانہ میں تو ضرور پائے جاتے ہوں گے اور عرب کا بچہ بچہ ان سے واقف ہوگا۔ 7 ۔ یعنی جاہل اور بدھو قسم کے لوگ نہ تھے۔ بڑے ہنر مند اور ترقی یافتہ تھے اور اپنے دنیوی معاملات بڑی ہوشیاری اور زیرکی سے سرانجام دیتے تھے مگر شیطان نے ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیا تھا اس لئے وہ دین کی سچی راہ نہ پا سکے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ کہ آثار ویرانی اور بربادی کے ان سے نمایاں ہیں، اور یہ مقامات شام جاتے ہوئے ملتے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : قوم مدین کی تباہی کے بعد قوم عاد کی تباہی کا بیان۔ عرب کے جن علاقوں میں یہ دونوں قومیں آباد تھیں ان سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ اب جو احقاف، یمن اور حضرت موت کے نام سے معروف ہے، قدیم زمانہ میں عاد کا مسکن تھا اہل عرب اس کو اچھی طرح جانتے تھے، حجاز کی شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیما اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں یہ آثار زیادہ نمایاں تھے۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ دنیوی اعتبار سے بڑے ترقی یافتہ اور سیاسی لوگ تھے۔ مگر ان کی ترقی اور سیاسی سوج بوجھ ان کے کسی کام نہ آئی ان کی عیاسی اور عیش و عشرت ہی ان کے لیے تباہی کا سبب بنی۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کی بددعا اور قوم عاد کا انجام : ١۔ میرے رب میری مدد فرما انھوں نے مجھے کلی طور پر جھٹلا دیا ہے۔ (المؤمنوں : ٣٩) ٢۔ سات راتیں اور آٹھ دن زبردست آندھی اور ہوا کے بگولے چلے۔ (الحاقۃ : ٧۔ الشعراء : ٢٠) ٣۔ گرج چمک اور بادو باراں کا طوفان آیا۔ (الاحقاف : ٢٤) ٤۔ آندھیوں نے انھیں کھجور کے تنوں کی طرح پٹخ پٹخ کر دے مارا۔ (الحاقۃ : ٧) ٥۔ انھیں ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ (الذاریات : ٤١، ٤٢) ٦۔ دنیا اور آخرت میں ان پر پھٹکار برستی رہے گی۔ دنیا میں ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت میں سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ (السجدۃ : ١٦، ھود : ٥٩) ٧۔ قوم ھود کو نیست و نابود کردیا گیا۔ (الاعراف : ٧٢) ٨۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ھود اور ایمانداروں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا۔ (ھود : ٥٨) مسائل ١۔ قوم عاد اور ثمود کے لیے شیطان نے ان کے اعمال کو خوبصورت بنادیا تھا۔ ٢۔ قوم عاد کے گھروں کو عبرت گاہ بنا دیا گیا۔ ٣۔ قوم عاد کے لوگ ترقی یافتہ اور بڑے ہوشیار لوگ تھے۔ تفسیر بالقرآن قوم ثمود اور قوم عاد کی تباہی : ١۔ ثمود زور دار آواز کے ساتھ ہلاک کیے گئے۔ (الحاقۃ : ٥) ٢۔ قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٦٨) ٣۔ مدین والوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ قوم ثمود کی طرح مدین والوں کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٩٥) ٤۔ قوم ثمود کو زلزلے نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (الاعراف : ٧٨) ٥۔ قوم ثمود کو چیخ نے آپکڑا۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (ھود : ٦٧) ٦۔ قوم ثمود نے ہدایت کے مقابلہ میں گمراہی کو ترجیح دی تو انہیں رسوا کردینے والی آواز نے آلیا۔ ( حٰم السجدۃ : ١٨) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑا۔ ( النجم : ٥١) ٨۔ قوم ثمود کو ان کی سرکشی کی وجہ سے ہلاک کیا گیا۔ ( الحاقۃ : ٥) ٩۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقۃ : ٦) ١٠۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : ١٣٩) ١١۔ قوم عاد کو تند وتیز ہوا کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ (الحاقۃ : ٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد قوم عاد وثمود کی ہلاکت کی طرف اشارہ : وعادا و ثمودا ۔۔۔۔۔ وکانوا مستبصرین (38) ” اور عاد وثمود کو ہم نے ہلاک کیا ، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے۔ ان کے اعمال کو شیطان نے ان کیلئے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے “۔ عاد کے لوگ جزیرۃ العرب کے جنوب میں علاقہ احقاف میں رہتے تھے۔ یہ علاقہ حضر موت کے قریب ہے۔ اور ثمود علاقہ حجر شمالی جزیرۃ العرب میں رہتے تھے۔ اور یہ وادی القری کے قریب علاقہ ہے ، قوم عاد کو تیز رفتار ہوائی طوفان کے ذریعہ ہلاک کیا گیا جو ناقابل کنٹرول تھا اور قوم ثمود کو ایک ہلاکت خیز چیخ کے ذریعہ جس کے بعد زلزلہ آیا۔ ان کے گھر عربوں کو معلوم تھے اور یہ لوگ اپنے گرمیوں اور سردیوں کے اسفار میں ان علاقوں سے گزرتے تھے اور ان کے آثار کو دیکھتے تھے کہ عزت اور اقتدار کے بعد یہ اقوام کس طرح ملیا میٹ ہوئیں۔ یہاں اس مختصر اشارے میں بتا دیا گیا ہے کہ ان کی گمراہی کا راز کیا تھا۔ یہی راز ہے دوسری تمام اقوام کی ضلالت کا۔ وزین لھم ۔۔۔۔۔ وکانوا مستبصرین (98: 37) ” ان کے اعمال کو شیطان نے ان کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا اور وہ ہوش و گوش رکھتے تھے “۔ یہ عقلمند تھے۔ ہدایت کے دلائل بھی ان کے سامنے تھے لیکن شیطان نے ان کو خواہشات نفسانیہ کے تابع کرکے ان کے ان اعمال کو ان کے لیے مزین بنا دیا تھا۔ اور ان پر وہ اس راستے سے حملہ آور ہوا جو کھلا تھا۔ یہ کہ وہ سخت مغرور تھے اور اپنے برے اعمال پر فخر کرتے تھے اور ان اعمال کے ذریعہ انہوں نے جو قوت اور مال و متاع جمع کرلیا تھا ، اس کی وجہ سے وہ اعمال انہیں اچھے لگتے تھے۔ فصدھم عن السبیل (98: 38) ” انہیں راہ راست سے برگشتہ کردیا تھا “۔ اور ایمان کا تو یہ واحد راستہ تھا۔ لہٰذا انہوں نے اس راہ پر چلنے کے مواقع گنوا دئیے۔ وکانوا مستبصرین (98: 38) ” اور بڑے دانش مند تھے “۔ صاحب فکر و نظر تھے اور عقل و ادراک کی قوتوں کے مالک تھے۔ اب قارون ، فرعون اور ہامان کی طرف اشارہ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

31:۔ یہ قوم عاد اور ثمود کے قصوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ دونوں قصے بھی دوسرے دعوے سے متعلق ہیں۔ یہ مشہور و معروف قومیں ہیں، ان کا بھی خیال تھا کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن اے مشرکین مکہ ! ان کی تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈر آج بھی زبان حال سے ان کی بربادی کی کہانی دہرا رہے ہیں۔ وزین لہم الخ شیطان نے ان کے اعمال مشرکانہ اور افعال قبیحہ کو ان کی نظروں میں مزین و مستحسن بنا دیا اور انہیں راہ راست پر آنے سے روک دیا حالانکہ وہ عقلمند تھے۔ اگر وہ عقل و فکر سے کام لیتے تو حق و باطل میں امتیاز کرسکتے تھے۔ مستبصرین ای عقلاء یمکنہم التمییز بین الحق والباطل بالاستدلال والنظر الکنہم اغفلوا ولم یتدبروا (روح ج 20 ص 158) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

38۔ اور ہم نے عاد اور ثمود کو بھی ہلاک کیا اور ان کی تباہی و ہلاکت ان کے ویران مکانوں سے تم پر ظاہر ہوچکی ہے اور ان کا ہلاک ہونا تم کو ان کے رہنے کے مقامات سے نظر آ رہا ہے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے خوش منظر اور مستحسن بنادیا تھا یعنی برے اعمال کو اچھاجانتے اور اسی وجہ سے شیطان نے ان کو سیدھی راہ سے روک دیا تھا حالانکہ یوں تو وہ لوگ خاصے ہوشیار اور سوجھ بوجھ کے تھے۔ یعنی دنیا کے کاموں میں ہوشیار تھے اور سوجھ بوجھ کے اچھے تھے لیکن دین کے معاملہ میں عقل سے کام نہ لیا اور شیطان کے بہکانے میں آگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا کے کام میں ہوشیار تھے اور اپنے نزدیک عقل مند تھے پر شیطان کے بہکانے سے نہ بچ سکے۔ 12