Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 44

سورة العنكبوت

خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۴۴﴾٪  16

Allah created the heavens and the earth in truth. Indeed in that is a sign for the believers.

اللہ تعالٰی نے آسمانوں اور زمین کو مصلحت اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ایمان والوں کے لئے تو اس میں بڑی بھاری دلیل ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ بِالْحَقِّ ... Allah created the heavens and the earth with truth. Allah tells us of His immense power, that He created the heavens and the earth with truth, meaning for a higher purpose than mere play, لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى that every person may be rewarded for that which he strives. (20:15) لِيَجْزِىَ الَّذِينَ أَسَاءُواْ بِمَا عَمِلُواْ وَيِجْزِى الَّذِينَ أَحْسَنُواْ بِالْحُسْنَى that He may requite those who do evil with that which they have done, and reward those who do good, with what is best. (53:31) ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لاَيَةً لِّلْمُوْمِنِينَ Verily, therein is surely a sign for those who believe. meaning, there is clear evidence that Allah is alone in creating, controlling, and in His divinity. The Command to convey the Message, to recite the Qur'an and to pray Allah says:

مقصد کائنات اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی قدرت کا بیان ہو رہا ہے کہ وہی آسمانوں کا اور زمینوں کا خالق ہے اس نے انہیں کھیل تماشے کے طور پر یا لغو وبیکار نہیں بنایا بلکہ اس لئے کہ یہاں لوگوں کو بسائے ۔ پھر ان کی نیکیاں بدیاں دیکھے ۔ اور قیامت کے دن ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا سزادے ۔ بروں کو ان کی بداعمالیوں پر سزا اور نیکوں کو ان کی نیکیوں پر بہترین بدلہ ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

441یعنی بےفائدہ اور بےمقصد نہیں۔ 442یعنی اللہ کے وجود کی، اس کی قدرت اور علم و حکمت کی۔ اور پھر اسی دلیل سے وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کائنات میں اس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٠] یعنی زمین و آسمان یا نظام کائنات کو بےفائدہ ہی نہیں بنادیا بلکہ اس نظام سے بیشمار مصالح اور فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ زمین پر بسنے والی ہر طرح کی مخلوق کی زندگی اور زندگی کی بقا کا انحصار اسی نظام کائنات پر ہے۔ اگر اس نظام میں سے بھی ایک بھی کل پرزہ اٹھا لیا جائے تو صرف یہی نہیں کہ جاندار اشیاء کی زندگی کیا خاتمہ ہوجائے گا۔ بلکہ زمین پر نباتات، پودے اور درخت تک بھی نہ اگ سکیں گے۔ [٧١] یعنی ہر صاحب علم و دانش کے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ کائنات کو پیدا تو اللہ کرے، زمین کی روئیدگی کی قوتیں اللہ عطا کرے، بارش برسائے تو اللہ، تمام مخلوق کی ضروریات زندگی مہیا کرے تو اللہ۔ مگر جب اس کے رزق، اس کے فضل اور اس کی رحمت کی لوگوں میں تقسیم کی باری آئے تو دوسرے معبودان باطل ہزارہا کی تعداد میں میدان میں آموجود ہوں۔ اور انسان یہ سوچنے لگے کہ واقعی سب کچھ کیا کرایا تو اللہ نے ہی ہے مگر اس نے رحمت کی تقسیم کے اختیارات دوسرے حضرات کو سونپ دیئے ہیں اور خود فارغ ہو بیٹھا ہے ؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی بےانصافی اور ظلم کی بات ہوسکتی ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَـقِّ : یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے۔ اس نے اسے نہایت حکمت سے بنایا ہے، بےفائدہ اور بےمقصد نہیں بنایا۔ دیکھیے سورة انبیاء (١٦) اور دخان (٣٨) ۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ : زمین و آسمان کی پیدائش میں صرف ایمان والوں کے لیے نشانیاں ہیں، کیونکہ وہی ان پر غور کرتے ہیں، دوسرے لوگ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار قدرتوں اور نشانیوں کے پاس سے گزر جاتے ہیں مگر دھیان ہی نہیں کرتے۔ (دیکھیے سورة یوسف : ١٠٦) جو لوگ دل میں جذبۂ ایمان رکھتے ہوئے اس نظام کائنات پر غور کریں گے ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ نظام نہ کسی خالق کے بغیر بنا ہے اور نہ اس کے ایک سے زیادہ خالق ہوسکتے ہیں، بس ایک ہی ذات پاک ہے جس نے اسے پیدا کیا اور وہی اس کی حق دار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ انھی غور و فکر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ” لقوم یعقلون “ قرار دیا ہے۔ ( دیکھیے بقرہ : ١٦٤) اور انھی کو ” لاولی الالباب “ قرار دیا ہے۔ (دیکھیے آل عمران : ١٩٠)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

خَلَقَ اللہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَـقِّ۝ ٠ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً لِّــلْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٤٤ۧ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٤) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مناسب طریقے پر بنایا اور ان مضامین میں اہل ایمان کے لیے بڑی دلیل ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

75 That is, "The system of the universe is based on the truth and not on falsehood. Whoever ponders over this system with an unbiased mind will realize that the earth and the heavens owe their existence to reality and fact and not to superstition and fancy. Here there is no possibility that whatever a person may conceive in his mind and whatever philosophy he may invent out of his personal whim and conjecture should fit in with the system. Here only such a thing can succeed and endure, which is in harmony with the reality and actual fact. A structure that is raised on unreal presumptions and hypotheses will ultimately collapse when it clashes with the reality. The system of the universe clearly testifies that its Creator is One God, and One God alone is its Master and Disposer. If a person works against this basic Reality on the presumption that this world has no God, or that it has many gods, who devour the offerings of their devotees and in return give them a licence to do whatever they please and a guarantee to live in peace and happiness, the Reality will not change due to his presumptions, but, on the contrary, he himself will some time meet with a grave disaster." 76 That is, "A clear evidence exists in the creation of the earth and the heavens about the truth of Tauhid and the refutation of polytheism and atheism, but this evidence is found only by those who accept the teachings of the Prophets of AIlah. Those who deny them do not find it even though they see everything."

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 75 یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے نہ کہ باطل پر ۔ اس نظام پر جو شخص بھی صاف ذہن کے ساتھ غور کرے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ زمین و آسمان اوہام و تخیلات پر نہیں بلکہ حقیقت و واقعیت پر کھڑے ہیں ۔ یہاں اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ جو کچھ بھی سمجھ بیٹھے اور اپنے وہم و گمان سے جو فلسفہ بھی گھڑے وہ ٹھیک بیٹھ جائے ۔ یہاں تو صرف وہی چیز کامیاب ہوسکتی ہے اور قرار و ثبات پاسکتی ہے جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہے ۔ خلاف واقعہ قیاسات اور مفروضات پر جو عمارت بھی کھڑی کی جائے گی وہ آخر کار حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائے گی ۔ یہ نظام کائنات صاف شہادت دے رہا ہے کہ ایک خدا اس کا خالق ہے اور ایک ہی خدا اس کا مالک و مدبر ہے ۔ اس امر واقعی کے خلاف اگر کوئی شخص اس مفروضے پر کام کرتا ہے کہ اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے ، یا یہ فرض کر کے چلتا ہے کہ اس کے بہت سے خدا ہیں جو نذر و نیاز کا مال کھا کر اپنے عقیدت مندوں کو یہاں سب کچھ کرنے کی آزادی اور بخیریت رہنے کی ضمانت دے دیتے ہیں ، تو حقیقت اس کے ان مفروضات کی بدولت ذرہ برابر بھی تبدیل نہ ہوگی بلکہ وہ خود ہی کسی وقت ایک صدمہ عظیم سے دو چار ہوگا ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 76 یعنی زمین و آسمان کی تخلیق میں توحید کی صداقت اور شرک و دہریت کے بطلان پر ایک صاف شہادت موجود ہے ، مگر اس شہادت کو صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی پیش کی ہوئی تعلیمات کو مانتے ہیں ۔ ان کا انکار کردینے والوں کو سب کچھ دیکھنے پر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

25: یعنی یہ کائنات اس مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ اِس کے ذریعے لوگوں کو آزمایا جائے، اور پھر لوگوں کے اعمال کے مطابق اُنہیں جزا یا سزا ملے۔ اگر آخرت کی زندگی آنے والی نہ ہو تو کائنات کو پیدا کرنے کا یہ اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٤ تا ٤٩۔ ان آیتوں میں اپنی قدرت کا حال بیان فرمایا ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس واسطے پیدا کیا کہ ہر ایک شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے برے کو برا اچھے کو اچھا اس آیت میں ایمان والوں کو ہدایت ہے کہ اللہ اکیلا جہاں کا پیدا کرنے والا ہے وہی اکیلا پوجنے کے قابل ہے اور منکرین حشر کو یہ تنبیہ ہے کہ یہ لوگ خود تو دنیا میں کو کام کرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی فائدہ ان کو مد نظر ہوتا ہے مثلا کھیتی میں پیدا وار کا فائدہ تجارت میں نقدی کا فائدہ ان کا مقصود ہوتا ہے پھر یہ نادان اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انتظام کو بےفائدہ کیوں ٹھہراتے ہیں اتنا نہیں سمجھتے کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد اگر جزاو سزانہ ہو تو دنیا کا پیدا کرنا بالکل بےٹھکانے ٹھہرتا ہے جو اللہ کی شان سے بہت بعید ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلعم کو قرآن شریف کے پڑھنے کا اور نماز کے قائم کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا کہ نماز ایسی چیز ہے کہ سب بری باتوں سے روکتی ہے اور خدا کی یاد سب سے بڑی ہے معتبر سند سے مسند امام احمد میں ابوہریرہ (رض) کی ١ ؎ حدیث ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو ایک چور شخص کے نمازی ہونیکا ذکر آیا آپ نے فرمایا نماز کی برکت سے اس کی چوری کی عادت چھوٹ جائے گی یہ حدیث ان الصلوت تنھیٰ عن الفحشاء والمنکو کی گویا تفسیر ہے عبداللہ ابن عون ثقہ تایغیوں میں ہیں صحح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے۔ کہ یہ شخص یاد الٰہی میں مصروف رہتا ہے تو تعریف کے طور پر اللہ تعالیٰ ایسے شخص کا ذکر فرشتوں کے روبرو کرتا ہے یہ حدیث ولذکر اللہ اکبر کی یہ گویا تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ وفا دار غلام تو اپنے آقا کو یاد کیا ہی کرتا ہے لیکن آقا کا غلام کو تعریف کے طور پر یاد کرنا بڑی بات ہے معتبر سند سے ابوداؤد اور نسائی کی ابوامامہ (رض) کی حدیث گزر چکی ہے کہ بغیر خالص نیت کے کوئی عمل بارگاہ الٰہی میں مقبول نہیں ہے یہ حدیث واللہ یعلم ماتصنعون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خالص نیت کے عملوں کی اور دنیا کے دکھاوے کی عملوں کی سب خبر ہے اور دنیا کے دکھاوے کے عمل اس کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہیں شروع آیت میں اللہ تعالیٰ نے تلاوت قرآن اور نماز کا حکم اپنے رسول کو فرمایا اور پھر واللہ یعلم ماتصنعون فرما کر امت کو اس حکم میں شامل کردیا تاکہ معلوم ہو کہ اس حکم کی تعمیل سب پر یکساں ہے تلاوے قرآن کے وقت نماز روزہ حج زکوٰۃ سب باتوں کا حکم اگرچہ معلوم ہوسکتا ہے لیکن نماز کی تاکید شریعت میں بہت ہے اس لیے نماز کا ذکر خاص طور پر فرمایا پھر فرمایا اہل کتاب سے زیادہ نہ جھگڑو بلکہ ان سے اتنا ہی کہہ دو کہ قرآن شریف پر بھی ہم کو یقین ہے کہ وہ کلام الٰہی ہے اور پہلی کتابوں پر بھی کیونکہ ہمارا تمہارا معبود ایک ہے اور اسی کی سب کتابیں ہیں جس کی پیروی ہم پر لازم ہے مگر ان کتابوں میں ردو بدل ہوگیا ہے اس کی پیروی کا ہم کو حکم نہیں ہے قرآن شریف نے وہ ردو بدل کی باتیں ہم کو بتلادی ہیں اس لیے ہم اتنی ہی بات کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تم پر اترا ہے اس پر ہمارا ایمان ہے ردو بدل کے شبہ کے سبب سے نہ تمہاری کسی خالص بات کو ہم مان سکتے ہیں نہ تمہاری ساری کتاب کو جھٹلا سکتے ہیں صحیح بخاری میں اہل کتاب کے باب میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا قول ہے اس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا الذین ظلمون منھم اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اہل کتاب تم پر زیادتی کریں تو تم بھی ان سے ایسا ہی پیش آؤ مدینہ کے گردونواح میں یہود کے قبیلے نبی نضیر اور نبی قریظہ نے اہل اسلام کے مقابلہ اور مشرکین کی مدد پر کمر باندھی اس لیے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنی نضیر کو تو جلا وطن کیا اور بنی قریظہ قتل کئے گئے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں یہ دونوں قصے مفصل ہیں جن قصوں کو الا الذین ظلموا کی تفسیر کہا جاسکتا ہے اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کیں اسی طرح تم پر بھی قرآن نازل کیا جس کو بعضے اہل کتاب اور بعضے اہل مکہ اللہ کا کلام مانتے ہیں اور جو نہیں مانتے وہ حق بات کے جان بوجھ کر منکر ہیں کیونکہ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ابنے رسول اللہ کے جب کچھ تم لکھے پڑھے نہیں تھے تو ان مشرکوں کے دل جانتے ہیں کہ ان پڑھ آدمی ایسی کتاب اپنے دل سے ہرگز نہیں بنا سکتا جب کا بنانا پڑھے لکھے لوگوں کی قدرت سے بھی باہر سے اور پہلی کتابوں میں تمہارے اوصاف ایسے تفصیل سے ہیں کہ اہل کتاب کے دل بھی خوب جانتے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو اور قرآن کلام الٰہی ہے۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤١٥ ج ٣‘ ) (٢ ؎ مشکوٰۃ ص ١٩٦ باب ذکر اللہ والتقرب الیہ۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

8 ۔ ان کے بنانے میں بندوں کی تمام ضرورتوں اور مصلحتوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ ان کو تفریحاً … نہیں بنایا گیا ہے۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) بعض نے حق سے مراد کلام اور قدرت بھی لی ہے۔ (قرطبی) 9 ۔ یعنی جو لوگ دل میں جذبہ ایمان رکھتے ہوئے اس نظام کائنات پر غور کریں گے۔ ان پر یہ حقیقت کھل جائے گی کہ یہ نظام نہ کسی خالق کے بغیر بنا ہے اور نہ اس کے ایک سے زیادہ خالق ہوسکتے ہیں۔ بس ایک ہی ذات پاک ہے جس نے اسے پیدا کیا اور وہی اس کی حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ (ابن کثیر بتوضیح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اوپر توحید کا ذکر تھا، آگے نبوت کا ذکر ہے، اس ترتیب سے کہ اول حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اتل ما اوحی الیک سے تبلیغ قولی اور اقم الصلوة سے تبلیغ فعلی کا حکم اور اس کے بعد کے جملوں میں بیان فضل اعمال وبیان علم الہی سے ترغیب و ترہیب شرائع کی کہ معین مقصود تبلیغ ہے اور لا تجادلوا سے قل کفی باللہ تک منکرین رسالت سے کلام اول اہل کتاب سے پھر غیر اہل کتاب سے پھر آگے یستعجلونک سے بعض منکرین رسالت کے ایک شبہ کا جواب مذکور ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

خلق اللہ ۔۔۔۔۔ لایۃ للمؤمنین (44) ” اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے ، در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے اہل ایمان کے لیے “۔ تمام انبیاء کے قصص کے بعد یہ آیت آتی ہے اور اس تمثیل کے بعد آتی ہے جس میں اللہ کی قوت کے مقابلے میں دوسری قوتوں کو تار عنکبوت کی طرف نزار و نحیف بتایا گیا ہے۔ یہ آیت ان سب قصص و تمثیلات کے ساتھ مربوط اور ہم آہنگ ہے۔ اور ان کے درمیان ایک گہرا رابطہ ہے کہ زمین و آسمان میں وہی حقیقت بکھری ہوئی ہے اور ہر سو نظر آتی ہے۔ یہ کائنات جس ٹھوس نظام پر قائم ہے ، اس کے اندر وہی حقیقت ہے وہی قوت ہے جو اس قرآن کے اندر پوشیدہ ہے۔ ان فی ذلک لایۃ للمومنین (29: 44) ” درحقیقت اس میں نشانی ہے اہل ایمان کے لیے “۔ کہ یہ ایک عظیم نظام ہے ، ناپیدا کفار کائنات ہے اور پھر بھی باہم متصادم نہیں ہے۔ اور اہل ایمان ہی ہیں جن کے دل اس کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں کے لیے کھلے ہوتے ہیں ، جن کا نظم و نسق یہ شہادت دیتا ہے ، جس قدر بھی دور تک ہمارا مشاہدہ جائے کہ یہ کائنات ایک عظیم سچائی پر پیدا کی گئی ہے صرف اہل ایمان ہی اس سے حقیقت کو پاسکتے ہیں اس لیے کہ ان کو مومنانہ بصیرت اور بصارت حاصل ہوتی ہے اور ان کا شعور اور قوت مدرکہ تیز ہوتی ہے۔ آخر میں اس کتاب کو جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی ہے ، ذکر و صلوٰۃ سے مربوط کردیا جاتا ہے۔ اور اس حق کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے جو اس پوری کائنات میں پوشیدہ ہے اور اس ذکر و فکر سے مربوط کیا جاتا ہے جو نوح (علیہ السلام) سے ادھر تمام انبیاء کو نکتہ دعوت رہا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بالْحَقِّ ) (اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا) ان کے پیدا کرنے میں بڑی حکمت ہے، جو منکر ہیں وہ بھی مانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزیں ہیں لیکن ایمان نہیں لاتے۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ) (بلاشبہ اس میں مومنین کے لیے نشانیاں ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں۔ دلائل تو سب ہی کے لیے ہیں لیکن ان سے اہل ایمان ہی متنفع ہوتے ہیں، جنہیں ایمان قبول کرنا نہیں وہ جانتے بوجھتے منکر بنے ہوئے ہیں اور انکار پر تلے ہوئے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ یہ مرکزی دعوی توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ساری کائنات کو پیدا ہی اظہار حق کے لیے فرمایا ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے (بالحق) ای للحق و اظہار الحق (معالم و خازن ص 161 ج 5) ۔ انہا مع اشتمالہا علی جمیع ما یتعلق بہ معاشہم شواھد دالۃ علی شئونہ تعالیٰ المتعلقۃ بذاتہ و صفاتہ (ابو السعود ج 6 ص 696) ۔ ایمان والوں کے لیے اس میں بہت بڑی دلیل ہے۔ مومنوں کی تخصیص اس لیے کی گئی کہ اس سے استفادہ صرف وہی کرتے ہیں ویسے تو ہر غور و فکر کرنے والے کا ذہن اس سے اللہ کی وحدانیت اور اس کی عظیم قدرت تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

44۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال مصلحت اور حکمت کے ساتھ بنایا ہے ، بلا شبہ ان دونوں کے بنانے میں اہل ایمان کے لئے بڑی دلیل ہے۔ یعنی زمین اور آسمان کو نہایت مناسب انداز میں جیسا بنانا چاہئے تھا ویسا ہی بنایا اور مسلمانوں کے لئے دلیل اس لئے فرمایا کہ وہ ان کی بناوٹ اور ساخت کو دیکھ کر یہ جانتے ہیں کہ چونکہ یہ کا کام صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس لئے اس کی عبادت میں کوئی شریک نہیں کیا جاسکتا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس کام میں کوئی شامل نہ تھا تو تھوڑے کام میں شریک ہونے کی کیا احتیاج۔ 12 یعنی جب آسمان و زمین جیسی مخلوق بنانے میں کسی کا ساجھا اور کسی کی شرکت نہیں تو جو باتیں زمین و آسمان سے کم ہیں ان میں اس کا شریک کیوں کیا جائے۔