Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 47

سورة العنكبوت

وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ۚ وَ مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِہٖ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۷﴾

And thus We have sent down to you the Qur'an. And those to whom We [previously] gave the Scripture believe in it. And among these [people of Makkah] are those who believe in it. And none reject Our verses except the disbelievers.

اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف اپنی کتاب نازل فرمائی ہے ، پس جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان ( مشرکین ) میں سے بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Evidence for the Fact that the Qur'an was revealed from Allah Allah says: وَكَذَلِكَ أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ ... And thus We have sent down the Book to you, Ibn Jarir said: "Allah says, `just as We revealed the Books to the Messengers who came before you, O Muhammad, so We have also revealed this Book to you."' What he said is good and fits the context. Allah's saying: ... فَالَّذِينَ اتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُوْمِنُونَ بِهِ ... and those whom We gave the Scripture believe therein, means, those knowledgeable rabbis and scholars among them who learned it and recited it properly, such as Abdullah bin Salam, Salman Al-Farisi and others like them. ... وَمِنْ هَوُلاَء مَن يُوْمِنُ بِهِ ... as also believe therein some of these, meaning, the Quraysh Arabs and others. ... وَمَا يَجْحَدُ بِأيَاتِنَا إِلاَّ الْكَافِرُونَ and none but the disbelievers reject Our Ayat. No one disbelieves and rejects them except those who conceal the truth with falsehood, and those who try to hide the rays and light of the sun by their covering an eye. Then Allah says:

حق تلاوت فرمان ہے کہ جیسے ہم نے اگلے انبیاء پر اپنی کتابیں نازل فرمائی تھیں اسی طرح یہ کتاب یعنی قرآن شریف ہم نے اے ہمارے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر نازل فرمایا ہے ۔ پس اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ہماری کتاب کی قدر کی اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا وہ جہاں اپنی کتابوں پر ایمان لائے اس پاک کتاب کو بھی مانتے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اور جیسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ ۔ اور ان لوگوں یعنی قریش وغیرہ میں سے بھی بعض لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں ہاں جو لوگ باطل سے حق کو چھپانے والے اور سورج کی روشنی سے آنکھیں بند کرنے والے ہیں وہ تو اسکے بھی منکر ہیں ۔ پھر فرماتا ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم ان میں مدت العمرتک رہ چکے ہو اس قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ ان میں گزار چکے ہو انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ پڑھے لکھے نہیں ، ساری قوم اور سارا ملک بخوبی علم رکھتا ہے کہ آپ محض امی ہیں نہ لکھناجانتے ہیں نہ پڑھنا ۔ پھر آج جو آپ کو انوکھی فصیح وبلیغ اور پر از حکمت کتاب پڑھتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ آپ اس حالت میں ایک حرف پڑھے ہوئے نہیں خود تصنیف وتالیف کر نہیں سکتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صفت اگلی کتابوں میں تھی جیسے قرآن ناقل ہے آیت ( اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ ١٥٧؀ۧ ) 7- الاعراف:157 ) یعنی جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول و نبی امی کی جس کی صفات وہ اپنی کتاب توراۃ اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں جو انہیں نیکیوں کا حکم کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے ۔ لطف یہ ہے کہ اللہ کے معصوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمشہ لکھنے سے دور ہی رکھے گئے ۔ ایک سطر کے معنی ، ایک حرف بھی لکھنا آپ کو نہ آتا تھا ۔ آپ نے کاتب مقرر کرلئے تھے جو وحی اللہ کو لکھ لیتے تھے اور ضروت کے وقت شاہان دنیا سے خط وکتابت بھی وہی کرتے تھے پچھلے فقہاء میں قاضی ابو الولید باجی وغیرہ نے کہا کہ حدیبیہ والے دن خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ صلح نامے میں لکھا تھا کہ ھذا ماقاضی علیہ محمدا بن عبداللہ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا ۔ لیکن یہ قول درست نہیں یہ وہم قاضی صاحب کو بخاری شریف کی اس روایت سے ہوا ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ثم اخذ فکتب یعنی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ لیکر لکھا ۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے لکھنے کا حکم دیا ۔ جیسے دوسری روایت میں صاف موجود ہے کہ ثم امر فکتب یعنی آپ نے پھر حکم دیا اور لکھا گیا ۔ مشرق ومغرب کے تمام علماء کا یہی مذہب ہے بلکہ باجی وغیرہ پر انہوں نے اس قول کا بہت سخت رد کیا ہے اور اس سے بیزاری ظاہر کی ہے ۔ اور اس قول کی تردید اپنے اشعار اور خطبوں میں بھی کی ہے ۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ قاضی صاحب وغیرہ کا یہ خیال ہرگز نہیں کہ آپ اچھی طرح لکھنا جانتے تھے بلکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کا یہ جملہ صلح نامے پر لکھا جانا معجزہ تھا ۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ ک ف ر لکھا ہوا ہوگا جسے ہر مومن پڑھ لے گا اگرچہ ان پڑھ ہو تب بھی اسے پڑھ لے گا ۔ یہ مومن کی ایک کرامت ہوگی اسی طرح یہ فقرہ لکھ لینا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ تھا اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ لکھنا جانتے تھے ۔ یا آپ نے سیکھا تھا ۔ بعض لوگ ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہ ہوا جب تک کہ آپ نے لکھنا نہ سیکھ لیا ۔ یہ روایت بالکل ضعیف ہے بلکہ محض بے اصل ہے قرآن کریم کی اس آیت کو دیکھئے کس قدر تاکید کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑھا ہونے کا انکار کرتی ہے اور کتنی سختی کے ساتھ پرزور الفاظ میں اس کا بھی انکار کرتی ہے کہ آپ لکھناجانتے ہوں ۔ یہ جو فرمایا کہ داہنے ہاتھ سے یہ باعتبار غالب کے کہدیا ہے ورنہ لکھا تو دائیں ہاتھ سے ہی جاتا ہے اسی کی طرح آیت ( وَلَا طٰۗىِٕرٍ يَّطِيْرُ بِجَنَاحَيْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ 38؀ ) 6- الانعام:38 ) میں ہے کیونکہ ہر پرند اپنے پروں سے ہی اڑتا ہے ۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پڑھ ہونا بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو یہ باطل پرست آپ کی نسبت شکر کرنے کی گنجائش پاتے کہ سابقہ انبیاء کی کتابوں سے پڑھ لکھ کر نقل کرلیتا ہے لیکن یہاں تو ایسانہیں ۔ تعجب ہے کہ باوجود ایسانہ ہونے کے پھر بھی یہ لوگ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں جنہیں اس نے لکھ لیاہے ۔ وہی اس کے سامنے صبح شام پڑھی جاتی ہیں ۔ باوجودیکہ خود جانتے ہیں کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پڑھے لکھے نہیں ۔ ان کے اس قول کے جواب میں جناب باری عز اسمہ نے فرمایا انہیں جواب دو کہ اسے اس اللہ نے نازل فرمایا ہے جو زمین وآسمان کی پوشیدگیوں کو جانتا ہے ۔ یہاں فرمایا بلکہ یہ روشن آیتیں ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں ۔ خود آیات واضح صاف اور سلجھے ہوئے الفاظ میں ہیں ۔ پھر علماء پر ان کا سمجھنا یاد کرنا پہنچانا سب آسان ہے جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ 17؀ ) 54- القمر:17 ) یعنی ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے بالکل آسان کردیا ہے پس کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر نبی کو ایسی چیز دی گئی جس کے باعث لوگ ان پر ایمان لائے مجھے ایسی چیز وحی اللہ دی گئی ہے جو اللہ نے میری طرف نازل فرمائی ہے تو مجھے ذات اللہ سے امید ہے کہ تمام نبیوں کے تابعداروں سے زیادہ میرے تابعدار ہونگے ۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اے نبی !میں تمہیں آزماؤنگا اور تمہاری وجہ سے لوگوں کی بھی آزمائش کرلونگا ۔ میں تم پر ایسی کتاب نازل فرماؤنگا جسے پانی دھو نہ سکے ۔ تو اسے سوتے جاگتے پڑھتا رہے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے حروف پانی سے دھوئے جائیں لیکن وہ ضائع ہونے سے محفوظ ہے ۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اگر قرآن کسی چمڑے میں ہو تو اسے آگ نہیں جلائے گی ۔ اس لئے کہ وہ سینوں میں محفوظ ہے ، زبانوں پر آسان ہے اور دلوں میں موجود ہے ۔ اور اپنے لفظ اور معنی کے اعتبار سے ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ کتابوں میں اس امت کی ایک صفت یہ بھی مروی ہے کہ اناجیلھم فی صدورھم ان کی کتاب ان کے سینوں میں ہوگی ۔ امام ابن جریر اسے پسند فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہیں بلکہ اس کا علم کہ تو اس کتاب سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتا تھا یہ آیات بینات اہل کتاب کے ذی علم لوگوں کے سینوں میں موجودہیں ۔ قتادۃ اور ابن جریج سے بھی یہی منقول ہے اور پہلا قول حسن بصری کاہے اور یہی بہ روایت عوفی ، ابن عباس سے منقول ہے اور یہ ضحاک نے کہا ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم ۔ پھر فرماتا ہے کہ ہماری آیتوں کا جھٹلانا قبول نہ کرنا یہ حد سے گذرجانے والوں اور ضدی لوگوں کاہی کام ہے جو حق ناحق کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں جیسے فرمان ہے جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ہرگز ایمان نہ لائیں گے اگرچہ ان کے پاس نشانیاں آجائیں ۔ یہاں تک کہ وہ المناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

471اس سے مراد عبد اللہ بن سلام وغیرہ ہیں۔ ایتائے کتاب سے مراد اس پر عمل ہے، گویا اس پر جو عمل نہیں کرتے، انھیں یہ کتاب دی ہی نہیں گئی۔ 472ان سے مراد اہل مکہ ہیں۔ جن میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٩] یعنی جس طرح ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی بالکل ویسے بھی آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے۔ اور اہل کتاب میں سے جو منصف مزاج ہیں۔ وہ یہ سمجھ کر ان دونوں کتابوں کا سرچشمہ ایک ہی ہے، قرآن پر ایمان لے آئے تھے اور اہل مکہ میں بھی کچھ منصف مزاج موجود ہیں جو قرآن کے دلائل سن کر فوراً اس سے متاثر ہوجاتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں۔ گویا ایک انسان کی ہدایت کے لئے اس کتاب میں نہ نقلی دلائل کی کمی ہے اور نہ عقلی دلائل کی۔ اس سے انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے مذہبی تعصبات کو چھوڑ کر حق بات ماننے کو تیار نہیں۔ نہ وہ اپنی خواہش نفس اور بےلگام آزادی پر کسی قسم کی پابندی قبول کرنے کو تیار ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ : یعنی جس طرح ہم نے آپ سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے پیغمبروں پر کتاب نازل کی ایسے ہی آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی۔ فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ : ” جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی “ سے مراد تمام اہل کتاب نہیں، کیونکہ جس نے کتاب پڑھی ہی نہیں یا اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی یا اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور اس میں تحریف و تبدل سے کام لیا تو وہ درحقیقت ان لوگوں میں شامل ہی نہیں جنھیں کتاب دی گئی، کیونکہ انھوں نے اسے اس طرح لیا ہی نہیں جیسے لینا چاہیے تھا۔ یعنی وہ لوگ جنھیں ہم نے اس سے پہلے کتاب دی اور وہ فی الواقع اس کا اتباع کرتے ہیں وہ اس کتاب (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں، کیونکہ دونوں کا مضمون اصولی طور پر ایک ہے اور پہلی کتابوں کی کوئی خوبی ایسی نہیں جو اس میں موجود نہ ہو، بلکہ یہ کتاب تو پہلی کتابوں پر مہیمن (نگران) ہے اور یہ زندۂ جاوید معجزہ ہے، تو حقیقی اہل کتاب اس پر کیوں ایمان نہیں لائیں گے۔ وَمِنْ هٰٓؤُلَاۗءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ : یعنی ان اہل عرب مشرکین میں سے بھی کئی لوگ اس پر ایمان لا رہے ہیں اور لائیں گے، جو حق واضح ہونے کے بعد اسے قبول کرنے والے ہیں۔ وَمَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ ” جُحُوْدٌ“ کا معنی کسی بات کا علم ہونے کے باوجود اس کا انکار کردینا ہے۔ (دیکھیے نمل : ١٤) جبکہ ” کُفْرٌ“ کا لفظ ایمان کے مقابلے میں آتا ہے، اس کا معنی ناشکری بھی ہے، انکار بھی اور چھپانا بھی۔ (قاموس) ” آیَاتِنَا “ کا لفظی معنی نشانیاں ہیں، مراد قرآن مجید ہے، کیونکہ اس کی تمام آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانیاں اور معجزہ ہیں، جن کے مقابلے کی آیات پوری کائنات پیش نہیں کرسکتی اور اس قدر واضح اور روشن ہیں کہ ان کا انکار ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں کرے گا جو حق کا علم رکھتے ہوئے اسے چھپاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ۝ ٠ۭ فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰہُمُ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِہٖ۝ ٠ۚ وَمِنْ ہٰٓؤُلَاۗءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِہٖ۝ ٠ۭ وَمَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَآ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ۝ ٤٧ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ جحد الجُحُود : نفي ما في القلب إثباته، وإثبات ما في القلب نفيه، يقال : جَحَدَ جُحُوداً وجَحْداً قال عزّ وجل : وَجَحَدُوا بِها وَاسْتَيْقَنَتْها أَنْفُسُهُمْ [ النمل/ 14] ، وقال عزّ وجل : بِآياتِنا يَجْحَدُونَ [ الأعراف/ 51] . وتَجَحَّدَ تَخَصَّصَ بفعل ذلك، يقال : رجل جَحِدٌ: شحیح قلیل الخیر يظهر الفقر، وأرض جَحْدَة : قلیلة النبت، يقال : جَحَداً له ونَكَداً ، وأَجْحَدَ : صار ذا جحد . ( ج ح د ) حجد ( ف ) جحد وجحودا ( رجان بوجھ کر انکار کردینا ) معنی دل میں جس چیز کا اقرار ہو اس کا انکار اور جس کا انکار ہو اس کا اقرار کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَحَدُوا بِها وَاسْتَيْقَنَتْها أَنْفُسُهُمْ [ النمل/ 14] اور ان سے انکار کیا کہ انکے دل انکو مان چکے تھے بِآياتِنا يَجْحَدُونَ [ الأعراف/ 51] اور ہماری آیتوں سے منکر ہورہے تھے ۔ کہا جاتا ہے : ۔ رجل جحد یعنی کنجوس اور قلیل الخیر آدمی جو فقر کو ظاہر کرے ۔ ارض جحدۃ خشک زمین جس میں روئید گی نہ ہو ۔ محاورہ ہے : ۔ اسے خبر حاصل نہ ہو ۔ اجحد ۔ ( افعال ، انکار کرنا ۔ منکر ہونا ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اسی طرح ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی تاکہ اس میں جو اوامرو نواہی اور واقعات ہیں وہ آپ ان کے سامنے پڑھ کر سنائیں۔ سو جن لوگوں کو ہم نے کتاب توریت کا علم دیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ وہ آپ پر اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے ہیں اور ان مشرکین مکہ میں سے بھی کچھ لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم پر ایمان لے آئے ہیں اور ہماری آیات میں سے سوائے کافروں یعنی کعب و ابوجہل وغیرہ کے اور کوئی انکار نہیں کرتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ج) ” یعنی یہود و نصاریٰ میں سے بھی ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن کو اللہ کا کلام مانتے ہوئے اس پر ایمان لائیں گے۔ جیسا کہ قبل ازیں ہم سورة القصص کے چھٹے رکوع میں حبشہ سے مکہ آنے والے ان مسلمانوں کا ذکر پڑھ چکے ہیں جو پہلے عیسائی تھے ‘ پھر صحابہ کرام (رض) کی تبلیغ سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے اور یوں اللہ تعالیٰ کے ہاں دوہرے اجر کے مستحق ٹھہرے۔ (وَمَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الْکٰفِرُوْنَ ) ” یہاں سے آگے اب دوسرا مضمون شروع ہو رہا ہے جس میں روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف ہے۔ ان لوگوں کے لیے یہاں نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی ایک اور دلیل بیان کی جا رہی ہے۔ سورت کے اس حصے میں ساتھ ساتھ چلنے والے دو موضوعات کو قبل ازیں رسی کی دو ڈوریوں سے تشبیہہ دی گئی تھی۔ اس ضمن میں یوں سمجھیں کہ اب کچھ دیر کے لیے دوسری ڈوری نمایاں ہورہی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

84 This can have two meanings: (1) "Just as We had sent down the Books to the former Prophets, so We have sent down this Book to you"; and (2) "We have sent down this Book with the teaching that it should be believed in not by rejecting Our former Books but by affirming faith in all of them. " 85 The context itself shows that this dces not imply all the people of the Book but only those who were blessed with the right understanding and the knowledge of the Divine Scriptures, and were "the people of the Book ' in the we sense. When this last Book of Allah came before them, confirming His earlier Books, they did not show any stubbornness or obstinacy but accepted it sincerely as they had accepted the previous Books. 86 "These people": the people of Arabia. What it means to say is: The truth-loving people, whether they already possess a Divine Book or do not possess any, are affirming faith in it everywhere. 87 Here, "the disbelievers" imply those people who are not prepared to give up their prejudices and accept the truth, or those who reject the truth because they do not want their lusts and their unbridled freedom to be subjected to restrictions.

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 84 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ جس طرح پہلے انبیاء پر ہم نے کتابیں نازل کی تھیں اسی طرح اب یہ کتاب تم پر نازل کی ہے ۔ دوسرا یہ کہ ہم نے اسی تعلیم کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے کہ ہماری پچھلی کتابوں کا انکار کر کے نہیں بلکہ ان سب کا اقرار کرتے ہوئے اسے مانا جائے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 85 سیاق و سباق خود بتا رہا ہے کہ اس سے مراد تمام اہل کتاب نہیں ہیں بلکہ وہ اہل کتاب ہیں جن کو کتب الہیہ کا صحیح علم و فہم نصیب ہوا تھا ، جو چارپائے بروکتا بے چند کے مصداق محض کتاب بردار قسم کے اہل کتاب نہیں تھے ، بلکہ حقیقی معنی میں اہل کتاب تھے ۔ ان کے سامنے جب اللہ تعالی کی طرف سے اس کی پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہوئی یہ آخری کتاب آئی تو انہوں نے کسی ضد اور ہٹ دھرمی اور تعصب سے کام نہ لیا اور اسے بھی ویسے ہی اخلاص کے ساتھ تسلیم کرلیا کہ جس طرح پچھلی کتابوں کو تسلیم کرتے تھے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 86 ان لوگوں کا اشارہ اہل عرب کی طرف ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ حق پسند لوگ ہر جگہ اس پر ایمان لارہے ہیں خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا غیر اہل کتاب میں سے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 87 یہاں کافر سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے تعصبات کو چھوڑ کر حق بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ، یا وہ جو اپنی خواہشات نفس اور اپنی بے لگام آزادیوں پر پابندیاں قبول کرنے سے جی چراتے ہیں اور اس بنا پر حق کا انکار کرتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:47) کذلک ۔۔ الکتب اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں :۔ rnّ (1) جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کی تھیں اسی طرح اب یہ کتاب (القرآن) تم پر نازل کی ہے۔ (2) ہم نے اس تعلیم کے ساتھ یہ کتاب (قرآن) نازل کی ہے کہ ہماری پچھلی کتابوں کا انکار کرکے نہیں بلکہ ان کا اقرار کرتے ہوئے اسے مانا جائے۔ اتینھم الکتب ای التوراۃ والانجیل۔ یا اس میں حذف مضاف ہے اور کلام یوں ہے اتینھم علم الکتب جن کو ہم نے توراۃ و انجیل کا علم عطا کیا۔ یؤمنون بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الکتب (یعنی القرآن) کے لئے ہے اور یؤمنون میں ضمیر جمع مذکر غائب ان علماے اہل کتاب کی طرف راجع ہے جنہوں نے خدا کی نازل کردہ کتابوں کو بغور پر ھا جیسا کہ پڑھنے کا حق ہوتا ہے اور نتیجۃ ایمان لے آئے۔ من ھؤلاء میں من تبعیضیہ ہے ھؤلاء کا اشارہ اہل عرب یا اہل مکہ کی طرف ہے (اور ان لوگوں میں سے بھی اس (قرآن) پر ایمان لے آئے ہیں) امام رازی (رح) کا قول ہے کہ من ھؤلاء سے مراد بعض مشرکین مکہ نہیں بلکہ بعض اہل کتاب ہی ہیں۔ یجحد۔ مضارع واحد مذکر غائب جحد یجحد (فتح) جحد وجحود جان بوجھ کر انکار کرنا۔ وما یجحد اور کوئی انکار نہیں کرتا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ نے تورات، انجیل، زبور اور صحف ابراہیم نازل کیے اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن مجید نازل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صحف ابراہیم، تورات، زبور اور انجیل میں یہ بات بھی بیان فرمائی ہے کہ تمام انبیاء کے آخر میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم المرسلین کے طور پر مبعوث کیے جائیں گے اور ان پر قرآن نازل کیا جائے گا۔ جس کا تذکرہ یوں کیا جا رہا ہے کہ اسی طرح ہی ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف قرآن مجید نازل کیا جن لوگوں کو ہم نے آپ سے پہلے کتاب عنایت کی اور وہ اس پر سچا ایمان رکھتے ہیں۔ وہی لوگ قرآن مجید پر ایمان لاتے ہیں اور اہل مکہ میں بھی قرآن مجید پر ایمان لانے والے ہیں۔ حقائق جاننے اور ٹھوس دلائل آنے کے باوجود ہماری آیات کے ساتھ صرف کافر لوگ ہی جھگڑا کیا کرتے ہیں۔ پہلی کتابوں پر ایمان لانے کا معنٰی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہیں۔ ان پر ایمان لانے کے باوجود سب کے لیے قابل اتباع صرف قرآن مجید ہے کیونکہ یہ سب سے آخری آسمانی کتاب ہے۔ ایمان کی مبادیات اور ان کا مرکزی تقاضا : (عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیدُ بَیَاض الثِّیَابِ شَدِیدُ سَوَاد الشَّعْرِ لاَ یُرٰی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلاَ یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ قَالَ فَأَخْبِرْنِی عَنِ الإِیمَانِ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ باللَّہِ وَمَلاَءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بالْقَدَرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ )[ رواہ مسلم : باب مَعْرِفَۃِ الإِیمَانِ وَالإِسْلاَمِ ] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی سفید کپڑوں میں ملبوس سیاہ بالوں والا جس پر سفر کے کوئی آثار نہیں تھے اور ہم سے کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا وہ آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا اور اپنی ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھتے ہوئے عرض کی مجھے ایمان کے متعلق بتائیے آپ نے فرمایا کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔ “ (عَنْ أَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ (رض) سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ مَنْ رَأَی مُنْکَرًا فَغَیَّرَہُ بِیَدِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِیَدِہِ فَغَیَّرَہُ بِلِسَانِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِلِسَانِہِ فَغَیَّرَہُ بِقَلْبِہِ فَقَدْ بَرِءَ وَذَلِکَ أَضْعَفُ الإِیمَانِ ) [ رواہ النسائی : باب تَفَاضُلِ أَہْلِ الإِیمَانِ ] ” حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے فرمایا جس شخص نے برائی کو دیکھا اور اس نے اسے اپنے ہاتھ سے ختم کیا تو وہ بری ہوگیا۔ اگر اس میں برائی کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں اور اس نے اسے اپنی زبان سے منع کیا وہ بھی بری ہوا۔ اس نے زبان سے روکنے کی طاقت نہ پائی مگر اس نے اسے اپنے دل سے برا سمجھا تو وہ بھی بری ہوگیا۔ یہ سب سے کمتر ایمان ہے۔ “ مسائل ١۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابیں نازل فرمائیں اسی طرح نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل کیا ہے۔ ٢۔ پہلی کتابوں پر صحیح ایمان رکھنے والے لوگ قرآن مجید پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ صرف کافر ہی جھگڑا کرتے ہیں۔ تفسیر باالقرآن پہلی آسمانی کتابوں اور قرآن مجید پر ایمان لانا فرض ہے : ١۔ قرآن مجید اور پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : ٤) ٢۔ اللہ اور کتب سماوی پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : ١٣٦) ٣۔ اللہ، ملائکہ، اللہ کی کتابوں، اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ : ٢٨٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وکذلک انزلنا الیک ۔۔۔۔۔۔ بایتنا الا الکفرون (47) ” اسی طرح “ یعنی ایک ہی مسلسل اور تاریخی منہاج کے مطابق ، ایک ہی سنت الہیہ کے مطابق جو اٹل ہے اور اسی طریقے کے مطابق جس کے ذریعے اللہ ہمیشہ رسولوں کو ہدایت دیتا رہا ہے۔ وکذلک انزلنا الیک الکتب (29: 47) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے “۔ اور جب کتاب نازل کی تو لوگ اس کے مقابلے میں دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے ۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو اہل کتاب میں سے بھی تھے اور قریش میں سے بھی تھے وہ تو ایمان لے آئے اور دوسرا گروہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب کے ایمان اور شہادت کے بعد بھی اس کو تسلیم نہیں کرتے حالانکہ وہ اس کی سچائی کی تصدیق کرچکے ہیں۔ وما یجحد بایتنا الا الکفرون (29: 47) ” اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں “۔ یعنی یہ آیات اس قدر واضح ہیں ، اس قدر سیدھی ہیں کہ ان کا انکار وہی شخص کرسکتا ہے جس کی عقل پر پردے پڑگئے ہوں ، جس کی روح مستور ہو ، اور وہ اس قابل ہی نہ رہی ہو کہ سچائی کو دیکھ سکے۔ کفر کے حقیقی معنی ہی چھپانے اور پردوں میں ڈالنے کے ہیں۔ یہاں قرآن نے جو انداز بیان اختیار کیا ہے اس میں کفر کے اصطلاحی معنوں کے ساتھ لغوی معنی بھی ملحوظ رکھے گئے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(وَ کَذٰلِکَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ ) اور جس طرح ہم نے پہلی کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے آپ کی طرف یہ کتاب نازل فرمائی یعنی قرآن مجید (فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ) (جن لوگوں کو ہم نے آپ سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں) اس سے وہ اہل کتاب مراد ہے جنہوں نے حق ظاہر ہوتے ہی حق کو قبول کیا اور اسلام لے آئے جیسے عبد اللہ بن سلام، سلمان فارسی اور حبشہ کے نصاریٰ (وَ مِنْ ھٰٓؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِہٖ ) (اور ان لوگوں میں سے یعنی قریش مکہ اور دیگر قبائل اہل عرب میں سے بعض لوگ قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں) (وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَآ اِلَّا الْکٰفِرُوْنَ ) (اور ہماری آیات کا وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو کافر ہیں) حق کو چھپاتے ہیں باطل پر جمے رہتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

39:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے اور یہ الکتاب یعنی قرآن کو ماننے کی ترغیب ہے۔ ایسی عظیم الشان، مدلل اور محکم کتاب نازل کرنا ہمارا ہی کمال ہے۔ اب تمہیں اس کتاب پر عمل کرنا چاہیے۔ 40:۔ یہ دعوی توحید پر نقلی دلیل ہے مؤمنین اہل کتاب سے۔ یعنی اہل کتاب میں سے جو حق پسند اور منصف مزاج ہیں وہ قرآن پر ایمان لا چکے ہیں یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن اور اس کا بیان کردہ مسئلہ توحید ہے۔ ومن ھؤلاء سے اہل عرب یا اہل مکہ مراد ہیں۔ یعنی اہل کتاب کے علاوہ خود ان مشرکین میں سے بھی بہت سے لوگ ایمان لا چکے ہیں۔ وما یجحد، یہ زجر ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ انصاف پسند تھے وہ تو ایمان لا چکے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ضدی اور معاند ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے بہت سے لوگ حق کو سمجھنے کے باوجود محض ضد وعناد کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

47۔ اور جس طرح ہم نے پہلے انبیاء پر کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب یعنی قرآن کریم کو مانتے ہیں اور بعض لوگ ان منکرین عرب میں سے بھی ایسے ہیں جو اس کتاب یعنی قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار نہیں کرتے مگر وہی جو کفر کے خوگر ہوچکے ہیں اور کفر پر اڑنے والے ہیں ۔ یعنی ضدی اور ہٹی قسم کے لوگ تو انکار ہی کرتے رہتے ہیں لیکن جو مصنف مزاج اور صحیح سمجھ رکھنے والے ہیں وہ مشرکوں میں سے بھی اور اہل کتاب میں سے بھی اس کو مانتے اور اس پر ایمان لے آتے ہیں اول قرآن کریم کے نزول پر استدلال کیا کتب سابقہ کے نزول سے پھر اہل کتاب کا ذکر فرمایا ان کی کتابوں میں تو قرآن کریم کی پیشین گوئی موجود ہے لہٰذا جو صحیح سمجھ رکھتے ہیں ۔ وہ قرآن کریم پر ایمان لے آتے ہیں اور مشرکین میں سے بھی جو مصنف ہیں وہ خود سمجھ کر یا اہل علم یا اہل کتاب کے ایمان سے استدلال کرکے قرآن کریم پر ایمان لے آتے ہیں اور بالکل اناکر تو وہی کرتے ہیں جو پرلے درجے کے ضدی اور ہٹی ہیں کوئی ظاہر ایمان لے آتا ہے کوئی دل سے سمجھتا کہ کتاب جھوٹی نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ان لوگوں میں یعنی مشرکوں میں اور جن کتاب والوں نے اپنی کتاب ٹھیک سمجھی دے اس کو بھی مانیں گے۔ 12