Surat ul Ankaboot

Surah: 29

Verse: 59

سورة العنكبوت

الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۵۹﴾

Who have been patient and upon their Lord rely.

وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب تعالٰی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الَّذِينَ صَبَرُوا ... Those who are patient, in adhering to their religion, who migrated for the sake of Allah and fought the enemy, leaving behind their families and relatives to seek Allah's Face, and hoping for that which is with Him, believing His promise. Ibn Abi Hatim, may Allah have mercy on him, recorded from Abu Mu`aniq Al-Ash`ari that Abu Malik Al-Ash`ari told him that the Messenger of Allah told him: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا أَعَدَّهَا اللهُ تَعَالَى لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَطَابَ الْكَلَمَ وَتَابَعَ الصَّلَةَ وَالصِّيَامَ وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَام In Paradise there are rooms whose outside can be seen from the inside, and their inside can be seen from the outside; Allah has prepared them for those who feed others, who speak well, who pray and fast continually, and who stand in prayer at night while people are asleep. ... وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ and put their trust in their Lord. in all their affairs, spiritual and worldly alike. Then Allah tells us that provision is not limited only to one place, but it is given to all His creatures no matter where they are. Indeed, when the Muhajirin migrated, their provision was greater and better than before, because after a short time they became rulers in the land, in all regions. Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

591یعنی دین پر مضبوطی سے قائم رہے، ہجرت کی تکلیفیں برداشت کیں، اہل و عیال اور عزیز و اقربا سے دوری کو محض اللہ کی رضا کے لئے گوارا کیا۔ 592دین اور دنیا کے ہر معاملے اور حالات میں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩١] نیک اعمال میں سرفہرست صبر ہے۔ اور صبر کا لفظ بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی اللہ کی راہ میں یہ پیش آنے والی مشکلات کو اللہ کی رضا کے لئے خندہ پیشانی سے برداشت کرنا بھی صبر ہے۔ اور احکام شریعت سے استقلال کے ساتھ کاربند رہنا بھی صبر ہے۔ اور مالی مفادات کے ضیاع کو درخور اعتناء نہ سمجھنا بھی صبر ہے۔ اور نیک اعمال میں سے دوسرے نمبر پر اللہ پر توکل کا ذکر فرمایا۔ اللہ پر توکل کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے ان وعدوں پر یقین کیا جائے جو اس نے اپنے فرمانبردار بندوں سے کر رکھے ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ ان وعدوں کے پورا ہونے کے ظاہری اسباب بھی مفقود نظر آرہے ہوں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

الَّذِيْنَ صَبَرُوْا : یعنی جنت کے بالا خانوں پر سرفراز ہونے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے دین اسلام اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر، گناہوں سے اجتناب پر، مشرکین کی ایذاؤں پر، ہجرت اور جہاد فی سبیل اللہ کی تکالیف پر صبر کیا، خویش و اقارب اور وطن کو چھوڑا اور دشمنوں سے پنجہ آزما ہوئے۔ وَعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ : اور وہ ہمیشہ اپنے ہر کام میں صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔ وہ اپنے وطن، جائداد، کاروبار، دوست احباب، خویش و اقارب، غرض کسی چیز پر بھروسا نہیں کرتے، بلکہ صرف اپنے رب پر بھروسا کرتے ہوئے اس کے راستے میں ہجرت اور جہاد کے لیے نکل جاتے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰي رَبِّہِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۝ ٥٩ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جنہوں نے احکام الہی کی بجا آوری کی اور سختیوں پر صبر اور اپنے رب توکل کیا کرتے تھے اس کے علاوہ اور کسی پر بھروسا نہیں رکھتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٩ (الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ) ” اگر تم لوگوں نے اپنے لیے حق کے راستے کا انتخاب کیا ہے تو اس پر چلتے ہوئے باطل سے پنجہ آزمائی کرنے کا مرحلہ بھی آئے گا اور قدم قدم پر مصائب و مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اس سب کچھ کے مقابلے میں تمہارے پاس دو انتہائی مؤثر ہتھیار ہمہ وقت موجود و دستیاب رہنے چاہئیں ‘ یعنی صبر اور توکلّ علی اللہ ! بس اس راستے میں جو مشکل اور جو مصیبت بھی آئے اسے جھیلنے اور برداشت کرنے کا عزم اپنے اندر ہر دم تازہ اور بلند رکھو اور بھروسہ رکھو تو صرف اللہ کی ذات پر ! اس کٹھن سفر میں نہ تو تم مادی اسباب وو سائل پر نظر رکھو اور نہ ہی اپنی ذہانت و فطانت اور قوت و شجاعت کو لائق اعتناء سمجھو !۔۔ اب ساتویں نصیحت ملاحظہ ہو :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

97 "Who . . patience": who remained steadfast in faith in the face of hardships and afflictions and losses and persecutions; who have endured the consequences of the faith and have not turned away; who have seen the advantages and benefits of abandoning the faith and have not been lured away by them; who have seen the disbelievers and the wrongdoers prosper in the world and have not cast even a stray glance at their wealth and splendour. " 98 "Put . . . Lord": Who did not put their trust in their possessions and their business and their clans and tribes but in their Lord; who were prepared to fight every power and endure every danger for the sake of their faith only on the basis of their trust in their Lord irrespective of the worldly means, and left their homes if their faith so demanded; who trusted their Lord that He would not let go waste the rewards of their faith and good works, and were sure that He would succour His believers and righteous servants even in this world and bless them with the best rewards in the Hereafter as well.

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 97 یعنی جو ہر طرح کی مشکلات اور مصائب اور نقصانات اور اذیتوں کے مقابلے میں ایمان پر قائم رہے ہیں ۔ جنہوں نے ایمان لانے کے خطرات کو اپنی جان پر جھیلا ہے اور منہ نہیں موڑا ہے ۔ ترک ایمان کے فائدوں اور منفعتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ان کی طرف ذرہ برابر التفات نہیں کیا ہے ۔ کفار و فساق کو اپنے سامنے پھولتے دیکھا ہے اور ان کی دولت و حشمت پر ایک نگاہ غلط انداز بھی نہیں ڈالی ہے ۔ سورة العنکبوت حاشیہ نمبر : 98 یعنی جنہوں نے بھروسہ اپنی جائدادوں اور اپنے کاروبار اپنے کنبے قبیلے پر نہیں بلکہ اپنے رب پر کیا ۔ جو اسباب دنیوی سے قطع نظر کر کے محض اپنے رب کے بھروسے پر ایمان کی خاطر ہر خطرہ سہنے اور ہر طاقت سے ٹکرا جانے کے لیے تیار ہوگئے ، اور وقت آیا تو گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے ۔ جنہوں نے اپنے رب پر یہ اعتماد کیا کہ ایمان اور نیکی پر قائم رہنے کا اجر اس کے ہاں کبھی ضائع نہ ہوگا اور یقین رکھا کہ وہ اپنے مومن و صالح بندوں کی اس دنیا میں بھی دستگیری فرمائے گا اور آخرت میں بھی ان کے عمل کا بہترین بدلہ دے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(29:59) یہ آیت عاملین (آیت 58) کی صفت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

1 ۔ نہ کہ اپنی جائیدادوں، کاروبار یا برادری یا کسی اور چیز پر۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی واقع سختیوں پر جن میں ہجرت کی سختی بھی داخل ہے صبر کیا۔ 6۔ یعنی محتمل الوقوع تکالیف کے اندیشے کے وقت جن میں دوسری محتمل سختیوں کے ساتھ اندیشہ رزق بھی آگیا وہ اپنے رب پر توکل کرتے تھے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

59۔ وہ عمل کرنے اور کام کرنے والے وہ لوگ ہیں جو مصائب پر ثابت قدم رہے اور صبر کرتے رہے اور اپنے پروردگاری ہی پر بھروسہ کرتے رہے اور اسی پر توکل کرتے رہے۔ یعنی ایمان اور اعمال صالحہ کی پابندی کرنے والوں کا صلہ بیان کیا اور یہ بتایا کہ وہ مصیبتوں پر صبر کرنے والے ہیں جس میں ہجرت کی تکلیف اور مصیبت بھی آگئی ۔ صبر کرنے والے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر بھروسہ کرتے تھے یعنی اپنے ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ پر ان کو بھروسہ تھا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس وطن کے بدلے وہ وطن ملے گا ۔ 12 آگے روزی کی طرف سے اطمینان دلایا ۔