Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 102

سورة آل عمران

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۲﴾

O you who have believed, fear Allah as He should be feared and do not die except as Muslims [in submission to Him].

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Meaning of `Taqwa of Allah Allah says, يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ ... O you who believe! Have Taqwa of Allah as is His due, Ibn Abi Hatim recorded that Abdullah bin Mas`ud commented on the Ayah, اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ (Have Taqwa of Allah as is His due), "That He is obeyed and not defied, remembered and not forgotten and appreciated and not unappreciated." This has an authentic chain of narration to Abdullah bin Mas`ud. Al-Hakim collected this Hadith in his Mustadrak, from Ibn Mas`ud, who related it to the Prophet. Al-Hakim said, "It is authentic according to the criteria of the Two Sheikhs (Al-Bukhari and Muslim), and they did not record it." This is what he said, but it appears that it is only a statement of Abdullah bin Mas`ud, and Allah knows best. It was also reported that Anas said, "The servant will not have Taqwa of Allah as is His due until he keeps his tongue idle." Allah's statement, ... وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ and die not except as (true) Muslims. means, preserve your Islam while you are well and safe, so that you die as a Muslim. The Most Generous Allah has made it His decision that whatever state one lives in, that is what he dies upon and is resurrected upon. We seek refuge from dying on other than Islam. Imam Ahmad recorded that Mujahid said, "The people were circling around the Sacred House when Ibn Abbas was sitting, holding a bent-handled walking stick. Ibn Abbas said, The Messenger of Allah (recited) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (Have Taqwa of Allah as is His due, die not except as (true) Muslims) then he said; وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قُطِرَتْ لاََمَرَّتْ عَلى أَهْلِ الاْرْضِ عِيشَتَهُمْ فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ إِلاَّ الزَّقُّومُ Verily, if a drop of Zaqqum (a tree in Hell) falls, it will spoil life for the people of earth. What about those whose food is only from Zaqqum?" This was recorded by At-Tirmidhi, An-Nasa'i, Ibn Majah, Ibn Hibban in his Sahih and Al-Hakim his Mustadrak. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih," while Al-Hakim said; "It meets the conditions of the Two Sahihs and they did not record it." Imam Ahmad recorded that Jabir said that; three nights before the Messenger of Allah died he heard him saying; لاَا يَمُوتَنَّ أَحَدُكُمْ إِلاَّ وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَجَل None of you should die except while having sincere trust in Allah, the Exalted and Most Honorable. Muslim also recorded it. The Two Sahihs record that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, يَقُولُ اللهُ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي Allah said, "I am as My servant thinks of Me." The Necessity of Holding to the Path of Allah and the Community of the Believers Allah said next,

اللہ تعالیٰ کی رسی قرآن حکیم ہے اللہ تعالیٰ سے پورا پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے اور اس کی یاد نہ بھلائی جائے اس کا شکر کیا جائے کفر نہ کیا جائے ، بعض روایتوں میں یہ تفسیر مرفوع بھی مروی ہے لیکن ٹھیک بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے واللہ اعلم ۔ حضرت انس کا فرمان ہے کہ انسان اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حق نہیں بجا لا سکتا جب تک اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے ، اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِيْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ۭ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) 64 ۔ التغابن:16 ) کی آیت سے منسوخ ہے اس دوسری آیت میں فرما دیا ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس سے ڈرتے رہا کرو ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں منسوخ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہو اس کے کاموں میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کرو عدل پر جم جاؤ یہاں تک کہ خود اپنے نفس پر عدل کے احکام جاری کرو اپنے ماں باپ اور اپنی اولاد کے بارے میں بھی عدل و انصاف برتا کرو ۔ پھر فرمایا کہ اسلام پر ہی مرنا یعنی تمام زندگی اس پر قائم رہنا تاکہ موت بھی اسی پر آئے ، اس رب کریم کا اصول یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی جیسی رکھے ویسی ہی اسے موت آتی ہے اور جیسی موت مرے اسی پر قیامت کے دن اٹھایا جاتا ہے واللہ تعالیٰ اللہ تعالیٰ کی ناپسند موت سے ہمیں اپنی پناہ میں رکھے آمین ۔ مسند احمد میں ہے کہ لوگ بیت اللہ شریف کا طواف کر رہے تھے اور حضرت ابن عباس بھی وہاں تھے ان کے ہاتھ میں لکڑی تھی بیان فرمانے لگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں گرا دیا جائے تو دنیا والوں کی ہر کھانے والی چیز خراب ہو جائے کوئی چیز کھا پی نہ سکیں پھر خیال کرو کہ ان جہنمیوں کا کیا حال ہو گا جن کا کھانا پینا ہی یہ زقوم ہو گا اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص جہنم سے الگ ہوتا اور جنت میں جانا چاہتا ہو اسے چاہئے کہ مرتے دم تک اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھے اور لوگوں سے وہ برتاؤ کرے جسے وہ خود اپنے لئے چاہتا ہو ( مسند احمد ) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی آپ کے انتقال کے تین روز پہلے سنا کہ دیکھو موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے نیک گمان رکھنا ( مسلم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرا بندہ میرے ساتھ جیسا گمان رکھے میں اس کے گمان کے پاس ہی ہوں اگر اس کا میرے ساتھ حسن ظن ہے تو میں اس کے ساتھ اچھائی کروں گا اور اگر وہ میرے ساتھ بدگمانی کرے گا تو میں اس سے اسی طرح پیش آؤں گا ( مسند احمد ) اس حدیث کا اگلا حصہ بخاری مسلم میں بھی ہے ، مسند بزار میں ہے کہ ایک بیمار انصاری کی بیمار پرسی کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور سلام کر کے فرمانے لگے کہ کیسے مزاج ہیں؟ اس نے کہا الحمد للہ اچھا ہوں رب کی رحمت کا امیدوار ہوں اور اس نے عذابوں سے ڈر رہا ہوں ، آپ نے فرمایا سنو ایسے وقت جس دل میں خوف و طمع دونوں ہوں اللہ اس کی امید کی چیز اسے دیتا ہے اور ڈر خوف کی چیز سے بچاتا ہے ، مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور کہا کہ میں کھڑے کھڑے ہی کروں ، اس کا مطلب امام نسائی نے تو سنن نسائی میں باب باندھ کر یہ بیان کیا ہے کہ سجدے میں اس طرح جان چاہئے ، اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ میں مسلمان ہوئے بغیر نہ مروں ، اور یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ جہاد پیٹھ دکھاتا ہوا نہ مارا جاؤں ۔ پھر فرمایا باہم اتفاق رکھو اختلاف سے بچو ۔ حبل اللہ سے مراد عہد الہ ہے ، جیسے الا یحبل من اللہ الخ ، میں حبل سے مراد قرآن ہے ، ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ قرآن اللہ کریم کی مضبوطی رسی ہے اور اس کی سیدھی راہ ہے ، اور روایت میں ہے کہ کتاب اللہ اللہ تعالیٰ کی آسمان سے زمین کی طرف لٹکائی ہوئی رسی ہے ، اور حدیث میں ہے کہ یہ قرآن اللہ سبحانہ کی مضبوط رسی ہے یہ ظاہر نور ہے ، یہ سراسر شفا دینے والا اور نفع بخش ہے اس پر عمل کرنے والے کے لئے یہ بچاؤ ہے اس کی تابعداری کرنے والے کے لئے یہ نجات ہے ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ان راستوں میں تو شیاطین چل پھر رہے ہیں تم اللہ کے راستے پر آجاؤ تم اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو وہ رسی قرآن کریم ہے ۔ اختلاف نہ کرو پھوٹ نہ ڈالو جدائی نہ کرو ، علیحدگی سے بچو ، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین باتوں سے اللہ رحیم خوش ہوتا ہے اور تین باتوں سے ناخوش ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اسی کے عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو دوسرے اللہ کی رسی کو اتفاق سے پکڑو ، تفرقہ نہ ڈالو ، تیسرے مسلمان بادشاہوں کی خیر خواہی کرو ، فضول بکواس ، زیادتی سوال اور بربادی مال یہ تینوں چیزیں رب کی ناراضگی کا سبب ہیں ، بہت سی روایتیں ایسی بھی ہیں جن میں سے کہ اتفاق کے وقت وہ خطا سے بچ جائیں گے اور بہت سی احادیث میں نااتفاقی سے ڈرایا بھی ہے ، ان ہدایات کے باوجود امت میں اختلافات ہوئے اور تہتر فرقے ہو گئے جن میں سے ایک نجات پا کر جنتی ہو گا اور جہنم کے عذابوں سے بچ رہے گا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس پر قائم ہوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تھے ۔ پھر اپنی نعمت یاد دلائی ، جاہلیت کے زمانے میں اوس و خزرج کے درمیان بڑی لڑائیاں اور سخت عداوت تھی آپس میں برابر جنگ جاری رہتی تھی جب دونوں قبیلے اسلام لائے تو اللہ کریم کے فضل سے بالکل ایک ہو گئے سب حسد بغض جاتا رہا اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے مددگار اور اللہ تعالیٰ کے دین میں ایک دوسرے کے ساتھ متفق ہو گئے ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ 62؀ۙ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ ) 8 ۔ الانفال:62 ) وہ اللہ جس نے تیری تائید کی اپنی مدد کے ساتھ اور مومنوں کے ساتھ اور ان کے دلوں میں الفت ڈال دی ۔ اپنا دوسرا احسان ذکر کرتا ہے کہ تم آگ کے کنارے پہنچ چکے تھے اور تمہارا کفر تمہیں اس میں دھکیل دیتا لیکن ہم نے تمہیں اسلام کی توفیق عطا فرما کر اس سے بھی الگ کر لیا ، حنین کی فتح کے بعد جب مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے مصلحت دینی کے مطابق حضور علیہ السلام نے بعض لوگوں کو زیادہ مال دیا تو کسی شخص نے کچھ ایسے ہی نامناسب الفاظ زبان سے نکال دئیے جس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت انصار کو جمع کر کے ایک خطبہ پڑھا اس میں یہ بھی فرمایا تھا کہ اے جماعت انصار کیا تم گمراہ نہ تھے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہیں ہدایت دی؟ کیا تم متفرق نہ تھے پھر رب دو عالم نے میری وجہ سے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی کیا تم فقیر نہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہیں میری وجہ سے غنی کر دیا ؟ ہر ہر سوال کے جواب میں یہ پاکباز ، جماعت یہ اللہ والا گروہ کہتا جاتا تھا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان اور بھی بہت سے ہیں اور بہت بڑے بڑے ہیں ، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جب اوس و خزرج جیسے صدیوں کے آپس کے دشنوں کو یوں بھائی بھائی بنا ہوا دیکھا تو یہودیوں کی آنکھوں میں کانٹا کھٹکنے لگا انہوں نے آدمی مقرر کئے کہ وہ ان کی محفلوں اور مجلس میں جایا کریں اور اگلی لڑائیاں اور پرانی عداوتیں انہیں یاد دلائیں ان کے مقتولوں کی یاد تازہ کرائیں اور اس طرح انہیں بھڑکائیں ۔ چنانچہ ان کا یہ داؤ ایک مرتبہ چل بھی گیا اور دونوں قبیلوں میں پرانی آگ بھڑک اٹھی یہاں تک کہ تلواریں کھچ گئیں ٹھیک دو جماعتیں ہوگئیں اور وہی جاہلیت کے نعرے لگنے لگے ہتھیار سجنے لگے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے اور یہ ٹھہر گیا کہ حرہ کے میدان میں جا کر ان سے دل کھول کر لڑیں اور مردانگی کے جوہر دکھائیں پیاسی زمین کو اپنے خون سے سیراب کریں لیکن حضور علیہ السلام کو پتہ چل گیا آپ فوراً موقع پر تشریف لائے اور دونوں گروہ کو ٹھکڈا کیا اور فرمانے لگے پھر جاہلیت کے نعرے تم لگانے لگے میری موجودگی میں ہی تم نے پھر جنگ وجدال شروع کر دیا ؟ پھر آپ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی سب نادم ہوئے اور اپنی دو گھڑی پہلے کی حرکت پر افسوس کرنے لگے اور آپس میں نئے سرے سے معانقہ مصافحہ کیا اور پھر بھائیوں کی طرح گلے مل گئے ہتھیار ڈال دئیے اور صلح صفائی ہو گئی ، حضرت عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر منافقوں نے تہمت لگائی تھی اور آپ کی برات نازل ہوئی تھی تب ایک دوسرے کے مقابلہ میں تن گئے تھے ، فاللہ اعلم

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

102۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے احکام و فرائض پورے طور پر بجا لائے جائیں اور منہیات کے قریب نہ جایا جائے بعض کہتے ہیں کہ اس آیت سے صحابہ کرام پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت نازل فرما دی اللہ سے اپنی طاقت کے مطابق ڈرو جس طرح اپنی طاقت سے ڈرنے کا حق ہے (فتح القدیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٢] اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان پر کسی وقت بھی کوئی ایسا لمحہ نہ آنا چاہئے۔ جب کہ وہ اللہ کے خوف سے غافل ہو کیونکہ موت کے وقت کا کسی کو علم نہیں اور اللہ سے ڈرنے کا ایسا ہی حق ہونا چاہئے کہ جن جن اوامر کا اس نے حکم دیا ہے اور جن نواہی سے روکا ہے۔ انہیں ٹھیک ٹھیک اور بروقت بجا لانا چاہئے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ دنیوی دھندوں میں مشغول رہ کر اتنی احتیاط ملحوظ رکھنا بسا اوقات مشکل ہوجاتا ہے۔ چناچہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ (رض) بہت گھبرائے اور عرض کیا کہ اس قدر احتیاط کس سے ممکن ہے۔ اس وقت سورة تغابن کی یہ آیت نازل ہوئی۔ ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ 16؀) 64 ۔ التغابن :16) یعنی ممکنہ حد تک اللہ سے ڈرتے رہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِھٖ ۔۔ : عبداللہ بن مسعود (رض) سے اس آیت کی تفسیر یوں مروی ہے : ” اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے، اسے یاد رکھا جائے بھلایا نہ جائے، اس کا شکر ادا کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ “ [ ابن أبی حاتم : ٣؍١١٢۔ مستدرک حاکم : ٢؍٣٢٣، ح : ٣١٥٩ ] ابن کثیر (رض) نے اس قول کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ مراد حسب استطاعت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْت ) [ التغابن : ١٦ ] ” سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو۔ “ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ : چونکہ موت کا علم ہی نہیں کب آجائے، اس لیے موت آنے تک ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اسی طرح ڈرتے رہو۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the previous verses, Muslims were warned that the people of the Book, and others, want them to go astray from the right path so Muslims must remain vigilant of their moves and take steps to counter their anti-Muslim activities. In the two verses appearing here, two important principles have been given which go to |"Pregnable. These are: 1. Taqwa 2. Unity

ربط آیات : سابقہ آیات میں مسلمانوں کو اس پر تنبیہ کی گئی تھی کہ اہل کتاب اور دوسرے لوگ جو تمہیں گمراہی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں ان کی گمراہی سے باخبر رہ کر بچنے کا اہتمام کریں، مذکورہ دو آیتوں میں مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو مضبوط، ناقابل تسخیر بنانے کے دو اہم اصول بتلائے گئے ہیں۔ اول تقوی، دوسرے باہمی اتفاق و اتحاد، اور تفرق و اختلاف سے بچنا۔ خلاصہ تفسیر : اے ایمان والو اللہ تعالیٰ سے (ایسا) ڈرا کرو ( جیسا) ڈرنے کا حق ہے (کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شرک و کفر سے بچتے ہو اسی طرح تمام گناہوں سے بھی بچا کرو اور بلا وجہ شرعی لڑنا معصیت ہے تو اس سے بھی بچنا فرض ہے) اور بجز اسلام (کامل) کے ( جس کا حاصل وہی ہے جو کامل ڈرنے کا حق تھا) اور کسی حالت پر جان نہ دینا (یعنی اسی کامل تقوی اور کامل اسلام پر تادم مرگ قائم رہنا) اور مضبوط پکڑے رہو، اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کو (یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کو جس میں اصول و فروع سب آگئے) اس طور پر کہ باہم سب متفق بھی رہو (جس کی اسی دین میں تعلیم بھی ہے) اور باہم نااتفاقی مت کرو ( جس کی اسی دین میں ممانعت بھی ہے) اور تم پر جو اللہ تعالیٰ کا انعام (ہوا) ہے اس کو یاد کرو جبکہ تم کم (باہم) دشمن تھے (یعنی قبل اسلام کے، چناچہ اوس و خزرج کے دو قبیلوں میں طویل مدت سے جنگ چلی آتی تھی، اور عام طور پر اکثر عرب کے لوگوں کی یہی حالت تھی) پس اللہ تعالیٰ نے (اب) تمہارے قلوب میں (ایک دوسرے کی) الفت ڈال دی، سو تم اللہ تعالیٰ کے (اس) انعام (تالیف قلوب) سے (اب) آپس میں بھائی بھائی (کی طرح) ہوگئے اور (ایک انعام جو کہ انعام مذکورہ کی بھی اصل ہے یہ فرمایا کہ) تم لوگ (بالکل) دوزخ کے گڑھے کے کنارے (ہی) پر کھڑے تھے (یعنی بوجہ کافر ہونے کے دوزخ سے اتنے قریب تھے کہ بس دوزخ میں جانے کے لئے صرف مرنے کی دیر تھی) سو اس (گڑھے) سے اللہ تعالیٰ نے تمہاری جان بچائی (یعنی اسلام نصیب کیا جس نے جہنم سے نجات دلائی، تو اب تم ان انعاموں کی قدر پہچانو اور آپس کے جدال و قتال سے جو کہ معصیت ہے اللہ کی ان نعمتوں کو زائل نہ کرو، کیونہ باہمی جنگ وجدال سے پہلا انعام سب کے قلوب کا باہم مربوط اور مانوس ہونا تو خود ہی زائل ہوجائے گا، اور دوسرا انعام یعنی دین اسلام بھی اس سے مختل اور کمزور ہوجائے گا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ احکام واضح طور پر بیان فرمائے ہیں) اسی طرح اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنے (اور) احکام (بھی) بیان کر کے بتلاتے ہیں تاکہ تم لوگ راہ (راست) پر قائم رہو۔ معارف و مسائل : مسلمانوں کی اجتماعی قوت کے دو اصول، تقوی اور باہمی اتفاق : مذکورہ بالا دو آیتوں میں سے پہلی آیت میں پہلا اصول اور دوسری میں دوسرا بتلایا گیا ہے، پہلا اصول جو مذکورہ آیت نے بتلایا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے یعنی اس کی ناپسندیدہ چیزوں سے بچنے کا مکمل اہتمام جو اللہ تعالیٰ کے حق کے مطابق ہو۔ لفظ تقوی اصل عربی زبان میں بچنے اور اجتناب کرنے کے معنی میں آتا ہے، اس کا ترجمہ ڈرنا بھی اس مناسبت سے کیا جاتا ہے کہ جن چیزوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے وہ ڈرنے ہی کی چیزیں ہوتی ہیں، تاکہ ان سے عذاب الہی کا خطرہ ہے، وہ ڈرنے کی چیز تقوی کے کئی درجات ہیں، ادنی درجہ کفر و شرک سے بچنا ہے، اس معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان کو متقی کہا جاسکتا ہے، اگرچہ گناہوں میں مبتلا ہو، اس معنی کے لئے بھی قرآن میں کئی جگہ لفظ متقین اور تقوی استعمال ہوا ہے۔ دوسرا درجہ جو اصل میں مطلوب ہے وہ ہے اس چیز سے بچنا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک پسندیدہ نہیں، تقوی کے فضائل و برکات جو قرآن و حدیث میں آئے ہیں وہ اسی درجہ پر موعود ہیں۔ تیسرا درجہ تقوی کا اعلی مقام ہے جو انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے خاص نائیبین اولیاء اللہ کو نصیب ہوتا ہے کہ اپنے قلب کو ہر غیر اللہ سے بچانا اور اللہ کی یاد اور اس کی رضا جوئی سے معمور رکھنا، مذکورہ آیت میں اتقوا اللہ کے بعد حق تقاتہ کا کلمہ بڑھا دیا گیا ہے کہ تقوی کا وہ درجہ حاصل کرو جو حق ہے تقوی کا۔ حق تقوی کیا ہے ؟ اس کی تفسیر حضرت عبداللہ بن مسعود اور ربیع اور قتادہ اور حسن بصری (رض) نے یہ فرمائی ہے جو مرفوعا خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے : |" حق تقاتہ ھو ان یطاع فلا یعصی و یذکر فلا ینسی ویشکر فلا یکفر |" (بحر محیط) حق تقوی یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت ہر کام میں کی جائے کوئی کام اطاعت کے خلاف نہ ہو اور اس کو ہمیشہ یاد رکھیں کبھی بھولیں نہیں اور اس کا شکر ہمیشہ ادا کریں کبھی ناشکری نہ کریں۔ اسی مفہوم کو ائمہ تفسیر نے دوسرے عنوانات سے بھی ادا کیا ہے، مثلا بعض نے فرمایا کہ حق تقوی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی کی ملامت اور برائی کی پروا نہ کرے اور ہمیشہ انصاف پر قائم رہے، اگرچہ انصاف کرنے میں خود اپنے نفس یا اپنی اولاد یا ماں باپ ہی کا نقصان ہوتا ہو، اور بعض نے فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک حق تقوی ادا نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ اپنی زبان کو محفوظ نہ رکھے۔ اور قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں جو اتقوا اللہ ما استطعتم ہے یعنی اللہ سے ڈرو جتنا تمہاری قدرت میں ہے تو حضرت ابن عباس (رض) اور طاؤس (رح) نے فرمایا کہ یہ درحقیقت حق تقاتہ کی ہی تفسیر و تشریح ہے اور مطلب یہ ہے کہ معاصی اور گناہوں سے بچنے میں اپنی پوری توانائی اور طاقت صرف کردے تو حق تقوی ادا ہوگیا، اگر کوئی شخص اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے بعد کسی ناجائز میں مبتلا ہو ہی گیا تو وہ حقوق تقوی کے خلاف نہیں۔ اگلے جملے میں جو ارشاد فرمایا فلا تموتن الا وانتم مسلمون، اس سے معلوم ہوا کہ تقوی درحقیقت پورا اسلام ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت اور اس کی نافرمانی میں حکم یہ ہے کہ تمہاری موت اسلام ہی پر آنی چاہیے اسلام کے سوا کسی حال پر موت نہ آتی چاہیے۔ تو یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ موت تو آدمی کے اختیار میں نہیں کسی وقت کسی حال میں آسکتی ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کما تحیون تموتون وکما تموتون تحشرون، یعنی جس حالت پر تم اپنی زندگی گزار دو اسی پر موت آئے گی، اور جس حالت میں موت آئے گی اسی حالت میں حشر میں کھڑے کئے جاؤ گے۔ تو جو شخص اپنی پوری زندگی اسلام پر گزارنے کا پختہ عزم رکھتا ہے اور زندگی بھر اس پر عمل کرتا ہے اس کی موت انشاء اللہ اسلام ہی پر آئے گی، بعض روایات حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ بعض آدمی ایسے بھی ہوں گے کہ ساری عمر اعمال صالحہ کرتے ہوئے گزر گئی، آخر میں کوئی ایسا کام کر بیٹھے جس سے سارے اعمال حبط و برباد ہوگئے، یہ ایسے ہی لوگوں کو پیش آسکتا ہے جن کے عمل میں اول اخلاص اور پختگی نہیں تھی۔ واللہ اعلم

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۝ ١٠٢ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ موت أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة : فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات . نحو قوله تعالی: يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] . الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا [ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] . الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة . نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] . الرابع : الحزن المکدِّر للحیاة، وإيّاه قصد بقوله : وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] . الخامس : المنامُ ، فقیل : النّوم مَوْتٌ خفیف، والموت نوم ثقیل، وعلی هذا النحو سمّاهما اللہ تعالیٰ توفِّيا . فقال : وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] ( م و ت ) الموت یہ حیات کی ضد ہے لہذا حیات کی طرح موت کی بھی کئی قسمیں ہیں ۔ اول قوت نامیہ ( جو کہ انسان حیوانات اور نباتات ( سب میں پائی جاتی ہے ) کے زوال کو موت کہتے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے ۔ وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ یعنی زمین افتادہ کو زندہ کیا ۔ دوم حس و شعور کے زائل ہوجانے کو موت کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا ۔ يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا[ مریم/ 23] کاش میں اس سے پہلے مر چکتی ۔ أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] کہ جب میں مرجاؤں گا تو کیا زندہ کر کے نکالا جاؤں گا ۔ سوم ۔ قوت عاقلہ کا زائل ہوجانا اور اسی کا نام جہالت ہے چناچہ فرمایا : ۔ أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] بھلا جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کیا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو بات نہیں سنا سکتے ۔ چہارم ۔ غم جو زندگی کے چشمہ صافی کو مکدر کردیتا ہے چنانچہ آیت کریمہ : ۔ وَيَأْتِيهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَبِمَيِّتٍ [إبراهيم/ 17] اور ہر طرف سے اسے موت آرہی ہوگی ۔ مگر وہ مرنے میں نہیں آئے گا ۔ میں موت سے یہی مینب مراد ہیں ۔ پنجم ۔ موت بمعنی نیند ہوتا ہے اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ النوم موت خفیف والموت نوم ثقیل کہ نیند کا نام ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو توفی سے تعبیر فرمایا ۔ چناچہ ارشاد ہے : ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو ارت کو تمہاری روحیں قبض کرلیتا ہے سلم والْإِسْلَامُ : الدّخول في السّلم، وهو أن يسلم کلّ واحد منهما أن يناله من ألم صاحبه، ومصدر أسلمت الشیء إلى فلان : إذا أخرجته إليه، ومنه : السَّلَمُ في البیع . والْإِسْلَامُ في الشّرع علی ضربین : أحدهما : دون الإيمان، وهو الاعتراف باللسان، وبه يحقن الدّم، حصل معه الاعتقاد أو لم يحصل، وإيّاه قصد بقوله : قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] . والثاني : فوق الإيمان، وهو أن يكون مع الاعتراف اعتقاد بالقلب، ووفاء بالفعل، واستسلام لله في جمیع ما قضی وقدّر، كما ذکر عن إبراهيم عليه السلام في قوله : إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] ، ( س ل م ) السلم والسلامۃ الاسلام اس کے اصل معنی سلم ) صلح) میں داخل ہونے کے ہیں اور صلح کے معنی یہ ہیں کہ فریقین باہم ایک دوسرے کی طرف سے تکلیف پہنچنے سے بےخوف ہوجائیں ۔ اور یہ اسلمت الشئی الی ٰفلان ( باب افعال) کا مصدر ہے اور اسی سے بیع سلم ہے ۔ شرعا اسلام کی دوقسمیں ہیں کوئی انسان محض زبان سے اسلام کا اقرار کرے دل سے معتقد ہو یا نہ ہو اس سے انسان کا جان ومال اور عزت محفوظ ہوجاتی ہے مگر اس کا درجہ ایمان سے کم ہے اور آیت : ۔ قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا[ الحجرات/ 14] دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے کہدو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو اسلام لائے ہیں ۔ میں اسلمنا سے یہی معنی مراد ہیں ۔ دوسرا درجہ اسلام کا وہ ہے جو ایمان سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ زبان کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ولی اعتقاد بھی ہو اور عملا اس کے تقاضوں کو پورا کرے ۔ مزید پر آں کو ہر طرح سے قضا وقدر الہیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کردے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ إِذْ قالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ قالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ البقرة/ 131] جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا ۔ کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سرا طاعت خم کرتا ہوں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

تقوی کی حد قول باری ہے (یایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقاتہ، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے) حضرت عبداللہ (رض) ، حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ (حق تقاتہ) کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ادرنافرمانی نہ کی جائے اس کا شکراداکیاجائے اور ناشکری نہ کی جائے اسے یادکیاجائے اور بھلایانہ جائے۔ ایک قول میں اس کے معنی یہ بیان کیئے گئے ہیں کہ تمام گناہوں اور نافرنیوں سے پرہیز کیا جائے، اس آیت کے منسوخ ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) اور طاؤس سے مروی ہے کہ یہ محکم ہے منسوخ نہیں ہوئی۔ قتادہ ربیع بن انس اور سدی سے مروی ہے کہ یہ قول باری (فاتقوا اللہ مااستطعتم، جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو) سے منسوخ ہوچکی ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ اسے منسوخ قراردینا درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے معنی تمام معاصی سے بچنے کے ہیں ۔ اور ظاہ رہے کہ جملہ مکلفین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام معاصی سے بچیں۔ اگر یہ آیت منسوخ ہوجاتی تو اس سے بعض معاصی کی اباحت ہوجاتی ہے اور یہ بات جائز نہیں ہے۔ ایک اور قول ہے کہ بایں معنی اس کا منسوخ قراردیاجانا درست ہوسکتا ہے کہ قول باری (حق تقاتہ) کا مفہوم خوف اور امن کی حالت میں اللہ کے حقوق کو پوراکرنا اور ان حقوق کے سلسلے میں اپنی جان کی فکرنہ کرنا لیاجائے۔ پھر اپنی جان بچانے کی فکر اور اکراہ کی صورت میں اسے منسوخ قراردیاجائے اس صورت میں قول باری (مااستطعتم) کا مفہوم یہ ہوگا کہ ایسی باتوں میں جن کی وجہ سے تمہیں اپنی جان کا خطرہ نہ ہو۔ یعنی جس میں مار پٹائی اور قتل کا احتمال نہ ہو۔ اس لیے کہ کبھی استطاعت کی نفی کا اطلاق ان باتوں پر بھی ہوتا ہے۔ جن کا کرنا انسان کے لیے بڑی مشقت کا باعث بن جاتا ہے۔ جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ ارشاد فرمایا (وکانوالایستطیعون سمعا، اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے) یہاں ان پر اس کی مشقت مراد ہے۔ حبل اللہ کیا ہے ؟

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٢) اللہ تعالیٰ کی اس طرح اطاعت کرو کہ پھر اس کی نافرمانی نہ ہو اور ایسا شکر کرو کہ پھر کبھی اس کی ناشکری نہ ہو اور اس طرح یاد کرو کہ کبھی اس سے غافل نہ ہو، عبادت اور توحید کے اقرار کے بعد اسی پر خلوص کے ساتھ جمے رہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب سورة آل عمران کا نصف ثانی شروع ہو رہا ہے ‘ جس کا پہلا حصہ دو رکوعوں پر مشتمل ہے۔ آپ نے یہ مشابہت بھی نوٹ کرلی ہوگی کہ سورة البقرۃ کے نصفِ اوّل میں بھی ایک مرتبہ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا) سے خطاب تھا : (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ط) اسی طرح سورة آل عمران کے نصفِ اوّل میں بھی ایک آیت اوپر آچکی ہے : (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ یَرُدُّوْکُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ کٰفِرِیْنَ ) لیکن مسلمانوں سے اصل خطاب گیارہویں رکوع سے شروع ہو رہا ہے اور یہاں پر اصل میں امت کو ایک سہ نکاتی لائحہ عمل دیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ امت اب قیامت تک قائم رہنے والی ہے ‘ اور اس میں زوال بھی آئے گا اور اللہ تعالیٰ اولوالعزم اور باہمت لوگوں کو بھی پیدا کرے گا ‘ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مجددین امت ہر صدی کے اندر اٹھتے رہے۔ لیکن جب بھی تجدید دین کا کوئی کام ہو ‘ دین کو ازسر نو تروتازہ کرنے کی کوشش ہو ‘ دین کو قائم کرنے کی جدوجہد ہو تو اس کا ایک لائحہ عمل ہوگا۔ وہ لائحہ عمل سورة آل عمران کی ان تین آیات (١٠٢ ‘ ١٠٣ ‘ ١٠٤) میں نہایت جامعیت کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ یہ بھی تین آیات ہیں جیسے سورة العصر کی تین آیات ہیں ‘ جو نہایت جامع ہیں۔ ان آیات کے مضامین پر میری ایک کتاب بھی موجود ہے امت مسلمہ کے لیے سہ نکاتی لائحہ عمل اور اس کا انگریزی میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ اس لائحہ عمل کا پہلا نکتہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی کام کرنا ہے تو سب سے پہلے افراد کی شخصیت سازی ‘ کردار سازی کرنا ہوگی۔ چنانچہ فرمایا : آیت ١٠٢ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہ (وَلاَ تَمُوْتُنَّ الاَّ وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) ۔ قرآن مجید میں تقویٰ کی تلقین کے لیے یہ سب سے گاڑھی آیت ہے۔ اس پر صحابہ (رض) ‘ گھبرا گئے کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ کے تقویٰ کا حق کون ادا کرسکتا ہے ؟ پھر جب سورة التغابن کی یہ آیت نازل ہوئی کہ (فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَااسْتَطَعْتُمْ ) (آیت ١٦) اپنی امکانی حد تک اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تب ان کی جان میں جان آئی۔ تقویٰ کے حکم کے ساتھ ہی یہ فرمایا کہ مت مرنا مگر حالت فرمانبرداری میں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی پتہ نہیں کس لمحے موت آجائے ‘ لہٰذا تمہارا کوئی لمحہ نافرمانی میں نہ گزرے ‘ مبادا موت کا ہاتھ اسی وقت آکر تمہیں دبوچ لے۔ اگر پہلے اس طرح کی شخصیتیں نہ بنی ہوں تو اجتماعی اصلاح کا کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ اس لیے پہلے افراد کی کردار سازی پر زور دیا گیا۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایک اجتماعیت اختیار کرو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

82. They should remain steadfast in their obedience and loyalty to God.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :82 یعنی مرتے دم تک اللہ کی فرماں برداری اور وفاداری پر قائم رہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی یہاں تک تمہارے بس میں ہے جیسا کہ دوسرے آیت میں فرمایا ؛ فاتقوا اللہ ما استطعتم (تغابن آیت 16) لہذ یہ منسوخ نہیں ہے (کبیر۔ شوکانی 9 حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں اس کی صحیح صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی سے بچا جائے (کبیر) مومنوں کو اہل کتاب کی تشکیک سے دور رہنے کی نصیحیت فرماکر اب یہاں سے چند اصولی باتوں کا حکم دیا ہے جن کے التزام سے انسان ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہ سکتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو خوف اعتصام بحبل اللہ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی یاد کرنا (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 102 109 اسرارو معارف یایھا الذین امنوا اتقو اللہ……………لعلکم تھتدون۔ جب تمہیں اس قدر اسباب ہدایت حاصل ہیں تو اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے تقویٰ دراصل خوف محض کا نام نہیں بلکہ وہ تعلق جو بطفیل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بندے کو اللہ سے حاصل ہو اس کے ٹوٹ جانے کے ڈر کا نام ہے تعلیمات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ وہ کیفیات بھی جو وجود نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکات میں سے ہیں اور جن کے ورود سے دل بدل گئے ، مزاج بدلے ، خواہشات اور طلب بدل گئی۔ حتیٰ کہ دین پر عمل کرنا مزاج بن گیا اور گناہ طبعی طور پر سخت ناپسندیدہ ہوگیا۔ اب ان نعمتوں کو کبھی ضائع نہ ہونے دو ۔ بیشتر مفسرین کرام نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے کہ حق تقویٰ یہ ہے کہ ، ان یطاع فلا یعصی ویذکر فلا ینسی ویشکر فلا یکفر اوکما قال صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ (اطاعت کرے اور نافرمانی نہ کرے ، ذکر کرے اور کبھی نہ بھولے ، شکر کرے اور کبھی ناشکری نہ کرے) شکر بجائے خود ذکر ہی کا نام ہے اور ذکر دوام ، ذکر قلبی کا نام ہے کہ لسانی کو دوام نصیب نہیں ہوسکتا ، اور ذکر قلبی ان فیوضات وبرکات کا نام ہے جو صحبت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خلق خدا کو نصیب ہوئیں۔ جب قلب ذاکر ہوجائے تو اعضا نافرمانی سے رک جاتے ہیں۔ بتقاضائے بشریت اگر خطا سرزد ہو تو دل پہ چوٹ لگتی ہے اور فوراً رجوع الی اللہ نصیب ہوتا ہے۔ حق یہ ہے کہ ان کیفیات کو حاصل کرے اور دل زندہ کے ساتھ زندگی بسر کرے حتیٰ کہ دم واپسیں بھی اسی عقیدے اور ایمان پہ آئے یعنی موت بھی اسلام پر ہی نصیب ہو۔ ثمرات تقویٰ اور مدارج : اور یہ تقویٰ کے ثمرات کے مختلف مدارج ہیں۔ پہلا درجہ کفر اور شرک سے بچنا ہے۔ اگر یہ بھی حاصل نہ ہو تو آدمی سرے سے مسلمان ہی نہیں۔ دوسرا درجہ معاصی سے بچنا ہے اور یہ مطلوب ہے اور تیسرا درجہ سب سے اعلیٰ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کا مقام ہے یا ان کے خاص نائبین اولیاء اللہ کو نصیب ہوتا ہے اور وہ ہے دل کو غیر اللہ سے بچانا اور دل کو ہر آن اللہ کی یاد سے آباد رکھنا۔ انبیائ (علیہ السلام) کو یہ وہبی طور پر نصیب ہوتا ہے اور اہل اللہ کو ان کی تابعداری سے نصیب ہوتا ہے۔ موت بھی اسلام پہ آئے اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام کو پانے کی کوشش کرتے ہوئے آئے۔ یعنی انسان کو چاہیے کہ نہ صرف ایمان پر قائم رہے بلکہ تادم مرگ اطاعت پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں کوشاں رہے اور ارشاد ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے اور سب مل کر پکڑو۔ اتفاق کیسے ممکن ہے ؟ : اختلاف نہ کرو کہ اتفاق صرف اللہ ہی کی بات پر ممکن ہے اگرچہ دنیا میں ہر جماعت اور ہر طبقہ اتفاق کی بات کرتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ دن بدن افتراق و انتشار میں اضافہ ہورہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی ایک یا چند انسانوں کی سوچ پر باقی لوگ جمع نہیں ہوسکتے۔ وہ بھی تو انسان ہیں ان کی بھی تو سوچ ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر آدمی یا ہر جماعت اپنے نظام پر متفق ہونے کی دعوت دیتی ہے لیکن سب لوگ اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر اور اللہ کی کتاب پر متفق ہوں تو یہ نہ صرف ممکن ہے بلکہ بہت ہی احسن ہے اور مزاج انسانی کے مطابق بھی ہے۔ اب رہی یہ بات کہ یہود و نصاریٰ یا دیگر مذاہب باطلہ بھی تو اپنے اپنے دین کو اللہ کی طرف سے بتاتے ہیں تو اس کا جواب بڑا آسان ہے کہ نہ کوئی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نظیر پیش کرسکتا ہے اور نہ کتاب اللہ کی مثال۔ ذرا جذبات سے علیحدہ ہو کر جو بھی غور کرے گا ، اسے یہی مینارہ نور نظر آئے گا۔ خیر یہاں اس بحث کی گنجائش نہیں ، البتہ مسلمان تو اس بحث سے نکل چکے ہیں انہوں نے اللہ کی وحدانیت اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کا اقرار کرلیا اب انہیں اختلاف زیب نہیں دیتا۔ سب کو چاہیے کہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں جس کے بارے میں ارشاد ہے ، ان ھذا القرآن ھوحبل اللہ۔ یا اس کے ساتھ متعدد احادیث میں ” جماعت “ کو حبل اللہ کہا گیا ہے جیسے حضرات ابن مسعود (رض) اور ان کے علاوہ دیگر اصحاب (رض) سے منقول ہے۔ ہاں ! کتاب اللہ کے معاملے میں بھی اگر کوئی اپنی رائے ٹھونسنا چاہے گا تو اتفاق ممکن نہیں ہر شخص کا یہ منصب نہیں کہ وہ قرآن بیان کرنا شروع کردے بلکہ قرآن صاحب قرآن سے سیکھنا ہوگا کہ تعلیم قرآن فرائض نبوت میں سے ہے۔ اللہ کی کتاب پر اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیان کردہ تفسیر کے مطابق متفق ہونا ہی اصل اتفاق ہے اور یہی ممکن بھی ہے ورنہ تفریق ہی ہوگی۔ جس سے اللہ کریم منع فرماتے ہیں۔ ارشاد ہے لاتفرقوا یعنی یہود و نصاریٰ کی طرح دین میں نااتفاقی مت کرو۔ حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ جس کا مفہوم یوں ہے کہ یہودو نصاریٰ کے بہتر فرقے بنے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی۔ سب دوزخی ہوں گے سوائے ایک فرقہ کے۔ عرض کیا گیا ، یارسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کون ہیں ؟ ارشاد ہوا ” ما انا علیہ و اصحابی “ یعنی وہ راہ پانے والا ہے جس پر میں اور میرے صحابہ (رض) ہیں۔ فرقوں کا شمار : تفسیر قرطبی نے بہتر فرقے شمار کئے ہیں جن کی اصل چھ فرقے ہیں ، حروریہ ، قدریہ ، جمہیہ ، مرجیہ ، رافضہ ، جبریہ۔ فرماتے ہیں ان میں سے ہر ایک کی بارہ بارہ شاخیں ہیں۔ اس طرح یہ بہتر ہوجاتے ہیں ، یاد رہے کہ عذاب قبر کے منکریا اس بات کے مدعی کہ میت کو قبر میں ثواب و عذاب نہیں ہوتا ، ان ہی میں سے ہیں ، ان کی تفصیل تفسیر قرطبی جلدچہارم 141 تا 163 دیکھی جاسکتی ہے۔ رہی یہ بات ! کہ کیا کسی طرح کا اختلاف جائز بھی ہے یا نہیں ، وہ اختلاف جس میں اپنی خواہش کو دخل ہومذموم ہے لیکن اگر قرآن پر مجتمع رہتے ہوئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ارشاد کردہ تفسیر کو قبول کرتے ہوئے اپنی دماغی صلاحیتوں کی بنا پر فروع میں اختلاف پایا جائے تو اس کے بارے میں ارشاد ہے الاختلاف فی امتی رحمۃ ، صحابہ (رض) تابعین اور فقہا کا اختلاف اسی قسم کا تھا۔ ذرا ان احسانات اور نعمتوں کو یاد کرو کہ جب تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ قرآن کریم کے سب سے پہلے مخاطب صحابہ کرام (رض) ہیں اور پھر ساری انسانیت۔ تو عرب میں یہ حال تھا کہ قبائل لڑتے چلے جاتے تھے جسے انصار کے دونوں قبیلے اوس و خزرج ایک صدی سے زائد عرصہ تک آپس میں لڑتے رہے یا دیگر قبائل۔ ان آیات کے شان نزول میں یہی واقعہ نقل ہوا ہے کہ شماس بن قیس یہودی نے اوس اور خزرج کے لوگوں کو یکجا دیکھا تو حسد سے جل گیا اور اپنے کسی جوان سے کہا کہ ان میں بیٹھ کر ان کی گزشتہ جنگوں کا ذکر چھیڑو اور وہ اشعار جو انہوں نے جنگوں کے بارے کہے تھے پڑھو ، اس نے ایسا ہی کیا تو بات بڑھ گئی اور دونوں طرف جنگ کے نعرے بلند ہوگئے۔ حتیٰ کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ہوئی تو آپ صحابہ کرام (رض) سمیت تشریف لائے اور فرمایا کیا تم پھر جاہلیت کی طرف پلٹ رہے ہو حالانکہ اللہ نے تمہارے دلوں میں محبت پیدا کردی ہے اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ سب نے ہتھیار پھینک دیئے اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر روئے۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہم رکاب چل دیئے۔ گزشتہ دو آیتوں سمیت یہ آیات نازل ہوئیں۔ علاوہ ازیں چپے چپے پر جنگ وجدل برپا تھا کسی کی عزت محفوظ تھی نہ مال۔ لوٹ مار کر بازار گرم تھا اور ایک نوالے کے لئے انسان ذبح کردیئے جاتے تھے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور دلوں کو محبت سے بھر دیا۔ ڈاکو محافظ بن گئے اور چور عادل بن گئے ، یکسر فضا بدل گئی ۔ عرب کے متفرق افراد اسلام کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے ، اللہ کا پیغام لے کر اٹھے اور دنیا پہ چھا گئے۔ اگر ایک پر دکھ آتا تو سب بانٹنے کو لپکتے ، ایک پر چوٹ پڑتی تو دوسرا آگے ہو کر اپنے اوپر لیتا۔ حتیٰ کہ الفت و محبت کا یہ رنگ دنیا نے دیکھا کہ میدان جنگ میں زخموں سے چور ، سکرات موت میں مبتلا غازی کو جب پانی پلایا جانے لگا تو اس نے کا کہ اس دوسرے زخمی کو پہلے پلا دو ۔ یہ محبت والفت یہ ایثار کی نعمت اور بہت بڑا انعام برکات رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے تھا کہ تم سب بھائی بھائی ہوگئے۔ عرب سے باہر بھی اگر ظہور اسلام کا زمانہ دیکھا جائے تو یہی حال تھا۔ انسان انسان کے خون کا پیاسا ہورہا تھا اور جہاں جہاں اسلام پھیلتا گیا رحمت ورافت پھیلاتا چلا گیا۔ حتیٰ کہ آج تک محبت و خلوص صرف اور صرف دین اسلام کی برکات میں سے ہے ورنہ روئے زمین پر صرف لفاظی ہے ، ظاہر داری ہے اور کوئی کسی کا بہی خواہ نظر نہیں آتا خود مسلمانوں میں سے جن لوگوں کے دل زبان کا ساتھ نہیں دیتے کس قدر سخت مزاج لوگ ہیں اور جن کے دل ذکر الٰہی سے منور ہیں کس قدر پر خلوص اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں کہ محبت اغراض سے پاک اور اللہ کے لئے ہوتی ہے ، باقی ساری محبتیں اغراض کے لئے۔ اگر غرض پوری ہوگئی تو محبت ختم یا پوری نہ ہوسکی تو ختم۔ بلکہ الٹ کر دشمنی بن جاتی ہے ، اور جہاں دل صرف اللہ کے لئے ملتے ہیں زمانے کا کوئی انقلاب ان میں تفرقہ نہیں ڈال سکتا۔ خلافت شیخین کی برکات : یہ کمال جس طرح عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں موجود تھا۔ خلافت شیخین میں قائم رہا اسی لئے ان کی خلافت کو علی منھاج النبوۃ کہا گیا ہے۔ عہد عثمانی (رض) کے اول چھ سال ایسے ہی گزرے پھر یہ برکات کم ہونا شروع ہوگئیں اور اختلاف در آئے۔ ابن سبا جیسے سازشیوں کو موقع ملا۔ حتیٰ کہ حضرت علی المرتضیٰ (رض) جیسی ہستی کو بھی انہوں نے چین نہ لینے دیا۔ مولانا سید مناظر احسن گیلانی (رح) نے تدوین حدیث کے صفحہ 460 پر اس موضوع کو بیان فرمایا ہے وہاں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اور تم آگ کے گڑھے یعنی دوزخ کے کنارے پر تھے تمہارے اور دوزخ کے درمیان صرف موت کا فاصلہ تھا کہ اے لوگو ! اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ یہ برکت بھی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے وجود مبارک کی تھی اور ہے جس کو اللہ نے اپنی مخلوق کی ہدایت کا ذریعہ بنادیا۔ اور جن کو فیضان صحبت نصیب ہوا وہ خلق خدا کو دنیاوآخرت کے عذابوں سے بچانے والے بن گئے ؎ خود نہ تھے جو راہ پر ، اوروں کے ہادی بن گئے کیا نظر تھی ، جس نے مردوں کو مسیحا کردیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حق غلامی اس طرح ادا کیا کہ خود ان کی تابعداری ہی اتباع رسول قرار پائی اور کتاب اللہ نے قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ معیار دیا کہ والذین اتبعوھم باحسان یعنی جس نے خلوص قلب سے سابقون والاولون اور مہاجرین وانصار کا اتباع کیا اس نے رضائے باری کو پالیا جس کے ساتھ دنیا وآخرت میں یہ جملہ انعامات حاصل ہوں گے اور برکات نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حصہ پائے گا۔ شیخ کا وصف : ان آیات میں طالبان حق کے لئے دلیل ہے کہ ایسے شخص کو شیخ بنائیں جس کی صحبت میں اتباع سنت اور اتباع صحابہ (رض) جو اتباع سنت ہی کی ایک شکل ہے نصیب ہو۔ نہ ایسا آدمی کہ جو بدعات میں مبتلا کردے ، اللہ ایسوں کی مجلس سے محفوظ رکھے ، آمین۔ اللہ اس طرح دلائل ارشاد فرماتا ہے اور تمہارے لئے ہدایت کی راہ آسان فرمادیتا ہے کہ کوئی بھی شخص جذبات سے الگ ہو کر غور کرے تو ہدایت کو پاسکے۔ ولتکن منکم امۃ………………اولئک لھم عذاب عظیم۔ جب اللہ کی رسی مضبوط تھامنے کا حکم دیا تو پھر اس خدشے کا مداوا بھی کردیا کہ کہیں کسی دور میں تمہارے ہاتھ سے یہ رسی چھوٹ نہ جائے ہمیشہ تم میں ایک جماعت ایسی ہو جو خیر کی طرف بلاتی رہے ، خیر کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ارشاد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے الخیر ھواتباع القرآن وسنتی اور کما قال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یعن یخیر سے مراد قرآن اور میری سنت کا اتباع ہے۔ مسلمان جس طرح خود نیکی پر کار بند ہو اور برائی سے بچتا ہو اسی طرح دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرے اور ان بھلائی کے لئے دعا کرے نہ کہ ان پر طنز کرے۔ یہ اصلاح کا عمومی طریقہ ہے اور امت کے ہر فرد پر لازم ہے۔ ہاں ! ہر شخص کی استعداد جدا ہے اس لئے ہر کوئی اپنی استعداد کے مطابق ہی مکلف بھی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسے معروف ومنکر کا پورا پورا علم ہو ، اگر خود پوری طرح واقف نہ ہوگا تو بجائے نفع کے نقصان کی امید زیادہ ہے جس طرح آج کل جہاں وعظ کہتے پھرتے ہیں اور سنی سنائی بلکہ گھڑی ہوئی روایات و حکایات سنا کر جگہ جگہ فساد پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ بات کہنے سے پہلے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرلے پھر امورواجبہ میں معروف کا امر بھی واجب ہوگا اور منکر سے روکنا بھی مثلاً نماز پنجگانہ فرض ہے تو ہر شخص پر واجب ہوگا کہ بےنماز کو نماز کی تاکید کرے اور نوافل مستحب ہیں تو ان میں نصیحت کرنا بھی مستحب ہوگا جو بالکل نرمی سے کی جائے گی اور فرائض میں اول نرمی اور اگر قبول نہ کرے تو ایک حد تک سختی بھی کی جاسکتی ہے مگر آج کل کی طرح نہیں کہ فرائض تو ترک ہو رہے ہیں اور مستحبات کو کفرو اسلام کا معیار قرار دیا جارہا ہے۔ نیز ہر شخص پر یہ فریضہ تب عائد ہوگا جب کوئی کام اس کے سامنے ہو خواہ مخواہ لوگوں کے احوال کی کرید کرنا درست نہیں۔ یہ حکومت اسلامی کا کام ہے کہ رعایا پر نگاہ رکھے اور مجرموں کا قلع قمع کرے۔ یہ تو سب مسلمانوں کی بات تھی۔ اس کے ساتھ ارشاد ہے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو ہمیشہ یہی کام کرے کہ لوگوں کو بھلائی کی دعوت دے اور برائی سے منع کرے اور یہ تب ممکن ہے کہ وہ لوگ پہلے مسائل سے پوری طرح آگاہی حاصل کریں اور پورا علم سیکھیں۔ قرآن وحدیث پر نگاہ ہو اور دعوت کا مسنون طریقہ اختیار کریں۔ اس طرح یہ فرض کفایہ ہوگا کہ جب ایک جماعت ایسی ہو تو سب کی طرف سے کفایت کرے ان کی یہ کوشش لگاتار اور مسلسل ہوگی یعنی دعوت الی الخیر ، کہ خواہ منکرات موجود نہ ہوں یا کسی فرض کی ادائیگی کا وقت نہ بھی ہو مثلاً رمضان المبارک نہیں ہے مگر یہ روزہ کی تلقین کرتے رہیں گے۔ اسی طرح کفار کے لئے اسلام کی طرف دعوت اور مسلمانوں کے لئے اطاعت واتباع کی طرف بلانا دعوت الی الخیر شمار ہوگا۔ حکومت اسلامی کا فرض ہے کہ ایسی جماعت کا اہتمام کرے اگر ایسا نہ ہو تو پھر تمام مسلمانوں پر فرض ہوگا کہ ایسی جماعت قائم کریں کہ حیات ملی کی دلیل ہے اور یوں تو جو کوئی بھی ایک کلمہ خیر کسی دوسرے تک پہنچاتا ہے بقدر اپنے حصہ کے اس میں شامل ہے لیکن کلی طور پر یقینا اس کے پہلے مصداق صحابہ کرام (رض) ہیں جو نسیم سحر کی مانند گلشن ہستی میں اس بو کو پھیلانے کا سبب بنے اور پھر وہ افراد اس خطاب کے سزاوار ہیں۔ جنہوں نے زندگیاں وصول الی اللہ کے لئے خرچ کردیں عمریں سفر کرتے اور پڑھتے پڑھاتے بیت گئیں جن کی راتیں اللہ کی یاد میں اور خلق خدا کی اصلاح میں بسر ہوئیں جنہوں نے علم دین حاصل کیا پھر نور قلبی کا اکتساب کیا ایسے مردان خدا کو تلاش کیا جہاں سے دولت پائی اور پھر نہ صرف عمر بھر اس پر عامل وکاربند رہے بلکہ خلق خدا کو دعوت حق پہنچائی اور نور ہدایت کو عام کیا۔ اس کے مصداق ہمیشہ صوفیہ صافیہ رہے ہیں جنہوں نے مملکتوں کو باطل سے ہٹا کر حق کا طالب بنایا۔ صدافسوس ! کہ آج کے دور میں ایسی برگزیدہ ہستیوں سے استفادہ تو کوئی کیا کرے گا۔ آج کے جاہل ان پر کفر کے فتوے لگائے ہوئے ہیں اور حد یہ ہے کہ امام حسن بصری (رح) سے لے کر دو رحاضرہ تک کے صاحب احوال اور مقتداء وپیشوایان نیکوکار ان پر کفر کی توپ داغی جارہی ہے نہ خاندان ولی الٰہی کو بخشا گیا نہ علمائے دیوبند کو معاف کیا گیا نہ متقدمین کی عزت کا خیال اور نہ متاخرین کا پاس ادب ، ایسی مقدس جماعت کو کافر کہنے والا خود اللہ کی گرفت سے کیسے بچ سکے گا ؟ اللہ تمام مسلمانوں کو راہ ہدایت پر قائم رکھے ! آمین۔ اور ان لوگوں کی طرح مت بنو ! جنہوں نے واضح دلائل پالینے کے بعد بھی اختلاف کیا۔ یعنی اہل کتاب کے پہلے ان کی اپنی مذہبی کتب میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر اور نشانیاں موجود تھیں پھر انہوں نے یہ سب کچھ دیکھ کر اختلاف کی راہ اپنائی۔ نہ صرف حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بلکہ اپنے دین کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا کو واضح دلائل کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی میں لگ گئے اور اہوا واوبام کا اتباع اختیار کرکے دین کی تباہی کا سبب بنے ، یوں دنیا وآخرت میں ذلت سے دوچار ہوئے۔ یہ سابقہ آیات کا تتمہ ہے کہ مرکز و وحدت اعتصام بحبل اللہ ہے ، نہ لوگوں کی آرائ۔ اور یہ اعتصام پوری قوم کو شخص واحد بنادیتا ہے اور اختلاف و انتشار پہلی امتوں کے لئے بھی تباہی کا سبب نا۔ آج بھی اس پر یہی پھل آئے گا۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ اصول دین ہمیشہ واضح اور غیر مبہم ہوتے ہیں اور وہاں اختلاف کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی رہے فروعات ، تو ان میں بھی اگر نفسانیت سے علیحدہ ہو کر دیکھیں تو کوئی تعارض نہیں۔ اجتہاد اور ان کی شرائط : ہاں ! بعض غیر واضح امور میں جہاں نص صریح نہ ہو تو جانبین میں سے ایک جانب کو اجتہاد سے اختیار کرنا اس امید کے ساتھ کہ میرے نزدیک یہ درست ہے اگرچہ خطا کا احتمال بھی ہو اور ممکن ہے اس کے خلاف درست ہو ، یہ جائز ہے اس پر صحیح حدیث دال ہے کہ مجتہد کو ٹھیک حکم دریافت کرنے پر دواجر ملتے ہیں۔ لیکن اگر اجتہاد میں غلطی بھی کر جائے تو ایک اجر پاتا ہے لیکن اس بارے میں فیصلہ اللہ ہی پر ہے۔ نیز کوئی مجتہد یا اس کا مقلد ، دوسرے مجتہدیا اس کے مقلد کو خاطی تصور نہیں کرتا کہ کوئی بھی جانب منکر نہیں ہوتی۔ یہ آج کل کا معاملہ کہ معمولی بات پر کفر کے فتوے اور بحث وتمحیص ، حتیٰ کہ جنگ وجدال۔ یہ ہرگز اجتہاد نہیں ، نیز اجتہاد کے لئے قرآن وحدیث کا مکمل علم ہونا تمام فنون کی مکمل مہارت ، عربی زبان پر کامل عبور ، صحابہ کرام (رض) ، تابعین یعنی سلف کے آثار واقوال سے مکمل واقفیت کے ساتھ عملی زندگی اور اتباع سنت کا کامل نمونہ ہو اور دلی خلوص وغیرہ ذالک نہ یہ کہ لوگ سن پائے ہیں کہ اجتہاد بھی ہوتا ہے اور ساون کے مینڈکوں کی طرح ہر ایک ان امور میں بھی رائے زنی کررہا ہے جن میں مجتہدین نے بھی لب کشائی نہیں کی اور نہ انہیں بولنے کا حق حاصل تھا۔ یوم تبیض وجہ وتسود وجوہ……………والی اللہ ترجع الامور۔ الجمہور علی ان ابیاض وجوہ واسوادھا علی حقیقۃ اللون وابیاض من النور والسواد ھن الظلمۃ ۔ (بحرمحیط) ایمان اور اس کے ثمرات : ایمان ایک نور ہے جو قلب میں پیدا ہوتا ہے اور کفر ظلمت ہے جو قلب پہ چھا جاتی ہے۔ ایمان کا مصدر سینہ اطہر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے اور ہر مسلمان کے دل میں وہاں سے نور مترشخ ہوتا ہے جس میں اتباع اور اطاعت سے زیادتی ہوتی چلی جاتی ہے اور بعض دلوں میں نہریں اور دریا موجزن ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کفر ظلمت ہے اور کافر کا ہر فعل چونکہ اطاعت سے خالی ہوتا ہے اس لئے ظلمت لاتا ہے ، یوں ظلمت پہ ظلمت بڑھتی چلی جاتی ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے ، ظلمات بعضھا فوق بعض۔ اطاعت سے جو نور پیدا ہوتا ہے وہ قلب میں نور کی زیادتی کا باعث تو بنتا ہی ہے ماحول کو بھی اپنی قوت کے مطابق متاثر کرتا ہے اور پوری فضا منور ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ حدیث پاک میں ان لوگوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے جنہیں دیکھ کر خدا یادآجائے۔ اور اس کے برعکس کا فریا بدکار کی ظلمت اس کے دل کو بھی متاثر کرتی ہے اور ماحول اور فضا بھی مکدر ہوجاتی ہے حتیٰ کہ اگر یہ ظلمت ایک خاص حد کو پہنچ جائے تو عذاب الٰہی کے نزول کا باعث بنتی ہے اور پھر اس کو لپیٹ میں صرف انسان نہیں آتے بلکہ پورا ماحول متاثر ہوتا ہے جس طرح کہ پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوئے تو ان کے نزول کا سبب انسانی اعمال تھے مگر پورے ماحول کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ روز حشر یہی دلوں کا نور یا ظلمت چہروں پر عیاں ہوگی چونکہ وہ دن ہی اعمال کے اظہار کا ہوگا اور پھر سوال ہوگا کہ کیا تم ایمان کے بعد پھر کفر میں جاگرے۔ صاحب ” بحرمحیط “ فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد ان کو توبیخ اور ان کے حال پر اظہار تعجب کے لئے ہوگا اور اگر اس سے مراد کفار لئے جائیں تو وہ اس تقدیر پر مراد ہوں گے کہ روز میثاق سب ایمان لا چکے تھے مگر دار تکلیف میں آکر کافر ہوگئے اور اگر مراد یہود و نصاریٰ ہوں گے تو اس تقدیر پر کہ تورات وانجیل پر بھی اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی ایمان رکھتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی پیشگوئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف ان کی کتابوں میں مذکور تھے لیکن جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے تو انکار کر بیٹھے۔ اگر مراد اہل بدعت ہوں تو ایسے لوگ مراد ہوں گے جن کی بدعات نے انہیں ایمان سے خارج کردیا۔ جیسا کہ گزشتہ اوراق میں بیشتر فرقے شمار کئے گئے ہیں اور اگر منافق مراد ہوں تو ان کا ایمان ظاہری اور کفر قلبی مراد ہوگا۔ ان اعمال کی وجہ سے اپنے حاصل کردہ اجر بھگتو ! یعنی ذات باری کسی پر خواہ مخواہ عذاب مسلط نہیں فرماتی بلکہ لوگ عذاب کماتے اور کسب کرتے ہیں۔ اے کاش ! جو مشقت دخول نار کے لئے کی جاتی ہے وہ حصول قرب الٰہی کے لئے کی جاتی۔ یادرکھو ! جن کے چہرے منور ہوں گے وہ ہمیشہ ہمیشہ اللہ کی رحمت یعنی جنت میں رہیں گے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد کسی کو نکالا نہ جائے گا۔ نیز جنت کو رحمت فرما کر یہ ظاہر فرمایا کہ انسانی عبادات بغیر رحمت باری کے جنت کو حاصل نہیں کرسکتیں کہ انسان اس قدر انعامات وصول کرچکا ہے جن کا وہ شکر بھی ادا نہیں کرسکتا۔ نیز توفیق عبادت اور خلوص فی العبادات خود رحمت باری ہی تو ہے اور کمال رحمت یہ ہے کہ یہاں تمام اہل جنت کے لئے خلود کی بشارت ہے مگر اس کے برعکس تمام دوزخیوں کے لئے نہیں کہ دوزخ میں خلود صرف کفار کے لئے ہے اگر کوئی مومن گناہوں کی پاداش میں گیا بھی تو بالآخر نجات نصیب ہوجائے گی۔ یہ اللہ کی آیات ہیں ، اللہ کی طرف سے دلائل ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اتارے جاتے ہیں کہ خلق خدا ان سے ہدایت حاصل کرے حق اور صداقت کے پیکر ہیں۔ اللہ کو یہ پسند نہیں کہ کسی کے ساتھ زیادتی ہو۔ حتیٰ کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ مومن کو نیکی پر دنیا میں بھی اجر ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ اور اگر کافر کوئی اچھا کام کرے تو چونکہ اللہ کے لئے تو نہیں کرتا اس لئے آخرت کے اجر سے محروم رہتا ہے لیکن دنیا میں اپنی نیکی کا بدلہ ضرور پالیتا ہے کہ اللہ کریم کسی سے زیادتی نہیں کرتے ورنہ وہ تو جو چاہے کرلے کسی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں کہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے سب اسی کا تو ہے اور اپنی ملک میں تصرف پر کسی کا اعتراض کیسا ؟ مگر اس کی حکمت اور اس کا انصاف کہ کوئی محروم نہ رہے اور اس کی رحمت اس وقت تک پہنچتی ہے جب تک کوئی خود کو بالکل محروم نہ کرلے ۔ نیز تمام امور بھی اسی کی طرف پلٹتے ہیں۔ یعنی حقیقی فیصلہ بھی جملہ امور کا اسی کے دست قدرت میں ہے اور اس کے علاوہ کوئی صاحب اختیار نہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 102 تا 109 حق تقٰته (اس سے ڈرنے کا حق ادا کرکے) اعتصموا (تم مضبوط تھام لو) بحبل اللہ (اللہ کی رسی ، یعنی اللہ کے دین کو (مضبوط تھام لو) جمیع (سب کے سب اکٹھے ہوکر) لاتفرقوا (تم جداجدا نہ ہو) اعداء (آپس میں دشمن ) الف (اس نے محبت ڈال دی) اصبحتم (تم گئے) اخوان (بھائی بھائی) شفاء (کنارہ) حفرۃ (گڑھا) انقذ (اس نے بچالیا) ولتکن (ہونی چاہیے) امة (ایک جماعت) یدعون (بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں) بالمعروف (نیکی کے ساتھ) ینھون (وہ روکتے ہیں) المنکر (برائی غلط راستہ) تبیض (سفید، چمک دار) وجوہ (چہرے (وجه کی جمع ہے) تسود (سیاہ) اکفرتم (کیا تم نے کفر کیا ؟ ) دوقوا (تم چکھو) ابیضت (سفید، چمک دار ہوگئے) تشریح : آیت نمبر 102 تا 109 اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ تم اللہ سے اس طرح ڈرو کہ اس کے ڈرنے کا حق ادا ہوجائے پھر تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دراصل تقوی اسلام اور ایمان کی روح ہے۔ تقوی و پرہیز گاری کے بغیر اسلامی خصوصیات اور پاکیزہ ایمانی زندگی کا پیدا ہونا ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر معاملہ میں تقوی اختیار کرنے حکم دیا ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ اے اہل ایمان تمہارے تقوی اور پرہیز گاری کا انجام یہ ہونا چاہئے کہ تمہاری موت صرف دین اسلام کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے آئے۔ آگے دوسری آیت میں مسلمانوں کو اپنی اجتماعی قوت کو قائم کرنے کا ایک زریں اصول بتایا گیا ہے کہ تقوی کے ساتھ ساتھ اپنی اجتماعی زندگی کی قوت بھی ناقابل تسخیر بنائی جائے۔ یہی اتحاد واتفاق امت مسلمہ کی زندگی کے تمام سیاسی ، معاشی، سماجی اور اخلاقی مسائل کے حل میں کامیاب کرسکتا ہے۔ قرآن کریم جہاں اس دنیا کی کامیابی کا ضامن ہے وہیں آخرت کی فلاح و کامیابی کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینے ہی میں ان کی اجتماعی نجات ہے۔ اگر انتشار کا راستہ اختیار کیا گیا تو پھر مسلمان دور جہالت کی طرف لوٹ جائیں گے جس میں عرب والے مبتلا تھے۔ قبائل کی باہمی دشمنیاں ، ذرا ذرا سی باتوں پر خون خرابہ ، جنگ ، جدال ، غارت گری، ماردھاڑ پھر اوپر سے کفر وشرک اور بت پرستی کی گندگیاں ، عقائد میں خرابیاں پورا عرب اسی ایک آگ میں جل رہا تھا۔ اس آگ میں جل رہا تھا۔ اس آگ کے گڑھوں سے بچا کر لانے والا یہ اسلام اور حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ یہی وہ نعمت ہے جس نے ان کو باہمی عداوت کی آگ میں جلنے سے بچالیا اور اسلام کی طرف رغبت دلائی۔ تیسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ ایک انسان اپنی انفرادی زندگی میں تو اللہ کا خوف یعنی تقوی اختیار کرے اور اپنی اجتماعی زندگی میں اتحاد واتفاق کی فضا کو قائم رکھے۔ لیکن انفرادی ، اور اجتماعی ، قومی اور ملی صلاح و فلاح اور اتحاد واتفاق اور اسلامی محبت کے رشتوں کو قائم ودائم رکھنے کے لئے ضرورت ہے کہ اہل ایمان میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے جس کا کام ہی لوگوں کو بھلائی کی طرف بلانا اور برائیوں سے روکنا اور ایمان پر قائم رکھنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس سے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک خاص قسم کا نکھار پیدا ہوگا اور ایسا معاشرہ کامیابیوں سے ہمکنار ہوسکے گا۔ آخر میں اللہ نے یہ بات بتادی کہ قیامت کے دن بھی وہی کامیاب ہوں گے جن کے اعمال بہتر ہوں گے ورنہ ان کے چہروں پر ایسی پھٹکار ہوگی کہ اس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ فرمایا کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود راہ مستقیم چھوڑ کر گمراہی کے راستوں کو اختیار کرکے اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ کامل ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح شروکفر سے بچے ہو کل معاسی سے بھی بچا کرو آیت کا مطلب یہ ہے کہ ادنی تقوی پر اکتفامت کرو بلکہ اعلی اور کامل درجہ کا تقوی اختیار کرو جس میں معاصی سے بھی بچنا آگیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب کی اتباع سے بچنے اور ان سے ڈرنے کی بجائے مسلمانوں کو صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اسی کے حکم پر مر مٹنا چاہیے۔ اب براہ راست مسلمانوں سے مسلسل خطاب ہوتا ہے۔ تقو ٰی کا عمومی معنٰی پرہیزگاری ہے لیکن جب ” اِتَّقِ اللّٰہَ “ کے الفاظ استعمال ہوں تو اس کا معنٰی ہوا کرتا ہے کہ اپنے رب کی نافرمانیوں سے ڈرو ‘ اس کی ذات اور احکام کا احترام کرو۔ نفس مضمون کے اعتبار سے یہاں یہ بات بھی تقو ٰی میں شامل ہے کہ اہل کتاب کے الزامات اور سازشوں سے ڈرنے کے بجائے صرف اللہ سے ڈرو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق ہے۔ خلوت ہو یا جلوت ‘ نفع ہو یا نقصان ‘ حاکم ہو یا محکوم ‘ امیر ہو یا غریب ‘ پڑھے لکھے ہو یا ان پڑھ۔ گویا کہ سب کے سب اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ خوفِ الٰہی کا اجتماعی ماحول اور ایک سماں پیداہو جائے۔ جس میں تمہارے لیے نیکی کرنا آسان اور برائی سے بچنا سہل ہوجائے گا۔ تقو ٰی وقتی اور عارضی نہیں بلکہ اس میں ہمیشگی ہونی چاہیے یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔ دوسرے لفظوں میں مرنا گوارا کرلینا لیکن غیر اللہ سے ڈرنا قبول نہ کرنا۔ گویا کہ تقو ٰی اور اسلام لازم و ملزوم ہیں۔ تقو ٰی اور اسلام کا تقاضا ہے کہ تم اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو۔ اتحاد کے لیے پہلی شرط اللہ کا خوف ہے اگر آدمی کا دامن خوفِ الٰہی سے خالی ہو تو وہ اپنے مفادات کی خاطر چھوٹی سی بات کو پہاڑ بنا کر پیش کرتا ہے۔ اتحاد امت کے لیے سب سے بڑی بنیاد خدا خوفی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رسی کو تھامنا ہے۔ گویا کہ مسلمانوں کا اتحاد اللہ کا ڈراختیار کیے اور کتاب وسنت تھامے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہی اتحاد دیرپا اور بابرکت ہوتا ہے۔ اس کے بغیر اتحاد ناپائیدار اور عارضی ہوگا۔ رسی کی وضاحت کرتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (کِتَاب اللّٰہِ ھُوَحَبْلُ اللّٰہِ ) [ جامع الصغیر للألبانی ] ” اللہ کی کتاب ہی اللہ کی رسی ہے۔ “ یہاں رسی کا لفظ استعمال فرما کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جس طرح رسی سے لکڑیوں کا گٹھا یا جانور باندھا جاتا ہے اس طرح تم بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رسی کے ساتھ باندھ لو۔ آیت میں رسی کو مضبوط پکڑنے کے ساتھ مزید حکم دیا کہ باہمی تفرقے سے بچتے رہو۔ اختلافات سے نہ صرف ذات اور جماعت کی ساکھ اکھڑتی ہے بلکہ اس سے بےسکونی اور بےبرکتی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ آدمی ایک دوسرے کے خلاف حسد و بغض کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔ اکثر اوقات اس کا انجام قتل و غارت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہاں اختلاف کو بھڑکتی ہوئی آگ اور اتحاد کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیا گیا ہے۔ یہاں صحابہ کرام (رض) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنے ماضی کو سامنے رکھو۔ تم اسلام سے قبل کس قدر باہمی اختلاف کی آگ میں بھسم ہوئے جا رہے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارے دلوں سے رنجش و کدورت کو نکال کر انہیں محبت و الفت سے لبریز کردیا۔ اس اختلاف سے مراد اوس اور خزرج کی وہ طویل ترین جنگ ہے جو تقریباً سو سال تک جاری رہی۔ جس میں سینکڑوں عورتیں بیوہ، ہزاروں بچے یتیم اور قیمتی جانیں ضائع ہونے کے ساتھ شاداب کھیتیاں ‘ اور لہلہاتے ہوئے باغ اور پر رونق آبادیاں ویران ہوئیں۔ نقصانات سے بچنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم بد گمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی بہت بڑا جھوٹ ہے۔ تم کسی کی عیب جوئی، جاسوسی اور حسد نہ کرو، نہ پیٹھ پیچھے باتیں کرو ‘ نہ ہی دشمنی کرو۔ اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔ “ [ رواہ البخاری : کتاب الأدب ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ رہنے والا ہمیشہ صراط مستقیم پاتا ہے۔ ٢۔ صاحب ایمان لوگوں کو صحیح طور پر اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ ٣۔ ایمان داروں کو اللہ کی غلامی میں موت آنی چاہیے۔ ٤۔ فرقہ بندی کے بجائے قرآن و سنّت کے ساتھ وابستہ رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اتحاد نعمت اور اختلاف آگ ہے : ١۔ اتحاد واتفاق اللہ کی توفیق کا نتیجہ ہے۔ (الانفال : ٦٣) ٢۔ اتحاد واتفاق اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ (آل عمران : ١٠٣) ٣۔ کتاب اللہ کا رشتہ نہ ٹوٹنے والا ہے۔ (البقرۃ : ٢٥٦) ٤۔ باہمی اختلاف اللہ کا عذاب ہوتا ہے۔ (الانعام : ٦٥) ٥۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ تمّسک کا نتیجہ صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : ١٠١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ دومرکزی ستون ہیں جن پر جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ قائم ہے ۔ اور ان دونوں کے ساتھ وہ اپنا گراں اور عظیم رول ادا کررہی ہے ۔ اگر ان دونوں میں ایک پلر (Pillar) بھی گرجائے تو جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ گرجائے گا اور اس کے بعد اس جہاں میں اس کا کوئی کردار نہ رہے گا۔ پہلا ستون ایمان اور تقویٰ کا ستون ہے ۔ وہ تقویٰ اور خدا خوفی جو اللہ جل شانہ ‘ کے حقوق کی ادائیگی کا موجب بنے ۔ دائمی اور بیدار خدا خوفی ‘ جس میں کوئی غفلت نہ ہو ‘ جس میں کوئی وقفہ نہ ہو اور وہ پوری عمر میں تسلسل کے ساتھ قائم رہے ۔ یہاں تک کہ انسان پر موت آجائے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ……………” اے ایمان لانے والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ “ اللہ سے ڈرو ‘ جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ اس خدا خوفی کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ‘ یہ ڈرنے والے دل کا کام ہے کہ وہ خدا خوفی میں کس مقام تک جاپہنچتا ہے ‘ جس قدر وہ تصور کرسکتا ہے ۔ جس قدر اس کی طاقت ہو ۔ قلب مومن اس میدان میں جس قدر آگے بڑھے گا ‘ اس کے سامنے نئے نئے آفاق کھلیں گے اور اس کا را ہوار شوق اور مہمیز پائے گا ۔ اور وہ اپنی خدا خوفی سے جس قدر بھی اللہ کا قرب حاصل کر گا ‘ تو اس کا شوق اس سے بھی اونچے مقام کی طرف متوجہ ہوگا۔ اور جس مقام پر وہ ہوگا اس سے اونچے مقامات کا طالب ہوجائے گا اور آخر کار وہ ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے جس میں اس کا دل مدام بیدار ہوجاتا ہے اور پھر وہ کبھی نہیں سوتا۔ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ……………” تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ “ موت ایک ایسی خفیہ اور غائبانہ گھڑی ہے جس کا علم انسان سے مخفی رکھا گیا ہے ۔ پس جو شخص یہ ارادہ کرلے کہ وہ صرف اس حال میں مرنا چاہتا ہے کہ وہ صحیح مسلم ہو ‘ تو اس کی طرف ایک ہی سبیل ہے کہ وہ فوراً مسلم بن جائے ۔ اور ہر لحظہ وہ مسلم رہے۔ تقویٰ اور خدا خوفی کے بعد اسلام کے ذکر سے ایک وسیع حکمت اور مفہوم کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ یعنی مکمل طور پر سرتسلیم خم کرنا ۔ مکمل انقیاد صرف اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ۔ اس کی اطاعت کرنا ‘ اس کے نظام زندگی کی پیروی کرنا ۔ اس کی کتاب کے مطابق فیصلے کرنا ۔ اور یہ وہ مفہوم ہے جسے اس سورت میں باربار دہرایا گیا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر کہا ہے ۔ یہ تو ہے وہ پہلا ستون جس پر جماعت مسلمہ قائم ہے تاکہ وہ اپنے وجود کو ثابت کرے ‘ اور اس کائنات میں جو اہم رول اسے سپرد کیا گیا ہے اسے ادا کرے ۔ اس لئے کہ اس ستون اور اس کی اساس کے بغیر انسانوں کا ہر اکٹھ جاہلی اکٹھ تصور ہوگا ۔ اس صورت میں پھر وہ اکٹھ اسلامی منہاج پر اکٹھ نہ ہوگا ‘ جسے امت مسلمہ کا اجتماع کہا جاسکے ۔ پس جاہلیت پر مبنی سوسائٹیاں ہوں گی جن میں ہدایت یافتہ قیادت نہ ہوگی ‘ جو صحیح معنوں میں انسانیت کی راہبر ہو ‘ بلکہ جاہلی قیادتیں اٹھیں گی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ کا مطلب : پھر ایمان والوں سے مزید خطاب فرمایا کہ ایمان والو ! تم اللہ سے ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے منقول ہے کہ (حَقَّ تُقٰتِہٖ ) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور اسے یاد کیا جائے بھولا نہ جائے اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ (حَقَّ تُقٰتِہٖ ) کا یہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں جیسا کہ جہاد کا حق ہے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں اور انصاف کے ساتھ اللہ کے لیے کھڑے ہوں اگر اپنے خلاف اور اپنے ماں باپ کے خلاف بھی انصاف کرنا پڑے تو ایسے وقت میں بھی انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ (درمنثور صفحہ ٥٩: ج ٢) اسلام پر مرنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم اور افتراق کی ممانعت : نیز فرمایا (وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) اور ہرگز مت مرنا مگر اس حال میں کہ مسلمان ہو مطلب یہ ہے کہ آخری دم تک اسلام پر قائم رہنا، مزید فرمایا (وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا) (کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور متفرق مت ہوجاؤ) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی کتاب اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کی رسی ہے اس کا ایک سر اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے تم اس کو مضبوطی سے پکڑ لو کیونکہ اس کے پکڑنے کے بعد کبھی بھی گمراہ نہ ہو گے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے اندر اللہ کی کتاب چھوڑ رہا ہوں وہ اللہ کی رسی ہے جس نے اس کا اتباع کیا وہ ہدایت پر ہوگا اور جس نے اس کو چھوڑا وہ گمراہی پر ہوگا۔ (درمنثور صفحہ ٦٠: ج ٢) ان روایات سے جہاں قرآن کو مضبوطی سے تھامنے کی اہمیت اور ضرورت معلوم ہوئی وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کو چھوڑ دینا گمراہی ہے آیت بالا میں (وَّ لَا تَفَرَّقُوْا) بھی فرمایا کہ افتراق نہ کرو اور جداجدافرقے نہ بناؤ۔ ایک زمانہ سے مسلمانوں میں فرقہ بندیاں ہیں جس کا سبب قرآن کو چھوڑنا بھی ہے اور قائدین کے اپنے اپنے مفادات بھی ہیں اس افتراق نے دشمنوں کو قابو دے رکھا ہے دشمن جیسے چاہتے ہیں استعمال کرلیتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

147 ۔ حصہ دوم۔ یہ تین امور پر مشتمل ہے۔ (1) جہاد کا َ (2) انفاق (3) جہاد سے متعلق ایک شبہ کا جواب۔ ابتداء میں یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْااللہَ ۔ رکوع 11 سے اِنَّ اللہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ (رکوع 12) تک ترغیب الی الجھاد کا بیان ہے۔ کافروں کی طرف سے یہ شبہ کیا گیا تھا کہ پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کو جنگ احد میں شکست ہوئی اور انہیں شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اگر واقعی وہ سچا پیغمبر ہوتا تو اس کو شکست نہ ہوتی اور نہ ہی اسے نقصان اٹھانا پڑتا۔ آگے چل کر اس کا تفصیلی جواب فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے تو حسب وعدہ فتح دے دی تھی۔ لیکن مسلمانوں سے کوتاہی ہوئی کہ انہوں نے مورچہ چھوڑ دیا۔ اور ان کی فتح وقتی شکست سے بدل گئی۔ یہ تمہید ہے اس میں حکم دیا کہ تم ظاہر و باطن میں اور سر وعلانیہ میں اللہ سے ڈرو اور اس کے تمام احکام کی پیروی کرو اور مرتے دم تک توحید اور دین اسلام پر قائم رہو اور صرف اللہ کی عبادت کرتے رہو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ ای مخلصون نفوسکم للہ عزوجل لا تجعلون فیھا شرکۃ لسواہ اصلا (روح ص 18 ج 4) کیونکہ جب تک دل میں خدا کا خوف نہ ہو اور سینہ میں توحید اور دین اسلام کو زندہ رکھنے کی سچی تڑپ نہ ہو اس وقت تک کوئی آدمی جہاد پر آمادہ نہیں ہوسکتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi