Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 17

سورة آل عمران

اَلصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡمُنۡفِقِیۡنَ وَ الۡمُسۡتَغۡفِرِیۡنَ بِالۡاَسۡحَارِ ﴿۱۷﴾

The patient, the true, the obedient, those who spend [in the way of Allah ], and those who seek forgiveness before dawn.

جو صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الصَّابِرِينَ ... (They are) those who are patient, while performing acts of obedience and abandoning the prohibitions. ... وَالصَّادِقِينَ ... those who are true, concerning their proclamation of faith, by performing the difficult deeds. ... وَالْقَانِتِينَ ... and obedient, meaning, they submit and obey Allah, ... وَالْمُنفِقِينَ ... those who spend, from their wealth on all the acts of obedience they were commanded, being kind to kith and kin, helping the needy, and comforting the destitute. ... وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالاَسْحَارِ and those who pray and beg Allah's pardon in the last hours of the night. and this testifies to the virtue of seeking Allah's forgiveness in the latter part of the night. It was reported that when Yaqub said to his children, سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ (I will ask my Lord for forgiveness for you) (12:98) he waited until the latter part of the night to say his supplication. Furthermore, the Two Sahihs, the Musnad and Sunan collections recorded through several Companions that the Messenger of Allah said, يَنْزِلُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالى فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلى سَمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الاْخِرُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَايِلٍ فَأُعْطِيَهُ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأَسْتَجِيبَ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ Every night, when the last third of it remains, our Lord, the Blessed, the Superior, descends to the lowest heaven saying, "Is there anyone to ask Me, so that I may grant him his request? Is there anyone to invoke Me, so that I may respond to his invocation? Is there anyone seeking My forgiveness, so that I may forgive him?" The Two Sahihs recorded that Aishah said, "The Messenger of Allah performed Witr during the first part, the middle and latter parts of the night. Then, later (in his life), he would perform it (only) during the latter part." Abdullah bin Umar used to pray during the night and would ask, "O Nafi! Is it the latter part of the night yet?" and if Nafi said, "Yes," Ibn Umar would start supplicating to Allah and seeking His forgiveness until dawn. This Hadith was collected by Ibn Abi Hatim.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] اس آیت میں ایسے متقی لوگوں کی پانچ صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی صفت صبر ہے۔ صبر ایک جامع اصطلاح ہے جس کا اطلاق عموماً دو طرح سے ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ کسی مصیبت کے پیش آنے پر جزع و فزع سے پرہیز کیا جائے اور اسے اللہ کی رضا کی خاطر خوشدلی سے برداشت کیا جائے اور کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالی جائے یا ایسی حرکت نہ کی جائے جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو۔ اور دوسرے یہ کہ دین کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کو خوشدلی سے برداشت کرتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے جسے دوسرے لفظوں میں استقامت بھی کہتے ہیں اور یہ بھی صبر ہی کی قسم ہے۔ دوسری صفت صادق ہونا ہے۔ صادق کے لفظ کا اطلاق صرف اس شخص پر ہی نہیں ہوتا جو سچ بولنے کا عادی ہو بلکہ اس پر بھی ہوتا ہے جو اپنے تمام معاملات میں راست باز ہو۔ بدعہدیوں اور فریب کاریوں سے بچنے والا ہو۔ تیسری صفت شریعت کے اوامرو نواہی کے آگے سر تسلیم خم کرنا۔ چوتھی صفت اللہ کے عطا کردہ مال و دولت میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور پانچویں صفت مذکورہ اعمال کو بجا لانے پر پھول جانے کی بجائے اللہ سے استغفار کرنا ہے جس کا بہترین وقت رات کا آخری حصہ ہوتا ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصہ میں آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتا ہے اور فرماتا ہے : کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے عطا کروں ؟ کون مجھ سے گناہوں کی معافی چاہتا ہے کہ میں اس کے گناہ بخش دوں ؟ && (بخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء نصف اللیل)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلصّٰبِرِيْنَ ” نیکی کرنے پر، گناہ سے بچنے پر، مصیبتیں آنے پر صبر کرنے والے۔ صبر کی یہ تین قسمیں ہیں۔ ” وَالصّٰدِقِيْنَ “ نیت، قول اور فعل میں سچے، حکم ماننے والے، اپنا مال و جان، اپنی اولاد اور اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت خرچ کرنے والے اور یہ سب کچھ کرنے کے باوجود سحریوں (رات کی آخری گھڑیوں) میں اپنی عبادت پر مغرور ہونے کی بجائے اپنی کوتاہیوں کے لیے استغفار کرنے والے۔ اس آیت سے خاص طور پر سحر (پچھلی رات) کے وقت استغفار کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ (دیکھیے ذاریات : ١٥ تا ١٨) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، فرماتا ہے : ” کون ہے جو مجھ سے دعا کرے تو میں اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے تو میں اسے دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے تو میں اسے بخشوں ؟ “ [ بخاری، التہجد، باب الدعاء ۔۔ : ١١٤٥، عن أبی ہریرۃ (رض) ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالْقٰنِـتِيْنَ وَالْمُنْفِقِيْنَ وَالْمُسْـتَغْفِرِيْنَ بِالْاَسْحَارِ۝ ١٧ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ قنت القُنُوتُ : لزوم الطّاعة مع الخضوع، وفسّر بكلّ واحد منهما في قوله تعالی: وَقُومُوا لِلَّهِ قانِتِينَ [ البقرة/ 238] ، وقوله تعالی: كُلٌّ لَهُ قانِتُونَ [ الروم/ 26] قيل : خاضعون، وقیل : طائعون، وقیل : ساکتون ولم يعن به كلّ السّكوت، وإنما عني به ما قال عليه الصلاة والسلام : «إنّ هذه الصّلاة لا يصحّ فيها شيء من کلام الآدميّين، إنّما هي قرآن وتسبیح» «1» ، وعلی هذا قيل : أيّ الصلاة أفضل ؟ فقال : «طول القُنُوتِ» «2» أي : الاشتغال بالعبادة ورفض کلّ ما سواه ( ق ن ت ) القنوت ( ن ) کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنے کے ہیں اس بناء پر آیت کریمہ : وَقُومُوا لِلَّهِ قانِتِينَ [ البقرة/ 238] اور خدا کے آگے ادب کھڑے رہا کرو ۔ میں برض نے قانیتین کے معنی طائعین کئے ہیں یعنی اطاعت کی ھالت میں اور بعض نے خاضعین یعنی خشوع و خضوع کے ساتھ اسی طرح آیت کریمہ كُلٌّ لَهُ قانِتُونَ [ الروم/ 26] سب اس کے فرمانبردار ہیں ۔ میں بعض نے قنتون کے معنی خاضعون کئے ہیں اور بعض نے طائعون ( فرمانبرادار اور بعض نے ساکتون یعنی خاموش اور چپ چاپ اور اس سے بالکل خاموش ہوکر کھڑے رہنا مراد نہیں ہے بلکہ عبادت گذاری میں خاموشی سے ان کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( 87 ) کہ نماز ( تلاوت قرآن اور اللہ کی تسبیح وتحمید کا نام ہے اور اس میں کسی طرح کی انسانی گفتگو جائز نہیں ہے ۔ اسی بناء پر جب آپ سے پوچھا گیا کہ کونسی نماز افضل تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( 88 ) طول القنوت یعنی عبادت میں ہمہ تن مصروف ہوجانا اور اس کے ماسوا ست توجہ پھیرلینا قرآن میں ہے ۔ استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا معاف کر نیوالا ہے ۔ سحرصبح والسَّحَرُ والسَّحَرَةُ : اختلاط ظلام آخر اللیل بضیاء النهار، وجعل اسما لذلک الوقت، ويقال : لقیته بأعلی السّحرین، والْمُسْحِرُ : الخارج سحرا، والسَّحُورُ : اسم للطعام المأكول سحرا، والتَّسَحُّرُ : أكله . السحرۃ والسحرۃ اصل میں تو اس کے معنی آخر شب کی تاریکی کے ہیں جو دن کی ابتدائی روشنی میں مخلوط ہو ۔ پھر اس وقت کا نام ہی سحر رکھ دیا گیا ہے ۔ محاورہ ہے لقیتہ باعلی السحرین یعنی میں اسے صبح کاذب کے وقت ملا ۔ اور مسحر اس آدمی کو کہتے ہیں جو سحری کے وقت گھر سے نکلا ہو اور السحور اس طعام کو کہتے ہیں جو بوقت سحر تناول کیا جائے اور تسحر کے معنی سحور کرنے کے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ (اَلصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰدِقِیْنَ ) راست بازی میں راست گوئی بھی شامل ہے اور راست کرداری بھی۔ یعنی آپ کا عمل بھی صحیح اور درست ہو اور قول بھی صحیح اور درست ہو۔ (وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ ) (وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَارِ ) وہ جو سحر کا وقت ہے (small hours of the morning) اس وقت اللہ کے حضور استغفار کرنے والے۔ ایک تو پنج وقتہ نمازیں ہیں ‘ اور ایک خاص وقت ہے جس کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ ہر رات جب رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ سمائے دنیا تک نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : (ھَلْ مِنْ سَاءِلٍ یُعْطٰی ؟ ھَلْ مِنْ دَاعٍ یُسْتَجَابُ لَہٗ ؟ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ یُغْفَرُلَہٗ ؟ ) (١) ہے کوئی مانگنے والا کہ اسے عطا کیا جائے ؟ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے ؟ ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ اسے معاف کردیا جائے ؟ گویا : ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسے راہ رو منزل ہی نہیں !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

13. That is, they are those who remain steadfast in the cause of Truth; who do not lose heart when they either suffer losses or are subjected to afflictions; who do not despair when they encounter reverses; who are not seduced by temptations. They are the ones who remain faithful to the Truth, even when it apparently stands no chance of prevailing (see also Surah 2, n. 60 above) .

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :13 یعنی راہ حق پر پوری استقامت دکھانے والے ہیں ۔ کسی نقصان یا مصیبت سے ہمت نہیں ہارتے ، کسی ناکامی سے دل شکستہ نہیں ہوتے ، کسی لالچ سے پھسل نہیں جاتے اور ایسی حالت میں بھی حق کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے رہتے ہیں ، جبکہ بظاہر اس کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہ آتا ہو ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ بقرہ ، حاشیہ نمبر ٦۰ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:17) والقانتین۔ اطاعت گزار۔ اسم فاعل جمع مذکر معرف باللام قنوت باب نصر سے جس کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کر التزام کرنے کے ہیں۔ المنفقین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ انفاق مصدر۔ راہ خدا میں خرچ کرنے والے۔ انفق ینفق (باب افعال) سے ۔ خرچ کرنا۔ باب مفاعلہ سے نافق ینافق فی الدین۔ مذہب میں منافقت کرنا۔ المستغفرین۔ اسم فاعل جمع مذکر استغفار مصدر باب استفعال ۔ گناہوں کی معافی مانگنے والے ۔ اسحار۔ سحر کی جمع جس کے معنی رات کی تاریکی کے ساتھ دن کی روشنی کے ملنے کے ہیں۔ اسی لئے سحر صبح کے اول وقت کو کہتے ہیں ۔ اسماء صبح کے اوقات۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور اس کے محرمات سے پرہیز مشقت اٹھانے والے۔2 اس آیت سے خاص طور پر سحر (پچھلی رات) کے وقت استغفار کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔ کتب احادیث میں متعدد صحابی سے یہ روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : جب رات کا یک تہائی یا نصف باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پہلے آسمان سے پر اتر کر یہ فرماتے ہیں ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اس کو دوں ؟ ہے کو دعا کرنے والا میں اس کی دعا قبول کروں ؟ ہے کوئی استغفار کرنے والا میں اس کی مغفرت کروں ؟ اور ہر رات پکار کر یہی پوچھا جاتا ہے۔ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اخیر شب کی تخصیص اس لئے ہے کہ اس وقت اٹھنے میں مشقت بھی ہے اور وہ وقت قبولیت کا بھی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

(اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَارِ ) اَلصَّابِرِیْنَ (صبر کرنے والے): اس صفت کو مقدم فرمایا کیونکہ صفت صبر ہی ایسی چیز ہے جس کا تمام نیکیوں میں دخل ہے جیسا کہ آیت کریمہ (وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ) کی تفسیر میں عرض کیا گیا کہ صبر کی تین قسمیں ہیں اول نیکیوں پر جما رہنا دوسرے گناہوں کے چھوڑنے پر نفس کو لگائے رہنا اور گناہوں کے تقاضوں کو دبانا تیسرے تکلیفوں پر صبر کرنا۔ مومن بندہ کی زندگی میں ہر موقعہ پر اور ہر عبادت میں مالی ہو یا بدنی اس صفت کی ضرورت پڑتی ہے پھر فرمایا : وَالصَّادِقِیْنَ (سچے لوگ): سچائی بہت بڑی صفت ہے۔ ایمان میں سچائی ہو تو انسان منافق نہیں ہوتا۔ اقوال میں سچائی ہو تو انسان جھوٹ نہیں بولتا اعمال میں سچائی ہو تو اعمال کو اچھی طرح انجام دیتا ہے اور نیت میں سچائی ہو تو سب اعمال درست ہوتے ہیں۔ سورة زمر میں فرمایا (وَالَّذِیْ جَاء بالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ) (اور جو شخص سچ لے کر آیا اور سچ کی تصدیق کی یہ لوگ تقویٰ والے ہیں) ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم سچ کو لازم پکڑ لو کیونکہ سچ نیکی کی راہ بتاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور انسان برابر سچ کو اختیار کرتا ہے اور اہتمام سے فکر کر کے سچ کو اختیار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک صدیق (بہت زیادہ سچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ اور تم لوگ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گنہگاری کی راہ بتاتا ہے اور گنہگاری دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور انسان برابر جھوٹ اختیار کرتا ہے اور دھیان کرکے سوچ سوچ کر جھوٹ کو اختیار کرتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کذاب (بہت زیادہ جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری و مسلم) وَالْقَانِتِیْنَ (فرمانبر داری کرنے والے): یہ لفظ قنوت سے لیا گیا ہے۔ قنوت کے متعدد معنی ہیں ان میں سے ایک معنی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کے ہیں اس کے عموم میں ہر طرح کی فرمانبر داری اور تمام عبادات اور ترک منکرات داخل ہیں۔ وَالْمُنْفِقِیْنَ : پھر فرمایا والْمُنْفِقِیْنَ (خرچ کرنے والے) اس میں مال خرچ کرنے کی فضیلت ذکر فرمائی یعنی تقویٰ اختیار کرنے والے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرنے والے ہیں، خرچ کرنے کا تعلق مالداری سے نہیں ہے آخرت میں ثواب ملنے کے جذبات سے ہے۔ جن کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی عادت نہیں ہوتی مال کثیر ہوتے ہوئے بھی خرچ نہیں کرتے اور جن کے پیش نظر آخرت کا ثواب ہوتا ہے وہ تھوڑا مال ہوتے ہوئے بھی للہ فی اللہ خرچ کردیتے ہیں۔ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَار : پھر فرمایا (وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بالْاَسْحَارِ ) (اور پچھلی راتوں میں گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والے ہیں) یہ بھی اہل تقویٰ کی خاص صفت ہے۔ حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ قیام اللیل (نماز تہجد) کو لازم پکڑ لو کیونکہ تم سے پہلے جو صالحین تھے یہ ان کا طریقہ رہا ہے اور یہ تمہارے رب کی نزدیکی کا سبب ہے اور گناہوں کا کفارہ کرنے والی ہے اور گناہوں سے روکنے والی ہے۔ (ترمذی) نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کی دعا قبول کروں کون ہے جو مجھ سے سوال کرے میں اسے عطا کروں کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اس کی مغفرت کردوں۔ (صحیح بخاری صفحہ ١٥٣: ج ١) رات کو اٹھنے کی فضیلت : حضرت عمرو بن عبید (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب آخری رات کے حصے میں ہوتا ہے۔ سو اگر تجھ سے ہو سکے تو ان لوگوں میں سے ہوجا جو اس وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ (رواہ الترمذی) (اِِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ اٰخِذِیْنَ مَا اٰتَاھُمْ رَبُّہُمْ اِِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَ کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ) ” بیشک جو لوگ تقویٰ اختیار کرنے والے ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے ان کے رب نے جو انہیں عطا فرمایا اس کے لینے والے ہوں گے۔ بلاشبہ یہ لوگ اس سے پہلے اچھے کام کرنے والے تھے رات کو کم سوتے تھے اور راتوں کے پچھلے حصوں میں استغفار کرتے تھے۔ “

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24 اَلصّٰبِرِیْنَ محل خبر میں ہے اور مع معطوفات اَلَّذِیْنَ اتَّقَوْا ہی کا تابع ہے۔ اَلصّٰبِرِیْنَ مسئلہ توحید بیان کرنے میں ہر تکلیف اور مصیبت میں صبر واستقلالی سے کام لینے والے۔ اَلصّٰدِقِیْنَ ظاہر و باطن میں سچے باتوں میں بھی اوروں کے ارادوں میں بھی۔ اَلْقٰنِتِیْنَ اللہ کی اطاعت اور عبادت پر ہمیشہ قائم رہنے والے۔ اَلْمُنٰفِقِیْنَ اللہ کی دی ہوئی دولت سے توحید اور دین اسلام کی اشاعت میں خرچ کرنے والے۔ اَلْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۔ بوقت سحر نماز پڑھنے والے اور مسئلہ توحید کے بیان میں کوتاہی اور دوسرے گناہوں کیلئے اللہ سے بخشش مانگنے والے۔ الکل من الروح۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اپنے مخاطبین سے دریافت کیجئے کیا میں تم کو ایسی چیزیں بتادوں جو اس دنیوی مذکورہ سامان سے بدرجہا بہتر ہوں لہٰذا سن لو جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں اور دنیوی خواہشات کے پورا کرنے میں احتیاط سے کام لیتے ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار اور مالک کے پاس ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لئے ایسی بیویاں ہوں گی جو ہر قسم کے ظاہری اور باطنی عیوب سے پاک اور مبرا ہوں گی اور مزید برآں اللہ تعالیٰ کی جانب سے رضا مندی اور خوشنودی کی بےبہا نعمت ان کو میسر ہوگی اور اللہ تعالیٰ بندوں کے حال اور ان کے اعمال پر پوری نظر رکھتا ہے ۔ یہ اہل تقویٰ ایسے لوگ ہیں جو یوں کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے اور ہم نے آپ کی اور آپ کے نبی کی تصدیق کی سو آپ ہمارے گناہوں کو معاف کر دیجئے اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیجئے یہ لوگ صبر کرنیوالے اور راست باز ہیں اور فرماں برادری کرنے والے اور خدا کی راہ میں اپنے مال خرچ کرنے والے اور شب کے آخری حصہ میں بخشش و مغفرت طلب کرنے والے ہیں۔ ( تیسیر) تقویٰ کے معنی ہم بیان کرچکے ہیں ۔ ڈرنا ، بچنا ، پرہیز کرنا ، یہاں ہوسکتا ہے کہ خواہشات نفسانی اور مرغوبات نفس کو حاصل کرنے میں احتیاط کرنا اور آگے متقیوں کی صفات کے لحاظ سے یہاں یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ما سویٰ اللہ سے قطع تعلق اور ماسوی اللہ سے اعراض بیویوں کے پاک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری آلائش مثلاً پیشاب ، پاخانہ ، حیض ، تھوک وغیرہ سے پاک اور باطنی مثلاً بغض ، کینہ ، حسد وغیرہ سے پاک رضوان سے مراد اللہ تعالٰ کی ایسی رضا مندی ہے جس کے ادراک کا احاطہ نہ کیا جاسکے ۔ بہت بڑی رضا مندی یہ کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا۔ احل علیکم رضوانی فلا اسخط علیکم بعد ابدا ً یعنی میں نے اپنی رضا تمہارے لئے حلال کردی ہے۔ اور اب اس کے بعد تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا قانت کا ترجمہ اوپر گزر چکا ہے ۔ قنوت کے بہت سے معنی ہیں دائمی اطاعت گزار ، قیام کرنا ، ادب سے کھڑا ہونا ، فروتنی اور عاجزی وغیرہ ۔ سحر سے مراد شب کا آخری حصہ اور رات کا آخرت ثلث ، خلاصہ یہ کہ مرغوبات نفس کے مقابلہ میں یہ نعمتیں بدرجہا بہتر ہیں اور یہ نعمتیں اہل تقویٰ کے لئے خاص ہیں نعمتوں کے آگے ان الہ تقویٰ کی توصیف و تعریف ہے ۔ یوں تو جنت کی تمام نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کی تعریف نہیں جاسکتی ۔ حدیث میں آتا ہے۔ مالا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر۔ یعنی نہ کسی آنکھ نے وہ نعمتیں دیکھیں نہ کسی کان نے سنیں اور کسی بشر کے قلب پر ان کا کبھی خطرہ گزرا لیکن اللہ تعالیٰ کا کسی بندے سے راضی ہو کر ملاقات کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا اعلان یہ نعمت جنت کی ساری نعمتوں سے بڑھ کر ہے اور چونکہ نعمتیں مختلف ہیں اور بندوں کی حالت بھی مختلف ہے اس لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے اعمال اور احوال پر گہری نظر رکھتا ہے۔ مغفرت کی دعا سے پہلے ایمان کا ذکر کرنا اس کا مطلب یہ ہے کہ مجرد ایمان استحقاق مغفرت کا سبب ہے اور استحقاق مغفرت کے لئے نفس ایمان کافی ہے۔ جیسا کہ حضرت معاذ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ۔ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ اس شخص کو عذاب نہ کرے جو اس کے ساتھ شریک نہ کرے۔ الخ مغفرت کی دعا کے ساتھ عذاب دوزخ سے بچنے کی دعا بھی کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیجئے ۔ متقیوں کے اوصاف بیان کرنے میں بہترین ترتیب رکھی ہے اور ہر قسم کی طاعات کو شامل کرلیا ہے ۔ خواہ وہ اخلاق و اقوال ہوں اور خواہ وہ اعمال بدنی اور مالی ہوں مثلاً صبر خواہ منہیات سے باز رہنے پر ہو خواہ طاعات کی تکلیف اور خواہ مصائب و حوادتات پر ہو نفس کی برائی کا علاج ہے اور بدنی اصلاح کے تمام اقوال صدق میں داخل ہوگئے اور تمام افعال کو لفظ قنوت شامل ہے اور عبادات مالی کے لئے انفاق ، غرض اخلاق ، اقوال ، اعمال ، بدنی و مالی سب بالا ستعیاب بجا لاتے ہیں اور ان تمام عبادات روحانی و جسمانی کے بعد شب کے آخری حصہ میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے ہیں اور اس سے ڈرتے رہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز پڑھتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ بخشش کی دعا کرتے ہیں اور سحر کی قید اس لئے لگائی کہ یہ وقت اطمینان اور توجہ الی اللہ کا ہوتا ہے اور یہ وقت دعا کی قبولیت کا ہے اور اس وقت اٹھ کر نماز پڑھنا اور استغفار کرنا نفس پر کٹھن بھی بہت ہے۔ سورۂ ذاریات میں فرمایا ہے کانوا قلیلا من الیل ما یھجعون وبالا سحارھم یستغفرون یعنی اہل تقویٰ کا یہ ایک خاص وصف ہے کہ رات کو بہت تھوڑی دیر سونا اور سحری کے وقت شب کی کوتاہیوں پر استغفار کرنا کوتاہی یہ کہ عبادت میں جو قصور ہوگیا ہو اس کی معافی یا شب میں تھوڑی دیر بھی کیوں سوئے اس پر معافی خواہ ہوتے ہیں۔ اوپر کی آیت میں جن مرغوبات نفس کی طرف اشارہ فرمایا تھا وہ عورتیں ، بیٹے ، بکثرت مال ، گھوڑے مویشی اور زرعی زمین تھی ۔ اس کے مقابلہ میں جنت پاکیزہ بیویاں اور ضائے الٰہی کا تذکرہ کیا اور یہ بات ظاہر ہے کہ صرف جنت ہی تمام نعمتوں کا نام ہے ۔ دنیا کی مذکورہ تمام مرغوبات وہاں موجود ہوں گی۔ جیسا کہ فرمایا وفیھا ما تشتھیہ الانفس وتلذالاعین وہاں ہر خواہش پوری ہوگی ۔ سواریاں بھی ہوں گی اولاد بھی نیک انسان کی اس کے قریب ہوگی جنت کی تعمیر ہی سونے اور چاندی سے ہوگی مگر باوجود اس کے پھر بھی جنت کے ساتھ بیویوں کا ذکر فرمایا اور ایک رضوان کا ذکر فرمایا ۔ اس کی وجہ محض یہ معلوم ہوتی ہے کہ عورت چونکہ تسکین خاطر اور دل جمعی کا سبب ہے اس لئے اس کی خصوصیت سے ذکر فرما دیا۔ رہی رضا مندی اور رضائے الٰہی ۔۔۔۔ چونکہ وہ تمام نعمتوں میں اہم نعمت ہے بلکہ جنت کی طلب اور خواہش بھی اسی غرض کے لئے ہے اور حضرت حق کی رضا کا محل ہے اس لئے اس کو خاص طور پر ذکر فرمایا۔ یہ مطلب نہیں کہ بس ان چیزوں کے علاوہ وہاں کچھ اور نہ ہوگا بلکہ وہاں وہ سب کچھ ہوگا جو یہاں نظر آتا ہے اور اس سے بہت زیادہ ہوگا اور دائمی ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رضائے الٰہی سے دوزخ کو جو کیف اور سرور نصیب ہوگا ، اور جو روحانی لذت میسر ہوگی اس کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا ۔ صاحب تفسیر مظہری حضرت قاضی ثناء اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں ۔ صابروں سے مراد صوفیہ ، غازی اور شہداء ہیں صادقون سے مراد علماء ہیں ۔ قانتو ن سے مراد وہ زاہد ہیں جو نمازوں میں طویل قیام کرتے ہیں ۔ منفقون سے مراد وہ نیک دولت مند ہیں جو حلال سے روپیہ کماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خیرات کرتے ہیں اور مستغفرون بالا سحار سے وہ توبہ کرنے والے مراد ہیں جو نادانی سے کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں اور گناہ کے متصل ہی توبہ کرتے اور معافی چاہتے ہیں۔ احقر عرض کرتا ہے کہ اہل تقویٰ کی صفات کے متعلق مفسرین نے بہت سی تفسیریں کی ہیں اور ان سب کی گنجائش ہے۔ وللناس فیما یعشقون مذاھب ہم نے صرف مطلب بیان کردیا ہے اور باقی مباحث اور بہت سی احادیث کو چھوڑ دیا ہے اب آگے پھر توحید کا مکرر ذکر فرماتے ہیں کیونکہ یہ تمام بحث اثبات توحید اور ابطال تثلیث سے شروع ہوتی ہے بیچ میں بعض مناسبت سے دوسری باتیں آگئیں عقلی اور نقلی دلائل کے بعد پھر ان موانع کا ذکر فرمایا جو انسان کو امر حق کے قبول کرنے سے روکتے ہیں۔ آخر میں پھر توحید کا ذکر کیا تا کہ سامع کو تمام بحث ستحضر ہوجائے اور اس کے بعد عام طور پر اہل کتاب اور کفار عرب اسلام کی دعوت دی گئی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپکے متبعین کی توحید اور ان کے اسلام کا اعلان کیا گیا ، چناچہ ارشاد فرماتے ہیں ۔ ( تسہیل)