Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 177

سورة آل عمران

اِنَّ الَّذِیۡنَ اشۡتَرَوُا الۡکُفۡرَ بِالۡاِیۡمَانِ لَنۡ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیۡئًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۷۷﴾

Indeed, those who purchase disbelief [in exchange] for faith - never will they harm Allah at all, and for them is a painful punishment.

کُفر کو ایمان کے بدلے خریدنے والے ہرگِز ہرگِز اللہ تعالٰی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور ان ہی کے لئے المناک عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُاْ الْكُفْرَ بِالاِيمَانِ ... Verily, those who purchase disbelief at the price of faith, by exchanging disbelief for faith, ... لَن يَضُرُّواْ اللّهَ شَيْيًا ... not the least harm will they do to Allah. Rather, they will only harm themselves. ... وَلهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ For them, there is a painful torment. Allah said next, وَلاَ يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لاِّاَنفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُواْ إِثْمًا وَلَهْمُ عَذَابٌ مُّهِينٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یعنی یہ لوگ ایمان کے بجائے کفر اختیارکر کے خود اپنا برا کر رہے ہیں، اس کے نتیجہ میں دردناک عذاب سے دو چار ہوں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِيْمَانِ لَنْ يَّضُرُّوا اللہَ شَـيْـــًٔـا۝ ٠ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۝ ١٧٧ شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم ہیں ۔ کیونکہ مشتری کے معنی قیمت دے کر اس کے بدلے میں کوئی چیز لینے والے کے ہیں ۔ اور بائع اسے کہتے ہیں جو چیز دے کہ قیمت لے اور یہ اس وقت کہا جاتا ہے جب ایک طرف سے نقدی اور دوسری طرف سے سامان ہو لیکن جب خریدو فروخت جنس کے عوض جنس ہو ۔ تو دونوں میں سے ہر ایک کو بائع اور مشتری تصور کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بیع اور شراء کے الفاظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اور عام طور پر شربت بمعنی بعت اور ابتعت بمعنی اشتریت آتا ہے قرآن میں ہے ۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] اور اس کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالا ۔ ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧٧) اسی طرح جن لوگوں نے ایمان کو چھوڑ کر کفر کو اختیار کرلیا ہے اور وہ منافق ہیں، ان کے کفر اختیار کرلینے میں اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں ہوگا اور ان لوگوں کے لیے آخرت میں ایسا درد ناک عذاب ہوگا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:177) اشتروا۔ انہوں نے مول لیا۔ انہوں نے بیچا اشتراء (افتعال) سے، جس کے معنی خریدنا اور بیچنا دونوں کے آتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی ایمان کے بجائے کفر اختیار کر کے خود برا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں دردناک عذاب سے دوچار ہوں گے ،

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالإيمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ……………” جو لوگ ایمان چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کررہے ہیں ۔ ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے ۔ “ ایمان تک ان کے ہاتھ پہنچ سکتے تھے ۔ ایمان کے دلائل اس پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ۔ خود انسانی فطرت اور نفس کے اندر دلائل ایمان موجود ہیں ۔ خود انسان کے عجیب و غریب جسم کے منصوبے کے اندر ‘ اس میں باہم مکمل ہم آہنگی کے اندر ‘ اس میں ودیعت کردہ فطرت انسانی کے اندر ‘ پھر انسانی فطرت اور اس کے اس طبیعی وجود میں پائی جانے والی ہم آہنگی کے اندر ‘ پھر اس میں اس کے خالق اور صانع کے وجود کا فطری شعور ودیعت کئے جانے کے اندر اور پھر اس شعور کی بہترین نفسیاتی اور طبیعی مزاج کے اندر دلائل ہی دلائل ہیں ۔ اور ان دلائل کے علاوہ رسولوں کی دعوت بھی تو موجود رہی ہے اور ہے ۔ یہ دعوت اپنی اس فطری حالت میں موجود ہے جسے انسانی فطرت قبول کرتی ہے ۔ اور اس فطرت اور اس دعوت رسل کے اندر پھر حسین ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور یہ دعوت لوگوں کی ضروریات اور ان کی زندگی کے لئے مکمل صلاحیت رکھتی ہے ۔ ہاں ‘ ایمان ان کے سامنے مکمل طور پر موجود تھا ‘ ان کی دسترست میں تھا ‘ انہوں نے اور انہوں ہی نے راہ ایمان کو چھوڑ کر کفر کی راہ خرید لی ۔ اور یہ کام انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے کیا۔ اس لئے وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ اللہ انہیں اس حال میں چھوڑ دے کہ وہ کفر کی راہ پر سرپٹ دوڑیں تاکہ وہ اپنا پورا سرمایہ حیات اس راہ میں لگادیں اور ان کے لئے ثواب آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ اللہ کو کوئی نقصان دے سکیں ۔ اس لئے کہ وہ مکمل طور پر گمراہ ہوگئے ہیں اور ان کے پاس سچائی کی معمولی مقدار بھی نہیں رہی ہے ۔ اور گمراہی کے حق میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل اور کوئی طاقت نازل ہی نہیں کی ہے ۔ اس لئے اپنی حقیقت کے اعتبار سے باطل کے پاس کوئی قوت نہیں ہوتی ۔ لہٰذا وہ اہل حق اور دعوت اسلامی کو کبھی کوئی مضرت نہیں پہنچاسکتے ۔ کیونکہ ان کے پاس اگر کوئی قوت ہے بھی تو وہ بہت ہی کمزور اور نحیف ہے ۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو پھولاکر دکھائے ‘ اور وقتی طور پر مسلمانوں کو کسی شکست کی وجہ سے رنج والم پہنچ جائے۔ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ…………” ان کے لئے درناک عذاب ہے ۔ “ یہ اس قدر المناک ہوگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور اس قدر رنج والم وہ اس دنیا میں اہل اسلام کو نہیں دے سکتے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْءًا وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (بےشک جن لوگوں نے ایمان کو کفر کے بدلہ خرید لیا وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، اور ان کے لیے عذاب ہے درد ناک) کفر کو ایمان کے بدلے خرید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ایمان کے بدلہ کفر اختیار کرلیا۔ ایمان کو چھوڑ کر کفر کو رغبت کی چیز بنا لیا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہاں جو مکرر (لَنْ یَّضُرُّو اللّٰہِ شَیْءًا) فرمایا یہ بطور تاکید کے ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس سے تعریض مقصود ہو اور مطلب یہ ہو کہ یہ لوگ صرف اپنی ہی ذاتوں کو ضرر دے رہے ہیں۔ اللہ کو کوئی ضرر نہیں دے سکتے اور اپنی حرکتوں کی وجہ سے درد ناک عذاب کے مستحق ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

269 ۔ یہ آیت عام ہے اور تمام کفار کو شامل ہے الایۃ الاولی فیمن نافق من المتخلفین۔ والثانیۃ فی جمیع الکفار او علی العکس (مدارک ج 1 ص 156) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 یقین جانو ! جن لوگوں ن ایمان کو چھوڑ کر اس کی جگہ کفر اختیار کر رکھا ہے۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو ہرگز ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور ان کو نہایت ہی درد ناک عذاب ہوگا۔ اور بڑی درد ناک سزا ملے گی۔ (تیسیر) اس آیت میں عام طور سے فرمایا کوئی منافق ہو کافر ہو پھر کافر بھی یہودی ہو نصرانی ہو غرض کوئی ہو کہیں کا ہو جو اس صلاحیت اور استعداد کو چھوڑ کر جس سے ایک انسان اسلام قبول کرتا ہے اور اس استعداد اور صلاحیت سے کام لے گا جو کفر قبول کرنے میں ممد و معاون ہوتی ہے تو ایسے لوگ سن لیں کہ وہ اللہ کے دین کا کوئی نقصان نہیں کرسکتے اور ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو اپور ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی بڑا عذاب اور انتہائی درد ناک عذاب ان لوگوں کو دیا جائے گا ۔ یہاں اسی ایک استعداد کو معطل اور دوسری استعداد سے کام لینے کو خریدو فروخت سے تعبیر کیا ہے ورنہ حقیقی خریدو فروخت نہیں ہے بلکہ ایک چیز کے بدلے میں جس کو اگر چاہتے تو اختیار کرسکتے تھے۔ (یعنی ایمان) دوسری چیز اختیار کرلی یعنی کفر گویا ایک چیز کے بدلے میں دوسری چیز لے لی۔ یہی مطلب ہے اشتروالکفر بالایمان کا جیسا کہ ہم کئی دفعہ بیان کرچکے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ دوڑ دوڑ کر کفر کی طرف جائو اور یا کھلم کھلا کافر بنو، ایسے لوگ اللہ کو اور اس کے رسول کو اور اسلام کو تو کچھ نقصان پہنچا نہ سکیں گے البتہ خود ہی عذاب عظیم اور عذاب الیم کے مستحق ہوں گے اب آگے کافروں کی ایک بات کا جواب ہے ہم اوپر کئی مرتبہ عرض کرچکے ہیں کہ ان کی گرفت بھی حکمت سے خالی نہیں اور ان کا ڈھیل دینا بھی مصلحت سے خالی نہیں اسی ڈھیل اور مہلت کا ذکر فرماتے ہیں کیونکہ کافر اس مہلت سے یہ استدلال کرتے تھے کہ اگر واقعی اللہ کی نظر میں مغضوب ہیں تو وہ ہم کو پکڑ کر کیوں نہیں لیتا اور جب وہ کوئی گرفت نہیں کرتا اور ہم برابر مزے کر رہے ہیں تو قیامت میں بھی ہم سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور وہاں کا عیش بھی ہم کو ہی میسر آئے گا اس استدلال کی غلطی پر تنبیہہ کی جاتی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)