While dealing with the subject of Jews, as in verses 21-22, the text goes on to censure a particular claim of theirs in the present verse. The address is to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the reference is to the Torah given to the Jews who would have found it enough for them if they were really looking forward to guidance. But they elect to be in-different because they say and believe that the fire of Hell will not touch them except for a few days, after which, according to their supposition, they would be forgiven. This, it has been said, is self-deception caused by what they have been forging for themselves like their belief that they were the progeny of prophets and therefore, they will escape punishment in the fire of Hell. Jews contended that they had worshipped the calf for 40 days and so they will incur punishment, if any, for the same period only.
(اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ نے ایسے لوگ نہیں دیکھے جن کو کتاب ( سماوی یعنی توراۃ) کا ایک ( کافی) حصہ دیا گیا (کہ اگر ہدایت کے طالب ہوتے تو وہ حصہ اس غرض کی تکمیل کے لئے کافی تھا) اور اسی کتاب اللہ کی طرف اس غرض سے ان کو بلایا بھی جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان ( مذہبی اختلاف کا) فیصلہ کردے پھر ( بھی) ان میں سے بعض لوگ انحراف کرتے ہیں بےرخی کرتے ہوئے (اور) یہ ( بےاعتنائی) اس سبب سے ہے کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں (اور یہی ان کا اعتقاد ہے) کہ ہم کو صرف گنتی کے تھوڑے دنوں تک دوزخ کی آگ لگے گی (پھر مغفرت ہوجاوے گی) اور ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ان کی تراشی ہوئی باتوں نے ( جیسے اسی تراشے ہوئے عقیدہ نے ان کو دھوکہ دیا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں، اس خاندانی بزرگی سے ہماری نجات ضرورت ہوجائے گی، اس کے نتیجہ میں وہ اور کتاب اللہ سے بےاعتنائی کرنے لگے) سو ( ان احوال و افعال و اقوال کفریہ کے سبب) ان کا کیا ( برا) حال ہوگا، جبکہ ہم ان کو اس تاریخ میں جمع کرلیں گے جس ( کے آنے) میں ذرا شبہ نہیں اور (اس تاریخ میں) پورا پورا بدلہ مل جائے گا ( کہ بےجرم یا زیادہ از جرم سزا نہ ہوگی)