Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 23

سورة آل عمران

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الۡکِتٰبِ یُدۡعَوۡنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ وَ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۲۳﴾

Do you not consider, [O Muhammad], those who were given a portion of the Scripture? They are invited to the Scripture of Allah that it should arbitrate between them; then a party of them turns away, and they are refusing.

کیا آپ نے انہیں دیکھا جنہیں ایک حصّہ کتاب کا دیا گیا ہے وہ اپنے آپس کے فیصلوں کے لئے اللہ تعالٰی کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں ، پھر بھی ایک جماعت ان کی منہ پھیر کر لوٹ جاتی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Chastising the People of the Book for Not Referring to the Book of Allah for Judgment Allah says; أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوْتُواْ نَصِيبًا مِّنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُم مُّعْرِضُونَ Have you not seen those who have been given a portion of the Scripture! They are being invited to the Book of Allah to settle their dispute, then a party of them turned away, and they are averse. Allah criticizes the Jews and Christians who claim to follow their Books, the Tawrah and the Injil, because when they are called to refer to these Books where Allah commanded them to follow Muhammad, they turn away with aversion. This censure and criticism from Allah was all because of their defiance and rejection. Allah said next,

جھوٹے دعوے یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ اپنے اس دعوے میں بھی جھوٹے ہیں کہ ان کا توراۃ و انجیل پر ایمان ہے کیونکہ ان کتابوں کی ہدایت کے مطابق جب انہیں اس نبی آخرالزمان کی اطاعت کی طرف بلایا جاتا ہے تو یہ منہ پھیر کے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں ، اس سے ان کی اعلیٰ درجہ کی سرکشی تکبر اور عناد و مخالفت ظاہر ہو رہی ہے ، اس مخالفت حق اور بےجا سرکشی پر انہیں اس چیز نے دلیر کر دیا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں نہ ہونے کے باوجود اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر کے یہ بات بنا لی ہے کہ ہم تو صرف چند روز ہی آگ میں رہیں گے یعنی فقط سات روز ، دنیا کے حساب کے ہر ہزار سال کے پیچھے ایک دن ، اس کی پوری تفسیر سورۃ بقرہ میں گذر چکی ہے ، اسی واہی اور بےسروپا خیال نے انہیں باطل دین پر انہیں جما دیا ہے بلکہ یہ خود اللہ نے ایسی بات نہیں کہی ان کا خیال ہے نہ اس کی کوئی کتابی دلیل ان کے پاس ہے ، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں ڈانٹتا اور دھمکاتا ہے اور فرماتا ہے ان کا قیامت والے دن بدتر حال ہو گا ؟ کہ انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا رسولوں کو جھٹلایا انبیاء کو اور علماء حق کو قتل کیا ، ایک ایک بات کا اللہ کو جواب دینا پڑے گا اور ایک ایک گناہ کی سزا بھگتنی پڑے گی ، اس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں اس دن ہر شخص پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر بھی کسی طرح کا ظلم روانہ رکھا جائے گا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

23۔ 1 ان اہل کتاب سے مراد مدینے کے یہودی ہیں جن کی اکثریت قبول اسلام سے محروم رہی اور وہ اسلام مسلمانوں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف مکر و سازشوں میں مصروف رہے تاآنکہ ان کے دو قبیلے جلا وطن اور ایک قبیلہ قتل کردیا گیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٧] اس آیت میں ( اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ 23؀) 3 ۔ آل عمران :23) سے مراد یہود کے وہ علماء ہیں جو تورات کا کچھ نہ کچھ علم رکھتے تھے۔ لیکن علم کے باوجود کتاب اللہ کے احکام میں تحریف ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی۔ تورات میں شادی شدہ زانی مرد اور عورت کے لیے واضح طور پر رجم کا حکم موجود تھا۔ پہلے تو ان علماء نے یہ کام کیا کہ جب کوئی شریف اور مالدار یا معزز آدمی زنا کا مرتکب ہوتا تو مختلف شرعی حیلوں سے اس کی سزا کو ساقط کردیتے اور کمزور آدمیوں پر حد جاری کرتے۔ بعد میں انہوں نے سب طرح کے لوگوں کے لیے ایک درمیانی راہ نکالی اور طے یہ کیا کہ زانی کی سزا ہی ایسی ہی مقرر کی جائے جو سب کے لیے یکساں ہو اور وہ سزا یہ تھی کہ زانی مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، اس کا منہ کالا کرکے گدھے پر سوار کرکے اسے بستی کے گرد پھرایا جائے۔ ایک دفعہ دور نبوی میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک مالدار یہودی نے ایک یہودن سے زنا کیا۔ یہ دونوں شادی شدہ تھے۔ ان کا مقدمہ عدالت نبوی میں پیش ہوا۔ ان کی غرض یہ تھی کہ شاید اس طرح یہ زانی رجم سے بچ جائیں گے۔ آپ نے یہود کے علماء سے پوچھا : تم اللہ کی کتاب میں ایسے لوگوں کے لیے کیا سزا پاتے ہو ؟ وہ فوراً کہنے لگے کہ ہم تو ان کا منہ کالا کرکے انہیں گدھے پر سوار کرکے پھراتے ہیں۔ عبداللہ بن سلام (رض) نے (جو یہود کے علماء میں سے تھے اور اسلام لاچکے تھے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ انہیں کہئے کہ اللہ کی کتاب لاؤ۔ چناچہ تورات لائی گئی۔ پڑھنے والے نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر اسے چھپا دیا اور آگے پیچھے سے پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام (رض) کے کہنے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے ہاتھ اٹھانے کو کہا تو نیچے رجم کی آیت تھی۔ اس طرح جب ان علماء کی چوری پکڑی گئی تو از راہ ندامت وہاں سے اٹھ کر چلتے بنے۔ اس آیت میں ایسے ہی یہودی علماء کا کردار بیان ہوا ہے۔ اب مقدمہ کا فیصلہ ابھی باقی تھا۔ چناچہ آپ نے اس یہودی اور یہودن کو سنگسار کروا دیا۔ یہ واقعہ متعدد صحیح احادیث میں مذکور ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا۔۔ : اس آیت میں ” كِتٰبِ اللّٰهِ “ سے مراد تورات اور انجیل ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب انھیں خود ان کی کتابوں کی طرف دعوت دی جاتی ہے کہ چلو انھی کو حکم مان لو اور بتاؤ کہ ان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے یا نہیں تو یہ اس سے بھی پہلو تہی کر جاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں جیسے انھیں کسی چیز کا علم ہی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

While dealing with the subject of Jews, as in verses 21-22, the text goes on to censure a particular claim of theirs in the present verse. The address is to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the reference is to the Torah given to the Jews who would have found it enough for them if they were really looking forward to guidance. But they elect to be in-different because they say and believe that the fire of Hell will not touch them except for a few days, after which, according to their supposition, they would be forgiven. This, it has been said, is self-deception caused by what they have been forging for themselves like their belief that they were the progeny of prophets and therefore, they will escape punishment in the fire of Hell. Jews contended that they had worshipped the calf for 40 days and so they will incur punishment, if any, for the same period only.

(اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ نے ایسے لوگ نہیں دیکھے جن کو کتاب ( سماوی یعنی توراۃ) کا ایک ( کافی) حصہ دیا گیا (کہ اگر ہدایت کے طالب ہوتے تو وہ حصہ اس غرض کی تکمیل کے لئے کافی تھا) اور اسی کتاب اللہ کی طرف اس غرض سے ان کو بلایا بھی جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان ( مذہبی اختلاف کا) فیصلہ کردے پھر ( بھی) ان میں سے بعض لوگ انحراف کرتے ہیں بےرخی کرتے ہوئے (اور) یہ ( بےاعتنائی) اس سبب سے ہے کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں (اور یہی ان کا اعتقاد ہے) کہ ہم کو صرف گنتی کے تھوڑے دنوں تک دوزخ کی آگ لگے گی (پھر مغفرت ہوجاوے گی) اور ان کو دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ان کی تراشی ہوئی باتوں نے ( جیسے اسی تراشے ہوئے عقیدہ نے ان کو دھوکہ دیا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں، اس خاندانی بزرگی سے ہماری نجات ضرورت ہوجائے گی، اس کے نتیجہ میں وہ اور کتاب اللہ سے بےاعتنائی کرنے لگے) سو ( ان احوال و افعال و اقوال کفریہ کے سبب) ان کا کیا ( برا) حال ہوگا، جبکہ ہم ان کو اس تاریخ میں جمع کرلیں گے جس ( کے آنے) میں ذرا شبہ نہیں اور (اس تاریخ میں) پورا پورا بدلہ مل جائے گا ( کہ بےجرم یا زیادہ از جرم سزا نہ ہوگی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللہِ لِيَحْكُمَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ يَتَوَلّٰى فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ وَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ۝ ٢٣ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے نَّصِيبُ : الحَظُّ المَنْصُوبُ. أي : المُعَيَّنُ. قال تعالی: أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] ( ن ص ب ) نصیب و النصیب کے معنی معین حصہ کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ فریق والفَرِيقُ : الجماعة المتفرّقة عن آخرین، قال : وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] ( ف ر ق ) الفریق اور فریق اس جماعت کو کہتے ہیں جو دوسروں سے الگ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب تو راہ کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں ۔ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

حضور کی خصوصیات گذشتہ الہامی کتب میں تھیں قول باری ہے (الم ترا کی الذین او توانصییا من الکتب یدعون الی کتاب اللہ لیحکم بینھم ثم یتولیفریق منھم وھم معرضون، آپ نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے۔ ان کا حال کیا ہے ؟ انہیں جب کتاب الہی کی طرف بلایاجاتا ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلوتہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیرجاتا ہے) حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ اس سے یہود مراد ہیں۔ انہیں تورات کی طرف بلا گیا جو اللہ کی کتاب ہے جس میں دوسری تمام آسمانی کتابوں کی طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بشارت موجود ہے۔ اللہ نے انہیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صداقت اور صحت کے متعلق ان کتابوں میں موجود ہدایات کی موافقت کی طرف بلایاجس طرح کہ ایک اور آیت میں ارشاد ہوا (قل فاتوابالتوراۃ فاتلوھا) ان کنم صادقین، آپ کہہ دیجئے اگر تم سچے ہو تو تورات لاؤ اور پڑھو) اہل کتاب کا ایک گروہ اس حکم سے روگردانی کرگیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ تورات میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر موجود ہے۔ نیز آپ کی نبوت کی صحت کا بھی اس میں تذکرہ ہے۔ اگر اس گو وہ کو یہ بات معلوم نہ ہوتی تو یہ لوگ ہرگز اس حکم سے روگردانی نہ کرتے جس میں اپنی کتاب، قورات کی تلاوت کی دعوت دی گئی تھی۔ جبکہ دوسراگروہ ایمان لے آیا اور آپ کی نبوت کی تصدیق بھی کردی۔ اس لیئے کہ انہیں آپ کی نبوت کی صحت کا علم ہوگیا تھا اور انہوں نے تورات اور دوسری کتب الہیہ میں آپ کے متعلق بیان کردہ صفات اور خصوصیات کو آپ کی ذات میں دیکھ لیا تھا۔ اس آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی صحت پر دلالت موجود ہے اس لیئے کہ اگر یہ لوگ اپنی کتابوں میں آپ کے متعلق بیان کردہ صفات وخصوصیات اور صحت نبوت کی بناپر آپ کے دعووں کی صداقت سے واقف نہ ہوتے تو ہرگز آپ سے روگردانی نہ کرتے بلکہ کتابوں میں مذکورہ باتوں کافورا حوالہ دیتے اور آپ کے دعووں کے بطلان کو واضح کرتے۔ لیکن جب انہوں نے آپ سے ردگردانی کی اور آپ کی دعوت الی الاسلام پر لبیک نہیں کہاتویہ اس بات کی دلیل بن گئی کہ اس سلسلے میں جو کچھ ان کی کتابوں میں ہے اس سے یہ اچھی طرح واقف ہیں، اس چیلنج کے جواب میں انہوں نے اس سے روگردانی کرتے ہوئے جنگ وجدل اور لڑائی بھڑائی کا راستہ اختیار کرلیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ وہ قرآن جیسی ایک سورت پیش کرتے سے عاجز ہیں۔ یا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو ان الفاظ میں دعوت مباہلہ دی تھی (فقل تعالو اندع ایتاء ناوایتاء کم ونساء ناونساء کم، آپ کہہ دیجئے کہ آجاؤہم مل کر اپنے اور تمھارے بیٹوں اور اپنی اور تمھاری عورتوں کو بلائیں) تاقول باری (ثم تبتھل فنجعل لعنۃ اللہ علی الکاذبین، اور پھر ہم مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالدیں) اس سلسلے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ (لوحضروا وباھلوالاضرم اللہ علیھم الوادی ناراولم یرجعوا الی اھل ولاولک، اگر یہ لوگ آجاتے اور مباہلہ کرلیتے تو اللہ تعالیٰ ان پر پوری وادی میں آگ بھڑکادیتا اور پھر یہ لوگ اپنے بال بچوں کی طرف کبھی واپس نہ جاسکتے) ۔ یہ تمام باتیں نبوت کے دلائل اور رسالت کی صحت کی نشانیاں شمارہوتی ہیں ۔ حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ قول باری (یدعون الی کتاب اللہ) سے مراد قرآن مجید ہے اس لیئے کہ اس میں اصول دین وشرع اور سابقہ کتبسماویہ میں آپ کی صفات دخصوصیات کے بارے میں دی گئی بشارتوں کے متعلق جو کچھ مذکور ہے دہ تورات میں مذکورہ بیانات کے بالکل مطابق ہے۔ اس آیت میں کتاب اللہ کی طرف دعوت میں کئی معانی کا احتمال ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت ہو۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کہ ان کا دین بھی اسلام ہی تھا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد بعض احکام شرع مثلا حدود وغیرہ ہوں جیسا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے کہ آپ ایک دفعہ یہودیوں کے مدرسے میں تشریف لے گئے۔ آپ نے ان سے زانی کی سزا کے متعلق دریافت کیا۔ انہوں نے کوڑوں کا ذکرکیانیز منہ کالا کرنے کی سزا بھی بتائی لیکن سنگسار کرنے کی سزاکوچھپاگئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن سلام کی موجودگی میں رحم کی آیت کے متعلق انہیں آگاہ کیا جب درج بالاان تمام وجوہ کا احتمال موجود ہے تو اس میں کوئی امتناع نہیں کہ آیت میں ان تمام باتوں کی طرف انہیں دعوت دی گئی ہو۔ اس میں اس کی دلالت موجود ہے کہ جو شخص اپنے فریق مقابل کو فیصلہ کرلینے کی دعوت دے تو اس پرا سے قبول کرلینا لازم ہوگا اس لیئے کہ یہ دعوت دراصل کتاب اللہ کی طرف دعوت ہے۔ اس کی نظیر بھی یہ قول باری ہے (واذا دعوالی اللہ ورسولہ لیحکم بینھم اذا فریق منھم معرضون، اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایاجاتا ہے تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان کا ایک گردہ روگردانی کرنے لگتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٣) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں علم توریت کا ایک کافی حصہ دیا گیا ہے (جس میں رجم وغیرہ کا بھی بیان ہے) اور اسی غرض نے قرآن کریم کی طرف ان کو بلایا بھی جاتا ہے تاکہ ان شادی شدہ مرد و عورت کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کریں کہ جنہوں نے خیبر میں زنا کیا ہے، ایسے مجرموں کے سنگسار کرنے کا اپنی کتاب کے مطابق فیصلہ کریں اس میں سے بنو قریظہ اور اہل خیبر توریت کے اس واضح حکم سے دور بھاگتے ہیں اور اس کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اعراض وتکذیب محض اس وجہ سے ہے کہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ ہمیں آخرت میں دوزخ کی آگ صرف چالیس دن کے لیے چھوئے گی ، شان نزول : (آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا (الخ) اب ابی حامت اور ابن منذر (رح) نے عکرمہ (رح) کے واسطہ سے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہودیوں کی ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو توحید خدواندی کی دعوت دی تو ان میں سے نعیم بن عمرو اور حارث بن زید بولے، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم کون سے دین پر ہو ؟ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور انکی ملت پر، تو وہ بولے ابراہیم (علیہ السلام) تو یہودی تھے، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، چلو توریت دیکھ لیں، وہ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والی ہے، اس چیز سے انہوں نے انکار کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کیا آپ ایسے لوگوں کو نہیں دیکھتے جن کو آسمانی کتاب کا ایک کافی حصہ دیا گیا ہے، (لیکن اس کے باوجود وہ حق سے اعراض کرتے ہیں) (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣ (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ ) اُوْتُوْا مجہول کا صیغہ ہے اور یاد رہے کہ جہاں مذمت کا پہلو ہوتا ہے وہاں مجہول کا صیغہ آتا ہے۔ (یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ) (ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ وَہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ) ۔ یعنی کتاب کو مانتے بھی ہیں لیکن اس کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22. They are asked to acknowledge the Book of God as the final arbiter in all matters, and to submit to its judgement, accepting as right whatever this Book holds to be right, and as wrong whatever it holds to be wrong. The Book of God referred to here is the Torah and the Injil, while the expression 'those who have been given a portion of the Book' refers to the Jewish and Christian religious scholars. (For the Quranic view of the Torah and the Injil see n. 2 above - Ed.)

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :22 یعنی ان سے کہا جاتا ہے کہ خدائی کتاب کو آخری سند مان لو ، اس کے فیصلے کے آگے سر جھکا دو اور جو کچھ اس کی رو سے حق ثابت ہو ، اسے حق اور جو اس کی رو سے باطل ثابت ہو ، اسے باطل تسلیم کر لو ۔ واضح رہے کہ اس مقام پر خدا کی کتاب سے مراد تورات و انجیل ہے اور ”کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ پانے والوں“ سے مراد یہود و نصاریٰ کے علما ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(23 ۔ 25) ۔ ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے اپنی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ ایک روز آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور چند یہود کا ایک مدرسہ میں آمنا سامنا ہوا آپ نے ان سے اسلام لانے کو کہا ان میں دو شخص یہودی نعیم بن عمر و اور حارث بن زید نے آپ سے سوچھا کہ آخر آپ کس دین پر ہیں آپ نے فرمایا میں دین اور ملت ابراہیمی پر ہوں انہوں نے جواب دیا کہ حضرت ابراہیم تو خود دین یہود پر تھے پھر آپ ہم سے اور کونسا دین اختیار کراتے ہیں آپ نے فرمایا اگر حضرت ابراہیم دین یہود پر تھے تو تورات میں ضرور اس کا ذکر ہوگا۔ اگر تم سچے ہو تو لاؤ تورات میں کہاں یہ بات لکھی ہے دکھاؤ۔ ان دونوں شخصوں نے تورات کے لانے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہود کے قائل کرنے کو آیت نازل فرمائی ١۔ اور فرمایا کہ یہ لوگ تورات کے بھی پابند نہیں ہیں۔ کیونکہ جس حق بات کا فیصلہ تورات پر قرار دیا جاتا ہے اس سے بھی یہ لوگ پھرجاتے ہیں اور اس سے آگے کی آیت میں اور طرح یہود کا جھوٹ ثابت کیا کہ یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ چند روز کے سوا دوزخ میں ان کہ رہنا نہیں ہے یہ بات بھی تورات کے خلاف ہے اور اسی جھوٹے عقیدہ نے دوزخ سے ان کو بےخوف کردیا ہے اور اس بےخوفی کے سبب سے ایسی جرأت کرتے ہیں مگر آخرت میں ان کو سب حال کھل جائے گا۔ بعض تفسیروں میں اس آیت کے شان نزول سوال اس کے اور اور جو بیان کئے ہیں اس سے اس شان نزول کی سند قوی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:23) یدعون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر غائب دعوۃ سے۔ بلائے جائیں گے۔ بلائے جاتے ہیں۔ لیحکم میں حکم کی اضافت کتاب اللہ کی طرف ہے۔ ثمحرف عطف ہے اور پہلی چیز سے دوسری کے متاخر ہونے پر دلالت کرتا ہے یہاں معطوف علیہ محذوف ہے اور عبارت کچھ یوں ہوگی وہم یعلمون انہ ھو الحق ثم یتولی فریق منھم۔ یہاں علم ہونے کے بعد ان کی روگردانی کا فعل مذکور ہے استبعاد لتولیہم معرضون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ روگردانی کرنے والے۔ منہ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔ ہم معرضون یا تو فریق کی صفت ہے۔ وہم قوم لایزال الاعراض دینہم (وہ ایک ایسا ٹولہ تھا کہ دین سے روگردانی سے باز نہیں آتا تھا۔ یا فریق کا حال ہے اور فریق ذوالحال ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ۔ اس آیت میں کتاب اللہ سے مراد تو رات وانجیل ہے اور مطلب یہ ہے کہ جن انھیں خود ان کی کتاب کو طرف دعوت دی جاتی ہے کہ چلو انہی کو حکم مان لو اور بتا و کہ ان میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے یا نہیں تو یہ اس سے بھی پہلو تہی کر جاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں جیسے ان کو کسی چیز کا علم ہی نہیں ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 25 نصیب (حصہ) یدعون (وہ پکارے گئے (پکارے جاتے ہیں) لیحکم (تاکہ وہ فیصلہ کردے) یتولیٰ (پلٹ جاتا ہے منہ پھیر لیتا ہے) معرضون (وہ بےرخی اختیار کرتے ہیں، منہ پھیرتے ہیں) غرھم (اس نے ان کو دھوکہ میں ڈال دیا) یفترون (وہ گھڑتے ہیں) جمعنھم (ہم نے ان کو جمع کیا (ہم ان کو جمع کریں گے) وفیت (پوراپورا دیا (جائے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 25 سورة ال عمران کی آیت 23 سے 25 تک کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس بات کے دعویدار تھے کہ ہم اہل کتاب ہیں اور اس پر انہیں ناز بھی تھا جب ان کو ان ہی کی کتاب کی طرف یہ کہہ کر بلایا جاتا ہے کہ تم اپنے فیصلے اپنی ہی کتاب کے ذریعے کرلو تو وہ بجائے اللہ کا حکم ماننے کے اپنی رسم و رواج کی طرف مائل ہوتے رہتے ہیں۔ فرمایا اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب وہ اپنی کتاب کی پرواہ نہیں کرتے تو یہ آپ کے لائے ہوئے دین کی اگر پرواہ نہ کریں تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ انسان کو جب نافرمانی کی عادت پڑجاتی ہے تو وہ کسی اپنے یا غیر کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے غلط عقدوں نے انہیں بربادی کے اس گڑھے تک پہنچادیا ہے جہاں ان کی زبانوں پر یہی بات ہے کہ آخرت میں اول تو جہنم کی آگ ہمیں چھوئے گی ہی نہیں کیونکہ جنت تو صرف ہمارے لئے لیکن اگر جہنم میں جانا ہی ہوا تو گنے چنے چند دن میں فرق ہی کیا پڑتا ہے۔ ابدی راحتیں تو یقیناً ہمارے ہی لئے ہیں۔ (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی خوش فہمیاں اپنی جگہ لیکن اگر یہ اس وقت کا ذرا بھی تصور کرلیں جب آخرت میں ہر شخص کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا تو پھر ان کے ہوش ٹھکانے آسکتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ اگر ہدایت کے طالب ہوتے تو وہ حصہ اس غرض کی تکمیل کے لئے کافی تھا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب ہی پہلے کفر کرنے والے ہیں ان کے کفر کی بنیاد ان کا من ساختہ عقیدہ ہے کہ ہم چند دن جہنم میں جائیں گے حالانکہ وہاں ایک کے اعمال دوسرے کے لیے فائدہ مند نہیں ہوں گے۔ اینبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ نے اہل کتاب کے رویّے پر غور نہیں فرمایا کہ جب بھی انہیں تنازعات کا فیصلہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تو بلاوا سنتے ہی ان میں ایک گروہ سراسر منہ پھیر لیتا ہے۔ ایسا اس لیے کرتا ہے کہ ان کا دعو ٰی ہے کہ ہمیں جہنم کی آگ مَس نہیں کرے گی سوائے چند دنوں کے جن میں ہمارے بزرگوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔ دراصل ان کا خود ساختہ دین ہی ان کے لیے فریب نفس اور ہدایت کے لیے سدِّراہ بن چکا ہے۔ ان کی خود فریبیوں کا عالم یہ ہے کہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے قرار دیتے ہیں اور لوگوں میں یہ تاثّر پیدا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ چند دنوں کے علاوہ ہمیں ہرگز سزا نہیں دے گا۔ افسوس ! یہی فریب کاریاں اور خوش فہمیاں آج امّتِ محمدیہ کی غالب اکثریت میں پیدا ہوچکی ہیں۔ کوئی آل رسول کا نام لے کر اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے ‘ کسی نے عشق رسول کا نعرہ لگا کر لوگوں کو شریعت سے آزاد کردیا ہے اور کچھ لوگوں نے دنیا میں ہی بہشتی دروازے کھول رکھے ہیں اور ان کے مذہبی پیشوا اور پیر ومرشد برملا اپنے مریدوں کو یہ سبق دیتے ہیں کہ جنت میں جانے کے لیے نیک اعمال کی ثانوی حیثیت ہے۔ بزرگوں کو راضی رکھنا جنت کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے کے مترادف ہے۔ اسی بناء پر مرشد پکڑنا اور کسی امام کی تقلید ضروری قرار دی جاتی ہے۔ ان خود ساختہ دعوؤں اور وعدوں کی نفی کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ اس وقت ان لوگوں کی کسمپرسی کا کیا عالم ہوگا ؟ جب اللہ تعالیٰ محشر کے میدان میں انہیں اپنے حضور جمع کرے گا ؟ وہاں نہ تو نسب کام آئے گا نہ بزرگ فائدہ پہنچا سکیں گے اور نہ ہی پر کشش نعرے سودمند ہوں گے۔ وہاں تو مجرموں کو دیکھتے ہی ہر کوئی ان سے دور بھاگ جائے گا۔ یہاں تک کہ جنم دینے والی ماں، پرورش کرنے والا باپ، فدا ہونے والے بھائی، اور جانثار بیوی، بیٹے اور بیٹیاں بھی ساتھ چھوڑ جائیں گی۔ پیر مریدوں سے اور مرید اپنے پیروں سے رفو چکر ہوجائیں گے اور ہر شخص کو اس کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزاء وسزا دی جائے گی کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں ہونے پائے گا۔ مسائل ١۔ اہل کتاب کو اسلام کی دعوت دی جائے تو ان کی اکثریت اعراض کرتی ہے۔ ٢۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ ہم چند دن ہی جہنم میں جائیں گے۔ ٣۔ یہودیوں کے خود ساختہ دین نے ہی انہیں گمراہ کردیا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو جمع کرے گا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کو پورا پورا بدلہ دے گا اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ تفسیر بالقرآن کتاب اللہ سے اعراض کا نتیجہ : ١۔ قرآن سے اعراض کرنے والے ظالم اور گمراہ ہیں۔ (الکہف : ٥٧) ٢۔ قرآن سے منہ پھیرنے والوں کی سزا۔ (السجدۃ : ٢٢) ٣۔ قرآن سے اعراض کرنے والے قیامت کے دن اندھے ہوں گے۔ (طٰہٰ : ١٢٤، ١٢٥) ٤۔ اعراض اور گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ (طٰہٰ : ١٠٠، ١٠١) ٥۔ قرآن کا انکار برے لوگ ہی کرتے ہیں۔ (البقرۃ : ٩٩) ٦۔ انہیں دنیا اور آخرت میں دوہرا عذاب ہوگا۔ (بنی اسرائیل : ٧٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یہ سوال سوالیہ ہے اور اسی سے ان کے اس عجیب اور متضاد موقف کی تشہیر مطلوب ہے ۔ یہ موقف ان لوگوں نے اختیار کیا ہے جنہیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ بھی خوش قسمتی سے ملا۔ مثلاً یہود کو تورات اور عیسائیوں کو انجیل کی شکل میں ‘ اور یہ کتابیں کتاب اللہ کا حصہ اس اعتبار سے ہیں کہ کتاب اللہ تو وہ تمام ریکارڈ ہے جو اللہ کی طرف سے کسی بھی زمان ومکان میں کسی نبی پر اترا ۔ کیونکہ اللہ کے ہاں اللہ بھی ایک ہے ۔ نگہبانی بھی ایک ہے ۔ اور حقیقتاً کتاب بھی ایک ہے ۔ یہود ونصاریٰ کو تو اس کا ایک حصہ ملا اور مسلمانوں کو پوری کتاب ملی ۔ اس لئے کہ قرآن کریم اصول الدین کا جامع ہے ۔ اور سابقہ کتب کی توثیق کرتا ہے ۔ یہ سوال ان لوگوں سے کیا گیا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ۔ تاکہ وہ کتاب ان کے درمیان برپا شدہ اختلافات کا بھی فیصلہ کردے ۔ ان کے تمام امور حیات میں وہ فیصلہ کن ہو ۔ ان کی معیشت اور معاش میں وہ فیصلہ کن ہو ۔ تو وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ۔ ان کا ایک فریق اس سے پیچھے ہٹ منہ موڑ دیتا ہے۔ اور کتاب الٰہی اور شریعت الٰہیہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتا لہٰذا یہ ایک ایسا موقف ہے جو ایمان کے خلاف ہے اور وہ ان کے اس دعوے کے بھی خلاف ہے کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ ” تم نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے۔ ان کا حال کیا ہے ؟ انہیں جب کتاب الٰہی کی طرف بلایا جاتا ہے ‘ تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلے کرے ‘ تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلو تہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیرتا ہے۔ “ اسی طرح اللہ تعالیٰ بعض اہل کتاب کے طرز عمل پر تعجب کا اظہار فرماتے ہیں ‘ سب کے نہیں بعض کے طرز عمل پر کہ انہیں یہ دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے نظریاتی امور میں اور اپنے عملی امور میں کتاب الٰہی کی طرف رجوع کریں اور اس کا انکار کردیں۔ وہ یہ انکار مسلمان ہوتے ہوئے کیسے کرسکتے ہیں ‘ مسلمان بھی ہیں اور شریعت کو انہوں نے اپنی زندگی سے بدر کیا ہوا ہے ۔ اور یہ یقین پھر بھی کئے جارہے ہیں کہ وہ مسلم ہیں ۔ یہ تعجب انگیز سوال اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ مسلمان بھی سمجھ لیں کہ حقیقت دین کیا ہے ۔ اور حقیقت اسلام کیا ہے ۔ اس لئے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے ہاں اضحوکہ بن جائیں اور اس کی جانب سے ایسے سوال کا سامنا کرنا پڑے۔ اہل کتاب جو اسلام کے مدعی نہیں ہیں اگر ان کا حال یہ ہوگا اگر وہ کتاب اللہ کے مطابق اپنے فیصلے نہ کرائیں تو پھر اہل اسلام کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ کہ اگر وہ اپنے فیصلے اللہ کی کتاب اور شریعت کے مطابق نہیں کرتے تو وہ اللہ کی جانب سے کس قدر نکیر ‘ استنکار ‘ تعجب اور قابل نفرت اور مضحکہ خیزی کے مستحق ہوں گے ۔ یہ ایک ایسا تعجب ہے جو رفع نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک عظیم مصیبت ہے جس کا اندازہ نہیں کیا گیا۔ اور یہ اللہ کا اس قدر عظیم غضب الٰہی کو دعوت دینا ہے جس کے نتیجے میں ایک مسلم غضب الٰہی کا مستحق ہوسکتا ہے اور راندہ درگاہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور اللہ کی رحمت سے محروم بھی ہوسکتا ہے۔ العیاذ باللہ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہودیوں کا اللہ کی کتاب سے اعراض کرنا اور خوش فہمی میں مبتلا ہونا روح المعانی صفحہ ١١٠: ج ٣ میں ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت المدر اس میں تشریف لے گئے (جو یہودیوں کی مذہبی اور تعلیمی جگہ تھی) وہاں یہودی جمع تھے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے توحید کی دعوت دی۔ ان لوگوں میں نعمان بن عمرو اور حارث بن زید دو آدمی تھے انہوں نے کہا کہ اے محمد ! آپ کس دین پر ہیں آپ نے فرمایا میں ابراہیم کی ملت پر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ابراہیم تو یہودی تھے آپ نے فرمایا کہ تورات لے آؤ وہ ہمارے تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گی وہ تورات لانے پر راضی نہ ہوئے اور اس کا فیصلہ ماننے سے انکار کر بیٹھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی جس میں یہ بتایا کہ ان کو اللہ کی کتاب کی طرف بلا یا جاتا ہے تاکہ وہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کر دے لیکن ان میں کا ایک فریق (جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا) اللہ کی کتاب کو ماننے سے اعراض کرتا ہے اور حق قبول کرنے سے رو گردانی کرتا ہے۔ یہودیوں کے خیالات اور آرزوئیں : پھر ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ طریقہ کار (حق سے منہ پھیرنا اور اللہ کی کتاب سے اعراض کرنا) اس لیے ہے کہ خود تراشیدہ خیالات کی دنیا میں پھنسے ہوئے ہیں انہوں نے اپنے دلوں میں سوچ رکھا ہے کہ بس جی ہم دوزخ میں صرف چند دن کے لیے جائیں گے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ان چند دنوں سے وہ چند دن مراد لیتے تھے جن میں ان کے آباؤ اجداد نے بچھڑے کی عبادت کی تھی، یہ کتنی بڑی حماقت ہے اپنے عقیدہ کے مطابق چند دن کو دوزخ میں جانے کے لیے تیار ہیں جس کے عذاب کی ایک منٹ کی بھی سہار نہیں اور حق ماننے اور اسلام قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جو جھوٹی باتیں انہوں نے تراش رکھی تھیں اور جن جھوٹے خیالات میں مبتلا تھے ان چیزوں نے ان کو دھوکے میں ڈالا اور خام خیالیوں کی وجہ سے مستحق عذاب ہوئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

33 اس آیت میں اہل کتاب کے غایت تمرد اور ان کی اتنہائی سرکشی کا شکوہ کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی کتاب سے اعراض کر کے گمراہ اور ضدی مولویوں کی عبارتوں سے تمسک کرتے ہیں۔ اَلَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْباً مِّنَ الْکِتٰبِ سے اہل کتاب کے عالم مراد ہیں اور کتاب اللہ سے مراد تورات وانجیل ہے۔ وکانوا یرعون الی حکم التوراۃ والانجیل وکانوا یوبون (کبیر ج 2 ص 634) حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود کو دین اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ سے پوچھا کہ تمہارا دین کونسا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں دین ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوں جو شرک و باطل سے بیزار اور توحید کے داعی اور پرستار تھے اس پر وہ کہنے لگے کہ وہ تو یہودی تھے تو آپ نے فرمایا کہ تورات لاؤ اور اسی سے اس کا فیصلہ کرلو مگر وہ اس پر تیار نہ ہوئے اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے۔ (قرطبی ج 2 ص 50)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi