Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 28

سورة آل عمران

لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸﴾

Let not believers take disbelievers as allies rather than believers. And whoever [of you] does that has nothing with Allah , except when taking precaution against them in prudence. And Allah warns you of Himself, and to Allah is the [final] destination.

مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ تعالٰی کی کسی حمایت میں نہیں مگر یہ کہ ان کے شر سے کسی طرح بچاؤ مقصود ہو اور اللہ تعالٰی خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالٰی ہی کی طرف لوٹ جانا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Prohibition of Supporting the Disbelievers Allah says; لااَّ يَتَّخِذِ الْمُوْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُوْمِنِينَ ... Let not the believers take the disbelievers as friends instead of the believers, Allah prohibited His believing servants from becoming supporters of the disbelievers, or to take them as comrades with whom they develop friendships, rather than the believers. Allah warned against such behavior when He said, ... وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّهِ فِي شَيْءٍ ... And whoever does that, will never be helped by Allah in any way, meaning, whoever commits this act that Allah has prohibited, then Allah will discard him. Similarly, Allah said, يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا لاَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاء تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ O you who believe! Take not My enemies and your enemies as friends, showing affection towards them, until, وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاء السَّبِيلِ And whosoever of you does that, then indeed he has gone astray from the straight path. (60:1) Allah said, يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَأءَ مِن دُونِ الْمُوْمِنِينَ أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ للَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَاناً مُّبِيناً O you who believe! Take not for friends disbelievers instead of believers. Do you wish to offer Allah a manifest proof against yourselves! (4:144) and, يَـأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَـرَى أَوْلِيَأءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَأءُ بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ O you who believe! Take not the Jews and the Christians as friends, they are but friends of each other. And whoever befriends them, then surely, he is one of them. (5:51) Allah said, after mentioning the fact that the faithful believers gave their support to the faithful believers among the Muhajirin, Ansar and Bedouins, وَالَّذينَ كَفَرُواْ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَأءُ بَعْضٍ إِلاَّ تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِى الاٌّرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ And those who disbelieve are allies of one another, (and) if you do not behave the same, there will be Fitnah and oppression on the earth, and a great mischief and corruption. (8:73) Allah said next, ... إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً ... unless you indeed fear a danger from them, meaning, except those believers who in some areas or times fear for their safety from the disbelievers. In this case, such believers are allowed to show friendship to the disbelievers outwardly, but never inwardly. For instance, Al-Bukhari recorded that Abu Ad-Darda' said, "We smile in the face of some people although our hearts curse them." Al-Bukhari said that Al-Hasan said, "The Tuqyah is allowed until the Day of Resurrection." Allah said, ... وَيُحَذِّرُكُمُ اللّهُ نَفْسَهُ ... And Allah warns you against Himself. meaning, He warns you against His anger and the severe torment He prepared for those who give their support to His enemies, and those who have enmity with His friends. ... وَإِلَى اللّهِ الْمَصِيرُ And to Allah is the final return. meaning, the return is to Him and He will reward or punish each person according to their deeds.

ترک موالات کی وضاحت یہاں اللہ تعالیٰ ترک موالات کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے مسلمانوں کو کفار سے دوستی اور محض محبت کرنا مناسب نہیں بلکہ انہیں آپس میں ایمان داروں سے میل ملاپ اور محبت رکھنی چاہیے ، پھر انہیں حکم سناتا ہے کہ جو ایسا کرے گا اس سے اللہ بالکل بیزار ہو جائے گا ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَاۗءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ ۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ ) 60 ۔ الممتحنہ:1 ) یعنی مسلمانو میرے اور اپنے دشمنوں سے دوستی نہ کیا کرو اور جگہ فرمایا مومنو یہ یہود و نصاریٰ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو بھی ان سے دوستی کرے گا وہ انہی سے ہے ، دوسری جگہ پروردگار عالم نے مہاجر انصار اور دوسرے مومنوں کے بھائی چارے کا ذکر کر کے فرمایا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے کے خیرخواہ اور دوست ہیں تم بھی آپس میں اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیل جائے گا اور زبردست فساد برپا ہو گا ۔ البتہ ان لوگوں کو رخصت دے دی گئی جو کسی شہر میں کسی وقت ان کی بدی اور برائی سے ڈر کر دفع الوقتی کے لئے بظاہر کچھ میل ملاپ ظاہر کریں لیکن دل میں ان کی طرف رغبت اور ان سے حقیقی محبت نہ ہو ، جیسے صحیح بخاری شریف میں حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم بعض قوموں سے کشادہ پیشانی سے ملتے ہیں لیکن ہمارے دل ان پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صرف زبان سے اظہار کرے لیکن عمل میں ان کا ساتھ ایسے وقت میں بھی ہرگز نہ دے ، یہی بات اور مفسرین سے بھی مروی ہے اور اسی کی تائید اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی کرتا ہے ۔ آیت ( مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِهٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٗ مُطْمَـﭟ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ) 16 ۔ النحل:106 ) جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے ان مسلمانوں کے جن پر زبردستی کی جائے مگر ان کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو ، بخاری میں ہے حضرت حسن فرماتے ہیں یہ حکم قیامت تک کے لئے ہے ۔ پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے ۔ یعنی اپنے دبدبے اور اپنے عذاب سے اس شخص کو خبردار کئے دیتا ہے جو اس کے فرمان کی مخالفت کر کے اس کے دشمنوں سے دوستی رکھے اور اس کے دوستوں سے دشمنی کرے ۔ پھر فرمایا اللہ کی طرف لوٹنا ہے ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کا بدلہ وہیں ملے گا ۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر فرمایا اے بنی اود میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہو کر تمہاری طرف آیا ہوں جان لو کہ اللہ کی طرف پھر کر سب کو جانا ہے پھر یا تو جنت ٹھکانا ہو گا یا جہنم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

28۔ 1 اولیاء ولی کی جمع ہے ولی ایسے دوست کو کہتے ہیں جس سے دلی محبت اور خصوصی تعلق ہو جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو اہل ایمان کا ولی قرار دیا ہے۔ (اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ) 002:257 یعنی اللہ اہل ایمان کا ولی ہے مطلب یہ ہوا کہ اہل ایمان کو ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے کیساتھ خصوصی تعلق ہے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے ولی (دوست) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں اہل ایمان کو اس بات سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں کیونکہ کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور اہل ایمان کے بھی دشمن ہیں۔ تو پھر ان کو دوست بنانے کا جواز کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ تاکہ اہل ایمان کافروں کی موالات (دوستی) اور ان سے خصوصی تعلق قائم کرنے سے گریز کریں۔ البتہ حسب ضرورت و مصلحت ان سے صلح و معاہدہ بھی ہوسکتا ہے اور تجارتی لین دین بھی۔ اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے دشمن نہ ہوں ان سے حسن سلوک اور مدارات کا معاملہ بھی جائز ہے (جس کی تفصیل سورة ممتحنہ میں ہے) کیونکہ یہ سارے معاملات، موالات (دوستی و محبت) سے مختلف ہے۔ 28۔ 2 یہ اجازت ان مسلمانوں کے لئے ہے جو کسی کافر کی حکومت میں رہتے ہوں کہ ان کے لئے اگر کسی وقت اظہار دوستی کے بغیر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو تو وہ زبان سے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار کرسکتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣١] اس آیت میں مومنوں کو انفرادی اور اجتماعی دونوں لحاظ سے خطاب ہے۔ یعنی کوئی مومن کسی کافر کو دوست نہ بنائے۔ مومنوں کی جماعت کافروں کی جماعت کو دوست نہ بنائے اور نہ ہی مومنوں کی حکومت کافروں کی حکومت کو اپنا دوست بنائے۔ وجہ یہ ہے کہ کافر کبھی مومن کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔ جب بھی اسے موقع ملے گا وہ نقصان ہی پہنچائے گا۔ اس سے خیر کی توقع نہیں اور اس میں استثناء یہ ہے کہ اگر تمہیں محض بےتعلق رہنے کی وجہ سے کسی کافر سے کچھ خطرہ ہو تو ظاہرداری اور مدارات کے طور پر اس سے دوستی رکھنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب اس میں بیشمار باتیں ایسی آجاتی ہیں جو محض مومن کی صوابدید پر چھوڑ دی گئی ہیں۔ مثلاً یہ خطرہ جان، مال اور آبرو کے ضائع ہونے کا ہے یا کسی اور بات کا ؟ اور آیا یہ خطرہ فی الواقعہ موجود ہے یا موہوم ہے ؟۔ نیز یہ کہ اس خطرہ کا اثر محض اس کی ذات تک محدود ہے یا یہ بات دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی فتنہ کا سبب بن سکتی ہے ؟ یا اگر وہ کافروں سے دوستی رکھ کر اپنے آپ کو محفوظ کرلیتا ہے تو اس کا نقصان دوسرے مسلمانوں کو تو نہ پہنچے گا ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اب دیکھئے کہ ان تمام سوالوں کے جوابات مختلف ہیں۔ مثلاً پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر فی الواقعہ جان، مال اور آبرو خطرہ میں ہے تو اس اجازت سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ موہوم خطرات کا اعتبار نہیں کرنا چاہئے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کافر سے ظاہرداری اور بچاؤ کی تدبیر نہ کی جائے اور اس کا نقصان مسلمانوں کو پہنچتا ہو تو ضرور بچاؤ اور تحفظ کی راہ نکالی جائے اور چوتھے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر اس کی دوستی سے وہ خود تو محفوظ ہو، مگر دوسرے مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہو تو ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے۔ ایسے موقعوں پر ان سوالوں کے علاوہ اور بھی کئی طرح کے سوال پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثلاً جس خطرہ کو وہ حقیقی سمجھ رہا ہے وہ محض ایک فریب ہو۔ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب نہایت ایمانداری اور دینداری سے دل میں سوچ لینا چاہئے پھر اس کے مطابق عمل کرنا چاہئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس اجازت کے بعد فرما دیا (وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ُ 28 ؀) 3 ۔ آل عمران :28) گویا ایسی باتوں کا جواب اس اللہ سے ڈر کر تمہیں سوچنا چاہئے جس کے ہاں تمہیں لوٹ کر جانا ہے اور وہ تمہارے دلوں کے حالات اور خیالات تک کو بھی خوب جانتا ہے اور اس بات پر بھی قادر ہے کہ اگر تم کافر سے ڈرو نہیں بلکہ اللہ کے ہی ڈر کو مقدم رکھو تو تمہیں انکے فتنہ و شر سے بچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور کئی دوسری راہیں بھی پیدا کرسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔۔ : جب اکیلا اللہ تعالیٰ ہی بادشاہی کا مالک، عزت و ذلت دینے والا اور ہر خیر والا ہے تو ایمان والوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اس کے دوستوں سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھیں، کسی فائدے کی امید پر اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ رکھیں اور جو شخص ایسا کرے گا اس کے لیے اللہ کی دوستی میں سے ذرہ برابر حصہ بھی نہیں ہوگا۔ ہاں، ان کے شر سے کسی طرح بچنے کے لیے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار جائز ہے، جب کہ دل میں ان کے کفر کی وجہ سے نفرت ہو۔ اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے خلاف نہ لڑتے ہوں اور نہ کسی لڑنے والے کی مدد کرتے ہوں تو ان سے حسن سلوک اور مدارات جائز ہے۔ دیکھیے سورة ممتحنہ ( ٨، ٩) ۔ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ لفظ ” تُقٰىةً ۭ“ ” وَقٰی یَقِیْ “ سے مصدر ہے، تنوین کی وجہ سے ” کسی طرح بچنا “ ترجمہ کیا ہے۔ ” تقیہ “ بھی اس کا ہم معنی ہے۔ طبری اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس (رض) سے حسن سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مومنوں کو منع کیا ہے کہ وہ کافروں سے دلی دوستی رکھیں، الا یہ کہ کافر ان پر غالب ہوں تو ان کے لیے نرمی کا اظہار کریں، مگر دین میں ان کی مخالفت کریں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (٥١، ٥٦) اور تقیہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة نحل (١٠٦) ۔ ان آیات سے کسی مسلمان کے لیے مسلمانوں کے ملک کو چھوڑ کر کفار کے ملک میں رہنے کی کراہت بھی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ وہاں مسلمان کے لیے کفار سے دوستی کے عملی ثبوت کے بغیر رہنا اور اپنے اور اہل و عیال کے دین کو بچانا مشکل ہے، اس لیے اگر کوئی مسلمان کہیں مغلوب ہے تو اسے جان بچانے کے لیے دوستی کا اظہار تو جائز ہے، مگر وہاں سے ہجرت کرکے مسلمانوں کے علاقے میں آنا لازم ہے۔ ہاں، بےبس ہو تو اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ اور اس مفہوم کی دوسری آیات مسلم حکومتوں کی خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتی ہیں اور انفرادی معاملات میں مدارات کی بھی، جیسا کہ ابو درداء (رض) نے فرمایا : ” ہم بعض لوگوں کے سامنے مسکراتے ہیں، جب کہ ہمارے دل ان پر لعنت کر رہے ہوتے ہیں۔ “ [ بخاری، الأدب، باب المداراۃ مع الناس ۔۔ ، قبل ح : ٦١٣١ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In these verses, Muslims have been instructed not to take disbe¬lievers as their friends. Those who act against this instruction have been sternly warned: Those who take them as friends will find that their bond of love and friendship with Allah has been cut off. Any emo¬tionally involved friendship that comes from the heart is absolutely forbidden (Haram). However, a formal friendship at the level of mutual dealings is, no doubt, permissible; but, that too is not favoured if un¬necessary. Verses dealing with this subject have appeared at many places in the Holy Qur&an with varying shades of meaning. It was said in Surah al-Mumtahinah: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ 0. those who believe, do not take My enemy and your enemy as friends having love for them. (60:1) Then, towards the end it was said: وَمَن يَفْعَلْهُ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ And whoever from among you does this he has gone astray from the right path. (60:1) Elsewhere it was said: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَ‌ىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ﴿المائدة : ٥١﴾ 0 those who believe, do not take Jews or Christians as friends (for) they are friends among themselves. And whoever has friendship with them, he is one of them. (5:51) And it appears in Surah al-Mujadalah: لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَ‌تَهُمْ You shall not find those who believe in Allah and in the Here-after having friendship with those who have enmity with Al¬lah and His messenger, even though they may be their fathers or sons or brothers or members of their tribe. (58:22) Relations with disbelievers In verses cited above and in many other verses of the Holy Qur&an, Muslims have been strongly prevented from &Muamlat& with non-Muslims, that is, from indulging in relations based on love and friendship. Looking at these clear instructions, non-Muslims who are not aware of the true intention and application of this rule start thinking that the religion of Muslims does not seem to have any place for tolera¬tion or bilateral relations or even common courtesy. On the other hand, there are a large number of verses from the Holy Qur&an, the words and acts of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، the practice of the rightly -guided Khulafa& and other revered Companions, which bring to light injunctions and actual modes of dealing with non-Muslims by way of favour, compassion, generosity, sympathy and con¬cern, which has little or no parallel in world history. A superficial look on these different attitudes may sense a sort of contradiction therein. But, this feeling is a result of only a cursory study of the true teach¬ings of the Qur&an. If we collect all verses of the Qur&an, relating to this subject which appear at several different places and study them all to¬gether, we shall find nothing which could bother non-Muslims nor shall there remain any doubt of contradiction in the text of the Qur&an and Hadith. With this need in view, given below is a full explanation of this point which will, hopefully, bring forth the distinction between various shades of friendship and the reality behind each of them. In addition to this, we shall also get to know what levels of friendship are permissible or impermissible and also the reasons why a certain level has been disallowed. The truth of the matter is that there are different degrees or steps or levels in relations between two persons or groups. The first degree of such relations comes from the heart, that of affection and love in¬volving intense emotional commitment. This is called Muwalat or close friendship. This sort of friendship is restricted to true Muslims. A Muslim is not permitted to have this kind of relationship with a non-Muslim. The second degree is that of Muwasat, which means relationship based on sympathy, kindness and concern. It includes charitable help and support, condolence and consolation and any well-meaning attitude of wishing well. Barring disbelievers who are at war with Mus¬lims, this kind of relationship is permissible with all other non-Muslims. A detailed explanation of this approach has appeared in Surah al-Mumtahinnah (60:8) لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّـهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِ‌جُوكُم مِّن دِيَارِ‌كُمْ أَن تَبَرُّ‌وهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ Allah does not forbid you from treating those who do not fight you on your faith, nor have they driven you out of your homes, with benevolence and equity. The third degree is that of Mudarat which means relations based on customary cordiality, adequacy in courtesy, pleasant and friendly behaviour, and mannerly politeness. This too is permissible with all non-Muslims, especially so, when the objective is to present them with some beneficial aspect of the Faith, or when they are guests, or the purpose is to stay safe from any possible harm coming through them. The words, إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ( (unless you guard yourselves against an ap¬prehension from them) appearing in this verse mean this degree of Mudarat which, in other words, means that Muwalat or friendship with disbelievers is not permissible except when you are in a situation where you want to defend yourself against them. Since Mudarat or sympathetic relations somewhat resemble Muwalat or friendship, it was exempted from the category of Muwalat. (Bayan al-Qur&n) The fourth degree is that of Mu` amalat or dealings. It means dealings and transactions in business or employment or wages or industry or technology. These too are permissible with non-Muslims, except when such dealings harm the general body of Muslims. The continued practice of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the rightly-guided Khulafa& and other Companions prove it so. It is on this basis that Muslim jur¬ists have prohibited the sale of arms to disbelievers who are at war with Muslims. However, trade and activities allied to it have been permitted. Also allowed is having them as employees or being employed in their plants and institutions. To sum up, as for the four degrees of relations with non-Muslims, we now know that friendship which binds a Muslim in very close ties with non-Muslims is not permissible under any condition. Relations based on benevolence, humane interest and concern are permitted with all but the belligerent ones. Similarly, politeness and friendly treatment is also permissible when the purpose is to entertain a guest, convey Islamic teachings to non-Muslims or to stay safe against being hurt or harmed by them. Now, let us look at what our noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، who graced this world as the universal mercy, did for non-Muslims. He demonstrated such compassion, generosity and politeness while deal¬ing with them that it would be difficult to find its example in the world history. When Makkah was in the grip of famine, he personally went out to help his enemies who had made him leave his home town. Then, came the conquest of Makkah. All these enemies fell under his power and control. He set all of them free saying: لَا تَثْرِ‌يبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ which means - Not only that you are being given amnesty this day, we are not cen¬suring you at all for your past tyranny against us either.& When non-Muslim prisoners of war were presented before him, he treated them with such tenderness which many cannot claim to have done even in respect of their children. The disbelievers inflicted on him all sorts of injuries and pain but he never raised his hand in revenge. ` He did not even wish ill of them. A delegation from the tribe of Bano Thaqif who had not embraced Islam upto that time came to visit him. They were given the honour of staying in the Mosque of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، a place re¬garded by Muslims as most honourable. Sayyidna ` Umar (رض) gave stipends and allowances to needy non-Muslim dhimmis ذِمِّی ، an elegant conduct the examples of which are spread all over in the accounts of dealings credited to the rightly -guided Khulafa& and the noble Companions. Let us bear in mind that all these were in one or the other form of Mu` wasat (concern) or Mudarat (cordiality) or Mu&amalat (dealings). It had nothing to do with Muwalat or close and intimate friendship which had been forbidden. The aforesaid explanations clarify two things: firstly, Islam teaches its adherents all possible tolerance, decency and benevolence while dealing with non-Muslims; secondly, the superficial contradiction sensed with regard to the verse forbidding friendship with non-Muslims stands removed. However, there is a possible question which still remains unan¬swered. The question is: °Why has the Qur&an chosen to so strongly block close friendship with disbelievers, so much so that it has not al-lowed it in favour of any disbeliever under any condition? at is the wisdom behind it? One of the reasons, a particular one, is that Islam does not see man existing in this world like common animals or jungle trees and blades of grass which sprout, grow, flourish and die and that is the end of it. Instead of that, man’ s life in this world is a purposeful life. All stages and phases of his life, that is, his eating, drinking, standing, sitting, sleeping, waking, even his living and dying, all re¬volve around a central purpose. As long as what he does conforms to this purpose, all he does is correct and sound. If these are against that purpose, then, they are all wrong. The poet-sage Rumi said it so well: زندگی از بہر ذکر و بندگی است بے عبادت زندگی شرمندگی است The purpose of life is to remember the Creator and serve Him well Life without that devotion is nothing but shame In his view and in the view of all right-minded people, when man abandons this purpose, he does not remain the human being he was created to be: آنچہ می بینی خلافِ آدم اند نیستند آدم غلافِ آدم اند What you see is a crowd of anti-men They are not men, they are just the shell of men The Holy Qur&an has made human beings declare this purpose as their solemn creed in the following words: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٦٢﴾ (My prayer and my sacrifice and my life and my death are all for Al¬lah, the Lord of the Worlds.|" (6:162) Now, when it stands established that the purpose of man&s life is to obey and worship Allah, the Lord of the worlds, everything else including all affairs of life in this world -- business, government, politics, per¬sonal and social relations -- must invariably follow this purpose. It follows, therefore, that those who are against this purpose are the worst enemies of man. Since Satan is the foremost in this enmity, the Holy Qur&an says: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا (Surely, Satan is your enemy, so take him as enemy. 35:6). Thus, those who follow the alluring dictates of the Satan and op-pose the injunctions of Allah brought by the blessed prophets (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) can hardly be the kind of people to deserve deep love and friendship based on close ties and any degree of intimacy. It is just not possible for a person who has a definite purpose in life, and who has all his friendships and enmities, agreements and disagreements subservient to this central purpose, to do something like this. The same subject has been stated in a hadith from al-Bukhari and Muslim in which the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been reported to have said: من احَبَّ للہ وابغضَ للہ فقدِ استکملَ (Whoever loves for the sake of Allah-and hates for the sake of Al¬lah alone, has perfected his faith) (Bukhari and Muslim). From here we know that ایمان ‘Iman or faith remains incomplete unless man subordinates his love and friendship and his hatred and enmity to Allah Almighty. Therefore, any deep emotional commitment by a true Muslim in the known forms of love and friendship has to be exclusively for one who is with him all the way in the pursuit of this noble purpose and certainly obedient to what his Lord has commanded him to do. This is why the Holy Qur&an has, in verses cited at the beginning of the commentary, said that the one who maintains relations based on deep love and friendship with disbelievers is one of them. The last verse (30) says that &Allah warns you of Himself lest you should indulge in friendship with disbelievers for the sake of fleeting interests and objectives and thus invite the anger of Allah. And since close friendship (Muwalat) relates to the heart and the affairs of the heart are known to none but Allah, it is possible that a person may ac¬tually be intensely in love for and friendship with disbelievers, but may deny it verbally. Therefore, the earlier verse (29) has already cov¬ered it by saying: |"whether you conceal what is in your hearts, or dis¬close it, Allah shall know it.|" No denial or false claim is tenable before Him.

خلاصہ تفسیر : ربط آیات : مذکور الصدر آیات میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کافروں کو دوست نہ بنائیں اور اس ہدایت کی مخالفت کرنے والوں کے لئے سخت وعید ہے کہ جو ان کو دوست بنائے گا، اس کا اللہ تعالیٰ سے دوستی و محبت کا علاقہ قطع ہوجائے گا، کافروں سے باطنی اور دلی دوستی تو مطلقا حرام ہے، اور ظاہری دوستی معاملات کے درجہ میں اگرچہ جائز ہے، مگر بلا ضرورت وہ بھی پسند نہیں۔ مختصر تفسیر ان آیات کی یہ ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ (ظاہرا یا باطنا) کفار کو دوست نہ بنائیں مسلمانوں ( کی دوستی) سے تجاوز کر کے ( یہ تجاوز دو صورت سے ہوتا ہے، ایک یہ کہ مسلمانوں سے بالکل دوستی نہ رکھیں، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بھی دوستی ہو اور کفار کے ساتھ بھی، دونوں صورتیں ممانعت میں داخل ہیں) اور جو شخص ایسا ( کام) کرے گا سو وہ اللہ کے ساتھ دوستی رکھنے کے کسی شمار میں نہیں (کیونکہ جن دو شخصوں میں باہم عداوت ہو ایک سے دوستی کر کے دوسرے سے دوستی کا دعوی قابل اعتماد نہیں ہوسکتا) مگر ایسی صورت میں (ظاہری دوستی کی اجازت ہے) کہ تم اس سے کسی قسم کا (قوی) اندیشہ رکھتے ہو ( وہاں دفع ضرر کی ضرورت ہے) اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات ( عظیم الشان سے) ڈراتا ہے ( کہ اس کی ذات سے ڈر کر احکام کی مخالفت مت کرو) اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ( اس وقت کی سزا کا خوف کرنا ضرور ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) فرمادیجیے کہ اگر تم ( دل ہی دل میں) پوشیدہ رکھو گے اپنا مافی الضمیر یا اس کو ( زبان وجوارح سے) ظاہر کردو گے اللہ تعالیٰ اس کو (ہرحال میں) جانتے ہیں اور ( اسی کی کیا تخصیص ہے) وہ تو سب کچھ جانتے ہیں، جو کچھ کہ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ کہ زمین میں ہے (کوئی چیز ان سے مخفی نہیں) اور (علم کے ساتھ) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت بھی کامل رکھتے ہیں (سو اگر تم کسی امر قبیح کا ارتکاب کرو گے خواہ ظاہرا یا باطنا تو وہ تم کو سزا دے سکتے ہیں) جس روز ( ایسا ہوگا) کہ ہر شخص اپنے اچھے کئے ہوئے کاموں کو سامنے لایا ہوا پائے گا، اور اپنے برے کئے ہوئے کاموں کو (بھی پائے گا اس روز) اس بات کی تمنا کرے گا کہ کیا خوب ہوتا جو اس شخص کے اور اس روز کے درمیان دور دراز کی مسافت (حائل) ہوتی ( تاکہ اپنے اعمال بد کا معائنہ نہ کرنا پڑتا) اور (تم سے پھر مکرر کہا جاتا ہے کہ) خدا تعالیٰ تم کو اپنی ذات ( عظیم الشان) سے ڈراتے ہیں ( اور یہ ڈرانا اس وجہ سے ہے کہ) اللہ تعالیٰ نہایت مہربان ہیں (اپنے) بندوں (کے حال) پر (اس مہربانی سے یوں چاہتے ہیں کہ یہ سزائے آخرت سے بچے رہیں، اور بچنے کا طریقہ ہے اعمال بد کا ترک کرنا، اور ترک کرنا عادۃ بدون ڈرانے کے ہوتا نہیں، اس لئے ڈراتے ہیں، پس یہ ڈرانا عین شفقت و رحمت ہے) معارف و مسائل اس مضمون کی آیات قرآن کریم میں جابجا مختلف عنوانات کے ساتھ بکثرت آئی ہیں، سورة ممتحنہ میں ارشاد ہے : ( یا ایھا الذین امنوا لا تتخوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودۃ۔ |" یعنی اے ایمان والو ! میرے دشمن اور اپنے دشمن یعنی کافر کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کو پیغام بھیجو دوستی کے |"۔ پھر اس کے آخر میں فرمایا : (ومن یفعلہ منکم فقد ضل سواء السبیل۔ |" جس شخص نے ان سے دوستی کی تو وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا |"۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے : (یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیاء بعض ومن یتولھم منکم فانہ منھم۔ |" یعنی اے ایمان والو ! یہود و نصاری کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ( مسلمانوں سے ان کو کوئی دوستی اور ہمدردی نہیں) تو جو ان سے دوستی کرے گا وہ انہی میں شمار ہوگا |"۔ اور سورة مجادلہ میں ہے : (لا تجد قوم یومنون باللہ والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ و رسولہ ولو کانوا اباءھم او ابناءھم او اخوانھم او عشیرتھم۔ |" یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ پائیں گے کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور آخرت کے دن پر کہ دوستی کریں ایسے لوگوں سے جو مخالف ہیں اللہ کے اور اس کے رسول کے خواہ وہ اپنے باپ دادا ہی ہوں، یا اپنی اولاد یا اپنے بھائی، یا اپنے خاندان والے |"۔ کفار کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں ؟ یہ مضمون بہت سی آیات قرآنیہ میں مجمل اور مفصل مذکور ہے جس میں مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ساتھ موالات اور دوستی اور محبت سے شدت کے ساتھ روکا گیا ہے، ان تصریحات کو دیکھ کر حقیقت حال سے ناواقف غیر مسلموں کو تو یہ شبہ ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب میں غیر مسلموں سے کسی قسم کی رواداری اور تعلق کی بلکہ حسن اخلاق کی بھی کوئی گنجائش نہیں، اور دوسری طرف اس کے بالمقابل جب قرآن کی بہت سی آیات سے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات اور عمل سے خلفائے راشدین (رض) اور دوسرے صحابہ کرام (رض) کے تعامل سے غیر مسلموں کے ساتھ احسان و سلوک اور ہمدردی و غمخواری کے احکام اور ایسے ایسے واقعات ثابت ہوتے ہیں جن کی مثالیں دنیا کی اقوام میں ملنا مشکل ہیں، تو ایک سطحی نظر رکھنے والے مسلمان کو بھی اس جگہ قرآن وسنت کے احکام و ارشادات میں باہم تعارض اور تصادم محسوس ہونے لگتا ہے، مگر یہ دونوں خیال قرآن کی حقیقی تعلیمات پر طائرانہ نظر اور ناقص تحقیق کا نتیجہ ہوتے ہیں، اگر مختلف مقامات سے قرآن کی آیات کو جو اس معاملہ سے متعلق ہیں جمع کر کے غور کیا جائے تو نہ غیر مسلموں کے لئے وجہ شکایت باقی رہتی ہے، نہ آیات و روایات میں کسی قسم کا تعارض باقی رہتا ہے، اس لئے اس مقام کی پوری تشریح کردی جاتی ہے جس سے موالات اور احسان و سلوک یا ہمدردی و غمخواری میں باہمی فرق اور ہر ایک کی حقیقت بھی معلوم ہوجائے گی، اور یہ بھی کہ ان میں کون سا درجہ جائز ہے کون سا ناجائز اور جو ناجائز ہے اس کی وجوہ کیا ہیں۔ بات یہ ہے کہ دو شخصوں یا دو جماعتوں میں تعلقات کے مختلف درجات ہوتے ہیں، ایک درجہ تعلق کا قلبی موالات یا دلی موددت و محبت ہے، یہ صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے غیر مومن کے ساتھ مومن کا یہ تعلق کسی حال میں قطعا جائز نہیں۔ دوسرا درجہ مواسات کا ہے جس کے معنی ہیں ہمدردی و خیر خواہی اور نفع رسانی کے، یہ بجز کفار اہل حرب کے جو مسلمانوں سے برسر پیکار ہیں باقی سب غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے۔ سورة ممتحنہ کی آٹھویں آیت میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے جس میں ارشاد ہے۔ ( لا ینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم۔ ٦٠: ٨) |" یعنی اللہ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتا ان سے جو لڑتے نہیں تم سے دین پر اور نکالا نہیں تم کو تمہارے گھروں سے کہ ان کے ساتھ احسان اور انصاف کا سلوک کرو |"۔ تیسرا درجہ مدارات کا ہے جس کے معنی ہیں ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ کے، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، جبکہ اس سے مقصود ان کو دینی نفع پہنچانا ہو یا وہ اپنے مہمان ہوں، یا ان کے شر اور ضرر رسانی سے اپنے آپ کو بچانا مقصود ہو، سورة آل عمران کی آیت مذکورہ میں ( الا ان تتقوا منھم تقتۃ) سے یہی درجہ مدارات کا مراد ہے، یعنی کافروں سے موالات جائز نہیں، مگر ایسی حالت میں جبکہ تم ان سے اپنا بچاؤ کرنا چاہو اور چونکہ مدارات میں بھی صورت موالات کی ہوتی ہے اس لئے اس کو موالات سے مستثنی قرار دے دیا گیا۔ ( بیان القرآن) چوتھا درجہ معاملات کا ہے کہ ان سے تجارت یا اجرت و ملازمت اور اور صنعت و حرفت کے معاملات کئے جائیں، یہ بھی تمام غیر مسلموں کے ساتھ جائز ہے، بجز ایسی حالت کے کہ ان معاملات سے عام مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلفائے راشدین (رض) اور دوسرے صحابہ (رض) کا تعامل اس پر شاہد ہے، فقہاء نے اسی بناء پر کفار اہل حرب کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے، باقی تجارت وغیرہ کی اجازت دی ہے، اور ان کو اپنا ملازم رکھنا یا خود ان کے کارخانوں اور اداروں میں ملازم ہونا یہ سب جائز ہے۔ اس تفصیل سے آپ کو یہ معلوم ہوگیا کہ قلبی اور دلی دوستی و محبت تو کسی کافر کے ساتھ کسی حال میں جائز نہیں، اور احسان و ہمدردی و نفع رسانی بجز اہل حرب کے اور سب کے ساتھ جائز ہے، اسی طرح ظاہری خوش خلقی اور دوستانہ برتاؤ بھی سب کے ساتھ جائز ہے، جبکہ اس کا مقصد مہمان کی خاطر داری یا غیر مسلموں کو اسلامی معلومات اور دینی نفع پہنچانا یا اپنے آپ کو ان کے کسی نقصان و ضرر سے بچانا ہو۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو رحمۃ للعالمین ہو کر اس دنیا میں تشریف لائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غیر مسلموں کے ساتھ جو احسان و ہمدردی اور خوش خلقی کے معاملات کئے، اس کی نظیر دنیا میں ملنا مشکل ہے، مکہ میں قحط پڑا تو جن دشمنوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے وطن سے نکالا تھا، ان کی خود امداد فرمائی، پھر مکہ مکرمہ فتح ہو کر یہ سب دشمن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قابو میں آگئے تو سب کو یہ فرماکر آزاد کردیا کہ (لاتثریب علیکم الیوم) یعنی آج تمہیں صرف معافی نہیں دی جاتی بلکہ تمہارے پچھلے مظالم اور تکالیف پر ہم کوئی ملامت بھی نہیں کرتے، غیر مسلم جنگی قیدی ہاتھ آئے تو ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جو اپنی اولاد کے ساتھ بھی ہر شخص نہیں کرتا، کفار نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچائیں، کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ انتقام کے لئے نہیں اٹھا، زبان مبارک سے بد دعا بھی نہیں فرمائی، بنوثقیف جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے ان کا ایک وفد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، تو ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا گیا، جو مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ عزت کا مقام تھا۔ فاروق اعظم (رض) نے غیر مسلم محتاج ذمیوں کو مسلمانوں کی طرح بیت المال سے وظیفے دیئے۔ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام (رض) اجمعین کے معاملات اس قسم کے واقعات سے بھرے ہوئے ہیں، یہ مواسات یا مدارات یا معاملات کی صورتیں تھیں، جس موالات سے منع کیا گیا وہ نہ تھی۔ اس تفصیل اور تشریح سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوگیا کہ غیر مسلموں کے لئے اسلام میں کتنی رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم ہے دوسری طرف جو ظاہری تعارض ترکب موالات کی آیات سے محسوس ہوتا تھا وہ بھی رفع ہوگیا۔ اب ایک بات یہ باقی رہ گئی کہ قرآن نے کفار کی موالات اور قلبی دوستی و محبت کو اتنی شدت کے ساتھ کیوں روکا کہ وہ کسی حال میں کسی کافر کے ساتھ جائز نہیں رکھی، اس میں کیا حکمت ہے ؟ اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ اسلام کی نظر میں اس دنیا کے اندر انسان کا وجود عام جانوروں یا جنگل کے درختوں اور گھاس پھوس کی طرح نہیں کہ پیدا ہوئے، پھولے پھلے پھر مر کر ختم ہوگئے، بلکہ انسان کی زندگی اس جہان میں ایک مقصدی زندگی ہے، اس کی زندگی کے تمام ادوار، اس کا کھانا پینا، اٹھنا، بیٹھنا، سونا جاگنا، یہاں تک کہ جینا اور مرنا سب ایک مقصد کے گرد گھومتے ہیں، جب تک وہ اس مقصد کے مطابق ہیں تو یہ سارے کام صحیح و درست ہیں، اس کے مخالف ہیں تو یہ سب غلط ہیں، دانائے روم نے خوب فرمایا : زندگی از بہر ذکر و بندگی ست بے عبادت زندگی شرمندگی ست جو انسان اس مقصد سے ہٹ جائے وہ دانائے روم و اہل حقیقت کے نزدیک انسان نہیں۔ آنچہ می بینی خلاف آدم اند نینند آدم غلاف آدم اند قرآن حکیم نے اسی مقصد کا اقرار انسان سے ان الفاظ میں لیا ہے۔ (قل ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین۔ ٦: ١٦٢) |" آپ کہیے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے |"۔ اور جب انسان کی زندگی کا مقصد اللہ رب العالمین کی اطاعت و عبادت ٹھہرا تو دنیا کے کاروبار ریاست و سیاست اور عائلی تعلقات سب اس کے تابع ٹھہرے، تو جو انسان اس مقصد کے مخالف ہیں وہ انسان کے سب سے زیادہ دشمن ہیں، اور اس دشمنی میں چونکہ شیطان سب سے آگے ہے اس لئے قرآن حکیم نے فرمایا : ( ان الشیطان لکم عدوا فاتخذوہ عددوا۔ ٣٥: ٦) |" یعنی شیطان تمہارا دشمن ہے اس کی دشمن کو ہمیشہ یاد رکھو |"۔ اسی طرح جو لوگ شیطان وساوس کے پیرو اور انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ آئے ہوئے احکام خداوندی کے مخالف ہیں ان کے ساتھ دلی ہمدردی اور قلبی دوستی اس شخص کی ہو ہی نہیں سکتی جس کی زندگی ایک مقصدی زندگی ہے، اور دوستی و دشمنی اور موافقت و مخالفت سب اس مقصد کے تابع ہیں۔ اسی مضمون کو صحیحین کی ایک حدیث میں اس طرح ارشاد فرمایا گیا ہے : (من احب للہ وابغض للہ فقد استکمل ایمانہ (بخاری، مسلم) |" یعنی جس شخص نے اپنی دوستی اور دشمنی کو صرف اللہ کے لئے وقف کردیا اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا |"۔ معلوم ہوا کہ ایمان کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جبکہ انسان اپنی محبت و دوستی اور دشمنی و نفرت کو اللہ تعالیٰ کے تابع بناوے، اس لئے مومن کی قلبی موالات اور مودت صرف اسی کے لئے ہوسکتی ہے جو اس مقصد کا ساتھی اور اللہ جل شانہ کا تابع فرمان ہے، اس لئے قرآن کریم کی مذکورہ آیتوں میں کافروں کے ساتھ دلی اور قلبی موالات اور دوستی کرنے والوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ انہی میں سے ہیں۔ آخر آیت میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات عظیم سے ڈراتا ہے، ایسا نہ ہو کہ چند روزہ اغراض و مقاصد کی خاطر موالات کفار میں مبتلا ہو کر اللہ جل شانہ کو ناراض کر بیٹھو، اور چونکہ موالات کا تعلق دل سے ہے، اور دل کا حال اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اس لئے یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص واقع میں تو کفار کی موالات و محبت میں مبتلا ہو مگر زبانی انکار کرے، اس لئے دوسری آیت میں فرمایا کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف و خبردار ہیں، یہ انکار و حیلہ ان کے سامنے نہیں چل سکتا : کار ہا با خلق آری جملہ راست با خدا تزویر و حیلہ کے رواست

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٠ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللہِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىۃً۝ ٠ ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللہُ نَفْسَہٗ۝ ٠ ۭ وَاِلَى اللہِ الْمَصِيْرُ۝ ٢٨ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ ولي والوَلَايَةُ : تَوَلِّي الأمرِ ، وقیل : الوِلَايَةُ والوَلَايَةُ نحو : الدِّلَالة والدَّلَالة، وحقیقته : تَوَلِّي الأمرِ. والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] ، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] ، ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] ، نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] ، وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] ، قال عزّ وجلّ : قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] ، وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] ، ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الوالایتہ ( بکسر الواؤ ) کے معنی نصرت اور والایتہ ( بفتح الواؤ ) کے معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دلالتہ ودلالتہ کی طرح ہے یعنی اس میں دولغت ہیں ۔ اور اس کے اصل معنی کسی کام کا متولی ہونے کے ہیں ۔ الوالی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] میرا مددگار تو خدا ہی ہے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] اور خدا مومنوں کا کار ساز ہے ۔ ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] یہ اسلئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کار ساز ہے ۔ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] خوب حمائتی اور خوب مددگار ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] اور خدا کے دین کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست ہے ۔ اور ودسرے معنی یعنی اسم مفعول کے متعلق فرمایا : ۔ قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] کہدو کہ اے یہود اگر تم کو یہ دعوٰی ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں ۔ وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] اور پیغمبر ( کی ایزا ) پر باہم اعانت کردگی تو خدا ان کے حامی اور ودست دار ہیں ۔ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] پھر قیامت کے تمام لوگ اپنے مالک پر حق خدائے تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ حذر الحَذَر : احتراز من مخیف، يقال : حَذِرَ حَذَراً ، وحذرته، قال عزّ وجل : يَحْذَرُ الْآخِرَةَ [ الزمر/ 9] ، وقرئ : وإنّا لجمیع حَذِرُون، وحاذِرُونَ 3» ، وقال تعالی: وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 28] ، وقال عزّ وجل : خُذُوا حِذْرَكُمْ [ النساء/ 71] ، أي : ما فيه الحذر من السلاح وغیره، وقوله تعالی: هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ [ المنافقون/ 4] ، وقال تعالی: إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [ التغابن/ 14] ، وحَذَارِ ، أي : احذر، نحو : مناع، أي : امنع . ( ح ذ ر) الحذر ( س) خوف زدہ کرنے والی چیز سے دور رہنا کہا جاتا ہے حذر حذرا وحذرتہ میں اس سے دور رہا ۔ قرآن میں ہے :۔ يَحْذَرُ الْآخِرَةَ [ الزمر/ 9] آخرت سے ڈرتا ہو ۔ وإنّا لجمیع حَذِرُون، وحاذِرُونَاور ہم سب باسازو سامان ہیں ۔ ایک قرآت میں حذرون ہے هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ [ المنافقون/ 4] یہ تمہاری دشمن میں ان سے محتاط رہنا ۔ إِنَّ مِنْ أَزْواجِكُمْ وَأَوْلادِكُمْ عَدُوًّا لَكُمْ فَاحْذَرُوهُمْ [ التغابن/ 14] تمہاری عورتوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ( بھی ) ہیں سو ان سے بچتے رہو۔ حذر ۔ کسی امر سے محتاط رہنے کے لئے کہنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 28] اور خدا تم کو اپنے ( غضب ) سے محتاط رہنے کی تلقین کرنا ہے الحذر بچاؤ ۔ اور آیت کریمہ :۔ خُذُوا حِذْرَكُمْ [ النساء/ 71] جہاد کے لئے ) ہتھیار لے لیا کرو ۔ میں حذر سے مراد اسلحۃ جنگ وغیرہ ہیں جن کے ذریعہ دشمن سے بچاؤ حاصل ہوتا ہے حذار ( اسم فعل بمعنی امر ) بچو جیسے مناع بمعنی امنع خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و ف ) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] اور اس کی رحمت کے امید وار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں ۔ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے صير الصِّيرُ : الشِّقُّ ، وهو المصدرُ ، ومنه قرئ : فَصُرْهُنَّ وصَارَ إلى كذا : انتهى إليه، ومنه : صِيرُ البابِ لِمَصِيرِهِ الذي ينتهي إليه في تنقّله وتحرّكه، قال : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] . و «صَارَ» عبارةٌ عن التّنقل من حال إلى حال . ( ص ی ر ) الصیر کے معنی ایک جانب یا طرف کے ہیں دراصل یہ صار ( ض) کا مصدر ہے ۔ اور اسی سے آیت فصوھن ہیں ایک قرآت فصرھن ہے ۔ صار الی کذا کے معنی کسی خاص مقام تک پہنچ جانا کے ہیں اسی سے صیر الباب ہے جس کے معنی درداڑہ میں شگاف اور جھروکا کے ہیں اور اسے صیر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ نقل و حرکت کا منتہی ہوتا ہے اور صار کا لفظ ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل ہونے پر بولا جاتا ہے ۔ اسی سے المصیر اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی چیز نقل نہ حرکت کے بعد پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ [ الشوری/ 15] یعنی اللہ تعالیٰ ہی لوٹنے کی جگہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (لایت خدا لمومنون الکافریناولیاء من دون المؤمنین، اہل ایمان مسلمانوں کو چھوڑکر کافروں کو اپنا اپناہمدرد نہ بنائیں) تاآکر آیت۔ اس میں کافروں کو دوست بنانے کی نہی ہے۔ اس لیئے کہ آیت میں داردفعل (لایتخذ) مجزوم ہے اس لیئے اس میں نہی کے معنی ہیں خبر کے معنی نہیں۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے نرمی برتنے سے روک دیا ہے۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے۔ (لاتخذوایطانتۃ من دونکم لایألوتکم خیالا اپنی جماعت کے لوگوں کے سوادوسروں کو اپنا رازدارنہ بناؤوہ وہ تمہاری خرابی کے کسی موقعہ سے فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے) نیز قول باری ہے (لاتجد قوما یومنون یا اللہ والیوم الاخریوادون من حاد اللہ ورسولہ ولو کا تواباء ھم اوابناء ھم جو لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ انہیں نہ پائیں گے کہ وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں۔ خواہ وہ لوگ ان کے باپ یا ان کے بیٹے ہی کیوں نہ ہوں) تاآخر آیت۔ نیزقول باری ہے (فلاتقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین یاد آجانے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو) نیزقول باری ہے (فلاتقعدوامعھم حتی یخوضوافی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم، ان کے ساتھ نہ بیٹھویہاں تک کہ دہ کسی اور گفتگو میں مصروف ہوجائیں ورنہ تم بھی ان کی طرح ہوجاؤ گے۔ نیز قول باری ہے (ولا ترگنوالی الذین ظلموافتمسکم النار، تم ظالموں کی طرف ہرگز نہ جھکو کہ پھر تمھیں جہنم کی آگ چھوجائے) نیز قول باری ہے (فاعرض عمن تولی عن ذکرنا ولم یردالاالحیوۃ الدنیا اس شخص سے منہ پھیرلوجس نے ہماری یاد سے روگردانی کی اور دنیا کی زندگی کے سوا اور کچھ نہیں چاہا) نیز قول باری ہے (واعرض عن الجاھلین، اور جاہلو سے منہ پھیرلیجیے) نیز قول باری ہے (یایھا النبی جاھدالکفاروالمنافقین واغلظ علیھم، اے نبی ! کافروں اور منافقوں کے خلاف جہاد کیجیے اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آیئے) نیزارشاد ہے۔ (یایھا الذین امنو الا تتخذوالیھو د والنصاری اولیاء بعضھم اولیاء بعض اسے ایمان والو ! یہودونصاری کو اپنا ہمدردوہمسازنہ بناؤان میں بعض بعض کے ہمدردوہمساز ہیں) نیز ارشاد ہے (ولاتمدن عینیک الی مامتعنا بہ ازواجامنھم زھرۃ الحیوۃ الدنیا لنفتتھم فیہ، اور ہرگز آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھیے ان چیزوں کی طرف جن سے ہم نے ان کے گروہوں کو متمتع کررکھا ہے۔ ان کی آزمائش کے لیے کہ وہ محض وینوی زندگی گمی کی رونق ہے) ان آیات میں یہودونصاری اور کفارو منافقین کی مجالست اور ان کی دنیوی مال ودولت اور احوال وکوائف ظاہر بنیی کی بناپران سے نرم برتاؤ اور میل ملاپ سے پے درپے روکاگیا ہے۔ روایت ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گذربنی الصطلق کے اونٹوں کے پاس سے ہواجواتنے موٹے اور فربہ تھے کہ بہی کی بناپران کاپیشاب ان کی رانوں پر خشک ہوگیا تھا۔ آپ نے اپنے کپڑے کا پلو اپنے چہرے پر ڈال لیا اور وہاں سے گذرگئے ان پر نظر ڈالنا بھی گوار انہیں کیا اس لیے کہ ارشادباری ہے (ولاتمدن عینیک الی مامتعنا بہ ازواجا منھم) نیز قول باری ہے۔ (یایھا الذین امنوالاتتخذواعدوی وعدو کم اولیاء تلقون الیھم بالمدہ ۃ اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست اور ہمدردنہ بناؤ کہ تم ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو) مسلمان کا گھر مشرک سے دورہو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے آپ نے فرمایا (انابریء من کل مسلم مع مشرک ، میں ہر اس مسلمان سے کنارہ کشی ہوں جو کسی مشرک کے ساتھ رہتاہو) آپ سے وجہ پوچھ گئی تو آپ نے فرمایا (لاتراء ی ناراھما، ان دونوں کے گھروں میں جلنے والی آگ ایک دوسرے کو نظرنہ آئے) یعنی مسلمان کے لیے یہ لازم اور اس پر یہ واجب ہے کہ اس کا گھر مشرک کے گھر سے دورہو، نیز فرمایا (انابرئی من کل مسلم اقام بین اظھرالمشرکین، میں ہراس مسلمان سے کنارہ کش ہوں جس نے مشرکوں کے درمیان سکونت اختیار کرلی ہو) یہ آیتیں اور احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ایک مسلمان کافروں کے ساتھ اس وقت تک سختی اور بے رخی کے ساتھ پیش آئے اور نرمی اور ملاطفت سے کام نہ لے جب تک اس کی حالت ایسی نہ ہو جس میں اسے اپنی یا اپنے کسی عضو کے تلف ہوجانے یا سخت نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ اگر ا سے اس قسم کا کوئی خطرہ درپیش ہوتوایسی صورت میں ان سے دوستی ادرنرمی کا اظہار جائز ہے۔ پیشرطی کہ وہ اسطرز عمل کی صحت کا یقین اپنے دل میں پیدانہ کرلے۔ ولا یعنی دوستی تعاون وغیرہ کی دوصورتیں ہوتی ہیں۔ ایک صورت یہ ہے کہ جسی شخص کا فعل اور طرز عمل پسند یدہ ہو امداد تعاون اور نگرانی کے ذریعے اس کے امور کی پوری پوری سرپرستی کی جائے۔ ایسا شخص سعاون ومنصورکہلائے گا قول باری ہے۔ (اللہ ولی الذین وامنوا، اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا ولی اور دوست ہے) اہل ایماناس معنی میں اللہ کے دوست اور ولی ہیں کہ اللہ کی نصرت پوری طرح ان کے شامل حال رہتی ہے۔ چناچہ ارشاد باری ہے (الاان اولیاء اللہ لاخوف علیھم ولاھم حزنون، آگاہ رہو، اللہ کے اولیاء کونہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے) ۔ خطرے کی صورت میں جان بچانے کی رخصت ہے قول باری ہے (الاان تتقوامنھم تقۃ، ہاں یہ تمہیں معاف ہے کہ ان کے ظلم سے بچنے کے لیئے تم بظاہرایساطر زعمل اختیارکرجاؤ) یعنی اگر تمھیں اپنی جان یا جسمانی اعضاء کے تلف ہوجانے کا خطرہ ہو اور پھر تم ان سے دوستی اور تعاون کے اظہار کے ذریعے اپنے آپ کو ان کی چیرہ دستیوں سے بچالو تو اس میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ تم اس طرزعمل کی صحت کا اعتقاداپنے دل میں پیدانہ کرو۔ آیت کے الفاظ کے ظاہر کا یہی تقاضا ہے اور جمہورکامسلک بھی یہی ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق مروزی نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع جرجانی نے ، انہیں عبدالرزاق نے انہیں معمرنے قتادہ سے قول باری (لایتخذالمؤمنون الکافرین اؤلیاء من دون المؤمنین) کی تفسیر میں یہ قول نقل کیا ہے کہ کسی مسلمان کے لیئے یہ حلال نہیں کہ وہ اپنے دینی معاملات میں کسی کافر کو اپنا دوست اور ولی یعنی سرپرست بنالے۔ قول باری (الاان تتقوامنھم تقۃ) کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا کہ اس قاعدے سے ایک صورت مستثنیٰ ہے وہ یہ کہ مسلمان اور کافر کے درمیان قرابت ہو اور پھر مسلمان اس رشتہ داری کی بناپر اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے اس طرح تقیہ کا مفہوم قرابت کی بناپر کافر کے ساتھ صلئہ رحمی قراردیا گیا۔ آیت میں بچاؤ کی خاطر اظہارکفر کے جواز کا اقتضاء موجود ہے، اس کی نظیریہ قول باری ہے (من کفر باللہ من بعد ایمانہ الامن اکرہ وقلبہ مطمئن بالایمان، جو شخص اللہ پر ایمان لانے کے بعد کافرہوجائے بجز اس صورت کے کہ اس پر زیردستی کی جائے۔ درآنحالیکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (تو وہ مستثنیٰ ہے) ایسے مواقع پر جان بچانے کی رخصت ہے واجب وافضل نہیں۔ ایسے مواقع پربچاؤ کی خاطر اظہارکفر وغیرہ کی اجازت دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے۔ یہ واجب نہیں ہے بلکہ اس کا ترک افضل ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جس شخص پر کافرہوجانے کے لیے زبردستی کی جائے لیکن وہ ایمان پر ڈٹا رہے اور اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے تو اس کا درجہ اظہارکفر کرنے والے سے بڑھ کرہوگا۔ مشرکین نے حضرت خبیب بن عدی کو پکڑلیا تھا لیکن آپ نے تقیہ کا راستہ اختیار نہیں کیا تھا یہاں تک کہ شہید کردیئے گئے۔ مسلمانوں کے نزدیک آپ کا درجہ حضرت عماربن یاسر سے بڑھ کر تھا۔ جنہوں نے یہ راستہ اختیار کرتے ہوئے اظہارکفر کرلیا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اظہارکفر کی صورت میں ان کے دل کی کیفیت کے متعلق استفسار کیا تو انہوں نے عرض کیا کہ میرادل ایمان پر مطمئن تھا۔ اس پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں فرمایا کہ، اگر یہ صورت دوبارہ پیش آجائے تو تم پھر یہی طرز عمل اختیار کرلینا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد دراصل رخصت عطا کرنے کی بناپر تھا۔ عزیمت رخصت سے افضل ہے روایت ہے کہ مسیلمہ کذاب نے دوصحابیوں کو پکڑلیا۔ ایک سے پوچھا کہ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی رسالت کی گواہی دیتے ہو، انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر پوچھا کہ تم میری رسالت کو گواہی دیتے ہو۔ انہوں نے پھر اثبات میں جواب دیا۔ مسیلمہ نے انہیں جانے دیا، دوسرے صاحب کو بلاکران سے بھی سوالات کیئے۔ تو انہوں نے مسیلمہ کی رسالت کی گواہی دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ، میں بہراہوںِمسیلمہ نے اپناسوال تین دفعہ دہرایا، انہوں نے تینوں دفعہ یہی جواب دیا، اس پر اس نے انہیں شہید کردیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا (ماھذالمقتول فمضی علی صدقہ ویقینہ واخذبفضیلۃ فھنیئا لہ واما الاخرفقبل رخصۃ اللہ قلاتبعۃ علیہ، یہ کشتہ راہ خدا اپنے صدق اور یقین پر ڈٹارہا اور فضیلت کا سزاوار ٹھہرا، یہ مرتبہ اسے مبارک ہو۔ دوسرے شخص نے اللہ تعالیٰ کردہ رخصت کو قبول کرلیا اس لیئے اس پر بھی گرفت نہیں) اس روایت میں یہ دلیل ہوجود ہے کہ تقیہ کا راستہ رخصت ہے اور تقیہ کا اظہارنہ کرنا افضل ہے۔ اسی طرح ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ ہرایساعمل جس میں دین کا اعزاز ہو اس کے لیئے اقدام کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردینا اس سے ہٹ کر رخصت پر عمل کرنے سے بہتر اور افضل ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جو شخص دشمنوں کے خلاف اپنے آپ کو جہاد میں جھونک دے اور شہید ہوجائے اس کا درجہ میدان جنگ سے پیچھے ہٹ کر اپنی جان بچالینے والے سے بڑھ کرہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے شہادت حاصل کرلینے کے بعد شہیدوں کے احوال وکوالف بیان فرمائے ہیں اور انہیں زندہ نیزرزق پانے والے قراردیا ہے۔ اسی طرح اللہ کے دین کے اظہار اورکفر کے عدم اظہا کے نتیجے میں جان دے دیناتقیہ کا راستہ اختیار کرنے سے افضل ہے۔ اس آیت اور اسی طرح کی دوسری آیتوں میں اس بات پر دلالت ہورہی ہے کہ مسلمان پر کافرکو کسی معاملے میں دلایت اور سرپرستی حاصل نہیں ہوتی اور یہ کہ اگر کافرکا کوئی نابالغ بچہ ہوجوماں کے مسلمان ہونے کی وجہ سے مسلمان ہو تو اس کافرکواس پر کوئی کسی قسم کی ولایت اور سرپرستی حاصل نہیں ہوگی۔ نہ مالی تصرف وغیرہ میں اور نہ ہی نکاح کرانے میں۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ذحی مسلمان کے فوجداری جرم کا اور مسلمان ذحی کے فوجداری کا جرمانہ نہیں بھرے گا اس لیئے کہ اس بات کا تعلق ولایت نصرت اور معونت سے ہے جوان دونوں کے درمیان مفقود ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٨) مسلمانوں کے لیے یہ چیز مناسب نہیں کہ وہ عبداللہ بن ابی یہودی اور اس کے ساتھیوں کو خالص ایمان والوں سے تجاوز کرکے دوست بنائیں، (کیونکہ حقیقی دوستی نظریات کی ہم آہنگی سے جنم لیتی ہے) اور جو کفار سے ایسی دوستی رکھے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور دوستی کے کسی درجے میں شمار نہیں ہوگا مگر یہ کہ کوئی مومن صرف زبانی دوستی کرکے ان کے شر سے نجات حاصل کرنا چاہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ناحق قتل کرنے اور احرام کاری اور مال حرام اور شراب پینے اور جھوٹی گواہی دینے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے سے ڈراتا ہے اور تمہیں بالآخر مرنے کے بعد اسی کے طرف لوٹ کر جانا ہے۔ شان نزول : (آیت) ” لا یتخذ ال مومن ون “۔ (الخ) ابن جریر (رح) نے سعید (رح) یا عکرمہ (رح) کے واسطہ سے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ حجاج بن عمرو اور ابن الحقیق اور قیس بن زید نے انصار کی ایک جماعت سے دوستی کی تاکہ ان کے دین میں فتنہ ڈالیں تو رفاعہ بن منذر اور عبداللہ بن جبیر اور سعد بن حثمہ ان حضرات نے انصار سے کہا، یہودیوں کی اس جماعت سے بچو اور ان سے دوستی کرنے میں احتیاط کرو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ تمہارے دین میں کوئی فتنہ پردازی کریں مگر ان انصاریوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کفار کو اپنا ہمراز اور دوست نہ بنائیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٨ (لاَ یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ج) اولیاء ایسے قلبی دوست ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے رازدار بھی بن جائیں اور ایک دوسرے کے پشت پناہ بھی ہوں۔ یہ تعلق کفار کے ساتھ اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ ‘ ظاہری مدارات اور تہذیب و شائستگی سے بات چیت تو اور بات ہے ‘ لیکن دلی محبت ‘ قلبی رشتہ ‘ جذباتی تعلق ‘ باہمی نصرت و تعاون اور ایک دوسرے کے پشت پناہ ہونے کا رشتہ قائم کرلینے کی اجازت نہیں ہے۔ کفار کے ساتھ اس طرح کے تعلقات اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں ہیں۔ (وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْءٍ ) اگر اللہ کے دشمنوں کے ساتھ تمہاری دوستی ہے تو ظاہر ہے پھر تمہارا اللہ کے ساتھ کوئی رشتہ وتعلق نہیں رہا ہے ۔ (اِلاَّ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْہُمْ تُقٰٹۃً ط) ۔ بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں کہ کھلے مقابلے کا ابھی موقع نہیں ہوتا تو آپ دشمن کو طرح دیتے ہیں اور اس طرح گویا وقت حاصل کرتے ہیں (you are buying time) تو اس دوران اگر ظاہری خاطر مدارات کا معاملہ بھی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے ‘ لیکن مستقل طور پر کفار سے قلبی محبت قائم کرلینا ہرگز جائز نہیں ہے۔ قرآن کے انہی الفاظ کو ہمارے ہاں اہل تشیع نے تقیہ کی بنیادبنا لیا ہے۔ لیکن انہوں نے اسے اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ جھوٹ بولنا اور اپنے عقائد کو چھپا لینا بھی روا سمجھتے ہیں اور اس کے لیے دلیل یہاں سے لاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بالکل دوسری شکل ہے اور یہ صرف ظاہری مدارات کی حد تک ہے۔ جیسے کہ ہم سورة البقرۃ میں پڑھ چکے ہیں کہ اگرچہ تمہارے خلاف یہود کے دلوں میں حسد کی آگ بھری ہوئی ہے لیکن (فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا) (آیت ١٠٩) ابھی ذرا درگزر کرتے رہو اور چشم پوشی سے کام لو۔ ابھی فوری طور پر ان کے ساتھ مقابلہ شروع کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس حد تک مصلحت بینی تو صحیح ہے ‘ لیکن یہ نہیں کہ جھوٹ بولا جائے ‘ معاذ اللہ ! (وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط) ۔ اللہ سے ڈرو۔ یعنی کسی اور سے خواہ مخواہ ڈر کر صرف خاطر مدارات کرلینا بھی صحیح نہیں ہے۔ کسی وقت مصلحت کا تقاضا ہو تو ایسا کرلو ‘ لیکن تمہارے دل میں خوف صرف اللہ کا رہنا چاہیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

25. This means that it is lawful for a believer, helpless in the grip of the enemies of Islam and in imminent danger of severe wrong and persecution, to keep his faith concealed and to behave in such a manner as to create the impression that he is on the same side as his enemies. A person whose Muslim identity is discovered is permitted to adopt a friendly attitude owards the unbelievers in order to save his life. If he considers himself incapable of enduring the excesses to which he may be subjected, he may even state that he is not a believer. 26. One should not be overwhelmed by the fear of other human beings to the extent of losing the fear of God. Human beings can harm a man but the most they can do is to ruin his transient, earthly life. God, on the other hand, can subject him to everlasting torment. If one is constrained in extraordinary circumstances to resort to a prudent concealment of faith (taqiyah) in order to save one's life, this concealment should remain within reasonable limits. The most one is permitted to do is to protect one's life and property without jeopardizing either the interests of Islam or of the Muslim community as a whole, and without causing loss of life and property to other Muslims. One must never allow saving one's own life to lead to the propagation of unbelief at the expense of Islam and to the dominance of unbelievers over Muslims. Here the believers are warned that, no matter how dangerous the circumstances surrounding them, they cannot escape God's reproach if they give substantial aid to those rebelling against Him, and cause any harm to God's chosen religion, to the community of believers or to any individual believer. For, it is to God that one will ultimately return for reckoning.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :25 یعنی اگر کو ئی مومن کسی دشمن اسلام جماعت کے چنگل میں پھنس گیا ہو اور اسے ان کے ظلم و ستم کا خوف ہو ، تو اس کو اجازت ہے کہ اپنے ایمان کو چھپائے رکھے اور کفار کے ساتھ بظاہر اس طرح رہے کہ گویا انہی میں سے ایک آدمی ہے ۔ یا اگر اس کا مسلمان ہونا ظاہر ہوگیا ہو تو اپنی جان بچانے کے لیے وہ کفار کے ساتھ دوستانہ رویہ کا اظہار کر سکتا ہے ، حتٰی کہ شدید خوف کی حالت میں جو شخص برداشت کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کو کلمہ کفر تک کہہ جانے کی رخصت ہے ۔ سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :26 یعنی کہیں انسانوں کا خوف تم پر اتنا نہ چھا جائے کہ خدا کا خوف دل سے نکل جائے ۔ انسان حد سے حد تمہاری دنیا بگاڑ سکتے ہیں مگر خدا تمہیں ہمیشگی کا عذاب دے سکتا ہے ۔ لہٰذا اپنے بچاؤ کے لیے اگر بدرجہ مجبوری کبھی کفار کے ساتھ تقیہ کرنا پڑے ، تو وہ بس اس حد تک ہونا چاہیے کہ اسلام کے مشن اور اسلامی جماعت کے مفاد اور کسی مسلمان کی جان و مال کو نقصان پہنچائے بغیر تم اپنی جان و مال کا تحفظ کرلو ۔ لیکن خبردار ، کفر اور کفار کی کوئی ایس خدمت تمہارے ہاتھوں انجام نہ ہونے پائے جس سے اسلام کے مقابلے میں کفر کو فروغ حاصل ہو نے اور مسلمانوں پر کفار کے غالب آجانے کا امکان ہو ۔ خوب سمجھ لو کہ اگر اپنے آپ کو بچانے کے لیے تم نے اللہ کے دین کو یا اہل دین کی جماعت کو یا کسی ایک فرد مومن کو بھی نقصان پہنچایا ، یا خدا کے باغیوں کی کوئی حقیقی خدمت انجام دی ، تو اللہ کے محاسبے سے ہرگز نہ بچ سکو گے ۔ جانا تم کو بہرحال اسی کے پاس ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: یار و مددگار عربی لفظ ولی کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ولی بنانے کو موالات بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسی دوستی اور قلبی محبت کا تعلق ہے جس کے نتیجے میں دو آدمیوں کا مقصدِ زندگی اور ان کا نفع ونقصان ایک ہوجائے۔ اس قسم کا تعلق مسلمان کا صرف مسلمان ہی سے ہوسکتا ہے، اور کسی غیر مسلم سے ایسا تعلق رکھنا سخت گناہ ہے، اور اس آیت میں اسے سختی سے منع کیا گیا ہے، یہی حکم سورہ نسا (۴: ۹۳۱) سورہ مائدہ (۵: ۱۵) سورہ توبہ (۹: ۳۲) سورہ مجادلہ (۸۲: ۲۲) اور سورہ ممتحنہ (۸۲: ۱) میں بھی دیا گیا ہے، البتہ جوغیر مسلم جنگ کی حالت میں نہ ہوں ان کے ساتھ حسنِ سلوک، رواداری اور خیر خواہی کا معاملہ نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ہے، جیسا کہ خود قرآنِ کریم نے سورہ ممتحنہ (۸۲: ۸) میں واضح فرمادیا ہے، اور آنحضرتﷺ کی سنت پوری حیاتِ طیبہ میں یہ رہی ہے کہ آپ نے ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ احسان کا معاملہ فرمایا۔ اسی طرح ان کے ساتھ سیاسی اوراقتصادی تعاون کے وہ معاہدے اور تجارتی معاملات بھی کئے جاسکتے ہیں جن کو آج کل کی سیاسی اصطلاح میں دوستی کے معاہدے کہا جاتا ہے، بشرطیکہ یہ معاہدے یا معاملات اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے خلاف نہ ہوں، اور ان میں کسی خلافِ شرع عمل کا ارتکاب لازم نہ آئے۔ چنانچہ خود آنحضرتﷺ نے اور آپ کے بعد صحابۂ کرام نے ایسے معاہدات اور معاملات کئے ہیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ موالات کی ممانعت کرنے کے بعد قرآنِ کریم نے جو فرمایا ہے کہ : ’’اِلَّا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لئے بچاو کا کوئی طریقہ احتیار کرو‘‘، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کفار کے ظلم وتشدد سے بچاو کے لئے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا پڑے جس سے بظاہرموالات معلوم ہوتی ہو تو اس کی گنجائش ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انصار میں بعض لوگوں کی کعب سے دوستی تھی اس نے انصار سے کہا کہ وہ اپنے دوست مسلمانوں کو دھوکا دیں ان مسلمان انصار کے چند دوستوں نے یہود کے اس ارادہ کا تذکرہ ان انصار مسلمانوں سے کیا اور یہود کے دوستی چھوڑنے کی نصیحت کی۔ مگر ان مسلمان انصار نے ان یہود کی دوستی چھوڑنے سے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ٣۔ اور فرما دیا کہ مسلمانوں کو کافروں سے دوستی نہیں رکھنی چاہیے۔ کیوں کہ اللہ کی محبت اور کافروں کی محبت ایک جگہ ایک دل میں نہیں جمع ہوسکتی ہاں اگر ایسا ہی کہیں جان کا خوف ہو تو ظاہر میں ان سے دفع ضرر کے لئے میٹھی بات کرلی جائے مگر دلی دوستی ان سے نہ رکھی جائے باوجود اس فہمایش کے جو کوئی باز نہ آئے گھا اللہ اس سے بیزا رہے اور اس طرح کا شخص قیامت کے دن اللہ سے معاملہ پڑنے کے وقت اپنے کئے پر پچھتائے گا۔ اسی واسطے ابھی سے اللہ اس دن کا اپنا معاملہ پڑنے سے اے مسلمانوں تم کو ڈرائے دیتا ہے تاکہ اس وقت تم کو پچھتاوا نہ ہو اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے اس لئے ان کو یہ فہمایش کر کے قیامت کے دن کا اپنا معاملہ پڑنے سے پہلے توبہ کرنے کا موقع ان کو دیتا ہے۔ ورنہ وہ چاہتا تو اپنے خلاف مرضی کاموں کو مواخذہ بلاتوبہ کے موقع دینے کے فورا بھی کرلیتا بخاری (رح) نے ابو درداء سے روایت کی ہے کہ بہت سے مخالف ملت لوگوں سے ہم ظاہر خندہ پیشانی سے ملتے تھے اور ویسے ہم ان پر لعنت کرتے تھے ٤۔ اور اہل کتاب سے دوستی رکھنے کی جو ممانعت ہے اس کا سبب آیت { وَدَّکَثِیْرْ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ } (٢۔ ١٠٩) میں گذر چکا ہے۔ اس آیت سے لوگوں نے تقیہ نکالا ہے۔ مگر تقیہ کے یہ معنی ہیں کہ جب آدمی کو جان کا خوف ہو تو صرف زبان سے کوئی بات ایسی کہہ دینی جائز ہے جس سے جان بچ جائے خلاف شریعت کسی عمل میں تقیہ جائز نہیں ہے۔ چناچہ سفیان ثوری نے حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ تقیہ صرف زبان سے ہے عمل میں نہیں ہے ١۔ بعض صحابہ کا یہ مذہب ہے کہ صرف لڑائی کے وقت تقیہ جائز ہے اور کسی وقت کا نہیں ٢۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:28) فلیس من اللہ فی شیئ۔ اس فقرہ کی ترتیب کچھ یوں ہوسکتی ہے۔ (1) فلیس من اللہ فی شیء (الخازن) تو اس کے لئے اللہ کی طرف سے کوئی دوستی نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ تو اللہ کے دشمنوں کے دوست ہیں تو اللہ ان کو کیسے دوست رکھے گا۔ کیونکہ موالاۃ اللہ وموالاۃ الکفار ضدان لا یجتمعان۔ کہ خدا کی دوستی اور کفار کی دوستی باہم ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جو کبھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ (2) فلیس لہ نصر او ولایۃ من اللہ فی ای امر۔ تو کسی امر میں بھی اس کو اللہ کی دوستی یا مدد نصیب نہ ہوگی۔ (عبد اللہ یوسف علی) الا ان تتقوا منھم تقۃ۔ تتقوا۔ مضارع صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تتقون تھا۔ نون اعرابی بوجہ عامل ان کے گرگیا۔ تقۃ مصدر ہے تقۃ اصل میں وقاۃ تھا۔ واؤ کو تا سے بدل دیا گیا۔ و ق ی۔ حروف مادہ ہیں۔ وقی۔ یقی۔ اتقی۔ یتقی۔ بچنا۔ پرہیز کرنا۔ حفاظت کرنا۔ ماسوائے ایسی حالت کے کہ تم کو ان سے ظلم کو ڈر ہو۔ ای الا ان تخافوا منھم مخافۃ (الخازن) یا تم ان کے ظلم سے بچنے کے لئے ایسا طرز عمل اختیار کرو۔ (تفہیم القرآن) ۔ یحذرکم۔ یحذر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (اور اللہ) تم کو ڈراتا ہے۔ خبردار کرتا ہے اپنی ذات سے۔ یعنی اپنے غضب ۔ اپنی ناراضگی سے۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان۔ صار یصیر کا مصدر بھی ہے۔ لوٹنے کی جگہ۔ قرار گاہ۔ ٹھکانہ۔ لوٹنا۔ مائل ہونا۔ کاٹنا۔ جمع ہونا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اس آیت میں کفار کے ساتھ موالات اور دستی رکھنے سے منع فرمایا ہے اس پر سخت وعید سنائی ہے۔ صرف بچاو اور تدبیر سلطنت کی حد تک ظاہری طور پر موالاۃ کی اجا زت دی ہے بشر طی کہ یہ اظہار رول میں نفرت کے ساتھ ہو۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں لقیہ صرف زبان سے اظہار کی حد تک جائز ہے نہ کہ عمل سے۔ نیز حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ بعض یہودی روسا نے انصار کے ایک گروہ سے تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ کسی موقع پر ہم ان کو دین اسلام سے پھیر نے میں کا میاب ہوجائیں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن کثیر۔ شوکانی) دراصل یہ اور اس مفہوم کی دوسری آیات اسلامی حکومت کی خارجہ پالیسی وضع کرنے میں اصل کی حثیت رکھتے ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے ما ئدہ آیت 51 ۔ 56 اور مسئلہ تتقیتہ کی تفصیل کے لیے سورت نحل آیت 106 ملا حظہ فرمائیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 28 تا 30 لایتخذ (نہ بنائیں) اولیاء (دوست (ولی کی جمع ہے) دون المومنین (مومنوں کو چھوڑ کر) من یفعل (جوکرے گا) تتقوا (تم بچو) تقٰه (بچاؤ) یحذر (وہ ڈراتا ہے) نفسه (اپنی ذات) ان تخفوا (اگر تم چھپاؤگے) صدور (دل، سینے (صدر، کی جمع ہے) محضر (حاضر ، سامنے) تود (پسند کرے گا) امدًا بعیدًا (دور کا فاصلہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 28 تا 30 28 سے 30 تک آیات کی تشریح یہ ہے کہ اس سے پہلے آیات میں بتایا گیا تھا کہ کسی شخص یا حکومت وسلطنت کا عروج وزوال اور کسی کو عزت وذلت دینا سب اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھتا ہے۔ ان آیات میں اہل ایمان سے کہا جارہا ہے کہ اے مومنو ! تم مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ اور نہ ان کی دوستی کو اپنے لیے عزت میں زیاتی کا سبب سمجھو کیونکہ عزت اور ذلت سب کچھ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے فرمایا گیا اگر کوئی شخص یا مفاد کے پیش نظر مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو اپنا دوست بنائے گا تو ایسے شخص کو اللہ کی حمایت ومدد حاصل نہ ہوسکے گی۔ کیونکہ جو اللہ کے دشمنوں سے دوستی رکھے گا وہ اللہ کا دوست نہیں ہوسکتا البتہ اگر کوئی شخص محض تدبیر اور انتظام کے درجے میں کافروں سے ظاہری دوستی رکھے گا تاکہ اس کے شر سے محفوظ رہ سکے تو اس کے لئے یہ محض یہ تعلق جائز ہے لیکن قلبی محبت کی اجازت نہیں ہے۔ قرآن کریم اور احادیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء مفسرین نے کفار کے ساتھ معاملات اور تعلقات کو پانچ درجات میں تقسیم کیا ہے۔ 1 ۔ کافروں کی ملت اور مزہب کو اچھا جانتے ہوئے ان سے قلبی تعلق یا قلبی محبت رکھنا قطعاً حرام اور ناجائز ہے۔ 2 ۔ دوسرے یہ کہ ایک شخص کافروں کے مذہب کو برا سمجھتا ہے مگر دنیوی معاملات میں خوش خلقی اورف حسن سلوک سے کافروں کے ساتھ پیش آتا ہو تو یہ اسلامی رواداری ہے اور جائز ہے۔ ان سے تجارت، لین دین یا دوسرے دنیوی معاملات میں کوئی حرج نہیں ہے البتہ اگر ان تعلقات سے کفار کو طاقت اور مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو لین دین بھی ناجائز ہے۔ 3 ۔ تیسرے یہ کہ کفار کے طریقوں کو برا تو سمجھتا ہو لیکن کسی دنیاوی لالچ کی وجہ سے مسلمانوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرتا ہو یا مسلمانوں کے رازان کو بتاتا ہو یہ قطعاً حرام اور ناجائز ہے ایسا کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے۔ 4 ۔ چوتھے یہ کہ کفر اور اس کے ماننے والوں کو برا تو سمجھتا ہو لیکن کفار کی حکومت کے خلاف یا جانی ومالی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس مشکل میں اشس حد تک ظاہری تعلق رکھنا جائز ہے جس سے وہ اسلام کے اخلامات کو ادا کرنے میں سہولت کرسکے۔ 5 ۔ پانچویں یہ کہ تمام غیر مسلموں سے احسان اور ہمددری کا تعلق رکھنا ، نہ صرف جائز ہے بلکہ انتہائی قابل تعریف پہلو ہے کیونکہ خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غیر مسلموں کے ساتھ بڑا ہمدردی اور احسان کا معاملہ کیا ہے۔ غرضیکہ غیر مسلموں کے ساتھ احسان اور نیکی کا معاملہ کرنا تو بری بات نہیں لیکن ایسا تعلق جس سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو جائز نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اوپر کفار کی مذمت مذکور تھی اس آیت میں ان کے ساتھ دوستی کرنے کی ممانعت فرماتے ہیں۔ 3۔ تجاوز دو صورت سے وہتا ہے، ایک یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ بالکل دوستی نہ رکھیں، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ کفار سے بھی دوستی رکھیں، دونوں صورتیں ممانعت میں داخل ہیں۔ 4۔ کفار کے ساتھ تین قسم کے معاملے ہوتے ہیں۔ موالات یعنی دوستی۔ مدارات یعنی ظاہری خوش خلقی۔ مواساة یعنی احسان و نفع رسانی، موالات تو کسی حال میں جائز نہیں، اور مدرات تین حالتوں میں درست ہے۔ ایک دفع ضرر کے واسطے دوسرے اس کافر کی مصلحت دینی یعنی توقع ہدایت کے واسطے، تیسرے اکرام ضیف کے لئے، اور اپنی مصلحت و منفعت مال و جان کے لئے درست نہیں، اور مواسات کا حکم یہ ہے کہ اہل حرب کے ساتھ ناجائز ہے اور غیر اہل حرب کے ساتھ جائز۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جب عزت وذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو ذاتی مفاد اور دنیوی عزت کی خاطر اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ قلبی محبت اور تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ دنیا میں جو لوگ جان بوجھ کر گناہوں سے نہیں بچتے قیامت کے دن خواہش کرنے کے باوجود عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔ مدینہ طیبہ میں ہجرت کے ابتدائی ایّام تک کئی مسلمان کافروں کو اپنا دوست اور خیر خواہ سمجھتے تھے۔ یہاں مسلمانوں کو کفار کے ساتھ رہنے کے بنیادی اصول سے آگاہ کیا جارہا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کفار کو اپنا دلی دوست بنائے اور اسے مومن بھائی سے مقدّم سمجھنے کی کوشش کرے۔ جو ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ پر اس کی کوئی ذمّہ داری نہ ہوگی کیونکہ عزّت و ذلّت، غربت و دولت اور اختیار واقتدار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ عام طور پر یہی چیزیں ایک غریب آدمی کو امیر کے سامنے دست نگربناتی اور قریب کرتی ہیں۔ جب ہر قسم کی خیر اور سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے تو پھر مومن کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے ہم عقیدہ بھائی کو چھوڑ کر یا مومن سے زیادہ اللہ کے باغیوں کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔ البتہ وقتی طور پر کسی خوف یا مصلحت کی خاطر دوستی رکھی جاسکتی ہے۔ تفصیل کے لیے سورة توبہ رکوع 9 کی تلاوت کریں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں صرف اپنی ذات سے ڈرنے کا حکم دیتا ہے اور اسی کی طرف تم نے پلٹ کر جانا ہے۔ تم کوئی چیز چھپاؤ یا اسے ظاہر کرو، اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے کیونکہ وہ آسمانوں کے چپے چپے اور زمین کے ذرّے ذرّے سے واقف اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ وہ تمہیں اس دن جمع کرے گا جس دن ہر کسی کے سامنے اس کے اچھے یا برے کام پیش کیے جائیں گے۔ مجرم اس وقت اس خواہش کا اظہار کرے گا کہ کاش ! میرے اور میرے جرائم کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہوجائے۔ سورة النباء آیت ٤٠ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وَیَقُوْلُ الْکَافِرُ یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا) ” کافر کہے گا کاش میں مٹی کے ساتھ مٹی ہوتا۔ “ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔ اس کی جلالت سے ڈرانے کا مقصد یہ ہے کہ تم کفار اور اپنے مفاد کے چھن جانے سے نہ ڈروبل کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کبریا سے ڈرتے رہو۔ جو اس سے ڈرتے ہیں وہ کسی سے نہیں ڈرا کرتے۔ اللہ تعالیٰ اپنے تابع فرمان بندوں کے ساتھ نہایت ہی شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔ مسائل ١۔ کافر کو دلی دوست بنانا جائز نہیں۔ ٢۔ مصلحت کی خاطر کافر سے عارضی دوستی ہوسکتی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ سے ہی ڈرنا چاہیے، سب نے اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ ٤۔ ہم کوئی چیز چھپائیں یا ظاہر کریں اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ ٥۔ قیامت کے دن ہر آدمی کے سامنے اس کے نیک اور برے اعمال پیش کئے جائیں گے۔ ٦۔ مجرم اپنے جرائم سے دور بھاگنے کی تمنا کرے گا۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ مجرموں کو ڈرانے والا اور نیکوں کے ساتھ شفقت کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن کفار سے قلبی دوستی کی اجازت نہیں : ١۔ کافروں سے دوستی کی ممانعت۔ (آل عمران : ٢٨) ٢۔ کافروں کو خوش کرنے کی ممانعت۔ ( الانعام : ١٥٠) ٣۔ کفار کی پیروی کا نقصان۔ ( آل عمران : ١٤٩) ٤۔ جب تک یہود و نصارٰی کی پیروی نہ کی جائے یہ خوش نہیں ہوتے۔ (البقرہ : ١٢٠) ٥۔ یہود و نصارٰی کی پیروی پر انتباہ۔ (البقرہ : ١٢٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس سے پہلے ‘ اہل کتاب کے موقف پر استنکار اور تنبیہ کی گئی تھی ‘ یہ آخری تبصرہ بھی اس کی مزید تائید ہے ۔ پہلے اہل کتاب کے اس رویے کی مذمت کی گئی تھی ۔ کہ انہیں جب اس بات کی طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ اپنے فیصلے کتاب اللہ کے مطابق کریں تو وہ اس بات سے بھی اعراض کرتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں سمجھایا گیا تھا کہ کتاب اللہ اسی نظام زندگی پر مشتمل ہے ۔ جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے اتارا اور یہ پوری کائنات بھی منہاج الٰہی کے مطابق رواں دواں ہے ۔ جس میں خود انسان بھی شامل ہے ۔ یہ اس بات کی تمہید تھی جو آگے آرہی ہے کہ مومنین کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان کے مقابلے میں کافروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ‘ اس لئے کہ کافروں کی اس کائنات میں کوئی قوت نہیں ہے۔ نہ ان کا یہاں اختیار چلتا ہے ‘ یہاں تو تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اللہ ہی اہل ایمان کا ولی و مددگار ہے۔ سابقہ آیت میں قرآن کریم نے اہل ایمان کے اس شعور کو بیدار کیا تھا کہ تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں ‘ ہر قسم کی قوتوں کا مالک وہ ہے ۔ تمام تدابیر وہ اختیار کرتا ہے اور رزق صرف اس کے ہاتھ میں ‘ تو اب یہاں سمجھایا جاتا ہے کہ اہل ایمان پھر کس غرض کے لئے کافروں کے ساتھ دوستیاں قائم کرتے ہیں ۔ قلب مومن میں یہ دومتضاد امور کس طرح جمع ہوسکتے ہیں ۔ ایک طرف اللہ پر ایمان اور اللہ سے محبت دوسری جانب اللہ کے دشمنوں سے محبت جن کا حال یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ اس کے مطابق فیصلے کئے جائیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ شدید دہمکی دی گئی ہے کہ اگر مومن ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جو کتاب اللہ اور شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو ان کا ایمان خطرے میں ہے ۔ کفار کے دوستی مختلف شکلوں میں ممکن ہے ۔ دل سے محبت کرے ‘ ان کی مدد کرے یا ان سے مدد مانگے یہ سب موالات الکفار ہے ۔ لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ” مومنین ‘ اہل ایمان کو چھوڑ کر ‘ کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں ۔ جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ “ بالکل یونہی ‘ وہ اللہ کے نزدیک کچھ نہیں ہے ۔ اس کا اللہ کے ساتھ نہ تعلق ہے اور نہ نسبت ہے۔ نہ وہ اللہ کے دین پر ہے اور نہ عقیدے پر ‘ نہ اس کا اللہ سے ربط ہے اور نہ دوستی ۔ یہ شخص اللہ سے دور ہے ۔ وہ ہر چیز سے غیر متعلق ہوگیا ہے ‘ جس کے ذریعہ کوئی بھی تعلق قائم ہوا کرتا ہے۔ ہاں یہاں بعض غیر معمولی حالات میں استثناء رکھی جاتی ہے ۔ بعض ممالک ایسے ہوسکتے ہیں جہاں بامر مجبوری ایسے تعلقات رکھنے پڑتے ہیں ۔ لیکن ان حالات اور علاقوں میں بھی صرف زبانی تقیہ جائز ہے ۔ یہ جائز نہیں ہے کہ انسان دل سے اہل کفر کے ساتھ محبت کرے یا گہرے تعلقات قائم کرے ۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں تقیہ کا تعلق عمل سے نہیں ہوتا ‘ تقیہ صرف زبان سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس لئے جس تقیہ کا اجازت دی گئی اس میں یہ نہیں ہوتا کہ اہل ایمان اور کفار کے درمیان تعلقات قائم ہوں۔ اور اس سیاق میں کافر کا لفظ اس شخص کے لئے استعمال ہوا ہے جو شخص کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرنے سے روگردانی کرتا ہے ۔ یعنی پوری زندگی میں ‘ یہاں تو یہ بات ضمناً کی گئی مگر دوسری جگہ قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ ایسے لوگوں کے لئے الکافرون کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ نیز تقیہ میں یہ بات بھی شامل نہیں ہے کہ ایک مسلمان کسی بھی صورت میں اہل کفر کے ساتھ عملی تعاون کرے ۔ اللہ کے ساتھ اس قسم کا کوئی دھوکہ نہیں کیا جاسکتا۔ ولایت اور محبت چونکہ دلوں کا کام ہے ۔ انسانی ضمیر اور شعور کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے اور جذبہ اللہ خوفی اور تقویٰ اس جرم سے باز رکھ سکتا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک عجیب انداز میں اپنے غضب اور اپنے قہرانہ انتقام سے ڈرایا ہے ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ” اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔ “ اور اسی کی طرف تو تمہیں آنا ہے۔ اور یہ تخویف اور ڈراوا مزید آگے بڑھ کر دلوں کو چھوتا ہے ‘ ان کی توجہ اس طرف مبذول کرتا ہے دیکھو تم اللہ کی نظروں میں ہو۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل ایمان کو حکم کہ کافروں سے دوستی نہ کریں اس آیت شریفہ میں اہل ایمان کو اس بات سے منع فرمایا کہ مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائیں اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی شخص ایسا کرے گا یعنی مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائے گا اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ معالم التنزیل صفحہ ٢٩١: ج ١ میں حضرت ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے کہ مذکورہ بالا آیت عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی، یہ لوگ ظاہر میں مومن ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور دل سے کافر تھے۔ یہودیوں سے اور مشرکوں سے دوستی رکھتے تھے اور ان کو مسلمانوں کی خبریں پہنچاتے تھے اور یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلہ میں یہودی اور مشرکین غلبہ پالیں گے اور فتح یاب ہوجائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مومنین کو منع فرما دیا کہ ان لوگوں کی طرح عمل نہ کریں اور کافروں کی دوستی سے پرہیز کریں اپنی دوستی صرف مسلمانوں سے رکھیں۔ حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ چند یہودی بعض انصار سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا اندرونی مقصد یہ تھا کہ ان کو دین اسلام سے پھیر دیں بعض صحابہ (رض) نے ان انصاریوں کو ان یہودیوں کی دوستی سے منع کیا ان لوگوں نے نہ مانا اور ان کے ساتھ گھلنا ملنا جاری رکھا۔ اللہ جل شانہ نے آیت بالا نازل فرمائی اور دشمنان دین کی دوستی سے منع فرما دیا۔ موالات کفار (کافروں کی دوستی) کی ممانعت اس آیت کے علاوہ دیگر آیات میں بھی وارد ہوئی ہے۔ سورة ممتحنہ میں فرمایا : ( یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِِلَیْہِمْ بالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَآءَکُمْ مِّنَ الْحَقِّ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰہِ رَبِّکُمْ اِِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ تُسِرُّوْنَ اِِلَیْہِمْ بالْمَوَدَّۃِ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَا اَخْفَیْتُمْ وَمَا اَعْلَنتُمْ وَمَنْ یَّفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآء السَّبِیْلِ اِِنْ یَّثْقَفُوکُمْ یَکُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَآءً وَّیَبْسُطُوْٓا اِِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ وَاَلْسِنَتَہُمْ بالسُّوْٓءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ ) ” اے ایمان والو ! مت بناؤ میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست تم ان کی طرف دوستی کے پیغامات بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا جو تمہارے پاس حق آیا وہ نکالتے ہیں رسول کو اور تم کو اس وجہ سے کہ تم ایمان لائے اللہ کے ساتھ جو تمہارا رب ہے اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا کی تلاش میں، تم چپکے سے ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ ظاہر کیا اور تم میں سے جو شخص ایسا کام کرے گا تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ اگر وہ تم کو پالیں تو تمہارے دشمن ہوں گے اور تمہاری طرف اپنے ہاتھوں اور زبانوں کو بڑھا دیں گے برائی کے ساتھ، اور ان کی آرزو ہے کہ کاش تم لوگ کافر ہوجاؤ۔ کافروں سے محبت کرنے کے نتائج : ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ کافروں سے موالات اور ان سے دوستی رکھنا قطعاً اور سخت ممنوع ہے آجکل مسلمانوں کو اس ممانعت کی طرف بالکل توجہ نہیں ہے کافروں سے دوستی ہے اور اپنوں سے بیزاری ہے۔ دنیا کا مفاد پیش نظر ہے اپنے مفاد کو باقی رکھنے کے لیے کافروں سے دوستی کرتے ہیں اور مسلمانوں کی دوستی کا خیال تک نہیں آتا۔ مسلمان غیر قوموں کے مخبر بھی بن جاتے ہیں مسلمانوں کے ملکوں کی خبریں ان کے دشمنوں کو پہنچاتے ہیں۔ آپس میں بگاڑ ہے اور کافروں سے جوڑ ہے، اس افسوس ناک صورت حال نے مسلمانوں کے ملکوں کو کافروں کی حکومتوں کا دم چھلہ بنا رکھا ہے۔ کوئی ملک کافروں کی کسی حکومت کا سہارا لے کر جی رہا ہے اور کوئی ان کی کسی دوسری حکومت کا خاص الخاص بنا ہوا ہے، مسلمان مقالے لکھتے ہیں، ڈاکٹریٹ کرتے ہیں، دشمن ان سے ایسے مضامین لکھاتے ہیں جو مسلمانوں کے اندرونی حالات اور معاملات اور ان کے ارادوں اور اداروں کی خبروں پر مشتمل ہوں، یہ لوگ کافروں کے دوست ہیں اسلام اور مسلمان کی دوستی ان کے پیش نظر نہیں، مسلمانوں کے بعض ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور جفا کا معاملہ ہوتا ہے ان کو اجنبی کہہ کر ممالک سے خارج کردیا جاتا ہے اور کافروں کو المواطن کہہ کر گلے لگایا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں کافروں کی موالات اور دوستی سے جو منع فرمایا یہ بہت اہم بات ہے لوگ اس کو روا داری کے خلاف سمجھتے ہیں، روا داری اور چیز ہے اور موالات یعنی دل سے دوستی کرنا اور چیز ہے۔ دل سے جب دوستی ہوتی ہے تو مسلمانوں کی خبریں بھی دشمنوں کو پہنچائی جاتی ہیں اور مسلمان حکومتوں کے اندر کے پروگرام بھی دشمن کو بتا دیئے جاتے ہیں، ایمان کا تقاضا ہے کہ قلبی محبت صرف مسلمانوں سے ہو کافروں سے نہ ہو، کہتے ہیں فلاں صاحب نمازی ہیں، نمازی تو ہیں لیکن اندر سے دشمنوں کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں ان کو اسلام کا یہ حکم ماننا گوارا نہیں وہ کافروں سے موالات اور محبت نہ کریں۔ مسلمانوں میں طرح طرح کی عصبیتیں ہیں آپس میں موالات نہیں رہی کہیں صوبائی عصبیت ہے کہیں لسانی عصبیت، اور کہیں عرب و عجم کی عصبیت ہے۔ ایمانی رشتوں کو چھوڑ کر غیر ایمانی تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں۔ اس میں کافروں سے بھی موالات کرنی پڑتی ہے اور یہ عصبیتیں کافروں ہی نے سمجھائی ہیں۔ بعض ملکوں میں تو کافروں سے دوستی کا یہ حال ہے کہ لوگ دشمنوں کے مندر تک بنوا دیتے ہیں اور ان کی دوستی میں نمازیں تک چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے مذہبی تہواروں میں شرکت بھی کرتے ہیں اور ہدیے بھی دیتے ہیں۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کی اپنی ذاتی کوئی حیثیت دنیا میں باقی نہیں رکھی، کافروں سے یہ امید کرنا کہ وہ ہمیں فائدہ پہنچا دیں گے غلط خیال ہے جو بظاہر ان سے فائدہ پہنچتا ہے اس کی آڑ میں نقصان ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔ سورة آل عمران کی آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا) میں صاف بتادیا کہ کافروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ اور یہ بھی واضح طور پر بتادیا گیا کہ وہ لوگ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہ کریں گے، وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑی رہے ان کے ممالک ہماری طرف جھکے رہیں اس طرح ہمارے محتاج بھی رہیں اور ہمارے خلاف کچھ کر بھی نہ سکیں اور ہمیں ان کے اندرونی راز بھی معلوم ہوتے رہیں۔ آیت میں جو لفظ (مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) فرمایا اس میں اس پر خاص تنبیہ ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ کریں۔ اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ مسلمانوں کو نہ چھوڑے ان سے بھی دوستی رکھے اور کافروں سے بھی۔ کیونکہ مقصود کافروں کی دوستی سے منع کرنا ہے اور حقیقت میں بات یہ ہے کہ کافروں سے قلبی دوستی جبھی ہوسکتی ہے جبکہ مسلمانوں کی دوستی کو نظر انداز کردیا جائے۔ خواہ مستقل طور پر مسلمانوں سے بےتعلقی اختیار کی جائے خواہ عارضی طور پر ہر حال میں کافروں سے قلبی محبت ہوگی تو وہ ضرور مسلمانوں سے کسی نہ کسی درجہ میں تعلق کم کرنے یا تعلق توڑنے پر مجبور کرے گی۔ کافروں سے موالات کرنے والوں کے لیے و عید شدید : آیت شریفہ میں کافروں کی موالات سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور ان سے دوستی کرنے والوں کے حق میں ارشاد فرمایا کہ (وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْءٍ ) کہ جو شخص ایسا کرے گا تو اللہ کی دوستی یا اللہ کے دین کا اس سے کوئی بھی تعلق نہیں۔ قال صاحب الروح ص ١٢١: ج ٢ و الکلام علی حذف مضاف ای من ولایتہ او من دینہ والظرف الاول حال من (شیء) والثانی خبر لیس۔ و تنوین (شیء) للتحقیر ای لیس فی شیء یصح ان یطلق علیہ اسم الولایۃ او الدین۔ موالات کی ایک صورت مستثنیٰ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً ) یعنی اسی صورت میں ظاہری دوستی کی اجازت ہے جبکہ ان سے کسی قسم کا ضرر پہنچنے کا واقعی اندیشہ ہو، کوئی مسلمان کافروں میں پھنس جائے۔ مقتول ہونے کا یا کسی عضو کے تلف ہونے کا واقعی اندیشہ ہو اور کافر زبردستی کریں کہ تو ہمارے دین کے مطابق نہ بولا تو تجھے مار ڈالیں گے تو صرف ظاہری طور پر زبان سے (نہ کہ دل سے) کوئی کلمہ ایسا کہہ دے جس سے جان بچ جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ پھر فرمایا (وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ وَ اِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ) اور اللہ تم کو اپنے سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ لہٰذا ہر عمل میں اس کو سامنے رکھیں اللہ کی بار گاہ میں پیش ہونا ہے یہ ہمیشہ پیش نظر رہے اگر اس پر عمل کریں گے تو گناہوں سے بچ سکیں گے گناہوں میں موالات کفار بھی شامل ہے۔ مواسات اور مدارات کس حد تک جائز ہے : واضح رہے کہ آیات قرآنیہ میں کافروں سے قلبی دوستی کی ممانعت فرمائی ہے مواسات اور مدارات کی ممانعت نہیں ہے خوش خلقی سے پیش آنا مہمانی کے طور پر کچھ کھلانا پلانا۔ دفتروں میں ان کے ساتھ ملازمتیں کرنا، تجارتی معاملات کرنا اس کی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ جو کفار دارالحرب کے ہوں اور مسلمانوں سے برسر پیکار ہوں ان سے کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے اور معاملات میں بھی شرعی اصول کے موافق جائز ناجائز کا خیال رکھا جائے۔ حربی کافروں کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنا ممنوع ہے کافروں کو ملازم رکھنا اور ان کے اداروں میں ملازم ہونا یہ بھی جائز ہے۔ البتہ دلی دوستی اور محبت کسی کافر کے ساتھ کسی حال میں بھی جائز نہیں۔ قرآن کریم نے کافروں سے جو قلبی دوستی رکھنے سے منع فرمایا ہے یہ کوئی اشکال کی بات نہیں ہے۔ خود کافر بھی اسی پر عامل ہیں وہ بھی مسلمانوں سے قلبی دوستی نہیں رکھتے جب تک کفر اور کافر سے قلبی نفرت نہ ہوگی اسلامی احکام پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکتا۔ کافروں نے ممالک میں یک جہتی کے نام سے تحریک چلا رکھی ہے۔ اس طرح سے مسلمانوں کو ان کے دین میں کچا کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو اپنی جماعت میں مدغم کرنے کی کوشش میں ہیں اور ان کی کوشش انہیں مسلمانوں میں کامیاب ہوتی ہے جنہیں کفر اور کافر سے نفرت نہیں ہے بعض مسلمان کافروں سے جھینپتے ہیں کہ قرآن میں کافروں سے موالات کرنے کو منع فرمایا ہے اس میں جھینپنے کی کوئی بات نہیں کافر اس پر اعتراض کریں تو ان سے کہیں کہ تم خود بتاؤ کیا تم ہمیں دل سے چاہتے ہو اور ہمارے دین کو اچھا سمجھتے ہو ؟ کیا ہمارا وجود تمہیں گوارا ہے ؟ وہ اگر صحیح جواب دیں گے تو یہی کہیں گے کہ ہم تمہیں دل سے نہیں چاہتے لہٰذا ان سے کہیں کہ جو تمہارا حال ہے وہی ہمارا طریقہ ہے۔ روافض کا تقیہ اور اس کی تردید : روافض کے دین میں تقیہ کی بہت اہمیت ہے یہ ان کے دین کا بہت بڑا رکن ہے لا ایمان لمن لا تقیۃ لہ ان کا مشہور عقیدہ ہے اور اس پر ان کا عمل بھی ہے انہوں نے اپنے تقیہ کے لیے آیت کے الفاظ (اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً ) سے استدلال کیا ہے اول یہ سمجھ لیں کہ روافض کو تقیہ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں نے جب روافض کو سیدنا محمد رسول اللہ خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کے علاوہ دوسرا دین بنا کردیا تو اس میں یہ بھی تھا کہ حضرت ابوبکر وعمر اور حضرت عثمان (رض) نے خلافت غصب کرلی تھی اور حضرت علی (رض) خلیفہ بلا فصل تھے، اس پر مسلمانوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر وہ خلیفہ بلا فصل تھے تو انہوں نے حق کا اعلان کیوں نہیں کیا اور ٢٦ سال تک ان حضرات کے مشوروں میں کیوں شریک رہے ؟ اور جہادوں میں ان کے ساتھ کیوں شرکت کی اور ان کے پیچھے جمعہ اور عیدین کیوں پڑھتے رہے۔ اور روزانہ جماعتوں میں کیوں حاضر رہے ؟ اس پر روافض کو ان کے استادوں یعنی یہودیوں نے یہ نکتہ سجھا دیا کہ حضرت علی (رض) نے تقیہ کرلیا تھا، یہ تقیہ کا ایسا ہتھیار دشمنوں نے ان کے ہاتھ میں دیا کہ اس کو انہوں نے دین کا بہت بڑا ستون بنا لیا۔ ہر بات میں تقیہ کے ذریعہ گرفت میں آنے سے بچ جاتے ہیں۔ اور اپنے عقیدہ کے خلاف قصداً وارادۃً بہت سی باتیں کہہ جاتے ہیں اور اس کو بہت بڑی نیکی سمجھتے ہیں۔ کہاں حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا جری اور بہادر ببانگ دہل حق کا اعلان کرنے والے اور کہاں روافض کا تقیہ جو عقیدہ کے خلاف کہہ دینے اور مخاطب کو دھوکہ دینے پر مبنی ہے، حضرت علی مرتضیٰ (رض) کو خلفاء ثلاثہ سے دبنے کی کوئی ضرورت نہ تھی وہ حق گو، حق بین، حق شناس صحابی (t) تھے۔ باطل سے دبنا اور حق کے خلاف زبان نہ کھولنا اہل حق کا شیوہ نہیں۔ بزعم روافض حضرت علی (رض) خلیفہ بلا فصل بھی تھے اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر (رض) سے دب بھی گئے خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلیفہ مخلوق سے دب جائے یہ بات اہل ایمان کی سمجھ میں آنے والی نہیں۔ اب دوسرا رخ لیجیے وہ یہ کہ حضرت حسین (رض) جب روافض کی دعوت پر کوفہ پہنچے اور وہاں دیکھا کہ ان کے جھوٹے حامی ان سے الگ ہوگئے اور ان کے ساتھ اپنے ہی خاص لوگ مختصر سی تعداد میں رہ گئے تو انہوں نے اظہار کے لیے جان دینا اور اپنے اہل بیت کو قتل کروانا مناسب جانا، اگر تقیہ کوئی دین کا کام تھا تو ان کو بطور تقیہ یزید اور ابن زیاد کی بات مان لینا چاہیے تھا، معلوم ہوا کہ روافض کا تقیہ ان کے آئمہ سے بھی ثابت نہیں ہے یہ ایک تراشیدہ عقیدہ ہے اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں قرآن سے اس کا کوئی ثبوت نہیں اور جن کو شیعہ اپنا امام مانتے ہیں ان سے بھی ثابت نہیں اور جو روایات روافض نے تقیہ کے بارے میں اماموں کی طرف منسوب کی ہیں وہ سب جعلی ہیں، شیعہ مؤلفین نے تراشی ہیں، حضرت علی مرتضیٰ (رض) اور دیگر آئمہ نے (بقول روافض) تقیہ خوف کی وجہ سے کیا ہو یا بلا خوف، یہ خلیفہ برحق کی شان کے خلاف ہے۔ اندر کچھ ہو اور باہر کچھ یہ امام کی شان کے خلاف ہے۔ روافض کے نزدیک خلیفہ اول کا جو حال ہے وہی بعد کے اماموں کا بھی حال ہے ان کے نزدیک وہ سب تقیہ کرنے والے تھے (العیاذ باللہ) روافض کا جو تقیہ ہے اس کا قرآن کریم سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ (اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً ) میں یہ بتایا ہے کہ کوئی مسلمان کافروں میں پھنس جائے، مثلاً محبوس ہو یا محبوسوں کی طرح سے ہو (جیسے اندھے اپاہج، لنگڑے لولے اور بیمار) اور کافر کفر کلمہ کہلوانے پر کسی ایسی تکلیف دینے کی دھمکی دیں جو ناقابل برداشت ہو اور وہ جو دھمکی دے رہے ہیں اس پر وہ قادر بھی ہوں تو زبان سے کلمہ کفر کے کہنے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ سورة نحل کی آیت (اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَءِنٌّ بالْاِیْمَانِ ) میں اجازت دی ہے۔ لیکن فضیلت اسی میں ہے کہ جان دیدے اور تکلیف اٹھا لے اور کفر کا کلمہ زبان پر نہ لائے اور روافض کو قرآن مجید سے استدلال کرنے کا حق کیا ہے وہ تو اسے محرف مانتے ہیں اور صحیفہ عثمانی مانتے ہیں، جو قرآن ہمارے پاس ہے جس کو ہم اللہ کی کتاب مانتے ہیں اور جس کے بارے میں محفوظ غیر محرف ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں اس سے منکرین قرآن کو استدلال کرنے کا کیا حق ہے۔ ممکن ہے کوئی رافضی یوں کہے کہ ہم تمہیں الزام دینے کے لیے تمہارے قرآن سے استدلال کرتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ اپنی جہالت سے اپنے خود تراشیدہ عقیدہ کے لیے آیت کا مطلب جو تم نے تجویز کیا ہے ہم پر حجت نہیں، پھر تمہیں تو پھر بھی تقیہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے اس کی دلیل کے لیے کم از کم حضرت علی (رض) کا ایک ارشاد ہی ثابت کردیجیے جو صحیح سند سے ہو۔ روافض کا بنایا ہوا نہ ہو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38:۔ اس آیت میں مسلمانوں کو کافروں سے قطع تعلقی کا حکم دیا جارہا ہے۔ پہلے بیان فرمایا کہ مالک الملک، معزو مذل اور قادر مطلق صرف اللہ ہی ہے اس لیے اسی پر بھروسہ رکھو اور ان کافروں کی پرواہ نہ کرو۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ جو محض ضدوعناد کی وجہ سے توحید کو نہیں مانتے اور اسلام قبول نہیں کرتے۔ چناچہ وفد نجران باوجود بےدلیل ہونے کے شرک پر اڑا رہا اور یہودیوں کو کتاب اللہ (تورات) کے فیصلہ کی طرف بلایا گیا۔ مگر وہ محض ضد کی وجہ سے تورات کا فیصلہ ماننے سے بھی انکاری ہوگئے اس لیے مسلمانوں حکم دیا کہ ان سے ہر قسم کے دوستانہ تعلقات منقطع کرلیں۔ 39:۔ یہ مومنوں کے لیے زجر ہے۔ یعنی جو مسلمان ان کافروں سے دوستی رکھے گے خدا کی دوستی کا رشتہ اس سے منقطع ہوجائے گا اور خدا کی جماعت میں اس کا شمار نہیں ہوگا ای فلیس من حزب اللہ ولا من اولیائہ فی شیئ (قرطبی ج 4 ص 57) کافروں سے معاملات اور دلی دوستی تو کسی صورت میں جائز نہیں البتہ اگر ان سے جان کا خطرہ ہو یا اس کے علاوہ کسی بھاری نقصان کا اندیشہ ہو تو ظاہری طور پر میل ملاقات اور خاطر مدارت میں کوئی حرج نہیں۔ 40:. اس لیے ظاہر و باطن میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز رہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائیں اور جو شخص ایسا کرے گا یعنی مسلمانوں کو نظر انداز کر کے کافروں سے دوستی بڑھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے اس کی دوستی کا کوئی واسطہ اور کوئی تعلق نہیں مگر ہاں وہ حالت ستثنا ہے کہ تم کو کافروں کے شر سے بچنے کیلئے ایسا کرنا پڑے اور تم کو ان سے کوئی سخت اندیشہ ہو اور تم بظاہر ان سے دوستانہ طرز عمل اختیار کرلو اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنے سے ڈراتا اور خوف دلاتا ہے اور تم کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف پلٹ کر جانا ہے یعنی بہر حال آخری مرجمع اسی کی ذات ہے۔ ( تیسیر) مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو بالکل نظر انداز کردیا جائے یا مسلمانوں سے بھی دوستی کریں اور کافروں کو بھی دوست بنائے رکھیں ۔ ہم اس سورت کی تمہید میں عرض کرچکے ہیں کہ مسلمان کے لئے مدینہ منورہ کا ابتدائی دور بڑی مشکلات کا دور تھا جنگ بدر میں جو مسلمانوں کو بےپناہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوئی اس نے مدینہ کی زندگی میں مسلمانوں کے لئے نئی نئی شکلیں پیدا کردیں ۔ ایک طرف اہل کتاب کی خفیہ اور اعلانیہ ریشہ دوانیاں دوسری طرف مدینہ کے لوگوں میں منافقین کی کثرت اور ان کی خفیہ سازشیں ، پھر جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے آئے تھے اور ان کے متعلقین مکہ میں رہ گئے تھے ان کا خیال کہ کہیں کفار ان کی گزند نہ پہنچائیں۔ پھر بعض کافر قرابت داروں اور رشتہ داروں کا خیال اور ان کے تعلقات کی فکر ، پھر بعض مسلمانوں کا کفار مکہ کی قید اور اسیری میں مبتلا رہنا ، ان کا رنج اور خیال یہ سب وہ باتیں تھیں جن کی وجہ سے مسلمان سخت پریشان تھے اگر سب سے کھلم کھلا بگاڑیں تو خطرہ اور اگر دوستانیہ رکھیں اور دوستانیہ میں کوئی بات منہ سے نکل جائے اور اپنا کوئی بھید ظاہر ہوجائے تو مشکل پھر کافروں کی حالت بھی مختلف تھی بعض کافر تھے مگر باوجود کفر کے مسلمانوں کے ہمدرد تھے اور مرنجان مرنج پالیسی رکھتے تھے بعض ظاہر میں مسلمان ہوگئے تھے لیکن اندرونی طور پر مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور مہاجرین کے خلاف ہر وقت پروپیگنڈا کرتے رہتے تھے۔ بعض مسلمان بھی یہ چاہتے تھے کہ گو ہم مسلمان ہوگئے اور کفر کی ملت کو ہم نے ترک کردیا لیکن جو سابقہ تعلقات تھے ان کو باقی رکھنا چاہئے ، تعلقات اپنی جگہ اور مذہب اپنی جگہ۔ اگرچہ یہ سب باتیں اس قابل تھیں کہ تمدنی اور شہری زندگی میں ان کا لحاظ کھا جاتا ہے اور یہ ان باہمی تعلقات اور باہمی رواداری کے مختلف الخیال حضرات کا ایک شہر میں رہنا بہت مشکل ہوجاتا ہے لیکن سیاسی نقطہ ٔ نگاہ اور اسلام کے عام مفاد کا خیال بہر حال مقدم رکھا جاتا ہے ۔ اگر مسلمان اور کافر یوں باہم گھی کھچڑی کی طرح رہتے اور باہمی میل جول اور دوستانہ سبحالہ باقی رہتے تو نہ کفر سے منافرت پیدا ہوتی ہے اور نہ دل کھول کر مسلمان اعلائے کلمۃ اللہ کرسکتے اور نہ کفر و اسلام باہم متمیز ہوتے اور نہ مسلمانوں کو وہ غلبہ میسر ہوتا جو ان کی زندگی کا اصل مقصد تھا۔ بلکہ اسلام ایک مخلوط مذہب بن کر رہ جاتا ، کیونکہ تعلقات اور دوستانے کا اثر خیالات پر پڑنا یقینی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس خطرے سے بچانے کیلئے صاف طور پر کافروں سے ترک موالات کا حکم دے دیا تا کہ کفر مسلمانوں کے خیال میں کوئی خاص اور امتیازی جگہ حاصل نہ کرنے پائے اور چونکہ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ کافر اللہ تعالیٰ کے دشمن ہیں اور مسلمان اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں ۔ اس لئے فرمایا کہ ہم سے دوستانہ تعلقات جب ہی رہ سکتے ہیں جب کافروں سے دوستانہ ترک کردیا جائے۔ فلیس من اللہ فی شیئی کا مطلب یہی ہے کہ ہماری دوست کے اعتبار سے تمہاری کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور ہماری دوستی سے تم کو ہاتھ دھونے پڑیں گے باقی کفار کے غلبہ کی حالت کو مستثنا قرار دیا تا کہ قانون مکمل ہوجائے اگر کفار کہیں مسلمانوں کی بدقسمتی سے غالب ہوجائیں تو اس میں قلب کی حفاظت کرتے ہوئے کئی طرح کی گنجائش ہے ۔ ظاہری طور پر دستانہ طرز عمل بھی اختیار کرسکتے ہو بلکہ خطرہ قوی ہوجائے اور ہلاکت کا اندیشہ یقین ہو تو زبان سے کلمۂ کفر کے اجرا کی بھی رخصت ہے جیسا کہ انشاء اللہ سورة نحل میں آجائے گا۔ باقی رہی مدارات اور ملا ظفت یعنی خوش خلقی اور ظاہر طور پر نرم گفتگو اور مواسات یعنی احسان اور نفع رسانی اور مشارکت یعنی کسی متحدہ مقصد میں باہم اشتراک یا کافر مہمان کی تواضح ، تو یہ سب امور علیحدہ ہیں اور آیت میں اس کی ممانعت نہیں ہے اور نہ یہ چیزیں تمدنی زندگی میں چل سکتی ہیں۔ مثلا فرض کیجئے۔ کہ ایک بستی میں کافر اور مسلمان دونوں رہتے ہیں ، اس پر ڈاکو حملہ کرتے ہیں یا شیر حملہ کرتے ہیں یا آگ لگ جاتی ہے تو ایسی صورت میں مسلمانوں کا کافروں کے ساتھ باہم تعاون کرنا جائز بلکہ ضروری ہوگا ، کوئی کافر بطور مہمان کے آجائے تو اس کی مہمان نوازی کرنی ہوگی ۔ اور اس توقع پر کسی کافر کے ساتھ اچھا برتائو بھی کرنا جائز ہوگا کہ شاید وہ اسلام قبول کرلے اور مسلمانوں کے حسن سلوک سے اس کے دل میں اسلام گھر کر جائے۔ بہر حال صد ہا مسائل اس ضمن میں ایسے ہیں جو مقامی علماء سے دریافت کئے جاسکتے ہیں یا فقہ کی کتابوں میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ آیت میں کفار سے دوستانہ کی ممانعت ہے خواہ وہ ظاہری ہو یا باطنی اور کسی کافر سے اس کے کفر کی وجہ سے دوستانہ کرنا اور اس کو رفیق بنانا یہ کفر ہے باقی دوستانہ کے علاوہ دوسرے امور خواہ وہ تلطف و مہربانی ہو، احسان ہو، زکوٰۃ کے علاوہ صدقہ ہو ، ایک کافر سے مل کر دوسرے کافر کا مقابلہ ہو ، غیر متعصب کافر سے نرم برتائو اور حسن سلوک ہو ، مہمان کی خاطر تواضع ہو یہ سب وہ باتیں ہیں جن کا حکم مسلمانوں کے منافع اور حالات کے مناسب جدا جدا ہوگا ، البتہ حربی کافر کا حکم بالکل الگ ہے اور اسی طرح جنگ کی حالت اور امن کی حالت کے احکام بھی جدا ہیں اور معاہد اور ذمی کے احکام بھی الگ ہیں۔ ہم نے جو تفصیل عرض کی ہے وہ شان نزول کی کسی روایت کے خلاف نہیں ہے ۔ خواہ نزول کی وجہ وہ ہو جو مقاتل نے اختیار کی ہے یا وہ ہو جو کلبی نے اختیار کی ہے یعنی خواہ آیت کا تعلق حاطب بن بلتعہ کے واقعہ سے ہو اور خوا ۔۔۔۔ عبد اللہ بن ابی کے واقعہ سے ہو۔ ہماری تقریر کسی روایت کے منافی نہیں ۔ رہی یہ بات کہ حضرات اثناء عشریہ نے اس آیت سے تقیہ کے جوا ز پر استدلال کیا ہے تو اس کا مفصل جواب اگر دیکھنا ہو تو حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب (رح) کے تحفہ اثناء عشری کا مطالعہ کیا جائے۔ یہاں اتنی بات یاد رکھنی چاہئے کہ شیعہ حضرات کے معروف وتقیہ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے آیت میں صرف یہ بات بتائی گئی ہے کہ خوف کے وقت ضرر سے بچنے کیلئے دوستی کا اظہار کردیا جائے اور عداوت کا اظہار نہ کیا جائے اور شیعوں کے تقیہ میں کفر کا اظہار اور ایمان کا اخفا ہوتا ہے۔ نیز تقیہ متعارفہ کسی فائدے کے حصول کے لئے بھی کیا جاسکتا ہے پھر شیعوں کا تقیہ معمولی سے خوف کے موقع پر بھی کیا جاسکتا ہے اور بعض شیعی روایات سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میاں کے باہمی قضیوں میں بھی تقیہ کی اجازت ہے اور معاذ اللہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسے بہادر اور غیور صحابی کو بھی بعض باتوں میں تقیہ کا مرتکب ظاہر کیا گیا ہے اور سیدنا امام حسین (رض) کو تقیہ کی رسم کا مخالف بتایا گیا ہے۔ غرض قرآن کریم کی آیت الا ان تتقوامنھم تقاہ کو کوئی دور کا واسطہ بھی حضرت امامیہ کے تقیہ سے نہیں ہے۔ آیت کے آخری دونوں جملے وعید کے طور پر فرمائے گئے ہیں ۔ ویحذرکم اللہ نفسہ اور الی اللہ المصیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی شان عظمت و جلال اس قابل ہے کہ اس سے ڈرو اور اس کے مقابلہ میں اس کی مخلوق سے خوف نہ کرو اور اس کے احکام کو بجا لانے میں پوری طرح ہوشیار رہو کیونکہ تم سب کا آخری ٹھکانہ اور آخری مرجمع صرف اسی کی ذات ہے لہٰذا اس سے ڈرو اور اس کے دشمنوں کو دوستی کے خفیہ اور علانیہ پیام نہ روانہ کرو نہ اس کے اعدا کو اپنا اولیاء بنائو۔ اب آگے کی آیت میں اسی مضمون کی مزید تصریح اور تاکید فرمائے ہیں تا کہ خفیہ اور علانیہ اور ظاہری اور باطنی موالات سے پرہیز کیا جائے اور موالات کفار کا قانون بالکل مکمل ہوجائے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے ( تسہیل)