Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 35

سورة آل عمران

اِذۡ قَالَتِ امۡرَاَتُ عِمۡرٰنَ رَبِّ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لَکَ مَا فِیۡ بَطۡنِیۡ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلۡ مِنِّیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۵﴾

[Mention, O Muhammad], when the wife of 'Imran said, "My Lord, indeed I have pledged to You what is in my womb, consecrated [for Your service], so accept this from me. Indeed, You are the Hearing, the Knowing."

جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے ، اسے میں نے تیرے نام آزاد کرنے کی نذر مانی ، تو میری طرف سے قبول فرما ، یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

اِذۡ
جب
قَالَتِ
کہنے لگی
امۡرَاَتُ
بیوی
عِمۡرٰنَ
عمران کی
رَبِّ
اے میرے رب
اِنِّیۡ
بےشک میں
نَذَرۡتُ
نذر کیا میں نے
لَکَ
تیرے لیے
مَا
جو
فِیۡ بَطۡنِیۡ
میرے پیٹ میں ہے
مُحَرَّرًا
آزاد
فَتَقَبَّلۡ
پس تو قبول کرلے
مِنِّیۡ
مجھ سے
اِنَّکَ
بےشک تو
اَنۡتَ
تو ہی ہے
السَّمِیۡعُ
خوب سننے والا ہے
الۡعَلِیۡمُ
خوب جاننے والا ہے
Word by Word by

Nighat Hashmi

اِذۡ
جب
قَالَتِ
کہا
امۡرَاَتُ
بیوی/ عورت نے
عِمۡرٰنَ
عمران کی
رَبِّ
اے میرے رب
اِنِّیۡ
یقیناً میں
نَذَرۡتُ
میں نے نذر مانی ہے
لَکَ
تیرے لئے
مَا
جو کچھ
فِیۡ بَطۡنِیۡ
میرے پیٹ میں ہے
مُحَرَّرًا
آزاد چھوڑا ہوا
فَتَقَبَّلۡ
پس آپ قبول فرما لیں
مِنِّیۡ
مجھ سے
اِنَّکَ
یقیناً آپ
اَنۡتَ
آپ ہی
السَّمِیۡعُ
سب کچھ سننے والے
الۡعَلِیۡمُ
سب کچھ جاننے والے ہیں
Translated by

Juna Garhi

[Mention, O Muhammad], when the wife of 'Imran said, "My Lord, indeed I have pledged to You what is in my womb, consecrated [for Your service], so accept this from me. Indeed, You are the Hearing, the Knowing."

جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب! میرے پیٹ میں جو کچھ ہے ، اسے میں نے تیرے نام آزاد کرنے کی نذر مانی ، تو میری طرف سے قبول فرما ، یقیناً تو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

جب عمران کی بیوی نے دعا کی تھی کہ : اے میرے پروردگار ! میں نے منت مانی ہے کہ جو کچھ میرے بطن میں ہے، اسے میں نے تیرے لیے وقف کردیا سو میری اس منت کو قبول فرما۔ بلاشبہ تو ہر ایک کی سننے والا اور جاننے والا ہے

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

جب عمران کی بیوی نے کہا: ’’اے میرے رب! یقیناًجومیرے پیٹ میں ہے، میں نے نذرمانی ہے کہ تیرے لیے آزادچھوڑاہواہو گا۔پس آپ مجھ سے قبول فرمائیں، یقیناًآپ سب کچھ سننے والے،سب کچھ جاننے والے ہیں۔‘‘

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

When ` Imran&s wife said: |"0 my Lord, I have vowed what is in my womb to be exclusively for You. So, ac¬cept (it) from me. You, certainly You, are the All-Hearing, the All-Knowing.|"

جب کہا عمران کی عورت نے کہ اے رب میں نے نذر کیا تیرے جو کچھ میرے پیٹ میں ہے سب سے آزاد رکھ کر سو تو مجھ سے قبول کر بیشک تو ہی ہے اصل سننے والا جاننے والا

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

جب کہا عمران کی بیوی نے کہ اے میرے ربّ ! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اس کو میں تیری ہی نذر کرتی ہوں ہر ذمہ داری سے چھڑا کر پس تو اس کو میری طرف سے قبول فرما ! یقیناً تو سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

(He also heard) when the woman of 'Imran said: 'O Lord! Behold, unto You do I vow that the child in my womb is to be devoted to Your exclusive service. Accept it, then, from me. Surely You alone are All-Hearing, All-Knowing.'

﴿وہ اس وقت سن رہا تھا﴾ جب عمران کی عورت 32 کہہ رہی تھی کہ میرے پرور دگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں ، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا ۔ میری اس پیشکش کو قبول فرما ۔ تو سننے اور جاننے والا ہے ۔ 33

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

۔ ( چنانچہ اللہ کے دعا سننے کا وہ واقعہ یاد کرو ) جب عمران کی بیوی نے کہا تھا کہ : یا رب ! میں نے نذر مانی ہے کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں اسے ہر کام سے آزاد کر کے تیرے لیے وقف رکھوں گی ۔ میری اس نذر کو قبول فرما ۔ بیشک تو سننے والا ہے ، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

اے پیغمبر وہ وقت یاد کر جب عمران کی بی بی) حنہ بنت افاتحوذام) نے پروردگار سے عرض کیا اے میرے مالک جو میرے و میرے پیٹ میں ہے آزاد کر اس کو تیری نذر کرچکی اب قریب کو میری طرف سے بیشک تو سنتا جانتا ہے 5

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار ! جو میرے پیٹ میں ہے بیشک میں نے اسے آزاد کرکے آپ کو نذر کیا پس آپ مجھ سے قبول فرمالیں بیشک آپ ہی سننے والے جاننے والے ہیں

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے آپ کی نذر کرتی ہوں (وہ آپ ہی کے کام کے لئے آزاد ہوگا) ۔ آپ اسے میری طرف سے قبول فرما لیجئے۔ بیشک آپ ہی (سب کی ) سننے والے اور جاننے والے ہیں ۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

(وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے میں اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھوں گی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما توتو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

Recall what time the wife of 'lmran said my Lord verily have vowed unto Thee that which is in my belly to be dedicated; accept Thou then of me. Verily Thou! Thou art the Hearer, the Knower.

(اور وہ وقت یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے عرض کیا ۔ کہ اے میرے پروردگار میں نے تیرے لئے نذر مانی ہے اس (بچہ) کی جو میرے پیٹ میں ہے کہ (وہ) آزاد رکھا جائے گا ۔ سو تو (یہ) مجھ سے قبول کر تو تو خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

( یاد کرو ) جب عمران کی بیوی بنے دعا کی کہ اے میرے رب! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے ، میں نے اس کو ہر چیز سے چھڑا کر ، تیرے لئے خاص کیا ۔ سو تو اس کو میری طرف سے قبول فرما ، بیشک تو ہی ہے جو سننے والا ، جاننے والا ہے ۔

Translated by

Mufti Naeem

جب عمران کی بیوی نے عرض کیا اے میرے پروردگار! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے بے شک میں اسے آپ کے نام پر آزاد کرنے کی نذر مانتی ہوں سو آپ اسے میری طرف سے قبول فرمالیں بیشک آپ خوب سننے والے ، جاننے والے ہیں

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ اے میرے پروردگار میں اس (بچہ) کو جو میرے پیٹ میں ہے۔ تیری نذر کرتی ہوں، وہ تیرے ہی لئے وقف ہوگا۔ میری اس پیشکش کو قبول فرما، تو سننے اور جاننے والا ہے۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

(اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب ! میں نے تیرے نذر کردیا اپنے اس بچے کو جو کہ میرے پیٹ میں ہے، سب سے آزاد کر کے، پس تو (اے میرے مالک، اپنے کرم سے میری اس نذر کو) قبول فرما لے، بیشک تو ہی ہے (ہر کسی کی) سنتا (سب کچھ) جانتا،

Translated by

Noor ul Amin

جب عمران کی بیوی نے دعاکی:’’اے رب!میں نے منت مانی ہے کہ جو کچھ میرے بطن میں ہے ، اسے میں تیرے لئے وقف کردوں گی سو میری منت قبول فرمالے بلاشبہ توسننے والاجاننے والا ہے

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

جب عمران کی بی بی نے عرض کی ( ف٦۸ ) اے رب میرے! میں تیرے لئے منت مانتی ہو جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے ( ف٦۹ ) تو تو مجھ سے قبول کرلے بیشک تو ہی سنتا جانتا ،

Translated by

Tahir ul Qadri

اور ( یاد کریں ) جب عمران کی بیوی نے عرض کیا: اے میرے رب! جو میرے پیٹ میں ہے میں اسے ( دیگر ذمہ داریوں سے ) آزاد کر کے خالص تیری نذر کرتی ہوں سو تو میری طرف سے ( یہ نذرانہ ) قبول فرما لے ، بیشک تو خوب سننے خوب جاننے والا ہے

Translated by

Hussain Najfi

۔ ( اس وقت کو یاد کرو ) جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار! جو بچہ میرے پیٹ میں ہے اسے میں ( دنیا کے کاموں سے ) آزاد کرکے ( خانہ کعبہ کی ) جاروب کشی اور تیری عبادت کے لئے تیری بارگاہ میں نذر کرتی ہوں تو میری ( نذر ) قبول فرما ۔ بے شک تو بڑا سننے والا ، بڑا جاننے والا ہے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

Behold! a woman of 'Imran said: "O my Lord! I do dedicate unto Thee what is in my womb for Thy special service: So accept this of me: For Thou hearest and knowest all things."

Translated by

Muhammad Sarwar

Remember when Imran's wife prayed to her Lord saying, "I have made a vow to dedicate to Your service whatever is in my womb. Lord, accept it from me. You are All-hearing and All-knowing".

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

(Remember) when the wife of `Imran said: "O my Lord! I have vowed to You what is in my womb to be dedicated for Your services, so accept this from me. Verily, You are the All-Hearer, the All-Knowing."

Translated by

Muhammad Habib Shakir

When a woman of Imran said: My Lord! surely I vow to Thee what is in my womb, to be devoted (to Thy service); accept therefore from me, surely Thou art the Hearing, the Knowing.

Translated by

William Pickthall

(Remember) when the wife of 'Imran said: My Lord! I have vowed unto Thee that which is in my belly as a consecrated (offering). Accept it from me. Lo! Thou, only Thou, art the Hearer, the Knower!

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

जब इमरान की बीवी ने कहाः ऐ मेरे रब! मैंने मन्नत मानी आपके लिए कि जो औलाद मेरे पेट में है उसे आज़ाद रखा जाएगा, पस आप मेरी जानिब से क़बूल फ़रमा लें, बेशक आप सुनने वाले, जानने वाले हैं।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

جبکہ عمران (پدر مریم (علیہ السلام) کی بی بی نے (حالت حمل میں) عرض کیا کہ اے پروردگار میں نے نذرمانی ہے آپ کے لیے اس بچہ کی جو میرے شکم میں ہے کہ وہ آزاد رکھا جاوے گا سو آپ مجھ سے (بعد ولادت) قبول کرلیجئیے بیشک آپ خوب سننے والے خوب جاننے والے ہیں۔ (35)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

جب عمران کی بیوی نے عرض کیا ! اے میرے رب ! میرے بطن میں جو کچھ ہے اسے میں نے تیری نذر کردیا ہے تو اسے میری طرف سے قبول فرما۔ یقیناً تو خوب سننے اور خوب جاننے والا ہے

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جب عمران کی عورت کہہ رہی تھی کہ میرے پروردگار ! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نظر کتی ہوں ۔ وہ تیرے کام کے لئے وقف ہوگا۔ میری اس پیش کش کو قبول فرمایا ‘ تو سننے اور جاننے والا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

جب عرض کیا عمران کی بیوی نے کہ اے میرے رب بیشک میں نے آپ کے لیے نذر مان لی کہ جو بچہ میرے شکم میں ہے وہ آزاد ہوگا لہٰذا آپ اس کو قبول فرمائیے، بیشک آپ ہی سننے والے جانے والے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

جب کہا عمران کی عورت نے کہ اے رب میں نے نذر کیا تیرے جو کچھ میرے پیٹ میں ہے سب سے آزاد رکھ کر سو تو مجھ سے قبول کر بیشک تو ہی ہے اصل سننے والا جاننے والاف

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

وہ وقت قابل ذکر ہے جب عمران کی بیوی نے کہا اے میرے پروردگار میں نے اس بچہ کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کیا کہ وہ سب کاموں سے آزاد رہ کر تیری خدمت کیلئے وقف ہوگا ، سو تو میری طرف سے اس نذر کو قبول فرمالے بیشک تو خوب سننے والا جاننے والا ہے