Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 5

سورة آل عمران

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَخۡفٰی عَلَیۡہِ شَیۡءٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ؕ﴿۵﴾

Indeed, from Allah nothing is hidden in the earth nor in the heaven.

یقیناً اللہ تعالٰی پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says; إِنَّ اللّهَ لاَ يَخْفَىَ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الاَرْضِ وَلاَ فِي السَّمَاء Truly, nothing is hidden from Allah, in the earth or in the heaven. Allah states that He has perfect knowledge in the heavens and earth and that nothing in them is hidden from His watch.

خالقِ کل اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ آسمان و زمین کے غیب کو وہ بخوبی جانتا ہے اس پر کوئی چیز مخفی نہیں ، وہ تمہیں تمہاری ماں کے پیٹ میں جس طرح کی چاہتا ہے اچھی ، بری نیک اور بد صورتیں عنایت فرماتا ہے ، اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں وہ غالب ہے حکمت والا ہے ، جبکہ صرف اسی ایک نے تمہیں بنایا ، پیدا کیا ، پھر تم دوسرے کی عبادت کیوں کرو؟ وہ لازوال عزتوں والا غیرفانی حکمتوں والا ، اٹل احکام والا ہے ۔ اس میں اشارہ بلکہ تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اللہ عزوجل ہی کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کی چوکھٹ پر جھکنے والے تھے ، جس طرح تمام انسان اس کے پیدا کردہ ہیں انہی انسانوں میں سے ایک آپ بھی ہیں ، وہ بھی ماں کے رحم میں بنائے گئے ہیں اور میرے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ، پھر وہ اللہ کیسے بن گئے؟ جیسا کہ اس لعنتی جماعت نصاریٰ نے سمجھ رکھا ہے ، حالانکہ وہ تو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف رگ و ریشہ کی صورت ادھراُدھر پھرتے پھراتے رہے ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ) 39 ۔ الزمر:6 ) وہ اللہ جو تمہیں ماؤں کے پیٹوں میں پیدا کرتا ہے ، ہر ایک کی پیدائش طرح طرح کے مرحلوں سے گزرتی ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہ دونوں آیات اللہ تعالیٰ کے (عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ ) ہونے کے لیے بھی دلیل ہیں اور سورت کے دعویٰ (ۙاللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۙ الْـحَيُّ الْقَيُّوْم) کے لیے بھی۔ یہاں پہلے بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی ہر بڑی اور چھوٹی، ظاہر اور پوشیدہ چیز کا علم ہے، حالانکہ وہ عرش معلی پر ہے اور پھر اس طرف اشارہ کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ایک بندے ہیں۔ جس طرح دوسرے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پیدا کیا اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماں کے پیٹ میں جیسے چاہا پیدا کیا، پھر وہ خدا یا خدا کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے، جیسا کہ نصرانیوں کا غلط عقیدہ ہے۔ ھُوَ الَّذِيْ يُصَوِّرُكُمْ فِي الْاَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاۗءُ ۭ: یعنی مذکر و مؤنث، سرخ یا سیاہ، کامل یا ناقص اور خوش قسمت یا بدقسمت، حتیٰ کہ عمر اور رزق بھی اسی وقت لکھ دیا جاتا ہے، جیسا کہ متعدد احادیث میں مذکور ہے۔ [ دیکھیے بخاری، بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ : ٣٢٠٨] آخر میں پھر وہی دعویٰ ” لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ “ والا دہرا دیا اور اس کی مزید دلیلیں بھی دیں کہ کائنات کا یہ سارا سلسلہ اس اکیلے کے غلبہ و قوت اور حکمت و دانائی کے ساتھ چل رہا ہے، اس کے سوا کسی میں یہ صفات نہیں، سو عبادت بھی صرف اسی کا حق ہے، وہ نہ مسیح کا حق ہے، نہ ان کی والدہ کا اور نہ کسی اور کا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللہَ لَا يَخْفٰى عَلَيْہِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ۝ ٥ ۭ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥) اللہ تعالیٰ سے وفدبنی نجران اور اسی طرح فرشتوں کی کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3. That is, God knows all the facts of the universe. Hence the Book which He has revealed is, of necessity, true. It may be more appropriate to say that the unadulterated Truth can be made available to man only through this Book, which has been revealed by the All-Knowing, All-Wise God.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :3 یعنی وہ کائنات کی تمام حقیقتوں کا جاننے والا ہے ۔ لہٰذا جو کتاب اس نے نازل کی ہو ، وہ سراسر حق ہی ہونی چاہیے ۔ بلکہ خالص حق صرف اسی کتاب میں انسان کو میسر آسکتا ہے ، جو اس علیم و دانا کی طرف سے نازل ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(5 ۔ 6) حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ایسا وسیع ہے کہ اس کو زمین و آسمان کی سب غیب کی باتیں معلوم ہیں کوئی اس کے علم سے باہر نہیں ہے اس لئے ماں کے پیٹ میں گورا ‘ کالا ‘ لڑکا ‘’ لڑکی ‘ نیک و بد سب کچھ اس کے علم کے موافق ہوتا ہے اسی کو تقدیر کہتے ہیں اب اس میں ان عیسائی لوگوں کو یہ دھمکی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ کر خدا کی توحید میں جو یہ لوگ خلل ڈالتے ہیں اور اللہ کے کلام کو جھٹلاتے ہیں ذرا ذرا یہ سب باتیں اللہ کو معلوم ہیں اور ان لوگوں کے اعمال نامہ میں یہ سب باتیں لکھی جاتی ہیں وقت مقرر آنے کی دیر ہے پھر یہ لوگ دیکھ لیں گے کہ کیا ہوتا ہے اور اس دھمکی کے ساتھ ہی یہ فہمایش بھی ہے کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) اور مخلوق کی طرح حضرت مریم (علیہ السلام) کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور ماں کے پیٹ میں نطفہ کی حالت سے لے کر پیدائش کی حالت تک بچہ پر جو کچھ تغیرات گذرتے ہیں وہ ان کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں تو پھر باوجود اس کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ لوگ خدا کا بیٹا کس مشابہت سے کہتے ہیں۔ رہا عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے حضرت مریم کے پیٹ سے پیدا ہونا یہ اللہ کی اس قدرت سے کچھ بعید نہیں جس قدرت سے اس نے آدم ( علیہ السلام) اور حوا کو بغیر ماں اور باپ کے پیدا کردیا۔ کیونکہ وہ بڑا زبر دست حکمت والا ہے۔ کوئی مشکل کام اس کی حکمت کے آگے مشکل اور کوئی بڑا کام اس کی قدرت کے آگے بڑا نہیں۔ اگرچہ یہ آیتیں ان بخرانی عیسائیوں کی شان میں اتری ہیں۔ لیکن قرآن کی نصیحتیں عام ہیں اب کسی قوم کے کسی شخص میں کسی نصیحت کے قابل کوئی ویسی بات پائی جائے گی تو قرآن کی نصیحت گویا اسی کی شان میں ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اس آیت میں پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو آسمان و زمین کی ہر بڑی اور چھوٹی ظاہر اور پوشیدہ چیز کا علم ہے حالا ن کہ وہ عرش معلی پر ہے۔ (وحیدی) اور پھر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک بندہ مخلوق ہیں جس طرح دوسرے انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے ماں کے پیٹ میں پیدا کیا اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ماں کے پیٹ میں جیسے چاہا پیدا کیا۔ پھر وہ خدا یا خدا کا کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جیسے عیسائیوں کا غلط عقیدہ ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بدلہ اور سزا دینے والی ہستی کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالات ‘ واقعات سے اچھی طرح باخبر ہو چناچہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے۔ جس سے زمین و آسمان کی کوئی چیز مخفی نہیں وہ ماں کے رحم میں ہونے والی تبدیلوں کو جانتا ہی نہیں بلکہ جس طرح چاہتا ہے انسان کی شکل و صورت بناتا اور اسے خاص ڈھانچے میں ڈھالتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ انسان کی ہر نقل و حرکت سے واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں وہ زمین کی گہرائیوں اور اس کے ذرّے ذرّے ‘ آسمان کی بلندیوں اور اس کے چپے چپے سے واقف ہے۔ وہ تمہاری پیدائش کے ابتدائی مراحل سے آگاہ ہی نہیں بلکہ ماں کے رحم کے اندر لمحہ بہ لمحہ جو تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں انہیں بھی جانتا ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتوں اور قسمتوں کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ ایسا کرنے پر غالب بھی ہے اور اس کے ہر کام اور فیصلے کے پیچھے حکمتیں بھی کار فرما ہوتی ہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ پیدا ہونے والے کو طاقتور بنانا ہے یا کمزور، خوبصورت پیدا کرنا ہے یا قبول صورت، اس کا غریب ہونا بہتر ہے یا امیر، یہ نیک ہوگا یا بد۔ اللہ تعالیٰ تمام اور ہر قسم کے حالات جانتا ہے اور اسے ہر فیصلے پر اختیار ہے اور تم نہ دنیا میں اس کی دسترس سے باہر ہو اور نہ مرنے کے بعد۔ وہ ہر حال میں تم پر غالب ہونے کے باوجود تمہیں مہلت دیے ہوئے ہے۔ اس مہلت کے پیچھے اس کی بہت سی حکمتیں پنہاں ہیں۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًانُطْفَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَیُقَالُ لَہٗ أُکْتُبْ عَمَلَہٗ وَرِزْقَہٗ وَأَجَلَہٗ وَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْکُمْ لَیَعْمَلُ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ الْجَنَّۃِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ کِتَابُہٗ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ النَّارِ وَیَعْمَلُ حَتّٰی مَایَکُوْنُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے تو جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اسے آدمی کا عمل، رزق، موت اور نیک وبد ہونا لکھنے کا حکم ہوتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ تم میں ایک بندہ عمل کرتارہتا ہے حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آجاتی ہے وہ جہنمیوں والے کام شروع کردیتا ہے۔ ایسے ہی آدمی برے عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو وہ جنتیوں والے اعمال شروع کردیتا ہے۔ “ اس حدیث میں آدمی کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندگی بھر ماحول کے اثر، بزرگوں کے خوف، ذاتی مفاد اور اسلامی حکومت کے جبر سے بظاہر نیک اعمال کرتے ہیں لیکن ایمان ان کے دل میں راسخ نہیں ہوتا محض ماحول کے جبر کی وجہ سے ظاہری طور پر نیک ہوتے ہیں۔ جو نہی انہیں موقعہ ملتا ہے وہ برائی کی طرف لپکے چلے جاتے ہیں ایسے ہی بیشمار لوگ سوسائٹی یا گھریلو اثرات کی وجہ سے نیکی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے لیکن فطرتًا نہایت ہی سعادت مندطبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ جب کبھی انہیں نیکی کا ماحول میسر آئے تو بہت سے نیک لوگوں سے بڑھ کر ذوق وشوق سے نیک کام سرانجام دیتے ہیں۔ موت کے قریب اس قسم کے لوگوں کی نیک نیتی اور حقیقی کردار ان کو اصلی انجام کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ اس کے برعکس فطری اور قلبی طور پر برا شخص موت کے وقت کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرامین میں اسی فطری انجام کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا لکھا ہوا غالب آجاتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان میں کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ ٢۔ وہی ماں کے رحم میں انسان کی شکل و صورت بناتا ہے۔ ٣۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ غالب ‘ حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ صورتیں بنانے اور اولاد دینے والا ہے : ١۔ لوگوں کی شکلیں اللہ تعالیٰ بناتا ہے۔ (آل عمران : ٦) ٢۔ اللہ ہی بیٹے، بیٹیاں دیتا ہے۔ (الشوری : ٤٩) ٣۔ اللہ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (الانعام : ١٠٢) ٤۔ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ (الزمر : ٦٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

عذاب الٰہی اور انتقام الٰہی کی دہمکی کے بعد انہیں یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کی ذات سے کسی کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس سے نہ کوئی چیز مخفی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی چیز بچ سکتی ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الأرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ ………… ” اللہ وہ ذات ہے جس پر زمین و آسمان دونوں کے اندر پائے جانے والی کوئی شئے مخفی نہیں ہے ۔ “ یہ کہ اس پر کوئی بات مخفی نہیں ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے اس لئے کہ وہی الٰہ ہے ‘ وہی ہے جس نے اس کائنات کو تھاما ہوا ہے ۔ اس لئے اس کا علم محیط ہے ، سورت کے آغاز میں اس کی صفت قیومیت کا ذکر موجود ہے ۔ نیز یہاں خصوصاًاس لئے بھی صفت احاطہ علم کا ذکر کیا گیا کہ اس آیت میں ایک خوفناک ‘ ڈراوا بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ رکھی جائے ۔ ارض وسماء میں کوئی شیئ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس سے کسی نیت و ارادہ کو بھی پوشیدہ نہیں رکھاجاسکتا ۔ کوئی تدبیر بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس طرح اس کے نظام میں یہ بھی ممکن نہیں ہے کوئی سزا سے بچ نکلے گا یا اس کے حیطہ علم سے کچھ باہر رہ جائے گا ۔ اللہ کے اس لطیف اور دقیق علم کے سائے ‘ انسانی شعور کو خود اس کی پیدائش کے سلسلے میں ایک ٹچ دیا جاتا ہے ‘ انسانی شعور کو یہ چٹکی ‘ خود تخلیق انسان کے بارے میں دی جاتی ہے ۔ انسان کی تخلیق جو پردہ غیب میں ‘ رحم مادر کے پس پردہ اندھیروں میں عمل پذیر ہوتی ہے ‘ جس کے بارے میں نہ انسان کا علم رسائی حاصل کرسکا ہے اور نہ ہی اس کا ادراک کرتا ہے۔ اور نہ ہی وہ عمل تخلیق انسان کے دائرہ قدرت میں آسکا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ پر کوئی چیز مخفی نہیں : اس کے بعد اللہ تعالیٰ شانہٗ کے علم کی وسعت بیان فرمائی اور فرمایا کہ (اِنَّ اللّٰہَ لَایَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ) یعنی اللہ تعالیٰ پر کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ارض و سماء (آسمان و زمین) سے پورا عالم مراد ہے آسمان و زمین کے علاوہ بھی مخلوقات ہے ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں آسمان و زمین چونکہ نظروں کے سامنے ہیں اور عام طور سے لوگ انہیں جانتے ہیں اس لیے ان کا ذکر فرما دیا۔ لہٰذا من اطلاق الجزء وارادۃ الکل۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بعض مغیبات کا علم اللہ تعالیٰ شانہ نے جو کسی کو عطا فرما دیا (جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (کہ لوگوں کو ان کے گھروں میں رکھی ہوئی چیزیں بتا دیتے تھے) اس سے معبود ہونا لازم نہیں آتا۔ معبود حقیقی وہی ہے جس کے علم سے کوئی بھی چیز باہر نہ ہو۔ قال صاحب الروح فی بیان ذلک تنبیہ علی ان الوقوف علی بعض المغیبات کما وقع لعیسی (علیہ السلام) بمعزل من بلوغ رتبۃ الصفات الالٰھیہ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6 یہ عقلی دلیل ہے معبود اور مستعان صرف وہی ہوسکتا ہے جو عالم الغیب ہو ہر چیز کو جانتا ہو اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہ ہو اور وہ قادر مطلق ہو اور ہر کام اس کی قدرت کے تحت داخل ہو اس آیت میں پہلی شق بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی چیز اس کے علم محیط سے باہر نہیں اس کے برعکس حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم (علیہما السلام) میں یہ صفت موجود نہیں تھی۔ اس لیے وہ معبود ومستعان نہیں بن سکتے۔ ھُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ یہ عقلی دلیل کا دوسرا حصہ ہے۔ جس میں دوسری شق کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیی ایسا قادر مطلق ہے کہ ماں کے پیٹ میں اپنے اختیار سے بچے کی صورت گری کرتا ہے۔ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ محترمہ (علیہما السلام) تو ایسا ہرگز نہیں کرسکتے تھے۔ بلکہ ان کی صورتیں بھی اللہ ہی نے ان کی ماؤں کے رحموں میں بنائی تھیں۔ اس لیے وہ معبود ومستعان نہیں بن سکتے۔ لَا اِلٰهَ اِلَّاھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم۔ یہ دلیل عقلی کا نتیجہ ہے۔ نتیجہ کا بیان صراحت سے فرما کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ تقریب تام ہے اور دلیل دعوی کے عین مطابق ہے۔ نصاری کے شبہ کا جواب : پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ عیسایوں کے دلوں میں توحید و رسالت سے متعلق بعض شبہات تھے۔ جنہیں ایک ایک کر کے اس سورت میں دور کیا گیا ہے۔ ان کا پہلا شبہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں روح اللہ، کلمۃ اللہ، ابن اللہ جیسا کہ انجیل میں ہے اور اس قسم کے اور کوئی الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ایک خاص نسبت ہے۔ جس کی بنا پر وہ اللہ کے نائب ہیں اور اللہ نے ان کو غیب دانی اور حاجت روائی کے خصوصی اختیارات دے رکھے ہیں۔ چناچہ اگلی آیت میں ان کے اسی شبہ کا جواب دیا گیا ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi