Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 60

سورة آل عمران

اَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿۶۰﴾

The truth is from your Lord, so do not be among the doubters.

تیرے رب کی طرف سے حق یہی ہے خبردار شک کرنے والوں میں نہ ہونا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

(This is) the truth from your Lord, so be not of those who doubt. meaning, this is the only true story about `Isa, and what is beyond truth save falsehood. The Challenge to the Mubahalah Allah next commands His Messenger to call those who defy the truth, regarding `Isa, to the Mubahalah (the curse).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۔۔ : یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تمہارے سامنے جو حق بیان ہوا ہے یہ تیرے رب کی طرف سے ہے۔ ” اَلْحَقُّ “ میں الف لام عہد کا ہے جس کا اشارہ گزشتہ بیان کی طرف ہے اس لیے ترجمہ ” یہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے “ کیا گیا ہے۔ اور اس میں شک و شبہ کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظاہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ (رازی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِيْنَ۝ ٦٠ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ مری المِرْيَةُ : التّردّد في الأمر، وهو أخصّ من الشّكّ. قال تعالی: وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] ، فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هؤُلاءِ [هود/ 109] ، فَلا تَكُنْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقائِهِ [ السجدة/ 23] ، أَلا إِنَّهُمْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقاءِ رَبِّهِمْ [ فصلت/ 54] والامتراء والممَارَاة : المحاجّة فيما فيه مرية . قال تعالی: قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] ، بِما کانُوا فِيهِ يَمْتَرُونَ [ الحجر/ 63] ، أَفَتُمارُونَهُ عَلى ما يَرى[ النجم/ 12] ، فَلا تُمارِ فِيهِمْ إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] وأصله من : مَرَيْتُ النّاقةَ : إذا مسحت ضرعها للحلب . ( م ر ی) المریۃ کے معنی کسی معاملہ میں تردد ہوتا ہے ۔ کے ہیں اور یہ شک سے خاص قرآن میں ہے : وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ [ الحج/ 55] اور کافر لوگ ہمیشہ اس سے شک میں رہیں گے۔ الامتراء والمماراۃ کے معنی ایسے کام میں جھگڑا کرنا کے ہیں ۔ جس کے تسلیم کرنے میں تردد ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے : قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ [ مریم/ 34] یہ سچی بات ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں بما کانوا فِيهِ يَمْتَرُونَ [ الحجر/ 63] جس میں لوگ شک کرتے تھے ۔ أَفَتُمارُونَهُ عَلى ما يَرى[ النجم/ 12] کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو ۔ فَلا تُمارِ فِيهِمْ إِلَّا مِراءً ظاهِراً [ الكهف/ 22] تو تم ان کے معاملے میں گفتگو نہ کرنا ۔ مگر سرسری سی گفتگو ۔ دراصل مریت الناقۃ سے ماخوذ ہے ۔ جس کے معنی ہیں اونٹنی کے تھنوں کو سہلانا تاکہ دودھ دے دے ۔ ( مریم ) علیماالسلام ۔ یہ عجمی لفظ ہے اور حضرت عیسیٰ اعلیہ السلام کی والدہ کا نام ( قرآن نے مریم بتایا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٠ (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ ) یعنی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے بارے میں اصل حقیقت یہی ہے جو قرآن نے واضح کردی ہے ‘ باقی سب نصاریٰ کی افسانہ طرازی ہے۔ اور یہ جو فرمایا : (فَلاَ تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ ) اس میں خطاب بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے مگر روئے سخن مخاطبین سے ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

54. The main points set before the Christians so far are the following: First, it was impressed upon them that none of the various arguments which gave rise to the doctrine of the divinity of Jesus provided valid grounds to support that doctrine. Jesus was merely a human being whom God had created in an extraordinary manner for reasons best known to Him. God had also invested Jesus with the power to perform certain miracles by means of which he could categorically establish his claim to prophethood. It seems perfectly reasonable that God should not have allowed such an extraordinary person to be crucified by unbelievers and should have raised him up to Himself. As the Sovereign, God has the power to treat any of His subjects as He wishes. How can this extraordinary treatment of Jesus justify the conclusion that the subject was himself either the Sovereign, the son of the Sovereign or an associate with Him in His Sovereignty? Second, the message of Muhammad (peace be on him) is the same as that of Jesus. The missions of the two are identical. Third, even after [the ascension of] Jesus the religion of his disciples remained the same, namely, Islam, which is now expounded by the Qur'an. What has happened is that, in the course of time, the Christians have abandoned the teachings of Christ, and have deviated from the religion followed by the early disciples of Jesus.

سورة اٰلِ عِمْرٰن حاشیہ نمبر :54 یہاں تک کی تقریر میں جو بنیادی نکات عیسائیوں کے سامنے پیش کیے گئے ہیں ان کا خلاصہ علی الترتیب حسب ذیل ہے: پہلا امر جو ان کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح کی الوہیت کا اعتقاد تمہارے اندر جن وجوہ سے پیدا ہوا ہے ، ان میں سے کوئی وجہ بھی ایسے اعتقاد کے لیے صحیح نہیں ہے ۔ ایک انسان تھا جس کو اللہ نے اپنی مصلحتوں کے تحت مناسب سمجھا کہ غیر معمولی صورت سے پیدا کرے اور اسے ایسے معجزے عطاکرے جو نبوت کی صریح علامت ہوں ، اور منکرین حق کو اسے صلیب پر نہ چڑھانے دے بلکہ اس کو اپنے پاس اٹھالے ۔ مالک کو اختیار ہے ، اپنے جس بندے کو جس طرح چاہے استعمال کرے ۔ محض اس غیر معمولی برتاؤ کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ وہ خود مالک تھا ، یا مالک کا بیٹا تھا ، یا ملکیت میں اس کا شریک تھا ۔ دوسری اہم بات جو ان کو سمجھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح جس چیز کی طرف دعوت دینے آئے تھے وہ وہی چیز ہے جس کی طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعوت دے رہے ہیں ۔ دونوں کے مشن میں یک سر مو فرق نہیں ہے ۔ تیسرا بنیادی نکتہ اس تقریر کا یہ ہے کہ مسیح کے بعد ان کے حواریوں کا مذہب بھی یہی اسلام تھا جو قرآن پیش کر رہا ہے ۔ بعد کی عیسائیت نہ اس تعلیم پر قائم رہی جو مسیح علیہ السلام نے دی تھی اور نہ اس مذہب کی پیرو رہی جس کا اتباع مسیح کے حواری کرتے تھے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:60) الحق۔ یعنی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تخلیق آدم و تخلیق عیسیٰ (علیہما السلام) میں کوئی اختلاف نہیں ہے ہر دو اس کی قدرت کاملہ کی جلوہ گری کا نتیجہ ہیں بالکل حق و صداقت ہے۔ ممترین۔ اسم فاعل جمع مذکر امتراء مصدر باب افتعال۔ شک میں پڑنے والے تردد کرنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں تمہارے سامنے جو کچھ بیان ہوا ہے وہ حق ہے اور اس میں شک وشبہ کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔ (ابن کثیر) یہ خطاب بظا ہر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے مگر مقصود تمام مسلمانوں کو تنبیہ کرنا ہے۔ رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فرماتے ہیں : الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ……………” تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو ‘ جو اس میں شک کرتے ہیں “…………رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ تو شک کرتے تھے اور نہ ہی ان کے دل میں کوئی خلجان تھا۔ ان پر جو کلام نازل ہوتا تھا وہ اسے من جانب اللہ سمجھتے تھے ۔ ایک لحظہ کے لئے بھی شک ان کے قریب نہیں آیا۔ یہاں مقصود یہ ہے کہ آپ اس ہدایت پر جم جائیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے دشمنوں نے اس دور میں اہل ایمان کے خلاف سازشوں کا جال پھیلا رکھا تھا ‘ اور وہ اس سازش میں امت مسلمہ کے بعض افراد کو پھانس رہے تھے ۔ امت مسلمہ کے خلاف یہ سازشیں آج بھی ہورہی ہیں اور ہر دور میں ہوتی رہتی ہیں ۔ اور اس بات کی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ ان دھوکہ بازوں اور جھوٹوں کے مقابلے میں محتاط رہے۔ اس لئے کہ امت کے اس قسم کے دشمن ہر دور میں نیاجال لے کر آتے ہیں ۔ غرض پیدائش مسیح کا مسئلہ حل ہوگیا۔ حقیقت واضح ہوگئی ‘ اب اللہ تعالیٰ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ وہ اب ان لوگوں کے ساتھ یہ مجادلہ اور مناظرہ ختم کردیں اس لئے کہ مسئلہ واضح ہوگیا ‘ سچائی واضح طور پر سامنے آگئی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ اب آخری بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو مباہلے کی دعوت دی جائے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ ) کہ یہ جو کچھ بیان ہوا آپ کے رب کی طرف سے حق ہے آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیں بظاہر اس میں خطاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے اور مقصود امت کو خطاب کرنا ہے کہ وہ کسی طرح سے شک میں نہ پڑیں۔ کما قال البغوی فی معالم التنزیل الخطاب للنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والمراد امتہ۔ (صفحہ ٣١٠: ج ١) اسباب النزول صفحہ ٩٨ میں لکھا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد آیا اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ کیا بات ہے آپ ہمارے صاحب کو (یعنی ہم جسے مانتے ہیں) برا کہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں کیا کہتا ہوں ؟ کہنے لگے آپ کہتے ہیں کہ وہ ایک بندہ ہے آپ نے فرمایا کہ ہاں وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور وہ اللہ کا کلمہ ہیں جسے کنواری عورت بتول کی طرف ڈالا۔ یہ سن کر وہ لوگ غصہ ہوگئے اور کہنے لگے کیا کوئی انسان کبھی بغیر باپ کے آپ نے دیکھا ہے۔ ہمیں کوئی شخص ایسا دکھاؤ جو بغیر باپ کے پیدا ہوا ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَ اللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ ) (الآیۃ) نازل فرما دی جس میں ان کا جواب مذکور ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

84 الحق خبر ہے اور اس کا مبتدا ھُوَ محذوف ہے یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ آدم (علیہ السلام) کی طرح محض ہماری قدرت کاملہ سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور الہ نہیں تھے اور ان کی والدہ حضرت مریم صدیقہ پاکباز عورت تھی یہ سب حق ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اس کے مقابلے میں یہود ونصاریٰ کے نظریات غلط اور باطل ہیں۔ مثلاً نصاریٰ نے کہا کہ حضرت عیسیٰ معبود اور کارساز ہیں اور یہودیوں نے حضرت مریم کو زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے دونوں کے خیالات کا ابطال فرمایا۔ قال ابو مسلم المراد ان ھذا الذی انزلت علیک ھو الحق من خبر عیسیٰ (علیہ السلام) لا ما قالت النصاریٰ والیھود فانصاری قالوا ان مریم ولدت الہا والیھود رموا مریم (علیہا السلام) بالافک (کبیر ج 2، ص 697) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 5۔ یقین جانو ! کہ حضرت عیسیٰ کا حال عجیب اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہے جیسا آدم کا حال عجیب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے قالب کو مٹی سے بنایا پھر ان کے اس مٹی کے قالب اور مجسمہ کو حکم دیا کہ ہوجا سو وہ ہوگیا ۔ یعنی حکم دیتے ہی ایک جاندار آدمی بن گیا یہ امور مذکورہ اصل حقیقت ہے جو آپ کے رب کی جانب سے بتائی گئی ہے ۔ سوائے پیغمبر آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوجانا جو شک کرنے والے ہیں۔ (تیسیر) تمام بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ وفد نجران کے عقیدۂ فاسد کا بطلان کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ مسیح کے متعلق الوہیت کا اعتقاد محض باطل اور لغو ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایک انسان تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صالح کے تحت بن باپ کے پیدا کیا اور ان کو وہ معجزات عطا کئے جو ان کی نبوت کے لئے صریح دلیل تھے ۔ پھر ان کو ان کے دشمنوں سے محفوظ رکھا اور ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور معاندین کے تمام مکائد اور سازشوں کو نا کام بنادیا۔ ان تمام مہربانیوں کی وجہ سے جو ان کے پروردگار نے ان کے ساتھ کیں نہ وہ خدا بن گئے اور نہ خدا کے شریک ہوگئے ۔ اور نہ ان باتوں سے وہ خدا کے بیٹے کہلانے کے مستحق ہوگئے بلکہ حضرت حق تعالیٰ کے ایک بندے اور رسول ہیں اور حضرت حق کو یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے بندوں کو جس طرح چاہے نوازے اور جس طرح چاہے ان سے خدمت لے۔ رہی یہ بات کہ بن باپ کے پیدا ہونے سے تم نے یہ عقیدہ اختراع کیا تو یہ کون سی ایی بات ہے ، آخرحضرت آدم تو بن باپ اور بن ماں کے پیدا ہوئے تھے اور مشبہ کا عجیب و غریب حال تو مشبہ سے بھی زیادہ ہے، پھر جب بلا باپ اور بلا ماں کے پیدا ہونے والا خدا کے ساتھ شرکت کا حق دار نہیں ہے تو جو شخص صرف بن باپ کے پیدا ہوا ہے وہ کس طرح الوہیت کا مستحق ہوسکتا ہے۔ آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرمایا کہ آپ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں اس کا مطلب ہم دوسرے پارے میں عرض کرچکے ہیں کہ یا تو اس خطاب سے آپ کی امت مراد ہے اور یا محض تاکید و تثبیت کی غرض سے آپ کو فرمایا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ اب تک ہر قسم کے شک سے پاک ہیں اسی طرح آئندہ بھی شک کرینوالوں کا کوئی اثر قبول نہ کریں ، کیونکہ حق وہی ہے جو آپ کے رب نے آپ کو بتادیا ہے آپ ان لوگوں کی باتوں سے متاثر نہ ہوں جو آدم کو بلا باپ اور بلا ماں کے پیدا ہونا تسلیم کرتے ہوئے پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر طرح طرح کے اتہام لگائے ہیں۔ جیسے یہود اور نہ ان کی باتوں سے متاثر ہوں جو گھڑی گھڑی یہ کہتے ہیں کہ اچھا آخر ان کا باپ کون تھا۔ بن باپ کے پیدا ہونے پر تو اس قدر حجت کرتے ہیں اور اتنا غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ جو قدیم اور جملہ عیوب سے منزہ اور پاک ہے ا سے عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوجائے جو حادث بھی ہو کھانے پینے اور سکھانے کا محتاج ہو ۔ بول و براز کا عادی ہو ، جیسے نصاریٰ ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ۔ نصاریٰ اس بات پر بہت جھگڑے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بندہ نہیں خدا کا بیٹا ہے آخر کہنے لگے کہ وہ اللہ کا بیٹا نہیں تو تم بتائو کس کا بیٹا ہے ؟ اس کے جواب میں آیت اتری کہ آدم کو تو ماں نہ باپ عیسیٰ کا باپ نہ ہو تو کیا عجیب ۔ ( موضح القرآن) اب آگے ان تمام استدلالات عقلیہ اور نقلیہ کو بیان فرمانے کے بعد ایک اور بات اتمام حجت کے طور پر بیان فرماتے ہیں ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ( تسہیل)