Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 62

سورة آل عمران

اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡقَصَصُ الۡحَقُّ ۚ وَ مَا مِنۡ اِلٰہٍ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۶۲﴾

Indeed, this is the true narration. And there is no deity except Allah . And indeed, Allah is the Exalted in Might, the Wise.

یقیناً صرف یہی سچّا بیان ہے اور کوئی معبودِ برحق نہیں بجُز اللہ تعالٰی کے اور بیشک غالب اور حکمت والا اللہ تعالٰی ہی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِنَّ هَـذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ ... Verily, this is the true narrative, meaning, what we narrated to you, O Muhammad, about `Isa is the plain truth that cannot be avoided. ... وَمَا مِنْ إِلَـهٍ إِلاَّ اللّهُ وَإِنَّ اللّهَ لَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ and none has the right to be worshipped but Allah. And indeed, Allah is the All-Mighty, the All-Wise.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ ھٰذَا لَھُوَالْقَصَصُ الْحَقُّ۝ ٠ۚ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّا اللہُ۝ ٠ ۭ وَاِنَّ اللہَ لَھُوَالْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۝ ٦٢ قصص الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِقُصِّيهِ [ القصص/ 11] ( ق ص ص ) القص کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔ وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ [ القصص/ 11] اور اسکی بہن کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ إله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] الٰہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ عزیز ، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] ( ع ز ز ) العزیز العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٢۔ ٦٣) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ آپ کے سامنے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور وفد نجران کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، وہ ہی سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ نہ خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے اور نہ اس کے شریک ہیں اور وحدہ لاشریک کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور جو ایمان نہ لائے اس پر اللہ تعالیٰ غلبہ والے ہیں حکمت والے ہیں کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے اور حکیم کے یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان پر لعنت پختہ ہوگئی، اس لیے انہوں نے اس ہدایت سے انحراف کیا اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مباہلہ کے لیے نہیں آئے کیوں کہ یہ جانتے تھے کہ ہم جھوٹے ہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہیں اور آپ کے اوصاف اور تعریف خود ان کی کتابوں میں موجود ہیں، پھر اگر یہ آپ کے مباہلہ کے لیے بلانے کے باوجود بھی آپ کے ساتھ نہ نکلیں اور حق کو قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ بنی نجران کے ان مفسد عیسائیوں کو خوب جاننے والے ہیں ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:62) ما من الہ میں نافیہ ہے اور لہو میں لام تاکید کے لئے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان آیات میں جن حقائق کا بیان ہوا اس سے قبل ان کا بیان ہوگیا ہے۔ یہاں دعوت مباہلہ اور وفد کی جانب سے اس کے انکار کے بعد بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس آیت میں البتہ نئی بات یہ ہے کہ جو اس سچائی کو قبول نہیں کرتے وہ درحقیقت مفسد ہیں اور خبردار کیا جاتا ہے کہ تم اللہ سے پوشیدہ نہیں ہو ‘ وہ انداز قد سے پہچانتا ہے۔ اور وہ فساد جو منکرین توحید ‘ توحید کا انکار کرکے پھیلاتے تھے وہ اللہ کے نزدیک ایک عظیم فساد تھا ۔ اور دنیا میں جس قدر فسادات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں وہ سب کے سب عقیدہ توحید سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور عقیدہ توحید کا اعتراف بھی محض زبانی اعتراف کافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ محض زبانی اعتراف کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ۔ نہ ہی ایسا دینی اعتراف جو خالص منفی اعتراف ہو ‘ اس لئے کہ محض قلبی اور زبانی اعتراف کے نتیجے میں وہ آثار ظاہر نہیں ہوتے جو انسانوں کی عملی زندگی میں نمودار ہونے ضروری ہیں ۔ دراصل دنیا نے عقیدہ توحید کے لازمی آثار ونتائج سے انکار کردیا ہے اور انسانی زندگی کے عقیدہ توحید کے آثار کو ختم کردیا ہے ۔ عقیدہ توحید کا پہلا لازمہ تو یہ ہے کہ ہمارا رب بھی ایک ہو ‘ پھر اس رب کی غلامی اور بندگی بھی ایک ہو ‘ اس لئے کہ بندگی صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے پھر اسی ایک رب کی اطاعت ہو ‘ پھر تمام ہدایات بھی اسی ایک رب سے اخذ کی جائیں یعنی اس کے سوا عبودیت نہ ہو ۔ اللہ کے سوا اطاعت نہ ہو اور اللہ کے سوا کوئی مرجع ہدایت نہ ہو ۔ ہدایات چاہے قانون سازی میں ہوں ‘ چاہے اقدار حیات اور فلسفہ حیات میں ہوں ‘ چاہے اخلاق وآداب میں ہوں ‘ غرض ان تمام امور میں جو اس کرہ ارض پر حیات انسانی سے تعلق رکھتے ہیں صرف اللہ سے ہدایت لی جائیں …………اگر ایسی صورت حال نہیں تو پھر شرک اور کفر کے سوا کوئی بات نہیں ہے ۔ چاہے زبان سے جو کچھ کہتے جائیں ۔ چ ہے قلب شعور میں مجرد عقائد جو بھی ہوں ۔ الا یہ کہ لوگوں کی روز مرہ زندگی میں ‘ تسلیم ورضا ‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ امر ونہی کی قبولیت کی فضا قائم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پوری کائنات کا نظام اس وقت تک درست طور پر چل ہی نہیں سکتا جب تک یہ تسلیم نہ کرلیاجائے کہ اس کا اللہ ایک ہی ہے ۔ جو اس کے تمام معاملات کی تدبیر اور انتظام کرتا ہے ۔ وَلَوکَانَ فِیھِمَا اٰلِھَةٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا……………” اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کئی الٰہ ہوتے تو وہ بگڑجاتے ۔ “ اور انسان کے حوالے سے اللہ کی خدائی کا ممتاز ترین مظہر یہ ہے کہ تمام بندے اس کی بندگی کریں ۔ اور اللہ ان کے لئے نظام حیات تجویز کرے ‘ ان کے لئے حسن وقبح کے پیمانے وضع کرے ۔ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ ان اشیاء میں سے کوئی چیز بھی اس کے لئے ہے ۔ تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے مخصوص ترین حقوق پر دست درازی کرتا ہے اور اس معنی میں آپ کو لوگوں کے الٰہ اور رب قرار دیتا ہے۔ اور اس معنی میں جب اس کرہ ارض پر بہت سے الٰہ پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ کی یہ زمین فتنہ و فساد سے بھر جاتی ہے ۔ اور لوگ پھر لوگوں کی بندگی اور غلامی شروع کردیتے ۔ اس کے بعد پھر بندوں میں سے بعض بندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ دوسرے لوگ ان کی ذاتی اطاعت کریں ۔ اور یہ کہ انہیں بذات خود لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حق حاصل ہے ۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کے بھلے برے کا فیصلہ از خود کرسکتا ہے ۔ یہ تمام دعوے دراصل الوہیت کے دعوے ہیں ۔ اگر ایسے لوگ فرعون کی طرح زبانی طور پر یہ نہ کہیں ۔ اَنَا رَبُّکُمُ الاَعلٰی……………” میں تمہارا بڑ ارب ہوں۔ “ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے ایسے حقوق کا اقرار کرنا شرک اور کفر کا اقرار کرنا ہے ۔ اور یہ دنیا میں بدترین فتنہ اور فساد ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

86 ہذا کا اشارہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مذکورہ تفصیلات کی طرف ہے ای المذکور فی شان عیسیٰ (علیہ السلام) قالہ ابن عباس (روح ج 3 ص 190) یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تمام مذکورہ تفصیلات ہی صحیح اور درست ہیں اور نصاری کا الوہیت اور بنیت مسیح کا دعویٰ سراسر بطال ہے۔ ان ھذا ھو الحق لا مایدعیہ النصاری من کون المسیح (علیہ السلام) الہا وابن اللہ سبحانہ وتعالیٰ عما یقولہ الظالمون علوا کبیرا (روح ج 3 ص 190) ۔ 87 یہ تمام گذشتہ بحث کا نتیجہ اور ماحصل ہے جب دلائل واضحہ سے ثابت ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا محض اللہ کی قدرت کاملہ سے تھا اس سے ان کا الہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اسی طرح ان سے جو خارق عادت امور ظاہر ہوئے وہ ان کے معجزات تھے اور اللہ کے حکم سے ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے ان میں ان کے اختیار اور تصرف کو کوئی دخل نہیں تھا۔ لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے معبود اور الہ نہیں تھے۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی بندگی اور پکار کے لائق نہیں اور قدرت و حکمت کے اعتبار سے وہ سب پر فائق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi