Surat Aal e Imran

Surah: 3

Verse: 69

سورة آل عمران

وَدَّتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ لَوۡ یُضِلُّوۡنَکُمۡ ؕ وَ مَا یُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۹﴾

A faction of the people of the Scripture wish they could mislead you. But they do not mislead except themselves, and they perceive [it] not.

اہلِ کتاب کی ایک جماعت چاہتی ہے کہ تمہیں گُمراہ کر دیں ، دراصل وہ خود اپنے آپ کو گُمراہ کر رہے ہیں اور سمجھتے نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Envy the Jews Feel Towards Muslims; Their Wicked Plots Against Muslims Allah says; وَدَّت طَّأيِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ وَمَا يُضِلُّونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ A party of the People of the Scripture wish to lead you astray. But they shall not lead astray anyone except themselves, and they perceive not. Allah states that the Jews envy the faithful and wish they could misguide them. Allah states that the punishment of this behavior will fall back upon them, while they are unaware. Allah criticizes them, يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِأيَاتِ اللّهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ

یہودیوں کا حسد یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں ۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکرو فریب کے جال بچھاتے ہیں ، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں ۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو ۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے ۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں ، اور ان کی کتابوں میں جو صفیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں ان کو چھپا لیتے ہیں ۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گذرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہو گی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے ، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہو گا ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لئے ہم پر حجت بن جائیں ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو اے نبی کہدے کہ ہدایت تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے وہ مومنوں کے دلوں کو ہر اس چیز پر ایمان لانے کے لئے آمادہ کر دیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہو انہیں ان دلائل پر کامل ایمان نصیب ہوتا ہے چاہے تم نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتیں چھپاتے پھرو لیکن پھر بھی خوش قسمت لوگ تو آپ کی نبوت کے ظاہری نشان کو بہ یک نگاہ پہچان لیں گے ۔ اسی طرح کہتے تھے کہ تمہارے پاس جو علم ہے اسے مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو کہ وہ اسے سیکھ کر تم جیسے ہو جائیں بلکہ اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے تم سے بھی بڑھ جائیں ، یا اللہ کے سامنے ان کی حجت و دلیل قائم ہو جائے یعنی خود تمہاری کتابوں سے وہ تمہیں الزام دیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کہدو فضل تو اللہ عزوجل کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے ، سب کام اسی کے قبضے میں ہیں وہی دینے والا ہے جسے چاہے ایمان عمل اور علم و فضل کی دولت سے مالامال کر دے اور جسے چاہے راہ حق سے اندھا اور کلمہ اسلام سے بہرا اور صحیح سمجھ سے محروم کر دے اس کے سب کام حکمت سے ہی ہوتے ہیں وہ وسیع علم والا ہے ۔ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر دے وہ بڑے فضل والا ہے ، اے مسلمانو! اس نے تم پر بےپایاں احسانات کئے ہیں تمہارے نبی کو تم انبیاء پر فضیلت دی اور بہت ہی کامل اور ہر حیثیت سے پوری شریعت اس نے تمہیں دی

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

69۔ 1 یہ یہودیوں کے اس حسد و بغض کی وضاحت ہے جو اہل ایمان سے رکھتے تھے اور اسی عناد کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس طرح یہ خود ہی بےشعوری میں اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٢] ان آیات میں یہود کے مسلمانوں سے حسد وعناد اور اسی سلسلہ میں ان کے چند کرتوتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ پہلی کوشش ان کی یہ تھی کہ جیسے بھی ممکن ہو اگر کچھ مسلمانوں کو یہودی بنا لیا جائے تو وہ اپنے مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے چند مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ مگر الٹا بدنام ہوئے اور رسوائی بھی ہوئی۔ بھلا آپ کے پیروکار اور جانثاران یہودیوں کے دام میں کیسے پھنس سکتے تھے۔ ؟ دوسری کوشش ان کی یہ تھی کہ تورات کی جن آیات میں نبی آخرالزماں کی بشارت دی گئی ہیں۔ انہیں عوام میں شائع و ذائع ہونے سے روکا جائے اور اس سلسلہ میں مکروفریب اور کتمان حق کسی بات سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔ ان کوششوں سے وہ کامیاب نہ ہوئے بلکہ الٹا ان جرائم سے اپنے آپ کو مزید گمراہی میں مبتلا کرلیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَدَّتْ طَّاۗىِٕفَةٌ۔۔ : اس گروہ کی سازشوں کا ذکر اسی سورت (٧٢، ٧٣) میں آ رہا ہے۔ فرمایا یہ لوگ مسلمانوں کو یہودی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مسلمان ان کے بہکاوے میں کیا آئیں گے، وہ تو ایمان میں پختہ ہیں، یہ خود ہی مارے جائیں گے، مگر انھیں اس کا شعور ہی نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Verse 69 exposes the cherished desire of the people of the Book to mislead Muslims away from the true faith they are on. The text, then, firmly declares that the victim of their effort to misguide is no one oth¬er than themselves, something they do not realize. Verse 70, addressing the people of the Book, asks them as to why they disbelieve in the signs of Allah, such as the verses in Torah and Injil which prove the prophethood of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) because the denial of his prophethood amounts to declaring these verses to be false which is infidelity, although they themselves confirm these as true. This is an admonition on their error in belief. Proceeding further, Verse 71 admonishes them for confusing the real statement, that is, the prophecy about the prophethood of Muham¬mad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with the fictitious, that is, the interpolated state¬ments or false exegesis. The crucial question being asked is as to why would they conceal the truth of the matter despite knowing the truth, and knowing that they are hiding it.

خلاصہ تفسیر : دل سے چاہتے ہیں بعضے لوگ اہل کتاب میں سے اس امر کو کہ تم کو (دین حق سے) گمراہ کردیں، گمراہ نہیں کرسکتے مگر خود اپنے آپ کو (وبال اضلال میں گرفتار کر رہے ہیں) اور اس کی اطلاع انہیں رکھتے، اے اہل کتاب کیوں کفر کرتے ہو اللہ تعالیٰ کی (ان) آیتوں کے ساتھ (جو تورات اور انجیل میں نبوت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دلالت کرتی ہیں، کیونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرنا ان آیات کی تکذیب کرنا ہے جو کفر ہے) حالانکہ تم ( اپنی زبان سے) اقرار کرتے ہو (کہ وہ آیات حق ہیں، یہ تو ملامت ہوئی ان کے ضلال پر، آگے ضلال پر ملامت فرماتے ہیں کہ) اے اہل کتاب کیوں مخلوط کرتے ہو واقعی (مضمون یعنی نبوت محمدیہ) کو غیر واقعی (یعنی عبارت تحریف شدہ یا تفسیر فاسد) سے اور (کیوں) چھپاتے ہو واقعی بات کو حالانکہ تم جانتے ہو (کہ حق بات چھپا رہے ہو) ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَدَّتْ طَّاۗىِٕفَۃٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ۝ ٠ ۭ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝ ٦٩ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔ طَّائِفَةُ وَالطَّائِفَةُ من الناس : جماعة منهم، ومن الشیء : القطعة منه، وقوله تعالی: فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] ، قال بعضهم : قد يقع ذلک علی واحد فصاعدا وعلی ذلک قوله : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] ، والطَّائِفَةُ إذا أريد بها الجمع فجمع طَائِفٍ ، وإذا أريد بها الواحد فيصحّ أن يكون جمعا، ويكنى به عن الواحد، ويصحّ أن يجعل کراوية وعلامة ونحو ذلك . الطائفۃ (1) لوگوں کی ایک جماعت (2) کسی چیز کا ایک ٹکڑہ ۔ اور آیت کریمہ : فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ [ التوبة/ 122] تویوں کیوں نہیں کیا کہ ہر ایک جماعت میں چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین کا علم سیکھتے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ کبھی طائفۃ کا لفظ ایک فرد پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَإِنْ طائِفَتانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ الحجرات/ 9] ، اور اگر مومنوں میں سے کوئی دوفریق ۔۔۔ اور آیت کریمہ :إِذْ هَمَّتْ طائِفَتانِ مِنْكُمْ [ آل عمران/ 122] اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے چھوڑ دینا چاہا ۔ طائفۃ سے ایک فرد بھی مراد ہوسکتا ہے مگر جب طائفۃ سے جماعت مراد لی جائے تو یہ طائف کی جمع ہوگا ۔ اور جب اس سے واحد مراد ہو تو اس صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جمع بول کر مفر د سے کنایہ کیا ہو اور یہ بھی کہ راویۃ وعلامۃ کی طرح مفرد ہو اور اس میں تا برائے مبالغہ ہو ) لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ ( ضل)إِضْلَالُ والإِضْلَالُ ضربان : أحدهما : أن يكون سببه الضَّلَالُ ، وذلک علی وجهين : إمّا بأن يَضِلَّ عنک الشیءُ کقولک : أَضْلَلْتُ البعیرَ ، أي : ضَلَّ عنّي، وإمّا أن تحکم بِضَلَالِهِ ، والضَّلَالُ في هذين سبب الإِضْلَالِ. والضّرب الثاني : أن يكون الإِضْلَالُ سببا لِلضَّلَالِ ، وهو أن يزيّن للإنسان الباطل ليضلّ کقوله : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، أي يتحرّون أفعالا يقصدون بها أن تَضِلَّ ، فلا يحصل من فعلهم ذلك إلّا ما فيه ضَلَالُ أنفسِهِم، وقال عن الشیطان : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] ، وقال في الشّيطان : وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] ، وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] ، وإِضْلَالُ اللهِ تعالیٰ للإنسان علی أحد وجهين : أحدهما أن يكون سببُهُ الضَّلَالَ ، وهو أن يَضِلَّ الإنسانُ فيحكم اللہ عليه بذلک في الدّنيا، ويعدل به عن طریق الجنّة إلى النار في الآخرة، وذلک إِضْلَالٌ هو حقٌّ وعدلٌ ، فالحکم علی الضَّالِّ بضَلَالِهِ والعدول به عن طریق الجنّة إلى النار عدل وحقّ. والثاني من إِضْلَالِ اللهِ : هو أنّ اللہ تعالیٰ وضع جبلّة الإنسان علی هيئة إذا راعی طریقا، محمودا کان أو مذموما، ألفه واستطابه ولزمه، وتعذّر صرفه وانصرافه عنه، ويصير ذلک کالطّبع الذي يأبى علی الناقل، ولذلک قيل : العادة طبع ثان «2» . وهذه القوّة في الإنسان فعل إلهيّ ، وإذا کان کذلک۔ وقد ذکر في غير هذا الموضع أنّ كلّ شيء يكون سببا في وقوع فعل۔ صحّ نسبة ذلک الفعل إليه، فصحّ أن ينسب ضلال العبد إلى اللہ من هذا الوجه، فيقال : أَضَلَّهُ اللهُ لا علی الوجه الذي يتصوّره الجهلة، ولما قلناه جعل الإِضْلَالَ المنسوب إلى نفسه للکافر والفاسق دون المؤمن، بل نفی عن نفسه إِضْلَالَ المؤمنِ فقال : وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] ، فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ، وقال في الکافروالفاسق : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ، وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] ، كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] ، وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] ، وعلی هذا النّحو تقلیب الأفئدة في قوله : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] ، والختم علی القلب في قوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وزیادة المرض في قوله : فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] . الاضلال ( یعنی دوسرے کو گمراہ کرنے ) کی دوصورتیں ہوسکتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کا سبب خود اپنی ضلالت ہو یہ دو قسم پر ہے ۔ (1) ایک یہ کہ کوئی چیز ضائع ہوجائے مثلا کہاجاتا ہے اضللت البعیر ۔ میرا اونٹ کھو گیا ۔ (2) دوم کہ دوسرے پر ضلالت کا حکم لگانا ان دونوں صورتوں میں اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کا سبب ضلالۃ ہی ہوتی ہے ۔ دوسری صورت اضلال کی پہلی کے برعکس ہے یعنی اضلال بذاتہ ضلالۃ کا سبب بنے اسی طرح پر کہ کسی انسان کو گمراہ کرنے کے لئے باطل اس کے سامنے پر فریب اور جاذب انداز میں پیش کیا جائے جیسے فرمایا : لَهَمَّتْ طائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَما يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ [ النساء/ 113] ، ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی اور یہ اپنے سوا کسی کو بہکا نہیں سکتے۔ یعنی وہ اپنے اعمال سے تجھے گمراہ کرنے کی کوشش میں ہیں مگر وہ اپنے اس کردار سے خود ہی گمراہ ہو رہے ہیں ۔ اور شیطان کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا : وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ [ النساء/ 119] اور ان کو گمراہ کرتا اور امیدیں دلاتا رہوں گا ۔ اور شیطان کے بارے میں فرمایا : ۔ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيراً [يس/ 62] اور اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو گمراہ کردیا تھا ۔ وَيُرِيدُ الشَّيْطانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلالًا بَعِيداً [ النساء/ 60] اور شیطان تو چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے ۔ وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں خدا کے رستے سے بھٹکادے گی ۔ اللہ تعالیٰ کے انسان کو گمراہ کرنے کی دو صورتیں ہی ہوسکتی ہیں ( 1 ) ایک یہ کہ اس کا سبب انسان کی خود اپنی ضلالت ہو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف اضلال کی نسبت کے یہ معنی ہوں گے کہ جب انسان از خود گمرہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں اس پر گمراہی کا حکم ثبت ہوجاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آخرت کے دن اسے جنت کے راستہ سے ہٹا کر دوزخ کے راستہ پر ڈال دیا جائے گا ۔ ( 2 ) اور اللہ تعالٰ کی طرف اضلال کی نسببت کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے انسان کی جبلت ہی کچھ اس قسم کی بنائی ہے کہ جب انسان کسی اچھے یا برے راستہ کو اختیار کرلیتا ہے تو اس سے مانوس ہوجاتا ہے اور اسے اچھا سمجھنے لگتا ہے اور آخر کا اس پر اتنی مضبوطی سے جم جاتا ہے کہ اس راہ سے ہٹا نایا اس کا خود اسے چھوڑ دینا دشوار ہوجاتا ہے اور وہ اعمال اس کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں اسی اعتبار سے کہا گیا ہے کہ عادت طبعہ ثانیہ ہے ۔ پھر جب انسان کی اس قسم کی فطرت اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اور دوسرے مقام پر ہم بیان کرچکے ہیں کہ فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف بھی ہوسکتی ہے لہذا اضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کیطرف بھی ہوسکتی ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے گمراہکر دیا ور نہ باری تعالیٰ کے گمراہ کر نیکے وہ معنی نہیں ہیں جو عوام جہلاء سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اللہ تعالیٰ کی طرف گمراہ کرنے کینسبت اسی جگہ کی ہے جہاں کافر اور فاسق لوگ مراد ہیں نہ کہ مومن بلکہ حق تعالیٰ نے مومنین کو گمراہ کرنے کی اپنی ذات سے نفی فرمائی ہے چناچہ ارشاد ہے ۔ وَما کانَ اللَّهُ لِيُضِلَّ قَوْماً بَعْدَ إِذْ هَداهُمْ [ التوبة/ 115] اور خدا ایسا نہیں ہے کہ کسی قومکو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کردے ۔ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ سَيَهْدِيهِمْ [ محمد/ 4- 5] ان کے عملوں کر ہر گز ضائع نہ کریگا بلکہ ان کو سیدھے رستے پر چلائے گا ۔ اور کافر اور فاسق لوگوں کے متعلق فرمایا : فَتَعْساً لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمالَهُمْ [ محمد/ 8] ان کے لئے ہلاکت ہے اور وہ ان کے اعمال کو برباد کردیگا : وما يُضِلُّ بِهِ إِلَّا الْفاسِقِينَ [ البقرة/ 26] اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو ۔ كَذلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ الْكافِرِينَ [ غافر/ 74] اسی طرح خدا کافررں کو گمراہ کرتا ہے ۔ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ [إبراهيم/ 27] اور خدا بےانصافوں کو گمراہ کردیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ [ الأنعام/ 110] اور ہم ان کے دلوں کو الٹ دیں گے ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے انکے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزادَهُمُ اللَّهُ مَرَضاً [ البقرة/ 10] ان کے دلوں میں ( کفر کا ) مرض تھا خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کردیا ۔ میں دلوں کے پھیر دینے اور ان پر مہر لگا دینے اور ان کی مرض میں اضافہ کردینے سے بھی یہی معنی مراد ہیں ۔ شعور الحواسّ ، وقوله : وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ [ الحجرات/ 2] ، ونحو ذلك، معناه : لا تدرکونه بالحواسّ ، ولو في كثير ممّا جاء فيه لا يَشْعُرُونَ : لا يعقلون، لم يكن يجوز، إذ کان کثير ممّا لا يكون محسوسا قد يكون معقولا . شعور حواس کو کہتے ہیں لہذا آیت کریمہ ؛ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ [ الحجرات/ 2] اور تم کو خبر بھی نہ ہو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم حواس سے اس کا ادرک نہیں کرسکتے ۔ اور اکثر مقامات میں جہاں لایشعرون کا صیغہ آیا ہے اس کی بجائے ۔ لایعقلون کہنا صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو محسوس تو نہیں ہوسکتی لیکن عقل سے ان کا ادراک ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٩) اصحاب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے حضرت معاذ حذیفہ اور عمار کو غزوہ احد کے دن کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے اپنے دین یہودیت کی دعوت دی کہ اسلام کو چھوڑ دیں اور اس کو قبول کو لیں، اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں، اہل کتاب کی جماعت اس بات کی آرزو کرتی ہے کہ تمہیں تمہارے دین اسلام سے گمراہ کر دین، مگر درحقیقت وہ خود دین الہی سے دور ہوچکے ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس چیز کی اطلاع کردے گا جن باتوں کا تم اپنی کتابوں میں قرار کرتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(69 ۔ 71) ۔۔ چند یہود نے معاذ بن جبل (رض) اور حذیفہ بن الیمان (رض) وغیرہ کو یہ رغبت دلائی کہ وہ دین محمدی کو چھوڑ کر یہودی ہوجائیں اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ مسلمان اپنے دین پر خدا کی طرف سے پکے ہیں ان کو تو کسی کے بہکانے سے کچھ ضرر نہیں پہنچ سکتا۔ مگر بہکانے کا اثر بہکانے والوں کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا جس سے وہ غافل ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(3:69) ودک ماضی واحد مؤنث غائب۔ ودیودود۔ مودۃ۔ مصدر۔ اس نے دل سے چاہا۔ لو۔ بمعنی کہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یہاں طائفہ اہل کتاب سے مراد بنو نضیر اور بنو قریظہ ہیں جو بعض مسلمانوں کو یہودی بنانے میں کو شاں رہتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ فرمایا مسلمانوں تو ان کے بہکانے میں کیا آئیں گے۔ (شوکانی۔ وحیدی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب یہ جاننے کے باوجود کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی اور عیسائی نہیں تھے۔ پھر بھی اپنے مذہب کو تقویت دینے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے ان کی شخصیت کا حوالہ دیتے ہیں۔ گمراہ فرقوں کی ایک یہ بھی نشانی ہوتی ہے کہ وہ دلائل کی کمزوری کو شخصیات سے نسبت اور ان کی عقیدت کے حوالے سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن مجید مسلمانوں کو باربار اہل کتاب کی سازشوں اور عادتوں سے آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کی کوشش ہے کہ وہ کسی طرح تمہیں صراط مستقیم سے گمراہ کردیں۔ ان کی بد حرکتوں اور ان کے خبث باطن کے باوجود قرآن مجید انہیں سمجھانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا۔ قرآن جب بھی انہیں خطاب کرتا ہے تو اہل کتاب کے معزز لقب کے ساتھ ‘ تاکہ انہیں اپنے مرتبے کا احساس ہو اور وہ بری عادتیں چھوڑنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اسی لیے ایک دفعہ پھر انہیں سمجھایا جارہا ہے کہ حقیقت جاننے کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو ؟ اے اہل کتاب تمہیں حق چھپانے اور حق کو باطل کے ساتھ ملانے سے بھی باز آنا چاہیے۔ کیونکہ تم اس کے گناہ اور نقصان سے واقف ہو۔ جب کسی معاشرے کے پڑھے لکھے لوگ حقائق کا انکار کریں یا حق و باطل کے التباس کے جرم میں ملوث ہوجائیں تو پھر عوام الناس کا ہدایت تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ دراصل عیسائیوں اور یہودیوں کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ لوگوں میں اسلام اور نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اس قسم کے شکوک و شبہات پیدا کردیے جائیں کہ جن سے لوگ از خود اسلام سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ اسی ذہنیت سے انہوں نے سازشوں کو نیا رنگ دے کر یہ منصوبہ بنایا کہ اپنے میں سے کچھ لوگوں کو صبح کے وقت محمد عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا جائے۔ وہ ان کے سامنے اسلام کے اوصاف گنواتے ہوئے برملا ایمان لانے کا اظہار کریں لیکن ٹھیک دن کے آخر میں اسلام سے براءت کا اعلان کردیں تاکہ ہم مسلمانوں کو باور کروا سکیں کہ اگر اسلام میں سچائی اور آپ کے نبی میں کوئی خوبی ہوتی تو یہ پڑھے لکھے اور سمجھ دار لوگ مسلمان ہونے کے بعد کیوں اسے چھوڑتے ؟ اس طرح مسلمان شکوک و شبہات کا شکار ہوں اور وہ بھی واپس پلٹنے کے لیے سوچیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اگر اہل کتاب بالخصوص یہودیوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اس بات کا پتہ چلتا ہے انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے بہی خواہ بن کر ملت اسلامیہ کو بار ہانقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ جس کی ابتدا عبداللہ بن سبا نے حضرت عثمان (رض) کی خلافت میں کی تھی اور اس کے نتیجے میں جنگ جمل اور جنگ صفین واقع ہوئیں اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ کاش ! مسلمان اور ان کے سیاسی و مذہبی راہنما اہل کتاب خاص کر یہودیوں کی سازشوں کو سمجھ جائیں۔ مسائل ١۔ اہل کتاب مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ ٢۔ کسی کو گمراہ کرنے والا خود گمراہ ہوا کرتا ہے۔ ٣۔ اہل کتاب حقائق جاننے کے باوجود دین اسلام کا انکار کرتے ہیں۔ ٤۔ اہل کتاب جان بوجھ کر حق و باطل کی آمیزش کرتے ہیں۔ ٥۔ اہل کتاب میں سے ایک گروہ ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتا آرہا ہے۔ تفسیر بالقرآن اہل کتاب کے مذموم خیالات : ١۔ اہل کتاب کی کوشش ہے کہ مسلمان بہک جائیں۔ (آل عمران : ٦٩) ٢۔ اہل کتاب حقائق جاننے کے باوجود اللہ کی آیات کے منکر ہیں۔ (آل عمران : ٧٠) ٣۔ اہل کتاب جانتے ہوئے بھی حق کو باطل کے ساتھ ملاتے اور کتمان حق کرتے ہیں۔ (آل عمران : ٧١) ٤۔ اہل کتاب کا مسلمانوں کو ورغلانے کا عجب انداز۔ (آل عمران : ٧٢، ٧٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف جو عداوت دلوں میں چھپائے ہوئے تھے وہ نظریاتی عدوات تھی ، وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ یہ امت کبھی راہ راست پر آئے ۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ امت پوری قوت پورے یقین اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے نظریات کی طرف لوٹ آئے ۔ اس لئے ان کی تمام جدوجہد اس نکتے پر مرکوز ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات سے اس امت کو ادہر ادہر کردیں اور اسے صراط مستقیم سے پھیر دیں۔ وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ……………” اہل کتاب میں سے ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے۔ “ یہ ان کی نفسانی خواہش ہے ۔ ان کے دلوں کی تہہ میں یہ جذبہ چھپا ہوا ہے ۔ ان کی ہر سازش کے پیچھے ان کی یہ خواہش کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ان کی ہر تدبیر ‘ ہر بحث ‘ ہر مناظرہ اور ہر تلبیس کے پس پشت یہی خواہش کارفرما ہے اور ان لوگوں کی یہ خواہش محض دشمنی ‘ ہوائے نفس اور شرارت پر مبنی ہے ۔ اس لئے وہ صریح گمراہی ہے ۔ اس لئے کہ سچائی ‘ بھلائی اور ہدایت وخیر خواہی کے جذبات کے نتیجے میں اس قسم کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوتی اور وہ جب بھی اہل اسلام کی گمراہی کے لئے کوئی جدوجہد شروع کرتے ہیں ‘ اسی وقت وہ خود گمراہ ہوجاتے ہیں۔ وَمَا يُضِلُّونَ إِلا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ……………” حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ “ اور مسلمان جب تک اسلام پر قائم رہیں گے وہ اپنے ان دشمنوں کی تدابیر کا اچھی طرح مقابلہ کرسکیں گے ۔ اہل کفر ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ان کو سازشیوں کی سازشوں سے بچانے والا ہے اور جب تک وہ پکے مسلمان ہیں ان کی تدابیر کو اللہ خود ان کے خلاف الٹاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل کتاب کی خواہش کہ مسلمانوں کو گمراہ کریں ان آیات میں اول تو مسلمانوں کو یہ بتایا کہ اہل کتاب کا ایک گروہ ایسا ہے جو تمہیں گمراہ کرنے کے درپے ہے ان کی خواہش ہے کہ جس طرح ہو سکے تمہیں گمراہ کرلیں۔ کافروں کو یہ گوارا نہیں کہ تم اپنے دین پر رہو اور وہ اپنے دین پر رہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ۔ سورة بقرہ کے رکوع ١٣ میں گذر چکا ہے کہ اہل کتاب تمہیں مرتد بنانے کی آرزو رکھتے ہیں۔ (وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ ) اور سورة نساء میں فرمایا (وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَآءً ) (یعنی ان کی خواہش ہے کہ تم کافر ہوجاؤ جیسا کہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور ان کی خواہش ہے کہ تم اور وہ برابر ہوجائیں) اور سورة ممتحنہ میں فرمایا (وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ ) (اور ان کی خواہش ہے کہ کاش تم کافر ہوجاتے) زمانہ نبوت میں جو یہود و نصاریٰ اور مشرکین تھے ان کی یہ خواہش ہمیشہ رہی کہ مسلمان اپنا دین چھوڑ کر کفر اختیار کریں اور اس کے لیے تدبیریں کرتے رہے۔ ان کا ایسی تدبیریں کرنا خود ان ہی کی مزید گمراہی میں مبتلا ہونے اور کفر میں شدید ہونے کا ذریعہ بنتا رہا۔ اور ان کی اس کوشش کا و بال نہیں پڑا، آج بھی کافروں کی اس طرح کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے دلوں پر ایسے سیاہ پردے پڑے ہوئے ہیں کہ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ ہم گمراہی میں ترقی کر رہے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

95 لَوق مصدریہ ہے اور یہ وَدَّتْ کا مفعول ہے، یہود ونصاریٰ گمراہی میں اس قدر آگے نکل چکے تھے کہ ان میں سے کچھ لوگ تو مسلمانوں کو بھی اسلام سے برگشتہ کرنے کی کوشش میں مصروف تھے اور چاہتے تھے کہ مسلمانوں کو اسلام سے ہٹا کر اپنے دین پر لے آئیں۔ اسی لیے وہ یہ غلط پروپیگنڈا کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے دین پر تھے۔ 96 لیکن مسلمانوں کو تو وہ اسلام سے برگشتہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے اس لیے اپنا ہی نامہ اعمال سیاہ کر کے اپنی ہی عاقبت خراب کر رہے ہیں اور ان کی نادانی کا یہ عالم ہے کہ اس کا انہیں شعور تک نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi