Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 1

سورة الروم

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾

Alif, Lam, Meem.

الم

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: الم غُلِبَتِ الرُّومُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

سُوْرَۃُ الرُّوْمِ30یہ سورت مکی ہے اس میں 60 آیات اور 6 رکوع ہیں

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

تفسیر سورة الروم الۗمّۗ ۝ۚغُلِبَتِ الرُّوْمُ ۝ ۙفِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ ۔۔ : ” الم “ کے متعلق سورة بقرہ کی ابتدا ملاحظہ فرمائیں۔ سورۂ روم کی ان ابتدائی آیات میں دو ایسی پیش گوئیاں کی گئی ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی رسالت کے حق ہونے پر زبردست دلیل ہیں۔ ان میں سے پہلی پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج روم شکست کھا گیا ہے تو چند ہی سالوں میں روم پھر ایران پر غالب آجائے گا اور دوسری پیش گوئی یہ تھی کہ اگر آج مسلمان مشرکین مکہ کے ہاتھوں مظلوم و مقہور ہیں تو ان کو بھی اسی دن مشرکین مکہ پر غلبہ حاصل ہوگا جس دن روم ایران پر غالب آئے گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت عطا ہوئی تو اس وقت عرب کے اطراف میں دو بڑی طاقتیں موجود تھیں۔ ایک روم کی عیسائی حکومت، جو دو باتوں میں مسلمانوں سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ دونوں اہل کتاب تھے، دوسرے دونوں آخرت پر یقین رکھتے تھے، لہٰذا مسلمانوں کی ہمدردیاں انھی کے ساتھ تھیں۔ مسلمانوں کی عیسائی حکومت سے ہمدردی کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ اس زمانہ میں مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور قریشیوں کی مسلمانوں کو واپس لانے کی کوشش کے باوجود حبشہ کے عیسائی بادشاہ نے مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی اور قریش کی سفارت بری طرح ناکام ہوئی اور انھیں خالی ہاتھ وہاں سے آنا پڑا تھا۔ دوسری بڑی طاقت ایران کی تھی، جو دو وجہوں سے مشرکین مکہ سے قریب تھے۔ ایک یہ کہ ایرانی دو خداؤں کے قائل اور آتش پرست تھے اور مشرکین بت پرست تھے اور دوسرے یہ کہ دونوں آخرت کے منکر تھے۔ انھی وجوہ کی بنا پر مشرکین مکہ کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان چھ سو برس کا وقفہ تھا۔ [ دیکھیے بخاري، مناقب الأنصار، باب إسلام سلمان الفارسی (رض) : ٣٩٤٨ ] جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبوت ملی تو اس وقت روم و ایران میں جنگ شروع تھی اور اس کی خبریں مکہ میں بھی پہنچتی رہتی تھیں۔ جب ایران کی فتح کی کوئی خبر آتی تو مشرکین مکہ بغلیں بجاتے اور اس خبر کو اپنے حق میں نیک فال قرار دیتے اور کہتے کہ جس طرح ایران نے روم کا سر کچلا ہے، ایسے ہی ہم بھی کسی وقت مسلمانوں کا سر کچل دیں گے۔ اس جنگ میں ایرانیوں نے رومیوں کو فیصلہ کن شکست دی، جس کے نتیجے میں عرب کے ساتھ ملنے والے علاقوں میں روم کا اقتدار بالکل ختم ہوگیا۔ یہ خبر مشرکین کے لیے بڑی خوش کن اور مسلمانوں کے لیے بہت صدمے کا باعث تھی۔ مشرکین نے انھیں یہ کہہ کر چھیڑنا شروع کردیا کہ جس طرح ایران نے روم کو ختم کردیا ہے، ایسے ہی ہم بھی تمہیں مٹا ڈالیں گے۔ ایسے حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ اگرچہ بظاہر اہل روم کی فتح کے کوئی آثار نہیں تھے مگر مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی آیات پر پورا یقین تھا۔ اسی یقین کی بنیاد پر ابوبکر صدیق (رض) نے مشرکین کے ساتھ شرط بھی باندھ لی، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ مفسر ابن کثیر (رض) نے اس واقعہ کی تفصیل کے لیے بہت سی روایات نقل فرمائی ہیں، جن میں سے اکثر کی سند کمزور ہے۔ صرف دو روایتوں کی سند اچھی ہے، وہ یہاں نقل کی جاتی ہیں۔ پہلی روایت یہ کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” الۗمّۗ ۝ۚغُلِبَتِ الرُّوْمُ ۝ ۙفِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ “ کے متعلق فرمایا : ( غُلِبَتْ وَ غَلَبَتْ ) ” رومی مغلوب ہوگئے اور (پھر) غالب آگئے۔ “ اور فرمایا، مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس رومیوں پر غالب آئیں، کیونکہ مشرکین اور اہل فارس دونوں بت پرست تھے اور مسلمان پسند کرتے تھے کہ رومی فارس والوں پر غالب آئیں، کیونکہ وہ (رومی) اہل کتاب تھے۔ لوگوں نے ابوبکر (رض) سے اس بات کا ذکر کیا تو ابوبکر (رض) نے اس کا ذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَمَا إِنَّھُمْ سَیَغْلِبُوْنَ ) ” سن لو ! یقیناً وہ (رومی) غالب آئیں گے۔ “ ابوبکر (رض) نے یہ بات مشرکین کو بتائی تو وہ کہنے لگے : ” ہمارے اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کرلو، اگر ہم غالب آگئے تو ہمیں یہ کچھ ملے گا اور اگر تم غالب آگئے تو تمہیں یہ کچھ ملے گا۔ “ تو ابوبکر (رض) نے پانچ سال مدت مقرر کرلی۔ مگر رومی غالب نہ آئے، تو ابوبکر (رض) نے اس کا ذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے یہ مدت دس سے کم تک کیوں مقرر نہ کی۔ “ ابوسعید نے کہا ” اَلْبِضْعُ “ کا لفظ دس سے کم تک ہوتا ہے۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا، پھر بعد میں رومی غالب آگئے اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : (الۗمّۗ ۝ۚغُلِبَتِ الرُّوْمُ ۝ ۙفِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ ۝ ۙفِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ڛ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْۢ بَعْدُ ۭ وَيَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۝ ۙبِنَصْرِ اللّٰهِ ۭ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَاۗءُ ) سفیان نے فرمایا : ” میں نے سنا ہے کہ وہ ان پر بدر کے دن غالب آئے۔ “ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورة الروم : ٣١٩٣، و قال حسن صحیح غریب ] احمد شاکر نے مسند احمد (٢٤٩٥) کی تحقیق میں اسے صحیح کہا ہے اور شیخ البانی نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔ دوسری روایت یہ کہ نیار بن مکرم الاسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیات اتریں : (الۗمّۗ غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ) تو ان دنوں فارس کے لوگ رومیوں پر پوری طرح غالب تھے، لیکن مسلمان ان پر رومیوں کے غلبے کو پسند کرتے تھے، کیونکہ رومی اور مسلمان اہل کتاب تھے اور اللہ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : (وَيَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللّٰهِ ۭ يَنْصُرُ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ ) جبکہ قریش فارس کے غلبے کو پسند کرتے تھے، کیونکہ مشرکین اور فارس والے اہل کتاب نہیں تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتاریں تو ابوبکر (رض) نکلے اور مکہ کے کناروں میں چیخ چیخ کر یہ آیات سنانے لگے : (الۗمّۗ ۝ۚغُلِبَتِ الرُّوْمُ ۝ ۙفِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ ۝ ۙفِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ) قریش کے کچھ لوگوں نے ابوبکر (رض) سے کہا، ہمارے تمہارے درمیان یہ بات طے ہوگئی، تمہارے ساتھی کا گمان ہے کہ روم فارس پر ” بضع سنین “ (چند سالوں) میں غالب آجائیں گے، تو کیا ہم اس پر تمہارے ساتھ شرط نہ رکھ لیں ؟ ابوبکر (رض) نے کہا، کیوں نہیں ! اور یہ جوئے کی شرط حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ تو ابوبکر (رض) اور مشرکین نے شرط باندھ لی اور شرط کی مقدار طے کرلی۔ انھوں نے ابوبکر (رض) سے کہا، بتاؤ کتنی مدت مقرر کرتے ہو۔” بِضْعٌ“ تین سال سے نو سال تک ہوتا ہے، تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک اوسط وقت مقرر کرلو جہاں مدت پوری ہوجائے، تو انھوں نے چھ سال کی مدت مقرر کرلی۔ پھر یہ ہوا کہ رومیوں کے غالب آنے سے پہلے چھ سال گزر گئے، تو مشرکین نے ابوبکر (رض) سے طے شدہ شرط وصول کرلی۔ لیکن جب ساتواں سال شروع ہوا تو رومی اہل فارس پر غالب آگئے، تو اس پر مسلمانوں نے ابوبکر (رض) کا چھ سال مقرر کرنا ان کا قصور قرار دیا کہ انھوں نے چھ سال کی مدت کیوں مقرر کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ” بضع “ کا لفظ فرمایا ہے، جو نو (٩) سال تک پر بولا جاتا ہے اور اس وقت بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے۔ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورة الروم : ٣١٩٤، و قال حدیث حسن صحیح غریب وقال الألباني حسن ] ان دونوں صحیح حدیثوں سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں، پہلی یہ کہ جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں رومی اس وقت بری طرح سے مغلوب تھے کہ تمام لوگوں کی نگاہوں میں چند سالوں کے اندر ان کا غالب آنا ممکن نہیں تھا۔ دوسری یہ کہ ابوبکر (رض) کا اللہ تعالیٰ کی آیات پر اتنا مضبوط ایمان تھا کہ ظاہری اسباب کے بالکل مخالف ہونے کے باوجود انھوں نے ان کے سچا ہونے پر مشرکین کے ساتھ شرط طے کرلی۔ تیسری یہ کہ امت کے بڑے سے بڑے شخص سے بھی اجتہاد میں خطا ہوسکتی ہے۔ امت مسلمہ میں ابوبکر (رض) سے عظیم شخصیت کوئی نہیں، لیکن یہاں ان سے مدت کی تعیین میں خطا ہوگئی، مگر اپنے اجتہاد کے خطا ثابت ہونے پر بھی ان کے اللہ کی آیات پر ایمان میں کوئی کمی نہیں آئی۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (رح) نے ایک مقام پر فرمایا ہے کہ ابوبکر (رض) کو اللہ تعالیٰ نے ایسی درست رائے سے نوازا تھا کہ ان کی خطا پکڑنا بہت ہی مشکل ہے، مگر ان سے بھی خطا ہوجاتی تھی، پھر انھوں نے ان کی خطا کی مثال کے لیے صحیح بخاری سے ابن عباس (رض) کی روایت بیان کی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : ” آج رات میں نے خواب میں ایک سائبان دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے، میں لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ اسے اپنی ہتھیلیوں میں لے رہے ہیں، کوئی زیادہ لینے والا ہے اور کوئی کم لینے والا۔ پھر اچانک ایک رسی آسمان سے زمین تک آ ملی، تو میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گئے۔ پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا، وہ اس کے ساتھ چڑھ گیا، پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا وہ بھی اوپر چڑھ گیا۔ پھر وہ کٹ گئی، پھر دوبارہ مل گئی۔ “ ابوبکر (رض) نے کہا : ” یا رسول اللہ ! میرا باپ آپ پر قربان، آپ کو اللہ کی قسم ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر کروں۔ “ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس کی تعبیر کرو۔ “ انھوں نے کہا : ” وہ سائبان تو اسلام ہے اور جو شہد اور گھی ٹپک رہا ہے وہ قرآن کی حلاوت ہے، جو ٹپک رہی ہے۔ پھر کوئی قرآن سے زیادہ حاصل کرنے والا ہے اور کوئی کم حاصل کرنے والا ہے۔ رہی وہ رسی جو آسمان سے زمین تک ملی ہوئی ہے، تو اس سے مراد وہ حق ہے جس پر آپ قائم ہیں، آپ اسے پکڑے رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو بلند کرے گا، پھر آپ کے بعد اسے ایک اور آدمی پکڑے گا اور اس کے ساتھ بلند ہوجائے گا، پھر ایک اور آدمی اسے پکڑے گا اور اس کے ساتھ بلند ہوجائے گا، پھر ایک اور آدمی اسے پکڑے گا تو اس کے ساتھ وہ کٹ جائے گی، پھر اس کے لیے ملا دی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ بلند ہوجائے گا۔ یا رسول اللہ ! میرا باپ آپ پر قربان، مجھے بتائیے ! میں نے درست کہا یا خطا کی ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے کچھ درست کہا، کچھ خطا کی۔ “ انھوں نے کہا : ” آپ کو اللہ کی قسم ہے ! آپ مجھے وہ ضرور بتائیں جو میں نے خطا کی ہے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قسم مت ڈالو۔ “ [ بخاري، التعبیر، باب من لم یر الرؤیا الأوّل عابر إذا لم یصب : ٧٠٤٤ ] زیر تفسیر آیت میں ” بضع سنین “ کی تعیین میں بھی ابوبکر (رض) سے خطا ہوگئی۔ جب امت کے سب سے بڑے شخص سے خطا ہوسکتی ہے تو ان ائمہ سے خطا کیوں نہیں ہوسکتی جن کی تقلید میں لوگوں نے اسلام میں چار فرقے بنا رکھے ہیں، جو ابوبکر (رض) کے برابر تو کجا صحابی یا تابعی بھی نہیں ہیں اور جن کی بہت سی اجتہادی خطائیں ان کے شاگردوں نے بھی بیان کی ہیں اور جو وحی کے شرف کے حامل بھی نہ تھے کہ وحی کے ذریعے سے ان کی خطا کی اصلاح ہوجاتی ہو۔ اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ امتیوں کے اجتہادات و آراء کو دین سمجھنے کے بجائے صرف کتاب و سنت کو لازم پکڑیں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جو خطا سے پاک ہیں، فرمایا : (اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ ) [ الأعراف : ٣ ] ” اس کے پیچھے چلو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ “ چوتھی بات یہ کہ ان دونوں روایتوں میں سے ایک میں پانچ سال کی مدت مقرر کرنے کا ذکر ہے اور دوسری میں چھ سال کا۔ اس کے باوجود ائمہ حدیث نے دونوں کو صحیح کہا ہے اور اس اختلاف کو روایتوں کے ضعف کا باعث نہیں سمجھا، کیونکہ اصل مقصود دونوں کا ایک ہے کہ ابوبکر (رض) نے جو مدت طے کی تھی وہ ” بضع سنین “ کی اصل مراد سے کم تھی۔ 3 ابن کثیر (رض) نے ابن ابی حاتم اور ابن جریر سے دو روایتیں نقل کی ہیں، جن میں ذکر ہے کہ جب ابوبکر (رض) کی طے کردہ مدت میں رومی غالب نہ آئے اور مشرکین نے ابوبکر (رض) سے شرط کی رقم لے لی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہنے پر کہ ” بِضْعٌ“ سے مراد نو (٩) سال تک ہوتے ہیں، ابوبکر (رض) نے دوبارہ مشرکین سے شرط لگائی، جس میں مدت زیادہ کی اور شرط کی رقم بھی زیادہ کی۔ چناچہ نو سال پورے ہونے سے پہلے رومی فارسیوں پر غالب آگئے اور ابوبکر (رض) نے ان سے شرط کی رقم وصول کرلی۔ ممکن ہے ایسا ہوا ہو، کیونکہ صحیح روایات میں اور ان میں کوئی تعارض نہیں۔ مگر سند کی رو سے یہ روایات پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔ اس مقام پر ابن کثیر (رح) نے رومیوں کے فارسیوں پر غالب آنے کے واقعات کی مزید کچھ تفصیل بیان کی ہے، مگر اسے غریب ترین قرار دیا ہے۔ ہمارے بعض اردو مفسرین نے بعض انگریز مؤرخین سے لمبی تفصیل ذکر کی ہے، مگر ان تمام تفصیلات کی کوئی پکی سند ہے نہ کوئی معتبر ذریعہ۔ قرآن کی تفسیر کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے جو قرآن مجید اور صحیح روایات سے ثابت ہے۔ اور یہ کوئی کم عجیب نہیں کہ وہ بات جس کا ہونا لوگوں کی نگاہ میں ممکن ہی نہ تھا، اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی اس کی پیش گوئی فرما دی اور ظاہری اسباب میں سے کوئی سبب موجود نہ ہونے کے باوجود چند ہی سالوں میں وہ رومی دوبارہ غالب آگئے جو بری طرح مغلوب تھے۔ فِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ : ” سب سے قریب زمین “ سے مراد جزیرۂ عرب کی قریب ترین زمین ہے۔ یہ ” اذرعات “ اور ” بصریٰ “ کے درمیان کا خطہ ہے، جو شام کی سرحد پر حجاز سے ملتا ہوا مکہ کے قریب واقع ہے۔ فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ : یہاں ایک سوال ہے کہ متعین وقت بتانے کے بجائے ” بضع “ کا لفظ بولنے میں کیا حکمت ہے ؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یقیناً اللہ تعالیٰ کو وہ سال، وہ مہینا اور وہ وقت معلوم تھا جس میں روم نے فارس پر غالب آنا تھا مگر اس وقت خبروں کا دوسرے مقامات پر پہنچنا اس طرح تیز رفتار نہ تھا جس طرح آج کل ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ متعین وقت بتادیتا، پھر کسی مقام پر اطلاع پہنچنے میں دیر ہوجاتی تو وہاں کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب پر طعن کا موقع مل سکتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مدت کی تعیین کے لیے ایسا لفظ استعمال فرمایا جس سے اس بات کا امکان ہی نہ رہا اور ہر شخص کو قرآن کی پیش گوئی کا حق ہونا ثابت ہوگیا۔ اس کے علاوہ وہ وقت تھوڑا مخفی رکھنے میں یہ حکمت بھی تھی کہ اس غلبے کے انتظار میں مسلمانوں کے حوصلے بلند رہیں کہ اب غلبہ ہوا اور اب ہوا۔ اگر متعین وقت بتادیا جاتا تو اتنی مدت تک حوصلے ٹوٹے رہتے۔ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْۢ بَعْدُ : ” الْاَمْرُ “ سے مراد اللہ کا تکوینی امر ہے، یعنی اس کا ” کُنْ “ کہنا، جس سے ہر کام ہوجاتا ہے۔ یعنی روم کے مغلوب ہونے سے پہلے بھی ہر کام صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں تھا اور رومیوں کے چند سالوں میں غالب آنے کے بعد بھی ہر کام اسی کے اختیار میں ہے۔ اس میں یہ بھی سبق ہے کہ کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ فلاں کی تدبیر کی وجہ سے اسے فتح ہوئی اور فلاں کی کوتاہی کی وجہ سے اسے شکست ہوئی۔ نہیں ! وہ تدبیر یا کوتاہی بھی اسی کی تقدیر میں طے شدہ ہے۔ اسی طرح کوئی یہ نہ سمجھے کہ آسمان کی گردش یا سورج، چاند یا کسی ستارے کی تاثیر سے ایسا ہوا، نہیں ! جو ہوا پہلے بھی اللہ کے حکم سے ہوا اور بعد میں بھی اسی کے حکم سے ہوگا۔ سورج، چاند، ستاروں یا آسمان کی گردش کا کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے ابراہیم (رض) کی وفات کے دن سورج گرہن ہوا تو بعض لوگوں نے کہا کہ ابراہیم (رض) کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن ہوا ہے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَیَاتِہِ ، وَلٰکِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَات اللّٰہِ ، فَإِذَا رَأَیْتُمُوْہُمَا فَصَلُّوْا ) [ بخاري، الکسوف، باب لا تنکسف الشمس لموت أحد ولا لحیاتہ : ١٠٥٧ ] ” سورج اور چاند نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، بلکہ وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، تو جب ان دونوں کو دیکھو تو نماز پڑھو۔ “ وَيَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۝ ۙبِنَصْرِ اللّٰهِ : ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : ” جب بدر کا دن ہوا تو رومی فارس پر غالب ہوئے اور مسلمانوں کو اس سے خوشی ہوئی اور یہ آیات نازل ہوئیں : (الۗمّۗ ۝ۚغُلِبَتِ الرُّوْمُ ۝ ۙفِيْٓ اَدْنَى الْاَرْضِ وَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُوْنَ ۝ ۙفِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ ڛ لِلّٰهِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْۢ بَعْدُ ۭ وَيَوْمَىِٕذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ۝ ۙبِنَصْرِ اللّٰهِ ) (ابو سعید (رض) نے) فرمایا : ” تو مسلمان روم کے فارس پر غالب آنے سے خوش ہوئے۔ “ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورة الروم : ٣١٩٢، و قال حسن غریب و قال الألباني صحیح لغیرہ ] ابو سعید خدری (رض) کی اس روایت اور سفیان ثوری اور بہت سے اہل علم کے قول کے مطابق روم کو فارس پر یہ غلبہ اس روز حاصل ہوا جس روز مسلمان بدر میں مشرکین پر فتح یاب ہوئے۔ مفسر رازی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ویومئذ یفرح المومنون “ (اور اس دن مومن اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے) سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس دن مومن روم کی فارس پر فتح کی خبر سے خوش ہوں گے اور یہ بھی کہ اس دن مومن مشرکین کے خلاف اللہ کی نصرت اور بدر کی فتح پر خوش ہوں گے۔ مگر راجح یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جس دن اہل روم فارس پر غالب آئیں گے اس دن مسلمان مشرکین پر فتح یابی اور اللہ کی نصرت سے خوش ہوں گے، کیونکہ بدر کے دن مسلمانوں کو اپنی فتح پر خوشی ہوئی تھی اور کسی روایت میں ذکر نہیں کہ روم کی فتح یابی کی خبر عین بدر کے دن پہنچی تھی۔ گویا اس آیت میں دو خوش خبریاں ہیں، ایک روم کا چند سالوں میں فارس پر غالب آنا اور ایک اس دن مسلمانوں کا مشرکین پر غلبے سے خوش ہونا اور سب جانتے ہیں کہ دونوں بشارتیں پوری ہوئیں۔ بعض تابعین کا خیال ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر فتح صلح حدیبیہ کے بعد ہوئی۔ ان کا استدلال اس واقعہ سے ہے کہ قیصر روم نے منت مانی تھی کہ جب وہ فتح یاب ہوگا تو حمص سے پیدل چل کر ایلیا (بیت المقدس) جائے گا۔ چناچہ جب وہ ایلیا آیا تو ابھی واپس نہیں ہوا تھا کہ اسے دحیہ بن خلیفہ (رض) کے ذریعے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ خط ملا جو آپ نے اس کے نام صلح حدیبیہ کے بعد لکھا تھا۔ اس کے بعد اس نے ابو سفیان کو بلایا (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور شام میں تجارت کی غرض سے آئے ہوئے تھے) اور ان سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں مختلف سوالات کیے، جیسا کہ صحیح بخاری میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رومیوں کو ایرانیوں پر فتح بھی اسی سال ہوئی، لیکن اس کا جواب یہ دیا جاسکتا ہے کہ رومیوں کو پہلی فتح تو بدر کے دن ہوئی، مگر دشمن کی فوجوں کی مکمل صفائی اور تمام علاقوں کے مکمل بندوبست کے بعد منت پوری کرنے کی نوبت چار سال بعد صلح حدیبیہ کے سال آئی۔ (واللہ اعلم) يَنْصُرُ مَنْ يَّشَاۗءُ : آپس میں لڑنے والے کفار میں سے جس کی چاہتا ہے مدد کردیتا ہے اور مسلمانوں اور کافروں کی لڑائی میں بھی جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے۔ نہ فتح یاب کرنا اس کے راضی ہونے کی دلیل ہے اور نہ شکست دینا اس کی ناراضی کی دلیل ہے۔ دونوں صورتوں میں وہ آدمی کو آزماتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاۗءَ ) [ آل عمران : ١٤٠ ] ” اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو جان لے جو ایمان لائے اور تم میں سے بعض کو شہید بنائے۔ “ اور فرمایا : (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْر) [ آل عمران : ٢٤ ] ” کہہ دے اے اللہ ! بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہے بادشاہی دیتا ہے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لیتا ہے اور جسے چاہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کردیتا ہے، تیرے ہی ہاتھ میں ہر بھلائی ہے، بیشک تو ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ “ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : اور وہی عزیز (سب پر غالب) ہے، جسے وہ نصرت سے نواز دے پھر کوئی اس پر فتح نہیں پاسکتا، مگر اس کا غلبہ بےرحم نہیں، بلکہ وہ رحیم (بےحد رحم والا) ہے، جب چاہتا ہے مغلوب اور شکست خوردہ لوگوں کو پھر فتح سے ہمکنار کردیتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خلاصہ تفسیر الۗمّۗ، (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) اہل روم ایک قریب کے موقع میں (یعنی ارض روم کے ایسے مقام میں جو بہ نسبت فارس کے عرب سے قریب تر ہے، مراد اس سے اذرعات و بصری ہے، جو ملک شام میں دو شہر ہیں۔ کذا فی القاموس، اور حکومت روم کے تحت میں ہونے سے ارض روم میں داخل ہیں۔ اس موقع پر اہل روم اہل فارس کے مقابلہ میں) مغلوب ہوگئے (جس سے مشرکین خوش ہوئے) اور وہ (رومی) اپنے (اس) مغلوب ہونے کے بعد عنقریب (اور یہ مغلوب اور غالب ہونا سب خدا کی طرف سے ہے، کیونکہ مغلوب ہونے سے) پہلے بھی اختیار اللہ ہی کو تھا (جس سے مغلوب کردیا تھا) اور (مغلوب ہونے سے) پیچھے بھی (اللہ ہی کو اختیار ہے جس سے غالب کر دے گا) اور اس روز (یعنی جب اہل روم غالب آئیں گے) مسلمان اللہ تعالیٰ کی اس امداد پر خوش ہوں گے (امداد سے یا تو یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے قول میں سچا اور غالب فرما دے گا۔ کیونکہ اس پیشنگوئی کو مسلمانوں نے کفار پر ظاہر کیا اور انہوں نے تکذیب کی تو اس کے وقوع سے مسلمانوں کی جیت ہوجائے گی اور یا یہ مراد ہے کہ مسلمانوں کو مقاتلہ میں بھی غالب کر دے گا۔ چناچہ وہ وقت جنگ بدر میں منصور ہونے کا تھا اور ہر حال میں نصرت کا محل اہل اسلام ہی ہیں اور مسلمانوں کی حالت ظاہری مغلوبیت کی دیکھ کر یہ بات مستبعد نہ سمجھی جائے کہ یہ مغلوب مسلمان مقابلہ کے وقت کفار پر غالب آجائیں گے، کیونکہ نصرت اللہ کے قبضے میں ہے) وہ جس کو چاہے غالب کردیتا ہے اور وہ زبردست ہے (کفار کو جب چاہے قولاً یا فعلاً مغلوب کرا دے اور) رحیم (بھی) ہے (مسلمانوں کو جب چاہے قولاً یا فعلاً مغلوب کرا دے اور) رحیم (بھی) ہے (مسلمانوں کو جب چاہے غالب کر دے) اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہے (اور) اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کو خلاف نہیں فرماتا (اس واسطے یہ پیشنگوئی ضرور واقع ہوگی) و لیکن اکثر لوگ (اللہ تعالیٰ کے تصرفات کو) نہیں جانتے (بلکہ صرف ظاہری اسباب کو دیکھ کر ان اسباب پر حکم لگا دیتے ہیں، اس لئے اس پیشنگوئی میں استبعاد کرتے ہیں، حالانکہ مسبب الاسباب اور مالک اسباب حق تعالیٰ ہے اس کو اسباب بدلنا بھی آسان ہے اور اسباب کے خلاف مسبب کا واقع کرنا بھی آسان۔ اور جس طرح پیشنگوئی کے واقع ہونے سے پہلے اسباب ظاہرہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کا انکار کرتے ہیں اسی طرح پیشین گوئی کو پورا ہوتا ہوا دیکھ کر بھی اس کو ایک اتفاقی امر قرار دیتے ہیں، وعدہ الہیہ کا ظہور نہیں سمجھتے اس لئے لفظ لَا يَعْلَمُوْنَ میں یہ دونوں چیزیں آگئیں ان لوگوں کا اللہ تعالیٰ اور نبوت سے غافل و جاہل رہنا اس سبب سے ہے کہ) یہ لوگ صرف دنیوی زندگانی کی ظاہر (حالت) کو جانتے ہیں اور یہ لوگ آخرت سے (بالکل ہی) بیخبر ہیں (کہ وہاں کیا ہوگا، اس لئے ان کو دنیا میں نہ اسباب عذاب سے بچنے کی فکر ہے نہ اسباب نجات ایمان اور عمل صالح کی تلاش ہے۔ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 4 سورة الروم بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝ الۗمّۗ۝ ١ۚ غُلِبَتِ الرُّوْمُ۝ ٢ۙ غلب الغَلَبَةُ القهر يقال : غَلَبْتُهُ غَلْباً وغَلَبَةً وغَلَبا ، فأنا غَالِبٌ. قال تعالی: الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] ( غ ل ب ) الغلبتہ کے معنی قہرا اور بالادستی کے ہیں غلبتہ ( ض ) غلبا وغلبتہ میں اس پر مستول اور غالب ہوگیا اسی سے صیغہ صفت فاعلی غالب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ الم غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ [ الروم/ 1- 2- 3] الم ( اہل ) روم مغلوب ہوگئے نزدیک کے ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہوجائیں گے روم الم غُلِبَتِ الرُّومُ [ الروم/ 1- 2] ، يقال مرّة للجیل المعروف، وتارة لجمع رُومِيٍّ کالعجم .

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١ تا ٥) الم۔ اس کے معنی اللہ ہی کو معلوم ہیں وہ ہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے یا یہ کہ ایک قسم کے طور پر ہے۔ اہل روم فارس کے ایک قریبی علاقہ میں مغلوب ہوگئے یہ خبر سن کر مسلمانوں کو پریشانی ہوئی اور مشرکین اس سے بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمھی ایمان والوں پر غالب آجائیں گے جیسا کہ فارس والوں نے رومیوں پر غلبہ کرلیا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور وہ رومی فارس سے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب سات سالہ عرصہ میں دوبارہ فارس پر غالب آجائیں گے۔ اور اس غلبہ کی پیش گوئی پر حضرت ابوبکر صدیق نے ابی بن خلف جمحی سے دس اونٹوں پر پہلے (اور پھر بعد میں سو پر) معاہدہ کرلیا تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

سورة الروم : نام: پہلی ہی آیت کے لفظ غُلِبَتِ الرُّوْمُ سے ماخوذ ہے ۔ زمانہ نزول: آغاز ہی میں جس تاریخی واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے زمانہ نزول قطعی طور پر متعین ہوجاتا ہے ۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ قریب کی سرزمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں ۔ اس زمانے میں عرب سے متصل رومی مقبوضات اردن ، شام اور فلسطین تھے اور ان علاقوں میں رومیوں پر ایرانیوں کا غلبہ 615 ء میں مکمل ہوا تھا ۔ اس لیے پوری صحت کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سورہ اسی سال نازل ہوئی تھی ، اور یہ وہی سال تھا جس میں ہجرت حبشہ واقعہ ہوئی ۔ تاریخی پس منظر: جو پیشین گوئی اس سورے کی ابتدائی آیات میں کی گئی ہے وہ قرآن مجید کے کلام الہی ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول برحق ہونے کی نمایاں ترین شہادتوں میں سے ایک ہے ۔ اسے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان تاریخی واقعات پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالی جائے تو ان آیات سے تعلق رکھتے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے 8 سال پہلے کا واقعہ ہے کہ قیصر روم ماریس ( Mauric ) کے خلاف بغاوت ہوئی اور ایک شخس فوکاس ( Phocas ) تخت سلطنت پر قابض ہوگیا ۔ اس شخس نے پہلے تو قیصر کی آنکھوں کے سامنے اس کے پانچ بیٹوں کو قتل کرایا ، پھر خود قیصر کو قتل کرا کے باپ بیٹوں کے سر قسطنطنیہ میں برسر عام لٹکوا دیے اور اس کے چند روز بعد اس کی بیوی اور تین لڑکیوں کو بھی مروا ڈالا ۔ اس واقعہ سے ایران کے بادشاہ خسرو پرویز کور وم پر حملہ آور ہونے کے لیے بہترین اخلاقی بہانہ مل گیا ۔ قیصر ماریس اس کا محسن تھا ۔ اسی کی مدد سے پرویز کو ایران کا تخت نصیب ہوا تھا ۔ اسے وہ اپنا باپ کہتا تھا ۔ اس بنا پر اس نے اعلان کیا کہ میں غاصب فوکاس سے اس ظلم کا بدلہ لوں گا جو اس نے میرے مجازی باپ اور اس کی اولاد پر ڈھایا ہے ۔ 603ء میں اس نے سلطنت روم کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور چند سال کے اندر وہ فوکاس کی فوجوں کو پے در پے شکستیں دیتا ہوا ایک طرف ایشیائے کوچک میں ایڈیسا موجودہ اور فاتک اور دوسری طرف شام میں حلب اور انطاکیہ تک پہنچ گیا ۔ روم کے اعیان سلطنت یہ دیکھ کر کہ فوکاس ملک کو نہیں بچا سکتا ، افریقہ کے گورنر سے مدد کے طالب ہوئے ۔ اس نے اپنے بیٹے ہرقل ( Heraclius ) کو ایک طاقت اور بیڑے کے ساتھ قسطنطنیہ بھیج دیا ۔ اس کے پہنچتے ہی فوکاس معزول کردیا گیا ، اس کی جگہ ہرقل قیصر بنایا گیا ، اور اس نے برسر اقتدار آکر فوکاس کے ساتھ وہی کچھ کیا جو اس نے ماریس کے ساتھ کیا تھا ۔ یہ 610ء کا واقعہ ہے ، اور یہ وہی سال ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے منصب نبوت پر سرفراز ہوئے ۔ خسرو پرویز نے جس اخلاقی بہانے کو بنیاد بنا کر جنگ چھیڑی تھی ، فوکاس کے عزل اور قتل کے بعد وہ ختم ہوچکا تھا ، اگر واقعی اس کی جنگ کا مقصد غاصب فوکاس سے اس کے ظلم کا بدلہ لینا ہوتا تو اس کے مارے جانے پر اسے نئے قیصر سے صلح کرلینی چاہیے تھی ۔ مگر اس نے پھر بھی جنگ جاری رکھی ، اور اب اس جنگ کو اس نے مجوسیت اور مسیحیت کی مذہبی جنگ کا رنگ دے دیا ۔ عیسائیوں کے جن فرقوں کو رومی سلطنت کے سرکاری کلیسا نے ملحد قرار دے کر سالہا سال سے تختہ مشق ستم بنا رکھا تھا ( یعنی نسطوری اور یعقوبی وغیرہ ) ان کی ساری ہمدردیاں بھی مجوسی حملہ آوروں کے ساتھ ہوگئیں ۔ اور یہودیوں نے بھی مجوسیوں کا ساتھ دیا ، حتی کہ خسرو پرویز کی فوج میں بھرتی ہونے والے یہودیوں کی تعداد 26 ہزار تک پہنچ گئی ۔ ہرقل آکر اس سیلاب کو نہ روک سکا ۔ تخت نشین ہوتے ہی پہلی اطلاع جو اسے مشرق سے ملی وہ انطاکیہ پر ایرانی قبضے کی تھی ۔ اس کے بعد 613ء میں دمشق فتح ہوا ۔ پھر 614ء میں بیت المقدس پر قبضہ کر کے ایرانیوں نے مسیحی دنیا پر قیامت ڈھا دی ۔ 90 ہزار عیسائی اس شہر میں قتل کیے گئے ۔ ان کا سب سے زیادہ مقدس کلیسا ، کینسۃ القیامہ ( Holy Sepulchre ) برباد کردیا گیا ۔ اصلی صلیب جس کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ اسی پر مسیح نے جان دی تھی ، مجوسیوں نے چھین کر مدائن پہنچا دی ۔ لاٹ پادری زکریا کو بھی وہ پکڑ لے گئے اور شہر کے تمام بڑے بڑے گرجوں کو انہوں نے مسمار کردیا ۔ اس فتح کا نشہ جس بری طرح خسرو پرویز پر چڑھا تھا اس کا اندازہ اس خط سے ہوتا ہے جو اس نے بیت المقدس سے ہرقل کو لکھا تھا اس میں وہ کہتا ہے: سب خداؤں سے بڑے خدا ، تمام روئے زمین کے مالک خسرو کے طرف سے اس کے کمیضہ اور بے شعور بندے ہرقل کے نام ، تو کہتا ہے کہ تجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے ، کیوں نہ تیرے رب نے یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا لیا ؟ اس فتح کے بعد ایک سال کے اندر اندر ایرانی فوجیں اردن ، فلسطین اور جزیرہ نمائے سینا کے پورے علاقے پر قابض ہوکر حدود مصر تک پہنچ گئیں ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ معظمہ میں ایک اور اس سے بدرجہا زیادہ تاریخی اہمیت رکھنے والی جنگ برپا تھی ۔ یہاں توحید کے علمبردار سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں ، اور شرک کے پیروکار سرداران قریش کی رہنمائی میں ایک دوسرے سے برسر جنگ تھے ، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ 615ء میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر حبش کی عیسائی سلطنت میں ( جو روم کی حلیف تھی ) پناہ لینی پڑی ۔ اس وقت سلطنت روم پر ایران کے غلبے کا چرچا ہر زبان پر تھا ۔ مکے کے مشرکین اس پر بغلیں بجا رہے تھے اور مسلمانوں سے کہتے تھے کہ دیکھو ایران کے آتش پرست فتح پا رہے ہیں اور وحی و رسالت کے ماننے والے عیسائی شکست پر شکست کھاتے چلے جارہے ہیں ۔ اسی طرح ہم عرب کے بت پرست بھی تمہیں اور تمہارے دین کو مٹا کر رکھ دیں گے ۔ ان حالات میں قرآن مجید کی یہ سورۃ نازل ہوئی اور اس میں یہ پیشین گوئی کی گئی کہ قریب کی سرزمین میں رومی مغلوب ہوگئے ہیں ، مگر اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر ہی وہ غالب آجائیں گے ، اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی دی ہوئی فتح سے اہل ایمان کوش ہو رہے ہوں گے ۔ اس میں ایک کے بجائے دو پیشین گوئیاں تھیں ۔ ایک یہ کہ رومیوں کو غلبہ نصیب ہوگا ۔ دوسری یہ کہ مسلمانوں کو بھی اسی زمانے میں فتح حاصل ہوگی ۔ بظاہر دور دور تک کہیں اس کے آثار موجود نہ تھے کہ ان میں سے کوئی ایک پیشین گوئی بھی چند سال کے اندر پوری ہوجائے گی ۔ ایک طرف مٹھی بھر مسلمان تھے جو مکے میں مارے اور کھدیڑے جارہے تھے اور اس پیشین گوئی کے بعد بھی آٹھ سال تک ان کے لیے غلبہ و فتح کا کوئی امکان کسی کو نظر نہ آتا تھا ۔ دوسری طرف روم کی مغلوبیت روز بروز بڑھتی چلی گئی ۔ 619ء تک پورا مصر ایران کے قبضہ میں چلا گیا اور مجوسی فوجوں نے طرابلس کے قریب پہنچ کر اپنے جھنڈے گاڑ دیے ۔ ایشیائے کوچک میں ایرانی فوجیں رومیوں کو مارتی دباتی باسفورس کے کنارے تک پہنچ گئے اور 617ء میں انہوں نے عین قسطنطنیہ کے سامنے خلقدون ( Chalcedon موجودہ قاضی کوئی ) پر قبضہ کرلیا ۔ قیصر نے خسرو کے پاس ایلچی بھیج کر نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست کی کہ میں ہر قیمت پر صلح کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ مگر اس نے جواب دیا کہ اب میں قیصر کو اس وقت تک امان نہ دوں گا جب تک وہ پابزبخیر میرے سامنے حاضر نہ ہو اور اپنے خدائے مصلوب کو چھوڑ کر خداوند آتش کی بندگی نہ اختیار کرلے ۔ آخر کار قیصر اس حد تک شکست خوردہ ہوگیا کہ اس نے قسطنطنیہ چھوڑ کر قرطاجنہ ( Carthage موجودہ ٹیونس ) منتقل ہوجانے کا ارادہ کرلیا ۔ غرض انگریز مورخ گبن کے بقول ، قرآن مجید کی اس پیشین گوئی کے بعد بھی سات آٹھ برس تک حالات ایسے تھے کہ کوئی شخس یہ تصور تک نہ کرسکتا تھا کہ رومی سلطنت ایران پر غالب آجائے گی ، بلکہ غلبہ تو درکنار اس وقت تو کسی کو یہ امید بھی نہ تھی کہ اب یہ سلطنت زندہ رہ جائے گی ۔ قرآن کی یہ آیات جب نازل ہوئیں تو کفار مکہ نے ان کا خوب مذاق اڑایا اور ابی بن خلف نے حضرت ابوبکر سے شرط بدی کہ اگر تین سال کے اندر رومی غالب آگئے تو دس اونٹ میں دوں گا ورنہ دس اونٹ تم کو دینے ہوں گے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شرط کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن میں فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ کے الفاظ آئے ہیں ، اور عربی زبان میں بضع کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے ، اس لیے دس سال کے اندر کی شرط کرو اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر سو کردو ۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے ابی سے پھر بات کی اور نئے سرے سے یہ شرط طے ہوئے کہ دس سال کے اندر فریقین میں سے جس کی بات غلط ثابت ہوگی وہ سو اونٹ دے گا ۔ 622ء میں ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے اور ادھر قیصر ہرقل خاموشی کے ساتھ قسطنطنیہ سے بحر اسود کے راستے طرابزون کی طرف روانہ ہوا ، جہاں اس نے ایران پر پشت کی طرف سے حملہ کرنے کی تیاری کی ۔ اس جوابی حملے کی تیاری کے لیے قیصر نے کلیسا سے روپیہ مانگا اور مسیحی کلیسا کے اسقف اعظم سرجیس ( Sergius ) نے مسیحیت کو مجوسیت سے بچانے کے لیے گرجاؤں کے نذرانوں کی جمع شدہ دولت سود پر قرض دی ۔ ہرقل نے اپنا حملہ 623ء میں ارمینیا سے شروع کیا اور دوسرے سال 624ء میں اس نے آذر بیجان میں گھس کر زرتشت کے مقام پیدائش ارمیاہ ( Clorumia ) کو تباہ کردیا اور برائیوں کے سب سے بڑے آتش کدے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ خدا کی قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ یہی وہ سال تھا جس میں مسلمانوں کو بدر کے مقام پر پہلی مرتبہ مشرکین کے مقابلے میں فیصلہ کن فتح نصیب ہوئی ۔ اس طرح وہ دونوں پیشین گوئیاں جو سورہ روم میں کی گئی تھیں دس سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے بیک وقت پوری ہوگئیں ۔ پھر روم کی فوجیں ایرانیوں کو مسلسل دباتی چلی گئیں ۔ نینوی کی فیصلہ کن لڑائی 627ء میں انہوں نے سلطنت ایران کی کمر توڑ دی ۔ اس کے بعد شاہان ایران کی قیام گاہ دستگرد ( دسکرۃ الملک ) کو تباہ کردیا گیا اور آگے بڑھ کر ہرقل کے لشکر عین طیسفون ( Ctesiphon ) کے سامنے پہنچ گئے جو اس وقت ایران کا دار السلطنت تھا ۔ 628ء میں خسرو پرویز کے خلاف گھر میں بغاوت رونما ہوئی ۔ وہ قید کیا گیا ، اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے 18 بیٹے قتل کردیے گئے ۔ اور چند روز بعد وہ خود قید کی سختیوں سے ہلاک ہوگیا ۔ یہی سال تھا جس میں صلح حدیبیہ واقع ہوئی جسے قرآن فتح عظیم کے نام سے تعبیر کرتا ہے ، اور یہی سال تھا جس میں خسرو کے بیٹے قباد ثانی نے تمام رومی مقبوضات سے دست بردار ہوکر اور اصلی صلیب واپس کر کے روم سے صلح کرلی ۔ 629ء میں قصیر مقدس صلیب کو اس کی جگہ رکھنے کے لیے خود بیت المقدس گیا ، اور اسی سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضا ادا کرنے کے لیے ہجرت کے بعد پہلی مرتبہ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ۔ اس کے بعد کسی کے لیے بھی اس امر میں شبہ کی گنجائش باقی نہ رہی کہ قرآن کی پیشین گوئی بالکل سچی تھی ۔ عرب کے بکثرت مشرکین اس پر ایمان لے آئے ۔ ابی بن خلف کے وارثوں کو ہار مان کر شرط کے اونٹ ابوبکر صدیق کے حوالے کرنے پڑے ۔ وہ انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے حکم دیا کہ انہیں صدقہ کردیا جائے ۔ کیونکہ شرط اس وقت ہوئی تھی جب شریعت میں جوئے کی حرمت کا حکم نہیں آیا تھا ، مگر اب حرمت کا حکم آچکا تھا ، اس لیے حربی کافروں سے شرط کا مال تو لے لینے کی اجازت دے دی گئی مگر ہدایت کی گئی کہ اسے خود استعمال کرنے کے بجائے صدقہ کردیا جائے ۔ موضوع اور مضمون: اس سورہ میں کلام کا آغاز اس بات سے کیا گیا ہے کہ آج رومی مغلوب ہوگئے ہیں اور ساری دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ اس سلطنت کا خاتمہ قریب ہے ۔ مگر چند سال نہ گزرنے پائیں گے کہ پانسہ پلٹ جائے گا اور جو مغلوب ہے وہ غالب ہوجائے گا ۔ اس تمہید سے یہ مضمون نکل آیا کہ انسان اپنی سطح بینی کی کی وجہ سے وہی کچھ دیکھتا ہے جو بظاہر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے ، مگر اس ظاہر کے پردے کے پیچھے جو کچھ ہے اس کی اسے خبر نہیں ہوتی ۔ یہ ظاہر بینی جب دنیا کے ذرا ذرا سے معاملات میں غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کی موجب ہوتی ہے ، اور جبکہ محض اتنی سی بات نہ جاننے کی وجہ سے کل کل کیا ہونے والا ہے آدمی غلط تخمینے لگا بیٹھتا ہے تو پھر بحیثیت مجموعی پوری زندگی کے معاملے میں ظاہر حیات دنیا پر اعتماد کر بیٹھنا اور اسی کی بنیاد پر اپنے پورے سرمایہ حیات کو داؤں پر لگا دینا کتنی بڑی غلطی ہے ۔ اس طرح روم و ایران کے معاملے سے تقریر کا رخ آخرت کے مضمون کی طرف پھر جاتا ہے اور مسلسل تین رکوعوں تک طریقے طریقے سے یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آخرت ممکن بھی ہے ، معقول بھی ہے ، اس کی ضرورت بھی ہے ، اور انسانی زندگی کے نظام کو درست رکھنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ آدمی آخرت کا یقین رکھ کر اپنی موجودہ زندگی کا پروگرام اختیار کرے ، اور نہ وہی غلطی واقع ہوگی جو ظاہر پر اعتماد کرلینے سے واقع ہوا کرتی ہے ۔ اس سلسلے میں آخرت پر استدلال کرتے ہوئے کائنات کے جن آثار کو شہادت میں پیش کیا گیا ہے وہ بعینہ وہی آثار ہیں جو توحید پر بھی دلالت کرتے ہیں ، اس لیے چوتھے رکوع کے آغاز سے تقریر کا رخ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کی طرف پھر جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انسان کے لیے فطری دین اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ بالکل یکسو ہوکر خدائے واحد کی بندگی کرے ۔ شرک فطرت کائنات اور فطرت انسان کے خلاف ہے ، اسی لیے جہاں بھی انسان نے اس گمراہی کو اختیار کیا ہے وہاں فساد رونما ہوا ہے ۔ اس موقع پر پھر اس فساد عظیم ، جو اس وقت دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنتوں کے درمیان جنگ کی بدولت برپا تھا ، اشارہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ فساد بھی شرک کے نتائج میں سے ہے اور پچھلی انسانی تاریخ میں بھی جتنی قومیں مبتلائے فساد ہوئی ہیں وہ سب بھی مشرک ہی تھیں ۔ خاتمہ کلام پر تمثیل کے پیرایہ میں لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ جس طرح مردہ پڑی ہوئی زمین خدا کی بھیجی ہوئی بھیجی ہوئی بارش سے یکایک جی اٹھتی ہے اور زندگی و بہار کے خزانے اگلنے شروع کردیتی ہے ، اسی طرح خدا کی بھیجی ہوئی وحی و نبوت بھی مردہ پڑی ہوئی انسانیت کے حق میں ایک باران رحمت ہے جس کا نزول اس کے لیے زندگی اور نشو و نما اور خیر و فلاح کا موجب ہوتا ہے ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ گے تو یہی عرب کی سونی زمین رحمت الہی سے لہلہا اٹھے گی اور ساری بھلائی تمہارے اپنے لیے ہی ہوگی ۔ اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ گے تو اپنا ہی نقصان کرو گے ، پھر پچھتانے کا کچھ حاصل نہ ہوگا اور تلافی کا کوئی موقع تمہیں میسر نہ آئے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١ تا ٧ صحیح سند سے ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا اور معتبر تاریخ کی کتابوں کی روایتوں ١ ؎ کا حاصل یہ ہے۔ ؎(لگتے ملک میں) یعنی ساتھ ملتے ملک میں سے مراد شام ہے جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی اور جو حجاز کے قریب ہے (ع ‘ ح) کہ روم میں بادشاہت پہلے تو ستارہ پرست لوگوں کی تھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تین سو برس کے قریب تک اس مذہب کے لوگ ملک روم کے باردشاہ رہے اور ان کا ہی لقب قیصر ہوتا تھا پھر ان میں کا ایک بادشاہ جس کا نام قسطنطین تھا نصرانی ہوگیا اور یہ شہر قسطنطنیہ اس نے بنایا اور بارہ ہزار کے قریب گرجے بنائے اور بہت سے قانون جاری کئے اور اسی کے زمانہ میں دین عیسائی کی بہت باتوں میں ردوبدل ہوگیا غرض اس کے زمانہ سے روم کے ملک میں نصرانی بادشاہت شروع ہوئی اس سلسلہ کا جب ہرقل بادشاہ تھا اس سے اور ملک فارس کے بادشاہ سے جس کا لقب کسرٰے تھا لڑائی ہوئی اور کسریٰ کی فوج ہرقل کی فوج پر غالب آئی یہ وہ زمانہ تھا کہ جس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے اور ابھی کچھ تھوڑے لوگ مسلمان ہوئے تھے کسریٰ کی فتح سن کر مکہ کے مشرک لوگوں نے مسلمانوں سے یہ ہا کہ جس طرح تم اپنے آپ کو آسمانی کتاب کا پیرو اور پابند بتلاتے ہو اسی طرح ملک روم کے لوگ نصرانی می ہیں اور جس طرح ہم لوگوں کو تم مشرک تبتلاتے ہو پارسی لوگ بھی ویسے ہی ہیں آخر ان کا ہی دین غالب رہا اور وہی رومیوں پر غالب آئے اسی طرح ہم بھی تم پر آخر کو غالب آویں گے یہ خبر سن کر حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا کہ مشرک لوگ یوں کہتے ہیں آپ نے فرمایا کہ نودس برس کے بعد پھر رومی لوگ پارسیوں پر غالب آویں گے اور آپ کے کلام کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مکہ کے گلی کوچہ میں اس آیت کے مضمون کا شہرہ کردیا اور ابی بن خلف اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے شرط ہوئی آخر نو برس کے بعد رومی پارسیوں پر غالب آئے اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) وہ شرط جیت گئے اس آیت میں یہ جو ذکر ہے کہ جس دن رومی پارسیوں پر غالب آویں گے اس دن مسلمان اللہ کے مدد سے خوش ہوں گے معتبر سند سے ابوسعید خدری (رض) کی روایت ١ ؎ سے ترمذی تفسیر سفیان ثوری اور تفسیر سدی میں اس کی تفسیر یوں ہے کہ جس زمانہ میں رومی پارسیوں پر غالب آئے اسی زمانہ میں اللہ کی طرف سے فرشتوں کی مدد آن کر بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کو مشرکین مکہ پر فتح حاصل ہوئی اگرچہ بعضے مفسروں کا یہ قول ہے کہ جس زمانہ میں رومی پارسیوں پر غالب آئے وہ زمانہ صلح حدیبیہ کا تھا لیکن ترمذی کی صحیح روایت سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے جو اوپر بیان کیا گیا یہ آیت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سچے نبی ہونے اور قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے کی بڑی دلیل ہے کیوں کہ نو برس پہلے جو کچھ آپ نے فرمایا تھا اور آیت میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے فرمانے کی تصدیق فرمائی تھی آخر کو وہی ہوا اکثر مفسروں نے لکھا ہے کہ اس آیت کا مطلب ظہور میں آجانے کے بعد بہت سے مشرک مسلمان ہوئے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور ابی بن خلف میں شرط جو دونوں طرف سے ہوئی تھی اس سے امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد (رض) نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اس طرح کی دونوں طرف کی شرط جائز ہے لیکن ترمذی کی یساربن مکرم کی روایت ٢ ؎ میں یہ صراحب آچکی ہے کہ یہ قصہ اس طرح کی شرط کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے اس لیے اور مفسروں نے اس مسئلہ کو تسلیم نہیں کیا یہی ہرقل روم کا بادشاہ ہے جس کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خط لکھا تھا اور ابو سفیان سے اس خط پر اس نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کچھ حالات دریافت کئے تھے جس کا قصہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت سے ہے اس ملک کسریٰ اور قیصر کا وہی حال ہے جو مسند امام احمد اور نسائی کا براء بن عازب (رض) کی معتبر روایتوں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معجزہ کے طور پر فرمایا تھا کہ یہ دونوں ملک فتح ہوں گے اور ان کے خزانے مسلمانوں کے صرف میں آویں گے تاریخ کی کتابوں میں اس کی صراحت ہے کہ کس طرح کی لڑائی کے بعد حضرت عمر (رض) کی خلافت میں کسریٰ کا ملک اور سلطان محمد ثانی کی بادشاہت میں قسطنطنیہ مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔ یہ سلطان محمد ثانی سلاطین عثمانیہ میں کے ایک سلطان ہیں ٨٥٧ ہجری میں بڑے محاصرہ کے بعد انہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا۔ دولت عثمانیہ میں قانون کی بنا بھی ان ہی سلطان کے زمانہ میں ہوئی سلاطین عثمانیہ کے بڑے بوڑھوں کی اصل بودو باش نواح بلخ کی ہے تاتا ریوں نے ساتویں صدی میں جب بلخ اور اس کے نواح کے شہروں کو تاراج کیا تو سلاطین عثمانیہ کے بڑے بوڑھوں میں سے سلیمان شاہ ملک روم کے ارادہ سے نکلے یہ زمانہ وہ تھا کہ جس میں ادھر ایک ملک میں سلجوقیوں کی سلطنت تھی۔ سلیمان شاہ نے تو نہر فرات میں غرق ہو کر وفات پائی لیکن ان کے بیٹے ارل طغرل ملک روم میں پہنچ گئے اور سلطان علاوالدین سلجوقی کے حکم سے اس ملک میں فوجی کام کرتے رہے اور ٦٨٧ ھ میں ان کا انتقال ہوگیا ان کے بعد ان کے بیٹے امیر عثمان کو علاء الدین سلجوقی نے سلطان کا خطاب دیا اور سلطان عثمان کی چند پشت کا مستقر تو اور مقامات پر رہا پھر سلطان محمد ثانی کے عہد سے سلاطین عثمانیہ کا مستقر قسطنطنیہ قرار پایا۔ حروف مقطعات کی تفسیر تو سورة بقر میں گزر چکی ہے باقی کی آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ملک عرب کے قریب کی بستی اور عات کے میدان میں رومی اور پارسیوں کی لڑائی ہو کر اب تو پارسی رومیوں پر غالب آگئے ہیں لیکن دس برس کے اندر پھر رومی پارسیوں پر غالب آویں گے اللہ تعالیٰ غیب دان ہے اس کے پہلے کی اور آیندہ کی فتح شکست کا سب حال معلوم ہے پھر فرمایا جب رومیوں کا غلبہ پارسیوں پر ہوگا تو بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کا غلبہ بھی مشرکین مکہ پر ہوگا اس لیے مسلمانوں کو اس دن دہری خوشی ہوگی پھر فرمایا فتح ظاہری اسباب پر آنحضرت نہیں ہے بلکہ فتح اللہ کے ہاتھ ہے وہ جس کو چاہتا ہے فتح یاب کرتا ہے وہ فرما نبرداروں کے حال پر رحم کرنے والا اور نافرمان لوگوں سے بدلہ لینے میں زبر دست ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ جس بات کا وعدہ کرے وہ کبھی خلاف نہیں ہوتا لیکن جن لوگوں کا بھروسہ دنیا کے السباب ظاہری پر ہے وہ اللہ کے وعدہ پر بھروسہ رکھنا نہیں چاہتے کیوں کہ وہ لوگ تو دنیا کی زندگی پر گرویدہ اور آخرت کی جزا وسزا سے بالکل غافل ہیں ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے شداد بن اوس (رض) کی معتبر روایت کئی جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقل مندوہ شخص ہے جو دنیا کی زندگی میں کچھ آخرت کا سامان کرلے اور نادان وہ ہے و دنیا کی زندگی پر گرویدہ ہو کر آخرت کو بھول جائے اور پھر آخرت میں اللہ سے بہبودی کی امید رکھے۔ اس حدیث کو ان آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے جس سے عقلمند اور نادان لوگوں کی یہ تفصیل اچھی طرح معلوم ہوسکتی ہے کہ شریعت کے حکم میں عقلمند کون لوگ ہیں اور نادان کون ہیں۔ (١ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٤٢٢‘ ٤٢٥ ج ٣ (١ ؎ ایضا ص ٤٢٦ ج ٣ ) (٢ ؎ جامع ترمذی مع تحفہ الا حوذی ص ١٦١ ج ٤ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

سورة روم۔ رکوع نمبر 1 ۔ آیات 1 تا 10 اسرارومعارف رومیوں میں اور کسری پرویز میں جنگ ہوئی رومی اہل کتاب اور فارسی آتش پرست تھے اگرچہ دونوں کافر تھے مگر اہل کتاب ہونے کی وجہ سے اہل فارس کی نسبت مسلمانوں کی ہمدردی رومیوں سے تھی مگر اس جنگ میں رومی ہار گئے چند سرحدی شہر فارس نے فتح کرلیے اسی فتح میں قسطنطنیہ بھی تھا جہان کسری پرویز نے آتشکدہ بنوایا اس پر مشرکین بہت خوش ہوئے تو یہ سورة نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ اگرچہ رومی شکست کھا گئے ہیں مگر آئندہ چند برسوں میں یہ پھر غالب آجائیں گے چناچہ مشرکین کے لیے خوشی کا کوئی موقع نہیں یہ ایک بہت بڑی پیش گوئی تھی بظاہر ایسا ہونے کے امکانات نظر نہ آتے تھے چناچہ مشرکین کہنے لگے کہ اب یہ ممکن نہیں تو ارشاد ہوا کہ ایسا ضرور ہوگا اور اس روز مسلمانون کو بہت خوشی نصیب ہوگی اور واقعی مسلمانون کے لیے بہت خوشی کا موقع آیا۔ اول تو واقعی چند سالوں بعد رومیوں کو دوبارہ فتح نصیب ہوئی اور قرآن کریم کی پیش گوئی پوری ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزہ کا اظہار ہوا دوسرے یپہ کہ عین انہی دنوں میں بدر کا معرکہ پیش آیا اور مسلمانوں کو بہت بڑی فتح نصیب ہوئی اور تیسرے یہ دونوں کافر طاقتیں تھیں بالآخر دونون نے مسلمانوں کے مقابل آنا تھا یہ بات بھی خوشی کی تھی کہ وہ آپس میں لڑ کر کمزور ہوں۔ کفار کا یہ خیال کہ اب رومی نہیں جیت سکتے ایسا ہی ہے جیسا کہ ان کے خیال میں مسلمان مقابلہ نہیں کرسکتے مگر یہ محض اسباب ظاہری کو دیکھ کر اندازے لگاتے ہیں حالانکہ یہ فتح اللہ کی مدد سے ہوگی اور وہ جس کی چاہے مدد کرے کہ اہل مکہ کے مقابل مسلمانوں کو فتح عطا کی جو بظاہر ممکن نظر نہ آتی تھی ایسے ہی فارس پر روم کو کہ وہ غالب ہے اور رحم کرنے والا ہے۔ اللہ نے جب ارشاد فرمادیا تو اس کا فرمایا ضرور ہو کر رہتا ہے کہ خود اسے کرنا ہوتا ہے اور وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن لوکون کی اکثریت اس حقیقت کو نہیں جان سکتی۔ بس صرف دنیا کے اسباب اور مال و دولت اور عیش و عشرت میں الجھ کر رہ گئے اور آخرت کو فراموش کر بیٹھے حالانکہ اللہ کا وعدہ ہے ضرور پورا ہوگا۔ کی ا انہوں نے کبھی غور و فکر نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ پیدا فرمایا ہے اس کے مسلسل پیدا ہونے اور خاص خصوصیات کے حامل ہونے اجزا کے ملنے اجسام کے بننے اور نظام عالم کے چلنے میں کس قدر صحیح ترین اندازے مقدار کے بھی اور اوقات کے مقرر کیے ہیں۔ کبھی کوئی اندازہ غلط نہیں ہوتا۔ سورج چاند بادل بارش ہوا نمو اور روئیدگی ہر شے اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہورہی ہے وہی عظیم خالق جب یہ سب کچھ دوبارہ بنا کر کھڑا کرنے کا وقت متعین کردے تو آخر ایسا کیون نہ ہوگا کہ لوگوں کی اکژریت قیام قیامت اور اللہ کی بارگاہ میں پیشی سے منکر ہو رہی ہے۔ اگر انہیں اپنے مال و دولت اور اقتدار و وقار کے نشہ نے اندھا کر رکھا ہے تو کیا یہ زمین پر سفر نہیں کرتے اور انہیں اپنے سے پہلے کفار کا انجام نظر نہیں آتا جو ان سے زیادہ مالدار اور طاقتور ہوا کرتے تھے اور ان لوگوں کی نسبت ان لوگوں کی حکومت و سلطنت زیادہ مضبوط تھی۔ پھر ان کے پاس اللہ کے رسول مبعوث ہوئے اور واضح دلائل پیش کیے مگر وہ نہ مان کر تباہ ہوگئے۔ اللہ نے ان پر زیادتی نہیں کی بلکہ خود انہوں نے کفر اختیار کر کے اپنے اوپر ظلم کیا لہذا ان کا انجام بھی ان کے کردار کی طرح بہت برا ہوا۔ اس لیے کہ ظالم نہ صرف انکار کرتے تھے بلکہ آیات الہی کا مزاق اڑاتے تھے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

الم ، غلبت الروم ۔۔۔۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (1 – 7) سورة کا آغاز حروف مقطعات سے ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ قرآن اور یہ سورة انہی حروف سے بنائے گئے ہیں ، جو عربوں کی دسترس میں ہیں لیکن اس کے باوجود یہ قرآن اور یہ سورة معجز ہیں۔ آج تک وہ اس قسم کا کلام نہیں بنا سکے۔ یہ حروف تہجی خود ان کی زبان کے ہیں اور وہ ان سے کلمات و کلام بنا سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ سچی تاریخی پیشن گوئی آتی ہے جس میں یہ کہا گیا کہ رومی چند سالوں میں پھر غالب آجائیں گے۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ ایرانی رومیوں پر غالب تھے اور مشرکین عرب چاہتے تھے کہ ایرانی رومیوں پر غالب رہیں اور مسلمانوں کی خواہش نہ تھی کہ ایرانی رومیوں پر غالب آجائیں۔ اس لیے کہ رومی اہل کتاب تھے اور وہ مسلمانوں کے ذہن کے قریب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی : الم ۔۔۔۔۔ فی بجع سنین (30: 1 – 4) ” ا۔ ل۔ م۔ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے “۔ تو مشرکین مکہ نہ کہا ابوبکر ! تمہارے دوست کہتے ہیں کہ رومی چند سالوں کی میعاد پر چار اونٹنیوں کی شرط لگائی۔ یہ سات سال گزر گئے اور کچھ نہ ہوا۔ مشرکین اس پر بہت ہی خوش ہوئے۔ یہ بات مسلمانوں پر ناگوار گزری۔ انہوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس کا تذکرہ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہاری زبان میں بضع سنین کا مفہوم کیا ہے تو انہوں نے فرمایا دس سے کم۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حکم دیا کہ جائیں اور میعاد میں دو سال کا اضافہ کردیں۔ کہتے ہیں دو سال ابھی نہ گزرے تھے کہ سواروں نے آکر اطلاع دی کی رومی فارس پر غالب آگئے ہیں۔ اس پر مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔ اس بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم نے امام ابن جریر کی روایت اختیار کی ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس واقعہ سے آگے بڑھیں ، اس واقعہ میں جو ہدایات ہیں ان پر غور ضروری ہے۔ اس واقعہ میں ہمارے لیے پہلی نصیحت یہ ہے کہ شرک اور کفر ہر زمان و مکان میں ایک ملت ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ایمان اور عقیدہ توحید کے خلاف رہے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں دنیا کی حکومتوں کے باہم روابط ہمارے دور کی طرف گہرے نہ تھے اس کے باوجود مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ پوری دنیا میں مشرکین کا غلبہ ان کا غلبہ ہے ، اور اہل کتاب پر مشرکین کی فتح ان کی فتح ہے۔ مکہ کے مسلمان بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان کے اور اہل کتاب کے درمیان رابطے کی اساس موجود ہے اور وہ بھی اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ اہل کتاب پر مشرکین کو کسی بھی جگہ غلبہ حاصل ہو۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ان کی دعوت اور تحریک اس جہان میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتی۔ اور کفر و ایمان کی اس کشمکش پر بیرونی واقعات اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ کھلی حقیقت ہے جس سے ہمارے دور کے اکثر لوگ غافل ہیں اور وہ اس حقیقت کو اس طرح نہیں سمجھ سکتے ، جس طرح اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے مسلمانوں نے سمجھا تھا۔ حالانکہ چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔ آج کے مسلمان صرف جغرافیائی حدود یا قومیت کی اصلاح میں سوچتے ہیں حالانکہ مسئلہ دراصل کفر و ایمان کا ہے اور اصل معرکہ حزب اللہ اور حزب الشیطان کے درمیان ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اس کشمکش کی اصل حقیقت کو سمجھیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اگر مسلمانوں نے اصل مسئلے کو سمجھ لیا تو پھر کفر و شرک کی علم بردار جماعتوں نے جو مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ، وہ مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف جنگ ، محض اسلامی نطریہ حیات کی وجہ سے کرتے ہیں۔ ذہبی طور پر معرکے کے اسباب و عامل جو بھی ہوں ، اصل جنگ نظریات کی ہے۔ دوسرا سبق اس واقعہ میں یہ ہے کہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرو ، جیسا کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فوراً کہا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ کہا ، جبکہ مشرکین کے نزدیک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ کلام تعجب انگیز تھا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے صاف صاف کہہ دیا ” انہوں نے سچ کہا “۔ انہوں نے شرط باندھی اور ابوبکر (رض) نے قبول کرلی اور اللہ نے جو کہا تھا کہ چند سالوں میں یہ واقعہ ہوجائے گا تو ہوگیا۔ یہ پختہ اعتماد ، یقین اور بھروسہ ہی تھا جس نے مسلمانوں کے دلوں کو یقین اور ثابت قدمی سے بھر دیا تھا اور وہ تمام مصائب اور مشکلات کو خوشی خوشی جھیل رہے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ مکمل ہوگیا اور اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا اور یہی بات جہاد کے طویل راستے میں ایک نظریاتی کارکن کا بہترین ہتھیار ہوا کرتا ہے۔ تیسرا سبق اس واقعہ کے بیان کے درمیان ایک نہایت ہی مختصر جملہ معترضہ کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ اللہ فرماتے ہیں للہ الامر من قبل ومن بعد (30: 4) ” اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی “۔ نہایت ہی شتابی سے بنا دیا گیا کہ معاملات سب کے سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اس واقعہ میں بھی اور اس کے سوا دوسرے واقعات میں بھی۔ یہ ایک اہل کلیہ ہے ، اسلامی موقف کا یہ میزان ہے۔ فتح و ہزیمت ، دنیا میں حکومتوں کا اٹھنا اور بیٹھنا ، قوت پکڑنا اور ضعیف ہونا ، اسی طرح ہے جس طرح اس کائنات میں دوسرے طبیعی واقعات رونما ہوتے ہیں۔ سب کے لیے ایک سنت مقرر ہے۔ یہ سنت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس طرح اللہ چاہتا ہے واقعات کا رخ پھیر دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے ارادے اور اس کی حکمت پذیری سے واقع ہوتا ہے۔ تمام واقعات اور حادثات دراصل اللہ کے ارادہ مطلقہ کے آثار ہیں اور ان کا رخ متعین کرنے میں کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ نہ کسی کے پاس قوت ہے۔ ان واقعات کے پیچھے جو حکمت کا فرما ہے اس کا بھی اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں ہے۔ نہ کسی کو ان واقعات کے مصدر اور ابتداء کا پتہ ہے اور نہ انجام کا۔ لہٰذا ایک انسان کے لیے یہی محفوظ راستہ ہے کہ وہ تمام واقعات پر اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور یہ کہہ دے کہ یہ اللہ کی مقرر کردہ تقدیر ہے۔ الم ۔۔۔۔۔ بنصر اللہ ۔۔۔ (30: 1 – 5) ” رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہوگئے ہیں ، اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہوجائیں گے۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے “۔ اور اللہ کا وعدہ سچا اور مومنین نے اللہ کی دی ہوئی نصرت پر خوشیاں منائیں۔ ینصر من ۔۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ غرض اختیارات سب اللہ کے ہیں ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا کرتا ہے۔ اس کی مشیت پر کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مشیت جو نتیجہ چاہتی ہے ویسے ہی اسباب بھی مہیا کردیتی ہے۔ وجود اسباب اور فتح و کامرانی کو اللہ کی مشیت کے ساتھ معلق کرنے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس عالم اسباب کو جو قوانین قدرت کنڑول کرتے ہیں وہ سب کے سب مشیت مطلقہ کے فراہم کردہ ہیں۔ مشیت الہیہ ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے اسباب اور ایسے سنن اہل جہاں میں جاری وساری ہوں جو اٹل ہوں اور اس کائنات کے اندر ایک نظم اور ایک قرار و ثبات ہو۔ لہٰذا فتح و ہزیمت بھی قدرتی اسباب اور موثرات کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں ، اللہ کے جاری کردہ قوانین قدرت کے مطابق۔ اس موضوع پر اسلامی نظریہ حیات نہایت ہی واضح ، معقول اور منطقی ہے۔ وہ تمام امور کو اللہ کے حوالے کرتا ہے لیکن اسلام عالم اسباب کی نفی بھی نہیں کرتا اور انسان کو حکم دیتا ہے کہ وہ عالم اسباب کے اندر اپنی جدوجہد جاری رکھے ، تاکہ اللہ کے مقرر کردہ نتائج عالم ظہور میں آتے رہیں۔ انسانی جدوجہد کے مطابق عملاً نتائج نمودار ہوں یا نہ ہوں اس کا انسان ذمہ دار نہیں ہے۔ اس پر جدوجہد فرض ہے۔ انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اعرابی نے اپنی اونٹنی کو مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر کھلا چھوڑ دیا اور نماز پڑھنے کے لیے اندر آگیا اور کہا توکلت علی اللہ ” میں نے اللہ پر توکل کیا “۔ اسے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ نے فرمایا اعقلھا و توکل ” اسے باندھ دو اور پھر توکل کرو “۔ اسلامی نظریہ حیات میں توکل عالم اسباب میں ، مطابق اسباب جدوجہد کرنے کے بعد ہے۔ جدوجہد کرو اور پھر معاملہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ ینصر من ۔۔۔۔ الرحیم (30: 5) ” اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے “۔ یہ نصرت قدرت الہیہ کے سایوں میں ملغوف ہے اور یہ قدرت الہیہ ہی ہے جو اس تصرف کو عالم واقعہ میں لاتی ہے۔ اس نصرت پر رحمت الہیہ کے سائے بھی چھائے ہوئے ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کے مفادات حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ مغلوب اور پسے ہوئے طبقات کے لیے اس میں بہت سے فائدے ہوتے ہیں۔ ولولا دفع اللہ ۔۔۔۔۔ الارض ” اگر اللہ کی طرف سے بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعہ دفع کرنے کا کام نہ ہوتا رہتا تو پوری زمین میں فساد واقعہ ہوجاتا “۔ زمین میں اصلاح اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کی حمایت کی جائے اور ان کے ساتھ ہمدردی کا سلوک کیا جائے۔ وعد اللہ لا یخلف اللہ ۔۔۔۔۔ عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 6 – 7) ” یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں “۔ یہ امداد اللہ کا وعدہ ہے لہٰذا وہ لازماً واقع ہو کر رہے گا۔ لایخلف اللہ وعدہ (30: 6) ” اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا “۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ اس کے بےقید ارادے کے تحت ہوتا ہے اور پھر اس کے اندر گہری حکمت مضمر ہوتی ہے اور وہ اپنے وعدہ کو حقیقت کا روپ دینے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ اس کی مشیت کو رد کرنے والی کوئی قوت نہیں ہے اور اس کے حکم سے کوئی سرتابی نہیں کرسکتا۔ اس پوری کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اس وعدے کا پورا کرنا دراصل اللہ کے وسیع قانون قدرت کا ایک حصہ ہے اور اللہ کے ناموس اکبر اور اس کے قانون قدرت اور عظیم منصوبہ کائنات کے اندر کوئی تغیر و تبدل ممکن نہیں ہے۔ ولکن اکثر الناس لا یعلمون (30: 6) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں “۔ اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے بڑے جبہ و دستار رکھتے ہیں اور ان کے پاس علم کی ایک بڑی مقدار ہے۔ لیکن ان کا علم سطحی ہے اور زندگی کے ظاہری امور سے متعلق ہے۔ اللہ کے اٹل قوانین قدرت ، اور اس کائنات کے حقیقی ضوابط اور اس کے عظیم ناموس ، اور اس کے نہایت ہی پختہ اور گہرے روابط کا انہیں علم نہیں ہے۔ یعلمون ظاھرا من الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو ہی جانتے ہیں “۔ اس ظاہر کے پیچھے وہ جھانکنے کی سعی نہیں کرتے اور اپنی بصیرت سے اس کے پس منظر کو دیکھنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہ ظاہری دنیا تو صغیر و حقیر ہے۔ اگرچہ لوگوں کو یہ بہت ہی وسیع نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ بہت ہی حقیر ہے۔ انسان اس دنیا میں بہت جدوجہد کرتا ہے لیکن انسان کی محدود زندگی میں یہاں بہت ہی کم کچھ کیا جاسکتا ہے اور انسان کی یہ محدود زندگی اس عظیم کائنات کی وسعتوں کے مقابلے میں ان کا ایک مختصر حصہ ہے۔ اور اس زندگی پر بھی انہی قوانین کا کنڑول ہے جن کا کنڑول اس پوری کائنات پر ہے۔ وہ شخص جس کا ضمیر و قلب کائنات کے ساتھ مربوط نہیں ہے اور اسے یہ احساس نہیں ہے کہ اس کائنات کو کچھ اٹل قوانین قدرت کنڑول کر رہے ہیں ، ایسا شخص اس کائنات کو بظاہر دیکھ تو رہا ہوتا ہے لیکن وہ اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اندھا ہوتا ہے۔ وہ ظاہری اشکال کو دیکھ رہا ہوتا ہے ، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے یہاں ہر چیز دائرے کی شکل میں سرگردان ہے لیکن وہ اس حرکت کی حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس لیے وہ اس جہاں میں نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ حقیقی مومن تو وہ ہوتا ہے جو اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے زندگی کے اسرار و رموز سے واقف ہو۔ ایسا مومن ہی دراصل علم اور سائنس کو ایسی روح عطا کرتا ہے جو حقائق کا ادراک کرتی ہے۔ اس قسم کا ایمان رکھنے والے لوگ اس جہاں میں قلیل ہی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثریت حقیقی معرفت سے محجوب ہوتی ہے۔ وھم عن الاخرۃ ھم غفلون (30: 7) ” اور آخرت سے وہ غافل ہوتے ہیں ، اس لیے کہ آخرت اس کائنات کے سلسلہ میں وجود ہی کی ایک کڑی ہے۔ آخرت کتاب کائنات کا ایک صفحہ ہے ، جو لوگ تخلیق کی حقیقت کو نہیں سمجھتے جو لوگ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس فطرت کو نہیں سمجھتے ، وہ آخرت کو بھی نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ آخرت کو اہمیت نہیں دیتے ، اس کے لیے تیاری نہیں کرتے ، اور وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ حرکت کائنات کی لائن پر آخرت بھی ایک نکتہ ہے۔ دنیا اور اس کائنات نے اس نکتے پر پہنچنا ہے اور اس کے بعد پھر نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن آخرت سے غفلت کے نتیجے میں ایسے غافل لوگوں کی اقدار مضطرب ہوتی ہیں ، ان کی اقدار حیات میں کوئی ثبات اور پختگی نہیں ہوتی۔ ان کا تصور حیات ، تعبیر واقعات اور ان کی قدروقیمت کے پیمانے ناپختہ ہوتے ہیں۔ ان کا علم سطحی ، ناقص اور ظاہری ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب ایک انسان اس پوری زندگی کے اختتام پر آخرت کے قیام کو تسلیم کرتا ہے تو اس جہان کے تمام واقعات کے بارے میں اس کا نقطہ نظر بدل جاتا ہے۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس جہان میں اس کی زندگی ایک مختصر سا مرحلہ ہے اور اس جہاں میں اس کا جو حصہ ہے اور ہونا چاہئے وہ آخرت کے مقابلے میں بہت ہی معمولی اور حقیر ہے اور اس جہاں کی پوری زندگی دراصل طویل ترین ڈرامے کا ایک نہایت ہی مختصر شو یا جھلکی ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طویل ترین ڈرامے کی صرف مختصر ترین جھلکی کو دیکھ کر کوئی فیصلہ کر دے۔ اگر کوئی نہایت ہی حقیر جھلکی کو دیکھ کر پوری زندگی ، پوری کائنات اور آخرت اور اس کی طویل زندگی کے بارے میں فیصلہ کرے گا تو یہ سطحی فیصلہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا انسان جو قیامت کا قائل ہے ، اور جو قیامت کے لیے تیاری کر رہا ہے ، اس انسان کے ساتھ اکٹھا ہوکر نہیں رہ سکتا جس کا سطح نظر صرف یہ دنیا ہے اور اس دنیا سے آگے اسکا کوئی ہدف نہیں ہے۔ اس قسم کے دو انسان نہ اس دنیا کے کسی پروگرام پر متفق ہوسکتے ہیں اور نہ ان کا یہاں کسی قدر پر اتفاق ہوسکتا ہے۔ دونوں کے پیمانے بالکل جدا ہوں گے۔ غرض ہر واقعہ ، ہر حالت ، اور زندگی کے حالات میں سے ہر حالت کے بارے میں دونوں کا فیصلہ جدا ہوگا کیونکہ دونوں کے میزان الگ ہوں گے۔ ہر ایک کا زاویہ نظر مختلف ہوگا۔ ہر ایک کی روشنی بھی مختلف ہوگی۔ لہٰذا ہر ایک کو ایک ہی چیز مختلف نظر آئے گی۔ واقعات ، اقدار اور حالات کے بارے میں دونوں کا تصور جدا ہوگا۔ ایک دنیا کی ظاہری نظر سے دیکھنے والا ہے اور دوسرا گہری نظر سے واقعات کے پس منظر کو بھی دیکھ رہا ہے۔ وہ ظاہری اسباب اور واقعات کو بھی دیکھتا ہے اور باطن پر بھی اس کی نظر ہے۔ وہ ظاہر اور غائب دونوں کا علم رکھتا ہے۔ دنیا و آخرت دونوں کو جانتا ہے ، حیات اور موت دونوں کی حقیقت کو جانتا ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل سب کا تصور رکھتا ہے۔ وہ انسانوں کے جہان سے بھی باخبر ہے اور اس کائنات کے دوسرے جہانوں اور زندوں اور مردوں سب سے واقف ہے۔ یہ ہے وہ وسیع افق جس پر اسلام انسان کی نظریں فوکس کر اتا ہے اور انسان کو ایک ایسا نقطہ نظر دیتا ہے جو انسان کے لائق ہے جو انسان کے لیے بحیثیت خلیفہ اللہ فی الارض ضروری ہے اور انسان کی شخصیت میں اللہ نے جو روحانیت ودیعت کی ہے ، اس کا بھی یہی تقاضا ہے۔ اس غرض کے لیے کہ اللہ کی نصرت کا وعدہ اسی طرح یہ حق ہے جس طرح یہ منظم کائنات ایک عظیم حق پر قائم ہے ، اور یہ کہ آخرت کا قیام اس عظیم سچائی کا لازمی نتیجہ ہے۔ اب سیاق کلام ہمیں دوبارہ اس کائنات کے ضمیر کی سیر کراتا ہے۔ آسمانوں میں ، زمین میں اور ان کے درمیان جو جہان موجود ہیں ان میں۔ اس کے بعد پھر انسان کو خود اس کے اپنے وجود کی سیر کرائی جاتی ہے تاکہ وہ تدبر کریں ، شاید کہ وہ اس حقیقت کبریٰ تک پہنچ جائیں جس سے وہ اس وقت غافل ہوجاتے ہیں وہ آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں۔ کسی سطحی نقطہ نظر کی وجہ سے وہ دعوت اسلامی کی حقیقت کو بھی نہیں سمجھ سکتے کیونکہ یہ دعوت اس عظیم سچائی اور اس کے گہرے تدبر پر مبنی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

1۔ الم