Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 12

سورة الروم

وَ یَوۡمَ تَقُوۡمُ السَّاعَۃُ یُبۡلِسُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۱۲﴾

And the Day the Hour appears the criminals will be in despair.

اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو گناہگار حیرت زدہ رہ جائیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And on the Day when the Hour will be established, the criminals will be plunged into destruction with despair. Ibn Abbas said, "The sinners will be filled with despair." Mujahid said, "The sinners will be exposed;" according to another report he said, "The sinners will grieve."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

121ابلاس کے معنی ہیں اپنے موقف کے اثبات میں کوئی دلیل پیش نہ کرسکنا اور حیران و ساکت کھڑے رہنا اسی کو ناامیدی کے مفہوم سے تعبیر کرلیتے ہیں۔ اس اعتبار سے مبلس وہ ہوگا جو ناامید ہو کر خاموش کھڑا ہو اور اسے کوئی دلیل نہ سوجھ رہی ہو قیامت والے دن کافروں اور مشرکوں کا یہی حال ہوگا، یعنی کہ عذاب کے بعد وہ ہر خبر سے مایوس اور دلیل و حجت پیش کرنے سے قاصر ہونگے۔ مجرموں سے مراد کافر و مشرکین ہیں جیسے کہ اگلی آیت میں واضح ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] یعنی وہ اپنی نجات سے مایوس ہوجائیں گے اور کسی کی سفارش یا امداد سے بھی۔ اور ان کی حالت ایسی ہوگی۔ جسے کوئی مجرم رنگے ہاتھوں لوگوں کے سامنے جرم کرتا ہوا پکڑا جائے۔ اور ایسے شخص پر سخت افسردگی اور مایوسی کی حالت طاری ہوجاتی ہے کیونکہ اسے اس جرم کی سزا سے بچنے کی کوئی امکانی صورت نظر نہیں آتی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ : ” أَبْلَسَ الرَّجُلُ “ جب کوئی آدمی لاجواب ہو کر خاموش ہوجائے اور اسے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ملے، مراد ناامید ہونا ہے۔ یعنی جس دن قیامت قائم ہوگی مجرم لوگ نجات سے ناامید ہوجائیں گے، کیونکہ ان کا مجرم ہونا ثابت ہوجائے گا اور انھیں اپنے دفاع میں کہنے کے لیے کوئی بات نہیں ملے گی۔ مجرموں سے مراد یہاں مشرکین ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے، گناہ گار مسلمان مراد نہیں ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ۝ ١٢ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ بلس الإِبْلَاس : الحزن المعترض من شدة البأس، يقال : أَبْلَسَ ، ومنه اشتق إبلیس فيما قيل . قال عزّ وجلّ : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ [ الروم/ 12] ، وقال تعالی: أَخَذْناهُمْ بَغْتَةً فَإِذا هُمْ مُبْلِسُونَ [ الأنعام/ 44] ، وقال تعالی: وَإِنْ كانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ [ الروم/ 49] . ولمّا کان المبلس کثيرا ما يلزم السکوت وينسی ما يعنيه قيل : أَبْلَسَ فلان : إذا سکت وإذا انقطعت حجّته، وأَبْلَسَتِ الناقة فهي مِبْلَاس : إذا لم ترع من شدة الضبعة . وأمّا البَلَاس : للمسح، ففارسيّ معرّب «1» . ( ب ل س ) الا بلاس ( افعال ) کے معنی سخت نا امیدی کے باعث غمگین ہونے کے ہیں ۔ ابلیس وہ مایوس ہونے کی وجہ سے مغمون ہوا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اسی سے ابلیس مشتق ہے ۔ قرآن میں ہے : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ [ الروم/ 12] اور جس دن قیامت بر پا ہوگی گنہگار مایوس مغموم ہوجائیں گے ۔ أَخَذْناهُمْ بَغْتَةً فَإِذا هُمْ مُبْلِسُونَ [ الأنعام/ 44] توہم نے ان کو نا گہاں پکڑلیا اور وہ اس میں وقت مایوس ہوکر رہ گئے ۔ وَإِنْ كانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ [ الروم/ 49] اور بیشتر تو وہ مینہ کے اترنے سے پہلے ناامید ہو رہے تھے ۔ اور عام طور پر غم اور مایوسی کی وجہ سے انسان خاموش رہتا ہے اور اسے کچھ سوجھائی نہیں دیتا اس لئے ابلس فلان کے معنی خاموشی اور دلیل سے عاجز ہونے ب کے ہیں ۔ بلست الناقۃ فھی مبلاس آواز نہ کرو ناقہ زغایت خواہش کش اور کلاس بمعنی ٹاٹ فارسی پل اس سے معرب ہے ۔ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے روی حصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اجرم ( افعال ) جرم دلا ہونا جیسے اثمر واتمر والبن اور استعارہ کے طور پر اس کا استعمال اکتساب مکروہ پر ہوتا ہے ۔ اور پسندیدہ کسب پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔ اس کا مصدر جرم ہے چناچہ اجرام کے متعلق فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] جو گنہگار ( یعنی کفاب میں وہ دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز مشرکین ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14 "The Hour": the Hour of returning to Allah and appearing before Him. 15 The word iblas in the Text means to be dumbfounded on account of a sudden shock and despair, to be confounded on finding one-self in a hopeless situation, to stand aghast on finding no means of help and support. When this word is used for a culprit, it depicts a person who is caught red-handed, who then find no way to escape, nor expects to save himself by offering a plea in self-defense; therefore, he stands dumb and dejected and depressed. One should also understand that "the criminals" here does not only imply those people, who have committed murders and thefts and robberies, etc. in the world, but all those who have rebelled against God, refused to accept the guidance and teachings of His Messengers, denied the accountability of the Hereafter, or lived heedless of it, and have been worshipping others than God in the world, or their own selves, whether or not, besides this basic deviation, they also committed those acts, which are commonly called crimes. Besides, it includes those people also, who in spite of believing in God and His Messengers and the Hereafter, have knowingly disobeyed their Lord and persisted in their rebellious conduct till the end. When these people will suddenly come back to life in the Hereafter, against their expectations, and will find that they are confronted with the second life, which they had denied, or ignored, in their life-activity in the world, they will stand dumbfounded as has been depicted in the words: yublisul-mujrimun.

سورة الروم حاشیہ نمبر : 14 یعنی اللہ تعالی کی طرف پلٹنے اور اس کے حضور پیش ہونے کی ساعت ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 15 اصل میں لفظ ابلا من استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں سخت مایوسی اور صدمے کی بنا پر کسی شخص کا گم سم ہوجانا ، امید کے سارے راستے بند پاکر حیران و ششدر رہ جانا ، کوئی حجت نہ پاکر دم بخود رہ جانا ۔ یہ لفظ جب مجرم کے لیے استعمال کیا جائے تو ذہن کے سامنے اس کی یہ تصویر آتی ہے کہ ایک شخص عین حالت جرم میں بھرے ہاتھوں ( Red- Handed ) پکڑا گیا ہے ، نہ فرار کی کوئی راہ پاتا ہے ، نہ اپنی صفائی میں کوئی چیز پیش کر کے بچ نکلنے کی توقع رکھتا ہے ، اس لیے زبان اس کی بند ہے اور وہ انتہائی مایوسی و دل شکستگی کی حالت میں حیران و پریشان کھڑا ہے ۔ اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں مجرمین سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دنیا میں قتل ، چوری ، ڈاکے اور اسی طرح کے دوسرے جرائم کیے ہیں ، بلکہ وہ سب لوگ مراد ہیں جنہوں نے خدا سے بغاوت کی ہے ، اس کے رسولوں کی تعلیم و ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے ، آخرت کی جواب دہی کے منکر یا اس سے بے فکر رہے ہیں ، اور دنیا میں خدا کے بجائے دوسروں کی یا اپنے نفس کی بندگی کرتے رہے ہیں ، خواہ اس بنیادی گمراہی کے ساتھ انہوں نے وہ افعال کیے ہوں یا نہ کیے ہوں جنہیں عرف عام میں جرائم کہا جاتا ہے ۔ مزید برآں اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے خدا کو مان کر ، اس کے رسولوں پر ایمان لاکر ، آخرت کا اقرار کر کے پھر دانستہ اپنے رب کی نافرمانیاں کی ہیں اور آخر وقت تک اپنی اس باغیانہ روش پر ڈٹے رہے ہیں ۔ یہ لوگ جب اپنی توقعات کے بالکل خلاف عالم آخرت میں یکایک جی اٹھیں گے اور دیکھیں گے کہ یہاں تو واقعی وہ دسری زندگی پیش آگئی ہے جس کا انکار کر کے ، یا جسے نظر انداز کر کے وہ دنیا میں کام کرتے رہے تھے تو ان کے حواس باختہ ہوجائیں گے اور وہ کیفیت ان پر طاری ہوگی جس کا نقشہ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ کے الفاظ میں کھینچا گیا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:12) یوم۔ فعل محذوف کا مفعول۔ ای اذکر یوم۔ بعد میں آنے والے فعل کا ظرف بھی ہے۔ تقوم الساعۃ۔ قیامت برپا ہوگی۔ یبلس۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ ابلاس (افعال) مصدر۔ ناامید ہوں گے۔ چپ ہوں گے۔ رسوا ہوں گے۔ دلیل سے عاجز ہوکر یا غم و یاس کی وجہ سے خاموش ہوجانا ۔ ابلس الرجل اذا سکت وانقطعت حجتہ جب آدمی چپ ہوجائے اور اس کے دلائل ختم ہوجائیں اور وہ مزید کہنے سے عاجز ہوجائے تو کہتے ہیں ابلس الرجل۔ بعض کا خیال ہے کہ ابلیس بھی اسی سے مشتق ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

4 ۔ کیونکہ ان سے اپنے آپ کو بےقصور ثابت کرنے کے لئے کوئی جواب نہ بن پڑے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ یعنی کوئی معقول بات ان سے بن نہ پڑے گی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار جس دن کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے حضور پیش کرے گا اور اس دن مشرکین کی یہ حالت ہوگی۔ قیامت کے بارے میں مشرک اس لیے لاپرواہی کرتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جن کو میں رب تعالیٰ کا مقرب سمجھ کر پوجتا ہوں اور ان کے سامنے نذر ونیاز پیش کرتا ہوں۔ وہ قیامت کے دن مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے کیونکہ یہ اس کے پیارے اور مقرب ہیں اسے لیے ان کی سفارش مسترد نہیں ہوگی۔ حالانکہ اس دن صورت حال اس قدر ہولناک ہوگی کہ جو لوگ دنیا میں یہ دعویٰ کرتے تھے کہ مرشد کے بغیر قیامت کے دن نجات نہ ہوگی اور مرید ہمارے جھنڈے تلے ہوں گے۔ جوں ہی اپنے مریدوں کو دیکھیں گے تو وہ ان سے برأت کا اعلان کردیں گے۔ مرید اپنے پیروں سے کہیں گے کہ تم تو ہماری بخشش کے دعوے کیا کرتے تھے اور تمہی نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ جواب میں پیر کہیں گے کہ ہم نے تمہیں گمراہ نہیں کیا تم تو خود ہی گمراہی کو پسند کرتے تھے۔ لہٰذا آج ہم تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ جونہی مرید اپنے پیروں، ور کر اپنے لیڈروں اور عابد اپنے معبودوں سے مایوس ہوں گے تو وہ بھی ان سے کہیں گے ہم بھی تمہیں بڑا نہیں مانتے لیکن اس وقت کسی کو انکار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔۔ تفسیر بالقرآن معبودوں کا اپنی عبادت سے انکار کرنا : ١۔ قیامت کے دن معبود اپنی عبادت کا انکار کردیں گے۔ (یونس : ٢٨) ٢۔ قیامت کے دن مشرک اپنے شرکاء کو دیکھ کر کہیں گے کہ ہم ان کی عبادت کرتے تھے مگر معبود انکار کردیں گے۔ (النحل : ٨٦) ٣۔ قیامت کے دن مشرک اپنے معبودوں کو دیکھ کر کہیں گے ہمیں یہ گمراہ کرنے والے تھے۔ (القصص : ٦٣) ٤۔ قیامت کے دن پیر اپنے مریدوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ (البقرۃ : ١٦٦) ٥۔ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے معبودوں کو پکارو لیکن ان کے معبود ان کی پکار کا کوئی جواب نہیں دیں گے۔ ( الکہف : ٥٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویوم تقوم الساعۃ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (12 – 16) یہ ہے وہ گھڑی جس سے لوگ غافل ہیں اور جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ یہ دیکھو وہ آگئی اور ذرا دیکھو اس کا منظر ، یہ ہے برپا ہوگئی وہ۔ ذرا مجرمین کو دیکھو کس طرح حیران و پریشان ہیں۔ کس قدر مایوس ہیں ، ان کو نجات کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کو رہائی کی کوئی امید ہے۔ وہ شرکاء اور سفارشی جو انہوں نے دنیا کی زندگی میں بنا رکھے تھے اور جن سے وہ دھوکہ کھا کر گمراہ ہوگئے تھے ، ان کی جانب سے اب نہ اقتدار میں کوئی شرکت ہوگی اور نہ وہ سفارش کرسکیں گے ، بلکہ وہ تو ان لوگوں کی طرف سے شرک کرنے اور ان کی بندگی کرنے سے صاف صاف انکار کردیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان احمقوں نے ہمیں اللہ رب العالمین کے ساتھ شریک کیا ہے۔ چناچہ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان یوں تفریق کردی جاتی ہے اور دونوں کے راستے جدا ہوجاتے ہیں۔ فاما الذین ۔۔۔۔۔ روضۃ یحبرون (30: 15) ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ ایک باغ میں شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے “۔ وہاں ان کو وہی صورت حال درپیش ہوگی جس سے وہ خوش ہوں گے۔ ان کے ضمیر میں فرحت پیدا ہوگی اور ان کے دل کو مسرت حاصل ہوگی۔ واما الذین کفروا ۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (30: 16) ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا وہ عذاب میں حاضر رہیں گے “۔ یہ ہے آخری انجام نیکوکاروں اور بدکاروں کا۔ اب عالم آخرت کی سیر اور منظر سے ہم پھر واپس اس دنیا میں آجاتے ہیں۔ اس کائنات اور اس کے اندر زندگی اور اس کے اسرار و رموز اور عجائبات و کرامات کی سیر شروع ہوتی ہے۔ فی الواقعہ یہ کائنات ایک دلچسپ تفریح گاہ ہے۔ آغاز سفر صبح و شام اللہ کی حمد سے ہوتا ہے کہ صبح و شام کے مناظر کو ذرا دیکھو کس قدر دلفریب مناظر ہوتے ہیں۔ فسبحن اللہ حین ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (17 – 27) ” پس تسبیح کرو اللہ کی جب کہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔ آسمانوں اور زمین میں اسی کے لئے حمد ہے اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے سپہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔ وہ زندہ کو مردے میں سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے۔ اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں) پھیلتے چلے جا رہے ہو۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان حجت اور رحمت پیدا کردی۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کی پیدائش ، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کیلئے۔ اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے ، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جوں ہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں ، اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ وہی اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ یہ اس کائنات کا نہایت ہی گہرا اور عظیم مطالعاتی سفر ہے۔ اس کائنات کی دوریوں اور گہرائیوں تک۔ انسانی توائے مشاہدہ کو صبح و شام کے مناظر کی سیر کرائی جاتی ہے۔ زمین کے مناظر اور آسمانوں کے مناظر ، صبح و شام کے علاوہ پھر دوپہر کی دنیا۔ ان آفاق و مناظر میں حیات و ممات اور بہاروخزاں کی کا رستانیاں دکھائی جاتی ہیں ، ان خوشگوار فضاؤں میں انسان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ ذرا اپنی تخلیق پر غور کرے ، اپنی فطرت کے رجحانات اور میلانات کا مشاہدہ کرے۔ اپنی جسمانی اور روحانی قوتوں اور ان کی کشاکش کو ذرا دیکھے۔ اس دنیا میں ہر چیز جوڑے جوڑے ہیں۔ ان جوڑوں کی باہمی محبت کو دیکھے ، اور زوجین کے رجحانات و میلانات اور ان کے قوائے فطرت کو ڈرا دیکھے اور اس کائنات کے زمین و آسمان ، باغ و راغ اور رنگ ڈھنگ اور پھر انسانوں کی شکلیں ، ان کے رنگ اور ان کی ہزار ہا زبانیں اور پھر انسان کی بیداری ، اس کی ہشیاری اور اس کی نیند اور اس کی جدوجہد اور اس کا آرام ، پھر اس طبیقی کائنات میں طوفان باد باران اور برق و بادل اور پھر لوگوں کا ان کو چاہنا اور ان سے ڈرنا ، اور پھر زمین کی مردنی اور روئیدگی اور پھر زندگی اور بہار اور پھر بحیثیت مجموعی اس کائنات کا قیام اور گردش اور نظام و انتظام ، یہ سب کام اللہ کے سوا اور کون کرسکتا ہے۔ یہ اللہ ہی تو ہے جس کی یہ تجلیات ہیں۔ اس کے لئے یہ سب کام بہت ہی آسان ہیں۔ وہی ہے جس نے ان اشیاء کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جو ان کو دوبارہ پیدا کرے گا اور دوبارہ پیدا کرنا اس کے لئے بہت ہی آسان ہے۔ آسمانوں اور زمین میں ذات باری کے اعلیٰ مشاہد موجود ہیں جو بےمثال ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12:۔ اثبات قیامت کے بعد قیامت کے بعد قیامت کے دن مجرمین اور مومنین کے احوال کا ذکر کیا گیا۔ یہ مجرمین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ قیامت کے دن مجرمین ہر طرف سے مایوس و ناامید ہوں گے۔ پلے میں کوئی عمل نہیں ہوگا شرک کی وجہ سے تمام اعمال ضائع ہوچکے ہوں گے اور جن معبودوں کی سفارش پر اعتماد تھا وہ بھی کام نہ آئیں گے اور اللہ کے عذاب سے ان کو بچا نہ سکیں گے اور اس وقت انہیں یقین ہوگا کہ دنیا میں جن کو کارساز اور شفیع غالب سمجھ کر پوجتے رہے وہ تو عبادت کے لائق ہی نہ تھے اور نہ وہ کارسازی اور مشکل کشا ہی تھے۔ ولم یکن لھم من شرکاء ھم شرکاء سے تمام معبودان غیر اللہ مراد ہیں جن کو مشرکین کارساز اور سفارشی سمجھ کر پکارا کرتے تھے۔ من شرکاءھم من الذین عبدوھم من دون اللہ (مدارک ج 3 ص 205) شفعاء یجیرونھم من عذاب اللہ تعالیٰ کما کانوا یزعمونہ (ابو لاسعود ج 6 ص 713) ۔ امام مقاتل فرماتے ہیں شرکاء سے ملائکہ مراد ہیں جنہٰں مشرکین سفارشی سمجھتے تھے۔ وقال مقاتل الملائکۃ (علیہم السلام) (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

12۔ اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو اس دن مجرم لوگ مایوس ہو کر رہ جائیں گے۔ ابلاس کے معنی ہیں مایوسی ، رسوائی ، حیرت ، مطلب یہ ہے کہ قیامت جب قائم ہوجائے گی تو آس توڑ دیں گے پہلے سے منکر تھے اب وہ چیز سامنے آجائے گی تو سوائے رسوائی اور مایوسی کے اور کیا ہوگا ۔