Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 20

سورة الروم

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖۤ اَنۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَاۤ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ تَنۡتَشِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾

And of His signs is that He created you from dust; then, suddenly you were human beings dispersing [throughout the earth].

اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر ( چلتے پھرتے ) پھیل رہے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Among the Signs of Allah Allah says: وَمِنْ ايَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ... And among His signs is this that He created you from dust, -- which speak of His might and power, is the fact that He created your father Adam out of dust. ... ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ and then -- behold you are human beings scattered! So man's origins lie in dust, then in a despised liquid, then he is formed and becomes a clot, then a lump of flesh, then bones in the form of a human being. Then Allah clothes the bones with flesh. Then the soul is breathed into him and he can hear and see. Then he comes forth from his mother's womb, small and weak, but the longer he lives, the stronger he becomes, until he reaches the age where he can build cities and strongholds, and he travels to different lands and across the seas, earning a living and amassing wealth, and he is smart and intelligent and crafty, with ideas and opinions of his own, and each one is able to achieve great things in this world and in the Hereafter according to his individual means. Glory be to the One Who has enabled them and made it easy for them to learn all kinds of skills for earning a living, and has caused them to vary in their levels of knowledge and intellectual ability, and in how handsome or ugly, rich or poor they are, and in whether they are blessed and doomed. Allah says: وَمِنْ ايَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ And among His signs is this that He created you from dust, and then -- behold you are human beings scattered! Imam Ahmad recorded that Abu Musa said, "The Messenger of Allah said: إِنَّ اللهَ خَلَقَ ادَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيع الاَْرْضِ فَجَاءَ بَنُو ادَمَ عَلَى قَدْرِ الاَْرْضِ جَاءَ مِنْهُمُ الاَْبْيَضُ وَالاَْحْمَرُ وَالاَْسْوَدُ وَبَيْنَ ذَلِكَ وَالْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَبَيْنَ ذَلِك Allah created Adam from a handful taken from throughout the earth. Hence the sons of Adam vary as the earth varies, so they are white and red and black and (colors) in between, evil and good, easy-going or difficult -- or something in between." This was also recorded by Abu Dawud and At-Tirmidhi, who said, "This Hadith is Hasan Sahih." Allah said:

بتدریج نظام حیات فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے باپ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ تم سب کو اس نے بےوقعت پانی کے قطرے سے پیدا کیا ۔ پھر تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں نطفے سے خون بستہ کی شکل میں پھر گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں ڈھال کر پھر ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں کو گوشت پہنایا ۔ پھر روح پھونکی ، آنکھ ، کان ، ناک پیدا کئے ماں کے پیٹ سے سلامتی سے نکالا ، پھر کمزوری کو قوت سے بدلا ، دن بدن طاقتور اور مضبوط قدآور زورآور کیا ، عمر دی حرکت وسکون کی طاقت دی اسباب اور آلات دئیے اور مخلوق کا سردار بنایا اور ادھر سے ادھر پہنچنے کے ذرائع دئیے ۔ سمندروں کی زمین کی مختلف سواریاں عطا فرمائیں عقل سوچ سمجھ تدبر غور کے لیے دل ودماغ عطا فرمائے ۔ دنیاوی کام سمجھائے رزق عزت حاصل کرنے لے طریقے کھول دئیے ۔ ساتھ ہی آخرت کو سنوارنے کا علم اور دنیاوی علم بھی سکھایا ۔ پاک ہے وہ اللہ جو ہر چیز کا صحیح اندازہ کرتا ہے ہر ایک کو ایک مرتبے پر رکھتا ہے ۔ شکل وصورت میں بول چال میں امیری فقیری میں عقل وہنر میں بھلائی برائی میں سعادت وشقات میں ہر ایک کو جداگانہ کردیا ۔ تاکہ ہر شخص رب کی بہت سی نشانیاں اپنے میں اور دوسرے میں دیکھ لے ۔ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمام زمین سے ایک مٹھی مٹی کی لیکر اس سے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ۔ پس زمین کے مختلف حصوں کی طرح اولاد آدم کی مختلف رنگتیں ہوئیں ۔ کوئی سفید کوئی سرخ کوئی سیاہ کوئی خبیث کوئی طیب کوئی خوش خلق کوئی بدخلق وغیرہ ۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قدرت یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے کہ وہ تمہاری بیویاں بنتی ہیں اور تم ان کے خاوند ہوتے ہو ۔ یہ اس لئے کہ تمہیں ان سے سکوں وراحت آرام وآسائش حاصل ہو ۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیویاں پیدا کی تاکہ وہ اس کی طرف راحت حاصل کرے ۔ حضرت حوا حضرت آدم کی بائیں پسلی سے جو سب سے زیادہ چھوٹی ہے پیدا ہوئی ہیں پس اگر انسان کا جوڑا انسان سے نہ ملتا اور کسی اور جنس سے ان کا جوڑا بندھتا تو موجودہ الفت ورحمت ان میں نہ ہوسکتی ۔ یہ پیار اخلاص یک جنسی کی وجہ سے ہے ۔ ان میں آپس میں محبت مودت رحمت الفت پیار اخلاص رحم اور مہربانی ڈال دی پس مرد یا تو محبت کی وجہ سے عورت کی خبر گیری کرتا ہے یاغم کھاکر اس کا خیال رکھتا ہے ۔ اس لئے کہ اس سے اولاد ہو چکی ہے اس کی پرورش ان دونوں کے میل ملاپ پر موقوف ہے الغرض بہت سی وجوہات رب العلمین نے رکھ دی ہیں ۔ جن کے باعث انسان با آرام اپنے جوڑے کے ساتھ زندگی گذارتا ہے ۔ یہ بھی رب کی مہربانی اور اس کی قدرت کاملہ کی ایک زبردست نشانی ہے ۔ ادنی غور سے انسان کا ذہن اس تک پہنچ جاتا ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

201اذا فجائیہ ہے مقصود اس سے ان اطوار کی طرف اشارہ ہے جن سے گزر کر بچہ پورا انسان بنتا ہے جس کی تفصیل قرآن میں دوسرے مقامات پر بیان کی گئی ہے تَنْتَشِرُو نَ سے مراد انسان کا کسب معاش اور دیگر حاجات و ضروریات بشریہ کے لئے چلنا پھرنا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] انسان کیا ہے ؟ چند عناصر کا مجموعہ جو سطح ارضی پر ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ مثلاً سوڈی، کیلشم، کاربن، اور چند دوسرے نمکیات اور یہ انسان میں کتنی کتنی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ بھی حضرت انسان نے پتہ لگا لیا ہے مگر انھیں عناصر کو اسی مقادر میں لے کر ایک زندہ انسان پیدا کردینا اس کی بساط اور اس کی سمجھ سے باہر ہے۔ روح کی چیز ہے، کہاں سے آتی ہے اور کب آتی ہے۔ یہ سمجھنا بھی ناممکنات سے ہے۔ پھر اس مٹی کے پتلے کے اندر اللہ تعالیٰ جذبات، احساسات، عقل، شعور، ارادہ، اختیار اور بیشمار قوتیں پیدا کردی ہیں جو از خود کام کر رہی ہیں اور اسی میں انسان کے ارادہ کو ذرہ بھر دخل نہ ہوگا۔ سامنے سے کسی خطرناک چیز کے منہ پر گرنے کا خطرہ ہو تو انسان کے سوچنے سے پہلے ہی اس کی آنکھ کے پپوٹے بند ہو کر اس کی آنکھوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ خوراک ہضم ہو کر معدہ خالی ہوجائے تو از خود بھوک لگ جاتی ہے۔ اور انسان مجبور ہوتا ہے کہ کچھ کھائے۔ بدن کو پانی کی ضرورت ہو تو انسان پانی پینے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسی طرح ہضم شدہ خوراک کے فضلات کے دفع کرنے کے لئے طبیعت اس کو مجبور کردیتی ہے کہ اٹھ کر سب سے پہلے یہ کام کرے۔ پھر اس آدم کے مٹی کے پتلے سے ہی اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے اربوں کی تعداد میں انسان پیدا کردیئے۔ جن میں سے ہر ایک کی شکل و صورت، آواز، لب و لہجہ، حتیٰ کہ کھانسنے کی آواز دوسرے سے الگ ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ نے ایک مشین لگا دی ہو جس سے ایک ہی ماڈل کے انسان بن کر نکل رہے ہوں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی انفرادی توجہ ہوتی ہے۔ کیا اس تخلیق کے عظیم کارنامہ کو اتفاقات کا نتیجہ کہا جاسکتا ہے ؟ جیسا کہ مادہ پرستوں کا خیال ہے۔ اور یہ اتفاقات کا ہی نتیجہ ہو تو ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ایک شخص کی ایک ٹانگ لمبی ہو اور دوسری چھوٹی ہو۔ یا ایک آنکھ کی پتلی کالی ہو اور دوسری کی نیلی ہو۔ اختلاف اور یکسانیت کا یہ حسین امتزاج اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ انسان کو بنانے والے قادر مطلق بھی ہے اور حکیم مطلق بھی اور وہ صرف ایک ہی ہوسکتی ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ ۔۔ : یہاں سے چھ آیات تک ایسی نشانیوں یعنی عجیب و غریب چیزوں کا بیان ہے جو ایک تو اوپر کے سلسلہ کلام کے مطابق اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ مرنے کے بعد لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے ان کا محاسبہ کرے اور انھیں جزا و سزا دے۔ دوسرے وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ کائنات نہ خود بنی ہے، نہ خودبخود چل رہی ہے اور نہ ہی ایک سے زیادہ ہستیوں نے اسے بنایا ہے، بلکہ اسے اکیلے اللہ نے پیدا فرمایا ہے، وہی اسے چلا رہا ہے، اس کارخانہ ہستی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔ یہ چھ کی چھ آیات ”ۧوَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ“ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے عجائب قدرت میں سے یہ چند آیات ہیں، تمام آیات کا شمار ہی نہیں، مگر سمجھنے اور ایمان لانے کے لیے یہی نشانیاں کافی ہیں۔ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ۔۔ : ” تُرَابٍ “ پر تنوین تقلیل و تحقیر کی ہے، اس لیے ترجمہ ” حقیر مٹی “ کیا گیا ہے۔ اپنی نشانیوں میں سب سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر فرمایا، کیونکہ انسان دوسری تمام چیزوں سے زیادہ اپنے آپ کو جانتا ہے اور اسے اپنے وجود پر غور کسی بھی دوسری چیز پر غور سے زیادہ آسان ہے۔ ” اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ “ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ تمہیں حقیر مٹی سے پیدا کرنے سے مراد یہ ہو کہ تمہارے باپ آدم کو حقیر مٹی سے پیدا کیا۔ ” ثم “ (پھر) کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ اسے اکیلے ہی کو بنا کر نہیں چھوڑ دیا بلکہ نطفے اور بیضے کے ملاپ کے ساتھ اس کے توالد و تناسل کا ایسا عظیم الشان سلسلہ جاری کیا کہ تم بشر کی صورت میں ساری زمین پر پھیل رہے ہو اور سیکڑوں ہزاروں سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ لفظ ” اذا “ (اچانک) عموماً ” فاء “ کے بعد آتا ہے، یہاں ” ثم “ کے بعد آیا ہے، جس میں تاخیر کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ اس میں اس تاخیر اور ان مراحل کی طرف بھی اشارہ ہے جو آدم (علیہ السلام) کی مٹی سے تخلیق اور اس کے بعد کے انسانوں کے وجود میں آنے کے دوران پیش آتے ہیں، مثلاً نطفہ، علقہ اور مضغہ وغیرہ۔ دوسرا مطلب یہ کہ ” تمہیں حقیر مٹی سے پیدا کیا “ سے مراد یہ ہو کہ اس نے تم سب کو حقیر مٹی سے پیدا کیا، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک نشانی ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا، جو مردہ ہے، جس میں زندگی کا نام و نشان نہیں۔ ” مٹی “ کا مزاج سرد خشک ہے، وہ حرارت سے خالی ہے اور رطوبت سے بھی، جن سے حیات وجود میں آتی ہے۔ تمہارا وجود اور ان تمام اشیاء کا وجود جن سے تمہاری زندگی قائم ہے، اسی بےجان مٹی سے قائم ہے۔ کیونکہ انسان کی پیدائش نطفہ سے ہے، جو ظاہر ہے غذا سے بنتا ہے اور غذا نباتات سے بنتی ہے یا حیوانات کے گوشت، دودھ اور گھی سے، ان حیوانات کی زندگی بھی نباتات یا ایسی چیزوں پر موقوف ہے جو زمین سے پیدا ہوتی ہیں۔ غرض تمہارا وجود اس مردہ مٹی سے ہے جس سے پیدا ہونے کے مرحلے گزارنے کے بعد تم اچانک بشر کی صورت میں زمین میں پھیل رہے ہو۔ ” اچانک “ اس لیے فرمایا کہ تخلیق کے تمام مراحل لوگوں کی نگاہوں سے مخفی ہوتے ہیں، تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد ماں کے پیٹ سے بچے اور انڈے سے چوزے کا ظہور اچانک ہوتا ہے۔ ان مراحل کے لیے دیکھیے سورة حج (٥) اور سورة مومنون (١٢، ١٣) ۔ تَنْتَشِرُوْنَ : یعنی بےجان مٹی سے پیدا کر کے تمہیں ایسی بھرپور زندگی عطا فرمائی کہ تم پوری زمین میں پھیل گئے۔ تم نے محل، قلعے، آبادیاں اور شہر تعمیر کیے، خشکی، سمندر اور فضا میں سفر کے ذریعے سے زمین کا کونا کونا چھان مارا۔ شہروں میں دیکھو یا صحراؤں میں، جنگلوں میں دیکھو یا پہاڑوں کی چوٹیوں پر یا سمندروں کی وسعتوں میں، ہر جگہ انسان کا وجود نظر آجائے گا۔ یہ سب اس وحدہ لا شریک لہ کی قدرت کا کرشمہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary After narrating the incident of the war between Rum and Persia in the beginning of Surah Ar-Rum, it was declared that the cause of the misguidance of the infidels and their heedlessness towards the truth was their excessive love for material life and paying no heed to the Hereafter. After that, any possible misgiving regarding resurrection on the Dooms Day and about the rewards and punishment after reckoning was clarified from different angles. Then it was suggested that one should, at the first place, look and ponder within his Self, and then should look around and note what had happened to the people who had lived before, and what was their end. After that Allah&s exclusive Omnipotence was described, in which no one is His partner. The obvious conclusion of all these facts and reasoning is that no one else but Allah is entitled to being worshipped, and what He has conveyed through His prophets about the Dooms Day, resurrection, reckoning, Paradise and Hell in the Hereafter should be believed in its totality. In the above verses six manifestations of His Omnipotence together with all-encompassing wisdom are described which are the signs of His incomparable power and wisdom. These realities are termed in these verses as |"signs|" which in the present context mean |"signs of the divine omnipotence|" First sign of divine omnipotence Man, the most distinguished among all creatures who is the ruler of the universe, is created from earth, which is the most inferior element among all the constituting elements of nature. Among the four well-known elements, that is water, fire, air and earth, the last named does not have the slightest sense, sensation or movement. All other elements have at least some movement, but the earth is devoid of that as well. However, this element is selected by Allah Ta’ ala for the creation of humans. Iblis (Shaitan) was misled by his arrogance as he regarded himself superior to man, since he is made of fire. What he failed to understand was that greatness and superiority is awarded by Allah Ta’ ala. He is free to award it to any one He chooses. Creation of man from earth is obvious with reference to ‘Adam (علیہ السلام) who is the father of all mankind. Since he was created from clay, the entire mankind, being his progeny, is created indirectly from clay. Every man&s creation from earth may also be explained by saying that every man or woman is created from human sperm which is constituted by different ingredients. The origin of most of these ingredients is nothing but earth.

خلاصہ تفسیر اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے ایک یہ (امر) ہے کہ تم کو مٹی سے پیدا کیا (یا تو اس طرح کہ آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا ہوئے جو مشتمل تھے تمام ذریت پر اور یا اس طرح کہ نطفہ کی اصل غذا ہے اور اس کی اصل عناصر ہیں جس میں جزو غالب مٹی ہے) پھر تھوڑے ہی روز بعد (کیا ہوا کہ) تم آدمی بن کر (زمین پر) پھیلے ہوئے پھرتے (نظر آتے) ہو اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ (امر) ہے کہ اس نے تمہارے (فائدے کے) واسطے تمہاری جنس کی بیبیاں بنائیں (اور وہ فائدہ یہ ہے کہ) تاکہ تم کو ان کے پاس آرام ملے اور تم میاں بی بی میں محبت اور ہمدردی پیدا کی، اس (امر مذکور) میں (بھی) ان لوگوں کے لئے (قدرت کی نشانیاں ہیں جو فکر سے کام لیتے ہیں (کیونکہ استدلال کے لئے فکر کی ضرورت ہے اور نشانیاں جمع اس لئے فرمایا کہ امر مذکور کئی امر پر مشتمل ہے) اور اسی کی قدرت کی) نشانیوں میں سے آسمان اور زمین کا بنانا ہے اور تمہارے لب و لہجہ اور رنگتوں کا الگ الگ ہونا ہے، (لب و لہجہ سے مراد یا لغات ہوں یا آواز و طرز گفتگو) اس (امر مذکور) میں (بھی) دانشمندوں کے لئے (قدرت کی) نشانیاں ہیں (یہاں بھی صیغہ جمع لانے کی وہی توجیہہ مذر ہو سکتی ہے اور اس کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے تمہارا سونا لیٹنا ہے رات میں اور دن میں (گو رات کو زیادہ اور دن کو کم ہو) اور اس کی روزی کو تمہارا تلاش کرنا ہے (دن کو زیادہ اور رات کو کم، اسی لئے دوسری آیات میں نیند کو رات کے ساتھ اور تلاش معاش کو دن کے ساتھ خاص کر کے بیان کیا گیا ہے) اس امر مذکور) میں (بھی) ان لوگوں کے لئے (قدرت کی) نشانیاں ہیں جو (دلیل کو توجہ سے) سنتے ہیں اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ (امر) ہے کہ وہ تم کو (بارش کے وقت) بجلی (چمکتی ہوئی) دکھلاتا ہے جس سے (اس کے گرنے کا) ڈر بھی ہوتا ہے اور (اس سے بارش کی) امید بھی ہوتی ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ (یعنی خشک) ہوجانے کے بعد زندہ (یعنی ترو تازہ) کردیتا ہے اس (امر مذکور) میں (بھی) ان لوگوں کے لئے (قدرت کی) نشانیاں ہیں جو عقل (نافع رکھتے ہیں) اور اسی کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے یہ (امر) ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم (یعنی ارادہ) سے قائم ہیں (اس میں بیان ہے کہ ان کے ابقاء کا اور اوپر خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں ذکر تھا ان کی ابتداء آفرنیش کا اور یہ تمام نظام عالم جو مذکور ہوا، یعنی تمہارا سلسلہ توالد و تناسل کا جاری ہونا اور باہم ازواج ہونا اور آسمان و زمین کا بہیئت کذائیہ موجود و قائم ہونا اور زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف اور لیل و نہار کے انقلاب میں خاص مصلحتوں کا ہونا اور بارش کا نزول اور اس کے مبادی و آثار کا ظہور وہ سب اسی وقت تک باقی ہیں جب تک دنیا کو باقی رکھنا مقصود ہے اور ایک روز یہ سب ختم ہوجائے گا) پھر (اس وقت یہ ہوگا کہ) جب تم کو پکار کر زمین میں سے بلاوے گا تو تم یکبارگی نکل پڑو گے (اور دوسرا نظام شروع ہوجائے گا جو مقصود مقام ہے) اور (اوپر دلائل قدرت سے معلوم ہوگیا ہوگا کہ) جتنے (فرشتے اور انسان وغیرہ) آسمان اور زمین میں موجود ہیں سب اسی کے (مملوک) ہیں (اور) سب اسی کے تابع (یعنی مسخر قدرت) ہیں اور (اس ثبوت و اختصاص قدرت کاملہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ) وہی ہے جو اول بار پیدا کرتا ہے (چنانچہ یہ مخاطبین کے نزدیک بھی مسلم تھا) پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا (جیسا کہ دلائل مذکورہ کے ساتھ خبر صادق کے مل جانے سے معلوم ہوا) اور یہ (دوبارہ پیدا کرنا) اس کے نزدیک (با اعتبار مخاطبین کے بادی النظر کے بہ نسبت اول بار پیدا کرنے کے) زیادہ آسان ہے (جیسا قدرت بشریہ کے اعتبار سے عادت غالبہ یہی ہے کہ کسی چیز کو پہلی بار کے بنانے سے دوسری بار بنانا سہل تر ہوتا ہے) اور آسمان اور زمین میں اسی کی شان (سب سے) اعلی ہے (یعنی نہ آسمانوں میں کوئی ایسا بڑا ہے اور نہ زمین میں کقولہ وَلَهُ الْكِبْرِيَاۗءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ) اور وہ (بڑا) زبردست (یعنی قادر مطلق اور) حکمت والا ہے چناچہ اوپر کے تصرفات سے قدرت اور حکمت دونوں ظاہر ہیں، پس وہ اپنی قدرت سے اعادہ کرے گا اور اس اعادہ تخلیق میں جتنا توقف ہو رہا ہے اس میں حکمت و مصلحت ہے، پس قدرت و حکمت کے ثبوت کے بعد فی الحال واقع نہ ہونے سے انکار کرنا جہل ہے۔ ) معارف و مسائل سورة روم کے شروع میں روم وفارس کی جنگ کا ایک واقعہ سنانے کے بعد منکرین اور کفار کی گمراہی اور حق بات کے سننے سمجھنے سے بےپروائی کا سبب ان کا صرف دنیا کی فانی زندگی کو اپنا مقصد حیات بنا لینا اور آخرت کی طرف کوئی توجہ نہ دینا قرار دیا گیا تھا اس کے بعد قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے اور حساب کتاب اور جزاء و سزا کے واقع ہونے پر جو سطحی نظر والوں کو استبعاد ہوسکتا ہے، اس کا جواب مختلف پہلوؤں سے دیا گیا ہے، پہلے خود اپنے نفس میں غور و فکر کی پھر گرد و پیش میں گذرنے والی اقوام کے حالات اور ان کے انجام میں نظر کرنے کی دعوت دی گئی۔ پھر حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ مطلقہ کا ذکر فرمایا جس میں اس کا کوئی سہیم و شریک نہیں، ان سب شواہد و دلائل کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مستحق عبادت صرف اس کی یکتا ذات کو قرار دیا جائے اور اس نے جو اپنے انبیاء کے ذریعہ قیامت قائم ہونے اور تمام اولین و آخرین کے دوبارہ زندہ ہو کر حساب کتاب کے بعد جنت یا دوزخ میں جانے کی خبر دی ہے اس پر ایمان لایا جائے۔ مذکور الصدر آیات میں اسی قدرت کاملہ اور اس کے ساتھ حکمت بالغہ کے چھ مظاہر آیات قدرت کے عنوان سے بیان فرمائے گئے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں۔ پہلی آیت قدرت : انسان جیسے اشرف المخلوقات اور حاکم کائنات کو مٹی سے حس و حرکت اور شعور و ادراک کا کوئی شمہ نظر نہیں آتا، کیونکہ مشہور چار عناصر آگ، پانی، ہوا، اور مٹی، میں سے مٹی کے سوا اور سب عناصر میں کچھ نہ کچھ حرکت تو ہے، مٹی اس سے بھی محروم ہے، قدرت نے تخلیق انسانی کے لئے اس کو منتخب فرمایا۔ ابلیس کی گمراہی کا سبب یہی بنا کہ اس نے آگ کے عنصر کو مٹی سے اشرف و اعلی سمجھ کر تکبر اختیار کیا اور یہ نہ سمجھا کہ شرافت اور بزرگی خالق ومالک کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے بڑا بنا سکتا ہے۔ اور انسان کی تخلیق کا مادہ مٹی ہونا حضرت آدم (علیہ السلام) کے اعتبار سے ظاہر ہی ہے اور وہ چونکہ تمام بنی آدم کے وجود کی اصل بنیاد ہیں اس لئے دوسرے انسانوں کی تخلیق بالواسطہ ان ہی کی طرف منسوب کرنا کچھ بعید نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ عام انسان جو توالد و تناسل کے سلسلہ سے نطفہ کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں ان میں بھی نطفہ جن اجزاء سے مرکب ہوتا ہے ان میں مٹی کا جزو غالب ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 6 وَمِنْ اٰيٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ۝ ٢٠ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا بذاتہ اس نے ادراک نہ کیا ہو مگر یقین کرلیاجائے کہ اس نے اصل شے کا بھی ادراک کرلیا کیونکہ دونوں کا حکم ایک ہے اور لزوم کا یہ سلسلہ محسوسات اور معقولات دونوں میں پایا جاتا ہے چناچہ کسی شخص کو معلوم ہو کہ فلاں راستے پر فلاں قسم کے نشانات ہیں اور پھر وہ نشان بھی مل جائے تو اسے یقین ہوجائیگا کہ اس نے راستہ پالیا ہے ۔ اسی طرح کسی مصنوع کے علم سے لامحالہ اس کے صانع کا علم ہوجاتا ہے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے ترب التُّرَاب معروف، قال تعالی: أَإِذا كُنَّا تُراباً [ الرعد/ 5] ، وقال تعالی: خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] ، یالَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] . ( ت ر ب ) التراب کے معنی مٹی کے ہیں ۔ قرآن میں ہے خَلَقَكُمْ مِنْ تُرابٍ [ فاطر/ 11] کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ۔ یالَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] کہ اے کاش کے میں مٹی ہوتا ۔ بشر وخصّ في القرآن کلّ موضع اعتبر من الإنسان جثته وظاهره بلفظ البشر، نحو : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] ، ( ب ش ر ) البشر اور قرآن میں جہاں کہیں انسان کی جسمانی بناوٹ اور ظاہری جسم کا لحاظ کیا ہے تو ایسے موقع پر خاص کر اسے بشر کہا گیا ہے جیسے فرمایا : وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْماءِ بَشَراً [ الفرقان/ 54] اور وہی تو ہے جس نے پانی سے آدمی پیدا کیا ۔ إِنِّي خالِقٌ بَشَراً مِنْ طِينٍ [ ص/ 71] کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں ۔ نشر النَّشْرُ ، نَشَرَ الثوبَ ، والصَّحِيفَةَ ، والسَّحَابَ ، والنِّعْمَةَ ، والحَدِيثَ : بَسَطَهَا . قال تعالی: وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ [ التکوير/ 10] ، وقال : وهو الّذي يرسل الرّياح نُشْراً بين يدي رحمته [ الأعراف/ 57] «2» ، وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ [ الشوری/ 28] ، وقوله : وَالنَّاشِراتِ نَشْراً [ المرسلات/ 3] أي : الملائكة التي تَنْشُرُ الریاح، أو الریاح التي تنشر السَّحابَ ، ويقال في جمع النَّاشِرِ : نُشُرٌ ، وقرئ : نَشْراً فيكون کقوله :«والناشرات» ومنه : سمعت نَشْراً حَسَناً. أي : حَدِيثاً يُنْشَرُ مِنْ مَدْحٍ وغیره، ونَشِرَ المَيِّتُ نُشُوراً. قال تعالی: وَإِلَيْهِ النُّشُورُ [ الملک/ 15] ، بَلْ كانُوا لا يَرْجُونَ نُشُوراً [ الفرقان/ 40] ، وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلانُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وأَنْشَرَ اللَّهُ المَيِّتَ فَنُشِرَ. قال تعالی: ثُمَّ إِذا شاءَ أَنْشَرَهُ [ عبس/ 22] ، فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] وقیل : نَشَرَ اللَّهُ المَيِّتَ وأَنْشَرَهُ بمعنًى، والحقیقة أنّ نَشَرَ اللَّهُ الميِّت مستعارٌ من نَشْرِ الثَّوْبِ. كما قال الشاعر : 440- طَوَتْكَ خُطُوبُ دَهْرِكَ بَعْدَ نَشْرٍ ... كَذَاكَ خُطُوبُهُ طَيّاً وَنَشْراً «4» وقوله تعالی: وَجَعَلَ النَّهارَ نُشُوراً [ الفرقان/ 47] ، أي : جعل فيه الانتشارَ وابتغاء الرزقِ كما قال : وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ الآية [ القصص/ 73] ، وانْتِشَارُ الناس : تصرُّفهم في الحاجاتِ. قال تعالی: ثُمَّ إِذا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ [ الروم/ 20] ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا[ الأحزاب/ 53] ، فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ [ الجمعة/ 10] وقیل : نَشَرُوا في معنی انْتَشَرُوا، وقرئ : ( وإذا قيل انْشُرُوا فَانْشُرُوا) [ المجادلة/ 11] «1» أي : تفرّقوا . والانْتِشَارُ : انتفاخُ عَصَبِ الدَّابَّةِ ، والنَّوَاشِرُ : عُرُوقُ باطِنِ الذِّرَاعِ ، وذلک لانتشارها، والنَّشَرُ : الغَنَم المُنْتَشِر، وهو للمَنْشُورِ کالنِّقْضِ للمَنْقوض، ومنه قيل : اکتسی البازي ريشا نَشْراً. أي : مُنْتَشِراً واسعاً طویلًا، والنَّشْرُ : الكَلَأ الیابسُ ، إذا أصابه مطرٌ فَيُنْشَرُ. أي : يَحْيَا، فيخرج منه شيء كهيئة الحَلَمَةِ ، وذلک داءٌ للغَنَم، يقال منه : نَشَرَتِ الأرضُ فهي نَاشِرَةٌ. ونَشَرْتُ الخَشَبَ بالمِنْشَارِ نَشْراً اعتبارا بما يُنْشَرُ منه عند النَّحْتِ ، والنُّشْرَةُ : رُقْيَةٌ يُعَالَجُ المریضُ بها . ( ن ش ر ) النشر کے معنی کسی چیز کو پھیلانے کے ہیں یہ کپڑے اور صحیفے کے پھیلانے ۔ بارش اور نعمت کے عام کرنے اور کسی بات کے مشہور کردیتے پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ [ التکوير/ 10] اور جب دفتر کھولے جائیں گے ۔ وهو الّذي يرسل الرّياح نُشْراً بين يدي رحمته [ الأعراف/ 57] اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامیدہو جانیکے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت ( یعنی بارش کے برکت ) کو پھیلا دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالنَّاشِراتِ نَشْراً [ المرسلات/ 3] اور بادلوں کو ( بھاڑ ) ( پہلا دیتی ہے ۔ میں ناشرات سے مراد وہ فرشتے ہن جو ہواؤں کے پھیلاتے ہیں یا اس سے وہ ہوائیں مراد ہیں جو بادلون کو بکھیرتی ہیں ۔ چناچہ ایک قرات میں نشرابین یدی رحمتہ بھی ہے جو کہ وہ الناشرات کے ہم معنی ہے اور اسی سے سمعت نشرا حسنا کا محاورہ ہے جس کے معنی میں نے اچھی شہرت سنی ۔ نشرالمیت نشودا کے معنی ہیت کے ( ازسرنو زندہ ہونے کے ہیں ) چناچہ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ النُّشُورُ [ الملک/ 15] اسی کے پاس قبروں سے نکل کر جانا ہے بَلْ كانُوا لا يَرْجُونَ نُشُوراً [ الفرقان/ 40] بلکہ ان کو مرنے کے بعد جی اٹھنے کی امیدہی نہیں تھی ۔ وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے ۔ اور نہ جینا اور نہ مرکراٹھ کھڑے ہونا ۔ انشر اللہ المیت ک معنی میت کو زندہ کرنے کے ہیں۔ اور نشر اس کا مطاوع آتا ہے ۔ جس کہ معنی زندہ ہوجانے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ إِذا شاءَ أَنْشَرَهُ [ عبس/ 22] پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا ۔ فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کردیا ۔ بعض نے کہا ہے ک نشر اللہ المیت وانشرہ کے ایک ہی معنی میں ۔ لیکن درحقیقت نشر اللہ المیت نشرالثوب کے محاورہ سے ماخوذ ہے شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (425) طوتک خطوب دھرک بعد نشر کذاک خطوبہ طیا ونشرا تجھے پھیلانے کے بعد حوادث زمانہ نے لپیٹ لیا اس طرح حوادث زمانہ لپیٹنے اور نشر کرتے رہتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] اور دن کو اٹھ کھڑا ہونے کا وقت ٹھہرایا ۔ میں دن کے نشوربنانے سے مراد یہ ہے کہ اس کا روبار کے پھیلانے اور روزی کمانے کے لئے بنایا ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ الآية [ القصص/ 73] اور اس نے رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا ۔ تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو ۔ اور انتشارالناس کے معنی لوگوں کے اپنے کاروبار میں لگ جانے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ إِذا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ [ الروم/ 20] پھر اب تم انسان ہوکر جابجا پھیل رہے ہو ۔ فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا[ الأحزاب/ 53] تو جب کھانا کھا چکو تو چل دو ۔ فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ [ الجمعة/ 10] پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ نشروا بمعنی انتشروا کے آتا ہے۔ چناچہ آیت کریمہ : وإذا قيل انْشُرُوا فَانْشُرُوا) [ المجادلة/ 11] اور جب کہاجائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑا ہوا کرو ۔ میں ایک قراءت فاذا قیل انشروافانشروا بھی ہے ۔ یعنی جب کہاجائے کہ منتشر ہوجاؤ تو منتشر ہوجایا کرو ۔ الانتشار کے معنی چوپایہ کی رگوں کا پھول جانا ۔۔ بھی آتے ہیں ۔ اور نواشر باطن ذراع کی رگوں کو کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بدن میں منتشر ہیں ۔ النشر ( ایضا) پھیلنے والے بادل کو کہتے ہیں ۔ اور یہ بمعنی منشور بھی آتا ہے جیسا کہ نقض بمعنی منقوض آجاتا ہے اسی سے محاورہ ہے ؛اکتسی البازی ریشا نشرا ۔ یعنی باز نے لمبے چوڑے پھیلنے والے پروں کا لباس پہن لیا ۔ النشر ( ایضا) خشک گھاس کو کہتے ہیں ۔ جو بارش کے بعد سرسبز ہوکر پھیل جائے اور اس سے سر پستان کی سی کونپلیں پھوٹ نکلیں یہ گھاس بکریوں کے لئے سخت مضر ہوتی ہے ۔ اسی سے نشرت الارض فھی ناشرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی زمین میں نشر گھاس پھوٹنے کے ہیں ۔ شرت الخشب بالمنشار کے معنی آرے سے لکڑی چیرنے کے ہیں ۔ اور لکڑی چیر نے کو نشر اس لئے کہتے ہیں کہ اسے چیرتے وقت نشارہ یعنی پر ادہ پھیلتا ہے ۔ اور نشرہ کے معنی افسوں کے ہیں جس سے مریض کا علاج کیا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اس کی وحدانیت وقدرت اور اپنے نبی کو نبوت عطا کرنے کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ تمہیں آدم (علیہ السلام) سے اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا اور تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو اور پھر تم سب آدمی بن کر زمین پر فائدہ اٹھا رہے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آئندہ آیات کا اسلوب اور انداز بہت منفرد ہے۔ ان میں اللہ کی خلاقیّ کی علامات اور اس کی رحمت کے مظاہر کا ذکر تکرار کے ساتھ اس طرح ہوا ہے کہ ہر آیت کے آغاز میں وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اور آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ دہرائے گئے ہیں۔ قبل ازیں اس سے ملتا جلتا ا انداز ہم سورة النمل اور سورة الشعراء میں بھی دیکھ آئے ہیں۔ سورة النمل کے پانچویں رکوع میں بھی آفاقی و انفسی آیات الٰہیہ کا ذکر اسی طرح تکرار کے ساتھ کیا گیا ہے اور ہر آیت کے آخر میں ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِکے الفاظ آئے ہیں۔ جبکہ سورة الشعراء میں ایک تسلسل کے ساتھ عبرت انگیز تاریخی حقائق و بصائر کا ذکر ہوا ہے اور ہر واقعہ کے آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ کی تکرار ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

26 It should be noted that from here to the end of verse 27, the Signs of Allah that are being mentioned point, on the one hand, to the possibility and occurrence of the life hereafter, in the context of the foregoing discourse, and on the other, the same Sings also point to the reality that this universe is neither Godless nor under many gods, but One God alone is its Creator, Disposer, Master and Ruler, except for Whom there should be no other deity of man. Thus, this section (vv.20-27) is fully well connected, with the discourse preceding it and the discourse following it 27 That is. "The stuff from which man has been created is nothing but a few dead substances which are found in the earth, like carbon, calcium, sodium and a few other elements like them. With their combination a wonderful being, called man, has been raised up, and in him have been placed great powers of sentiments, consciousness, imagination, none of which can be traced back to any of the constituent substances of his physical being. Then, not only has just one man so risen up by a there accident, but in him has also been placed that wonderful procreative power by which millions and billions of human beings are coming continuously into being bearing the same physical structure and capabilities and possessing countless hereditary and personal characteristics. Therefore, O man! Does your intellect approve that this extremely wise creation has come into being of itself without the creative power of a Wise Creator? Can you say, being in your senses, that making a wonderful design of the creation of man and bringing it into effect and rendering the countless powers of the earth and heavens favourable and subservient to human life could be the result of the thinking and design of many gods? And will you be in your right senses when you think that the God Who has brought man into being from absolute nothingness, will not be able to raise the same man back to life after giving him death?"

سورة الروم حاشیہ نمبر : 26 خبردار رہنا چاہیے کہ یہاں سے رکوع کے خاتمہ تک اللہ تعالی کی جو نشانیاں بیان کی جارہی ہیں وہ ایک طرف تو اوپر کے سلسلہ کلام کی مناسبت سے حیات اخروی کے امکان و وقوع پر دلالت کرتی ہیں ، اور دوسری طرف یہی نشانیاں اس بات پر بھی دلالت کرتی ہیں کہ یہ کائنات نہ بے خدا ہے اور نہ اس کے بہت سے خدا ہیں ، بلکہ صرف ایک خدا اس کا تنہا خالق ، مدبر ، مالک اور فرمانروا ہے جس کے سوا انسانوں کا کوئی معبود نہیں ہونا چاہیے ۔ اس طرح یہ رکوع اپنے مضمون کے لحاظ سے تقریر ماسبق ما بعد دونوں کے ساتھ مربوط ہے ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 27 یعنی انسان کا مایہ تخلیق اس کے سوا کیا ہے کہ چند بے جان مادے ہیں جو زمین میں پائے جاتے ہیں ۔ مثلا کچھ کاربن ، کچھ کیلشیم ، کچھ سوڈیم اور ایسے ہی چند اور عناصر ۔ انہی کو ترکیب دے کر وہ حیرت انگیز ہستی بنا کھڑی کی گئی ہے جس کا نام انسان ہے اور اس کے اندر احساسات ، جذبات ، شعور ، تعقل اور تخیل کی وہ عجیب قوتیں پیدا کردی گئی ہیں جن میں سے کسی کا منبع بھی اس کے عناصر ترکیبی میں تلاش نہیں کیا جاسکتا ۔ پھر یہی نہیں کہ ایک انسان اتفاقا ایسا بن کھڑا ہوا ہو ، بلکہ اس کے اندر وہ عجیب تولیدی قوت بھی پیدا کردی گئی جس کی بدولت کروڑوں اور اربوں انسان وہی ساخت اور وہی صلاحیتیں لیے ہوئے بے شمار موروثی اور بے حد و حساب انفرادی خصوصیات کے حامل نکلتے چلے آرہے ہیں ۔ کیا تمہاری عقل یہ گواہی دیتی ہے کہ یہ انتہائی حکیمانہ خلقت کسی صانع حکیم کی تخلیق کے بغیر آپ سے آپ ہوگئی ہے؟ کیا تم بحالت ہوش و حواس یہ کہہ سکتے ہو کہ تخلیق انسان جیسا عظیم الشان منصوبہ بنانا اور اس کو عمل میں لانا اور زمین و آسمان کی بے حد و حساب قوتوں کو انسانی زندگی کے لیے سازگار کردینا بہت سے خداؤں کی فکر و تدبیر کا نتیجہ ہوسکتا ہے؟ اور کیا تمہارا دماغ اپنی صحیح حالت میں ہوتا ہے جب تم یہ گمان کرتے ہو کہ جو خدا انسان کو خالص عدم سے وجود میں لایا ہے وہ اسی انسان کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

7: یہاں سے آیت نمبر : ٣٧ تک اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان ہے، اس غرض کے لئے اللہ تعالیٰ نے کائنات میں پھیلی ہوئی اپنی قدرت کی بہت سی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے، اگر کوئی شخص حقیقت پسندی اور انصاف سے ان پر غور کرے تو اسے نظر آئے گا کہ ان میں سے ہر چیز گواہی دے رہی ہے کہ جس ذات نے کائنات کا یہ محیر العقول نظام بنایا ہے، وہ اپنی خدائی میں کسی شریک کا محتاج نہیں ہوسکتی، اور نہ یہ بات معقول ہے کہ اتنے عظیم الشان کارناموں کے بعد چھوٹے چھوٹے خداؤں کی ضرورت محسوس کرے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:20) ثم ازا : اذا مفاجاتیہ ہے۔ ثم تراخی فی الوقت کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ اور اس صورت میں معنی ہوں گے۔ کچھ مدت گزرنے کے بعد (تم آدمی بن کر زمین میں پھیل گئے ہو) یا یہ تراخی فی الرتبہ کے لئے بھی ہوسکتا ہے۔ بمعنی پھر تم اچانک (مٹی کے پتلے سے) بشر بن کر زمین میں پھیل گئے ہو۔ تنتشرون ۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ انتشار (افتعال) مصدر۔ تم پھیلتے ہو ۔ تم منتشر ہوتے ہو، تم چلتے پھرتے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

5 ۔ کئی حالتوں سے مراد انسان کے مختلف اطوار ہیں جن سے گزر کر آخرپورا آدمی بن کر وجود میں آجاتا ہے۔ (دیکھئے سورة مومنون آیت 12، 14)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 20 تا 27 اسرارومعارف تخلیق انسانی : اور اسکی بہت بڑی آیات ہیں جو تمہاری تخلیق ہے کہ مٹی کے اجزاء کو کیا کیا روپ دیتا ہے مختلف غلوں پھلوں اور خوردنی اجناس میں تبدیل کرتا ہے کہیں چارہ بنا کر اس سے دودھ گھو اور گوشت پیدا کر کے انسان کی غذابناتا ہے پھر اسے نطفے کی شکل دے کر شکم مادر میں پہنچاتا ہے وہاں سے پیدا کر کے اسے انسان بنا دیتا ہے کہ روئے زمین کو زیر کرنے پر تلا پھرتا ہے پھر اسکی قدرت دیکھو کہ سب کو مرد نہیں بناتا تمہیں میں سے خواتین کو پیدا کردیا اسی ایک عمل میں ایک پیٹ سے بچیاں بھی پید اکر دیتا ہے جن کا مزاج شکل استعداد ہر شے مختلف ہوتی ہے پھر انہیں تمہارا جوڑا بناتا ہے کہ نسل انسانی کی بقا کا باعث ہو اور اس کام کو محض شرعی فریضہ ہی نہیں رکھا بلکہ تم میں محبت کے جذبات پیدا کردیے کہ میاں بیوی کی محبت ایک خاندان کی صرف تعمیر ہی نہیں کرتی سب کے لیے اللہ کی رحمت بھی ثابت ہوتی ہے اگر اس سارے نظام پر کوئی غور کرے تو اس میں اللہ کی عظمت کر بہت زیادہ دلائل ہیں۔ اس کی قسرت کاملہ کا اظہار آسمانوں اور اس میں بیشمار عجائبات زمین اور اس کے بیشمار کمالات کی تخلیق سے ظاہر ہے پھر ہر زمین کے باسی انسانوں کو الگ رنگت عطا کردی بولنے کا طریقہ الگ سکھا دیا اور سب ملکوں کے باسی ایک سی ضروریات رکھنے کے باوجود رنگت چہرے کے نقوش اور اظہار مطلب میں مختلف ہیں اگر صرف اس پہلو پر غور کیا جائے تو تمام جہانوں کے لیے اس میں بیشمار دلائل موجود ہیں۔ تمہارا راتوں کو بےسدھ سونا اور دنیا ومافیہا سے کٹ جانا کہ سوتے میں شاہ و گدا کا فرق بھی مٹ جائے اسی کی عظمت کی دلیل ہے ایسا ہی پھر سے جاگ اٹھنا اور معاملات دنیا میں مصروف ہوجانا بہت بڑی دلیل ہے جو لوگ بات سن کر اس پر غور کریں تو وہ یہ حقیقت جان سکتے ہیں۔ اسی طرح کڑکتی ہوئی بجلی اور گرجتے ہوئے بادل بھی تو اس کی قدرت کاملہ کے گواہ ہیں کہ جب امڈ کر آئیں تو انسان کا دل دہل جاتا ہے مگر اسی میں اسے رحمت کی بارش کی امید بھی ہوتی ہے۔ اور پھر اسی بادل سے پانی برسا کر مردہ زمین میں حیات پیدا کردیتا ہے اور رنگا رنگ زندگی لہریں لینے لگتی ہے اگر کسی کی عقل سلامت ہو تو اس کے لیے بہت بڑے دلائل ہیں یعنی ان حقائق پر غور و فکر کا نام ہی سائنس ہے اور اسی علم کو سمجھنا اور اس کے ذریعے سے عظمت باری کو پانا ہی عقلمندی ہے۔ اچھا تو یہ دیکھ کہ ان زمینوں اور آسمانوں کو اس قادر مطلق نے کیسے قائم کر رکھا ہے اور زمین پر کس قدر حیات ہے جو پھر مٹی میں ملتی چلی جارہی ہے تو جس قادر مطلق نے پہلے یہ سب نظام چلا رکھا ہے موت کے بعد بھی جیسے تمہیں پکارے گا تو تم زمین کے پیٹ سے نکل کر کھڑے ہوجاؤ گے۔ زمین وآسمان کے نظام کو محض اسباب کی کارکردگی نہ جانو بلکہ زمین و آسمان میں جو کوئی بھی ہے وہ بھی اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور سب اسی کی ملکیت ہیں اور سب کے سب وجود ہوں یا اسباب و ذرائع اس کے مطیع و فرمانبردار ہیں۔ وہ ہی ایک ذات ہے جو عدم سے مخلوق کو وجود میں لاتا ہے کچھ بھی نہیں ہوتا تو وہ پید افرما دیتا ہے۔ وہی ذات دوبارہ پھر پیدا کر دے گا اور یہ سب کچھ اس کی ذات کے لیے بالکل آسان ہے۔ اور اس کا مثل کوئی نہیں۔ زمین اور آسمانوں میں اس کی شان بیحد بلند ہے اور وہ ہر شے پہ غالب ہے اور بہت حکمت والا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (20 تا 27 ) ۔ تراب (مٹی) ۔ تنتشرون (تم پھیل جاتے ہو) ۔ رحمتہ (مہربانی۔ محبت کا رشتہ) ۔ السنتہ (لسان) (زبانیں ) ۔ الوان (لون) (رنگ۔ روپ) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ یسمعون (وہ سنتے ہیں) ۔ دعوۃ (پکار) ۔ قنتون (ادب سے کھڑے ہونے والے) ۔ اھون (زیادہ آسان) ۔ تشریح : آیت نمبر (20 تا 27) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر انسان غورو فکر ، علم و بصیرت، عقل و فہم اور دھیان دے کر سوچے تو اس بکھری ہوئی کائنات میں اس کو ہر چیز میں اللہ کا جلوہ اور نشانی نظر آئے گی۔ ہزاروں لاکھوں سال سے کائنات کا یہ نظام ایک مرتب و منظم طریقے سے چل رہا ہے جس میں ذرا بھی فرق نہیں آتا۔ نجانے کتنی قومیں آئیں اور چلی گئیں اس دنیا میں کسی کو ہمیشہ کی زندگی دی گئی۔ کسی کو بقا نہیں ہے سوائے اس اللہ کی ایک ذات کے جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور اس نے اس پورے نظام کائنات کو سنبھالا ہوا ہے۔ وہ جب بھی چاہے گا کائنات کی بساط کو لپیٹ کر رکھ دے گا۔ پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اللہ ہی اپنی قدرت سے تمام لوگوں کو زندہ کرکے میدان حشر میں جمع کرے گا۔ جب اس کائنات میں ساری قدرت اللہ کی ہے اسی نے سب کو پیدا کیا ہے تو سب انسانوں کے مر جانے اور کائنات کے مٹ جانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اس ذات کے لئے کونسی مشکل اور مشوار بات ہے۔ فرمایا کہ اللہ کی معرفت اور پہچان کے لئے اگر کائنات کے نظام پر غور و فکر کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجائے گی کہ اللہ نے اس نظام کائنات کو نبایا ہے وہی اس کا محافظ ہے اور جب چاہے گا اس نظام کو ختم کر کے دوبارہ پیدا فرمادے گا اللہ نے اپنی چند نشانیوں کو پیش کر کے فرمایا ہے کہ ان کو اللہ کے سوا کسی دوسرے نے نہیں بنایا نہ اس کام میں اس کا کوئی شریک ہے۔ ارشاد ہے۔ (1) انسانی زندگی کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوا جنہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا تھا۔ مٹی در حقیقت ایسے اجزاء کا نام ہے جس میں بظاہر تاریکی ہے روشنی اور چمک نہیں ہے لیکن اللہ نے اس خاک کے پتلے میں ایسی عظمتیں بھر دی ہئن جو بقیہ کائنات میں نہیں ہیں۔ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات نبایا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد جب فرشتوں سے اور ابلیس سے جو جنات کو قوم میں سے تھا اور فرشتوں کا سردار تھا آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کے لئے کہا تو ابلیس نے یہ کہہ کر انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا کہ میں آگ سے بنایا گیا ہوں یعنی جس میں روشنی اور چمک ہے اور انسان مٹی سے پیدا کیا گیا ہے یعنی جس میں تار ی کی اور پستی ہے یہ اصول کے خلاف ہے کہ روشنی تاریکی کے سامنے اور بلندی پستی کے سامنے جھک جائے۔ اسی طرح فرشتوں نے بھی سمجھنے کے لئے عرض کیا الہی آپ جس کے سر پر خلافت کا تاج رکھ رہے وہ تو زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ گویا فرشتے بھی انسان کے ظاہری پہلو سے اس میں تاریکی محسوس کر رہے تھے۔ اللہ نے ان کے اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس حقیقت کو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ جب فرشتوں کو آدم (علیہ السلام) کے علم کی روشنی کی ایک جھلک دکھائی گئی تو سارے فرشتوں نے انسان کی عظمت کو تسلیم کرلیا اور سجدہ میں گر گئے لیکن شیطان اپنے تکبر اور غرور پر قائم رہا اور اس نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے صاف انکار کردیا اور اللہ کے نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی یہ سب سے بڑی نشانی ہے کہ اس نے انسان کو مٹی سے بنایا اور انسانی نسلوں کو چلایا اور اس کائنات میں اللہ نے اس کو اپنا نائب اور خلیفہ بنایا۔ انسان میں یہ عظمت صرف اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کی ہے۔ ورنہ خود انسان کے اندر یہ عظمت اور روشنی موجود نہ تھی۔ (2) دوسری نشانی یہ ہے کہ اللہ نے صرف یہی نہیں کہ انسان کو پیدا کیا بلکہ سکون قلب کے لئے اس کی بیوی کو بھی پیدا کیا جو اس کی تنہائیوں کی ساتھی، اس کی نسل کو بڑھانے کا سبب اور محبت و اخلاص کے رشتے قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔ گھر اسی سکون و اطمینان کا نام ہے ۔ اگر کسی گھر میں امن و عافیت اور حقیقی راحت و آرام نہ ہو تو وہ گھر گھر نہیں ہے۔ انسان کو سکون قلب با قاعدہ ازدواجی زندگی سے ملتا ہے جس سے انسان کو اولادیں اور اولادوں کی اولادیں نصیب ہوتی ہین، بچے، رشتہ دار، دوست احباب اس کی خوشیوں اور غموں میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ نہ ہو تو انسان کو سب کچھ مل سکتا ہے مگر سکون قلب نصیب نہیں ہو سکتا۔ (3) تیسری نشانی زمین و آسمان کی پیدائش ہے۔ اللہ نے زمین کو فرش کی طرح بچھا دیا اور آسمان کو ایک محفوظ چھت کی طرح اس پر تان دیا، چاند، سورج اور ستاروں سے اس کو روشن ومنور کیا۔ زمین پر مختلف قوموں، نسلوں اور خاندانوں کو پھیلایا جن کی زبانیں، رنگ، نسل مختلف ہیں۔ سب کے سب جسمانی اعتبار سے ایک جیسے ہیں وہی چہرہ، آنکھیں، کان، ناک، ہونٹ، زبان لیکن کتنے مختلف ہیں۔ کروڑوں اربوں انسان ہیں مگر ہر ایک کی شکل صورت دوسرے سے مختلف ہے۔ خواہشات، ضروریات اور تمنائیں الگ الگ ہیں۔ جن لوگوں میں علم و بصیرت موجود ہے وہ زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی چیزوں کو دیکھ کر اللہ کی معرفت اور پہچان حاصل کرسکتے ہیں۔ (4) اس کی چوتھی نشانی رات اور دن کا آنا جانا ہے۔ انسان دن بھر اپنی روزی رزق کے لئے بھاگ دوڑ کرتا ہے دن بھر کی محنت و مشقت کے بعد رات کو سو جاتا ہے تو اگلے دن کام کے لئے وہ تازہ دم ہوجاتا ہے اور پھر سے زندگی کے کاموں میں لگ جاتا ہے۔ کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں۔ سردی، گرمی اور برسات کے موسم پیدا ہوتے ہیں۔ اگر دن ہی دن ہوتا یا ایک طویل رات ہی ہوتی تو انسان اس یکسانیت سے اکتا جاتا نہ اس کو آرام ملتا اور نہ رزق ملتا۔ رات اور دن کا آنا جانا اس میں ہر عقل و فہم رکھنے والے کے لئے اللہ کی نسانی، معرفت اور پہچان موجود ہے لیکن اس کو ہی تسلیم کرتے ہیں جن میں ضد اور ہٹ دھرمی نہیں ہوتی اور وہ بات کو دھیان دے کر سنتے ہیں۔ (5) اس کی پانچویں نشانی آسمان پر چمکنے اور کڑ کنے والی بجلی ہے جس کو دیکھ کر خوف کے ساتھ ساتھ ایک امید سی بندھ جاتی ہے کہ اب بارش برسے گی کھیتوں، باغوں اور زمین میں ایک نئی زندگی اور تازگی پیدا ہوگی۔ گرمی کی شدت کم ہوگی اور موسم خوش گوار ہوجائے گا۔ بجلی کی چمک اور کڑک سے ایک امید اور دہشت ناک آوازوں سے خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی بہت بڑی نشانی ہے جس پر وہی غور و فکر کرتے ہیں جنہیں اللہ نے عقل و سمجھ عطا فرمائی ہے۔ (6) چھٹی نشانی یہ ہے کہ زمین و آسمان اپنی جگہ ٹہرے ہوئے ہیں یہ انسان کو لے کر ایک طرف نہیں ڈھلک جاتے بلکہ اپنی رفتار سے کھومنے اور چلنے کے باوجود اس پر رہنے والوں کو اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ زمین اور آسمان، چاند، سورج اور ستارے سب کے سب ایک خاص نظام کے تحت قائم ہیں اور چل رہے ہیں۔ وہ اللہ ہی اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے وہ جب چاہے گا اس کو توڑ پھوڑ کر ایک نیا جہاں تعمیر فرمادے گا جس میں تمام انسان اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنی زندگی کا حساب کتاب پیش کریں گے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اور اس میں بسنے والی مخلوق اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ کی ملکیت اور اس کی نشانی ہے اور اس کے حکم کے تابع فرماں ہے۔ اسی نے زندگی کی ابتداء کی ہے وہی اس پر موت طاری کرے گا اور پھر وہ اس کو دوبارہ پیدا فرمائے گا۔ یہ اس اللہ کے لیے کوئی مشکل یا ناممکن بات نہیں ہے کیونکہ جس نے ان تمام چیزوں کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے ان ہی چیزوں کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے بلکہ اس کے لئے آسان ہے۔ اس آسمان و زمین میں سب سے بر تر و اعلیٰ ذات اللہ کی ہے جس کے ہاتھ میں ہر طرح کی طاقتیں موجود ہیں وہی زبردست حکمت والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن ایتہ ان خلقکم ۔۔۔۔۔ تنتشرون (30: 20) ۔ مٹی مردہ اور ساکن ہے۔ اس مٹی ہی سے انسان کو پیدا کیا گیا ۔ قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ آیا ہے : لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین ” ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا “۔ (المومنون :12) مٹی دراصل انسان کا اصل الاصول ہے لیکن یہاں انسانی شخصیت کے اس اصل مادے کا ذکر کرکے یہ بتایا گیا ہے کہ انسان مکمل شکل میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ بتلانا یہ مقصود ہے کہ ذرا تخلیق انسان کے اصل مادے کو دیکھو اور پھر تخلیق شدہ مکمل انسان کو دیکھو ، دونوں کے اندر کس قدر فرق ہے۔ خصوصاً یہ اصول بیان کرنے کے بعد کہ یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی (30: 19) ” وہ زندہ سے مردہ چیزوں کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کا نکال لاتا ہے “۔ قرآن کریم کے اندراز کے مطابق یہ معنوی ربط ہے۔ یہ معجزہ اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی ہے۔ اور اس کی تشریح کرکے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اس زمین پر رہنے والے انسان اور اس زمین کا آپس میں رشتہ کیا ہے اور وہ کیا نکتہ ہے جس میں وہ باہم ملتے ہیں یعنی اپنی اصل تخلیق اور ان قوانین قدرت کے زاویہ سے جو خود انسان پر بھی نافذ ہیں اور اس کائنات پر بھی نافذ ہیں۔ اس مردہ مٹی کے اندر یہ عظیم انقلاب بذات خود ایک معجزہ ہے کہ وہ ایک مردہ اور پیش پا افتادہ شکل سے ایک انسانی ذی اقتدار اور ذی قدر کی شکل میں تبدیلی ہوگئی۔ یہ ایک ایسی تبدیلی اور صنعت کاری ہے جس سے اللہ جل شانہ کی عظیم صنعت کاری کا علم ہوجاتا ہے۔ انسان کا قلب و ضمیر بےساختہ اللہ کی تسبیح و تمجید پر آمادہ ہوجاتا ہے اور انسان اللہ جل شانہ کی اس عظیم صنعت کاری پر رطب اللسان ہوجاتا ہے۔ پھر خود انسان کی زندگی کی تقسیم مرد اور عورت کی شکل میں اور ان اوصاف کا باہم تعلق اور مشترکہ زندگی کا موضوع سامنے آتا ہے۔ کیا یہ کسی خارق العادت معجزے سے کم معجزہ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مظاہر اور توحید کے دلائل یہ پوری آٹھ آیات کا ترجمہ ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق اور مخلوقات میں تصرف فرمانے کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق اور تصرفات بیان فرماتے ہوئے بار بار یوں فرمایا ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں، یہ بات چار جگہ فرمائی ہے۔ اولاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ) اور ثانیاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ ) اور ثالثاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) اور رابعاً : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) فرمایا ہے، درحقیقت ان آیات میں جن مظاہر قدرت کو بیان فرمایا ہے، ان میں غور وفکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق اور صفت ربوبیت والوہیت اور اس کا وحدہٗ لاشریک لہٗ ہونا پوری طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ آخری تین آیتوں میں قیامت کے دن دوبارہ پیدا فرمانے کا تذکرہ فرمایا ہے، اور یہ فرمایا کہ جس نے ابتداءً تخلیق فرمائی وہ دوبارہ بھی پیدا فرمائے گا۔ اول : تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یعنی تمہارے باپ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا ہے تم لوگ انہیں کی نسل سے ہو، سورة نساء میں فرمایا : (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّ نِسَآءً ) (اے لوگو ! اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی ایک جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے خوب زیادہ مرد و عورت پھیلائے) (نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (ایک جان) سے حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں، ان کی تخلیق مٹی سے تھی لہٰذا سب انسانوں کی اصل مٹی ہی ہوئی۔ اسی لیے یہاں سورة روم میں (خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ) فرمایا، حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے ان کا جوڑا پیدا کیا یعنی حضرت حوا [ وجود میں آئیں، پھر دونوں میاں بیوی سے نسل چلی، نسلیں چلتی ہیں مرد و عورت پیدا ہوتے ہیں، تدریجی طور پر نشوونما ہوتی ہے، ہوش سنبھالتے ہیں، جسم میں قوت آتی ہے، اپنی حاجات اور ضروریات کے لیے زمین میں پھیل پڑتے ہیں، مٹی جو بالکل بےجان چیز تھی، اللہ تعالیٰ نے اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کا پتلہ بنایا پھر اس میں جان ڈال دی، اس طرح سب سے پہلے انسان کی تخلیق ہوئی۔ اس کے بعد برابر مادہ منویہ سے تخلیق ہو رہی ہے جس نے بےجان مٹی میں جان ڈال دی اور بےجان مادہ سے جاندار کو پیدا فرما دیا۔ اسے قدرت ہے کہ وہ موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا فرما دے، جبکہ مٹی میں رل مل چکے ہوں گے۔ پہلے رکوع کے ختم پر جو (وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ) فرمایا تھا اس کی مزید تفہیم اس رکوع کی پہلی آیت میں فرما دی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ یہ توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے جد اعلی ٰ حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا پھر ان سے ان کی اولاد کا سلسلہ جاری کیا اور ان کو زمین میں آباد کیا۔ و من ایتہ ان خلق لکم الخ یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ من انفسکم ای من شکل انفسکم و جنسھا (مدارک ج 3 ص 306) ۔ یعنی تمہاری جنس میں سے اور انسانی شکل و صورت میں تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون و راحت حاصل کرو اور رشتہ ازدواج کی بنا پر تمہارے درمیان محبت و شفقت کے تعلقات پیدا کردئیے۔ ان فی ذلک الخ بشر کو مٹی سے پیدا کرنے، اس کی نسل پھیلانے، اس کی جنس سے اس کا جوڑ پیدا کرنے اور زوجین کے درمیان محبت و الفت ڈالنے میں غور وفکر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کے دلائل نظر آئیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

20۔ اور اس کی حکمت وقدرت کی نشانی یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب تم یکا یک تھوڑے ہی دنوں میں انسان ہو جو طرف پھیلے ہوئے ہو ۔ یعنی مٹی سے مطلب یہ ہے کہ ایسے عناصر سے بنایا جن میں مٹی کے اجزا سب سے زیادہ ہیں آخر جو غذا کھائی جاتی ہے جس سے خون اور مادہ منویہ کی تولید ہوتی ہے وہ مٹی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کی قدرت و حکمت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں اور جوڑے بنائے تا کہ تم ان سے آرام و اطمینان حاصل کرو اور تم کو ان سے آرام ملے اور اس نے تم میاں بیویوں کے مابین محبت اور ہمدردی پیدا کی اس بات میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے نشان ہائے قدرت کا ایک بڑا نشان ہے کہ اس نے نسل انسانی کی پیدائش اور افزائش کے لئے انسانی جنس سے جوڑا بنایا اور مرد کے لئے عورت کو پیدا کیا انسانیت کی بنا پر دونوں میں انس اور محبت ہوتی ہے اور مرد کو عورت سے راحت اور سکون میسر ہوتا ہے اس کی جانب سے مہربانی اور شفقت کا سلوک ہوتا ہے اور عورت کی طرف سے محبت ہوتی ہے جو فکر کرنیوالے اور سوچنے والے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی اس طریقہ تعلق میں اور دونوں کی ایک دوسرے کے ساتھ محبت و شفقت میں بڑی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حق تعالیٰ نے درخت کی نسل ایک سے چلائی اور جانور کی دو سے پھر بعض جانور کا جوڑا مقرر نہیں اور بعضوں کا مقرر ہے انسان کو جوڑا مقرر ٹھہرایا اس میں نسل کے سوائے انسیت اور چین ہے اور پیار اور محبت تا جہاں کی بستی ہو جو کوئی جوڑا مقرر نہ کرے یعنی زنا کرے نکاح نہ کرے وہ انسان سے حیوان ہوا ۔ 12