Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 22

سورة الروم

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافُ اَلۡسِنَتِکُمۡ وَ اَلۡوَانِکُمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡعٰلِمِیۡنَ ﴿۲۲﴾

And of His signs is the creation of the heavens and the earth and the diversity of your languages and your colors. Indeed in that are signs for those of knowledge.

اس ( کی قدرت ) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف ( بھی ) ہے ، دانش مندوں کیلئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah said: وَمِنْ ايَاتِهِ ... And among His signs, indicating His magnificent power. ... خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ ... is the creation of the heavens and the earth, The heavens with their vast height and brightness and beauty of the stars and planets, and the earth with its density and its mountains, valleys, seas, plains, animals and trees. ... وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ... and the difference of your languages and colors, So, we see that some speak Arabic, and the Tatars have their own language, as do the Georgians, Romans, Franks, Berbers, Tou Couleurs (of Sudan), Ethiopians, Indians, Persians, Slavs, Khazars, Armenians, Kurds and others. Only Allah knows the variety of languages spoken among the sons of Adam. And the difference of their colors mentioned here refers to their appearance, for all the people of this world, from the time that Allah created Adam, and until the Hour begins, each of them has two eyes, two eyebrows, a nose, a forehead, a mouth and two cheeks, but none of them looks like another; there is bound to be some difference in posture, appearance and speech, whether it is apparent or is hidden and can only be noticed with careful observation. Each face has its own characteristics and does not look like another; even if there was a group of people who looked alike, having a beautiful or ugly characteristic in common, there would still be a difference between one person and the next. ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لاَيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ Verily, in that are indeed signs for men of sound knowledge.

یہ رنگ یہ زبانیں اور وسیع تر کائنات رب العلمین اپنی زبردست قدرت کی ایک نشانی اور بیان فرماتا ہے کہ اس قدر بلند کشادہ آسمان کی پیدائش اس میں ستاروں کا جڑاؤ ان کی چمک دمک ان میں سے بعض کا چلتا پھرتا ہونا بعض کا ایک جا ثابت رہنا زمین کو ایک ٹھوس شکل میں بنانا اسے کثیف پیدا کرنا اس میں پہاڑ میدان جنگل دریا سمندر ٹیلے پتھر درخت وغیرہ جمادینا ۔ خود تمہاری زبانوں میں رنگتوں میں اختلاف رکھنا عرب کی زبان تاتاریوں کی زبان ، کردوں ، رومیوں ، فرنگیوں ، تکرونیوں ، بربر ، حبشیوں ، ہندیوں ، ایرانیوں ، حقابلہ ، آرمینوں ، جزریوں اور اللہ جانے کتنی کتنی زبانیں زمین پر بنو آدم میں بولی جاتی ہیں ۔ انسانی زبانوں کے اختلاف کیساتھ ہی ان کی رنگتوں کا اختلاف بھی شان اللہ کا مظہر ہے ۔ خیال تو فرمائیے کہ لاکھوں آدمی جمع ہوجائیں ایک کنبے قبیلے کے ایک ملک ایک زبان کے ہوں لیکن ناممکن ہے کہ ہر ایک میں کوئی نہ کوئی اختلاف نہ ہو ۔ حالانکہ اعضائے بدن کے اعتبار سے کلی موافقت ہے ۔ سب کی دو آنکھیں دو پلکیں ایک ناک دو دو کان ایک پیشانی ایک منہ دو ہونٹ دو رخسار وغیرہ لیکن تاہم ایک سے ایک علیحدہ ہے ۔ کوئی نہ کوئی عادت خصلت کلام بات چیت طرز ادا ایسی ضرور ہوگی کہ جس میں ایک دوسرے کا امتیاز ہوجائے گو وہ بعض مرتبہ پوشیدہ سی اور ہلکی سی چیزیں ہی ہو ۔ گو خوبصورتی اور بدصورتی میں کئی ایک یکساں نظر آئیں لیکن جب غور کیا جائے تو ہر ایک کو دوسرے سے ممتاز کرنے والا کوئی نہ کوئی وصف ضرور نظر آجائے گا ۔ ہر جاننے والا اتنی بڑی طاقتوں اور قوتوں کے مالک کو پہچان سکتا ہے اور اس صنعت سے صانع کو جان سکتا ہے ۔ نیند بھی قدرت کی ایک نشانی ہے جس سے تھکان دور ہوجاتی ہے راحت وسکون حاصل ہوتا ہے اس کے لئے قدرت نے رات بنادی ۔ کام کاج کے لئے دنیا حاصل کرنے کے لئے کمائی دھندے کے لئے تلاش معاش کے لئے اللہ نے دن کو پیدا کردیا جو رات کے بالکل خلاف ہے ۔ یقینا سننے سمجھنے والوں کے لئے یہ چیزیں نشان قدرت ہیں ۔ طبرانی میں حضرت زید بن ثاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ راتوں کو میری نیند اچاٹ ہوجایاکرتی تھی تو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کی شکایت کی آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھاکرو ۔ ( اللھم غارت النجوم وھدات العیون وانت حی قیوم یاحی یاقیوم انم عینی واھدی لیلی ) ۔ میں نے جب اس دعا کو پڑھا تو نیند نہ آنے کی بیماری بفضل اللہ دور ہوگئی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

221دنیا میں اتنی زبانوں کا پیدا کردینا بھی اللہ کی قدرت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر ایک ایک زبان کے مختلف لہجے اور اسلوب ہیں۔ اسی طرح ایک ہی ماں باپ (آدم و حوا علیہما السلام) سے ہونے کے باوجود رنگ ایک دوسرے سے مختلف ہیں کوئی کالا، کوئی گورا اور شکلیں بھی ایک دوسرے سے مختلف بولنے کے لہجے جدا جدا اور حتیّٰ کہ آواز بھی ایک دوسرے سے الگ الگ، ایک بھائی دوسرے بھائی سے مختلف ہے لیکن اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ پھر بھی کسی ایک ہی ملک کے باشندے، دوسرے ملک کے باشندوں سے ممتاز ہوتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩] سب سے پہلے تو انسان ایک ہی جیسے عناصر کا مرکب ہے پھر ایک کا منہ، زبان، گلا اور لب سب کچھ ایک جیسے ہیں لیکن آواز اور لب و لہجہ ہر شخص کا دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کسی کی آواز سریلی اور شریں ہوتی ہے کسی دوسرے کی بھاری اور ناگوار۔ حالانکہ توائے نطفہ سب انسانوں کے ایک جیسے ہیں۔ پھر ہر ایک علاقہ اور ملک کی زبان ایک دوسرے سے مختلف ہے کہیں عرب زبان بولی جاتی ہے، کہیں فارسی، کہیں انگریزی، کہیں پشتو، کہیں اردو غرضیکہ سینکڑوں کی قسم کی زبانیں ہیں اور یہ انواع ہیں۔ پھر ایک ہی علاقہ میں چند میلوں کے فاصلہ پر ہی زبان میں ذیلی قسم کی تبدیلیاں اور محاورات میں اختلاف ہوتے ہیں جن میں فرق صرف اس علاقہ کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ پھر ہر علاقہ کی زبان کے ساتھ اس کے حروف تہجی میں ان کے مخارج میں اور لب و لہجہ میں اختلاف واقعہ ہوتا ہے یہی حال رنگوں کا ہے۔ کسی علاقہ کے لوگ سفید رنگ کے ہوتے ہیں کسی کے کالے، کسی کے سرخ، اور کسی کے گندمی رنگ کے، کہا جاتا کہ انسان کی جلد کے رنگ پر اس علاقہ کی مخصوص آب و ہوا کا اثر ہوتا ہے جس سے رنگت میں تبدیلی آجاتا ہے۔ یہ بات بھی صرف جزوی طور پر ہی تسلیم کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک ہی ماں باپ اور ایک علاقہ ہوتا ہے۔ مگر اولاد کی رنگت میں فرق ہوتا ہے۔ اگرچہ اس آیت میں صرف دو چیزوں لسان اور رنگ کا ذکر کیا گیا ہے۔ مگر اور بھی بہت سے پہلو ہیں جن کے اختلافات واقع ہوتے ہیں مثلاً کسی علاقے کے لوگ بلند قدو قامت رکھتے ہیں، کہیں پست قامت ہوتے ہیں اور کہیں درمیانہ حد والے۔ اسی طرح کہیں لوگ چپٹی ناک والے ہوتے ہیں اور لمبوتری اور کہیں اونچی ناک والے مثلاً ایک ہی والدین کے اولاد کی شکلوں میں جو فرق ہوتا ہے اسے والدین اور قریبی رشتہ دار تو محسوس کرسکتے ہیں لیکن اجنبی لوگ ان میں یکسانیت ہی محسوس کرتے ہیں اور بعض دفعہ امتیاز بھی نہیں کرسکتے۔ ان سب باتوں سے یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ رحم مادر میں پرورش پانے والا ہر جاندار اللہ تعالیٰ کی انفرادی توجہ کا محتاج ہوتا ہے۔ بیشمار ایسی باتیں ہیں جو رحم مادر میں ہی انسان کے حصہ میں آتی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی قدرت کاملہ اور تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی بیشمار نشانیوں میں سے ایک نشانی جو بہت سی نشانیوں پر مشتمل ہے، آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے، جس کے مقابلے میں تمہیں پہلی یا دوسری دفعہ پیدا کرنا بالکل ہی معمولی بات ہے۔ لاکھوں کروڑوں سال سے چلا آنے والا زمین اور آسمانوں کا نظام اور ان میں موجود سورج چاند اور بیشمار وسیع و عریض سیاروں پر مشتمل کہکشاؤں کا سلسلہ جو دن بدن وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جا رہا ہے (دیکھیے ذاریات : ٤٧) رب تعالیٰ کی بےپایاں قدرتوں کی واضح نشانی ہے، جیسا کہ فرمایا : (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) [ المؤمن : ٥٧ ] ” یقیناً آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ اگر یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور نے پیدا کیا ہے، یا کسی اور کا اس میں کوئی حصہ ہے، یا کم از کم اسے پیدا کرنے کا کوئی دعوے دار ہی ہے تو سامنے لاؤ۔ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی کائنات میں پایا جانے والا تنوع ہے کہ اس نے جو چیز پیدا کی وہ دوسری چیز سے الگ پیدا کی۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس تنوع میں سے صرف دو چیزیں ذکر فرمائی ہیں، ایک انسانوں کی زبانوں کا مختلف ہونا، دوسرا ان کے رنگوں کا مختلف ہونا۔ ایک مٹی اور ایک پانی سے پیدا ہونے والے انسانوں کی زبانیں مختلف ہیں۔ عربی، فارسی، انگریزی، ہندی، جاپانی، ترکی، حبشی، چینی، روسی، فرانسیسی، جرمنی، سپینی، غرض ہر قوم کی الگ زبان ہے، پھر ہر زبان کی بیشمار ذیلی زبانیں ہیں۔ ان ذیلی زبانوں کے لہجے اور بعض الفاظ ہرچند میل کے فاصلے پر مختلف ہوجاتے ہیں۔ پھر بولتے وقت ایک ہی زبان مثلاً عربی یا انگلش میں بات کرتے ہوئے کسی ایک شخص کا لہجہ، آواز، ادائیگی، تیزی یا آہستگی، نرمی یا سختی، شیرینی یا تلخی دوسرے شخص سے نہیں ملتی، حتیٰ کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری انسان تک ہر شخص جب بولتا ہے تو اس کا تکلم صرف اسی کو عطا ہوا ہے، جس سے وہ پوری بنی نوع انسان میں دوسروں سے ممتاز ہے۔ اسے جاننے والا شخص پردے کے پیچھے اس کی بات سن کر پہچان لے گا کہ فلاں شخص بول رہا ہے۔ کمپیوٹر کی ایجاد سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یہ عجیب نشانی مزید نمایاں ہوگئی ہے کہ اسے کسی شخص کا تکلم دے دیا جائے، تو وہ کروڑوں اربوں انسانوں میں سے جدا کر دے گا۔ اسی طرح انسانوں کے رنگوں کا مختلف ہونا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانی ہے کہ ایک ہی اصل سے پیدا ہونے والے انسانوں میں کوئی سفید ہے، کوئی گندمی، کوئی سیاہ، کوئی سرخ، کوئی زرد اور کوئی ان کے درمیان۔ پھر کمال یہ ہے کہ بظاہر ایک ہی رنگ، مثلاً سیاہ رنگ والے ایک انسان کا رنگ دوسرے سیاہ فام انسان کے رنگ سے نہیں ملتا۔ اللہ تعالیٰ نے رنگ میں اتنی قسمیں رکھ دی ہیں کہ ہر سیاہ کا رنگ دوسرے سیاہ کے رنگ سے اور ہر سفید کا رنگ دوسرے سفید کے رنگ سے مختلف ہے۔ کسی شخص کی آنکھوں کی پتلی کی رنگت اور ساخت دوسرے شخص کی آنکھ کی رنگت اور ساخت سے نہیں ملتی۔ کسی ایک شخص کے بالوں کا سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ دوسرے کے سیاہ یا سرخ یا سنہری یا سفید رنگ سے نہیں ملتا۔ کسی شخص کی جسمانی ساخت اور اس کے ہاتھ پاؤں کی لکیریں دوسرے شخص سے نہیں ملتیں، جب کہ دیکھنے میں سب انسان ہیں۔ تخلیق کا یہ باریک ترین اور عظیم ترین سلسلہ کیا اس بات کی واضح دلیل نہیں کہ یہ سب کچھ ایک رب قدیر کی قدرت کا شاہکار ہے ؟ جس نے جو چاہا پیدا کردیا، جو پیدا کیا خوب صورت پیدا کیا اور بےمثال اور لاجواب پیدا کیا۔ عقل سے کتنے خالی ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ خود بخود ہوگیا، یا کہتے ہیں کہ دو خالقوں یا مالکوں کی موجودگی میں یہ نظام چل رہا ہے، یا کہتے ہیں کہ اتنی عظیم قدرتوں کا مالک مٹی ہوجانے کے بعد انسانوں کو دوبارہ کیسے زندہ کرے گا ! ؟ پھر تنوع کے اس سلسلے کو ذرا پھیلا کر دیکھیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَاۗءٍ وَّاحِدٍ ۣ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰي بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ ) [ الرعد : ٤ ] ” اور زمین میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے مختلف ٹکڑے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتی اور کھجور کے درخت کئی تنوں والے اور ایک تنے والے، جنھیں ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور ہم ان میں سے بعض کو پھل میں بعض پر فوقیت دیتے ہیں، بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ “ زمین سے پیدا ہونے والی ہر جنس، حیوانات ہوں یا نباتات یا جمادات، ان کی ہر قسم دوسری قسم سے جدا ہے، مثلاً گائے بکری سے جدا ہے، آم کا درخت جامن سے جدا ہے، گندم جو سے الگ ہے، لوہا تانبے سے الگ ہے۔ پھر لامحدود تنوع دیکھیے کہ ہر درخت کا ہر پتا اسی درخت کے دوسرے پتے سے الگ ہے۔ ذرا اس کی لکیروں پر غور کرو، ہر ایک کی لکیریں دوسرے کی لکیروں سے الگ ہیں۔ دیکھنے میں تمام درخت اور تمام پودے سبز ہیں، مگر ہر ایک کو دوسرے سے الگ سبز رنگ عطا ہوا ہے۔ صرف درخت ہی نہیں چرندوں، پرندوں، درندوں اور آبی جانوروں میں سے ہر ایک کا یہی حال ہے۔ رنگوں کا یہ اختلاف ہی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید اور اس کی قدرت کی کافی دلیل ہے۔ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ : یعنی آسمان و زمین کی پیدائش اور زبانوں اور رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی اور اس کی قدرتوں کی پہچان ہر ایرے غیرے کا کام نہیں، ان نشانیوں کی پہچان علم والوں کا کام ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ ) [ العنکبوت : ٤٣ ] ” اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں اور انھیں صرف جاننے والے ہی سمجھتے ہیں۔ “ رنگوں کے اختلاف سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی معرفت اور اس کی خشیت صرف علماء کا حصہ ہونا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے، چناچہ فرمایا : ( اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا ۭوَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِيْضٌ وَّحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَغَرَابِيْبُ سُوْدٌ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَاۗبِّ وَالْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ ۭ اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ ) [ فاطر : ٢٧، ٢٨ ] ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں اور پہاڑوں میں سے کچھ سفید اور سرخ قطعے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ سخت کالے سیاہ ہیں۔ اور کچھ لوگوں اور جانوروں اور چوپاؤں میں سے بھی ہیں جن کے رنگ اسی طرح مختلف ہیں، اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں، بیشک اللہ سب پر غالب، بیحد بخشنے والا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The same way there are differences of colour and hue. It is seen that babies of different colour and hue take birth from the same parents under the same circumstances. All this is the marvel of Allah&s creation. The wisdom behind the difference of colours requires a lengthy description which is beyond our scope, but many of these wisdoms can be easily understood by a little reflection. While referring to this sign of the divine omnipotence, this verse has mentioned creation or many things, such as sky, earth, the difference of languages and dialects, difference of colour in humans, which are all signs of Divine wisdom and can be recognized and understood with little attention. Hence, it is added at the end of the verse:إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ (Surely in this there are signs for the persons of knowledge - 30:22).

اسی طرح الوان کا اختلاف ہے کہ ایک ہی ماں باپ سے ایک ہی قسم کے حالات میں دو بچے مختلف رنگوں کے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ تو تخلیق و صنعت گری کا کمال تھا، آگے زبانیں اور لہجے مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کے رنگ مختلف ہونے میں کیا کیا حکمتیں مستور ہیں، ان کا بیان طویل ہے اور بہت سی حکمتوں کا معمولی غور و فکر سے سمجھ لینا مشکل بھی نہیں۔ اس آیت قدرت میں متعدد چیزیں آسمان، زمین، اختلاف السنہ، اختلاف الوان اور ان کے ضمن میں اور بہت سی قدرت و حکمت کی نشانیاں ہیں اور وہ ایسی کھلی ہوتی ہیں کہ کسی مزید غور و فکر کی بھی ضرورت نہیں، ہر آنکھوں والا دیکھ سکتا ہے اس لئے اس کے ختم پر ارشاد فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ یعنی اس میں بہت سی نشانیاں ہیں سمجھ رکھنے والوں کے لئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْ اٰيٰتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِكُمْ وَاَلْوَانِكُمْ۝ ٠ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــلْعٰلِمِيْنَ۝ ٢٢ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ لسن اللِّسَانُ : الجارحة وقوّتها، وقوله : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] يعني به من قوّة لسانه، فإنّ العقدة لم تکن في الجارحة، وإنما کانت في قوّته التي هي النّطق به، ويقال : لكلّ قوم لِسَانٌ ولِسِنٌ بکسر اللام، أي : لغة . قال تعالی: فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58] ، وقال : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فاختلاف الْأَلْسِنَةِ إشارة إلى اختلاف اللّغات، وإلى اختلاف النّغمات، فإنّ لكلّ إنسان نغمة مخصوصة يميّزها السّمع، كما أنّ له صورة مخصوصة يميّزها البصر . ( ل س ن ) اللسان ۔ زبان اور قوت گویائی کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] اور میری زبان کی گرہ گھول دے ۔ یہاں لسان کے معنی قلت قوت گویائی کے ہیں کیونکہ وہ بندش ان کی زبان پر نہیں تھی بلکہ قوت گویائی سے عقدہ کشائی کا سوال تھا ۔ محاورہ ہے : یعنی ہر قوم را لغت دلہجہ جدا است ۔ قرآن میں ہے : فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58]( اے پیغمبر ) ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں آسان نازل کیا ۔ بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] فصیح عربی زبان میں ۔ اور آیت کریمہ : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور نگوں کا اختلاف ۔ میں السنہ سے اصوات اور لہجوں کا اختلاف مراد ہے ۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح دیکھنے میں ایک شخص کی صورت دوسرے سے نہیں ملتی اسی طرح قوت سامعہ ایک لہجہ کو دوسرے سے الگ کرلیتی ہے ۔ لون اللَّوْنُ معروف، وينطوي علی الأبيض والأسود وما يركّب منهما، ويقال : تَلَوَّنَ : إذا اکتسی لونا غير اللّون الذي کان له . قال تعالی: وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُها [ فاطر/ 27] ، وقوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فإشارة إلى أنواع الألوان واختلاف الصّور التي يختصّ كلّ واحد بهيئة غير هيئة صاحبه، وسحناء غير سحنائه مع کثرة عددهم، وذلک تنبيه علی سعة قدرته . ويعبّر بِالْأَلْوَانِ عن الأجناس والأنواع . يقال : فلان أتى بالألوان من الأحادیث، وتناول کذا ألوانا من الطّعام . ( ل و ن ) اللون ۔ کے معنی رنگ کے ہیں اور یہ سیاہ سفید اور ان دونوں سے مرکب یعنی ہر قسم کے رنگ پر بولا جاتا ہے ۔ تلون کے معنی رنگ بدلنے کے ہیں قرآن میں ہے ۔ وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُها[ فاطر/ 27] اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کی دھار یاں ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا مختلف الوادع و اقسام کے رنگوں اور شکلوں کے مختلف ہونے کی طرف اشارہ ہے اور باوجود اس قدر تعداد کے ہر انسان اپنی ہیئت کذائی اور رنگت میں دوسرے سے ممتاز کذابی اور رنگت میں دوسرے سے ممتاز نظر آتا ہے ۔ اس سے خدا کی وسیع قدرت پر تنبیہ کی گئی ۔ اور کبھی الوان سے کسی چیز کے لوادع و اقسام مراد ہوتے ہیں چناچہ محاورہ ہے اس نے رنگا رنگ کی باتیں کیں اور الوان من الطعام سے مراد ہیں قسم قسم کے کھانے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله : فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله : لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت . والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ. فالنّظريّ : ما إذا علم فقد کمل، نحو : العلم بموجودات العالَم . والعمليّ : ما لا يتمّ إلا بأن يعمل کالعلم بالعبادات . ومن وجه آخر ضربان : عقليّ وسمعيّ ، وأَعْلَمْتُهُ وعَلَّمْتُهُ في الأصل واحد، إلّا أنّ الإعلام اختصّ بما کان بإخبار سریع، والتَّعْلِيمُ اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، ( ع ل م ) العلم کسی چیش کی حقیقت کا اور راک کرنا اور یہ قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرلینا دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو ( فی الواقع ) اس کے لئے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو ( فی الواقع ) اس سے منفی ہو ۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] اگر تم کا معلوم ہو کہ مومن ہیں ۔ اور آیت يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَاسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش و حواس قائم نہیں رہیں گے ۔ ایک دوسری حیثیت سے علم کی دوقسمیں ہیں ( 1) نظری اور ( 2 ) عملی ۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوجائے جیسے وہ عالم جس کا تعلق موجودات عالم سے ہے اور علم عمل وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جسیے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں ۔ ( 1) عقلی یعنی وہ علم جو صرف عقل سے حاصل ہو سکے ( 2 ) سمعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل وسماعت کے حاصل کیا جائے دراصل اعلمتہ وعلمتہ کے ایک معنی ہیں مگر اعلام جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اسی کی وحدت وقدرت کی نشانیوں میں سے آسمان و زمین کا بنانا اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا علیحدہ علیحدہ ہونا ہے کہ کسی کی زبان عربی تو کسی کی فارسی اور کسی کی رنگت سیاہ اور کسی کی سفید ان مذکورہ باتوں میں جن و انس کے لیے نشانیاں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط) ” پوری دنیا کے انسانوں کے درمیان بولی جانے والی طرح طرح کی زبانوں کے اندر پایاجانے والا تنوّع بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اسی طرح مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کے مختلف رنگ بھی اس کی صناعی اور خلاقی کے مظاہر کی مثالیں ہیں کہ کس طرح ایک ہی نسل سے تعلق کے باوجود کوئی زرد رو ہے تو کوئی سرخ رو ‘ کوئی سفید فام ہے تو کوئی سیاہ فام۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

31 That is, "Their coming into existence from nothingness and their being established an eternal law, and the functioning in them of innumerable forces in great harmony and equilibrium, contain many Signs of the reality that One Creator, and One only, has brought the entire universe into existence, and He alone is running this grand system. On the one hand, by reflecting over the origin of the initial energy that assumed the form of matter, then the transformation of the matter into so many elements, then the combination of the elements in a wonderful and wise proportion and coming into being of an awe-inspiring system of the universe, and then the functioning of this system since billions of centuries With such regularity and discipline, every unbiased mind will come to the conclusion that all this could not happen by mere chance, without the. all-embracing will of an All-Knowing, All-Wise Creator. Then, on the other hand, if one sees that every thing from the earth to the farthest stars in the universe is made up of the same basic elements and the same law of nature is working in it, every intellect, which is not stubborn, will certainly admit that this cannot be the result of the godhead of many gods but there is One God Who is the Creator and Sustainer of this whole universe." 32 That is, "Although your vocal chords are similar, and there is no difference in the structure of the mouth, the tongue and the brains, yet people speak different languages in different regions of the world. Even in the regions where the same language is spoken different dialects are spoken from city to city and from town to town. Moreover, the accent and pronunciation and the style of speech of every person is different from the other. Similarly, although the semen and the formula of your physical structure is the same, yet your colours are so different that, nations apart, even the colour of the two sons of the same parents is not exactly the same. In this verse, attention has been drawn only to two aspects, but if one looks around one will notice an unite variety everywhere in the world. One will find countless differences in the species of man, animal, plants and other things in spite of the basic uniformity in their different members; so much so that no member of the species is exactly identical with the other. Even the two leaves of a tree are not exactly alike. This shows that the world is not a factory in which automatic machines might be working and turning out things in mass production bearing the stamp of their own separate species. But in this factory there is a Master-Artist at work, Who gives individual attention to everything and produces it on a new design with new embellishments and proportions and qualities, and everything thus produced is unique in its own way. His inventive genius is turning out a new model of everything every moment, and His creative power abhors repeating the same design the second time. Anyone who sees this wonderful phenomenon with open eyes, can never be involved in the foolish misconception that the Maker of the universe has gone to sleep after having made it go. This is, on the contrary, a clear proof of the fact that He is ever engaged in His creative activity, and is giving individual attention to each and everything in His creation.

سورة الروم حاشیہ نمبر : 31 یعنی ان کا عدم سے وجود میں آنا اور ایک اٹل ضابطے پر ان کا قائم ہونا ، اور بے شمار قوتوں کا ان کے اندر انتہائی تناسب و توازن کے ساتھ کام کرنا ، اپنے اندر اس بات کی بہت سی نشانیاں رکھتا ہے کہ اس پوری کائنات کو ایک خالق اور ایک ہی خالق وجود میں لایا ہے اور وہی اس عظیم الشان نظام کی تدبیر کر رہا ہے ۔ ایک طرف اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ کہ وہ ابتدائی قوت ( Energy ) کہاں سے آئی جس نے مادے کی شکل اختیار کی ، پھر مادے کے یہ بہت سے عناصر کیسے بنے ، پھر ان عناصر کی اس قدر حکیمانہ ترکیب سے اتنی حیرت انگیز مناسبتوں کے ساتھ یہ مدہوش کن نظام عالم کیسے بن گیا ، اور اب یہ نظام کروڑہا کروڑ صدیوں سے کس طرح ایک زبردست قانون فطرت کی بندش میں کسا ہوا چل رہا ہے ، تو ہر غیر متعصب عقل اس نتیجے پر پہنچے گی کہ یہ سب کچھ کسی علیم و حکیم کے غالب ارادے کے بغیر محض بخت و اتفاق کے نتیجے میں نہیں ہوسکتا ۔ اور دوسری طرف اگر یہ دیکھا جائے کہ زمین سے لے کر کائنات کے بعید ترین سیاروں تک سب ایک ہی طرح کے عناصر سے مرکب ہیں اور ایک ہی قانون فطرت ان میں کار فرما ہے تو ہر عقل جو ہٹ دھرم نہیں ہے ، بلا شبہ یہ تسلیم کرے گی کہ یہ سب کچھ بہت سے خداؤں کا کرشمہ نہیں ہے بلکہ ایک ہی خدا اس پوری کائنات کا خالق اور رب ہے ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 32 یعنی باوجودیکہ تمہارے قوائے نطقیہ یکساں ہیں ، نہ منہ اور زبان کی ساخت میں کوئی فرق ہے اور نہ دماغ کی ساخت میں ، مگر زمین کے مختلف خطوں میں تمہاری زبانیں مختلف ہیں ، پھر ایک ہی زبان بولنے والے علاقوں میں شہر شہر اور بستی بستی کی بولیاں مختلف ہیں ، اور مزید یہ کہ ہر شخص کا لہجہ اور تلفظ اور طرز گفتگو دوسرے سے مختلف ہے ، اسی طرح تمہارا مادہ تخلیق اور تمہاری بناوٹ کا فارمولا ایک ہی ہے ، مگر تمہارے رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ قوم اور قوم تو درکنا ، ایک ماں ماں باپ کے دو بیٹوں کا رنگ بھی بالکل یکساں نہیں ہے ۔ یہاں نمونے کے طور پر صرف دو ہی چیزوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ لیکن اسی رخ پر آگے بڑھ کر کر دیکھیے تو دنیا میں آپ ہر طرف اتنا تنوع ( Variaty ) پائیں گے کہ اس کا احاطہ مشکل ہوجائے گا ۔ انسان ، حیوان ، نباتات اور دوسری تمام اشیاء کی جس نوع کو بھی آپ لے لیں اس کے افراد میں بنیادی یکسانی کے باوجود بے شمار اختلافات موجود ہیں حتی کہ کسی نوع کا بھی کوئی ایک فرد دوسرے سے بالکل مشابہ نہیں ہے ، حتی کہ ایک درخت کے دو پتوں میں بھی پوری مشابہت نہیں پائی جاتی ۔ یہ چیز صاف بتا رہی ہے کہ یہ دنیا کوئی ایسا کارخانہ نہیں ہے جس میں خودکار مشینیں چل رہی ہوں اور کثیر پیدا آوری ( Mass Production ) کے طریقے پر ہر قسم کی اشیاء کا بس ایک ایک ٹھپہ ہو جس سے ڈھل ڈھول کر ایک ہی طرح کی چیزیں نکلتی چلی آرہی ہوں ۔ بلکہ یہاں ایک ایسا زبردست کاریگر کام کررہا ہے جو ہر چیز کو پوری انفرادی توجہ کے ساتھ ایک نئے ڈیزائن ، نئے نقش و نگار ، نئے تناسب اور نئے اوصاف کے ساتھ بناتا ہے اور اس کی بنائی ہوئی ہر چیز اپنی جگہ منفرد ہے ۔ اس کی قوت ایجاد ہر آن ہر چیز کا ایک نیا ماڈل ناکل رہی ہے ، اور اس کی صناعی ایک ڈیزائن کو دوسری مرتبہ دوہرانا اپنے کمال کی توہین سمجھتی ہے ۔ اس حیرت انگیز منظر کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر دیکھے گا وہ کبھی اس احمقانہ تصور میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ اس کائنات کا بنانے والا ایک دفعہ اس کارخانے کو چلا کر کہیں جا سویا ہے ۔ یہ تو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ ہر وقت کار تخلیق میں لگا ہوا ہے اور اپنی خلق کی ایک ایک چیز پر انفرادی توجہ صرف کر رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

9 ۔ حالانکہ تم سب ایک باپ اور ایک ماں کی اولاد ہو اور تمہارے قوائے کی ساخت بھی ایک جیسی ہے مگر زبانیں اور رنگ اس قدر مختلف ہیں کہ بعض اقات ایک ملک میں سینکڑوں زبانیں اور ان کے ہزاروں لہجے ہوتے ہیں۔ اگر یہ زبانوں اور رنگوں کا اختلاف نہ ہوتا تو بڑی مشکل پیش آتی اور ایک کو دوسرے سے پہچاننے میں دشواریاں ہوتیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ لب و لہجہ سے مراد یا لغات ہوں یا آواز و طرز گفتگو۔ 6۔ نشانیاں جمع اس لئے فرمایا کہ امر مذکور کئی امر پر مشتمل ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی قدرت کی پانچویں اور چھٹی نشانی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی عظیم نشانیوں میں عظیم تر نشانیاں یہ ہیں کہ اس نے آسمانوں کو ٹھوس صورت میں پیدا کیا اور بغیر ستونوں کے ٹھہرایا اور آسمان دنیا کو ستاروں سے خوبصورت بنایا اور شہاب ثاقب کے ذریعے اس کی حفاظت فرمائی۔ آسمان کو اس طرح قائم دائم فرمایا ہے کہ آج تک نہ جھکا ہے اور نہ ہی کہیں سے اس میں دراڑ واقع ہوئی ہے۔ یہ قیامت تک جوں کا توں کھڑا اور لوگوں کو دکھائی دیتا رہے گا۔ زمین پر غور فرمائیں کہ اسے تہہ بہ تہہ سات زمینوں میں تقسیم کیا اور پوری کی پوری زمین پانی پر بچھائی اور ٹھہرائی ہے۔ زمین اپنی وسعت اور وجود کے اعتبار سے اتنی بھاری اور بوجھل ہے کہ اس کے بوجھ کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ پھر جمادات، نباتات، حیوانات، ٹھہرائے اور اس پر انسان بسائے لیکن اس کے باوجود کروڑوں سالوں سے پانی پر ٹھہری ہوئی ہے نہ کہیں سے دھنسی ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دراڑ پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح غور فرمائیں کہ ایک ہی آب وہوا، ایک جیسی خوراک اور ایک ہی ملک میں رہنے والے لاکھوں، کروڑوں انسان ایک ہی جیسی زبان (TONGUE) اور آب وہوا رکھتے ہیں مگر بولیاں الگ الگ ہیں۔ اب تک دنیا میں تقریباً 6900 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ویب سائٹ کی معلومات کے مطابق اب تک 60 فی صد لوگ جو زبانیں بولتے ہیں۔ وہ تیس کے قریب ہیں۔ جن میں مشہوریہ زبانیں ہیں۔ دنیا میں مشہور زبانوں کے نام اور ان کے بولنے والوں کی تعداد : ١۔ چینی : 882 ملین ٢۔ ہسپانوی : 325 ملین ٣۔ انگریزی :-380 312 ملین ٤۔ عربی : 206-422 ملین ٥۔ ہندی : 181 ملین ٦۔ پُرتگالی : 178 ملین ٧۔ بنگالی : 173 ملین ٨۔ روسی : 146 ملین ٩۔ جاپانی : 128 ملین ١٠۔ جرمن : 96 ملین ١١۔ اردو بولنے والے اور سمجھنے والے تقریباً پچاس کروڑ سے زائد ہیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن ایتہ خلق ۔۔۔۔۔۔ ذلک لایت للعلمین (30: 22) زمین و آسمان کی تخلیق وہ نشانی ہے جس کی جانب قرآن کریم نے بار بار مبذول کرائی ہے لیکن ہم رات اور دن اس زمین کے اوپر رہتے ہیں اور اس آسمان کے نیچے رہتے ہیں لیکن ہم اللہ کی اس تخلیق پر غور نہیں کرتے۔ حالانکہ زمین و آسمان اس قابل ہیں کہ ان پر طویل عرصہ تک غور کیا جائے اور بار بار غور کیا جائے اور گہرا غور و فکر کیا جائے۔ خلق السموات کا مفہوم کیا ہے کہ اللہ نے یہ عظیم ، پیچیدہ اور نہایت ہی وسیع کائنات تخلیق کی ہے۔ اس عظیم اور وسیع کائنات کے ایک نہایت ہی معمولی حصے کا علم ہم ابھی تک حاصل کرسکے ہیں۔ افلاک اور فلکی کر ات کا یہ عظیم اور لاتعداد اژدھام ، ستارے ، سیارے ، ان کے مدار ، کہکشاں اور پھر بلیک ہول۔ اس پوری کائنات کے اندر ہماری یہ زمین اس طرح ہے جس طرح ایک حقیر ذرہ جو ہماری اس زمین کی فضا میں اڑ رہا ہے جس کا نہ کوئی وزن ہے اور نہ کوئی سایہ ہے۔ اس ہولناک کائنات کی ناقابل تصور وسعت کے ساتھ یہ کائنات نہایت دقیق اور ناقابل تغیر نظم کے ساتھ جاری وساری ہے۔ اس کی حرکات اور اس کے کر ات کے مدارات میں بےانتہا نظم و ضبط ہے حالانکہ ان کے درمیان طویل فاصلے ہیں۔ ان حرکات میں کوئی اضطراب کوئی بےقاعدگی نہیں ہے اور ہر چیز حکم ربی کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ مشاہدہ تو عمو۔۔ نجم اور ان کر ات کی حرکت کے نظم کے اعتبار سے ہے۔ رہے اس کائنات کے اسرار تو اس کے اندر پائی جانے والی متنوع مخلوقات ، ان کے مزاج اور وہ حالات جن میں وہ مخلوق رہتی ہے اور وہ حالات جو اس پر طاری ہوتے ہیں تو ان کی انتہا نہیں ہے۔ پھر وہ قوانین جو اس تمام مخلوق کو محفوظ رکھتے ہیں ، اس مخلوق کو چلاتے ہیں ، اور اس کے اندر تصرف کرتے ہیں تو ان کی انتہا تک پہنچنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔ ان تمام امور اور موضوعات پر انسان کا علم بہت ہی محدود ہے۔ سمندر میں سے قطرے کے برابر بھی نہیں ہے۔ زمین و آسمان کی تخلیق پر یہ ایک سرسری نظر ہے ، بہت ہی اختصار کے ساتھ۔ سائنس دان اور علمائے انسانیات نے اس سلسلے میں جو مختصر سا علم حاصل کرلیا ہے اس پر ہم طول بحث کرسکتے ہیں۔ اب تک جو معلومات فراہم ہوسکی ہیں ان کے مطابق یہ کائنات بہت ہی عظیم ہے اور اس کے مختلف اجزاء باہم مربوط ہیں۔ یہ تمام اجزاء بغیر اس کے کہ باہم متصادم ہوں ، روز تخلیق سے حرکت میں ہیں ، ایک سیکنڈ کے لیے بھی ان میں ٹھہراؤ نہیں ہے لیکن اس عجیب نظام میں جو بہت ہی پیچیدہ ہے ، کبھی بھی یہ اجزاء اور اجرام باہم متصادم نہیں ہوتے۔ اس نظام کے بارے میں موجودہ فراہم شدہ معلومات کے باوجود بعض ہلکے لوگ یہ کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے۔ اور پھر اس کا کوئی مدبر نہیں ہے جو اسے یوں چلا رہا ہے۔ ان نام نہاد سائنس دانوں کی یہ بکواس آج بھی سنی جاتی ہے۔ پھر آسمانوں اور زمین کے ساتھ ساتھ اس میں پائے جانے والوں یعنی مختلف انسانوں کے مختلف رنگ اور مختلف شکلیں اور مختلف زبانیں۔ یہ اختلاف بھی تخلیق سماوات سے مربوط ہے۔ زمین پر مختلف قسم کے رنگوں اور زبانوں کا تعلق بھی تخلیق سماوات سے ہے۔ مختلف علاقوں اور موسموں سے رنگ اور زبانیں بدل جاتی ہیں۔ انسان کے رنگ و زبان اور شکل و صورت کا موسمیات کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ ہمارے دور کے علماء اور سائنس دان لوگوں کے رنگ اور زبانوں کے اختلاف کو دیکھتے ہیں اور کبھی انہوں نے اس پر غور نہیں کیا اور نہ وہ اس حقیقت کی طرف جاتے ہیں کہ اللہ کی تخلیقات کے یہ نمونے ہیں اور یہ کہ یہ باتیں بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ زبانوں کے اختلاف پر بہت ہی گہرا مطالعہ کرتے ہیں لیکن وہ اسے اللہ کی نشانی سمجھ کر اللہ تک پہنچنے کی سعی نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ باجود اس کے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سائنس دان ہیں مگر دراصل وہ سائنس دان نہیں ہیں یعلمون۔۔۔ الحیوۃ الدنیا (30: 7) ” یہ لوگ اس زندگی کے بھی بس ظاہری پہلو کو جانتے ہیں “۔ اور انسان اور علوم انسانی کا یہ پہلو کہ لوگوں کے رنگ مختلف ہیں اور زبانیں مختلف ہیں اسے صرف حقیقی علماء اور مومن سائنس دان ہی دیکھ سکتے ہیں۔ ان فی ذلک لایت للعلمین (30: 22) ” بیشک اس میں نشانیاں ہیں صرف دانش مندوں کیلئے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

چہار : انسان کی بولیوں اور رنگتوں کا تذکرہ فرمایا، اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق کا دیگر آیات میں بھی تذکرہ ہے، ان دونوں کا وجود سب کے سامنے عیاں ہے، ظاہر ہے، آسمان اور زمین بڑی چیزیں ہیں، بنی آدم آسمان کے نیچے رہتے ہیں، زمین کے فرش پر بستے ہیں انسانوں کی زبانوں کا مختلف ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت عظیمہ کا مظاہرہ ہے، انسانوں کو بولنے کی صفت سے متصف فرمانا اور اسے الفاظ و کلمات سکھانا اور بات کرنے کی قوت اور استعداد عطا فرمانا یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اور اس میں قدرت الٰہیہ کا مظاہرہ بھی ہے، جس کسی کو گونگا بنا دیا وہ بول نہیں سکتا اور جس کسی کو بولنے کی قوت دی ہے وہ حروف اور کلمات کی ادائیگی میں خود مختار نہیں، حروف کے جو مخارج اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دئیے ہیں انسان انہی مخارج سے حروف ادا کرنے پر مجبور ہے۔ ب دونوں ہونٹوں کے ملنے سے ادا ہوتی ہے اور میم کا مخرج بھی یہی ہے لیکن ب بری ہے اور میم بحری ہے (اسے اصحاب تجوید جانتے ہیں) ایک کو دوسرے کی جگہ سے ادا نہیں کرسکتے، جب ب اور میم کا یہ حال ہے جو بہت زیادہ قریب المخرج ہیں (بلکہ دونوں کا مخرج ایک ہی بتایا جاتا ہے) تو ب کو جیم کے مخرج سے اور جیم کو ح کے مخرج سے کیسے ادا کرسکتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جو قوت گویائی عطا فرمائی ہے یہ مختلف لغات میں اور بیشمار بولیوں میں بٹی ہوئی ہیں، مشرق سے مغرب تک اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کتنی زبانیں ہیں، ہر زبان کے لغات علیحدہ ہیں، طرز تکلم مختلف ہے، کسی زبان میں مضاف الیہ پہلے بولا جاتا ہے اور کسی زبان میں مضاف پہلے ہوتا ہے، بعض زبانوں میں مذکر مونث کے لیے ایک ہی فعل ہے (مثلاً فارسی میں) اور بعض زبانوں میں تثنیہ کا صیغہ الگ ہے اور جمع کا صیغہ اس سے مختلف ہے، بعض زبانوں میں وہ حروف ہیں جو دوسری زبانوں میں نہیں ہیں مثلاً ص اور ظ اور ق اور ذ اور ث عربی زبان میں ہیں اور کھ اور گھ اردو زبان میں ہیں جو دوسری زبانوں میں نہیں ہیں، اور برمی زبان میں را نہیں ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ جو حرف جس زبان کا ہے اس کے علاوہ دوسری زبان والے آدمی کو اس کا بولنا مشکل ہوجاتا ہے بلکہ بہت سے لوگ محنت کرنے پر بھی نہیں بول سکتے۔ ان امور کا برابر مظاہرہ ہوتا رہتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بھی مظاہرہ ہے اور اس کی نعمت کا بھی اور انسانوں کے عاجز ہونے کا بھی۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ کلمات اور لغات تو مختلف ہیں ہی لب و لہجہ بھی مختلف ہے، آوازیں بھی مختلف ہیں، مختلف علاقوں کے لوگ مختلف لب و لہجہ میں بات کرتے ہیں، بات سننے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ فلاں شخص فلاں علاقہ کا آدمی ہے یا فلاں نسب و نسل سے تعلق رکھتا ہے، پھر مردوں کی آواز الگ اور عورتوں کی آواز جدا، بچوں کی آواز علیحدہ، پھر ہر فرد ہر شخص کی آواز علیحدہ، یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیاں ہیں۔ زبانوں کا اختلاف بیان فرمانے کے بعد رنگتوں کا اختلاف بیان فرمایا، سارے انسانوں کی صورتیں اس اعتبار سے تو ایک ہی ہیں کہ ہر شخص کے چہرہ ناک ہے اور ناک کے اوپر دو آنکھیں ہیں اور ناک کے نیچے منہ ہے اور اس کے اندر دانت ہیں جو ہونٹوں کے کھولنے سے نظر آتے ہیں، لیکن صورتوں میں اتنا اختلاف ہے کہ نسب و نسل کے اعتبار سے بھی صورتیں مختلف ہیں اور علاقوں کے اعتبار سے بھی، مردانہ صورتیں علیحدہ ہیں اور زنانہ صورتیں الگ، اور باہمی امتیاز بھی ہے، ہر شخص اور ہر فرد کی صورت جدا ہے، یہ تو ہوا صورتوں کی ہئیتوں کا اختلاف، پھر ان صورتوں کا مزید اختلاف رنگوں کے اعتبار سے بھی ہے، کسی کا رنگ کالا ہے کسی کا گورا ہے، پھر ان میں بھی تفاوت ہے۔ یہ الوان و اشکال کا فرق صرف اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے ہے۔ آیت کے ختم پر فرمایا : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْعٰلِمِیْنَ ) (بلاشبہ اس میں جاننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش، اور دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کی زبانوں اور ان کے رنگوں کا اختلاف بھی دلائل قدرت میں سے ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ علم والوں کے لیے اس میں عبرت کا بہت سامان ہے۔ ومن ایتہ منامکم الخ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے تم دن اور رات میں آرام و راحت کے لیے نیند بھی کرتے ہو اور ان اوقات میں اپنی روزی بھی تلاش کرتے ہو۔ غور سے سننے والوں کے لیے اس میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور کارسازی کے دلائل موجود ہیں۔ یہ تمام انعامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں لہذا اس کا شکر ادا کرنا، اسی کو کارساز سمجھ کر حاجات میں پکارنا بندوں پر فرض ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

22۔ اور اسی کی قدرت کی نشانیوں میں سے تمہارا رب اور دن میں سونا اور نیند سے راحت حاصل کرنا ہے اور تمہارا اللہ تعالیٰ فضل یعنی روزی کا تلاش کرنا ہے بیشک ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں جو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ رات میں زیادہ سوتے ہو دن کو کم قیولہ وغیرہ کرلیتے ہو اور رات دن کے اس سونے سے راحت حاصل کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی روزی تلاش کرتے ہو یعنی دن کو زیادہ عام طور سے اور رات کو کم ۔ بہر حا ل ! سونے کا بھی اختیار اور کمانے کا بھی اختیار چاہے رات میں سوئو دن میں کمائو یا دن میں سوئو رات میں کمائو ۔ غرض ! دن کا بھی شغل اور رات کا بھی شغل ، آرام کا بھی سامان ، یہ تمام باتیں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کے دلائل ہیں اور ان دلائل سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو دلیل کو توجہ کے ساتھ سنتے ہیں ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دو حالتیں بدلتی ہیں سو یا تو پھر کی طرح اور تلاش میں لگا تو ایسا ہوشیار کوئی نہیں ، اصل تورات ہے سونے کو اور دن تلاش کو پھر دونوں وقت دونوں کام ہوتے ہیں ۔ 12 فائدہ۔ نشانیاں ہیں سننے والوں کو اپنے سونے کا احوال نظر نہیں آتا سو لوگوں کی زبانی سنتے ہیں ۔ 12