Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 23

سورة الروم

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ ابۡتِغَآؤُکُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۳﴾

And of His signs is your sleep by night and day and your seeking of His bounty. Indeed in that are signs for a people who listen.

اور ( بھی ) اس کی ( قدرت کی ) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل ( یعنی روزی ) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے جو لوگ ( کان لگا کر ) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمِنْ ايَاتِهِ مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاوُكُم مِّن فَضْلِهِ ... And among His signs is your sleep by night and by day, and your seeking of His bounty. Among His signs is the cycle of sleep that He has created during the night and the day, when people are able to cease moving and rest, so that their tiredness and exhaustion will go away. And He has enabled you to seek to earn a living and to travel about during the day, this is the opposite of sleep. ... إِنَّ فِي ذَلِكَ لاَيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ Verily, in that are indeed signs for a people who listen. meaning, understand.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

231نیند کا باعث سکون و راحت ہونا چاہیے وہ رات کو ہو یا بوقت قیلولہ، اور دن کو تجارت و کاروبار کے ذریعہ سے اللہ کا فضل تلاش کرنا، یہ مضمون کئی جگہ گزر چکا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] کام کاج کرنے کے بعد انسان کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے اگر آرام نہ کرے تو جینا ہی محال ہوجائے۔ لیکن آرام سے مراد یہ نہیں کہ انسان کچھ وقت کام نہ کرے یا بستر پر لیٹ جائے بلکہ جب تک اسے گہری نیند نہ آئے نہ اس کی تھکن دور ہوتی ہے اور نہ وہ مزید کام کاج کرنے کے قابل ہوتا ہے اور محض کام چھورنے یا لیٹے رہنے سے مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ نیند کیا چیز ہے اس کی کیفیت اور ماہیت کیا ہے ؟ یہ ایسا سربستہ راز ہے جسے انسان ابھی تک نہیں پاسکا۔ اس نے خواب آور دوائیں بھی دریافت کرلیں اور گولیاں بھی بنالیں مگر وہ اس کی ماہیت کو نہیں پاسکا کہ خواب کے دوران انسان سے کیا چیز کم ہوجاتی ہے کہ اس کے حواس کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر نیند کی حالت میں خواب دیکھنا دوسرا حیران کن مسئلہ ہے کہ یہ خواب انسان کن حواس سے دیکھتا ہے۔ انسان کو بس اتنا معلوم ہے کہ جب وہ زیادہ تھک جائے تو اس کی مرضی ہو یا نہ ہو نیند اسے آدبوچتی ہے۔ کام کاج کے دوران جو Cell انسان کے جسم سے جاتے ہیں۔ ان کی موت شروع ہوجاتی ہے اور ان کے بجائے نے سیل بن جاتے ہیں اور جب یہ سارا کام سرانجام پا جاتا ہے تو انسان کو خود بخود جاگ آجاتی ہے یعنی نیند کا آنا، نیند سے تھکن دور ہونا پھر تھکن دور ہونے پر تازہ دم ہو کر از خود ہی بیدار ہوجانا، یہ سب قوتیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں جو سراسر حکمت اور مصلحت پر مبنی ہیں اور ان میں کسی دوسرے الٰہ کا کوئی عمل دخل نہیں۔ انسان کے وسائل معاش اور ضروریات زندگی زمین میں چار سو بکھرے ہوئے ہیں۔ نیند کے بعد آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ تازہدم ہو کر اپنا رزق تلاش کرے۔ رزق تلاش کرنے کے لئے روشنی کی ضرورت تھی لہذا اس کام کے لئے دن کا وقت مختص کیا اور نیند کے لئے تاریکی اور خنکی کی ضرورت تھی ایک تاریکی تو انسان کو آنکھیں بند کرنے سے ہی حاصل ہوجاتی ہے، دوسری تاریکی رات کی ہوئی۔ اس طرح آرام کے لئے اللہ نے رات کا وقت مقرر کیا۔ گو آج کل انسان نے ایسی مصنوعی طریقے ایجاد کر لئے ہیں جس سے انسان رات کو کام کرنے کے قابل ہوگیا ہے۔ اور دن کو بھی آرام کرتا ہے اور مادہ پرستانہ دور کا ہی یہ تقاضا ہے۔ اس سے اتنا ہی انسان اللہ کی یاد سے غافل ہوگیا ہے اور دنیا کا نقصان یہ ہے کہ اس سے انسان کی صحت پر ناخوشگوار اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ اور توائے انسانی وقت سے پہلے کمزور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ : یعنی اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت، اس کے کمال قدرت اور اس کے تمہیں دوبارہ زندہ کرنے پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے ایک نشانی تمہارا رات اور دن میں سونا ہے۔ جس کے ساتھ بےاختیار تمہاری ہر سرگرمی ختم اور تمہارے حواس ظاہری کے تمام اعمال بند ہوجاتے ہیں اور تمہیں اپنے گرد و پیش کی کچھ خبر نہیں رہتی۔ اس سے پہلے کام کاج اور حرکت و محنت کی وجہ سے تمہارے جسم میں جو ٹوٹ پھوٹ اور تھکاوٹ ہوئی تھی، نیند عطا کرنے والا مالک نیند کے دوران جسم کی مرمت کر کے اور تھکاوٹ دور کر کے دوبارہ کام کاج کے قابل بنا کر تمہیں پھر بیدار کردیتا ہے۔ جس طرح نیند اس کی نشانی ہے، بیداری اور رات دن میں اس کے فضل کی تلاش بھی اس کی نشانی ہے۔ دونوں اسی کی تخلیق ہیں، کسی کا ان میں ذرّہ بھر دخل نہیں، بلکہ مخلوق تو ان کی حقیقت ہی سے نا آشنا ہے کہ نیند کیا چیز ہے، کیسے آتی ہے اور کیسے ختم ہوجاتی ہے ! ؟ پھر دن رات کئی دفعہ سونے اور جاگنے کا یہ عمل باربار موت و حیات کا عملی نمونہ ہے۔ پھر بھی تمہیں اصرار ہے کہ ہر روز کئی بار موت و حیات کے مراحل سے گزارنے والا مالک تمہارے اعمال کے محاسبے اور جزا و سزا کے لیے تمہیں دوبارہ زندہ نہیں کرسکے گا۔ 3 نیند کی حقیقت اس سے زیادہ کسی کو معلوم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائی ہے، فرمایا : (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ ) [ الزمر : ٤٢ ] ” اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں، پھر اسے روک لیتا ہے جس پر اس نے موت کا فیصلہ کیا اور دوسری کو ایک مقرر وقت تک بھیج دیتا ہے۔ بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔ “ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ نیند موت ہے اور بیداری حیات اور دونوں کی حقیقت روح کے آنے جانے کو سمجھنے پر موقوف ہے۔ اور روح کیا ہے ؟ اس کے متعلق فرمایا : (وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا ) [ بني إسرائیل : ٨٥ ] ” اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔ “ 3 روس میں کمیونزم کے عروج کے زمانے میں جب اللہ تعالیٰ کی منکر، مادہ پرست اور دنیا کی ظالم ترین جماعت کمیونسٹ پارٹی مزدوروں سے کھیتوں اور کارخانوں میں زیادہ سے زیادہ کام لینے کی نئی سے نئی صورت سوچتی رہتی تھی، اس وقت پارٹی کے راہ نماؤں نے سوچا کہ مزدور بہت سا وقت سو کر ضائع کردیتے ہیں، چناچہ انھوں نے سائنس دانوں کے ذمے لگایا کہ وہ تحقیق کریں کہ ان کا نیند میں صرف ہونے والا وقت زیادہ سے زیادہ کیسے بچایا جاسکتا ہے۔ کئی سالوں کی تحقیق کے بعد اس کا نتیجہ جو انھوں نے بیان کیا وہ یہ تھا کہ انسان کے لیے نیند بہت ضروری ہے، کیونکہ اس کے دوران اس کے ٹوٹے پھوٹے خلیات دوبارہ بنتے ہیں اور وہ دوبارہ کام کاج کے قابل ہوجاتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ تعمیر و مرمت اور تازگی کا یہ عمل نیند کے دوران صرف ایک لمحے میں پورا ہوجاتا ہے، مگر وہ لمحہ بعض اوقات نیند کی ابتدا میں آتا ہے، کبھی درمیان میں اور کبھی آخر میں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ لمبی سے لمبی نیند میں بھی وہ لمحہ نہیں آتا اور انسان بیدار ہوتا ہے تو اسی طرح تھکا ماندہ اور ٹوٹا پھوٹا ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ لمحہ آجانے کی وجہ سے نیند کی ایک جھپکی کے ساتھ ہی اس کی ساری تھکن کافور ہوجاتی ہے۔ ان سائنس دانوں نے اعتراف کیا ہے کہ انسان اس لمحے کو اپنی گرفت میں لانے سے عاجز ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نشانی کے صرف ایک معمولی سے حصے کا اعتراف ہے، جسے اس نے ” وَمِنْ اٰيٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ “ کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ 3 عام طور پر قرآن مجید میں رات کو نیند اور آرام کے لیے اور دن کو تلاش معاش کے لیے قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهِ وَالنَّهَارَ مُبْصِرًا) [ النمل : ٨٦ ] ” کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو بنایا، تاکہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن۔ “ اور فرمایا : (وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا وَّجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا) [ النبا : ١٠، ١١ ] ” اور ہم نے رات کو لباس بنایا۔ اور ہم نے دن کو روزی کمانے کے لیے بنایا۔ “ (مزید دیکھیے بنی اسرائیل : ١٢) یہ عام معمول کا بیان ہے، مگر انسان رات کے علاوہ دن کو بھی سو جاتا ہے اور تلاش معاش دن کے علاوہ رات کو بھی کرلیتا ہے، اس لیے اس آیت میں رات اور دن دونوں میں نیند کو اور اللہ کے فضل کی تلاش کو اپنی نشانیوں میں سے نشانی قرار دیا۔ وَابْتِغَاۗؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ : اس میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ رزق، جو تم تلاش کرتے ہو، وہ تمہاری محنت کا نتیجہ نہیں، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے، ورنہ کوئی محنت مشقت کرنے والا فقیر نہ رہے اور محنت مشقت نہ کرنے والا کوئی شخص غنی نہ ہو۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ : یعنی نیند اور بیداری کی نشانی سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر اور مرنے کے بعد زندگی پر کافی استدلال صرف تجربے سے یا عقل سے یا غور و فکر سے ممکن نہیں، بلکہ یہ ان چیزوں سے ہے جن کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا رسول انھیں بیان کرے اور سننے والے انھیں سن کر دل میں جگہ دیں۔ اس لیے فرمایا کہ اس ایک نشانی میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کی بات سنتے ہیں۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اپنے سونے کا احوال نظر نہیں آتا، سو لوگوں کی زبانی سنتے ہیں۔ “ (موضح) یہ ” یسمعون “ کا لفظ اختیار کرنے کا ایک اور نکتہ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Fourth sign of divine omnipotence Human sleep and economic activities both in daytime and at night have been mentioned in verse 32 as the fourth sign of Allah&s omnipotence. Unlike some other verses, both night and day have been mentioned in this verse as times of sleep; similarly, economic activities are mentioned as activities performed both in daytime and at night. In other verses, sleep is described as something done at night, and earning of sustenance as an act of daytime. The reason is that the major purpose of night is to sleep, and some economic activities are also performed as a secondary function. The case of daytime is the opposite, where the major objective is to work, while a little time may be spent in having rest and sleeping. Therefore, both descriptions are correct. Some commentators have tried to interpret this verse in a way that sleep becomes restricted to night and earning of sustenance to daytime, as mentioned in other verses. However, in the light of explanation given above, such a labored interpretation is not called for. Sleep and economic activity is not against asceticism and trust in Allah It is evident from this verse that sleeping at night and working at daytime is made a natural habit for the humans. It is not something that one has to cultivate, but is a natural gift bestowed by Allah Ta’ ala to all His creatures. The point can be proven by the fact that one cannot sleep at times despite making all possible arrangements for the comfort. Sometimes even the sleeping pills become ineffective. But on the other hand, when Allah wills, people go to sleep even on hard floors amidst severe hot and oppressive conditions. The same principle applies to earning of sustenance. It is a common knowledge that two persons having equal opportunities, knowledge and intellect, and putting in equal efforts and skill for earning their livelihood, do not necessarily succeed equally. One earns more than the other, because it is decreed as such by Allah&s wisdom. Therefore, one should try to earn the living through all the means available to him, but should not ignore the reality that the outcome of his endeavours depends on the will of Allah, as He is the real provider. At the end of this sign of divine omnipotence it is saidإِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ (Surely in this there are signs for a people who listen - 30:23) Perhaps dependence on listening is placed here because it is commonly seen that the sleep takes over once one lays down in comfort. Similarly, one earns his living by putting in effort and labour in trade, services etc. But the hand of nature in their attainment is not seen by the ordinary eye. This fact is described and explained by the prophets of Allah. Hence it is said that these signs are beneficial for those who listen with care, and once the reality is understood, they accept it without obstinacy.

چوتھی آیت قدرت : انسانوں کا سونا رات میں اور دن میں اسی طرح ان کی تلاش معاش ہے رات میں اور دن میں اس آیت میں تو نیند کو بھی دن و رات دونوں میں بیان فرمایا ہے اور تلاش معاش کو بھی اور بعض دوسری آیات میں نیند کو صرف رات میں اور تلاش معاش کو دن میں بتلایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ رات میں اصل کام تلاش معاش کا ہے اور کچھ سونے آرام کرنے کا بھی وقت ملتا ہے۔ اس لئے دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ بعض مفسرین نے تاویل کر کے اس آیت میں بھی نیند کو رات کے ساتھ اور تلاش معاش کو دن کے ساتھ مخصوص کیا ہے مگر اس کی ضرورت نہیں۔ سونا اور تلاش معاش زہد و توکل کے منافی نہیں : اس آیت سے ثابت ہوا کہ سونے کے وقت سونا اور جاگنے کے وقت تلاش معاش انسان کی فطرت بنائی گئی ہے اور ان دونوں چیزوں کا حاصل کرنا انسانی اسباب و کمالات کے تابع نہیں، بلکہ درحقیقت یہ دونوں چیزیں خالص عطاء حق ہیں۔ جیسا کہ رات دن کا مشاہدہ ہے کہ بعض اوقات نیند اور آرام کے سارے بہتر سے بہتر سامان جمع ہونے کے باوجود نیند نہیں آتی، بعض اوقات ڈاکٹری گولیاں بھی نیند لانے میں فیل ہوجاتی ہیں اور جس کو مالک چاہتا ہے کھلی زمین پر دھوپ اور گرمی میں نیند عطا فرما دیتا ہے۔ یہی حال تحصیل معاش کا رات دن مشاہدہ میں آتا ہے کہ دو شخص یکساں علم و عقل والے برابر کے مال والے، برابر کی محنت والے تحصیل معاش کا یکساں ہی کام لے کر بیٹھتے ہیں ایک ترقی کرجاتا ہے دوسرا رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو عالم اسباب بڑی حکمت و مصلحت سے بنایا ہے۔ اس لئے تلاش معاش اسباب ہی کے ذریعہ کرنا لازم ہے مگر عقل کا کام یہ ہے کہ حقیقت شناسی سے دور نہ ہو ان اسباب کو اسباب ہی سمجھے اور اصل رازق اسباب کے بنانے والے کو سمجھے۔ اس آیت قدرت کے ختم پر ارشاد فرمایا اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ یعنی اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو بات کو دھیان دے کر سنتے ہیں۔ اس میں سننے پر مدار رکھنے کی وجہ شاید یہ ہو کہ دیکھنے میں تو نیند خود بخود آجاتی ہے جب آدمی ذرا آرام کی جگہ کر کے لیٹ جائے۔ اسی طرح معاش کا حصول محنت مزدوری تجارت وغیرہ سے ہوجاتا ہے۔ اس لئے دست قدرت کی کار سازی ظاہری نظروں سے مخفی رہتی ہے، وہ اللہ کا پیام لانے والے انبیاء بتلاتے ہیں۔ اس لئے فرمایا کہ یہ نشانیاں انہی کو کارآمد ہوتی ہیں جو بات کو دھیان دے کر سنیں اور جب سمجھ میں آجائے تو تسلیم کرلیں، ہٹ دھرمی اور ضد نہ کریں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمِنْ اٰيٰتِہٖ مَنَامُكُمْ بِالَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَاۗؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ۝ ٠ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّسْمَعُوْنَ۝ ٢٣ نوم النّوم : فسّر علی أوجه كلّها صحیح بنظرات مختلفة، قيل : هو استرخاء أعصاب الدّماغ برطوبات البخار الصاعد إليه، وقیل : هو أن يتوفّى اللہ النّفس من غير موت . قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ الآية [ الزمر/ 42] . وقیل : النّوم موت خفیف، والموت نوم ثقیل، ورجل نؤوم ونُوَمَة : كثير النّوم، والمَنَام : النّوم . قال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ مَنامُكُمْ بِاللَّيْلِ [ الروم/ 23] ، وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] ، لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] والنُّوَمَة أيضا : خامل الذّكر، واستنام فلان إلى كذا : اطمأنّ إليه، والمنامة : الثّوب الذي ينام فيه، ونامت السّوق : کسدت، ونام الثّوب : أخلق، أو خلق معا، واستعمال النّوم فيهما علی التّشبيه . ( ن و م ) النوم ۔ اس کی تفسیر گئی ہے اور مختلف اعتبارات سے تمام وجوہ صحیح ہوسکتی ہیں ۔ بعض نے کہا نے کہ بخارات کی رطوبت سی اعصاب دماغ کے ڈھیلا ہونے کا نام نوم ہے ۔ اور بعض کے نزدیک اللہ تعالیٰ کا بغیر موت کے روح کو قبض کرلینے کا نام نوم ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ الآية [ الزمر/ 42] خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں ان کی ( روحیں ) سوتے میں ( قبض کرلیتا ہے ) اور بعض نوم کو موت خفیف اور موت کو نوم ثقیل کہتے ہیں رجل نوم ونومۃ بہت زیادہ سونے والا اور منام بمعنی نوم آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَمِنْ آياتِهِ مَنامُكُمْ بِاللَّيْلِ [ الروم/ 23] اور اسی کے نشانات ( اور تصرفات ) میں سے ہے تمہارا رات میں ۔۔۔ سونا ۔ وَجَعَلْنا نَوْمَكُمْ سُباتاً [ النبأ/ 9] تمہارے لئے موجب آرام بنایا ۔ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند ۔ نیز النومۃ کے معنی خامل لذکر یعني گم نام بھی آتے ہیں ۔ کہاجاتا ہے ۔ استنام فلان الی ٰکذا ۔ کسی چیز سے اطمینان حاصل کرنا ۔ منامۃ ۔ لباس خواب ۔ نامت السوق کساد بازاری ہونا ۔ نام الثوب ( لازم ومتعدی ) کپڑے کا پرانا ہونا یا کرنا ۔ ان دونون معنی میں نام کا لفظ تشبیہ کے طور مجازا استعمال ہوتا ہے ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ ابتغاء (ينبغي) البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، وقولهم : يَنْبغي مطاوع بغی. فإذا قيل : ينبغي أن يكون کذا ؟ فيقال علی وجهين : أحدهما ما يكون مسخّرا للفعل، نحو : النار ينبغي أن تحرق الثوب، والثاني : علی معنی الاستئهال، نحو : فلان ينبغي أن يعطی لکرمه، وقوله تعالی: وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] ، علی الأول، فإنّ معناه لا يتسخّر ولا يتسهّل له، ألا تری أنّ لسانه لم يكن يجري به، وقوله تعالی: وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] . ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ ردی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ اور بغی کا استعمال کیت اور کیفیت یعنی قدر وو صف دونوں کے متعلق ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ۔ کسی چیز کے حاصل کرنے میں جائز حد سے تجاوز ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48 پہلے بھی طالب فسادر ہے ہیں ۔ الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ اور ینبغی ( انفعال ) بغی کا مطاوع آتا ہے اور ینبغی ایکون کذا کا محاورہ طرح استعمال ہوتا ہے ( 1) اس شے کے متعلق جو کسی فعل کے لئے مسخر ہو جیسے یعنی کپڑے کو جلا ڈالنا آگ کا خاصہ ہے ۔ ( 2) یہ کہ وہ اس کا اہل ہے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا مناسب اور زیبا ہے جیسے کہ فلان کے لئے اپنی کرم کی وجہ سے بخشش کرنا زیبا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] اور ہم نے ان ( پیغمبر ) کو شعر گوئی نہیں سکھلائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی نہ تو آنحضرت فطر تا شاعر ہیں ۔ اور نہ ہی سہولت کے ساتھ شعر کہہ سکتے ہیں اور یہ معلوم کہ آپ کی زبان پر شعر جاری نہ ہوتا تھا ۔ اور آیت کریمہ : وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] اور مجھ کو ایسی بادشاہ ہی عطا فرما کر میرے بعد کیسی کو شایاں نہ ہو ۔ ( دوسرے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی میرے بعد وہ سلطنت کسی کو میسر نہ ہو ) فضل الفَضْلُ : الزّيادة عن الاقتصاد، وذلک ضربان : محمود : کفضل العلم والحلم، و مذموم : کفضل الغضب علی ما يجب أن يكون عليه . والفَضْلُ في المحمود أكثر استعمالا، والفُضُولُ في المذموم، والفَضْلُ إذا استعمل لزیادة أحد الشّيئين علی الآخر فعلی ثلاثة أضرب : فضل من حيث الجنس، کفضل جنس الحیوان علی جنس النّبات . وفضل من حيث النّوع، کفضل الإنسان علی غيره من الحیوان، وعلی هذا النحو قوله : وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] ، إلى قوله : تَفْضِيلًا وفضل من حيث الذّات، کفضل رجل علی آخر . فالأوّلان جوهريّان لا سبیل للناقص فيهما أن يزيل نقصه وأن يستفید الفضل، کالفرس والحمار لا يمكنهما أن يکتسبا الفضیلة التي خصّ بها الإنسان، والفضل الثالث قد يكون عرضيّا فيوجد السّبيل علی اکتسابه، ومن هذا النّوع التّفضیل المذکور في قوله : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] ، لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] ، يعني : المال وما يکتسب، ( ف ض ل ) الفضل کے منعی کسی چیز کے اقتضا ( متوسط درجہ سے زیادہ ہونا کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے محمود جیسے علم وحلم وغیرہ کی زیادتی مذموم جیسے غصہ کا حد سے بڑھ جانا لیکن عام طور الفضل اچھی باتوں پر بولا جاتا ہے اور الفضول بری باتوں میں اور جب فضل کے منعی ایک چیز کے دوسری پر زیادتی کے ہوتے ہیں تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ( ۔ ) بر تری بلحاظ جنس کے جیسے جنس حیوان کا جنس نباتات سے افضل ہونا ۔ ( 2 ) بر تری بلحاظ نوع کے جیسے نوع انسان کا دوسرے حیوانات سے بر تر ہونا جیسے فرمایا : ۔ وَلَقَدْ كَرَّمْنا بَنِي آدَمَ [ الإسراء/ 70] اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی ۔ ( 3 ) فضیلت بلحاظ ذات مثلا ایک شخص کا دوسرے شخص سے بر تر ہونا اول الذکر دونوں قسم کی فضیلت بلحاظ جو ہر ہوتی ہے ۔ جن میں ادنیٰ ترقی کر کے اپنے سے اعلٰی کے درجہ کو حاصل نہیں کرسکتا مثلا گھوڑا اور گدھا کہ یہ دونوں انسان کا درجہ حاصل نہیں کرسکتے ۔ البتہ تیسری قسم کی فضیلت من حیث الذات چونکہ کبھی عارضی ہوتی ہے اس لئے اس کا اکتساب عین ممکن ہے چناچہ آیات کریمہ : ۔ وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ [ النحل/ 71] اور خدا نے رزق ( دولت ) می قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ۔ لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ [ الإسراء/ 12] تاکہ تم اپنے پروردگار کا فضل ( یعنی روزی تلاش کرو ۔ میں یہی تیسری قسم کی فضیلت مراد ہے جسے محنت اور سعی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] ، ( س م ع ) السمع ۔ قوت سامعہ ۔ کا ن میں ایک حاسہ کا نام ہے جس کے ذریعہ آوازوں کا اور اک ہوتا ہے اداس کے معنی سننا ( مصدر ) بھی آتے ہیں اور کبھی اس سے خود کان مراد لیا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے ۔ اور کبھی لفظ سماع کی طرح اس سے مصدر ی معنی مراد ہوتے ہیں ( یعنی سننا ) چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] وہ ( آسمائی باتوں کے ) سننے ( کے مقامات ) سے الگ کردیئے گئے ہیں ۔ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] یا دل سے متوجہ ہو کر سنتا ہے ۔ اور کبھی سمع کے معنی فہم و تدبر اور کبھی طاعت بھی آجاتے ہیں مثلا تم کہو ۔ اسمع ما اقول لک میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو لم تسمع ماقلت لک تم نے میری بات سمجھی نہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ نَشاءُ لَقُلْنا[ الأنفال/ 31] اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ( یہ کلام ) ہم نے سن لیا ہے اگر چاہیں تو اسی طرح کا ( کلام ) ہم بھی کہدیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اس کے دلائل قدرت میں سے تمہارا رات میں سونا لیٹنا اور ان میں اس کا رزق تلاش کرنا ہے اس میں بھی ان لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو ان باتوں کو سنتے اور اس کی اطاعت کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٣ (وَمِنْ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط) ” تمہارا رات کے وقت سونا ‘ دوپہر کے وقت قیلولہ کرنا ‘ اور پھر آرام کے ان اوقات کے علاوہ معاشی دوڑ دھوپ میں سرگرم عمل رہنا بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) ” یہ سب نشانیاں یقیناً ان لوگوں کے لیے ہیں جو انسانی کانوں یعنی دل کے کانوں سے سنتے ہیں ‘ نہ کہ محض حیوانی کانوں سے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

33 "To seek bounty" is to seek the livelihood. Though man generally sleeps at night and works for his living in the day, this is not a law. Many people also sleep in the day and work for their livelihood at night. That is why the night and the day both have been mentioned and it has been said: "In both day and nights you sleep as well as work for your livelihood. " This also is a Sign which points to the design of the Wise Creator: Furthermore, it also points to the fact that He is not merely a Creator but also extremely Compassionate and Merciful to His creations, and is more anxious than the creation to meet its needs and requirements. Man cannot constantly labour but needs to have a rest of a few hours after every few hours of hard work so as to rebuild energy to take up work again. For this purpose, the Wise and Merciful Creator has not rested content with creating a feeling of fatigue and a desire for rest in man, but has placed in his nature a powerful urge for the "sleep", which without his will, even inspite of resistance from him, overpowers him automatically after every few hours of work and wakefulness, and compels him to have a few hours of rest, and leaves him as soon as the need has been fulfilled. Man has so far been unable to understand the naturer and real causes of the sleep. This is something wholly innate, which has been placed in the nature and structure of man. Its being`precisely according to the requirements of man is enough to testify that it is not anything accidental, but has been provided by a Wise Being in accordance with a purpose and plan. It is based on a clear wisdom and reason and purposefulness. Moreover, the sleep itself testifies that the One Who has placed this compulsive urge in man is a greater well wisher of man than man himself, otherwise man would have deliberately resisted the sleep and endeavoured to keep constantly awake and worked continuously hard and thus exhaust not only his work-power but also his vital powers. Then, by using the word "seeking Allah's bounty" for the seeking of livelihood, allusion has been made to another series of the Signs. How could have man sought and found his `livelihood if the innumerable and unlimited forces of the earth and heavens had not been put to work to provide means of the livelihood and supply countless resources for man to seek it in the earth? Not only this. Man could not have exploited these means and resources had he not been given appropriate limbs and suitable physical and mental capabilities for the purpose. Thus the ability in man to seek the livelihood and the presence of the resources of the livelihood outside of him, clearly indicate the existence of a Merciful and Beneficent God. An intellect which is not sick can never presume that all this has happened by chance, or is the manifestation of the godhead of many gods, or some merciless, blind force is responsible for these bounties and blessings.

سورة الروم حاشیہ نمبر : 33 فضل کو تلاش کرنے سے مراد رزق کی تلاش میں دوڑ دھوپ کرنا ہے ۔ انسان اگرچہ بالعموم رات کو سوتا اور دن کو اپنی معاش کے لیے جدو جہد کرتا ہے ، لیکن یہ کلیہ نہیں ہے ۔ بہت سے انسان دن کو بھی سوتے اور رات کو بھی معاش کے لیے کام کرتے ہیں ۔ اسی لیے رات اور دن کا اکٹھا ذکر کر کے فرمایا کہ ان دونوں اوقات میں تم سوتے بھی ہو اور اپنی معاش کے لیے دوڑ دھوپ بھی کرتے ہو ۔ یہ چیز بھی ان نشانیوں میں سے ہے جو ایک خالق حکیم کی تدبیر کا پتہ دیتی ہیں ۔ بلکہ مزید برآں یہ چیز اس بات کی نشان دہی بھی کرتی ہے کہ وہ محض خالق ہی نہیں ہے بلکہ اپنی مخلوق پر غایت درجہ رحیم و شفیق اور اس کی ضروریات اور مصلحتوں کے لیے خود اس سے بڑھ کر فکر کرنے والا ہے ۔ انسان دنیا میں مسلسل محنت نہیں کرسکتا بلکہ ہر چند گھنٹوں کی محنت کے بعد اسے چند گھنٹوں کے لیے آرام درکار ہوتا ہے تاکہ پھر چند گھنٹے محنت کرنے کے لیے اسے قوت بہم پہنچ جائے ۔ اس غرض کے لیے خالق حکیم و رحیم نے انسان کے اندر صرف تکان کا احساس ، اور صرف آرام کی خواہش پیدا کردینے ہی پر اکتفا نہیں کیا ، بلکہ اس نے نیند کا ایک ایسا زبردست داعیہ اس کے وجود میں رکھ دیا جو اس کے ارادے کے بغیر ، حتی کہ اس کی مزاحمت کے باوجود ، خود بخود ہر چند گھنٹوں کی بیداری و محنت کے بعد اسے آ دبوچتا ہے ، چند گھنٹے آرام لینے پر اس کو مجبور کردیتا ہے ، اور ضرورت پوری ہوجانے کے بعد خودبخود اسے چھوڑ دیتا ہے ۔ اس نیند کی ماہیت و کیفیت اور اس کے حقیقی اسباب کو آج تک انسان نہیں سمجھ سکا ہے ۔ یہ قطعا ایک پیدائشی چیز ہے جو آدمی کی فطرت اور اس کی ساخت میں رکھ دی گئی ہے ۔ اس کا ٹھیک انسان کی ضرورت کے مطابق ہونا ہی اس بات کی شہادت دینے کے لیے کافی ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ کسی حکیم نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق یہ تدبیر وضع کی ہے ۔ اس میں ایک بڑی حکمت و مصلحت اور مقصدیت صاف طور پر کار فرما نظر آتی ہے ۔ مزید برآں یہی نیند اس بات پر بھی گواہ ہے کہ جس نے یہ مجبور کن داعیہ انسان کے اندر رکھا ہے وہ انسان کے حق میں خود اس سے بڑھ کر خیر خواہ ہے ورنہ انسان بالارادہ نیند کی مزاحمت کر کے اور زبردستی جاگ جاگ کر اور مسلسل کام کر کر کے اپنی قوت کار کو ہی نہیں ، قوت حیات تک کو ختم کر ڈالتا ۔ پھر رزق کی تلاش کے لے اللہ کے فضل کی تلاش کا لفظ استعمال کر کے نشانیوں کے ایک دوسرے سلسلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ آدمی آخر یہ رزق تلاش ہی کہاں کرسکتا تھا اگر زمین و آسمان کی بے حد و حساب طاقتوں کو رزق کے اسباب و ذرائع پیدا کرنے میں نہ لگا دیا گیا ہوتا ، اور زمین میں انسان کے لیے رزق کے بے شمار ذرائع نہ پیدا کردیے گئے ہوتے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ رزق کی یہ تلاش اور اس کا اکتساب اسی صورت میں بھی ممکن نہ ہوتا اگر انسان کو اس کام کے لیے مناسب ترین اعضاء اور مناسب ترین جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں نہ دی گئی ہوتیں ۔ پس آدمی کے اندر تلاش رزق کی قابلیت اور اس کے وجود سے باہر وسائل رزق کی موجودگی ، صاف صاف ایک رب رحیم و کریم کے وجود کا پتہ دیتی ہے ۔ جو عقل بیمار نہ ہو وہ کبھی یہ فرض نہیں کرسکتی کہ یہ سب کچھ اتفاقا ہوگیا ہے ، یا یہ بہت سے خداؤں کا کرشمہ ہے ، یا کوئی بے درد اندھی قوت اس فضل و کرم کی ذمہ دار ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

9: رات کے وقت سونے اور دن کے وقت اللہ کا فضل یعنی روزگار تلاش کرنے کا یہ نظام اللہ تعالیٰ ہی نے بنایا ہے، اس کے لئے انسانوں کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا، اگر یہ کام لوگوں کی صوابدید پر چھوڑدیاجاتا تو کچھ لوگ ایک وقت سونا چاہتے اور دوسرے لوگ اسی وقت کام میں مشغول ہو کر ان کی نیند خراب کرتے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:33) منامکم۔ مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری نیند۔ نوم، نیام ، منام ، نوام نیند۔ خواب۔ منام اسم ظرف بھی ہے بمعنی خواب گاہ ابتغاء کم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تلاش کرنا۔ چاہنا۔ ابتغاؤکم تمہارا تلاش کرنا۔ تمہارا طلب کرنا۔ تمہارا چاہنا۔ فضلہ۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اس کا فضل (یعنی خدا کا فضل) فضل اس عطیہ کو کہتے ہیں جو دینے والے پر فرض نہیں ہوتا۔ یہاں فضل سے مراد رزق، اسباب معاش ہے۔ لقوم یسمعون ۔ ان لوگوں کے لئے جو (گوش ہوش) سے سنتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

10 ۔ سونے سے تمہاری تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ گو رات کو زیادہ اور دن کو کم ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ساتویں اور آٹھویں نشانی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں بیشمار اور اَن گنت ہیں۔ لیکن اس کی قدرت کی کچھ ایسی نشانیاں اور نعمتیں ہیں جن سے استفادہ کیے بغیر کوئی آدمی رہ نہیں سکتا ان میں نیند بھی شامل ہے۔ نیک ہو یا بد، چھوٹا ہو یا بڑا، کافر ہو یا مسلمان، نیند ایسی نعمت ہے جسے انسان کی جبلّت میں رکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چاہے یا نہ چاہے، نیند کی آغوش میں جانا ہر ایک کی فطری ضرورت اور مجبوری ہے۔ اس فطری ضرورت میں انسان کی زندگی مضمر ہے۔ جوں ہی آدمی نیند کی آغوش میں جاتا ہے تو اس کی جسمانی تھکاوٹ دور ہوجاتی ہے یہاں تک کہ انسان کا غم بھی ہلکا ہوجاتا ہے۔ بالخصوص رات کی نیند انتہائی مفید بنا دی گئی ہے۔ اگر انسان کو دو ، تین دن نیند نہ آئے تو اس کا وجود اکڑ جاتا ہے اور وہ چلنے، پھرنے یہاں تک کہ سوچنے، سمجھنے کے قابل نہیں رہتا۔ میڈیکل سائنس اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ سوتے وقت روشنی کی بجائے آدمی کو اندھیرے میں سونا چاہیے کیونکہ اندھیرے میں سونے سے نہ صرف نیند گہری آتی ہے بلکہ اس سے سکون میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ گہری اور پرسکون نیند کے ذریعے انسان کی دن بھر میں استعمال کی ہوئی انرجی بحال ہوجاتی ہے۔ اور تھکاماندہ انسان تازہ دم ہو کر صبح کو اپنے کام کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ رات کی نیند کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد آدمی کو جلد سونا اور صبح جلد اٹھنا چاہیے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ میڈیکل سائنس اس حقیقت تک پہنچ چکی ہے کہ پہلی رات کی نیند رات کے پچھلے پہر کی نیند سے کہیں بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو رات اور دن میں تقسیم کیا ہے۔ رات آرام اور سکون کے لیے ہے۔ دن کام اور دیگر مصروفیات کے لیے بنایا گیا ہے۔ جس میں انسان اپنے رب کا فضل تلاش کرتا ہے۔ فضل سے مراد خوراک اور دیگر وسائل ہیں۔ رات اور دن میں سے کسی ایک کا وجود نہ ہو یا ان میں کوئی خلل واقع ہوجائے تو انسان ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا نظام ختم ہوجائے۔ جو لوگ اپنے رب کے ارشادات توجہ سے سنتے اور ان پر غور کرتے ہیں یقیناً وہ ہدایت پاتے ہیں۔ ” ابوبرزہ اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور بعد میں باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ “ [ رواہ البخاری : باب مَا یُکْرَہُ مِنَ النَّوْمِ قَبْلَ الْعِشَاءِ ] سونے کی دعا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سونے کے وقت بہت سی دعائیں ثابت ہیں یہاں صرف چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ ” حضرت ابو سعید (رض) نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں جو شخص اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے تین مرتبہ یہ کلمات کہتا ہے۔ ” أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْعَظِیمَ الَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ “ تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کردیتا ہے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں، اگرچہ درختوں کے پتوں کی تعداد کے برابر ہوں، بیشک صحرا کی ریت کے ذروں کے برابر بھی ہوں، اگرچہ دنیا کے دنوں کی تعداد کے برابر ہوں۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب الدعوات ] سونے کے آداب : 1 وضو کرنا۔ 2 بسم اللہ پڑھ کر بستر پر جانا۔ 3 لیٹنے سے پہلے بستر کو اچھی طرح جھاڑنا۔ 4 دائیں کروٹ لیٹنا۔ 5 دایاں ہاتھ دایاں رخسار کے نیچے رکھ کر قبلہ رخ لیٹنا۔ 6 مسنون دعائیں پڑھنا۔ 7 آیۃ الکرسی، سورة البقرۃ کی آخری دو آیات، سورة السجدہ اور سورة الملک کی تلاوت کرنا ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا سنت نبوی ہے۔ اس کے بعد (اللَّہُمَّ باسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْیَا) [ رواہ البخاری : باب وَضْعِ الْیَدِ الْیُمْنَی تَحْتَ الْخَدِّ الأَیْمَنِ ] ” اے اللہ میں تیرے نام سے ہی مرتا ہوں اور تیرے نام سے ہی جیتا ہوں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور عظیم نعمتوں میں نیند بہت بڑی نعمت ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے رات آرام اور دن کام کاج کے لیے بنایا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو غور سے سننے والے ہی ہدایت پاتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن رات اور دن کے فائدے : ١۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو باعث سکون اور دن کو کسب معاش کا ذریعہ بنایا ہے تاکہ اس کا شکریہ ادا کیا جائے۔ (القصص : ٧٣) ٢۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ (یونس : ٦٧) ٣۔ اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم تسکین حاصل کرو۔ (القصص : ٨٢) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کو نشانیاں بنایا ہے۔ (بنی اسرائیل : ١٢) ٥۔ دن، رات، سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ( حٰم السجدۃ : ٣٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ومن ایتہ منامکم ۔۔۔۔۔۔ لقوم یسمعون (30: 23) ” “۔ اس آیت میں بھی کائناتی مظاہر اور ان کے ساتھ انسانی احوال میں تبدیلی کی بات کی گئی ہے اور دونوں کے درمیان تعلق دکھایا گیا ہے۔ جس کے ذریعے اس عظیم الجثہ موجودات کے اندر ربط ظاہر ہوتا ہے اور ان کے درمیان ہم آہنگی بتائی جاتی ہے۔ شب و روز کے اختلاف کے ساتھ انسان کا سونا اور جاگنا اور اس دنیا میں رزق حلال کے لئے جدوجہد کرنا مربوط ہے۔ رزق حلال کو یہاں فضل الٰہی سے تعبیر کیا گیا ہے بشرطیکہ وہ آرام کے بعد رزق حلال کے لیے جدوجہد کریں اللہ نے اس کائنات کو یوں بنایا ہے کہ وہ انسان کے لیے اس کی جدوجہد آسان کر دے اور وہ اس کرہ ارض پر خوشگواری سے رہ سکے۔ اس جدوجہد کے لیے دن کی روشنی کو موزوں بنایا ہے۔ آرام اور راحت کے لیے رات کی تاریکی کو آسان بنایا ہے۔ یہ منظر اس کرہ ارض پر رہنے والی بیشتر مخلوقات کے لیے ہے۔ ہر کسی کے لئے درجہ بدرجہ سہولت کا انتظام کیا گیا ہے۔ گرض نظام کائنات میں موجودات میں سے ہر موجود اپنے لیے سہولت پاتا ہے اور یہ سہولیات اس کے لیے نہایت فطری ہیں۔ اس کی فطرت اور اس کی زندگی سے ہم آہنگ اور خوشگوار۔ ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون (30: 23) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو سنتے ہیں “۔ نیند سکون ہے اور سعی حرکت ہے۔ دونوں کا ادراک سننے سے ہوتا ہے۔ لہٰذا یسمعون کا لفظ قرآن کریم کے اسلوب بیان کے مطابق نہایت ہی موزوں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پنجم اور ششم : السنہ اور الوان کی نعمت کا تذکرہ فرمانے کے بعد انسانوں کے سونے اور رزق تلاش کرنے کا تذکرہ فرمایا ہے۔ بات یہ ہے کہ انسانوں کا سونا اور سونے کے لیے مجبور ہونا اور نیند کا آجانا اور آرام پانا جو عموماً رات کو ہوتا ہے اور بہت سے افراد دن میں بھی سو جاتے ہیں خاص کر جنہیں قیلولہ کی عادت ہوتی ہے، یہ سونا اور آرام پانا سب اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی ہے اور اس کی قدرت کی نشانی بھی، انسان بعض مرتبہ سونا نہیں چاہتا لیکن نیند کا غلبہ اسے سلا ہی دیتا ہے اور بہت مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ سونے کی نیت سے لیٹا، دماغ تھکا ہوا ہے جسم تھکن سے بےجان ہو رہا ہے آنکھیں میچتا ہے، کروٹیں بدلتا ہے، پوری رات گزر جاتی ہے لیکن نیند نہیں آتی، اللہ تعالیٰ ہی چاہتا ہے تو سلا دیتا ہے اور وہی چاہتا ہے تو جگا دیتا ہے۔ اسی لیے تو سو کر اٹھنے کی دعا میں دونوں نعمتوں کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، اور نیند چونکہ موت کی بہن ہے اس لیے اسے موت سے تعبیر فرمایا ہے۔ سو کر اٹھنے کی دعا یہ ہے (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ ) (سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں موت دے کر زندگی بخش دی اور اسی کی طرف زندہ ہو کر قبروں سے نکل کر جانا ہے) کیونکہ بہت سے لوگ رات میں بھی کسب کرتے ہیں اور رزق تلاش کرتے ہیں اس لیے (مَنَامُکُمْ بالَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَ ابْتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ) فرمایا۔ جس طرح دن میں بھی سونا ہوجاتا ہے گو عمومی طور پر سونے کے لیے رات ہی کو اختیار کیا جاتا ہے اسی طرح رات میں بھی تحصیل رزق کی صورتیں بن جاتی ہیں، الفاظ کے عموم نے دو باتیں بنا دی ہیں۔ دن کا نکلنا بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور رزق تلاش کرنے کے قابل ہونا بھی اس کا انعام ہے، اور ان سب چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، آدمی نہ سونے میں مختار ہے نہ جاگنے میں نہ رزق کمانے کے لیے گھر سے باہر نکلنے ہیں، اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت کا ارادہ ہو تو یہ سب چیزیں وجود میں آتی ہیں، آخر میں فرمایا : (اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ) (بلاشبہ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سنتے ہیں۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

23۔ اور اس کے نشان ہائے قدرت میں سے یہ بات ہے کہ وہ تم کو ڈرانے اور امید دلانے کو بجلی کی چمک دکھاتا ہے اور وہ آسمان کی جانب سے پانی نازل کرتا ہے پھر اس پانی سے زمین کو اس کے مرے پیچھے یعنی خشک ہوجانے کے بعد زندہ اور ترو تازہ کردیتا ہے ۔ بیشک اس امر مذکور میں ان لوگوں کیلئے قدرت خداوندی کی بڑی نشانیاں ہیں جو صحیح عقل اور سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ۔ یعنی جب بارش ہوتی ہے تو بجلی کی چمک دکھاتا ہے جس سے بجلی کے گرنے کا خوف بھی ہوتا ہے اور بارش کے ہونے کی امید بھی ہوتی ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے اور پانی سے زمین کو اس کے مرجانے اور خشک ہوجانے کے بعد از سر نو زندگی عطا فرماتا ہے اور زندہ کردیتا ہے یعنی ترو تازہ ہوتی ہے اور نمو کی قوت پید ا ہوجاتی ہے ، ان باتوں میں دلائل میں اہل عقل کیلئے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جب زمین مرنے کے بعد زندہ ہوتی ہے تو زمین سے بنا ہوا انسان بھی مرنے کے بعد زندہ ہوجائے گا ۔