Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 26

سورة الروم

وَ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿۲۶﴾

And to Him belongs whoever is in the heavens and earth. All are to Him devoutly obedient.

اور زمین و آسمان کی ہر ہرچیز اسی کی ملکیت ہے اور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah says: وَلَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ ... To Him belongs whatever is in the heavens and the earth. means, He owns it and it is enslaved to Him. ... كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ All are obedient to Him. they are humble before Him and submit to Him, whether willingly or unwillingly. Repeating the Creation is easier for Allah Allah's saying:

جس کا کوئی ہمسر نہیں فرماتا ہے کہ تمام آسمانوں اور ساری زمینوں کی مخلوق اللہ ہی کی ہے سب اس کے لونڈی غلام ہیں سب اسی کی ملکیت ہیں ۔ ہر ایک اس کے سامنے عاجز ولاچار مجبور وبے بس ہیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں قنوت کا ذکر ہے وہاں مراد اطاعت وفرمانبردای ہے ۔ ابتدائی پیدائش بھی اسی نے کی اور وہی اعادہ بھی کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے عادتا آسان اور ہلکا ہوتا ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ مجھے ابن آدم جھٹلاتا ہے اور اسے یہ چاہیے نہیں تھا ۔ وہ مجھے برا کہتا ہے اور یہ بھی اسے لائق نہ تھا ۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اس نے مجھے اولا پیدا کیا اس طرح دوبارہ پیدا کر نہیں سکتا حالانکہ دوسری مرتبہ کی پیدائش پہلی دفعہ کی پیدائش سے بالکل آسان ہوا کرتی ہے اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہ کہتا ہے کہ اللہ کی اولاد ہے حالانکہ میں احد اور صمد ہوں ۔ جس کی نہ اولاد نہ ماں باپ اور جس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ الغرض دونوں پیدائشیں اس مالک کی قدر کی مظہر ہیں نہ اس پر کوئی کام بھاری نہ بوجھل ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ھو کی ضمیر کا مرجع خلق ہو مثل سے مراد یہاں اس کی توحید الوہیت اور توحید ربوبیت ہے نہ کہ مثال اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مثال سے پاک ہے فرمان ہے آیت ( لیس کمثلہ شئی ) اس کی مثال کوئی اور نہیں ۔ بعض اہل ذوق نے کہا ہے کہ جب صاف شفاف پانی کا ستھرا پاک صاف حوض ٹھہرا ہوا ہو اور باد صبا کے تھپیڑے اسے ہلاتے جلاتے نہ ہوں اس وقت اس میں آسمان صاف نظر آتا ہے سورج اور چاند ستارے بالکل دکھائی دیتے ہیں اسی طرح بزرگوں کے دل ہیں جن میں وہ اللہ کی عظمت وجلال کو ہمیشہ دیکھتے رہتے ہیں ۔ وہ غالب ہے جس پر کسی کا بس نہیں نہ اس کے سامنے کسی کی کچھ چل سکے ہر چیز اس کی ماتحتی میں اور اس کے سامنے پست ولاچار عاجز وبے بس ہے ۔ اس کی قدرت سطوت سلطنت ہر چیز محیط ہے ۔ وہ حکیم ہے اپنے اقوال ، افعال ، شریعت ، تقدیر ، غرض ہر ہر امر میں ۔ حضرت محمد بن منکدر فرماتے ہیں مثل اعلی سے مراد لا الہ الا اللہ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

261یعنی اس کے تکوینی حکم کے آگے سب بےبس اور لاچار ہیں۔ جیسے موت وحیات، صحت و مرض، ذلت و عزت وغیرہ میں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٥] یعنی کائنات کی ایک ایک چیز اللہ کی مملوک اور وہ ان کا خالق اور مالک ہے اور کوئی بھی چیز اس کے حکم تکوینی سے سرتابی کی مجال نہیں رکھتی ہر چیز اللہ اللہ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق سرگرم عمل ہے اور یہی ہر چیز کا سجدہ ہے اور یہی ہر چیز کی تسبیح ہے۔ حتیٰ کہ انسان بھی طبیعی امور میں اللہ کے مقررہ قوانین کا پابند ہے۔ وہ چاہے بھی تو جوانی کو واپس نہیں لاسکتا۔ نہ موت کو ٹال سکتا ہے۔ نہ کھانے پینے کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی اگر سرکشی ہے تو محض اختیاری امور میں ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ۔۔ : یعنی یہ اور اس سے اگلی آیت پچھلی آیات کا نتیجہ اور خلاصہ ہیں۔ یعنی یہ خیال مت کرو کہ وہ اس کے بلانے پر کیسے نکل آئیں گے، کیونکہ آسمان و زمین میں جو بھی ہے اسی کی ملکیت ہے اور سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ ” کُنْ “ کہے اور کوئی شخص اس کے حکم سے انحراف کرسکے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَہٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ ۭ كُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوْنَ۝ ٢٦ سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ قنت القُنُوتُ : لزوم الطّاعة مع الخضوع، وفسّر بكلّ واحد منهما في قوله تعالی: وَقُومُوا لِلَّهِ قانِتِينَ [ البقرة/ 238] ، وقوله تعالی: كُلٌّ لَهُ قانِتُونَ [ الروم/ 26] قيل : خاضعون، وقیل : طائعون، وقیل : ساکتون ولم يعن به كلّ السّكوت، وإنما عني به ما قال عليه الصلاة والسلام : «إنّ هذه الصّلاة لا يصحّ فيها شيء من کلام الآدميّين، إنّما هي قرآن وتسبیح» «1» ، وعلی هذا قيل : أيّ الصلاة أفضل ؟ فقال : «طول القُنُوتِ» «2» أي : الاشتغال بالعبادة ورفض کلّ ما سواه . وقال تعالی: إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً قانِتاً [ النحل/ 120] ، وَكانَتْ مِنَ الْقانِتِينَ [ التحریم/ 12] ، أَمَّنْ هُوَ قانِتٌ آناءَ اللَّيْلِ ساجِداً وَقائِماً [ الزمر/ 9] ، اقْنُتِي لِرَبِّكِ [ آل عمران/ 43] ، وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ [ الأحزاب/ 31] ، وقال : وَالْقانِتِينَ وَالْقانِتاتِ [ الأحزاب/ 35] ، فَالصَّالِحاتُ قانِتاتٌ [ النساء/ 34] . ( ق ن ت ) القنوت ( ن ) کے معنی خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنے کے ہیں اس بناء پر آیت کریمہ : وَقُومُوا لِلَّهِ قانِتِينَ [ البقرة/ 238] اور خدا کے آگے ادب کھڑے رہا کرو ۔ میں برض نے قانیتین کے معنی طائعین کئے ہیں یعنی اطاعت کی ھالت میں اور بعض نے خاضعین یعنی خشوع و خضوع کے ساتھ اسی طرح آیت کریمہ كُلٌّ لَهُ قانِتُونَ [ الروم/ 26] سب اس کے فرمانبردار ہیں ۔ میں بعض نے قنتون کے معنی خاضعون کئے ہیں اور بعض نے طائعون ( فرمانبرادار اور بعض نے ساکتون یعنی خاموش اور چپ چاپ اور اس سے بالکل خاموش ہوکر کھڑے رہنا مراد نہیں ہے بلکہ عبادت گذاری میں خاموشی سے ان کی مراد یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( 87 ) کہ نماز ( تلاوت قرآن اور اللہ کی تسبیح وتحمید کا نام ہے اور اس میں کسی طرح کی انسانی گفتگو جائز نہیں ہے ۔ اسی بناء پر جب آپ سے پوچھا گیا کہ کونسی نماز افضل تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ( 88 ) طول القنوت یعنی عبادت میں ہمہ تن منصروف ہوجانا اور اس کے ماسوا ست توجہ پھیرلینا قرآن میں ہے ۔ إِنَّ إِبْراهِيمَ كانَ أُمَّةً قانِتاً [ النحل/ 120] بت شک حضرت ابراھیم لوگوں کے امام اور خدا کے فرمابنرداری تھے ۔ اور مریم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : وَكانَتْ مِنَ الْقانِتِينَ [ التحریم/ 12] اور فرمانبرداری میں سے تھیں ۔ أَمَّنْ هُوَ قانِتٌ آناءَ اللَّيْلِ ساجِداً وَقائِماً [ الزمر/ 9] یا وہ جو رات کے وقتقں میں زمین پریشانی رکھ کر اور کھڑے ہوکر عبادت کرتا ہے ۔ اقْنُتِي لِرَبِّكِ [ آل عمران/ 43] اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا ۔ وَمَنْ يَقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ [ الأحزاب/ 31] اور جو تم میں سے خدا اور اسکے رسول کی فرمنبردار رہے گی ۔ وَالْقانِتِينَ وَالْقانِتاتِ [ الأحزاب/ 35] اور فرمانبرداری مرد اور فرمانبردار عورتیں ۔ فَالصَّالِحاتُ قانِتاتٌ [ النساء/ 34] تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور تمام آسمان و زمین سب اسی کی ملکیت میں ہیں اور کافروں کے علاوہ سب اسی کے اطاعت گزار ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:26) قنتون۔ اسم فاعل جمع مذکر قانت واحد اطاعت گزار۔ فرمانبردار۔ القنوت کے معنی خشوع و خضوع کے ساتھ اطاعت کا التزام کرنے کے ہیں۔ قنت یقنت قنوت (باب نصر) خاکساری کرنا ۔ اطاعت کرنا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی تکوینی طور پر سب اس کے مطیع و متضاد ہیں کوئی چیز بھی اس کے امر تکوینی سے سر مو انحراف نہیں کہ سکتی۔ یا ” ہر چیز زبان حال یا قال سے اس کی عبویدت کا اعتراف کر رہی ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

26۔ اور جتنے انسان اور فرشتے آسمان و زمین میں موجود ہیں سب اس کے مملوک ہیں اور سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں ۔ یعنی جو ذی عقل مخلوق آسمان و زمین میں ہے سب اسی کی مملوک ہے مراد اس سے فرشتے اور ارواح طیبہ اور زمین میں انسان سب اللہ تعالیٰ کی مملوک ہیں اور سب اسی کے حکم کے تابع ہیں کوئی اختیاری اور کوئی اضطراری۔