Surat ur Room

Surah: 30

Verse: 47

سورة الروم

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ رُسُلًا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ فَجَآءُوۡہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَانۡتَقَمۡنَا مِنَ الَّذِیۡنَ اَجۡرَمُوۡا ؕ وَ کَانَ حَقًّا عَلَیۡنَا نَصۡرُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۴۷﴾

And We have already sent messengers before you to their peoples, and they came to them with clear evidences; then We took retribution from those who committed crimes, and incumbent upon Us was support of the believers.

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی اپنے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس دلیلیں لائے ۔ پھر ہم نے گناہ گاروں سے انتقام لیا ۔ ہم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلً إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاوُوهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا ... And indeed We did send Messengers before you to their own peoples. They came to them with clear proofs, then, We took vengeance on those who committed crimes; These are words of consolation from Allah to His servant and Messenger Muhammad. They tell him that if many of his people and of mankind disbelieve in him, the previous Messengers were also rejected, despite the clear signs that they brought, but Allah punished those who rejected and opposed them, and saved those who believed in them. ... وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُوْمِنِينَ and it was incumbent upon Us to help the believers. This is a duty which Allah took upon Himself as a blessing and a favor to them. This is like the Ayah, كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ your Lord has prescribed mercy for Himself. (6:54) Ibn Abi Hatim recorded that Abu Ad-Darda', may Allah be pleased with him, said: "I heard Allah's Messenger saying: مَا مِنِ امْرِىءٍ مُسْلِمٍ يَرُدُّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ إِلاَّ كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَة No Muslim man defends the honor of his brother except that there would be a right upon Allah to defend him from the fire of Hell on the Day of Resurrection. Then he recited this Ayah: ... وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُوْمِنِينَ and it was incumbent upon Us to help the believers."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

471یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح ہم نے آپ کو رسول بنا کر آپ کی قوم کی طرف بھیجا اسی طرح آپ سے پہلے بھی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے، ان کے ساتھ دلائل اور معجزات بھی تھے، لیکن قوموں نے ان کی تکذیب کی، ان پر ایمان نہیں لائے بالآخر ان کے اس جرم تکذیب اور ارتکاب معصیت پر ہم نے انھیں اپنی سزا کا نشانہ بنایا اور اہل ایمان کی تائید و نصرت کی جو ہم پر لازم ہے یہ گویا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان پر ایمان لانے والے مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار و مشرکین کی روش تکذیب سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر نبی کے ساتھ اس کی قوم نے یہی معاملہ کیا ہے۔ نیز کفار کو تنبیہ ہے کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو گذشتہ قوموں کا ہوچکا ہے۔ کیونکہ اللہ کی مدد تو بالآخر مومنوں ہی کو حاصل ہوگی، جس میں پیغمبر اور اس پر ایمان لانے والے سب شامل ہیں۔ حقا کان کی خبر ہے جو مقدم ہے نصر المومنین اس کا اسم ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٥] وہ روشن دلیلیں کیا تھیں ؟ وہ اللہ کی کتاب تھی، رسولوں کی اپنی پاکیزہ سیرت تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ان کی نبوت کے طور پر پیش کیا۔ پھر ان نبیوں نے ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جو احکام الٰہی کا چلتا پھرتا عملی نمونہ تھا۔ اللہ کی کتاب میں اللہ کی ہر سو بکھری ہوئی نشانیوں میں غور و فکر کی دعوت دی گئی تھی۔ کتاب کی آیات کائناتی آیات کی تائید کرتی تھیں اور کائناتی آیات کتاب کی آیات کی تائید کرتی تھیں۔ یہ دونوں قسم کی نشانیاں ایک دوسری تائید و تصدیق کرتی تھیں۔ پھر بھی لوگ اس نبی پر ایمان نہ لائے اور اکڑ گئے۔ الٹا ایمان لانے والوں ہر ستم ڈھانا شروع کردیئے۔ پھر جب ان کی سرکشی بڑھتی ہی گئی تو ہم نے ایمانداروں کو تو بچا لیا اور انھیں بچا لینا ہی ہماری ذمہ داری بھی تھی۔ اور مجرم لوگوں کو تباہ کر ڈالا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا ۔۔ : اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت برپا ہونے کے دلائل سن کر بھی کفار ایمان نہ لائے اور اپنی ضد ہی پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی تسلی کے لیے فرمایا کہ آپ پہلے شخص نہیں جسے جھٹلایا گیا ہو، بلکہ آپ سے پہلے ہم نے بہت سے رسول بھیجے جو اپنی اقوام کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے، جو وحی الٰہی کی آیات بھی تھیں اور پیغمبر کو ملنے والے معجزے بھی، مگر کفار اپنے جرائم پر اڑے رہے تو ہم نے ان مجرموں سے انتقام لیا اور مومنوں کی نصرت فرمائی اور مومنوں کی مدد کرنا ہم پر ہمیشہ سے لازم رہا ہے۔ (کَان استمرار کے لیے ہے) ” المومنین “ میں پیغمبر، ان کے صحابہ اور تمام مومنین شامل ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary فَانتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَ‌مُوا وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ‌ الْمُؤْمِنِينَ (Then We took vengeance upon those who were guilty. And it was due on Us to help the believers. -30:47). This verse tells us that Allah Ta’ ala has taken it upon Himself to help the believers. On the face of this statement, one would have expected that Muslims would never be defeated against the infidels. But on many occasions, results have been exactly opposite. Answer to this confusion is at hand in this very verse, that by the word &believers& those believers are intended who fight with infidels purely for the sake of Allah. Allah Ta’ ala takes revenge of only such believers from the criminals and helps them overpower their adversaries. Wherever the position is different, it is due to some sort of slip on the part of the believers, as Qur&an itself has quoted about the battle of Uhud: إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا (Shaitan had but made them slip for some of their deeds - 3:155). Even in such a situation, Allah Ta’ ala graces them with victory and upper hand, once they realize their fault, as it happened in the battle of Uhud. As for such people who are Muslims only by name and are habitual defiant and negligent of the teachings of Islam, and are not penitent even when the infidels gain upper hand, they are for sure not included in this promise of Allah Ta’ ala, and do not qualify for His help. Nonetheless, Allah Ta’ ala provides help by His grace on many occasions without any one deserving it. Therefore, it is always beneficial to beg for His mercy and hope for His help.

معارف و مسائل فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا ۭ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ ، ہم نے مجرموں کافروں سے انتقام لے لیا اور ہمارے ذمہ تھا کہ ہم مومنین کی مدد کرتے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنین کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اس کا تقاضا بظاہر یہ تھا کہ مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں کبھی شکست نہ ہو، حالانکہ بہت سے واقعات اس کے خلاف بھی ہوئے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں۔ اس کا جواب خود اسی آیت میں موجود ہے کہ مومنین سے مراد وہ مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں جو خالص اللہ کے لئے کفار سے جنگ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ہی انتقام اللہ تعالیٰ مجرمین سے لیتے ہیں اور ان کو غالب کرتے ہیں، جہاں کہیں اس کے خلاف کوئی صورت پیش آتی ہے وہاں عموماً مجاہدین کی کوئی لغزش ان کی شکست کا سبب بنتی ہے، جیسے غزوہ احد کے متعلق خود قرآن کریم میں ہے اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّـيْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا ” یعنی شیطان نے ان لوگوں کو لغزش دے دی، ان کے بعض اعمال کی غلطی کے سبب، اور ایسے حالات میں بھی انجام کار اللہ تعالیٰ پھر انہی کو غلبہ اور فتح عطا فرما دیتے ہیں جبکہ ان کو اپنی غلطی پر تنبہ ہوجائے جیسا غزوہ احد میں ہوا اور جو لوگ محض اپنا نام مومن مسلمان رکھ لیں، احکام خداوندی سے غفلت و سرکشی کے عادی ہوں اور غلبہ کفار کے وقت بھی اپنے گناہوں سے تائب نہ ہوں وہ اس وعدہ میں شامل نہیں، وہ نصرت الہیہ کے مستحق نہیں ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بغیر کسی استحقاق کے بھی نصرت و غلبہ عطا فرما دیتے ہیں، اس کی امید رکھنا اور اس سے دعا مانگنا ہر حال میں مفید ہی مفید ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِہِمْ فَجَــاۗءُوْہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَانْتَـقَمْنَا مِنَ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا۝ ٠ ۭ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٤٧ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ بينات يقال : بَانَ واسْتَبَانَ وتَبَيَّنَ نحو عجل واستعجل وتعجّل وقد بَيَّنْتُهُ. قال اللہ سبحانه : وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] ، وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] ، ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] ، قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ، قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآياتِ [ آل عمران/ 118] ، وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ الزخرف/ 63] ، وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ، لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ النحل/ 39] ، فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] ، وقال : شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] . ويقال : آية مُبَيَّنَة اعتبارا بمن بيّنها، وآية مُبَيِّنَة اعتبارا بنفسها، وآیات مبيّنات ومبيّنات . والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «2» ، وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] . والبَيَان : الکشف عن الشیء، وهو أعمّ من النطق، لأنّ النطق مختص بالإنسان، ويسمّى ما بيّن به بيانا . قال بعضهم : البیان يكون علی ضربین : أحدهما بالتسخیر، وهو الأشياء التي تدلّ علی حال من الأحوال من آثار الصنعة . والثاني بالاختبار، وذلک إما يكون نطقا، أو کتابة، أو إشارة . فممّا هو بيان بالحال قوله : وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] ، أي : كونه عدوّا بَيِّن في الحال . تُرِيدُونَ أَنْ تَصُدُّونا عَمَّا كانَ يَعْبُدُ آباؤُنا فَأْتُونا بِسُلْطانٍ مُبِينٍ [إبراهيم/ 10] . وما هو بيان بالاختبار فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 43- 44] ( ب ی ن ) البین کے معنی ظاہر اور واضح ہوجانے کے ہیں اور بینہ کے معنی کسی چیز کو ظاہر اور واضح کردینے کے قرآن میں ہے ۔ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح ( کاملہ ) کیا تھا ۔ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] چناچہ ان کے ( ویران ) گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ ولِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ [ الأنعام/ 55] اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے ۔ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ [ البقرة/ 256] ہدایت صاف طور پر ظاہر ( اور ) گمراہی سے الگ ہوچکی ہو ۔ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآياتِ [ آل عمران/ 118] ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دیں ۔ وَلِأُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ الزخرف/ 63] نیز اس لئے کہ بعض باتیں جن میں تم اختلاف کررہے ہو تم کو سمجھا دوں وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ [ النحل/ 44] ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو ( ارشادت ) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو ۔ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي يَخْتَلِفُونَ فِيهِ [ النحل/ 39] تاکہ جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں وہ ان پر ظاہر کردے ۔ فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] ( روزوں کا مہنہ ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( وال وال ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے ۔ اور بیان کرنے والے کے اعتبار ہے آیت کو مبینۃ نجہ کہا جاتا ہے کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔ خواہ وہ دلالت عقلیہ ہو یا محسوسۃ اور شاھدان ( دو گواہ ) کو بھی بینۃ کہا جاتا ہے جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے : کہ مدعی پر گواہ لانا ہے اور مدعا علیہ پر حلف ۔ قرآن میں ہے أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] بھلا جو لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل ( روشن رکھتے ہیں ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] تاکہ جو مرے بصیرت پر ( یعنی یقین جان کر ) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر ) یعنی حق پہچان کر ) جیتا رہے ۔ جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں کے کر آئے ۔ البیان کے معنی کسی چیز کو واضح کرنے کے ہیں اور یہ نطق سے عام ہے ۔ کیونکہ نطق انسان کے ساتھ مختس ہے اور کبھی جس چیز کے ذریعہ بیان کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی بیان کہہ دیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ بیان ، ، دو قسم پر ہے ۔ ایک بیان بالتحبیر یعنی وہ اشیا جو اس کے آثار صنعت میں سے کسی حالت پر دال ہوں ، دوسرے بیان بالا ختیار اور یہ یا تو زبان کے ذریعہ ہوگا اور یا بذریعہ کتابت اور اشارہ کے چناچہ بیان حالت کے متعلق فرمایا ۔ وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطانُ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ [ الزخرف/ 62] اور ( کہیں ) شیطان تم کو ( اس سے ) روک نہ دے وہ تو تمہارا علانیہ دشمن ہے ۔ یعنی اس کا دشمن ہونا اس کی حالت اور آثار سے ظاہر ہے ۔ اور بیان بالا ختیار کے متعلق فرمایا : ۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ بِالْبَيِّناتِ وَالزُّبُرِ وَأَنْزَلْنا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ ما نُزِّلَ إِلَيْهِمْ اگر تم نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ اور ان پیغمروں ( کو ) دلیلیں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا ۔ نقم نَقِمْتُ الشَّيْءَ ونَقَمْتُهُ «2» : إذا أَنْكَرْتُهُ ، إِمَّا باللِّسانِ ، وإِمَّا بالعُقُوبةِ. قال تعالی: وَما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ [ التوبة/ 74] ، وَما نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ [ البروج/ 8] ، هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّاالآية [ المائدة/ 59] . والنِّقْمَةُ : العقوبةُ. قال : فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْناهُمْ فِي الْيَمِ [ الأعراف/ 136] ، فَانْتَقَمْنا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا[ الروم/ 47] ، فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ [ الزخرف/ 25] . ( ن ق م ) نقمت الشئی ونقمتہ کسی چیز کو برا سمجھنا یہ کبھی زبان کے ساتھ لگانے اور کبھی عقوبت سزا دینے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَما نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ [ البروج/ 8] ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی ۔ کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے ۔ وَما نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْناهُمُ اللَّهُ [ التوبة/ 74] اور انہوں نے ( مسلمانوں میں عیب ہی کو کونسا دیکھا ہے سیلا س کے کہ خدا نے اپنے فضل سے ان کو دولت مند کردیا ۔ هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّاالآية [ المائدة/ 59] تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو ۔ اور اسی سے نقمۃ بمعنی عذاب ہے قرآن میں ہے ۔ فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْناهُمْ فِي الْيَمِ [ الأعراف/ 136] تو ہم نے ان سے بدلہ لے کر ہی چھوڑا گر ان کو در یا میں غرق کردیا ۔ فَانْتَقَمْنا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا[ الروم/ 47] سو جو لوگ نافر مانی کرتے تھے ہم نے ان سے بدلہ لے کر چھوڑا ۔ فَانْتَقَمْنا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ [ الزخرف/ 25] تو ہم نے ان سے انتقام لیا سو دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا ۔ جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ، ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے روی حصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اجرم ( افعال ) جرم دلا ہونا جیسے اثمر واتمر والبن اور استعارہ کے طور پر اس کا استعمال اکتساب مکروہ پر ہوتا ہے ۔ اور پسندیدہ کسب پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔ اس کا مصدر جرم ہے چناچہ اجرام کے متعلق فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] جو گنہگار ( یعنی کفاب میں وہ دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ نصر النَّصْرُ والنُّصْرَةُ : العَوْنُ. قال تعالی: نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] ( ن ص ر ) النصر والنصر کے معنی کسی کی مدد کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح عنقریب ہوگی إِذا جاءَ نَصْرُ اللَّهِ [ النصر/ 1] جب اللہ کی مدد آپہنچی أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سے پہلے بہت سے پیغمبر ان کی قوموں کے پاس بھیجے جو ان کے پاس اوامرو نواہی اور دلائل لے کر آئے مگر بعض ان میں سے ایمان نہیں لائے سو ہم نے مشرکین سے بذریعہ عذاب انتقام لیا اور اہل ایمان کو رسولوں کے ساتھ بچا لینا اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کردینا ہمارے ذمہ تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

(وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ) ” مثلاً حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کے ساتھیوں کو سیلاب کی آفت سے بچالیا گیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) کے ساتھی بھی تباہی سے محفوظ رہے اور اسی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) اور آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے والے لوگ بھی اللہ کی مدد سے عذاب کی زد میں آنے سے بچ گئے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

71 That is, "One kind of the Signs are those which are scattered in the world around man, which he comes across at every moment of his life, one of which is the system of the circulation of winds, as mentioned in the preceding verse. The other kind of the Signs are those which the Prophets of Allah brought in the form of the miracles and Divine Revelations and the extraordinary pure characters and their healthy and life-giving influence on human society. Both kinds of the Signs point to the same Reality, which is this: The Tauhid which the prophets teach is based on the Truth. Each of these Signs supports the other. The Signs of the universe testify to the truth of what the Prophets say, and the Signs brought by the Prophets explain the reality being pointed out by the Signs of the universe. 72 "The guilty ones": those who remained blind to these two kinds of the Sighs and persisted in their denial of Tauhid and their rebellion against God.

سورة الروم حاشیہ نمبر : 71 یعنی ایک قسم کی نشانیاں تو وہ ہیں جو کائنات فطرت میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں ، جن سے انسان کو اپنی زندگی میں ہر آن سابقہ پیش آنا ہے ، جن میں سے ایک ہواؤں کی گردش کا یہ نظام ہے جس کا اوپر کی آیت میں ذکر کیا گیا ہے ۔ اور دوسری قسم کی نشانیاں وہ ہیں جو انبیاء علیہم السلام معجزات کی صورت میں ، کلام الہی کی صورت میں ، اپنی غیر معمولی پاکیزہ سیرت کی شکل میں ، اور انسانی معاشرے پر اپنی حیات بخش تاثیرات کی شکل میں لے کر آئے ۔ یہ دونوں قسم کی نشانیاں ایک ہی حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں ، اور وہ یہ ہے کہ جس توحید کی تعلیم انبیاء دے رہے ہیں وہی برحق ہے ۔ ان میں سے ہر نشانی دوسری کی مؤید ہے ۔ کائنات کی نشانیاں انبیاء کے بیان کی صداقت پر شہادت دیتی ہیں اور انبیاء کی لائی ہوئٰ نشانیاں اس حقیقت کو کھولتی ہیں جس کی طرف کائنات کی نشانیاں اشارے کر رہی ہیں ۔ سورة الروم حاشیہ نمبر : 72 یعنی جو لوگ ان دونوں نشانیوں کی طرف سے اندھے بن کر توجہ سے انکار پر جمے رہے اور خدا سے بغاوت ہی کیے چلے گئے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(30:47) انتقمنا۔ ماضی جمع متکلم انتقام (افعال) مصدر۔ نقم مادہ۔ نقم و نقم (باب سمع و ضرب) کسی چیز کو برا سمجھنا۔ یہ کبھی زبان کے ساتھ عیب لگانے اور کبھی سزا دینے پر بولا جاتا ہے قرآن مجید میں ہے وما نقموا منہم الا ان منوا باللہ (85:8) وہ ان کی کسی چیز کو برا نہیں سمجھتے تھے سوائے اس کے کہ وہ خدا پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ یعنی ان کو مومنوں کی یہی بات بری لگتی تھی کہ وہ اللہ پر ایمان لائے ہوئے تھے۔ باب افتعال سے بمعنی سزا دینا مثلا فانتقمنا منہم فاغرقنھم فی الیم (7:36) تو ہم نے ان سے بدلہ لیکر ہی چھوڑا کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔ آیۃ ہذا میں بھی بمعنی سزا دینے کے ہے۔ فانتقمنا من الذین اجرموا۔ پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لے لیا جنہوں نے جرم کئے۔ وکان حقا علینا نصر المؤمنین۔ نصر المؤمنین اسم کان حقا علینا خبرہ اور اہل ایمان کی مدد کرنا ہمارا ذمہ تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اور مبداو معاد کو براہین و دلائل سے ثابت کرنے کے بعد اب اس آیت میں اصل ثالث یعنی نبوت کو ثابت کیا ہے یعنی آپ بھی گزشتہ پیغمبروں کی طرح اللہ کے پیغمبر ہیں، جیسے ان کے مخالفین سے انتقام لیا گیا۔ اسی طرح آپ کے مخالفین سے بھی بدلہ لیا جائے گا۔ نیز اس آیت میں آنحضرت کو تسلی دی ہے اور اہل ایمان کے لئے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا مددگار ہے اور وہ ہمیشہ مغلوب نہیں رہیں گے بلکہ ایک نہ ایک دن کو غلبہ نصیب ہوگا۔ یہاں حقاً خبر مقدم اور نصر المومنین اسم کان ہے اور المومنین میں پیغمبر، ان کے صحابہ اور ان کے بعد امت کے تمام مونین شامل ہیں۔ بعض نے حقا پر وقف تام کیا ہے اور کان میں ضمیر کا مرجع انتقام قرار دیا ہے اور علینا نصر المومنین کو جملہ مستانفہ مانا ہے۔ واللہ اعلم

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اور وہ جرائم تکذیب حق و مخالفت اہل حق ہیں، اور اس انتقام میں ہم نے ان کو مغلوب اور اہل ایمان کو غالب کیا۔ 4۔ وہ انتقام عذاب الہی تھا، اور اس میں کفار کا ہلاک ہونا ان کا مغلوب ہونا ہے اور مسلمانوں کا بچ جانا ان کا غالب آنا ہے، غرض اسی طرح ان کفار سے کام لیا جاوے گا، خواہ دنیا میں خواہ بعد موت۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں بتلانے اور توحید کا سبق سکھلانے کے لیے اپنے رسول بھیجے۔ پہلے ابر کرم کا ذکر کیا اب رحمت نبوت کا ذکر کیا جاتا۔ جس طرح بارش سب کے لیے ہوتی ہے اسی طرح نبوت کی دعوت بھی عام اور سب کے لیے ہے۔ جس طرح لوگوں کی اکثریت اپنے رب کی شکر گزار نہیں ہوتی اسی طرح لوگوں کی اکثریت نبوت کی ناقدری کرتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ نبوت کا فیض سب کے لیے عام ہوتا ہے جس سے مومن فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی دنیا اور آخرت بہتر بناتے ہیں کافر اس کی مخالفت کرکے دنیا اور آخرت میں نقصان پاتے ہیں حالانکہ ان کے سامنے انبیاء کرام (علیہ السلام) ٹھوس دلائل اور کھلے معجزات پیش کرتے ہیں۔ لیکن کافر نہ صرف ان کا انکار کرتے ہیں بلکہ وہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔ جب لوگ ظلم کی حدود پھلانگ جاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ظالموں سے ان کے ظلم کا بدلہ لے کر انبیاء اور مومنوں کو ممتاز کردیتا ہے ایسا کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد دنیا کی زندگی میں بھی کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے جس دن گواہ کھڑے کیے جائیں گے۔ “ [ المومن : ٥١] تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نے نوح، ابراہیم، ہود، صالح، شعیب، موسیٰ ، عیسیٰ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد فرمائی : ١۔ (البقرۃ : ٢٥٣۔ التوبۃ : ٤٠۔ البقرۃ : ٨٧۔ الشعراء : ٦٥۔ یوسف : ٣٤۔ الاعراف : ٦٤۔ ہود : ٩٤۔ الاعراف : ٨٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

36:۔ یہ مشرکین کے لیے تخویف دنیوی ہے، مومنین کے لیے بشارت دنیوی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے مشرکین مکہ نے آپ کے ساتھ عند و تکذیب کا جو رویہ اختیار کر رکھا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں۔ آپ سے پہلے بھی جو انبیاء و رسل (علیہم السلام) دلائل وبینات لے کر اپنی وموں کے پاس گئے ان کے ساتھ ان کی اقوام نے بھی یہی سلوک کیا آخر ہم نے مجرمین کو ہلاک کردیا اور ایمان والوں کو بچا لیا۔ وکان حق علینا نصر المومنین یہ وعدہ نصرت کا اعادہ ہے جس کا ابتدائے سورت میں وعد اللہ لا یخلف اللہ وعدہ سے ذکر کیا گیا۔ یعنی میرا وعدہ ہے کہ اگر تم توحید پر قائم رہو گے اور اس کی خاطر مصائب کا مقابلہ کرتے رہو گے تو میں تمہیں فتح دوں گا۔ ایمان والوں کی امداد و نصرت تو میں نے محض اپنے فضل سے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اس لیے آخر مشرکین مکہ مغلوب ہوں گے اور آپ کو ان پر غلبہ حاصل ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

47۔ اور اے پیغمبر ہم نے بلا شبہ آپ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کو ان کی قوموں کی طرف بھیجا تھا سو وہ ان کے پاس صاف اور کھلے کھلے دلائل لے کر آئے پھر ہم نے ان لوگوں سے انتقام لیا جو جرائم کے مرتکب ہوئے تھے اور جنہوں نے جرائم کئے تھے اور مسلمانوں کی مدد کرنا اور اہل ایمان کی مدد کرنا حب وعدہ ہمارے ذمہ لازم تھا۔ آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی فرمائی کہ اگر آپ کی مخالفت کرتے ہیں تو آپ غمگین نہ ہوں کیوں آپ سے پیشتر بھی انبیاء کی قوموں نے ایسا ہی کیا ہے اور باوجود دلائل واضحہ کے جرائم کفریہ کا ارتکاب کرتے رہے ہیں آخرکار ہم نے مجرموں سے انتقام لیا اور مسلمانوں کی امداد کرنا ہمارا شیوہ رہا ہے اور حسب وعدہ ہم پر ایک حق ہے جس کو ہم پورا کرتے رہے ہیں ، آپ کے ساتھ بھی ہم حسب عادت سلوک کریں گے تمہارے دشمن خائب و خاسر ہوں گے اور تم کو ان پر غلبہ حاصل ہوگا اور جس طرح گرمی کے غبار اور خاک کے بعد بارش آتی ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت ، فتح اور غلبہ حاصل ہوگا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بیچ میں باد کا مذکور اس واسطے کہ جیسے مینہ کی خبر لاتی ہیں بادیں اس طرح دین کے غلبے کی نشانیاں روشن ہوتی جاتیاں ہیں ۔ 12