Surat Luqman

Surah: 31

Verse: 25

سورة لقمان

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۵﴾

And if you asked them, "Who created the heavens and earth?" they would surely say, " Allah ." Say, "[All] praise is [due] to Allah "; but most of them do not know.

اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے؟ تو یہ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ تو کہہ دیجئے کہ سب تعریفوں کے لائق اللہ ہی ہے لیکن ان میں کے اکثر بے علم ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Idolators admitted that Allah is the Creator Allah tells us that these idolators who associated others with Him admitted that Allah Alone, with no partner or associate, is the Creator of heaven and earth yet they still worshipped others besides Him who they recognized were created by Him and subjugated to Him. Allah says: وَلَيِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ ... And if you ask them: "Who has created the heavens and the earth," they will certainly say: "Allah." Say: "All the praises and thanks be to Allah!" By their admitting that, proof is established against them, ... بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ But most of them know not. Then Allah says:

حاکم اعلی وہ اللہ ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ انکی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں ۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے ۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بےعلم ہوتے ہیں ۔ زمین وآسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے ۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

251یعنی ان کو اعتراف ہے کہ آسمانوں و زمین کا خالق اللہ ہے نہ کہ وہ معبود جن کی وہ عبادت کرتے ہیں۔ 252اس لئے کہ ان کے اعتراف سے ان پر حجت قائم ہوگئی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٢] یعنی اللہ کی تعریف اس بات پر ہے کہ انہوں نے یہ تو خود ہی تسلیم کرلیا کہ آسمانوں اور زمین یعنی کل کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اب ان کے اس اعتراف کا جو لازمی نتیجہ نکلتا ہے اس سے یہ لوگ بیخبر ہیں یا بیخبر رہنا چاہتے ہیں۔ اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو ان کے اس اعتراف کی عین ضد ہیں۔ مثلاً ایک شخص جب یہ اعتراف کرتا ہے کہ زمین و آسمان کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر اسے لازماً یہ بھی تسلیم کرلینا چاہئے کہ الٰہ اور رب بھی صرف اللہ ہی ہوسکتا ہے۔ بندگی اور عبادت کا مستحق بھی وہی ہوسکتا ہے۔ اپنی مخلوق کا حاکم وہی اور شاعر بھی وہی ہوسکتا ہے۔ دعاء اور فریاد بھی صرف اسی سے کرنا چاہئے۔ عقلی لحاظ سے یہ کیسے قابل تسلیم ہوسکتا ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو اور معبود اس کی مخلوق بن بیٹھے۔ اور جو شخص اللہ کو خالق تسلیم کرلینے کے بعد دوسروں کو معبود سمجھتا ہے۔ اور اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے دوسروں کو پکارتا ہے۔ اسے اپنی عقل کا ماتم کرنا چاہئے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔۔ : اس سے پہلے مشرکین کے اللہ تعالیٰ کے متعلق مجادلہ کا ذکر فرمایا، اب ان کے مسکت جواب کا ذکر ہے کہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ان آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے، تو وہ یقیناً یہی کہیں گے کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ اب اس اقرار کے بعد ان کے پاس جھگڑنے کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ ” أَلْمَرْءُ یُؤْخَذُ بِإِقْرَارِہِ “ ” آدمی اپنے اقرار کے ساتھ پکڑا جاتا ہے۔ “ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ : آپ فرمائیں کہ جب تم نے مان لیا کہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، جس میں تمہارے بنائے معبود بھی شامل ہیں، تو تمام حمد اور ہر خوبی کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ٹھہرا، پھر تم ہر خوبی کے مالک کو چھوڑ کر اس کی عبادت کیوں کرتے ہو جس میں اپنی کوئی خوبی ہے ہی نہیں ؟ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ : بلکہ ان کے اکثر نہیں جانتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، یا جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کا مطلب اور نتیجہ کیا ہے، مثلاً جب انھوں نے اعتراف کرلیا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، تو پھر انھیں لازماً ماننا ہوگا کہ مالک بھی وہی ہے، رب بھی وہی ہے، حاکم اور شارع بھی وہی ہے، عبادت اور بندگی کا حق دار بھی وہی ہے، دعا اور فریاد بھی اسی سے کرنی چاہیے۔ یہ علم و عقل سے کتنی بعید بات اور کتنا بڑا تناقض ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو اور معبود اس کی مخلوق میں سے کسی کو بنا لیا جائے۔ 3 یہ جو فرمایا کہ ” ان کے اکثر نہیں جانتے “ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین میں سے کچھ ایسے بھی تھے اور ہوتے ہیں کہ بات واضح ہونے پر سمجھ لیتے اور مان جاتے ہیں۔ ان کا ذکر آگے ” فمنہم مقتصد “ میں آ رہا ہے اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو جانتے ہیں مگر ضد اور عناد کی وجہ سے مانتے نہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَىِٕنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللہُ۝ ٠ ۭ قُلِ الْحَمْدُ لِلہِ۝ ٠ ۭ بَلْ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ ٢٥ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے حمد الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود : إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، وحُمَادَاكَ أن تفعل کذا «3» ، أي : غایتک المحمودة، وقوله عزّ وجل : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] ، فأحمد إشارة إلى النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم باسمه وفعله، تنبيها أنه كما وجد اسمه أحمد يوجد وهو محمود في أخلاقه وأحواله، وخصّ لفظة أحمد فيما بشّر به عيسى صلّى اللہ عليه وسلم تنبيها أنه أحمد منه ومن الذین قبله، وقوله تعالی: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] ، فمحمد هاهنا وإن کان من وجه اسما له علما۔ ففيه إشارة إلى وصفه بذلک وتخصیصه بمعناه كما مضی ذلک في قوله تعالی: إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] ، أنه علی معنی الحیاة كما بيّن في بابه «4» إن شاء اللہ . ( ح م د ) الحمدللہ ( تعالیٰ ) کے معنی اللہ تعالے کی فضیلت کے ساتھ اس کی ثنا بیان کرنے کے ہیں ۔ یہ مدح سے خاص اور شکر سے عام ہے کیونکہ مدح ان افعال پر بھی ہوتی ہے جو انسان سے اختیاری طور پر سرزد ہوتے ہیں اور ان اوصاف پر بھی جو پیدا کشی طور پر اس میں پائے جاتے ہیں چناچہ جس طرح خرچ کرنے اور علم وسخا پر انسان کی مدح ہوتی ہے اس طرح اسکی درازی قدو قامت اور چہرہ کی خوبصورتی پر بھی تعریف کی جاتی ہے ۔ لیکن حمد صرف افعال اختیار یہ پر ہوتی ہے ۔ نہ کہ اوصاف اضطرار ہپ پر اور شکر تو صرف کسی کے احسان کی وجہ سے اس کی تعریف کو کہتے ہیں ۔ لہذا ہر شکر حمد ہے ۔ مگر ہر شکر نہیں ہے اور ہر حمد مدح ہے مگر ہر مدح حمد نہیں ہے ۔ اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی حماد اک ان تفعل کذا یعنی ایسا کرنے میں تمہارا انجام بخیر ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَمُبَشِّراً بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ [ الصف/ 6] اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا ان کی بشارت سناتاہوں ۔ میں لفظ احمد سے آنحضرت کی ذات کی طرف اشارہ ہے اور اس میں تنبیہ ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام احمد ہوگا اسی طرح آپ اپنے اخلاق واطوار کے اعتبار سے بھی محمود ہوں گے اور عیٰسی (علیہ السلام) کا اپنی بشارت میں لفظ احمد ( صیغہ تفضیل ) بولنے سے اس بات پر تنبیہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کے بیشتر وجملہ انبیاء سے افضل ہیں اور آیت کریمہ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ [ الفتح/ 29] محمد خدا کے پیغمبر ہیں ۔ میں لفظ محمد گومن وجہ آنحضرت کا نام ہے لیکن اس میں آنجناب کے اوصاف حمیدہ کی طرف بھی اشنار پایا جاتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ اسْمُهُ يَحْيى [ مریم/ 7] میں بیان ہوچکا ہے کہ ان کا یہ نام معنی حیات پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اس کے مقام پرند کو ہے ۔ كثر الْكِثْرَةَ والقلّة يستعملان في الكمّيّة المنفصلة كالأعداد قال تعالی: وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] ( ک ث ر ) کثرت اور قلت کمیت منفصل یعنی اعداد میں استعمال ہوتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيراً [ المائدة/ 64] اس سے ان میں سے اکثر کی سر کشی اور کفر اور بڑ ھیگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اگر آپ ان سے آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے بارے میں دریافت کریں تو کفار مکہ جواب میں یہی کہیں گے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ تو آپ کہیے الحمدللہ تم سب بھی شکر کرو مگر ان میں اکثر توید الہی کو نہیں جانتے اور نہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

44 That is, "Thank God that you at least know this and believe in this. But if this be the reality, all praise should then belong to AIIah alone. How can any other being deserve praise when it has no share whatever in the creation of the universe?" 45 That, is, Most of the people do not know what are the inevitable results and demands of accepting Allah as the Creator of the universe, and what contradicts it. When a person acknowledges Allah as the Creator of the earth and the heavens. He should also acknowledge that Allah alone is the Deity and Lord: that He alone is worthy of worship and obedience: that He alone can be invoked for needs, and no one other than He can be the Law-Giver and Ruler of His creation. To acknowledge one as the Creator and another as the deity is contrary to reason and a contradiction in terms, which can be upheld only by an ignorant person. Likewise, it would be a contradiction in terms to believe in one Being as the Creator and to regard another from among the creation as remover of hardships or as a deity and possessor of power and authority and sovereignty. which no reasonable will acknowledge and accept." 46 That is, 'The reality is not merely this that AIIah is the reator of the earth and the heavens, but in fact He alone is the Master of aII things found in the earth and heavens. AIIah has not created •.his universe and left it to others to become masters of the whole or a part of it, but He Himself is Master of His creation and everything that exists in this universe is His. Here. He alone possesses Divine rights and powers and no one else. "

سورہ لقمن حاشیہ: 44 یعنی شکر ہے تم اتنی بات تو جانتے ہو اور مانتے ہو ۔ لیکن جب حقیقت یہ ہے تو پھر حمد ساری کی ساری صرف اللہ ہی کے لیے ہونی چاہیے ۔ دوسری کوئی ہستی حمد کی مستحق کیسے ہو سکتی ہے جبکہ تخلیق کائنات میں اس کا کوئی حصہ ہی نہیں ہے ۔ سورة لُقْمٰن حاشیہ نمبر :45 یعنی اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ کو خالق کائنات ماننے کے لازمی نتائج اور تقاضے کیا ہیں ، اور کونسی باتیں اس کی نقیض پڑتی ہیں ۔ جب ایک شخص یہ مانتا ہے کہ زمین اور آسمانوں کا خالق صرف اللہ ہے تو لازماً اس کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ الٰہ اور رب بھی صرف اللہ ہی ہے ، عبادت اور طاعت و بندگی کا مستحق بھی تنہا وہی ہے ، تسبیح و تحمید بھی اس کے سوا کسی دوسرے کی نہیں کی جا سکتی ، دعائیں بھی اس کے سوا کسی اور سے نہیں مانگی جا سکتیں ، اور اپنی مخلوق کے لیے شارع اور حاکم بھی اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا ۔ خالق ایک ہو اور معبود دوسرا ، یہ بالکل عقل کے خلاف ہے ، سراسر متضاد بات ہے جس کا قائل صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جو جہالت میں پڑا ہوا ہو ۔ اسی طرح ایک ہستی کو خالق ماننا اور پھر دوسری ہستیوں میں سے کسی کو حاجت روا و مشکل کشا ٹھہرانا ، کسی کے آگے سر نیاز جھکانا ، اور کسی کو حاکم ذی اختیار اور مطاع مطلق تسلیم کرنا ، یہ سب بھی باہم متناقض باتیں ہیں جنہیں کوئی صاحب علم انسان قبول نہیں کر سکتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

14: یعنی الحمد للہ ! ان لوگوں نے اس حقیقت کا تو اعتراف کرلیا کہ اس کائنات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس سے جو کھلا ہوا نتیجہ نکالنا چاہئے تھا کہ جب یہ کائنات تنہا اسی نے پیدا کی ہے تو عبادت کے لائق بھی تنہا وہی ہے، اس کے نتیجے تک پہنچنے کے لیے انہوں نے سمجھ سے کام نہیں لیا، اور اپنے باپ دادوں کی تقلید میں شرک اختیار کیے ہوئے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1” کہ میری صداقت اور تمہارا ہونا ثابت ہوگیا اور تم نے خود ہی اعتراف کرلیا۔ “ (ابن کثیر، کبیر) یا مس موقع پر ’ دشکر خدا کا “ کہنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تم مانتے ہو کہ زمین و آسمان کو دا ہی نے بنایا ہے۔ تو شکر بھی اسی کا بجا لائو، دوسروں کے سامنے ماتھے کیوں رگڑتے پھرتے ہو۔2 یعنی یہ نہیں سمجھتے کہ جب خدا کو زمین و آسمان کا خلاق مان لیا تو ضروری ہے کہ بندگی بھی صرف اسی کی کی جائے۔ (شوکانی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر (25 تا 30) سالت (تو نے پوچھا۔ سوال کیا) ۔ یقولن (وہ ضرور کہیں گے) ۔ ابحر (بحر) (سمندر) ۔ کلمات اللہ (اللہ کی باتیں) ۔ مانفدت (ختم نہیں ہوئی (ختم نہ ہوں گی) ۔ بعث (دوبارہ اٹھانا) ۔ یولج (وہ داخل کرتا ہے) ۔ تشریح آیت نمبر (25 تا 30) ۔ ” جو لوگ اللہ کی ذات، صفات، قدرت اور کمالات کا انکار کرتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان اور ان میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو ان کے منہ سے بےساختہ یہی نکلے گا کہ اللہ نے پیدا کیا ہے۔ ضمیر کی اس سچی اور پر خلوص آواز کے باوجود جب عبادت کرنے اور سر جھکا نے کا وقت آتا ہے تو وہ کائنات کے حقیقی خالق ومالک کو چھوڑ کر بےحققیت معبودوں کے سامنے سر جھکانے اور ان سے اپنی مرادیں مانگنے لگتا ہے۔ یہ کیسے تعجب کی بات ہے کہ اس کائنات کا خالق تو اللہ کو مانا جائے لیکن عبادت اوروں کی کی جائے۔ حالانکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اس عظیم کائنات کا مالک صرف ایک اللہ ہی ہے۔ زمین ہزاروں، لاکھوں سال سے اپنے محور پر گردش کر رہی ہے۔ سروں پر آسمان کو ایک محفوظ چھت اور خیمے کی طرح تان دیا گیا ہے۔ چاند، سورج، ستارے اور سیارے اپنی رفتار سے چل رہے ہیں اور اپنی روشنی سے دنیا کو منور کر رہے ہیں۔ زمین پر ہر طرف مخلوق پھیلی ہوئی ہے جن کے زندہ رہنے کے تمام اسباب مہیا کردیئے گئے ہیں۔ ان تمام سچائیوں کے باوجود اگر کوئی اللہ کو خالق ومالک نہ سمجھے اور اس کا انکار کردے تو اس سے بڑا نادان اور کوئی ہو سکتا ہے ؟ اس کائنات میں اللہ کی عظمت کو ایک محسوس مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ فرمایا کہ اس کے کمالات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر دنیا بھر کے درختوں کو کاٹ کر ان کے قلم بنالئے جائیں اور موجودہ سمندر بلکہ اس جیسے سات اور سمندروں کو لکھنے کی روشنائی بناکر ان سے اللہ کے کلمات یعنی کمالات اور خوبیوں کو لکھا جائے تو قلم گھس کر، روشنائی استعمال ہو کر اور لکھنے والوں کی عمریں ختم ہوجائیں گی مگر اس کے کمالات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ یقینا وہ لوگ انتہائی خوش نصیب اور کامیاب و بامراد ہیں جو اس سچائی کو مان کر پورے خلوص اور یقین سے اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کر کے اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور اسی سے اپنی مرادیں مانگتے ہیں اور دل کی گہرائیوں اور خلوص کی سچائیوں کے ساتھ اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کردیتے ہیں۔ اپنے تمام معاملات زندگی کو اس کے حوالے کر کے اس کی بھیجی ہوئی ہدایات اور تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گذارتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے مضبوط سہارے اور حلقے کو پکڑ کر ہر طرح کی گمراہیوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ ان ہی باتوں کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر آپ ان منکرین حق سے یہ پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین اور اس میں بسنے والی مخلوق کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ واقعی تمام تعریفوں کا مستحق صرف ایک اللہ ہی ہے اگرچہ اکثر لوگ اس حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔ فرمایا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کا مالک صرف ایک اللہ ہی ہے۔ کوئی اس کے کمالات کی تعریف کرے یا نہ کرے وہ اپنی ذات میں تمام تعریفوں کا مستحق ہے۔ فرمایا کہ اگر آسمانوں اور زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر اور مزید سات سمندر لکھنے کی روشنائی بن جائیں اور ان سے لکھا جائے تب بھی اللہ کے کلمات یعنی کمالات کبھی ختم نہ ہوں گے۔ بیشک اس کی حکمت ہر چیز پر غالب ہے۔ اس کی قدرت یہ ہے کہ اس نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے لہذا تم سب کا پیدا کرنا اور دوبارہ جی اٹھنا ایسا ہے جیسے ایک شخص کا پیدا کرنا۔ بلا شبہ وہ ہر ایک کی سنتا اور ہر ایک کے حالات سے پوری طرح باخبر ہے۔ فرمایا کہ کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں کس طرح ڈھالتا چلا جاتا ہے۔ اسی کی ذات کا یہ کمال ہے کہ اس نے چاند سورج کو کام پر لگا رکھا ہے۔ ہر ایک کے لئے ایک مدت مقرر ہے جس کے مطابق وہ تمام چیزیں چلتی رہیں گی یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ برحق ہے ان کا مالک اللہ ہی ہے لہذا جو لوگ اس ایک کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت و بندگی کرتے ہیں وہ ایک جھوٹ اور باطل کے پیچھے دوڑ رہے ہیں اور جن کو وہ اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں اللہ ان سب چیزوں سے بلندو برتر ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفرو شرک اختیار کرنے والوں سے ایک سوال۔ جو لوگ دنیا کی مختصر مدّت اور قلیل فائدے کی خاطر کفرو شرک اختیار کرتے ہیں۔ اس حقیقت کا وہ بھی اعتراف کرتے ہیں کہ جن کو ہم اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں ان کا زمین و آسمان کی تخلیق میں کوئی حصہ نہیں یہ ایسی حقیقت ہے جس کا اعتراف نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بدترین دشمن بھی کیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو حکم ہوا کہ ان سے استفسار فرمائیں کہ بتاؤ کہ زمینوں آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کفار مکہ کا جواب یہی ہوتا تھا کہ انہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کیا ہے۔ اس طرح وہ ” اللہ “ کے خالق ہونے کا اقرار کرنے پر مجبور تھے۔ اس پر ارشاد ہوا کہ اے نبی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیجیے کہ مشرکوں کے پاس حقیقت تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں مگر اس کے باوجود ان کی اکثریت جہالت کا اظہار کرتی ہے حالانکہ انہیں اسی خالق کی عبادت کرنی چاہیے۔ انہیں فرمائیں کہ زمین و آسمانوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ سب کا سب ” اللہ “ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ بےنیاز اور حمدوستائش کے لائق ہے اگر تمام کے تمام انسان کفرو شرک پر تل جائیں تو اس کی بادشاہی اور حمدوستائش میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ (یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْکُمْ مَا زَادَ ذَلِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْءًا یَا عِبَادِیْ لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِیْ شَیْءًا) [ رواہ مسلم : باب تَحْرِیم الظُّلْمِ ] ” اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے، آخری اور تمام انسان اور جن ایک متقی آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری بادشاہت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتے۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارے پہلے، اور بعد والے، تمام کے انسان اور جن ایک فاجرشخص کے دل کی طرح ہوجائیں تو بھی میری بادشاہت میں ذرا برابر کمی نہیں کرسکتے۔ “ غنی کا معنٰی دولتمند، مالدار، مستغنی، مکتفی اور حمید کا معنٰی تعریف کرنے والا، تعریف کیا ہوا ہے۔ مسائل ١۔ ہر دور کے کافر اور مشرک اقرار کرتے ہیں کہ زمین و آسمانوں کا خالق ” اللہ “ ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ حمدوستائش کے لائق اور بےنیاز ہے۔ تفسیر بالقرآن کفار اور مشرکین کا توحید باری تعالیٰ کا اعتراف : ١۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ ارض وسماوات کو کس نے پیدا کیا، سورج اور چاند کو کس نے مسخر کر رکھا ہے مشرک ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پھر یہ کہاں سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ( العنکبوت : ٦١) ٢۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یقیناً کہیں گے کہ انہیں زبردست اور سب کچھ جاننے والے ” اللہ “ نے پیدا کیا ہے۔ (لزخرف : ٩ ) ٣۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ ہر چیز پر کس کی بادشاہت ہے ؟ جواب دیتے ہیں ” اللہ “ کی بادشاہت ہے۔ (المومنون : ٨٨۔ ٨٩) ٥۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں سوال کریں گے تو اللہ ہی کا نام لیں گے۔ (لقمان : ٢٥) ٦۔ مشرکین سے پوچھا جائے مخلوق کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ جواب دیتے ہیں ” اللہ “ ہی پیدا کرنے والا ہے۔ (النمل : ٦٤) ٧۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ تو کہتے ہیں ” اللہ “ ہی خالق ہے۔ (الزمر : ٣٨) ٨۔ فرما دیں کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یا کون ہے جو کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے ؟ اور کون زندہ کو مردہ سے نکالتا اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے ؟ اور کون ہے جو ہر کام کی تدبیر کرتا ہے ؟ تو وہ فوراً کہیں گے ” اللہ “ تو فرما دیں پھر کیا تم ڈرتے نہیں ؟ (یونس : ٣١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولئن سالتھم ۔۔۔۔۔ ھو الغنی الحمید (25 – 26) ” ۔ ۔ کوئی معقول انسان جب خود اپنے دل سے پوچھے کہ آخر اس کائنات عظیم کا خلاق کون ہے تو وہ یہی جواب پائے گا کہ اللہ۔ یہ جواب ہر شخص اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ یہ زمین اور یہ افلاک ہماری نظروں کے سامنے قائم ہیں ، ان کے حالات ، ان کے حجم ، ان کی حرکات ، ان کی دوریاں ، ان کے خواص اور ان کی صفات سب کے سب اندازہ کیے ہوئے ، صحیح اور متعین اور باہم نظم اور نسق میں پروئے ہوئے۔ پھر یہ مخلوق ہیں اور کوئی مدعی بھی نہیں ہے کہ ان کا وہ خالق ہے۔ نہ یہ کوئی دعویٰ کرسکتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے ان کا اور یہ بھی عقلا ممکن نہیں ہے کہ یہ عظیم کائنات خود بخود یونہی پیدا ہوگئی ہے۔ پھر یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کسی مدبر کا ہونا لازم ہے۔ جو شخص اس کا قائل ہے کہ یہ خود بخود وجود میں آگئی ، خود بخود قائم ہوگئی اور منظم ہوگئی محض اتفاقاً ، تو اس سے بڑا احمق اور کوئی نہیں ہے۔ اس قسم کے قول کو فطرت اپنی گہرائیوں کے ذریعہ مسترد کردیتی ہے۔ وہ لوگ جو اس دور میں عقیدہ توحید کا مقابلہ کر رہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کا راستہ روکے کھڑے تھے سخت مجادلہ کر رہے تھے ۔ یہ لوگ خود اپنی فطرت کے شعور اور منطق کا مقابلہ نہ کرسکتے تھے ، جب ان کے سامنے یہ کائنات اور اس کی موجودگی کو رکھا جاتا تھا ، جو ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھی اور صرف دیکھنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے وہ اس سوال کے جواب میں کوئی تردد نہ کرتے تھے۔ جب پوچھا جاتا کہ ” زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو وہ فوراً کہہ دیتے “ اللہ نے “۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس جواب کے جواب میں بس اللہ کی حمد کریں ” الحمدللہ “۔ الحمدللہ کہ ان پر حق واضح ہوگیا اور انہوں نے فطری منطق کو تسلیم کرلیا۔ خدا کا شکر ہے کہ وہ اس کائنات کی تخلیق کی حد تک موحد ہوگئے۔ اس کے سوا ہر حال میں حمد و ثنا کرتے رہو۔ اب جدال و مباحثہ کو چھوڑ کر ایک دوسرا تبصرہ۔ بل اکثرھم لا یعلمون (31: 25) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ بحث اور مجادلہ کرتے ہیں۔ دلائل فطرت کو نہیں سمجھتے اور اس عظیم کائنات کے ہوتے ہوئے بھی عقیدہ توحید کے قائل نہیں۔ انہوں نے چونکہ زمین اور آسمان کی تخلیق کی حد تک اللہ کی وحدانیت کو مان لیا ہے اس لئے اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ خالق ہونے کے ناطے اس کائنات کا مالک مطلق بھی ہے۔ اس حصے کا بھی جسے انسان کے لیے مسخر کردیا گیا ہے اور اس حصے کا بھی جسے مسخر نہیں کیا گیا۔ لیکن وہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان ساری مخلوق سے غنی ہے اور وہ اپنی ذات میں خود محمود ہے اگرچہ لوگ اس کی حمد و ثنا نہ کریں۔ للہ ما فی السموت والارض ان اللہ ھو الغنی الحمید (31: 26) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ بیشک اللہ بےنیاز اور آپ سے آپ محمود ہے۔ یہ سفر اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ غنا ختم ہونے والی نہیں۔ اللہ کا علم لامحدود ، اس کی قدرت بےانتہا اور اس کی مشیت کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ تمام مخلوق پر وہ قادر ہے اور یہ بات ایک کائناتی منظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور تسخیر اور تصرفات تکوینیہ کا تذکرہ (کلمات اللہ غیر متناہی ہیں) ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت اور قدرت اور شان بےنیازی اور محمودیت اور عزت و حکمت اور سمع و بصر اور علم اور برتری اور کبریائی کو بیان فرمایا ہے۔ اول تو یہ فرمایا ہے کہ اگر آپ مشرکین سے دریافت فرمائیں کہ بتاؤ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے، آپ فرما دیجیے کہ سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، جب تمہارے اقرار سے خالق وہی ہے جس نے اتنے بڑے آسمانوں کو اور زمین کو وجود بخشا تو یہ بھی سمجھ لینا کہ سب تعریفوں کا مستحق بھی وہی ہے، جب یہ بات ہے تو اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہو اور شرک کے مرتکب کیوں ہوتے ہو ؟ (بَلْ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے) ماحول سے متاثر ہو کر اور اپنے باپ دادوں کی تقلید کو سامنے رکھ کر ایسی جہالت میں مبتلا ہوئے ہیں کہ توحید کی طرف آتے ہی نہیں۔ (لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کی مخلوق و مملوک ہے) منجملہ اس مخلوق اور مملوک کے وہ چیزیں بھی ہیں جن کی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں، یہ ان کی بیوقوفی ہے، (اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ) یہ بھی سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کی عبادت کی حاجت و ضرورت نہیں ہے۔ وہ ہر حال میں ہر ایک سے بےنیاز ہے اور وہ حمید بھی ہے، تمام صفات کمال سے متصف ہے، اگر کوئی بھی شخص اس کی حمد و ثنا بیان نہ کرے وہ تب بھی حمید ہے اس کی صفت محمودیت میں کوئی فرق نہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ زمین میں جتنے بھی درخت ہیں اگر ان سب کے قلم بن جائیں (جو کروڑوں کی تعداد میں ہوں گے) اور سمندر کو روشنائی کی جگہ استعمال کیا جائے اور ایک سمندر ختم ہوجائے اور اس کے بعد سات سمندر اور ملا دئیے جائیں یعنی ان کی بھی روشنائی بنا دی جائے اور اس روشنائی سے اللہ تعالیٰ کے کلمات کو لکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ کیونکہ اس کے کلمات غیر متناہی ہیں اور متناہی خواہ کتنا بھی زیادہ ہو بہرحال وہ غیر متناہی کے مقابلہ میں کہیں پہنچ کر ختم ہو ہی جائے گا۔ اور سات دریا جو فرمایا یہ بھی بطور فرض ہے ان کے علاوہ جتنے بھی سمندر روشنائی کی جگہ استعمال ہوتے رہیں گے ختم ہوتے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

24:۔ ولئن سالتھم الخ، یہ توحید پر تیسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ یعنی مشرکین کو خود اس بات کا اعتراف ہے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیی ہے جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے تو لا محالہ ہر چیز میں متصرف اور سب کا کارساز بھی وہی ہوگا۔ قل الحمد للہ یہ دلائل مذکورہ کا ثمرہ ہے یعنی دلائل مذکورہ سے ثابت ہوا کہ تمام صفات کارسازی کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی کارساز اور متصرف و مختار نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق ہے لیکن مشرکین کی جہالت و نادانی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس حقیقت سے سراسر جاہل ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

25۔ اور اے پیغمبر اگر آپ ان دین حق کے منکروں سے دریافت فرمائیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے بنایا ہے اور کس نے پیدا کیا تو وہ لوگ ضرور جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایئے الحمد للہ اصل بات یہ ہے کہ ان میں کہ اکثر لوگ اتنا بھی نہیں جانتے ۔ یعنی ایک بات تو تسلیم کرلی اور اس کا اعتراف کرلیا اس پر آپ الحمد للہ کہئے ۔ دوسری بات جو یہ نہیں مانتے وہ بالکل ہی ظاہر ہے کہ جو مخلوق اور مصنوع ہو وہ مستحق الوہیت نہیں ہوا کرتا یہ وصف خالقت تو اللہ تعالیٰ کا تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کی مخلوق کو اور اس کے مصنوع کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت میں شریک کرتے ہیں بلکہ اکثر تو ان میں کے ان باتوں کو جانتے ہی نہیں چونکہ دوسرا مقدمہ بالکل ظاہر تھا اس لئے الحمد للہ فرمایا کہ کفار پر الزام ثابت ہوگیا بعض تو اتنا بھی نہیں جانتے کہ اس اعتراف سے کس طرح ان پر حجت قائم ہوگئی اور شرک کا بطلان ظاہر ہوگیا ۔